Translater

24 مئی 2025

چھتیس گڑھ میں مارا گیا ماو وادیوں کا سینئر کمانڈر!

چھتیس گڑھ کے نارائن پور ،بیجاپور ضلع کے سرحدی علاقہ میں سیکورٹی فورس نے ایک مڈبھیڑ میں 27 نکسلیوں کو مارگرایا۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مڈبھیڑ میں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (ماو¿وادی کے جنرل سکریٹری نمبالا کیشوراو¿ عرف بسوا راج ) کو مارا گرایا ۔اس واردات میں ہمارا یک جوان بھی شہید ہو گیا ۔70 سالہ لمبالا کیشو راو¿ کو نکسلی آندولن میں باسو راجو نام سے جانا جاتاہے ۔بدھوار کو نارائن پور میں پولیس نے مڈبھیڑ میں 27 ماو¿ وادیوں کے ساتھ بسو راجو کو مار گرایا ۔کیشو راو¿ کا مارا جانا کتنا اہم ہے اسے اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس سے سرکاری طور پر اعلان بستر کے کسی پولیس افسر یا ریاست کے وزیر داخلہ ،وزیراعلیٰ نے نہیں کیا ۔سب سے پہلے دیش کے وزیرداخلہ امت شاہ نے شوشل میڈیا پر پوسٹ کر کیشو راو¿ کے مارے جانے کی سرکاری طور پر جانکاری دی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھوار کو ایکس پر پوسٹ کیا کہ نکسلواد کو ختم کر کرنے کی لڑائی میں ایک تاریخی کارنامہ آج چھتیس گڑھ کے نارائن پور میں ایک کاروائی میں ہماری سیکورٹی فورسز نے 27 خونخوار ماو¿ وادیوں کو مار گرایا ہے جن میں سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری اور سینئر لیڈر اور نکسل تحریک کی ریڑھ کی ہڈی نمبالا کیشو راو¿ عرف بسو راجو بھی شامل ہیں ۔بستر کے آئی جی پولیس سندر راج کہتے ہیں کہ سال 2024 میں جس طریقہ سے سیکورٹی فورس کے ذریعے نکسلیوں کے خلاف ایک فیصلہ کن اور ٹھوس کاروائی کی گئی ہے اسے 2025 میں بھی مسلسل آگے بڑھایا جارہا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ماو¿ وادی تنظیم کے سیکریٹری جنرل جو سی پی آئی ماو¿ وادی کا پولٹ بیورو ممبر بھی ہے ماراجا نا ۔این آئی اے سے لے کر سی بی آئی اور الگ الگ ریاستوں کی حکومتوں کے ذریعے کیشو راو¿ عرف بسوا راجو پر انعام کی رقم بھی بڑھتی چلی گئی اسے ملا کر اس کے سرپر اعلان کردہ انعام کی رقم ڈیڑھ کروڑ روپے سے اوپر تک پہنچ گئی ہے ۔بسو راجو کی عمر 70 سال تھی ۔وہ کتنا خطرناک تھا اتنا ہی ایک گھناو¿ نا درندہ بھی ۔وہ گوریلا طریقہ کے حملوں کے لئے جانا جاتا تھا ۔لیکن قابل تحسین ہے کہ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ اگلے سال مارچ تک ماو¿ واد کے خاتمہ کے لئے عہد بند ہیں ۔اسی وجہ سے آپریشن سندور کے وقت بھی ماو¿ وادیوں پر کاروائی جاری رہی ۔پچھلے ہی برس میں نکسلی کہے جانے والے ماو¿ وادی بڑی تعداد میں مارے گئے ہیں ۔سیکورٹی فورسز کے دباو¿ میں کئی ماو¿ وادیوں میں خود سپردگی بھی کی ہے ۔یہ دباو¿ قائم رہنا چاہیے تاکہ وہ پھر سے سر نہ اٹھا سکیں۔ماو¿ وادی جس طریقہ اور آئیڈیا لوجی سے مسلح ہیں وہ بندوق کے زور پر اقتدار چھیننے میں یقین رکھتے ہیں ۔اسی وجہ سے ماو¿ وادی نہ تو جمہوریت مانتے ہیں اور نہ ہی آئین وہ یہ اس مغالطے میں ہیں کہ ایک دن حکمرانی انصاف و نظام وغیرہ کو پنگو کرکے بھارت پر قابض ہو جائیں گے ۔اب نکسلی کہے جانے والے ایسے عناصر سے چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ یہ سمجھنا چاہیے کہ ماو¿ وادی جن غریب اور محروم افراد کے مفاد کی فرضی کہانی گھڑتے ہیں ان کے دشمن بھی ہیں ۔اس شاندار کارنامہ پر ہم وزیر داخلہ تمام سیکورٹی فورسز کو بدھائی دیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

22 مئی 2025

آئی ایس آئی کی جاسوس جیوتی ملہوترہ!

ہریانہ اور پنجاب پولیس نے پاکستان کی آئی ایس آئی کو خفیہ جانکاری مہیا کرانے کے الزام میں جن لوگوں کو حال ہی میں گرفتار کیا ہے ان میں ہریانہ کی ٹریول بلاگر اور یوٹیوبر جیوتی ملہوترا بھی شامل ہے ۔ہریانہ پولیس کے مطابق جیوتی ملہوترا کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے کچھ مشتبہ اسٹوریز ملی ہیں ۔ان کے خلاف آرٹیفیشل سیکریٹ ایکٹ ( ہندوستان کی آئین کی دفعہ 152 کے تحت ان کی گرفتاری کی گئی ہے )گرفتاری کے بعد سے ہی جیوتی کے پاکستان دورہ کا کافی تذکرہ ہورہا ہے ۔جیوتی ملہوترا کے یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام پیجز کا نام ٹریول ودجو چلا رہی ہے ۔ان کے یوٹیوب چینل پر 3.79 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبر ہیں اور انسٹاگرام پر 1.40 لاکھ فالوورس ہیں ۔انہوں نے دیس کے الگ الگ ریاستوں میں اپنے دورہ کے ویڈیو سے لے کر اپنی غیر ملکی دورہ کے کئی ویدیو ڈالے ہیں ۔جیوتی کی گرفتاری پاکستانی خفیہ آئی ایس آئی سے وابستگی و جاسوسی نیٹورک کے خلاف دیش کی سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے تیز کرنے کے نتیجہ سے ہوئی ہے ۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جیوتی ملہوترا کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں بطور ایسڈ کے طور پر تیار کر رہی تھیں ۔جیوتی پر کئی طرح کے الزام لگے ہیں کہ کیسے وہ پاکستانی ہائی کمیشن کے رابطے میں آئی اور آگے کیا ہوا یہ سب تفصیلات میڈیا میں آچکی ہیں ۔انہوںدہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔کام کی بات یہ ہے پاک خفیہ ایجنسیوں سے بھی وہ رابطے میں تھی اور یہاں تک کہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انہوںنے آپریشن سندور کی بھی خفیہ معلومات پاکستان کوپہچنائی ہیں ۔حصار کے ایس پی سشنگ کمار ساون نے بتایا کہ جیوتی پاکستان ہائی کمیشن میں کام کررہے دانش عرف احسان الرحمان کے رابطے میں تھی ۔یہ رابطہ اپریل 22 کو پہلگام حملے کے بعد بھارت پاک کے چار روزہ فوجی کاروائی سے بھی بنا رہا۔فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ جیوتی کے پاس فوجی معلومات تک سیدھی پہنچ تھی یا نہیں لیکن پاکستان انٹیلی جینس آپریشن کے سیدھے طور پر رابطے میں تھی ۔ایف آئی آر کے مطابق 2023 میں پاکستانی ویژا کے لئے درخواست کرتے وقت وہ دانش سے رابطے میں آئی تھی ۔جیوتی نے دو بار پاکستان اور چین کا ایک بار سفر کیا۔پی ٹی آئی کے مطابق حصار ایس پی کا کہنا ہے جیوتی پی آئی او کے رابطے میں تھی ۔انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق جیوتی پر پاکستان کے لئے جاسوسی کرنے اپنے میٹر کے ذریعے پاکستان کی اچھی ساکھ پیش کرنے کے کے لئے وہاں کے ہینڈلر سے سیدھے رابطے میں رہنے کا الزام ہے ۔جیوتی کے والد ہریس کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس افسر جمعرات کی صبح سادے کپڑوں میں 9 بجے آئے اور جیوتی کو اپنے ساتھ لے گئے ۔پانچ چھ لوگ آئے اور آدھے گھنٹے تک گھر کی تلاشی لی جس کے بعد تین موبائل ،لیپ ٹاپ لے لئے ۔انہوں نے کہا میری بیٹی سرکار کی اجازت سے پاکستان گئی تھی اس کی جانچ بھی کی گئی اور پھر ویزا دیا گیا اس کے بعد وہ پاکستان گئی تھی ۔رپورٹ کے مطابق جیوتی کے موبائل فون میں کوڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے کئی حکام کے نمبر ملے ہیں جن سے وہ مسلسل کانٹیکٹ میں رہتی تھی اور دیش کی انترم جانکاری اور اطلاعات ا ن تک پہنچا رہی تھی ۔حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ وہ دیش بھکتی کا لبادہ اوڑ ھ کر اپنی کرتوتوں کو انجام دے رہی تھی ۔ان لوگوں کی گرفتاریاں ہندوستانی ایجنسیوں کی یقینا بڑی کامیابی ہے لیکن ضروری ہے کہ جیوتی جیسے پاکستانی ایجنٹ کے پورے نیٹورک کو جڑ سے ختم کیا جائے ۔ان لوگوں تک بھی پہنچا جائے جو پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے جڑے جاسوس سے ہوئی ۔دیش جہاں غیر ملکی طاقتوں سے لڑرہا ہے وہاں دیش کے اندر ان دشمن کے ایجنٹس سے نپٹا جائے ؟ (انل نریندر)

20 مئی 2025

برہموس میزائل کا خوف !

بھارت پاکستان میں کشیدگی کے درمیان 8-9 مئی کے درمیان کی رات جب برہموس میزائل نے راول پنڈی کے ایئر بیس تک قہر برپا کیا تو وہ پاکستانی فوج کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر کو راول پنڈی سے پاک کی راجدھانی اسلام آباد میں شفٹ کرنے کے برسوں سے اس کے پروجیکٹ میں تیزی آگئی ہے ۔نئے جنرل ہیڈ کوارٹر کو اسلا م آباد کے مرکنڈہ ہلس کی تلہٹی میں شفٹ کیا جارہا ہے ۔جی ایچ کیو یعنی پاکستانی فوج کی سیدھی رپورٹ اور کمانڈ پوسٹ یہیں ہوتی ہے ۔پاکستان کے وزیراعظم نے میڈیا رپورٹوں کے مطابق نے اعتراف کیا ہے کہ برہموس میزائل نے پاکستانی فوج کے اڈوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے ۔برہموس کو ہندوستانی فوج کا ایک طاقتور ہتھیار ماناجاتا ہے۔اب تو دنیاوی اس کی مار صلاحیت کو ماننے لگی ہے ۔برہموس ایک سپر سونک کروز میزائل ہے جسے آبدوز ، جہاز ،ایئر کرافٹ زمین کہیں سے بھی چھوڑ اجاسکتا ہے ۔بھارت نے روس کے ساتھ ایک ساجھیداری برہموس کو تیار کیا ہے ۔اس کا نام بھارت کی برہم پتر ندی اور وس کی چیکوا ندی کے نام پر رکھا گیا ہے ۔برہموس میزائل کی رفتار ہی زیادہ ہے ۔اور اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنی طے رفتار سے قریب 3 گنا زیادہ تیزی سے اڑتی ہے ۔یہی اسپیڈ اسے بہت مارک اور دشمن کے راڈار میں کبھی نہ پکڑ آنے والی میزائل بناتی ہے ۔اس کا نشانہ اتنا پختہ ہے ۔290 کلو میٹر کی دوری پر بھی اپنے نشانہ سے ایک میٹر کے گھیرے کے اندر ہی گرتی ہے یہ ایک کروز میزائل ہے اس میزائل کا انجن آخر تک چالو رہتا ہے ۔اس دوران یو اے بی کی طرح ہی اس کے ٹارگٹ کو بدلا جاسکتا ہے ۔ماہرین بتاتے ہیں اس کی مار اتنی خطرناک ہے ایک بار کئی ٹارگٹ میں سے اصلی ٹارگٹ پہچان کرنے اورتباہ کرنے میں کامیاب ہے۔اس کی اسٹریوڈرائیونگ تکنیک کمال کی ہے لیکن میزائل سطح سے یہ چند میٹر اوپر اڑتے ہوئے سامنے آنے والی رکاوٹ کو پار کر دشمن پر اچانک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ا س میزائل کے پروڈکشن کے لئے ڈی آر ڈی او کے اس وقت کے چیف ڈاکٹر اے پی جے ابو الکلام اور روس کے نائب وزیردفاع این وی ہائیلاف نے 12 فروری 1998 کو دستخط کئے تھے ۔اس کے بعد برہموس ایئر اسپیس کمپنی بنائی گئی ۔اس وقت یہ کمپنی میزائل کا پروڈکشن کررہی ہے ۔برہموس 290 کلو میٹر تک اڑ سکتی ہے ۔یہ دس میٹر سے 15 میٹر تک کی اڑائی سے اڑان نے بھرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے ۔سال 2007 میں ہندوستانی فوج میں اس میزائل کو شامل کیا گیا اس کے بعد انڈین ایئر فورس نے سکھوئی چیف اور روس کے آئی ویمان سے ہوا سے لانچ کیا جانا والا پہلا طریقہ اپنایا اسی برہموس میزائل کا وژن 2900 کلو گرام ہے اس کے سبب جنگی جہازوں پر ایک بار میں ایک ہی میزائل لگا پارہی ہے ۔اس کا وژن کم ہونے کے بعد ایک ہی جگہ پانچ میزائلیں لگا ئی جاسکیں ۔ڈیفنس معاملوں کے جانکار کرنل اوجھا (ریٹائرڈ ) کہتے ہیں کہ بھارت سے بہت خطرناک اور سٹیک اور لمبی دور ی تک مارکرنے والی میزائل بنا دیا ہے۔انہوںنے بتایا کہ سکھوئی میں لگنے کے بعد اس میزائل کی مار صلاحیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔آپریشن سندور کی تیسری رات پاکستان کے 11 ایئر بیس پر قہر برپا کرنے میں برہموس کا اہم رول رہا ہے ۔سب سے زیادہ دوری پر واقع 6 ایئر بیس کو سکھوئی 30- ایم کے آئی انڈر بیلی سے نکلی ہوا سے سطح پر مار کرنے والی برہموس نے نشانہ بنایا ۔ذرائع کے مطابق پاکستانی ایئر فور س کے بے حد محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی زمین ایک رات پہلے ہی تیار کر لی گئی تھی ۔لاہور میں واقع کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر پر حملے سے پاکستانی ایئر فورس بہت حد تک تیار ہوچکی تھی۔بتا دیں کہ برہموس میزائل نے راول پنڈی میں چک لالا میں واقع نور خاں ایئر بیس پر بھی تباہی مچائی تھی ۔موجودہ جی ایچ یو سے محض آٹھ کلو میٹر دوری پر تھا ۔جے ہند ۔ہندوستانی سائنسدانوں کو آج پورا دیش سلام کرتا ہے ۔جے ہند! (انل نریندر)

پاکستان کا قبول نامہ !

پہلگام آتنکی حملے کے بعد بھارتیہ فوج کی ایئر اسٹرائک آپریشن سندور کی کامیابی کے بعد جہاں بھارت میں جشن کا ماحول ہے وہیں دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی بار قبول کیا ہے کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے راول پنڈی کے نور خان ایئر بیس پر 9-10 مئی کی رات کو بھارت نے ایئر اسٹرائک کیا تھا ۔بھارتیہ سینا نے ایئر اسٹرائک میں کئی پاکستانی ایئر بیس پر میزائل حملے کئے تھے ۔یہ بیان شریف کا یہ بیان یوم تشکر (دھنیہ باد) نام سے اہم تقریب میں اپنی تقریر کے دوران پاکستان کے وزیراعظم نے واقعہ کی سریز وار تفصیل رکھی اور کہا کہ اس کے بعد بھارت کے تئیں اپنی اپنی رائے دی ۔پاک پی ایم نے اپنے خطاب میں نور خاں ایئر بیس پر ہندوستانی میزائل حملے کو لے کر بھارت کے دعوے کا اعتراف کیا ۔شریف نے کہا 9-10 مئی کی رات قریب ڈھائی بجے چیف منیر نے بتایا کہ بھارت نے اپنے بیلسٹک میزائل کے ذریعے حملہ کیا ہے ۔ایک میزائل نور خاں ایئر بیس پر بھی گری ہے اور کچھ دیگر میزائلیں دوسرے علاقوں میں گری ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ فوج کے چیف جنرل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے کی گئی ایئر اسٹرائک کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دینے کی اجازت مانگی تھی ۔بھارت کی ایئر اسٹرائک کے بعد پاکستان نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے کئے ۔پاک پرھان منتری نے کہا کہ میں ان سبھی دوست ممالک کا بہت شکر گزار ہوں جو دنیا کے حصہ میں امن اور جنگ بندی کو بڑھاوا دینے میں بہت مددگار ہے ہیں ۔پاک پی ایم نے کہا میں صدر ٹرمپ کو ان کی مداخلت کے لئے شکریہ اداکرنا چاہوں گا ۔شریف نے بھارت اور پاکستان کے بیچ کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لئے سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر ،کویت ،ایران ،ترکی ،چین اور برطانیہ اور دیگر ملکوں کا شکریہ ادا کرتاہوں یہ پاکستان کی طرف سے پہلی بار اعتراف کیا گیا ہے کہ آپریشن سندور میں انڈین ایئر فورس نے میزائلوں سے پاکستان کے ایئر بیسوں پر حملہ کیا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...