Translater

30 دسمبر 2019

نیو کلیائی بٹن دبانے کیلئے پی ایم کے پرنسپل مشیربنے جنرل راوت

جنرل بپن راوت دیش کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس )بن گئے ہیں پیر کی رات حکومت نے اس کا اعلان کر دیا کیب نیٹ کے ذریعے 24دسمبر کو یہ عہدہ منظور کیاگیا تھا سی ڈی ایس کا چارٹر کافی وسیع ہے ۔فوج کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اگر اسے پوری طرح نافذ کیاگیا تو یہ تینوں افواج کے درمیان بہترین تال میل کا کام کر سکتاہے ۔چونکہ کئی مرتبہ ڈیفنس کے بجٹ میں حصہ داری کو لیکر تینوں افواج کے درمیان کھینچ تان چلتی رہی ہے ۔سی ڈی ایس ایک چار ستارہ جنرل کاہے اس میںآر می اور نیوی اور ائیر فورس کے مشترکہ چیف ہوگا اس کے علاوہ تینوں افواج کے الگ الگ سربراہ ہوںگے ان کا بھی درجہ چار ستارائی ہوگا ۔سی ڈی ایس کی شکل میں جنرل راوت حکومت کے فوجی مشیر ہوں گے اور اسے اہم ترین ڈیفنس اور سیاسی صلاح دیں گے تینوں افواج کیلئے قلیل المدت ڈیفنس یوجناو ¿ ں اور ڈیفنس خرید ،ٹریننگ اور ٹرانسپورٹ کے لئے مو ¿ثر تال میل کا کام دیکھیں گے اور مستقبل میں خطروں یعنی جنگ کے خدشات کے پیش نظر تینوں افواج میں آپسی تال میل اور مضبوط بنانے کا ذمہ سی بی ایس کے کندھوں پر ہوگا ۔تقریباً سبھی نیوکلیائی کفیل ممالک میں سی ڈی ایس کا عہدہ ہے ۔خاص بات یہ ہے سی ڈی ایس کے طور پر نیوکلیائی کمان کے لئے جنرل راوت کا رول بہت اہم ترین ہوگا اور نیوکلیائی بمب بٹن دبانے کے معاملے میں وہ وزیر اعظم کے مشیر ہوںگے ۔2003میں بنائی گئی نیوکلیائی کمان اتھارٹی میں 16سال بعد یہ اہم ترین تبدیلی کی گئی ہے پہلے نیوکلیائی کمان وزیر اعظم کے ماتحت دو کانسل تھیں ایک سیاسی دوسری انتظامی ۔نیوکلیائی ہتھیار کے استعمال کا فیصلہ سیاسی کانسل لیا کرتی تھی جبکہ انتظامی کانسل این ایس اے کی کمان میں کام کرتی رہی ہے ۔نیشنل سکیورٹی پر ٹاسک فورس کے ممبر اور دیش کی نیوکلیائی پالیسی بنانے والے سابق بحریہ چیف ایڈ مرل ارون پرکاش کا کہنا ہے کہ نیوکلیائی کمان میں سی ڈی ایس کا رول صاف ہونے سے اب فوجی صلاح کا فیصلہ صحیح ہاتھوں میں گیا ہے ۔موجودہ فوج کے سربراہ بپن راوت کو تینوں افواج کی کمان یونہیں نہیں ملی بلکہ وہ 2016میں فوج کے سربرہ بنے اور 31دسمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد نیا عہدہ سنبھالاہے ان کو جنگ اور عام حالات سے نمٹنے کا تجربہ ہے سی ڈی ایس دیش کی ڈیفنس سسٹم میں نئی شروعات ہے اس میںکوئی شک نہیں ہے جنرل راوت حکومت اور خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ شخص رہے ہیںدسمبر2016میں دیگر فوجی افسروں کو نظر انداز کرکے انہیںچیف آف اسٹاف بنایا گیا تھا بتا دیں بپن راوت کو گورکھابریگیڈ میں کمیشن ملا تھا اور وہ یہاں سے فوج کے سربراہ کے عہدے تک پہونچنے والے پانچویں افسر ہیں ۔جموں کشمیر میں جن ناگزیں حالات سے نمٹنے اور پاکستان سے آئے دن جھڑپ او راچانک وہ جنگ میں بدل سکتی ہے انہیںمسئلوں کو ذہن میں رکھ کر سرکار نے راوت کو سی ڈی ایس بنایا ہے ۔

(انل نریندر)

29 دسمبر 2019

!انٹارٹیکاسے بھی ٹھنڈا دراس،لندن سے بھی ٹھنڈی دہلی

نارتھ انڈیا میں پہاڑوں سے لیکر میدانوں تک ٹھٹھرتی سردی کا قہر جاری ہے لداخ کا دراس خطہ جمعرات کو ساو ¿تھ پول کے انٹارٹیکا سے بھی ٹھنڈا رہا وہیںدہلی کی را ت بھی لندن سے زیادہ سرد رہی ۔دراس میں کم ازکم درجہ حرارت نفی 30.2ڈگری درج کیاگیا جبکہ انٹارٹیکا کا درجہ حرارت نفی 26ڈگری رہا اسی طرح دہلی کے پالن میں درجہ حرارت لڑک کر 5.4ڈگری پر پہونچ گیا ادھر برطانیہ کی راجدھانی لندن میں درجہ حرارت کم از کم 6ڈگری درج کیاگیا دہلی کی سردی میں 118سال میں دوسرے ٹھنڈے دسمبر کا ریکارڈ توڑا 1901کے بعد 1997میں سب سے سرد دسمبرتھا جبکہ اس مہینہ کا اوسطاً درجہ حرارت 17.3ڈگری رہا اس سال اب تک دسمبر کا اوسط درجہ حرارت 19.85ڈگری رہا جو 31دسمبرتک 19.15ہو سکتا ہے ۔سردی کا ستم جھیلنے والوں کیلئے یہ خبر ستم ڈھانے والی ہے سال کے آخیر سے اور اگلے سال کی شروعات تک ہماچل خطہ میں بھاری برف باری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے اس کا سیدھا اثر پہلے سے لوگوں کو بدحال کر چکی دہلی کی سردی پربھی پڑ سکتا ہے آج دہلی میں سب سے ٹھنڈا دن رہا اوسط کم از کم درجہ حرارت 4.2ڈگری سیلسیس درج کیاگیا جبکہ آیا نگر میں سب سے کم 3.6ڈگری تھا ۔محکمہ موسم کی نارتھ جون میعاتی یونٹ کے چیف ڈاکٹرکلدیپ سریواستو نے بتایا کہ شمالی حصوں میں پہاڑوں میں برف گرے گی جس کا اثر میدانی علاقوں میں پڑے گا پہاڑوں سے آنے والی ہوائیںدہلی این سی آر کو ٹھنڈا کردیںگی ابھی کشمیر ہماچل پردیش ،جھارکھنڈ میںبرف باری نہیں ہورہی ہے اس کے باوجود وہاں سے ٹھنڈی ہواو ¿ں نے دہلی کادرجہ حرارت ریکارڈ سطح تک گرادیا ہے نئے سال کے آغاز پر برف باری کا لطف اٹھانے والے سیلانی ،شملہ ،سری نگر،کفری ،کلومنالی ،نینی تال ،مسوری جاسکتے ہیں یہی سردی کا سب سے ٹھنڈا مہینہ ہے ۔صبح ساڑھے آٹھ بجے سب درجن میں دھند چھ سو میڈر اور پالم میں سات سو میٹر ریکارڈ کی گئی کل بھی ٹھنڈی ہوائیں چلنے کااندازہ ہے 31دسمبر کو بارش ہو سکتی ہے نئے سال یعنی ایک جنوری کوبھاری بارش کا امکان ہے ا ن دودنوںمیں درجہ حرارت 6ڈگری اور زیادہ 16ڈگری سیلسیس تک جا سکتاہے اتنی ٹھنڈ کے سبب بہرحال ٹھنڈ کم ہو گئی ہے نارتھ ایسٹ میں کہرے کے سبب ٹرینیں بھی لیٹ ہو رہی ہیں ۔کل ملا کر دہلی میں سردی زبردست پڑ رہی ہے خود کو بچا کر رکھیں ۔
(انل نریندر)

!فیل ہوتی بی جے پی کی ڈبل انجن لیڈر شپ

ایک ریاست اور کئی سوال -اشارے -پیغام دے کرچلاگیا 2019کے آخری چناو ¿ کا نتیجہ ۔اس میں کئی طرح کے تضاد بھی ہیں اور کئی طرح کا نیا ٹرینڈ بھی ہے جن پر آنے والے دنوںمیں سیاسی بحث جاری رہے گی جھارکھنڈ چناو ¿ نتیجہ کا اثر قومی سیاست پر پڑنا طے ہے پچھلی مرتبہ جھارکھنڈ میں چناو ¿ سے پہلے اتحاد نے پہلی بار مکمل اکثریت والی حکومت کو آتے دیکھا ہے ابھی تک ریاست کی تاریخ میںایسا کبھی نہیںہوا تھا ۔پچھلی بار بی جے پی اکیلے 37سیٹ جیتی تھی اور اکثریت سے سے 4سیٹ دور رہی باد میں آجسو کے ساتھ سرکار بنائی ساتھ ہی رگھوبرداس کے ساتھ پہلی مرتبہ کوئی سرکار ایسی رہی جس نے اپنی پوری میعاد طے کی اس سے ریاست میں مضبوط سیاست کے دور کو لوٹنے کا اشارہ ملا جھارکھنڈ میں بی جے پی کو قبائلی ووٹوں کے غصہ کے علاوہ مقامی مسئلوں پر بری طرح ہارملی چناو ¿ کو قومی اشوز کی طرف دھکیلنے کی کوسش پوری طرح فیل ثابت ہوئی ریاست اور مرکزمیں چناو ¿ میں الگ الگ پیٹرن سے ووٹ دینے کا رواج ہو چلا ٹرینڈ بھی اس کے ساتھ قائم ہوا وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے چناو ¿ کمپین کے دوران کئی ریلیاںکیں اور کئی مرکزی وزیر بھی ان میں شامل ہوئے ۔بی جے پی کی ڈبل انجن پالیسی پوری طرح فیل ہوئی ناتو مقامی مسئلوں پر توجہ دی گئی نہ ہی لوکل لیڈروں پر مودی شاہ کی جوڑی نے چناو ¿ جتانے کا پورا ذمہ اپنے کندھوں پر لیا۔سیٹوں کے بٹوارے پر دمرکزی لیڈر شپ کا اڑیل رویہ بھاری پڑا پچھلے بار پورے پانچ سال سے سرکار میں شامل آجسو ناطہ توڑنے پر مجبور ہو گیا جب اسے سیٹوں کا تال میل نہیں ہوا رگھوور داس اتنے غیرمقبول تھے کہ ان کے ہی کیب نیٹ کے سینئر لیڈر ساتھی سریوارام نے انہیں چناو ¿ میں پچھاڑ دیا محض 6مہینے میں بی جے پی کا ووٹ 20فیصد سے زیادہ گر گیا ۔ظاہر ہے کہ اب ہر چناو ¿ کیلئے الگ الگ حکمت عملی بنانے کا دور واپس لوٹے گا اس سے یہ بھی صاف ہوگیا کہ اب بی جے پی اکیلے اپنے دم خم پر چناو ¿ نہیں جیت سکتی اسے ساتھیوں کی ضرورت پڑے گی سیٹ تال میل کرنا ا ب بی جے پی کی مجبوری بن گئی ہے 2014کے بعد بی جے پی نے ایک ہی فارمولے سے کامیابی پائی تھی لیکن اب اس پر بریک لگتا دکھائی دے رہا ہے اس کے لئے بی جے پی نے ڈبل انجن کومقامی چناو ¿ میں پرکھنے کی کوشش کی تھی جسے جھارکھنڈ نے مسترد کردیا ایک سال میںاس ڈبل انجن نے مہاراشٹر،راجستھان ،مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور اب جھارکھنڈ سے بی جے پی کو ہارکا منھ دیکھنے پر مجبور کیا جھارکھنڈ کے بعد اب دہلی بہار ،مغربی بنگال میں چناو ¿ ہونے ہیں دیکھیں بی جے پی اپنی حکمت عملی بدلتی ہے یا نہیں ؟
(انل نریندر)

28 دسمبر 2019

!صحافیوں پر سرکاری زیادتی کے بڑھتے واقعات

پیرس میں واقع نگرانی انجمن آر ایس ایف کے مطابق دنیا بھر میں سال 2019میں 49صحافیوں کا قتل ہوا ان میں سے زیادہ تر صحافی یمن ،شام اور افغانستان میں لڑائی کی رپورٹنگ کے دوران مارے گئے یہ ظاہر کرتا ہے صحافت ایک خطرناک پیشہ بنا ہوا ہے انجمن کا کہنا ہے کہ دو دہائی میں اوسطاً ہرسال 80صحافیوں کی جان گئی ۔انجمن کے چیف کرشٹوف ڈیلونئیر نے بتایا جنگ زدہ علاقوں میں اعداد و شمار میں بیشک کمی آئی ہے جو خوشی کی بات لیکن جمہوری ملکوںمیں زیادہ تر ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے جو جمہوریت کیلئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔2019میں قریب389صحافیوں کو جیل بھیجا گیا جو پچھلے سال کے مقابلہ میں 12فیصد زیادہ ہے ان میں سے آدھے چین ،مصر اور سعود ی عرب میں قید ہیں ۔بھارت میں بھی صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں صحافیوں کے سرکاری ٹورچر پر پریس کانسل آف انڈیا بھی فکر مند ہے ۔مرزا پور میں بچوں کو مڈے میل میں نمک روٹی ملائے جانے کی خبر دینے پر صحافی کو سرکاری طور پر اذیت دینے پر پریس کانسل کے چیئرمین جسٹس چندر ماولی کمار پرساد نے کہا کہ صرف سرکار کے ذریعے صحافی پر مقدمہ واپس لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں آگے کیا کاروائی ہو سکتی ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے ۔مسٹر پرساد پریاگ راج (الہ آباد ) کے ایک سرکٹ ہاو ¿ س حال میں میڈیا پر تلخ حملے اور صحافت کے پیمانوں کی خلاف ورزی سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کر رہے تھے ۔واضح ہو مرزا نمک روٹی کانڈ میں صحافی پر مقدمہ درج کئے جانے پر پریس کانسل نے پولس حکام پر ناراضگی جتائی اور کہا اگر ایسے میں وہ آئین کی خلاف ورزی کرتے رہے تو صحافی کیسے اپنی ذمہ داری نبھائے گا ۔چئیرمین نے ایک جج کے ریمارکس یاد دلائے جس میں جج موصوف نے کہاتھا کہ اترپردیش میں پولس دستہ جرائم کا ایک سخصی گروہ ہے ایک اخبار نویس نے مرزا پور کے ایک مہرورہ گاو ¿ں میں واقع پرائمری اسکول کے بچوں کو مڈڈے میل میں روٹی نمک دئے جانے کی خبر شائع کی تھی جس پر انتظامیہ نے صحافی پر مقدمہ درج کرا دیا ۔چئیرمین نے بتایاکہ مرزا پورمیں مڈ ڈے میل آندھرا میں پتر کار صحافی کے قتل کے معاملوں کا نوٹس لیکر سماعت کی اور بتایا کہ 45میں سے 40معاملے اترپردیش کے تھے اسلئے پریاگ راج میں سماعت ہوئی ۔جج نے کہا کہ صحافی کے خلاف سیدھا مقدمہ نا لکھا جائے اسلئے پہلے پریس کانسل میں معاملے کی سماعت ہواور اس کے نتیجہ کی بنیادپر ہی مقدمہ درج کیا جائے دیش میں ریاستی حکومتیں اورمرکزی سرکار آج کسی بھی صحافی کے خلاف مقدمہ درج کر دیتی ہے جو اس کے خلاف کوئی بھی نا پشندیدہ رپورٹنگ کرتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں جمہوریت میں رپوٹر کو ایسی رپورٹ دینے کا پورا حق ہے اسلئے پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)

!بد فعلی کرنے والوں کےخلاف دیش میں غصہ ایوانوں میں بدفعلی کے ملزمان

دیش بھر میں بدفعلی کے بڑھتے واقعات سے غصہ ہے لوگ سڑکوں پر اتر کرمظاہر ہ کر رہے ہیں اور کینڈل مارچ کر رہے ہیں ۔ایسے میں چونکانے والی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ 19ممبرپارلیمنٹ خواتین کے خلاف جرائم میں ملزم ہیں یہ وہی بدفعلی جیسے گھناو ¿نے جرائم کے الزامات 4ایم پی اور6ممبران اسمبلی پر ہیں۔اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) رپورٹ لوک سبھا ،راجیہ سبھا کے 759ایم پی و 4063ممبران اسمبلی کے چناوی حلف ناموں کے تجزیے کی بنیاد پر تیار کی گئی 2009و 2014میں مہیلا جرائم معاملوں میں دو ملزم ایم پی تھے اس بار جو جیتے ہیں ان کی تعداد 19ہے ۔پچھلے 5برس میں سب سے زیادہ 66ملزمان کو بھاجپا کو ٹکٹ دئے جبکہ کانگریس نے 46بسپا نے 40ترنمول کانگریس نے 7ایسے امید وار چنے ان تینوں پارٹیوں کی چیف عورتیں ہیں :کمیونسٹ پارٹی 15سیو سینا 13سپا 13اور دیگر 8پارٹیوں کے ہیں بی جے ڈی 7اور ٹی آر سی 6ملزمان کوٹکٹ دے چکی ہے ۔572ملزمان کو ٹکٹ ملا تھا اور 19ایم پی اور 126ممبر اسمبلی چناو ¿ جیت کر ایوان میں پہونچے ملزمان کے لوک سبھا ٹکٹ پانے والے ملزمان میں 2009سے 2019میں 231فیصد اضافہ ہوا ہے حالیہ جھارکھنڈ اسمبلی چناو ¿ 81ممبران میں سے44جیت کر آئے ہیں یعنی 54فیصد۔ممبرا ن اسمبلی نے اپنے اوپر ملزمانہ مقدمہ کے بارے میں بتایا ہے ان میں آبر ریزی قتل ،اقدام قتل ،اغوا عورتوں کے اوپر مظالم وغیرہ سے متعلق الزامات شامل ہیں ۔یہ رپورٹ جھارکھنڈ الیکشن واچ اور اے ڈی آر نے مل کر سبھی نئے منتخب ممبران اسمبلی کے حلف ناموں پر کا تجزیہ کرکے رپورٹ جاری کی اس لحاظ سے اس بارممبران کی تعداد میں 68فیصدی کمی آئی ہے اس بار دو ممبر اسمبلی ایسے چنے گئے جو کسی نہ کسی جرم میں قصوروار ثابت کئے جا چکے ہیں ان دونوں کے حلف نامہ کے مطابق قتل کے الزامات ہیں جبکہ 7کے خلاف اقدام قتل کے مقدمہ درج ہیں ۔اس طرح 5ممبران اسمبلی نے جو جانکاری دی ہے ان کے خلاف عورتوں پر ظلم کے مقدمہ چل رہے ہیں ان میں سے دو نے بتایا کہ ان کےخلاف آبر و ریزی کامقدمہ بھی چل رہا ہے ۔جب ہمارے ایم پی اور ممبر اسمبلی خود مجرمانہ نظریہ کے ہوں تو ان سے کسی طرح کی کیاامید کی جاسکتی ہے تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس معاملے میںساری پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2019

!فارمولا ون ،کرکٹ اسٹیڈیم کا پلاٹ الاٹمینٹ کینسل

کریٹر نوئیڈا میں واقع جے پی اسپورٹ سٹی کا الارٹ مینٹ منسوخ کردیا گیا یہ الاٹمینٹ منسوخ کئے جانے کا فیصلہ سنیچر کو یمنا اتھارٹی کے 66ویں بورڈ میٹنگ میں لیا گیا ۔جے پی اسوسی ایٹس پر اتھارٹی سمیت بائرس کا 864کرو ڑ روپیا بقایا ہے جس کے لئے جمنا اتھارٹی نے جے پی اسوسی ایٹس اور اس کی معاون کمپنیوں کو نوٹس دیا تھا ۔جے پی اسپورٹس سٹی میں انٹرنیشنل سرکٹ بھی ہے جس پر گزشتہ تین بار فارمولا ون ریس نکالی گئی تھی اس کے علاوہ یہاں انٹرنیشنل اسٹیڈیم و ہاکی اسٹیڈیم بھی بنانے کی تجویز ہے ۔اتھارٹی نے کمپنی کو ایس ای زیڈ پروجیکٹ کے تحت ایک ہزار پندرہ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی جس میں جے پی اور دیگر کمپنیوں کو 1500ایکڑ زمین بیچ چکی ہے ۔کمپنی پر رقم بقایا ہے کئی بار نوٹس جاری کرنے باد بھی کمپنی پیسہ جمع نہیں کر رہی تھی 30جون کو جمنااتھارٹی بورڈ کی میٹنگ میں ایک مہینہ کی مہولت دی گی تھی اور خبر دار کیا گیاتھا ایک ماہ کے اندر پیشہ نا جمع کرنے پر زمین کی الاٹ مینٹ منسوخ کر دی جائے گی اس وارننگ کے باد جے پی گروپ نے 100کروڑ روپئے اتھارٹی میں جمع کرادئے اس کے بعد الاٹ مینٹ منسوخ نہیں کیا گیا تھا ۔ایس ڈی زیڈ کابقایا جمع کرنے کیلئے باقی رقم کیلئے مہولت دی گئی تھی لیکن وہ جمع نہیں کی جس وجہ سے زمین کا الاٹ مینٹ کینسل کر دیا گیا یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ اتنی شاندار اسپورٹس فیسلٹی کا پیشوں کے قلت کے سبب یہ حالت ہو رہی ہے پورے دیش میں ایک ہی فارمولا ون سرکٹ ہے اور یہاں تین بار بین الاقوامی سطح کے ریس فارمولا ون ہو چکی ہے اس بدھ سرکٹ کو میں نے بھی دیکھا ہے امید کی جاتی ہے کہ اس کی دیکھ بھال کا پورا انتظام پروفیشنلی طور پر ہینڈل کیا جائے گا ۔ہمیں ہرحالت میں اسپورٹس کمپلیکس کی اچھے سے دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)

!چناو ¿ کا ذکرکئے بغیر دہلی کو بھانپ گئے مودی

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دہلی میں سی بی ایس ای کے امتحان کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی یہ بھی طے ہوجائےگا کہ دہلی کے اسمبلی چناو ¿ 15فروری سے پہلے ہی ہو سکتے ہیں ۔واضح ہو کہ 15فروری سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحان ہونے جارہے ہیں سیاسی گلیاروںمیں قیاس آرائیاںشروع ہو گئی ہیں ۔چناو ¿ کمیشن امتحان کے درمیان میں کبھی بھی کرواسکتی ہے دلیل یہ بھی ہے کہ چناو ¿ کے شور و غل میںبچے پڑھائی سے پریشان ہوتے ہیں ایسے میںطے ہے چناو ¿ امتحان سے پہلے ہی ہوںگے امکان ہے چناو ¿ کمیشن جنوری کے پہلے ہفتہ میں دہلی اسمبلی چناو ¿ کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے بھاجپا نے چناو ¿ مہم شروع کردی ہے وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو رام لیلا میدان میں اپنی ریلی میں ایک طرح سے اسمبلی چناو ¿ کیلئے چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جارہا ہے مودی نے پارٹی کاایجنڈہ بھی طے کر دیا ہے وہ ہے ناجائز کالونیوں کے پکہ کرنے کا معاملہ دہلی کے چالیس لاکھ لوگوںسے جڑاہے اورپارٹی ان میںووٹ ملنے کی امید لگائے ہوئے ہے اس کے ساتھ ہی شہریت ترمیم قانون اور اسے لیکر مخالف پارٹیوں کے روئیے کو بھی چناوی اشو بنانے کے اشارے ہیں۔ان دونوں اشوز کو رفتار دینے کے ساتھ دہلی میں آلودہ پانی کا مسئلہ بھی پارٹی زور و شور سے اٹھائے گی اور انہوںنے ریلی میں بھی اس کا ذکر کیاتھا اور شہریوں کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی تھی۔شہریت قانون پر بولتے ہوئے مودی نے کئی بار دہلی کے اشوز پر بات کی اور کچی کالونیوں کو مالکانہ حق دینے کے ساتھ دہلی میں آلودگی ،پانی ،میٹرو اور ٹرانسپورٹ پر اپنی بات رکھی ۔وزیر اعظم نے اشاروں اشاروں میں دہلی سرکار اور اروندرکیجریوال پر بغیر نام لئے نکتہ چینی کی انہوں نے دہلی کے اہم اشو ز کو تو اٹھایا لیکن کیجریوال کا نام نہیں لیا دہلی اسمبلی چناو ¿ میں بھاجپا کی امیدیں اپنی مرکزی لیڈر شپ پر منحصر ہیں 21سال سے بھاجپا دہلی کے اقتدار سے باہر ہے لمبا بنواس ختم کرنے کیلئے بھاجپا نے دہلی کی سیاست میں کچی کالونیوں کا داو ¿ چلا ہے ۔انہوں نے اسمبلی چناو ¿ پر کوئی بات نہیں کی صرف پانی ،ٹرانسپورٹ جیسے معاملے اٹھا کر دہلی کے شہریو ں کی نبض پر ہاتھ رکھا انہوں نے دہلی پولس کے جوانوں کی بھی تعریف کی اور جس سے جوانوں کا حوصلہ بڑھ گیا کئی پولس ملازمین نے تقریر کے کچھ حصے واٹسپ کے ڈی پی میں بھی لگادئے ۔بحرحال دہلی میں مودی کی ریلی سے ایک طرح سے دہلی اسمبلی کے چناو ¿ کیلئے بھاجپا کی درپردہ چناو ¿ مہم کا آغاز مانا جاسکتاہے۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2019

ہریانہ میں ڈینٹ ،مہاراشٹر میں ڈیمج اور جھارکھنڈ میں ہار

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبر م نے ضمانت کے باد جھارکھنڈ میں میڈیا سے بات چیت میںدعویٰ کیا تھا ہریانہ میں ہم نے ڈینٹ دیا مہاراشٹر میں ڈیمج کیا اور جھارکھنڈ میں یقینی طور پر بھاجپا کو ہرا دیا اب چناو ¿ نتائج میں چدمبرم کی اس بڑی پیش گوئی کو صحیح ثابت کر دیا ہریانہ میں بھاجپا نے جوڑ توڑ کر سرکار ضرور بنا لی لیکن اس شچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پچھلے دو ماہ میں تین ریاستوں میں ہوئے چناو ¿ نتائج نے بھاجپا کو بڑا جھٹکا دیا ۔جھارکھنڈ کے چناو ¿ نتائج کا جھٹکا دہلی تک صاف محسوس کیا اب مانا جا رہا ہے کہ دہلی میں اگلے برس ہونے والے چناو ¿ پر بھی اس کا سیدھا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے جھارکھنڈ میں بھاجپا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی متعدد ریلیوں کے ساتھ ساتھ تمام وزراءنے ایک ماہ جھارکھنڈ میں اپنا کیمپ آفس بنایا ہوا تھا لیکن نتائج توقع کے مطابق نہیں آئے پانچ مرحلوں میں ہوئے چناو ¿ میں بھاجپا نے تقریباً ہر اسٹیج پر جموں کشمیر سے 370ہٹانے تین طلاق ایودھیا میں وشال مندر بنانے کی تعمیر کا ذکر کرنے کے ساتھ آخری دو مرحلوں میںشہریت ترمیم قانون کو اشو بنایا لیکن وہ کام نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوا کہ ان بھاری بھرکم اشو نے جھارکھنڈ کے مقامی اشوز کو دبا دیا وکاس کے اجنڈے سے شروع ہوئی لڑائی کا موضوع تبدیل ہونے کا منفی اثر دیکھا گیا ۔جنتا نے تبدیلی کو چنا 2017کے باد سے جھارکھنڈ ساتویں ایسی ریاست ہے جو بھاجپا کے ہاتھو ں سے نکلی ہے ۔دسمبر 2017میں بھاجپا و این ڈی اے کی ان ریاستوںمیں سرکار تھی تب 72سے 75فیصدی ہندوستان پر بھگوا جھنڈا لہرا رہا تھا دسمبر 2019آتے آتے 15ریاستوں میں ہی بھاجپا این ڈی اے کی سرکاریں بچی ہیں حالانکہ کرناٹک میجورم تری پورہ ،میگھالیہ میں حکومت بنائی تھی ان میں کرناٹک بڑی ریاست ہے ۔بھاجپا کا مشن پھیل ہونے کے کئی اسباب رہے ہیں ان میں رگو بھر داس سے لوگوں کی ناراضگی اور غیر قبائلی چہرہ مسترد ہوا ۔سریو رام جیسے نیتاو ¿ں کو نظر انداز کیاگیا اندر کھانے دل بدل لیڈروں پر بھی بھروسہ ۔آجسو سے بیس سال پرانی دوستی ٹوٹنا اپوزیشن کا توڑ نہیںنکال پائے مقامی اشو وکاس کے قومی نعرے پر بھاری پڑے زمین اکیوائر و کاشت کاری قانون پر حکومت کا لچر رویہ ۔رام مندر شہریت قانون کی مخالفت بھاجپا کو بھاری پڑی جے ایم ایم ،آر جے ڈی و کانگریس اتحاد نے متحد ہو کر چناو ¿ لڑا بھاجپا اکیلی پڑ گئی نریندر مودی کا کرشمہ کام نہیں آیا غرور اور زیادہ ہی اعتماد بھاجپا کو لے ڈوبا۔
(انل نریندر)

!ہماری سبھی آندولن کاریوں سے نرم گو اپیل

شہریت قانون و این آرسی کے خلاف احتجاج کی جو شکل دیکھنے کو مل رہی ہے وہ احتجاج تو نہیں ہے جس سے پبلک پراپرٹی کو جلایا جا رہا ہے ،نقصان پہونچایا جا رہا ہے وہ آپ کی اور ہماری گاڑھی کمائی سے ہی نہیں ہے بلکہ ایک اچھا دیش بنانے کیلئے ہے اس لعنت سے باہرنکلنے ،پرا من احتجاج بنائے رکھنے صبر سے کام لینے اور شورش پشند عناصر کے تشدد کے ارادوں کو ہراناہوگا ۔جمہوریت میں اختلافات ظاہر کرنا یا سرکار کے کسی فیصلہ کی مخالفت کرنا عوام کا بنیادی حق مانا جاتا ہے لیکن دیش میں کئی حصوں میں ہو رہے تشدد کے واقعات تو خوف پیدا کرنے والے ہیں ہی لیکن ملکی مفاد اور جمہوری اقدار کےخلاف ہیں جمہوریت میں اگر ہمیں نا اتفاقی ظاہر کرنے کا حق ملاہے تو اس کے ساتھ ذمہ داریوں سے بھی بندھا ہوا ہے بغیر ذمہ داری کے حق خطرناک ہوجاتا ہے ۔آخر یہ کون سی تحریک ہے جس میں پولس چوکیاں جلائی جارہی ہیں اینٹ پتھروں سے حملے ہو رہے ہیں ،پٹرول پمپ پھینکے جارہے ہیں ،گاڑیاں جلائی جارہی ہیں ؟اس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ہمت کرنےوالے کون ہیں ؟اس کے پیچھے کون سازش رچ رہے ہیں؟ان سوالوں کا جواب موٹا موٹا سب کو معلوم ہے لیکن انہیں سامنے لانا سرکاروں کا کام ہے ۔سپریم کورٹ کی گائڈ لائن صاف ہے پبلک پراپرٹی کے نقصان ہونے کی صورت میں ساری ذمہ داری نقصان کرنے والے ملزم کی ہوگی ۔ملز م کو خوداپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے تک کورٹ اس کو ذمہ دار مانے گی ۔نریمن کمیٹی نے کہا تھا کہ ایسے معاملوں میں بلوائیوں سے پبلک پراپرٹی کو نقصان کا ہرجانہ وصولے گی جمہوریت میں انتظامیہ کو ماضی گزشتہ میں غچا دے کر دھرنا مظاہرے سے کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اس کے جواز پر سوال ضرور اٹھے گا لیکن آگ کے شعلے ،آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دھویں ،سڑکوں پر بکھرے اینٹ پتھر ،ٹوٹے ہوئے شیشہ کے ٹکڑے اور گاڑیوں سے کہیں کہیں قابل اعتراض نعرے یہ دوسرے ہی اشارے دے رہے ہیں ۔احمدآ باد میں جس طرح بھیڑ چار پانچ پولس والوں پر اندھا دھند پتھر برسا رہی ہے ۔دہلی کے سیلم پور میں پولس والوں کو بھگا بھگا کر پیٹا گیا وہ کسی مہذب تحریک کی تصویر پیش نہیں کرتی ۔صاف ہے کہ کچھ غیر سماجی عناصر اس کے پیچھے ہیں تشدد کی پوری تیاری پہلے سے ہی کرلی گئی تھی ہوسکتاہے کچھ دیش مخالف عناصر بھی وقت کا فائدہ اٹھانے کی سازش رچ رہے ہوں جو لوگ آندولن کے نام پر آگ زنی اور تشدد کررہے ہیں ان کے ساتھ قانون ویسا ہی برطاو ¿ کرے گا جیسا جرائم پیشہ سے کیا جاتا ہے ۔ہم سبھی آندولن کاریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پر امن مظاہرہ اور دھرنا دیں تشدد کا سہارا نا لیں اپنی بات سنجیدگی سے کہیں تاکہ سرکار آپ کی بات سننے پر مجبور ہوں۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2019

کس کو صحیح مانیں پی ایم یا وزیرداخلہ کو ؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے رام لیلا میدان میں اتوار کے روز ایک بڑی ریلی سے خطاب میں ایک تیر سے کئی نشانے لگائے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لوگوںمیں ڈر پھیلانے اور شہریت ترمیم قانون پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت نے اسکیموں میں کبھی مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا گیا شہریت قانون اور این آرسی کا ہندوستانی مسلمانوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں ایک ایسی بات کہہ گئے جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے انہوں نے ریلی سے خطاب میں لوگوں سے کہا کہ ان کی سرکار میں این آرسی کو لیکرابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کیو نیٹ میں اس کا کوئی ذکرآیا ہے اورنہ ہی اس کا کوئی خاکہ تیار ہوا ہے اسلئے بھارت میں مسلمانوں کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وزیر اعظم کا یہ بیان وزیر داخلہ کے بیانات سے بالکل الٹ ہے ان کا یہ بیان اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ امت شاہ اور کچھ سینئر وزیر کئی موقعوں پر پورے دیش میں این آر سی لاگو کئے جانے کی بات کہہ چکے ہیں ۔یہاں تک کہ صدر خطاب میں بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے یعنی بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی یہ اشو اٹھ چکا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کس کی بات صحیح مانی جائے ۔یا وزیر اعظم کی جو ایک چناو ¿ ریلی میں بھی یہ کہہ چکے ہیں یا پھر وزیر داخلہ کے پارلیمنٹ میں دئے گئے بیان کو ؟مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی نے این آر سی کے مجوزہ ملک گیز سطح پر لاگو کرنے پر پبلک طور سے وزیر داخلہ کے موقف سے بالکل برعکس بیان دیا ہے انہوں نے کہا شہریت ترمیم ایکٹ اور این آر سی پر امت شاہ اور مودی کے بیانات سب کے سامنے ہیں اور بھارت کی جنتا طے کرے کون صحیح ہے کون غلط ؟شہریت ترمیم قانون اور شہریت رجسٹریشن (این آر سی ) کے خلاف اتوار کو دئے گئے مودی کے بیان پر سیتا رام یچوری نے این آر سی سے وابستہ پی ایم کے بیان پر سوال کھڑا کیا جب این آر سی کیبنیٹ میں کوئی اشو نہیں ہے تو پھر وزیر داخلہ امت شاہ اسے لاگو کرنے کا بیان کیوں دے رہے ہیں ؟کانگریس نے بھی پی ایم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان خوف اور بے یقینی کا ماحول بنا رہا ہے۔کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کہا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سی اے اے کے بعد پورے دیش میں این آر سی لاگو کرنے کا بیان دیا تھا اسی طرح بھاجپا کے کئی وزیر اعلیٰ اور سینئر مرکزی وزراءنے این آر سی کو پورے دیش میں لاگو کرنے کی بات کہی انہوں نے کہا پی ایم کانگریس پر الزام لگا رہے ہیں تو پھر سرکار اس کا جواب کیوں نہیں دے رہی آسام سمیت نارتھ ایسٹ کی ریاستوںمیں اتنا خطرناک احتجاج کیوں ہو رہا ہے وہاں تو بھاجپا کی سرکاریں ہیں ؟
(انل نریندر)

24 دسمبر 2019

!ڈونالڈ ٹرمپ پر پارلیمنٹ میں چلے گامقدمہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر مقدمہ چلانے کی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ہاو ¿س آف نمائندگان سے منظوری مل گئی ہے اب ایوان بالا سینٹ میں ٹرمپ پر مقدمہ چلایا جائےگا ۔امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ ایسے تیسرتے صدر ہونگے جن کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی گئی ہے ۔ڈونالڈ ٹرمپ پر الزا م ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر وولوڈی میر جلنستھی پر 2020میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امکانی امید وار جوئیب بریڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف کرپشن جانچ کیلئے دباو ¿ بنایا تھا بوئیڈن کے بیٹے یوکرین کی ایک بجلی کمپنی میں بڑے افسر ہیں ۔اب رپبلکن پارٹی کی اکثریت والی سنٹ میں صڈر ٹرمپ کے خلاف جانچ شروع ہوگی یہ جانچ نیتاو ¿ں کے چھوٹے چھوٹے گروپ یعنی کمیٹیاں کریں گی ایک کمیٹی کو معاملہ سے جڑے کسی ایک چیز کو سمجھنے کی مہارت حاصل ہے۔جیسے خارجی امور کی کمیٹی اقتصادی امور کی کمیٹی انصاف کمیٹی شامل ہیں اس معاملے میں کھلے طور پر گواہوں کو بلایا جائے گا ۔امریکہ اور یوروپ کے لوگ جہاں کرشمس کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں مالس اور دکانیں روشنیوں سے جگمگا رہی ہیں اور اسی درمیاں دنیا کے سب سے طاقتور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف نچلے ایوان میں مقدمہ چلانے کی تحریک پاس ہو گئی ہے ایوان میں اپوزیشن ڈیموکریٹو پارٹی کی اکثریت ہے اس لئے تجویز کا پاس ہونا یقینی تھا حالانکہ کانگریس کے طاقتور دوسرے ایوان سینٹ میں رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے ۔امریکی آئین کے تقاضوں کے مطابق ایوان بالا میں تہائی ووٹوں کی بنیادپر ہی مقدمہ کی آخری منزل تک پہونچایا جا سکتا ہے سینٹ میں نمبروں کی طاقت بھلے ہی ٹرمپ کے حق میں ہے اسلئے وہ پوری طرح سے اس کے ناکام ہونے کیلئے مطمئن ہیں ۔اس سے پہلے صدر اینڈریو جانشن پر 1868اور بلکرنٹن پر 1998میں مقدمہ چلایاگیا تھا سینٹ کے ان دونوں کی تجویز کو نامنظور کر دیا گیا تھا رچرڈ نکسن نے 1974میں مقدمہ کی کاروائی شروع ہونے سے پہلے ہی استعفیٰ دیدیا تھا جبکہ بل کرنٹن نے اپنی غلطی پر معافی مانگ لی تھی لیکن ڈونالڈ ٹرمپ اپنی غلطی نہیں مانتے کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے جب پارلیمنٹ میں ٹرمپ پر مقدمہ پر ووٹنگ چل رہی تھی تب وہ کسی جگہ بیٹل کریک میں ریلی کو خطاب کر ہے تھے جہان انہوں نے کہا تھا کہ ہم لوگوں کیلئے نوکریاں پیدا کر رہے ہیں مشیگن کے لوگوں کیلئے لڑ رہے ہیں وہیں کٹر پشند اورلیفٹ کانگریسی میرے خلاف نفرت اور غرور سے بھری آنکھ سے دیکھ رہے ہیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ڈیموکریٹس کو پتہ ہے کہ ایوان بالا میں تحریک گر جائے گی اور پھر بھی آنے والے صدارتی چناو ¿ میں ذہنی اور اخلاقی بڑھت بنانے کیلئے ٹرمپ کےخلاف مقدمہ چلانے کی کاروائی ہوئی ہے ویسے بھی دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان ایک صحت مند جمہوری مقابلہ اور حریف کی سیاست میں بدل گیا ہے ۔
(انل نریندر)

!اب عدالتوں میں جج بھی محفوظ نہیں

اتر پردیش میںقانون و نظم اتنا خراب ہو گیا ہے کہ اب تو عدالتوں میں جج تک محفوظ نہیں ہیں بجنور عدالتی کمپلیکس میں سی جی ایم کورٹ میں گولیاںچلیں جج محترم کو اپنی جان بچانے کیلئے میزکے نیچے چھپنا پڑا نجیب آباد کے حاجی احسان اور شاداب قتل کانڈ میں ملزم شاطر بدمعاش شاہ نواز اور جبار جلال آباد بجنور دہلی کی تہاڑ جیل سے پیشی پر بجنور لایا گیا تھا عدالت میں پیشی کے دوران حاجی احسان کے بیٹے ساہل اور اقرار ،کرت پور اور سمیت (شاملی )نے گولیاں برساں کر شاہ نواز کر مار ڈالا گولیاںبہت قریب سے چلائی گئیں ایک سینے میں لگی اور ایک سر پر اور نو گولیاں پیٹ میں لگیں ۔الہ آباد ہائی کورٹ نے بجنور کی سی جی ایم عدالت میں ملزم کے قتل کی واردات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے از خود نوٹس لیا ہے ۔چیف جسٹس کی ہدایت پر تشکیل اسپیشل بنچ نے معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی سے ریاست کی ضلع عدالتوں میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں ۔آتنکی حملے بھی ہوئے ہیں اس کے باوجود سرکار نے ٹھوس قد م نہیں اٹھائے ۔عدالتوں میں سب سے ناکارہ پولس والوں کو تعینات کیا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ عدالتوں میں آج جج بھی محفوظ نہیں ہیں چونکہ وارداتیں کورٹ روم میں ہو رہی ہیں ۔عدالت نے ضلع جج بجنور اور و سی جی ایم کی رپورٹ پر نوٹس لیکر ڈائرکٹر جنرل پولس کو اور اپر چیف سکریٹری ہوم کو طلب کیا ہے ۔جسٹس سدھیر اگروال اور جسٹس سمیت کمار کی بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت سے عدالت کی حفاظت کیلئے اٹھائے گئے قدموں کی جانکاری بھی مانگی ہے حقیقت میں یہ واردات سنگین اور چونکانے والی ہے ۔کچھ برسوں سے ایسے کرائم کے واقعات مظفر نگر ،آگرہ ضلعوں کی عدالتوں میں ہو چکے ہیں ایک دہائی سے زیادہ وقت سے عدالتوں میں مجرمانہ اور 2008میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں جن میں کئی لوگوں کی جان جا چکی ہے ایسے معاملوں میں قدم اٹھانے کا یہ موزوں وقت ہے ۔ہم اس معاملے کو اور نہیں ٹال سکتے وقت آگیا ہے پختہ قوت ارادی سے ایسے معاملوں کو نپٹایا جائے ۔بجنور کے سی جی ایم کورٹ میں قتل کے معاملے میں پولس کی لاپرواہی اجگر ہوتی ہے ایس پی بجنور نے پولس چوکی انچارج سمیت 18پولس والوں کو معطل کر دیا ہے پی ایس سی کے جوان اوردہلی پولس کے کرم چاریوں کے خلاف اعلیٰ حکام کو شکایت کا خط بھیجا گیا ہے۔سپریم کورٹ کئی بار کہ چکی ہے کہ اتر پردیش میں جنگل راج ہے ۔
(انل نریندر)

!بیشک احتجاج سی اے اے پر ہے اصلی ڈرتو این آر سی کا ہے

دیش میںجو حالات جموں کشمیر سے دفعہ 370ہٹانے اور تین طلاق ختم کرنے کے قانون سے لیکر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ایودھیامیں رام مندر کے فیصلہ سے نہیں پیدا ہوئے تھے وہ آج شہریت ترمیم قانون (سی اے اے )نے کچھ دنوں میں ہی کر دئے ہیں احتجاج کو بھلے چوکے کی تلاش میں اپوزیشن پارٹیاں ہو ا دے رہی ہوں لیکن اقلیتیں اسے اپنے وجود کی لڑائی مان کر لڑنے کیلئے بے چین ہیں ۔اقلیتوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اس ناراضگی کو ہوا دے رہا ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جو مودی کو برداشت نہیں کرتا آج سے نہیں بلکہ 2002سے جاری رکھے ہوئے ہے وہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہتاہے کہ کب مودی حکومت کی مخالفت ہو نوجوان طبقہ اسلئے سڑکوں پر اترا کیونکہ اسے اپنا مستقبل تاریک دکھائی پڑتا ہے ۔اسے موجودہ معیشت سے معاشی حالات سے مایوسی ہے اور ان کا سارا غصہ سرکار پر اتارنے کا موقع بنا رہتاہے وہیں اکثریتی طبقہ میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جو ووٹ بینک کی سیاست کرتا ہے اور اکثریتی اور اقلیتیوں میں زہر گھولنے کے فراق میں رہتا ہے خاص طور پہ جب چناو ¿ قریب ہو آسام میں لڑائی کا اشو الگ ہے نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں آسام کو چھوڑ کر اشو الگ ہیں اقلیتوں کو پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے مسلمانوں کو شہریت نادینے سے زیادہ پریشانی اس کے بعد دیش بھر لاگو ہونے والی این آر سی سے ہے مسلمان مان رہے ہیں کہ انہیں بھارت سرکار شہریت ثابت کرنے کے نام پر پریشان کرنے والی ہے اس کے احتجاج سے بھاجپا کا ایک طبقہ بھلے ہی خوش ہو رہا ہو لیکن بھاجپا کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے حکمت عملی ساتھ ہی احتجاج سے پریشان ہے انہیں اتنا بھاری احتجاج ہونے کا اندازہ نہیں تھا ۔احتجاج اکثریتی ،اقلیتی علاقوں میں ہو رہے ہیں اس تحریک کی رہنمائی کو سیاسی رنگ دئے جانے سے پریشان ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریک ان علاقوں میں بھی پہونچ جائے جہاں اقلیتی آبادی نہیں ہے دہلی کے ایک نیتا نے کہا ایسا نہیں ہوا تو بھاجپا کی سیاست کامیاب ہو جائے گی 5بار سیلم پور سے ممبراسمبلی رہے چودھری متین احمد نے بتایا کہ یہ ان پڑ مسلمانوں میں ہی پڑھے لکھے لوگوں میں بھی زیادہ پھیل رہی ہے کہ مرکزی سرکارکی پوری تیاری این آر سی کے نام پر اقلیتوں کی شہریت ختم کرنے کے یا کسی بہانے سے پریشان کرنا ہے ۔دیش کے وزیر داخلہ امت شاہ اور امت شاہ پارلیمنٹ میں اور بھاجپا کے نگراں صدر جی پی نڈا جمعرات کو ایک پروگرام میں بول چکے ہیں کہ این آر سی دیش بھر میں لاگو کیا جائے گا اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے آسام کے تجربہ سے لوگ پریشان ہیں پچاس سال سے دیش کے شہری ہونے کا ثبوت مانگا گیا ہے اس کیلئے لاکھوں شہریوں کی شہریت روکی گئی اس میں بڑی تعداد میں اقلیتیں ہیں شہری لوگوں کے پاس ابھی تو تازہ ثبوت مل جائیں گے لیکن برسوں پرانے ثبوت کس کے پا س محفوظ ہوںگے ؟اسی طرح مصطفی باد کے ممبر اسمبلی رہے آل انڈیا ہائی کمیٹی کے نائب صدر حسن احمد پوچھتے ہیں کہ وہ دہلی میں سی اے اے کے خلاف احتجاج میں ہنگامہ ہونے کے وقت سے ہی امن مارچ نکالنے اور جگہ جگہ بھائی چارہ میٹنگیں کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ جان بوجھ کر بھائی چارہ بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں ۔اس مسئلے کو لیکر لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے سوال پید اہیں ۔مرکزی سرکار کی اس مسئلے پر جواب دہی بنتی ہے وہ لوگوں کے اس شبہ کودور کریں یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اپنا گاو ¿ں برسوں پہلے چھوڑ چکے ہیں اپنے اس دیش کے بنیادی شہری ہونے کا ثبوت دیں بیشک احتجاج سی اے اے کو لیکر ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ اصل احتجاج این آر سی کیلئے ہے ۔اسلئے نہیں لگتا کہ شہریت ترمیم قانون کا احتجاج جلد ختم ہونے والا ہے ۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2019

ایل او سی پر کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں!

ایل او سی پر حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں فوج کے سربراہ جنرل راوت نے بھی کہا ہے ایل او سی پر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔پاکستان سے ملحق ایل اوسی پر دونوں طرف سے گھماسان کبھی بھی ہوسکتاہے یہ اندیشات اس لئے ہیںکیونکہ ہندوستانی فوج نے اپنے فیلڈ کمانڈروں کو پاک فوج کے ذریعے جنگ بندی کا منھ توڑ جواب دینے کی خاطر اپنی سطح پر فیصلہ لینے کو کہا ہے اس میں فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا یہ بیان بھی تڑکا لگا رہا ہے کہ حالا ت صحیح نہیں ہیں نتیجتاً ایل او سی کے ساتھ لگے علاقوں میں مقیم سرحدی باشندوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ہندوستانی فوج نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ایک بریگیڈ ہید کوارٹر کو اڑا دیا ہے اس میں پاک فوج کے درجن بھر فوجی بھی مارے گئے لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ملی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ا س نقصا ن سے پاک فوج تلملا اٹھی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایل اوسی پر دیگر سیکٹروں میں مورچہ کھول سکتی ہے ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن سے ملحق علاقے تنگ دھار میں پاکستان کی بلا اشتعال گولا باری کے جواب میں ہندوستانی فوج نے پاکستانی فوج کو زبردشت نقصان پہونچایا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے راجیوری ضلع کے سندر بن سیکٹر میں بیٹھ حملے اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگے علاقوں میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر فوجی انتظامیہ نے سبھی فیلڈ کمانڈروں کو دشمن کو منھ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے گزشتہ ایک ماہ میں سمانگ کے پونچھ و راجیوری میں ہر تیسرے دن ایل اوسی پر پاکستانی فوج کی طر ف سے گولا باری کی جارہی ہے ۔فوجی حکام نے بتایا کہ فوجی انتظامیہ اور وزارت دفاع مسلسل ایل او سی پر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔پاکستانی فوج کے ذریعے بیٹھ حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹیں ہیں اس وقت پاکستانی فوج کا پورا وقت ایل اوسی پر کسی طرح جنگ کے حالات پیدا کرکے خود بخود ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کو جموں کشمیر میں ڈھکیلنے پر امادہ ہے انہوں نے بتایا ان دونوں سرحدی علاقوں میں مسلسل کہرہ پڑنے سے حالات اور خراب ہو رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

آئی سی یو میں بھارت کی معیشت

سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے۔سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے شروع میں دو طرح کی بیلن شیٹ کے مسئلے تھے جن میں این بی ایف سی اور ریل اشٹیٹ بھی شامل ہو گئے مسئلے کے حل پر سبرا منیم اور شیل مین نے کہا کہ کوئی ایک سیدھا قدم دکھائی نہیں پڑتا 2010کے بعد کے برسوںمیںترقی کا پیٹرن دیکھنے کے بعد معیشت میںطویل سستی اور اس کے بعد ا چانک گراوٹ کی کوئی ایک تشریع نہیںکی جا سکتی ہمارے تزیہ میں ڈھانچہ بند اور بے یقینی دونوں وجوہات دکھائی پڑتی ہیں ان دونوں میں مالیات کا اشو یکساںطور سے موجود ہے کرنسی پالیسی بہت کارگر نہیں ہے کیونکہ بینکوں کی سود شرعوں میں اس کی پورعی منتقلی نہیں ہو پا رہی ہے اگر بڑی مالی راحت دی جاتی ہے تو اس سے پہلے ہی اونچی سود شرعوں میں اور اضافہ ہوگا جس کے سبب ترقی کو تیز کرنے والے پہلوو ¿ں پر برااثرپڑے گا ۔اور معیشت میں استحکام میں تیزی لانے کیلئے بیلنس شیٹ مسئلے کا حل کرنا ضروری ہے ۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2019

!ایل او سی پر کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں

ایل او سی پر حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں فوج کے سربراہ جنرل راوت نے بھی کہا ہے ایل او سی پر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔پاکستان سے ملحق ایل اوسی پر دونوں طرف سے گھماسان کبھی بھی ہوسکتاہے یہ اندیشات اس لئے ہیںکیونکہ ہندوستانی فوج نے اپنے فیلڈ کمانڈروں کو پاک فوج کے ذریعے جنگ بندی کا منھ توڑ جواب دینے کی خاطر اپنی سطح پر فیصلہ لینے کو کہا ہے اس میں فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا یہ بیان بھی تڑکا لگا رہا ہے کہ حالا ت صحیح نہیں ہیں نتیجتاً ایل او سی کے ساتھ لگے علاقوں میں مقیم سرحدی باشندوں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے ہندوستانی فوج نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ایک بریگیڈ ہید کوارٹر کو اڑا دیا ہے اس میں پاک فوج کے درجن بھر فوجی بھی مارے گئے لیکن ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ملی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ا س نقصا ن سے پاک فوج تلملا اٹھی ہے اور وہ کسی بھی وقت ایل اوسی پر دیگر سیکٹروں میں مورچہ کھول سکتی ہے ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن سے ملحق علاقے تنگ دھار میں پاکستان کی بلا اشتعال گولا باری کے جواب میں ہندوستانی فوج نے پاکستانی فوج کو زبردشت نقصان پہونچایا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے راجیوری ضلع کے سندر بن سیکٹر میں بیٹھ حملے اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگے علاقوں میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر فوجی انتظامیہ نے سبھی فیلڈ کمانڈروں کو دشمن کو منھ توڑ جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔پاک فوج کے ذریعے گزشتہ ایک ماہ میں سمانگ کے پونچھ و راجیوری میں ہر تیسرے دن ایل اوسی پر پاکستانی فوج کی طر ف سے گولا باری کی جارہی ہے ۔فوجی حکام نے بتایا کہ فوجی انتظامیہ اور وزارت دفاع مسلسل ایل او سی پر حالات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔پاکستانی فوج کے ذریعے بیٹھ حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹیں ہیں اس وقت پاکستانی فوج کا پورا وقت ایل اوسی پر کسی طرح جنگ کے حالات پیدا کرکے خود بخود ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کو جموں کشمیر میں ڈھکیلنے پر امادہ ہے انہوں نے بتایا ان دونوں سرحدی علاقوں میں مسلسل کہرہ پڑنے سے حالات اور خراب ہو رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

!آئی سی یو میں بھارت کی معیشت

سابق چیف اقتصادی مشیر اروندسبرا منیم نے بدھ کو رائے زنی کی ہے کہ بھارت گہری اقتصادی سست روی میں ہے اور بینکو ں اور کمپنیوں کے حساب کتا ب کے جڑوا بحران کی دوسری لہرکے سبب معیشت آئی سی یو میں جا رہی ہے سپرم منیم نے مودی سرکار کے پہلے عہد میں چیف اقتصادی مشیر رہے ہیں انہوں نے پچھلی سات اگست کو استعفیٰ دے دیا تھا انہوں نے بین الاقوامی کرنسی ذخیرے کے بھارت آفس کے سابق چیف جوئے فیلمن کے ساتھ لکھے گئے ایک نئی تحقیقی دستاویز میں کہا کہ بھارت اس وقت بینک،بنیادی ڈھانچہ اور غیر بینکنگ مالی کمپنیاں اور ریل اسٹیٹ ان چاروں سیکٹروں کی کمپنیوں کے حساب و کتاب کے بحران کاسامنا کر رہا ہے اس کے علاوہ بھارت کی معیشت سرا سود اور اضافے کے منفی فرق میں پھنس گئی ہے جس میں خطرے سے بچنے کے ٹرینڈ کے سبب بیاض شرا بڑھتی جاتی ہے اس کے سبب ترقی شرح گھٹتی ہے اور اس کے سبب خطرے سے بچنے کے جذبہ اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ معیشت میں یہ کوئی عام سستی نہیں ہے ۔یہ بھارت کیلئے بہت بڑھا سلو ڈاو ¿ن ہے سبرا منیم نے کہا کہ معیشت کو پہلے جھٹکا دوہری بیلن شیٹ کے مسئلے سے الگ اس سے بینک اور ڈھانچہ بند کمپنیاںشامل تھیں یہ جھٹکاتب لگا جب سال 2000کے بعد کی دہائی کے وسط میں انوسٹمنٹ بون کے دوران شروع کی گئی ڈھانچہ بند اسکیمیں ڈیفالٹ کرنے لگیں اس کے بعد این بی سی کی رہنمائی میں زیادہ قرض دئے جانے سے غیر ضروری طور سے ریل اسٹیٹ پروجیکٹ کی باڑ آگئی یہ غبارہ 2019میں پھٹا اس کیوجہ سے کھپت بھی گھٹی اور ترقی شرح میں گراوٹ آگئی ان سب اسباب سے بھارت اب چار بیلن شیٹ چنوتیوں کا سامنا کر رہا ہے شروع میں دو طرح کی بیلن شیٹ کے مسئلے تھے جن میں این بی ایف سی اور ریل اشٹیٹ بھی شامل ہو گئے مسئلے کے حل پر سبرا منیم اور شیل مین نے کہا کہ کوئی ایک سیدھا قدم دکھائی نہیں پڑتا 2010کے بعد کے برسوںمیںترقی کا پیٹرن دیکھنے کے بعد معیشت میںطویل سستی اور اس کے بعد ا چانک گراوٹ کی کوئی ایک تشریع نہیںکی جا سکتی ہمارے تزیہ میں ڈھانچہ بند اور بے یقینی دونوں وجوہات دکھائی پڑتی ہیں ان دونوں میں مالیات کا اشو یکساںطور سے موجود ہے کرنسی پالیسی بہت کارگر نہیں ہے کیونکہ بینکوں کی سود شرعوں میں اس کی پورعی منتقلی نہیں ہو پا رہی ہے اگر بڑی مالی راحت دی جاتی ہے تو اس سے پہلے ہی اونچی سود شرعوں میں اور اضافہ ہوگا جس کے سبب ترقی کو تیز کرنے والے پہلوو ¿ں پر برااثرپڑے گا ۔اور معیشت میں استحکام میں تیزی لانے کیلئے بیلنس شیٹ مسئلے کا حل کرنا ضروری ہے ۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2019

ایک تانا شاہ کو سزائے موت

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کسی سابق فوج کے سروراہ اور فوجی تانا شاہ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو حالانکہ سزا کے اعلان دورا ن مشرف وہاںموجود نہیں تھے ان پر دیش کا آئین منسوخ کرنے اور اپنی ڈکری کو آئین اعلان کر سپریم کورٹ کو ججوں کو برخواست کرنے و جنتا کی آواز دبانے کی سزا آخر کار عدالت نے دے دی ۔لمبے عرصے سے ملک کی بغاوت کا سامنا کر رہے پرویز مشرف کو موت کی سزا سنا کر خصوصی عدالت نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ ابھی زندہ ہے اور کوئی قانون سے بڑا نہیں ہے اور یہ فیصلہ یہ بھی بتاتا ہے کہ تمام دباو ¿ اورمشکلات کے باوجود پاکستان کی عدلیہ آزاد اور منصفانہ طور سے کام کرتی ہے دراصل یہ فیصلہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ کیسے یہ پڑوسی ملک اپنے اندرونی دشواریوں سے لڑ رہا ہے ۔1999میں نواز شریف کا تختہ پلٹ کر پاکستان کی کمان اپنے ہاتھ میںلینے والے مشرف نے 2001سے 2008کے دوران صدر بن گئے تھے خصوصی عدالت نے انہیں 2007کے آئین کو معطل کرنے اور غیر آئینی طریقے سے دیش بھر میں ایمرجنسی لگانے کا قصوروار قرار دیا ۔اس دوران مشرف کی ہدایت پر سپریم سمیت مختلف عدالتوں کے کئی ججوں کو نظربند کر دیاگیاتھا ۔پھانسی کی سزا تو دور مشرف کو سزا بھی نہیں ملے گی اس کو لیکر پاکستان میں شش و پنج کا ماحول بنا ہوا مشرف صرف دیش کے صدر ہی نہیں رہے بلکہ پاکستان کے فوجی سربراہ رہے اور انہوں نے کارگل جنگ کے ہیرو جیسے کئی شکلوں میں میل کے پتھر قائم کئے اسلئے مشرف کو موت کی خبر چوکانے والی ضرور ہے پاکستان کی تاریخ می ںوہ پہلے ایسے فوجی اور صدر رہے ہیں جن کو موت کی سزا سنائی گئی ہو جس ملک می سیاست سے لیکر ہر جگہ فوج کا دبدبہ رہتا ہو اور بغیر کی فوج کی مرضی کے پتہ بھی نہیں ہل سکتا وہاں مشرف کو سزا دیاجانا صاف طور پر اس بات کا پیغام ہے کہ فوج بھی عدلیہ سے بالا تر نہیں ہے اور موجودہ فوجی افسران اور سیاست دانوں کیلئے بھی ایک سخت پیغام ہے کہ جو اپنے آپ کو قانون سے بڑھ کر مانتے ہیں ۔مشرف کوموت کی سزا دلانے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا اہم رول ہے اور ان کے کئی فیصلوں کو فوج کیلئے چنوتی مانا جارہا ہے ابھی حال میں انہوں نے فوج کے سربراہ قمر جاوید باجو ا کی سروس توثیقوں کو تین سال سے گھٹا کر چھ مہینہ کر دیا تھا فوج نے اس پر ناراضگی جتائی تھی ۔حالانکہ ہائی کورٹ میں عرضیہ دائر کر مقدمہ روکنے کی کئی کوششیں کی گئیں ۔اس پر اپریل میں چیف جسٹس کھوسہ کی تین نفری بنچ نے حکم جاری کیاتھا کہ اگر ملزم پیش نہیں ہوتا تو اس کی غیر موجودگی میں روزانہ سماعت کرکے فیصلہ دیاجائے ۔اسپیشل عدالت نے آٹھ مہینے میں ہی فیصلہ سنا دیا جج صاحب کھوسہ پی ایم عمران کو حد میں رہنے کیلئے ہدایت دیتے ہوئے کہ چکے ہیں کہ وہ عدلیہ پر طنز نہ سکیں یہ 2009کے پہلے کی عدلیہ نہیں ہے مشرف کے خلاف فیصلہ دے کر عدالت نے جتا دیا ہے کہ اس سے طاقتور فوج بھی نہیں ہے۔پاک ہائی کورٹ و اسپیشل عدالت نے مشرف کو کئی مرتبہ طلب کیا وہ ہر بار بیماری کا بہانہ بنا کر دیش لوٹنے سے انکار کرتے رہے ۔اب فیصلہ کے بعد مشر ف کو پاکستان لانا ہی موجودہ سرکار کو بڑی چنوتی ثابت ہو سکتا ہے اس کے علاوہ پاکستان کا دبئی سے کوئی حولگی معاہدہ نہیںہے پھر بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان فوج کا اس فیصلہ پر کیا رخ رہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

دبنگ کے سیاسی دباو ¿ دھمکیوں سے بھی نہیں جھکی متاثرہ!

اناو ¿ کی بیٹی کو قریب ڈھائی سال کی جد و جہد کے بعد آخر کار انصاف مل گیا حالا نکہ جس نربھیاکی وجہ سے بد فعلی قانون کو بدلا گیا ۔جوڈیشئیری کی سرگرمی بڑھی ،اس کی خود کشی کو 7سال سے اوپر ہونے کے بعد انصاف کا انتظار کر رہی ہے اس کی آتما کئی موقعے ایسے آئے ہیں جب لگا حکمراں پارٹی کا رسوخ دار اور دبنگ ممبر اسمبلی عدلیہ کارروائی کی آڑ میں قانون کو ٹھینگا دکھا سکتا ہے ،لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت سے اس کے منصوبے پورے نہیں ہو پائے دہلی کی تیس ہزاری کی عدالت میں بھاجپا سے اخراج ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو اناو ¿ کی نابالغ بیٹی سے آبرو ریزی کا قصور وار قرار دیا ہے حالانکہ معاملے کے معاون ملزم ششی سنگھ کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا عدالت نے کہا کہ طاقتور شخص کے خلاف متاثرہ کی گواہی سچی ثابت ہوئی ۔عدالت نے سینگر کو آئی پی سی او ر پاس کو ایکٹ کے تحت جنسی استحصال کا مجرم قرار دیا ہے ان دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ عمر قیدہوسکتی ہے متاثرہ لڑکی کو انصاف کی لڑائی میں تمام مشکلات اور جد و جہد کا سامنا کرنا پڑا اس دوران اس نے خاندان کے کئی افراد کو بھی ہمیشہ کیلئے کھو دیا والد ،دادی کے بعد چاچی اور موسی کو بھی کھودیا لیکن رائے بریلی میںہوئے سڑک حادثہ میں متاثرہ کی جان تو بچ گئی لیکن ممبر اسمبلی اور اس کے گرگوں کی دھمکیوں کے باوجود انصاف کی لڑائی میں ساتھ دینے والے وکیل ابھی بھی نزعی حالت میں ہیں۔ بتا دیں 4جون 2017کو 16سالہ لڑکی کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ ہوا تھا اسکو اغوا کر الگ الگ جگہوں پر رکھاگیا اس کے بعد پولس نے اس کو تلاش لیا ماں نے تھانے میں دی گئی شکایت میں ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سنگر کے ذریعے پڑوس کی ایک عورت ششی سنگھ کے ذریعے سے بہانے سے بلایا تھااور اس سے بدفعلی ہونے کی شکایت کی تھی لیکن پولس نے نہیںسنا 11جون2017کومتاثرہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور اس پر کیس مقدمہ درج کیاگیا لیکن پولس نے جانب داری میں ممبر اسمبلی اور معاون ملزمہ خاتون کا نام ہٹا دیا اس کے باوجود متاثرہ اپنی چاچی کے ذریعے دئے گئے حوصلے کے سہارے اپنی لڑائی لڑتی رہی ۔اناو ¿ بدفعلی معاملے میں سماعت کے باد فیصلہ سناتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ دھنے شرما نے بیٹی کی ہمت اور جذبہ کی تعریف کی کورٹ نے اس دوران اسے بے وجہ پریشان کئے جانے پر بھی سوال اٹھائے ۔پاسکو ایکٹ کی دفع 24کے تحت خاتون افسر کا ہونا چاہئے تھا لیکن اس معاملے میںاسکو بھی نظر انداز کیاگیا اس پر بھی عدالت نے ناراضگی جتائی اب عدالت اس کیس میں 20دسمبر کو سزا سناسکتی ہے کلدیپ سینگر نے بچنے کیلئے پوری طاقت لگا دی ا س کا سیاسی دبدبہ بھی نہیں بچا سکا ۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2019

پانی پت پر سنگرام:کٹر مخالف ساتھ آئے

فلم پانی پت -دی گریٹ بیٹریل میں بھرت پور کے مہاراجہ سورج مل کو غلط طریقہ سے فلمانے پر پورے راجستھان میں ہنگامہ مچا ہوا ہے سیاست میں کٹر مخالف مانے جانے والے بڑے نیتا ایک آواز میں فلم کی مخالفت کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ اشوک گہولت ،سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے ،ناگورایم پی ہنومان بینی وال،مہاراجہ سورج مل کے آباءو اجداد و وزیر سیاحات وشیندر سمیت کئی لیڈروں نے فلم پر احتجاج کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے جب چاروں اپوزیشن لیڈر ایک رائے نظر آئے اس درمیان بھرتپور کے کئی قصبے ،بازار احتجاج میں بند رہے وہیں جے پور کے سنیما گھروں کے باہر مظاہرے ہونے کی خبریں مل رہی ہیں واضح ہو کہ جے پور کے 18سنیما ہالوں میں جمع کو یہ فلم ریلیز ہو گئی احتجاج کے چلتے 16سنیما گھروں نے اس کی نمائش روک دی اور آن لائن ٹریلر بھی کینسل کر دئے گئے فلم پر بھرتپور رپواس،بنہیر ،ڈیگ ،نگر میں بھی بازار بند رہے کئی جگہوں پر لوگوں نے جم کر مظاہرہ کیا ،وہاں کے وزیر سیاحات نے بتایا کہ ٹی آر پی کے لئے فلم میں غلط حقائق پیش کئے گئے اور اس کے خلاف عدالت میں فلم کو چیلنج کیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ فلم میں مہاراجہ پر سین فلمانے پر جو ردعمل سامنے آرہا ہے ایسے حالات پیدا نہیں ہونے چاہیے تھے سینر بورڈ معاملے میں مداخلت کرئے ڈسٹی بیوٹر س کو جاٹ سماج کے لوگوں سے معاملے کوبات چیت سے حل کرنا چاہیے فلم بنانے سے پہلے کسی کی شخصیت کو صحیح پس منظر میں پیش کیا جائے فلم دیکھنے کے بعد راجستھان جاٹ سبھا کے صدر راجہ رام بھیل راجپوت کرنی سینا کے قومی صدر مہپال سنگھ مکرانا وغیرہ انجمنوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے فلم پات پر احتجاج کی آنچ دہلی میں بھی پہنچ گئی ہے منگلوار کو صبح لوک سبھا کمپلیکس میں فلم کا پوسٹر فاڑا گیا فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کی گئی بینی وال نے لوک سبھا میں کہا کہ ماضی میں لوگوں کے جذبات اور آستھا کو خراب کرنے والی پندرہ فلموں پرپابندی لگائی گئی تھی ایسے میں پانی پت کو بھی بین کیا جانا چاہیے ۔

(انل نریندر)

آخر حافظ سعید پر کس گیا شکنجہ

پاکستان نے بدھوار کو آخری بار ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جمعتہ الدوہ کے چیف حافظ سعید پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے مالی کاروائی ٹاسک فورس کے دباﺅ کے بعد لاہور کی دہشتگردی انسداد عدالت نے آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی سعید پر دہشتگردی کے خلاف مالی فراہمی کے معاملے میں الزامات طے کر دئے ہیں سعید کے علاوہ اس کے تین ساتھیوں پر بھی الزامات طے کئے گئے ہیں پنجاب پولس کے دہشتگردی انسداد محکمے نے 17جولائی کو سعید اور اس کے ساتھیوں پر ایف آئی آر درج کی تھی اورسعید کو گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ لاہور کی کورٹ لکھ پت جیل میں بند ہے ۔معاملے لاہور ،گجراوالہ اور ملتان میں اس کی مختلف مالی ٹرسٹ کی بھی نگرانی کی گئی اور ان ٹرسٹوں کے ذریعہ سے دہشتگردوں کو پیسہ دینے کے لے عطیات اکھٹے کر نے کے مقدمے درج کئے گئے ہیں پاکستان کی عدالت میں سعید کے خلاف الزامات طے ہوئے ہیں تو اب امکانات یہی ہے کہ اس کے پیچھے وہاں کی حکومت کی قوت ارادی کم اور بین الا اقوامی دباﺅ زیادہ رہا سنیچر کو اسی عدالت میں جس طرح کے حالات بنے اس سے یہ اندیشہ کھڑا ہو گیا تھا کہ حافظ سعید کو رعایت دینے کے لے زمین بنائی جا رہی ہے کیونکہ متعلقہ افسر انتہائی پرفائل معاملے کی سماعت میں بھی ایک معاون ملزم کو پیش کرنے میں ناکام رہے تھے ۔حافظ سعید اور دہشتگردی کے سلسلے میں شاید ہی کوئی ثبوت چھپا رہا خاص طور پر ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں الزام لمبے وقت سے مبینہ طور سے سامنے تھے اس واردات سمیت دوسری آتنکی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو حافظ سعید کی انجمنوں نے پیسے میہا کرائے تھے اور اہم سازشی بھی کہا تھا لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ جس حملے میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے اس کے ذمہ دار ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس پہل نہیں کی جبکہ بھارت کی جانب سے پیش کئے گئے ثبوت اس بات کے صاف گواہ تھے وہ حملہ پاکستان کی آتنی تنظمیوں کی طرف سے کروایا گیا تھا لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ اس کی حد میں آتنکی تنظیموں کو یا آتنکیوں کو پناہ دی جاتی ہے لیکن بڑھتے عالمی دباﺅ میں اس مسئلے پر پاکستان کو دفع میں آنا پڑا دیکھیں اب بھی ایمانداری سے پاک آگے بڑھتا ہے یا نہیں ؟

(انل نریندر)

نربھیا کے قصورواروں کو پھانسی میں لگیں گے چھ گھنٹے

نربھیا معاملے کے قصورواروں کو پھانسی دینی کی تاریخ ایک بار پھر ٹل گئی ہے کیونکہ دو قصورواروں کے ذریعہ عرضی کی وجہ سے اب درندوں کو پھانسی 18دسمبر کے بعد ہی ممکن ہے سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو دونوں قصورواروں کی عرضیوں نے پھانسی کو لٹکا دیا ہے ۔امید ہے کہ یہ دونوں عرضیاں بھی سپریم کورٹ خارج کر دے گا بے شک ابھی پھانسی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے لیکن تہاڑ جیل انتظامیہ نے اس کی پوری تیاری کر لی ہے پھانسی کے چار تختے تیار کئے گئے ہیں اور ان کا ٹرائل بھی ہو گیا ہے نربھیا معاملے کے چاروں قصورواروں ونے ،مکیش،پون،اکشے،تہاڑ جیل لائے جا چکے ہیں ۔ڈائرکٹر جنرل جیل سندیپ گوئل کا کہنا ہے کہ پھانسی کے لئے تیاریاں پوری کی جا رہی ہیں ٹرائل کے لئے تہاڑ جیل میں تمام ضروری سامان کا استعمال ہو رہا ہے ۔قصورواروں کی پھانسی کے لئے بکسر جیل سے رسیاں تہاڑ جیل آچکی ہیں جلاد کا نام بھی طے ہو گیا ہے انہوںنے کہا کہ ہم نے دو جلادوں کا انتظام کیا ہے ممکن ہے ایک ہی جلاد دے گا چاروں قصورواروں کی ہر 24گھنٹے صحت کی جانچ کی رہی ہے چھ سی سی ٹی وی کیمروں سے ان کی نگرانی ہو رہی ان کی کس سے اور کیا بات ہو رہی ہے وہ بھی ریکارڈ ہو رہی ہے ۔تہاڑ سے فون آتے ہی پانچ گھنٹے کے اندر جلاد تہاڑ پہنچ جائیں گے اترپردیش جیل سروس کے ڈائرکٹر جنرل آنند کمار نے کہا کہ تہاڑ جیل انتظامیہ نے دو جلاد مانگے ہیں قصورواروں کے لئے اگر ڈیتھ وارنٹ جاری ہوتا ہے تو پھانسی کی کارروائی پوری ہونے میں 6گھنٹے لگیں گے یہ پہلا موقعہ ہوگا جب تہاڑ جیل نمبر تین میں بنا پھانسی گھر اتنی ہی دیر کے لئے کھلا رہے گا اس دوران جیل نمبر تین بند رہے گی ۔قصورواروں کی جس دن پھانسی دی جاتی ہے اس دن صبح پانچ بجے قصوروار کو اُٹھا دیا جاتا ہے نہانے کے بعد قصورار کو پھانسی گھر کے سامنے کھلے احاطے میں لایا جاتا ہے یہاں جیل سپرین ٹینڈینٹ اور ڈپٹی سپرین ٹنیڈینٹ میڈیکل افسر سب ڈویزنل مجسٹریٹ اور سیکورٹی عملہ موجود رہتے ہیں جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجرسٹریٹ قصوروار سے ان کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھتے ہیں عام طور پر پراپرٹی ہو وہ کسی کے نام کرنے یا کسی اپنے عزیز کو آخری خط لکھنے کی بات سامنے آتی ہے اس وقت قریب 15منٹ کا وقت قصوروار کو دیا جاتا ہے اس کے بعد جلاد قصوروار کو کالے کپڑے پہناتا ہے اس کے ہاتھ کو پیچھے کر کے رسی یا ہتھ کڑی سے باندھ دیا جاتا ہے یہاں سے قریب سو قدم کی دوری پر بنے پھانسی گھر پر قیدی کو لے جانے کی کارروائی شروع ہوتی ہے وہاں جلاد اس کے منھ پر کالے رنگ کا کپڑا باندھ کر گلے میں پھندا ڈالتا ہے اس کے بعد قصوروار کے پیروں کو رسی سے باندھ جاتا ہے جب جلاد اپنے انتظام سے مطمئن ہو جاتا ہے تب وہ جیل سپرن ٹینڈنیٹ کو آواز دے کر بتاتا ہے کہ اس کے انتظام پورے ہو چکے ہیں آگے کے لے حکم دیں جب جیل سپری ٹینڈینٹ ہاتھ ہلا کر اشارہ کرتے ہیں تو جلاد لیور کھینچ لیتا ہے اس کے دو گھنٹے بعد میڈیکل افسر پھانسی گھر کے اندر جا کر یہ یقینی کرتے ہیں کہ پھندے پر جھول رہے شخص کی موت ہوئی ہے یا نہیں اس کے بعد میڈیکل افسر ڈیتھ سرٹی فیکٹ جاری کرتا ہے تب پھانسی کی کارروائی مکمل ہو جاتی ہے اس خانہ پوری میں تین گھنٹے لگ جاتے ہیں تہاڑ جیل گھرنمبر تین میں جو پھانسی گھر بنا ہے اس میں ایک بار میں ابھی تک دو قصورواروں کو پھانسی پر لٹکانے کی سہولت ہے ذرائع نے بتایا کہ نربھیا کے قصوراروں کے خاص طور پر لمبا تختہ بنایا گیا ہے ۔جس میں چاروں کو ایک ساتھ کھڑا کر کے پھانسی دی جا سکے اس طرح چاروں قصوراروں کو پھانسی دینے میں قریب چھ گھنٹے لگ جائیں گے ۔

(انل نریندر)

14 دسمبر 2019

یہ ہیں دنیا کی سب سے کم عمر والی وزیر اعظم

فن لینڈ کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی نیتا سب سے کم عمر کی وزیر اعظم بن گئی ہیں 34سالہ وزیر ٹرانسپورٹ صنا مرین اتوار کو ہیلن سکی میں دیش کی وزیر اعظم چنی گئی ہیں وہ دیش کی نہیں دنیا کی سب سے نوجوان وزیر اعظم ہیں مریم سے پہلے یوکرین کی وزیر اعظم گیلکسی ہونا معروک کی عمر 35برس ہے اپنی عمر سے متعلق سوالوں کے جواب میں فن لینڈ کی نئی وزیر اعظم مرین کہتی ہیں کہ میں نے کبھی اپنی عمر یا خاتون ہونے کے بارے میں کبھی فکر نہیں کی میں کچھ وجوہات سے سیاست میں آئی اور ان چیزوں کے لئے ہم نے ووٹروں کا بھروسہ جیتا صنا 16نومبر1985کو فن لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں ۔مرین ہم جنس والے پارٹنر کی اولاد ہیں سال 2012میں ایڈمنسٹریٹو سائنس میں ٹیمپیر یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگری حاصل کی ۔27سال کی عمر میں ہی ٹیف پیر مونسپل کونسل کی چیف بن گئیں ۔جون 2019میں سرکار میں وہ ٹرانسپورٹ و مواصلات وزیر رہیں صنا کو وزیر اعظم اینٹی رینا کے استعفی کے بعد سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے وزیر اعظم کے عہدے کے لئے چنا ہے وہ پانچ پارٹیوں کے لیفٹ اور سینٹرل اتحاد کی قیادت کر رہی ہیں ان سبھی پارٹیوں کی اتفاق سے صدر خواتین ہی ہیں ۔دیش میں ڈاک ہڑتال سے نمٹنے میں ناکامی کے بعد اینٹی لینا نے اتحاد کا اعتماد کھو دیا تھا اور انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا تھا میڈا رپورٹس کے مطابق صنا مرین کی پرورش انوا فیملی میں ہوئی تھی وہ کرائے کے ایک اپارٹمینٹ میں اپنی ماں اور ان کی خاتون پارٹر کے ساتھ رہتی تھیں انہوںنے فن زبان میں 2015میں کہا تھا کہ بچپن میں وہ خود کو ایکلاچار محسوس کرتی تھیں کیونکہ وہ اپنے خاندان کے بارے میں کھلے طور پر بولنے سے کتراتی تھیں ان کی ماں ہمیشہ ان کی ہر بات کی ہمایت کرتی رہی اور یقین دلایا تھا کہ وہ جو چاہیں کر سکتی ہیں ۔اپنے خاندان کی وہ پہلی لڑکی تھیں جو یونیورسٹی تعلیم تک پہنچ پائیں ایسا کم ہی امکان ہے کہ صنا مرین پالیسیوں میں کوئی تبدیلی کریں گی کیونکہ ان کے دفتر سنبھالنے کے دوران اتحاد اس پروگرام پر متفق ہوا کہ ہے کہ اسکی ڈیونی دیشوں میں صنا مرین تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں یورپی یونین کا چیر مین کا عہدہ اس وقت فن لینڈ کے پاس ہے اور ایسی امید ہے کہ بروسیلس میں یورپی یونین کانفرنس سے پہلے انہیں ایم پی چن لے اور انہیں چیر مین بنا دے ۔

(انل نریندر)

روس پر چار سال کےلئے پابندی ،اولمپک سے باہر

ورلڈ اینڈی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا)نے ڈوپنگ(نشہ)سے متعلق بے قاعدگیوں کے چلتے پیر کو روس کے خلاف سخت فیصلہ لیتے ہوئے اس پر چار سال کے لئے پابندی لگا دی ہے ۔اس فیصلے پر کھیل دنیا حیرت زدہ ہے ۔ڈوپنگ کا مسئلہ ہر جگہ سنگین مسئلہ ہے اس حقیقت سے کوئی دیش ،کھیل انجمن اور کھلاڑی انکار نہیں کر سکتے کہ ڈوپنگ سے بالکل علیحدہ ہے جب سے کھیل میں پیسہ اور رسوخ بڑھا ہے تب سے طاقتور داواﺅں یا ممنوعہ منشیات کے استعمال کرنے کا چلن بھی اتنی تیزی سے پروان چڑھا ہے ۔وارڈا کی پابندی کا مطلب ہے کہ اگلے سال ٹوکیو اور چار سال بعد بیجنگ میں ہونے والے اولمپک اور 2022میں قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فٹبال جیسے اہم ترین کھیل مقابلوں میں روس حصہ نہیں لے سکے گا ۔البتہ ڈوپنگ کی آنکھ سے دور رہے اس کے شخصی طور پر اولمپک کے علیحدہ سے پلیر کی شکل میں حصہ لے سکتے ہیں ،لیکن وہاں نہ تو روس کا جھنڈا لہرا یا جائے گا اور نہ ہی قومی ترانہ ہوگا کہہ سکتے ہیں کہ ڈوپنگ کھیلوں میں کامیابی کا دوسرا نام بن چکا ہے روس کی بات کریں تو یہاں کے کھلاڑی ڈوپنگ سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں خود واڈا نے نومبر 2015میں مانا تھا کہ روس میں ڈوپ کا زبردست کلچر ہے یہاں تک کہ روس کی ڈوپنگ ایجنسی کا اس معاملے میں نام بے حد خراب ہے اب جب کہ ورلڈ کی کھیل کی طاقت کے طور پر پہنچان بنانے والے روس کو چار سال کے لئے کھیل کی دنیا سے ممنوع کر دیا گیا ہے ۔تو یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے بحث کے دائرے میں آگیا ہے کہ آخر ٹوکیو اولمپک کھیل (2020)کا خاکہ کیسا ہوگا؟اگر دلچسپی سے زیادہ روس کے اندر پریشانی اس بات کو لے کر ہے کہ آخر اس میں غلطی کس کی ہے ؟کھلاڑیوں کی یا افسران کی یا روس کی اس مشتبہ سرگرمی پر لمبے عرصے سے نظر تھی جس کی وجہ سے اس کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی کی گئی تھی لیکن اس بار اس سطح پر سخت کارروائی پہلی بار ہوئی ہے روس کے صدر ولادی میر پوتن نے پہلی بار اس پابندی پر بیان دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ واڈا کا فیصلہ اولمپک چاٹر کی خلاف ورزی ہے روس کے پاس اس کے خلاف عدالت میں جانے کے سبھی وجوہات موجود ہیں سب سے پہلے ہمیں واڈا کے فیصلے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے پابندی لگانے کی بنیاد کیا ہے واڈا کو روس اولمپک قومی کمیٹی کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے ایسے میں روس کو اپنے جھنڈے تلے اترنے دینا چاہیے یہ اولمپک چاٹر ہے ۔اور واڈا اپنے فیصلے سے اولمپک چاٹر کی خلاف ورزی کرتا ہے سزا شخصی ہونی چاہیے اجتماعی نہیں ۔واڈا کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لئے روس کے پاس 21دن کا وقت ہے روسی وزیر اعظم دی متر مہدف نے اس پابندی کو سیاسی اغراض پر مبنی بتایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس سے واڈا کی ہدایتوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتا بلکہ روس کی ڈوپنگ ایجنسی روسادہ کی خود رول مشتبہ رہا ہے ۔حقیقت میں روسادا کے سابق ڈائرکٹر وسل بلویر گری گوٹی نے روس سے بھاگ کر امریکی میڈیا کے سامنے اس کا انکشاف کر کھیل کے سب سے بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا تھا یوں تو بھارت سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی کچھ کھلاڑیو کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہنے کے معاملے سامنے آئے ہیں لیکن منظم طور سے دھوکہ دھڑی کر اپنے کھلاڑیوں کے مستقبل کو داﺅں پر لگانے کا یہ پہلا موقع ہے ویسے روس ہی نہیں دنیا کا ہر دیش ڈوپنگ کے ڈنک سے پریشان ہے ۔اس لعنت سے مقابلہ کر پانا یقینی طور پر کھلاڑیوں اور سرکاروں کے لئے بڑی چنوتی ہے ۔

(انل نریندر)

13 دسمبر 2019

انٹرنیشنل میڈیا میں حیدرآبا انکاﺅنٹر چھایا!

حیدرآباد انکاﺅنٹر کی خبر کو انٹرنیشنل میڈیا نے خاصی اہمیت دی ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک زیادہ تر مقامات پر میڈیانے اس کارروائی کو ملی ہندوستانی حمایت کو اجاگر کرنے پر خاص توجہ دینے کے ساتھ ہی غیر عدلیہ موت کی سزا دینے کے بڑھتے واقعات پر دنیا کی توجہ کھینچنے کی کوشش کی ہے ۔واشنگٹن پوس نے ایک مفصل رپورٹ میں کہا ہے کہ چاروں ملزمان کی موت نے لڑکیوں و عورتوں کے خلاف گھناونے جرائم کی سریز میں پھنسے دیش کے کچھ حصوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے ۔لیکن رضاکاروں اور وکیلوں نے کہا ہے کہ ان مڈبھیڑوں نے زیادہ تر قتلوں کے زخم کو اور گہرا کر دیا ہے ۔رپورٹ میں آگے بتایا گیا ہے کہ مشتبہ ملزمان کی پولس کے ذریعہ کئے گئے قتل میں اتنے بھاری ہیں کہ ان کی اپنی تشریح کیا ہے کچھ واقعات کو انکاﺅکنٹر کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں شامل افسر عام طور پر اسے سیلف ڈیفنس میں اُٹھایا گیا قدم ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن سماجی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ پولس عموماََ افسران کو عام معافی کا فائدہ ملتا ہے اور انہیں قتلوں میں پوری جانچ کی کارروائی پر تعمیل نہیں کی جاتی سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ عورت کے جلے ہوئے جسم 27نومبر کو ایک ہائی وے کے انڈر پاس کے نیچے برآمد ہو اتھا اس سے دیش میں غصے کی لہر دوڑ گئی اور بینگلورو دہلی سمیت بہت سارے شہروں میں جم کر مظاہرے ہوئے زیادہ تر مظاہرین نے مشتبہ جرائم پیشہ کو سزائے موت دینے کی مانگ والے پوسٹر لے کر نعرے لگائے ایک دوسرے اخبار نیوریاک ٹائمس نے حیدرآباد کانڈ کو حالیہ مہینوں میں بھارت کا سب سے زیادہ پریشان کرنے والا آبروریزی کا معاملہ قرار دیا ہے ۔اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس دل دہلا دینے والی اس واردات کو اچانک حیرت انگیز طریقے سے انجام دیا گیا پولس حکام کا ایک ہیرو کی طرح سمان کیا اور جنتا نے ان پر پھول کی بارش کی یہ سب اس کام کے لے کیا گیا جسے شہریوں نے ایک گھناونے جرم اور فوری رقابت کے طورپر دیکھا ۔لیکن جشن منانے کے لئے اتنے سارے لوگ سڑک پر اترے کی ٹریفک بھی ایک جگہ جام ہوگئی ایک اور برطانیوی اخبار دی ٹائمس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہزاروں لوگوں نے پورے دیش میں سڑکوں پر اتر کر مظاہر ہ کر کے انصاف کی مانگ کی بھیڑ نے پولس اسٹیشن کا گھیراﺅکرنے کے بعد ملزم عدالت میں پیش نہیں کئے جا سکے بھیڑ مسلسل ملزمان کو موت کی سزا دینے کے لئے ان کو حوالے کرنے کی مانگ کر رہے تھے ۔ایک اور اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق عورتوں کے خلاف تشدد کے ہائی پروفائل معاملے نے بھارت میں زبردست ناراضگی پیدا کی اور سڑکوں پر اتر کر حیدرآباد میں اس گھناونے حملے پر ناراضگی جتائی ورکروں نے بد فعلی معاملے کو عدالتوں کے لئے تیزی سے نمٹانے اور انہیں سخت سے سخت سزا دلانے کی اپیل کی ۔

(انل نریندر)

شہریت ترمیمی بل کی چوطرفہ مخالفت

لوک سبھا میں پہلے ہی پاس ہونے کے بعد بدھوار کی رات شہریت ترمیمی بل 2019راجیہ سبھا میں 125-105ووٹوں سے پاس ہو گیا بے شک دونوں ایوانوں سے پاس ہو گیا ہو لیکن اس کا پارلیمنٹ میں اور اس کے باہر جم کر مخالفت ہو رہی ہے نمبروں کی طاقت سے پاس ہوئے اس بل کو زمینی حقیقت بننے سے پہلے لگتا ہے کہ مودی سرکار کو اس پر عمل کے لئے لمبا سفر طے کرنا ہوگا ۔صدر جمہوریہ کی جانب سے منظور ہونے سے پہلے ہی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری ہو چکی ہے ،بین الا اقوامی مذہبی آزادی پر امریکہ سے فیڈرل کمیشن نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل غلط سمت میں بڑھایا گیا ہے اور یہ خطرناک قدم ہے اگر یہ بھارت کے پارلیمنٹ میں پاس ہوتا ہے تو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور کچھ دیگر ہندوستانی لیڈروں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے ۔اِدھر پاکستان نے بھی بل کو ایک دوررس نقصان اور جانبدارانہ بتایا ۔اور اسے نئی دہلی کا پڑوسی ملکوں کے معاملوں میں دخل کے لئے افسوسناک ارادہ بتایا جبکہ بھارت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ۔شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی سب سے زیادہ اورمنظم طریقے پر احتجاج ہو رہا ہے ۔ان ریاستوں کی اصل جنتا نہیں چاہتی کہ وہاں باہر سے آئے کسی بھی شخص کو شہریت ملے بل سے باہر رہے گئے صرف مسلمانوں کو ہی شہریت دینے کی مخالفت کرنا ہے نارتھ ایسٹ میں تشویش یہ ہے کہ وہاں باہر سے آکر بسے ہندو و دیگر پانچ اقلیتی طبقوں کو مستقل شہریت مل جائے گی ۔حالانکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں وزیر داخلہ امت شاہ نے موثر ڈھنگ سے سب کو اطمینان دلانے کی کوشش کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ نارتھ ایسٹ انڈیا تک ان کی بات کا زیادہ اثر نہیں ہوا اور نارتھ ایسٹ جل رہا ہے ۔ایسا احتجاج پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے مخالفت میں کئی دلیلیں پیش کیں لیکن مودی سرکار نے نمبروں کی طاقت پر اس بل کو پاس کروا لیا ۔نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں ناراضگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ سرکار کو جموں وکشمیر سے فوج کی ٹکڑی کو نکال کر ان ریاستوں میں امن بنائے رکھنے کے لئے بھیجنا پڑ رہا ہے ۔مرکزی سرکار کے لئے ایک بڑی چنوتی یہ بھی ہے کہ نارتھ ایسٹ ریاستوں میں امن چین بحال کرئے اس بل کی جو مخالفت ہو رہی ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ دنیا بھارت کو ایک سیکولر اور اصلاح پسند ملک کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے میں نے امریکہ اور پاکستان میں اس بل کے بارے میں رد عمل بتایا ہے لیکن یورپی یونین نے بھی کہا ہے کہ امید ہے کہ بھارت اپنے اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھے گا ۔اور دیش کے اندر اب تو دانشوروں ،سائنسدانوں اور آرٹسٹوں نے بھی اس بل کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔بل کے موجودہ خاکے کو واپس لینے کی مانگ کو لے کر بڑی تعداد میں تمام طبقوںنے ایک میورنڈم پر دستخط کئے ہیں ۔اس میں کہا گیا ہے کہ پریشان حال شہریوں کے ناطے ہم اپنی سطح پر بیان جاری کر رہے ہیں کہ شہریت ترمیمی بل 2019کو ایوان میں رکھے جانے کی خبروں کے تیں اپنی مایوسی ظاہر کر سکیں ۔کئی مصنفوں اور ماہر تعلیم اور سابق جج صاحبان اور سابق افسروں نے بھی سرکار سے بل واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے اس کو امتیازی بتایا اور تباہ کن اور آئین میں تشریش سیکولر اور اصولوں کے خلاف بتایا ۔ان میں مورخ رومیلا تھاپہ ،مصنف امیتابھ گھوش ،اداکارہ نندیتا داس ،اور فلم ساز اپرنا سین ،اور تجزیہ نگا ریوگیندر یادو تستا سیتل واڑ ،وغیرہ شامل ہیں ۔بے شک تعداد کی طاقت پر سرکار نے بل تو پاس کروا لیا ہے لیکن اسے زمین پر اتارنا اتنا آسان شاید نہ ہو ۔

(انل نریندر)

12 دسمبر 2019

فاسٹ ٹریک کورٹ اصل میں کتنی فاسٹ؟

اناﺅ میںآبروریز ی متاثرہ کی موت کے بعد یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی نے اعلان کیا ہے کہ مقدمے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں مجرموں پر مقدمہ چلا کر سخت سزا دلائی جاے گی جب بھی کوئی آبروریزی کی گھناونی واردات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ معاملے کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے گا لیکن کسی نے یہ جاننے کی کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی ہے کہ ان فاسٹ ٹریک عدالتوں کا حال کیا ہے ؟کیا یہ صحیح معنوں میں جرائم پیشہ کو جلد سزا دلوا پائی ہیں ؟ریپ جیسے معاملوں کے لئے بنی فاسٹ ٹریک کتنی فاسٹ ہے؟چودہ اگست 2004کو سنیچر کا دن وہ تھا جب فد فعلی اور آبروریزی کے قصوروار دھننجے چٹرجی کو مغربی بنگال کی علی پور سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا دھننجے وہ آخری درندہ تھا جسے بد فعلی اور قتل میں پھانسی ہوئی اس سے بعد آج تک پندرہ برسوں میں کوئی بھی بد فعلی کے ملزم کو اب تک پھانسی کے پھندے پر نہیں پہنچا پائے ۔یہ تب ہے جب کہ ہر سال ایسے معاملوں میں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے اس کے بعد فاسٹ ٹریک عدالت میں فیصلے کے بعد بھی لمبی قانونی کارروائی کی آڑ لے کر جنسی مجرم پھانسی کی سزا سے بچتے رہے ہیں دیش میں تقریبا426قیدی ہیں جن کو پھانسی سنائی جا چکی ہے لیکن ابھی تک انہیں پھندے تک نہیں پہنچایا جا سکا ان میں بڑی تعداد میں بد فعلی ،قتل کے قصوروار ہیں ۔نیشنل لاءیونیورسٹی کی رپورٹ:دی ڈیپ پینلٹی ان انڈیا ،سالہ اعداد و شمار 2018کے مطابق مدھیہ پردیش ،اترپردیش اور مہاراشٹر میں 6666ایسے قیدی ہیں جنہیں پھانسی دی جانی ہے اور ان کے معاملوں کو تیزی سے نمٹانے کے لے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائی گئیں تھی لیکن یہی کورٹ سست ثابت ہو رہی ہیں بہار،تلنگانہ ،اترپردیش اور کیرل میں اس انصاف کی رفتار بہت دھمی ہے پورے دیش کی بات کریں تو 2017میں سنائے گئے فاسٹ ٹریک فیصلوں میں صرف تیس فیصد معاملے ایسے تھے جو ایک سال کے اندر نمٹائے گئے وہیں باقی چالیس فیصد معاملوں میں تین سال سے اوپر کا وقت لگا وہیں نچلی عدالتوں کو عدالتوں کی پرفارمینس زیادہ بہتر رہی نچلی عدالتوں نے 47فیصد معاملے ایک سال کے اندر نمٹائے دیش میں نہ صرف انصاف کی یہ رفتار دھیمی ہے وہیں ریکارڈ تعداد میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے باوجود قصوروار پھانسی کے پھندے تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں ۔باربار اپیل کی سماعت میں لگنے والا وقت اتنا زیادہ ہے کہ متاثرہ فریق انصاف ملنے کے بعد بھی اسے محسوس نہیں کر پاتا کیوں سست ہو رہی ہیں فاسٹ ٹریک عدالتیں؟اس وقت ان عدالتوں میں چھ لاکھ سے زیادہ مقدمے لٹکے پڑے ہیں دیش بھر میں 581فاسٹ ٹریک عدالتیں ہیں یہ صورتحال 31مارچ 2019تک لوک سبھا میں پیش کئے گئے جواب کے مطابق ہیں ۔426قیدی ہیں جنہیں پھانسی کی سزا دی جانی ہے ان میں چوبیس ملزم ہیں جنہیں 2016میں ریپ اور قتل کے لئے پھانسی کی سزا سنائی گئی ایسے ہی 43ایسے ملزم ہیں جنہیں 2017میں ریپ اور قتل کے لئے پھانسی کی سزا ہوئی 2012کے نربھیا کیس کے بعد بد فعلی کے چار لاکھ سے زیادہ دیش بھر میں معاملے درج ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ انہیں فوری انصاف کے لئے بنایا گیا تھا آپ خود ان اعداد و شمار سے اندازہ لگا لیں یہ کتنی فاسٹ ہیں ؟

(ا نل نریندر)

ہندوﺅں کا ووٹ پانے کے لئے برطانوی لیڈر مندروں کی شرن میں!

25سال کے لڑکوں کو مفت بس سفر ،سبھی کو مفت انٹرنیٹ ،چھ سال تک اعلیٰ تعلیم مفت جیسے لبھاونے وعدے تمل ناڈو ،بہار،یا یوپی کے کسی امیدوار کے نہیں بلکہ برطانیہ کی 120سال پرانی جماعت لیبر پارٹی کے ہیں ،وہیں گزشتہ دس سال تک اقتدار پر قابض کنزرویٹیو پارٹی ان کا مقابلہ سب سے بڑے اشو برگزیٹ سے کر رہی ہے جس کے تحت برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ ہونا ہے ۔برطانیہ کے انتخابات میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے جب وہاں کی بڑی پارٹیاں ہندوستانی اور ہندو شناخت کے نام پر تارکین وطن ہندوستانیوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں لگی ہیں ۔اس کی مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب کنزریوٹو پارٹی کے امیدوار اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانس لندن کے مشہور مندر میں درشن کے لئے پہنچے ،سوامی نارائن مند رمیں جانسن کے ساتھ ان کی 31سالہ گرل فرینڈر کیری سایمنڈس بھی تھیں ،کیری چمکیلے گلابی رنگ سلک ساڑی ساڑی پہنے ہوئی تھیں بورس تلک لگائے ہوئے تھے اور مالا بھی پہنے ہوئے تھے درشن کے بعد انہوںنے اپوزیشن لیڈر پارٹی پر کشمیر کو لے کر تنقید کی اور الزام لگایا کہ لیبر پارٹی برطانیہ میں بھارت مخالف نظریہ کو ہوا دے رہی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے انہوںنے زیادہ تر ہندوستانیوں کو برطانیہ آنے کا موقع دینے کی بھی بات کہی اور اتنا ہی نہیں لیبر پارٹی سے جڑے ایک گروپ نے ہندی میں ایک گانا بھی لانچ کیا ،جس کے بول ہیں بورس کو ہمیں جتانا ہے یہ جان کر تعجب ہوگا کہ اس مرتبہ برطانیہ کے چناﺅ میں کشمیر سے آرٹیکل 370کے خاتمے کا بھی اثر اشو ہے کشمیر پر بھارت کی مخالفت کرنے والی لیبر پارٹی کے اس بار ہندوستانی ووٹوں کی ہمایت کھونے کا خطرہ ہے ۔اس سے قریب پچاس پارلیمانی سیٹوں کا نتیجہ اثر انداز ہو سکتا ہے ۔12دسمبر یعنی آج برطانوی عام چناﺅ کے سب سے اشو کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں ۔برگزیٹ پر بڑی پارٹیوں کی رائے بٹی ہوئی ہے بھارت کی طرح برطانیہ میں بھی ہر پانچ سال میں ویسے چناﺅ ہوتے ہیں لیکن یہ چناﺅ 2015کے بعد کا تیسرہ پارلیمانی چناﺅ ہو رہا ہے ۔اس میں برطانیہ کے نچلے ایوان ہاﺅس آف کامنس کی 650سیٹوں کے لئے ایم پی چنے جانے ہیں ۔پولنگ جمعرات کو ہونی ہے ۔دو ستمبر سے سات دسمبر کے درمیان مارٹین بیکسٹر کے سروے میں کنزرویٹو پارٹی کو 43.5فیصد ووٹ اور 338سے 441سیٹیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے لیبر پارٹی 32فیصد ووٹوں کے ساتھ 225سے 300تک سیٹیں مل سکتی ہیں ۔6دسمبر کو پی ایم بورس جونسن اور لیبر پارٹی کے نیتا جیرمی کاربن کے درمیان بریگزیٹ پر ٹی وی پر بحث کے بعد یو جی او وی کے سروے میں 52فیصد ناظرین نے کہا کہ جانسن نے جیت حاصل کی دسمبر کے پہلے ہفتے میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں برطانوی پاﺅنڈ پچھلے ڈھائی سال میں اپنی اونچی سطح پر رہا کرنسی کی مضبوطی کنزریٹو پارٹی کے لئے مثبت ماحول بنا سکتی ہے آج یعنی بارہ دسمبر کو ہونے جا رہے چناﺅ میں دس لاکھ سے زیادہ ہندو ووٹ ڈالیں گے ،بتا دیں کہ ویسے برطانیہ میں تیس لاکھ مسلمان بھی رہتے ہیں برطانیہ کے زیادہ تر ہندو ابھی تک لیبر پارٹی کو ہی ووٹ دیتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ ہندو انجمنوں نے لیبر پارٹی کو ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے ۔

(انل نریندر)

11 دسمبر 2019

دررناک:تابوت کی طرح بنی یہ عمارت لاکشیہ گرہ

راجدھانی دہلی کی اناج منڈی میں ایک چار منزلہ عمارت میں آگ لگنے سے 43لوگوں کی موت انتہائی تکلیف دہ حادثہ میں ہوئی یہ حادثہ ایک مرتبہ پھر یہ دکھاتا ہے کہ دہلی میں کئی عمارتیں تابوت کی طرح لاکشیہ گرہ بنی ہوئی ہیں ۔چھت کا بند دروازہ ،پیچھے کا زینہ بند پوری عمارت میں پلاسٹک کے سامان کا ڈھیر اور گنجان گلی کے چلتے اناج منڈی کی یہ عمارت لاکشیہ گرہ بن گئی ،تنگ گلیوں میں بجلی کے تاروں کے مکڑ جال ہونے کے سبب اناج منڈی کے اس کارخانے کو موت کے چیمبر میں تبدیل کر دیا تنگ عمارت ہونے کی وجہ سے ہوا کا گزر اور آگ سے بچاﺅ کے انتظام نہ ہونے سے حالت یہ ہوئی مگر آگ میں پھنسے لوگوں کو بچانے فائر کرمچاری پہنچے تو ضرور لیکن انہیں راستہ نہیں مل پایا ۔بڑی مشقت کے بعد فائر ملازمین کو گرل کاٹ کر عمارت میں گھسنا پڑا تب تک کئی لوگوں کا دم گھٹ چکا تھا تحقیقات سے پتہ چلا کہ محکمہ فائر سے این او سی سے لے کر فیکٹری لائسئنس تک بے ضابطہ کی پائی گئی ۔اس علاقہ میں پہلے اناج منڈی تھی لیکن وقت کے ساتھ کاروبار بند ہوگیا چھ سو مربہ گز زمین کے پلاٹ پر بنی عمارت کے تین پارٹنر ہیں چاروں منزلوں پر سو سے زیادہ لوگ رہتے تھے پوری عمارت میں پلاسٹک کا سامان پھیلا ہوا تھا سو سے زیادہ لوگوں کے آنے جانے کے لئے صرف چار فٹ چوڑی سیڑھی تھی عمارت کے دوسرے حصے میں موجود سیڑھی پر سامان کا ڈھیر لگا کر بند کر دیا گیا تھا اس کی وجہ سے سیڑھی کا استعمال نہیں ہوتا تھا آگ لگنے پر لوگ دوسری سیڑھی کا استعمال نہیں کر پائے پہلی سیڑھی میں دھواں بھرنے سے لوگ اس کا بھی استعمال نہیں کر پائے پتہ یہ چلتا ہے کہ رہائشی علاقہ میں چار منزلہ اس عمارت میں نا جائز طریقہ سے فیکٹریاں چل رہی تھیں کام کرنے والے مزدور رات کو انہیں کال کوٹھریوں میں سو جاتے تھے ۔جہاں نہ تو ضروری اُٹھ بیٹھنے کا انتظام تھا اور نہ ہی ہوا آنے جانے کا انتظام ایسی حالت میں لا پرواہی کی وجہ سے آگ آچانک اس وقت پھیلی جب لوگ گہری نید میں تھے ۔ساتھ ہی بلڈنگ میں پانی کا ضروری انتظام نہ ہونے کے سبب آگ بجھانے کے لئے آئی فائر گاڑیوں کو کام کرنے میں بہت مشکل سے دو چار ہونا پڑا ان فائر مینوں کی ہمت اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے کئی لوگوں کی جان بچانے کا کام کیا ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے صرف اناج منڈی کا ہی یہ حال نہیں ہے دہلی میں کافی علاقہ ہیں جہاں کم و بیش یہی حال ہے ۔ایسے حادثوں کے کئی سبب ہیں ۔ایک تو اسمارٹ سٹی کے نعرے اور شہروں کی کایا کلب سے متعلق جیسی اہم ترین اسکمیوں کے باوجود ضمنی سطح پر بہت کم کا م ہونا اور سٹی انتظامیہ کا اپنی ذمہ داریوں سے منھ پھیر لینا ایسے میں غیر قانونی کام کرنے کی ہمت بڑھتی ہے جس کا شکار زیادہ تر گاﺅں سے آئے ہوئے غریب اور بے سہارا لوگ بنتے ہیں ۔جو پہلے تو ان کال کوٹھریوں میں گھنٹوں کام کرنے اور اپنی اپنی صحت خطرے میں ڈالتے ہیں اور کئی ٹریجڈیاں ہوئیں تو اس کے شکار ہوتے ہیں اس کے باوجود راجدھانی کے رہائشی علاقہ میں سیکورٹی پیمانوں سے کھلواڑ کر ایک چار منزلہ عمارت کو غیر قانونی طریقہ سے فیکٹری میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ایسی حالت اس لئے بھی ہوتی ہے کہ افسران اور نیتا اپنی ذمہ داری پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور سرکاریں سیاسی فائدے نقصان کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرتی ہیں ۔پھر دہلی کے باہر سارے علاقے ہیں جو غیر منظور کالونیوں کی شکل میں آباد تھے سرکار نے انہیں غیر منظور قرار دے دیا اس سے وہاں بجلی پانی ،سڑک سیور،کا انتظام تو ہو گیا لیکن ان کی بناوٹ اس قدر ٹیڑھی ہے کہ وہاں فائر کی گاڑیاں پہنچنے میں بھی مشکل ہوتی ہے یہاں بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر کارخانے چل رہے ہیں جنہیں یہ مان کر چلنے دیا جاتا ہے کہ وہ نہ تو آلودگی پھیلاتے ہیں اور نہ ہی آگ لگنے پر بچاﺅ کر سکتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ علاقہ میں فیکٹری محض دو سو گز رقبے میں بنی ہوئی ہے ان میں نہ تو فائر سیفٹی سے متعلق کوئی سسٹم کو لے کر سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس آگ اور موتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟دہلی سرکار یا ایم سی ڈی یا انتظامیہ ؟بے روک ٹوک چل رہی ان فیکٹریوں کا کون ذمہ دار ہے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ہر حادثے کے بعد ذمہ داری ڈیپارٹمینٹ ایک دوسرے پر ڈال کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔

(انل نریندر)

سی اے بی بل :کیوں چھڑاہے تنازعہ؟

مرکزی کیبنٹ کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو منظوری دینے کے بعد اس پر بحث چھڑ جانا فطری ہی ہے کیونکہ کئی اپوزیشن پارٹیوں میں پہلے سے ہی اس بل پر اختلاف تھا مودی سرکار نے یہ بل اب لوک سبھا پیش کر دیا اور رات بارہ بج کے دس منٹ پر لمبی بحث کے بعد 88کے مقابلے 311ووٹ سے پاس کر دیا لوک سبھا میں تو این ڈی اے کی اکثریت ہونے کی وجہ سے پاس ہو گیا ہے لیکین این ڈی اے سے الگ کچھ پارٹیوں کی اس بل پر خاموشی کو دیکھتے ہوئے راجیہ سبھا میں بھی اس بل کے پاس ہونے میں کوئی اڑچن نہیں ہوگی ۔شہریت قانون ترمیم بل کا مقصد پاکستان ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے پناہ گزینوں کی شکل میں بھارت آئے غیر مسلم لوگوں کو شہریت دینا ہے حالانکہ اس بل کے سبھی پہلوﺅں کو ابھی پوری طرح سامنے نہیں لایا گیا ہے لیکن اسے لے کر اپوزیشن پارٹیاں سرکار پر اس لئے حملہ آور ہیں کہ وہ اس کے ذریعہ مسلم اقلتیوں پر اپنی پہنچ بنانے کی کوشش میں لگی ہیں اسی اختلاف کے سبب مودی سرکار کے پہلے عہد میں اس بل کو پارلیمنٹ سے منظوری نہیں مل پائی تھی شہریت ترمیمی بل یہ کہتا ہے کہ پڑوسی ملکوں خاص کر پاکستان ،افغانستان اور خاص کر بنگلہ دیش سے آئے اقلیتی فرقوں یعنی ہندو سکھ جین بودھ عیسائی پارسیوں کو کچھ شرائط کے ساتھ ہندوستان کی شہریت پانے حقدار ہوں گے اپوزیشن پارٹیوں کی مخالفت کی بنیاد یہ ہے کہ آخر پڑوسی دیشوں کے مسلمانوں کو یہ رعایت کیوں نہیں دی جا رہی ہے اس پر سرکار کی دلیل ہے کہ تینوں مسلم اکثریتی دیش ہیں وہاں مسلمان نہیں بلکہ دیگر طبقوں کے لوگ ازیت کے شکار ہوتے ہیں اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا باہری ملکوں کے لوگ شہریت دینے کے مجوزہ کارروائی بھارت کی وسودیو کٹو وکم اور سرو دھرم سدبھاﺅ والی مثال کے مطابق ہوں گے ؟یہ سوال اُٹھانے والے یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت وہ دیش ہے جہاں دنیا بھر کے لوگوں کو اپناتا ہے یہ بالکل صحیح ہے لیکن کیا اس کو نظر انداز کر دیا جائے کہ آسام اور نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں بنگلہ دیش سے آئے لاکھوں لوگوں نے جس طرح وہاں کے سماجی اور سیاسی ماحول کو بدل دیا ہے سرکار نے این آر سی لاگو کرنے کا قدم اس لئے اُٹھایا تھا کہ وہ ان تین دیشوں کے آئے پناہ گزینوں کی طرح گھس پیٹھ کرنے والوں میں کئی آتنکی بھی آجاتے تھے بنگلہ دیش پناہ گزینوں کی سرگرمیاں کئی موقعوں پر مشتبہ پائی گئی ہیں ۔وہیں دوسری طرف شہریت دینے کے سوال پر مذہب کی بنیاد صحیح نہیں ہے حالات کا بھی خیال رکھنا ہوگا اور اس کو اقوام متحدہ معاہدے کوبھی منظوری ہے لیکن اس میں ایک شرط کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارت میں پناہ لے یہ نہیں ہو سکتا۔آپ یہیں بس جائیں اور یہاں کی شہریت لے لیں ۔

(انل نریندر)

10 دسمبر 2019

نربھیا کانڈ کے قصورواروں کو 16دسمبر سے پہلے پھانسی دو

اپنی بھوک ہڑتال کے کئی دن گزرنے کے بعد دہلی مہیلا کمیشن کی چیر پرسن سواتی مالیوال نے صدر جمہوری کو خط لکھ کر 16دسمبر 2012گینگ ریپ کی شکار ہوئی نربھیا کے قصورواروں کو اس سال سولہ دسمبر سے پہلے پھانسی دینے کی اپیل کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا کوئی خاتمہ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔اور نربھیا کے لے انصاف کاانتظار جاری ہے ۔صدر سے اپیل کی کہ وہ رحم کی عرضیوں کو فورا خارج کریں اور یقینی کیا جائے کہ وہ قصورواروں کو 16دسمبر آنے سے پہلے پھانسی دے دی جائے ہم ان کی مانگ کی پوری ہمایت کرتے ہیں ۔اور دیش کی بھی یہی مانگ ہے وزارت داخلہ نے رحم کی عرضی خارج کرکے صدر جمہوریہ کو بھیج دی ہے ،امید کی جاتی ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں صدر ان قصوواروں کی پھانسی کا راستہ کھول دیں گے تہاڑ جیل کو صدر کے فیصلے کا انتظار ہے ۔رحم کی عرضی خارج ہوتے ہی تہاڑ میں بند چاروں قصورواروں کو جلد سے جلد پھانسی ہو سکتی ہے ۔پھانسی دینے کے لئے باہر سے 25ہزار روپئے بھیج کر جلاد کو بلانے کی تیاری ہے تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے لئے کوئی جلاد نہیں ہے جب افضل گرو کو پھانسی دی گئی تھی تو اس کے لے کوئی جلادنہیں ملا تھا تب جیل کے حکام میں سے ایک نے پھانسی دی تھی نربھیا کانڈ کے قصورواروں کو پھانسی کی سزا دینے کے لے ساﺅتھ انڈیا کی کسی جیل سے جلاد کو بلایا جا سکتا ہے واضح ہو کہ اکتوبر میں چاروں قصورواروں کو جیل انتظامیہ کی طرف سے رحم کی عرضی دائر کرنے کے لئے پیش کش کی گئی تھی تاکہ سزا کو آخری انجام تک پہنچایا جا سکے اس نوٹس کے بعد سے ہی تہاڑ جیل و منڈولی جیل کمپیلکس میں بند الگ الگ معاملوں میں پھانسی کی سزا سنائے گئے قیدیوں کی حفاظت بڑھا دی گئی ہے جیل انتظامیہ وقتاََ فوقتاََ ان قیدیوں پر گہری نگاہ بھی رکھ رہا ہے اور پل پل کی ان کی حالت کا بھی جائزہ لے رہا ہے تاکہ انہیں کسی طرح کی گھبراہٹ نہ ہو جیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف جیلوں میں اس بات کو لے کر باتیں ہو رہی ہیں کہ جن قیدیوں کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے ان کے معاملے آخری فیصلے جلد آسکتے ہیں تمام ان باتوں کے درمیان سبھی کی نگاہیں تہاڑ کی جیل نمبر 3پر لگی ہیں ۔دہلی میں بھلے ہی تہاڑ کے علاوہ روہنی منڈاولی جیل بنی ہوئی ہیں لیکن پھانسی دینے کا انتظام صرف تہاڑ جیل نمبر 3میں ہی ہے ۔پھانسی گھر کھلی جگہ پر ہے ۔عام طور پر اس کے دروازے کو تبھی کھولا جاتا ہے جب پھانسی دی جانی ہوتی ہے ۔بتا دیں کہ تہاڑ میں پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جانے والا آخری مجرم افضل گرو تھا پچھلے قریب تین دہائی میں افضل گرو سے پہلے تہاڑ میں رنگا بلا،ستونت سنگھ،کھیہر سنگھ ،کرتار سنگھ،اجاگر سنگھ کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا چکا ہے تہاڑ جیل میں 35برس تک کام کر چکے سنیل گپتا بتاتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ پھانسی دینے کا کام جلا دہی کرے ۔نربھیا کے قصورواروں کو کب پھانسی ملتی ہے ؟اسکا پورے دیش کو انتظار ہے ۔

(انل نریندر)

مجھے بچا لو میں مرنا نہیں چاہتی،کوئی ملزم نہ بچے

لال آنکھیں ،آنسو بھرے ہوئے صفدر جنگ اسپتال کے برم ڈیپارٹمینٹ کے آئی سی یو کے باہر ماں جب بیٹی کو دیکھ کر آئی تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائی بیٹے کو کہتی ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے بول بھی نہیں پا رہی ہے ،میری بیٹی کو کیا ہوگیا؟بھائی نے ماں کو تسلی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میری بہن بہت ہمت والی ہے ،اس حالت میں بھی وہ ہم سے یہی کہہ رہی ہے کہ کوئی بچنا نہیں چاہیے ۔بد فعلی کے کیس واپس لینے سے انکار کرنے پر مٹی کا تیل ڈال کر جلائی گئی بیٹی کی جمعہ کی رات 11:40پر موت ہوگئی 43گھنٹے تک اس نے زندگی کے لئے جنگ لڑی مگر ہار گئی ۔95فیصدی تک جل چکی متاثرہ جمعہ کو صبح سویرے قریب 4:30پر 25سالہ لڑکی بد فعلی کے معاملے میں عدالت میں اپنے معاملے کی سماعت کے لئے بریلی جا رہی تھی ،راستے میں چھ دن پہلے ہی ضمانت پر چھوٹا بد فعلی کا اہم ملزم شیوم ترویدی ملا اس نے لڑکی کو شادی کا جھانسہ دے کر لال گنج میں رکھا ہوا تھا اس نے دوست شبھم کے ساتھ بد فعلی کی اور اس ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے رہے شادی کا اقرار نامہ بھی کیا لیکن شادی نہیں کی۔شیوم اور شبھم اسی کیس میں نو مہینے رائے بریلی جیل میں رہ کر تیس نومبر کو چھوٹا تھا ۔باہر آتے ہی اس نے معاملہ واپس لینے کے لئے متاثرہ پر دباﺅ بنا یا اور انکار کرنے پر اس نے اور اس کے چار ساتھیوں نے مٹی کا تیل ڈال کر جلا ڈالا آگ کی لپٹوں میں گھری لڑکی آدھا کلو میٹر تک جان بچانے کے لئے دوڑی اس دوران وہ 95فیصد جل چکی تھی دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں لکھنﺅ کے اسپتال سے ائیر لفٹ کیا گیا جہاں اس نے آخر کار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا اس کی موت کے بعد سنیچر کو دیش بھر میں غصہ پھیل گیا اسے انصاف دلانے کے لئے لوگ سڑکوں پر اترے آئے انصاف کی مانگ کرنے والوں میں بچے بوڑھے اور جوان سب عمر کے لڑکے لڑکیاں مرد شامل رہے کوئی جلتی موم بتی ہاتھ میں لئے بیٹی بچاﺅ اور قصور واروں کو پھانسی دینے کی مانگ پر لکھی تختی اُٹھائے ہوئے تھا ۔لکھنو ہو یا دہلی کانپور ہو یا اناﺅ یا پھر دیش کے دوسرے حصوں میں سب جگہ سے ایک ہی آواز تھی اناﺅ کی بیٹی کو انصاف دو متاثرہ کے گھر والوں نے جہاں حیدرآباد کی ڈاکٹر کے قصورواروں کو سزا کی طرز پر ہی اپنی بیٹی کے قصورواروں کو سزا دینے کی مانگ کی تو کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا واڈرا متاثرہ کے گھر جا کر ان کے دکھ میں شامل ہوئیں اور انصاف دلانے کا وعدہ کیا اور واردات کے لئے یوگی سرکار کو ذمہ دار قرار دیا ۔وہیں یوپی سرکار کے وزیر سوامی پرساد موریہ اور علاقائی ایم پی ساکشی مہاراج بھی متاثرہ کے گھر پہنچے لیکن وہاں انہیں بھاری احتجاج کا سامنا کرنا پڑا وہیں اکھلیش یادو لکھنو میں انصاف کی مانگ کر تے ہوئے ودھان سبھا کے گیٹ پر دھرنے پر بیٹھے ۔کیا متاثرہ کو جلد انصاف مل پائے گا ؟

(انل نریندر)

08 دسمبر 2019

حیدرآبادآبروریزی فیصلہ آن دی اسپاٹ ہوا

جمعہ کی صبح جب میں سو کر اُٹھا تو خبر دیکھی کہ صبح اندھیرے میں حیدرآباد پولس نے سرخیوں میں چھائے ریپ کانڈ کے چاروں ملزمان کو انکاونٹر میں مار گرایا تو میرا دل میں پہلا رد عمل تھا شاباش،حیدرآباد پولس اپنے نہ صرف مہیلا متاثرہ کی آتما کو شانتی دی بلکہ پورے دیش میں آبروریزیوں کو سخت پیغام دیا ،کہ اب آپ کو اپنی حیوانگی کا فورا نتیجہ ملے گا ۔پولس نے چاروں ملزمان کو بھاگتے وقت ہی اُسی جگہ مار گرایا جہاں انہوںنے ویٹنری ڈاکٹر کے ساتھ درندگی کی تھی ،تلنگانہ پولس کے اے ڈی جی لاءاینڈ آرڈر نے بتایا کہ صبح تین بجے جب پولس والے چاروں ملزمان کو کرائم سین کی جانکاری لینے کے لے موقعہ واردات پر لے گئی تو پولس کے ہاتھوں سے ریوارلور چھین کر بھاگنے لگے تبھی پولس نے انکاﺅنٹر کر چاروں ملزمان کو مار گرایا تلنگانہ پولس کو لاکھ لاکھ بندھائی ۔اب ہمارے سامنے دہلی کا نربھیہ کیس بھی ہے جس میں سزا ہوئے سات سال گزر چکے ہیں اور آج تک قانونی داﺅں پیچ کے سبب پھانسی نہیں ہو پائی ۔ریررسٹ آف ریر کرائم کرنے والوں کا یہی حشر ہونا چاہیے دنیا کے کئی ملکوں میں فورا موت کی سزا پر عمل ہو جاتا ہے نہ کوئی اپیل نہ دلیل نہ وکیل ہاتھ کے ہاتھ معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے ۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اترپردیش کے خطرناک گینگ ریپ کیس میں ایک ملزم کو ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بیچاری اور بد قسمت عورت کو زندہ جلا دیا اور سنیچر کو اس کی موت ہو گئی ۔ایسے گھناونے جرائم پیشہ کو ہائی کورٹ پتہ نہیں ضمانت پر کیوں چھوڑ دیتی ہے تاکہ وہ جیل سے نکلتے ہی کوئی نہ کوئی گھناونا جرم کر ڈالیں ؟میں یہ بھی نہیں جانتا ہوں کہ اس کاﺅنٹر پر کئی طرح کے سوال اُٹھے بھی ہیں اور اُٹھیں گے بھی اور ملزمان کے انسانی حقوق کی بات اُٹھے گی پولس حراست میں انکاﺅنٹر پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کے ذریعہ انکاﺅنٹر کیسے ہوا اس پر بھی سوال اُٹھیں گے پولس کو اس طرح کے کھلے عام انکاﺅنٹر کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا اس کا بے جا استعمال بھی ہو سکتا ہے اگر انسانی پہلو کی نظر سے دیکھیں تو اسے متوفع کی آتما کو شانتی ملے گی اور اس کے خاندان والے چین کی سانس لیں گے ۔عصمتدری کرنے والوں کی انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کو متاثرہ کے انسانی حقوق کی بھی فکر ہونی چاہیے جس پلیہ کے نیچے یہ انکاﺅنٹر ہوا اس کے اوپر سے گزرنے والی بسوں میں جا رہی عورتوں کی خوشی اور مسکرانے کی آوازیں ظاہر کرتی ہیں کہ عورتیں اس انکاﺅنٹر سے خوش ہیں ڈر اس کا بھی ہے کہ پولس بربریت کے لئے یہ انکاﺅنٹر راستے چوڑے کر رہا ہے پولس کل کو کسی کوبھی جرائم پیشہ بتا کر مڈبھیڑ میں مار دے گی اور لوگ تالیاں بجاتے رہیں گے ہمارا زور نیائے سسٹم کو مضبوط اور شفاف بنانے پر بھی ہونا چاہیے اور انصاف ملے اور جلدی ملے اس کے لے آواز اُٹھانی چاہیے ۔نہ کہ پولس مڈبھیڑوں میں ملزموں اور جرائم پیشہ کو مارنے کی خوشی منانی چاہیے معاملہ انسانی حقوق کا نہیں بلکہ قانونی کاروائی پر بھروسے کا ہے ۔بہر حال متاثرہ کو زندہ جلانے والوں کو ہر شخص چاہتا ہے کہ سخت سے سخت سزا ملے اور خلیجی ملکوں کی طرح چوراہے پر شار عام سولی پر لٹکا دیا جانا چاہیے ۔لوگ بھی اس کے ہماہتی ہیں اس سے ان جرائم پیشہ میں خوف پیدا ہو لیکن عوامی غصے کے پیش نظر پولس نے انکاﺅنٹر کر کے ایک نئی نظیر شروع کر دی اور یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے ضروت تو اس بات کی ہے کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعہ گھناونے جرائم کے ملزما ن کو قصوروار قرار دے کر عدالتی حساب سے سزا دی جائے اس سے اس طرح کے شاطر درندوں کو موت ملے لیکن عدالت سے ۔

(انل نریندر)

جیل سے باہر آتے ہی چدمبرم کا سرکار پر حملہ

ایک د ن پہلے ہی 106دن تہاڑ جیل میں کاٹنے کے بعد باہر نکلتے ہی سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے مودی حکومت پر جم کر نکتہ چینی کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی ،باقاعدہ پریس کانفرنس کر سرکار کو اڑے ہاتھوں لیا ،چدمبرم پر کانگریس کی تعریف کرنا یا اسے سرکار کے خلاف کامیابی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش یہ غیر متوقعی نہیں ہے حالانکہ یہ ضمانت ہے کہ الزام سے نجات نہیں ضمانت کے بارے میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ مقدمہ کے سلسلے میں اپنے یا معاون ملزمان کے بارے میں نہ کوئی بیان دیں گے یا انٹریو دیں گے چدمبرم نے کہا کہ کمزور ہوتی معیشت کی کوئی فکر نہیں ہے پیاز کے دام سو کے پار ہو گئے ہیں وزیر اعظم ہر طرح کے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں بازی گیری کرنے اور جھانسہ دینے کا کام انہوںنے اپنے وزراءپر چھوڑ دیا ہے ،نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی غلطی اور ہٹ دھرمی سے دیش کی معیشت بد حال ہو گئی ہے جموں و کشمیر کے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ میں نے بدھوار کی رات آٹھ بجے آزادی کی ہوا میں سانس لی ہے میرا پہلا نظریہ اور پراتھنا کشمیر وادی میں 75لاکھ لوگوں کے لئے تھی انہوںنے کہا کہ مودی سرکار نے اچھے دن کا وعدہ کیا تھا پچھلے چھ سہہ ماہی کے اعداد وشمار کو دیکھیں تو آٹھ فیصد سے 7,6اور 5.5اور اب گھٹ کر 4.5فیصد رہ گئی ۔کیا یہی سرکار کے اچھے دن ہیں ؟اگرسال کے آخر میں اضافی پانچ فیصد کو سرکار چھوتی ہے تو ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں گے صنعتکار راہل بجاج کو لے کر پوچھے گئے سوال پر چدمبرم نے کہا کہ خوف ہر جگہ ہے اور خوف نے میڈیا کو بھی جکڑ لیا ہے اورلوگ سرکار کی تنقید کرنے سے ڈرتے ہیں وہیں دیش کے بڑے ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اروند سبرامینم نے پانچ فیصدی شرح نمو کو لے کر خبرادار کیا تھا لیکن اب حالت اس سے بھی خراب ہے ہر بار کی طرح پی ایم مودی اس مسئلے پر چپ ہیں انہوںنے اس مسئلے پر اپنے وزراءکو جھوٹ بولنے کی چھوٹ دے دی ہے ۔جیسا کہ ماہر اقتصادیات نے کہا سابق وزیر خرانہ نے کہا کہ وزیر کے طور پر میرا ریکارڈ بالکل صاف ہے جن افسران نے میرے ساتھ کام کیا ہے جو بجنس مین میرے رابطے میں آئے ہیں اور جن صحافیوں نے مجھ سے بات کی ہے وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اگر آپ میرے کیس سے جڑے معاملوں کو لے کر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ لیں آپ کی کافی بات صاف ہو جائے گی جمعرات کو پارلیمنٹ کی اجلاس میں شامل ہونے پہنچے چدمبرم نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ میں ان کی آواز نہیں دبا سکتی اور میں پارلیمنٹ میں آکر خوش ہوں اور اپنی آواز اُٹھاتا رہوں گا ۔

(انل نریندر)

07 دسمبر 2019

لندن برج کا آتنکی حملہ آور پاکستانی نزاد تھا

برطانیہ کے مشہور لندن برج کے پاس گزشتہ جمعہ کو دوپہر میں آتنکی حملہ کیا گیا پہلے فائرنگ ہوئی بعد میں چاقو مارا گیا پولس نے موقعہ واردات پر ہی حملہ آور کو مار گرایا یہ ہے صحیح طریقہ دہشتگردوں سے پیش آنے کا نہ کوئی مقدمہ نہ کوئی عدالت کے چکر نہ کوئی مرثی رحم کی اپیل ،حملہ آور کی پہچان برطانیہ میں پیدا پاکستانی نزاد عثمان خان 28سال کی شکل میں ہوئی تھی خان کو سال 2012میں آتنکوادی سرگرمیوں میں قصور وار پاتے ہوئے سزا سنائی گئی تھی ،لیکن اسے 2018میں جیل سے رہا کر دیا گیا تھا ،خان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک مدرسہ کھول کر آتنک کی ٹرینگ کیمپ کرنا چاہتا تھا ،اس کے سابق اسکولی ساتھیوں نے دعوی کیا تھا کہ اسٹوک ٹرینر سے اسکول سے نکل جانے کے بعد عثمان کو آئی ایس آئی کے جھنڈے تلے نوجوانوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے کئی بار دیکھا گیا تھا ۔آتنکی عثمان کے آباءو اجداد پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے برطانیہ میں کچھ دہائی پہلے جا کر بس گئے تھے ،اس بات کا ذکر لندن کی پولس کراﺅن کورٹ کے اس فیصلے میں بھی ہے جس میں عثمان کو دہشتگرد کے سرگرمیوں کے سلسلے میں آٹھ سال کی سزا سنائی گئی تھی لندن برج پر ہوئے اس آتنکی حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس )نے لی ہے ۔حالانکہ آئی ایس کی طرف سے حملہ آور کے سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا حالانکہ لندن برج وہی علاقہ ہے جہاں جون2017میں آئی ایس کے آتنکی حملے میں 11لوگ مارے گئے تھے حملہ آور نے نقلی دھماکو جیکٹ پہنی ہوئی تھی اس نے برج پر موجود جمع لوگوں خو دکو اُڑانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد پولس نے اسے گولی مار دی جس میں اس کی موت ہو گئی ۔لندن کے میر صادق خان نے لندن برج کے حملہ آور کو ختم کرنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔لندن پولس کے سربراہ میں حملہ آور کے مرنے کی تصدیق کی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانس نے کہا کہ آتنکواد سنگین جرائم کے قصوروار لوگوں کے معاملے پر نظر ثانی کی بات سمجھ سے پرے ہے سنگین اور تشددپر آمادہ جرائم پیشہ کو جیل سے سزا پوری کرنے سے پہلے چھوڑنا غلطی ہے اور ہماری اس عادت کو چھوڑنا بہت اہم ہے ۔

(انل نریندر)

ملزم نتیآ نند اور اس کا کیلاس دیش

سیکس سی ڈی کانڈ میں سرخیوں میں آیا ساﺅتھ انڈیا کا متنازعہ دھر م گرو سوامی نتیآنند ایک بار پھر سرخیوں میں ہے ۔اس پر احمدآباد میں لڑکیوں کے اغو اسمیت کئی معاملے درج ہیں یہ بھی الزام ہے کہ واشروم چلانے کے لئے بچیوں کا اغوا کرتا تھا ،اور ان سے چندا وصولتا تھا سال 2010میں ایک سیکس سی ڈی سامنے آئی تھی جس میں تنیآنند ایک ساﺅتھ انڈین اداکار کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھایا گیا تھا فورسنگ رپورٹ میں سی ڈی صحیح پائی گئی پولس نے اسے گرفتار کیا تھا اور قریب 52دن بعد اسے ضمانت ملی خود ساختہ سنت سوامی نتیآنند کے آشرم سے دو سگی بہنوں کو یرغمال بنا کر رکھنے کے الزام میں معاملہ درج کرنے کے بعد پولس اس کی تلاش میں تابڑ توڑ چھاپے مارے گئے ،اس کے بارے میں ابھی کوئی سراغ نہیں ملا ریپ کا الزام لگنے کے بعد سے فرار اس ڈھونگی بابا کے بارے اب بڑا خلاسہ ہوا ہے میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نتیآنند نے ساﺅتھ امریکہ کے ایک دیش سے ایک آئی لینڈ خریدا ہے ،اس کو اس نے ایک آزاد دیش قرار دے دیا ہے ۔جس کا نام کیلاس رکھا گیا ہے ۔اس کے نام کی ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے جس میں کیلاس کو ہندو راشٹر بتایا گیا ہے ،کیلاس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ آئی لینڈ تری نداد اور ٹوبیکو دیشوں کے قریب ہے اس میں کسی ایک دیش کی طرح تمام سرکاری عہدوں پر لوگ مقرر کئے گئے ہیں ۔جیسے وزیر اعظم کیبنٹ ،وزیر ،فوج کے چیف،اور دیگر ،نتیآنند نے اپنے قریبی ماننے والی ماں کو وزیر اعظم مقرر کیا ہے ویب سائٹ پر آئین اور سرکاری ڈھانچے کی جانکاری دی گئی ہے کئی وزارتیں ،محکمہ اور ایجنسی بنانے کا دعوی ہے اتنا ہی نہیں نتیآنند نے اپنے دیش کا الگ جھنڈا بھی بنا لیا ہے ،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی یہاں کا شہری بننا چاہتا ہے تو ڈونیشن دے کر وہاں رہنے آسکتا ہے ،ویب سائٹ میں بتایا گیا کہ وہ کیلاس ایک غیر سیاسی دیش ہے اور انسانیت اس کا مقصد ہے یہ دیش ہندو مذہب کی تہذیب اور کلچر کے مطابق چلے گا جو کئی دیشوں سے ختم ہو رہی ہے گجرات پولس کے مطابق نتیآنند کا پاسپورٹ 30ستمبر 2018تک جائز تھا پولس ڈپٹی سپریم ڈینٹینٹ کے ٹی کمریا نے بتایا کہ بینگلورو دفتر پاسپورٹ دفتر میں ملزم کا پاسپورٹ رینیو نہ ہونے کی بات کی تصدیق کی ہے گجرات پولس کے ذرائع کے مطابق کچھ ایسی باتیں سامنے آئی ہیں کہ نتیا ٓنند پاسپورٹ کی تجدید کی تاریخ کافی پاس آنے سے پہلے ہی ساﺅتھ امریکہ کے کسی شہر میں جا کر چھپ گیا پولس اس کی تلاش کر رہی ہے ۔نتیآنند نے ایروڈ کے پاس اپنا مٹھ بنایا ہے ،اور اس کے یو ایس اور آسٹریلیا میں بھگت بن گئے ہیں تمل ناڈو میں بھی اس نے پندرہ آشرم بنائے صنعتکاروں نے اسے مفت زمین دی ان کے سیوکوں میں کئی دشمن پیدا ہو گئے ان میں سے ایک نے ان کے بیڈ روم میں کیمرہ لگا دیا ،عورتوں کو اس کے ساتھ سونے کے لئے راضی کرنے کی غرض سے مخصوص کورس ڈئزائن کے گئے ۔

(انل نریندر)

06 دسمبر 2019

اقتصادی مند ی پر اب اپنوں کے نشانے مودی سرکار

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے دوسرے عہد کے چھ مہینے پورے کر لئے ہیں اور اس دوران بھارت نے قابل قدر بہتری کے ساتھ رفتار کا گواہ بنے ہیں مودی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنے سے لے کر اقتصادی اصلاحات تک اور پارلیمنٹ سے لے کر فیصلہ کن خارجہ پالیسی تک تاریخی قدم اُٹھائے ہیں ۔مودی سرکار کے تمام وزیر بھی 180دن کے کارنامے گنا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیش نہ بھولنے والی اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے ،اور جی ڈی پی مسلسل گر رہی ہے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے پیداوار گھٹ رہی ہے ،اور عوام میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے ،ہماری بات تو چھوڑئیے اب تو بی جے پی کے اندر بھی ملک کی بد حال ہوتی معیشت پر بھی سوال اُٹھتے جا رہے ہیں اور یہ اقتصادی محاض پر مودی سرکار کی ناکامیوں کا ہی نتیجہ ہے مودی تو مالی سال کی دوسری سہہ ماہی میں دیش کی ترقی شرح پچھلے چھ سالوں کے مقابلے کم درج ہوئی اور یہ 4.5پر آگئی ہے اس مسئلے کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے جارہانہ حملوں کے درمیان اب سرکار کے سگے ساتھیوں اور اپنوں کے درمیان بھی بھاری بے چینی اور ناراضگی کا ماحول دکھائی پڑ رہا ہے جہاں ایک طرف تازہ اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد بھاجپا کی طرف سے سرکار کی کھل کر بچاﺅ کرنے کی روایت کو اپنانے سے پرہیز کر رہی ہے وہیں دوسری طرف جے ڈی یو اکالی دل،جیسے این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اس سے نمٹنے کے لے نصیحتوں کی بڑی پوٹلی کھول دی ہے اکالی دل نے تو سیدھے طور پر سرکار کی ناکامی کا الزام لگا دیا ،دوسری طرف جے ڈی یو نے سرکار کی اقتصادی پالیسیوں کو بے اثر اور دیش کے لئے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے ان میں فوری تبدیلی کرنے کی مانگ کر لی ہے یہاں تک کہ راجیہ سبھا ایم پی و اقتصادی معاملوں کے مشہو ر جانکار ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دیش کے موجودہ اقتصادی پس منظر کو لے کر بھاری ناراضگی ظاہر کی ہے ۔اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وقت رہتے اپنی پالیسیوں میں اصلاح نہیں کی تو مستقل قریب میں ترقی شرح اور تیزی سے گرے گی سوامی نے تو اقتصادی عدد و شمار کو مستر د کر دیا ،اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی صلاحیت او ر کام کے طریقے پر بھی سیدھے طور پہ سوال کھڑ کر دئے ۔دوسری طرف جی ڈی پی کے موجودہ اعداد وشمار سے بھلے ہی اور ترقی شرح ساڑھے چار فیصدی بتائی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ ڈھیڑھ فیصدی پر آگئی ہے ۔جے ڈی یو نے اس مسئلے پر اقتصادی ماہرین و دیگر وقاف کاروں کی میٹنگ بلانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاست نہیں کی جانی چاہیے اور مسئلے کا حل تلاشنے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کے سینر لیڈروں سے بھی صلاح لینے میں کوئی قباہت نہیں برتی جانی چاہیے ۔

(انل نریندر)

جہاں ناسہ ہار گئی وہیں انجینئر شن مگم سبرامنیم کامیاب ہو گئے

چاند پر بھیجے گئے ہندوستانی مشن چندریان 2-کا حصہ رہے لینڈر(وکرم )کا ملبہ تلاش نکالا گیا ،اور یہ کام نہ تو اسرو کر سکا اور نہ ہی ناسہ یہ تلاش چنئی کے ایک لڑکے اور شوقیہ جغرافیت کے ماہر 33سالہ انجیئر شن مگم سبرامنیم نے کر ڈالی وہ بھی بغیر کسی مخصوص لیبورٹی کے ،لینڈنگ جگہ سے قریب 700میٹر دور یہ مبلہ تلاش لیا ۔اس کی بنیاد پر ناسہ نے ملبے کے تین ڈھیر تلاش کر لئے اس کی تلاش میں ناسہ اور اسرو تین مہینے سے لگی ہوئی تھی ناسہ اور ائیری زونہ یونیورسٹی نے شن مگم کو اس تلاش کا کریڈیٹ دیا ہے ۔07ستمبر کو لینڈر وکرم کو کریش لینڈنگ کے بعد اسرو سے ناسہ تک سب نے تلاش کرنے کی کوشش کی پھر 17ستمبر کو ناسہ نے کریش سائڈ کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ وکرم کا کچھ پتہ نہیں چل پایا ،32لاکھ پکسل والی اس تصویر کو چنئی کے 33سال کے ایپ ڈبلیپر رن مگم 17دن مسلسل 4-6گھنٹے چھانتے رہے ،اور تین اکتوبر کو انہیں مبلہ دکھائی دیا شن مگم نے تصویر کے ہر ایک پکسل کا موازنہ کر تلاش کر لیا ۔بتا دیں کہ لینڈر وکر م اور اس کے اندر رکھے رور پرگیان کو مشن کے تحت سات دسمبر کی رات قریب دو بجے چاند کے ساﺅتھ پول کے چھ سو کلو میٹر قریب ایک میدان میں سافٹ لینڈنگ کروائی جا رہی تھی بھارت ایسا کر لیتا تو دنیا کے چار چنندہ ملکوں میں شامل ہو جاتا لیکن اترنے سے چند منٹ پہلے ہی اس سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا ۔اس کے ملبے کی تلاش میں دنیا بھر کے سائنسداں اور خلائی ایجنسیاں لگی تھیں ،چاند کا طواف کر رہے ناسہ کی شکل لونر رکنسینس اوربی ٹیر (ایل آر او)وکرم کو لینڈنگ جگہ سے کئی بار گزرا لیکن اسے بھی کامیابی نہیں ملی ،شن مگم بتاتے ہیں کہ میں صبح چار بجے اُٹھا تو دیکھا کہ فون پر ناسہ سے آئے ای میل کا نوٹیفیکشن پڑا ہے میں نے ای میل پڑھا اور اسے ٹوئٹ کیا اور ساتھ ٹوئٹر ہینڈل پر اسٹیٹس جوڑ دیا .....آئی فاﺅنڈ وکرم لینڈر آج ایک دن میں ہی میرے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر سات ہزار سے زیادہ فالور بڑھ گئے رن مگم نے بتایا کہ چاند پر وکرم لینڈر پر اترنے کی جگہ پر ناسہ کے ذریعہ لے گئی پرانی تصویروں کو انہوںنے اپنی چھوٹی سی لیب میں جمع کیا اور ان کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ایک جگہ سفید پوائنٹ نظر آیا جو پرانی تصویروں میں نہیں تھا شن مگم کا اندازے کی یہی سب سے بڑی بنیاد بنا کہ یہ لینڈر وکرم کا ہی ملبہ ہے مکینکل انجیر رن مگم سبرا منیم جغرافیائی سائنس میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں روزانہ چار سے سات گھنٹے تک ایل آر او سے ملی چاند سطح کی تصویروں کاتجزیہ کرتے ہوئے کام سے لوٹ کر آتے ہی رات میں دو بجے تک وکرم کی تلاش میں لگے رہے یہ ممکن ہے کہ اسرو نے اسے لے کر کچھ تصویریں جاری کی تھیں لیکن سبرامینم کی پڑتال کے بعد جو تصویرں سامنے آئی ہیں وہ زیادہ صاف اور زیادہ ریزولیشن والی ہیں ۔ہم شن مگم کو مبارکباد دینے کے ساتھ دیش کے اس سیکٹر میں بھی نام اونچا کرنے کی سراہا کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

05 دسمبر 2019

گرہستنوں کی تھالی سے غائب ہوتی پیاز

غریب ،مزدو ر طبقے کے لئے پیاز کی بڑھتی قیمتوں نے ان کی گرہستیوں کے آنسو نکال دئیے پچھلے دنوں پیاز خوردہ دام سو سے 120روپئے کلو مل رہی ہے وہیں تھوک بازار میں پیاز کی قیمت ستر روپئے ہے آزادپور منڈی اور آس پاس کے خوردہ بازار میں سو روپئے کلو فروخت ہوتی بتائی گئی ہے ۔خودرہ تاجروں نے بتایا کہ پیاز کے دام بڑھنے کے بعد سے پیاز کی فروخت میں گراوٹ آئی ہے پہلے دن میں پانچ سو سے ایک ہزار کلو تک یومیہ پیاز کی فروخت ہوتی تھی لیکن اب دام بڑھنے کی وجہ سے ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے ۔آر کے پورم کی باشندہ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اب پیاز کے دام بڑھنے سے تھالی سے پیاز غائب ہوتی جا رہی ہے ۔کھانے کے دوران اب پیاز کا کثرت سے استعمال نہیں ہوتا دہلی کانگریس کا الزام ہے کہ مرکز کی مودی سرکار اور دہلی عام آدمی پارٹی سرکار میں نورا کشتی کے سبب پیاز کے دام آسمان چھو رہے ہیں دہلی این سی آر میں پیاز سو روپئے تک بک چکی ہے ۔کانگریسی مہیلا ورکروں نے پیاز کی مالا پہن کر وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر کے باہر مظاہر ہ کیا کانگریس کے صدر سبھاش چوپڑہ نے اس مظاہرے کی قیادت کی مظاہرے میں شامل عورتیں نعرے لگا رہی تھیں جمع خوروں پر کسو لگام ،سستی کرو پیاز کے دام سو روپئے کلو پیاز مودی کجریوال کا اندھا راج کے نعرے بھی لگے اس موقع پر سبھاش چوپڑا نے الزام لگایا کہ سرکاری گوداموں میں 32ہزار ٹن پیاز سڑ رہی ہے جنتا اس کے لئے ترس رہی ہے انہوںنے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ان کی بھی جمع خوروں کے ساتھ ملی بھگت ہے دوسری طرف منڈی تاجروں کا کہنا ہے کہ پیاز کے دام جتنے بڑھ چکے ہیں بڑھ گئے اب گرنا شروع ہو جائیں گے ۔راجستھان سے پیاز آنا شروع ہو گئی ہے اور سپلائی دہلی بہار بنگال تک ہو رہی تھی مہاراشٹر میں پیاز نہیں تھی اب وہ گجرات سے پیاز آنے لگی ہے امید ہے کہ دام کم ہوں گے اس مہینے کے آخر تک مہاراشٹر سے بھی پیاز آنے لگے کی اور دام گر جائیں گے کاروباریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مرتبہ دیش میں ڈھائی مہینے سے زیادہ بارش ہوئی جسے مہاراشٹر اور کرناٹک میں پیاز خراب ہو گئی یہ اچھا ہوا راجستھان کی پیاز بچ گئی تو نہیں برا حال ہو جاتا ۔بہر حا ل پیاز ہر گھر کی اہم ضرورت ہے سرکار کو چاہیے کہ وہ منڈیوں میں پیاز کی فراوانی لائے اور سیاست سے بچے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...