31 دسمبر 2014

مارا گیا پیشاور فوجی اسکول کے بچوں کو مارنے والا ماسٹر مائنڈ!

پیشاور قتل عام کے ہر گزرے گھنٹے اور دن کے ساتھ اس کی مذمت کرنے و اس کی مخالف میں پاکستانی جس طرح سے متحد ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں اسے دیکھ کر پاکستانی طالبان یقینی دہشت میں ہوگا۔ معصوم بچوں کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی مانگ اتنی تیزی پکڑ چکی ہے کہ جو ملا دہشت گردوں کے حمایتی ہوا کرتے تھے آج وہ بھی ناراض لوگوں کی آواز میں آواز ملانے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف طالبان و دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ ایک بڑی کامیابی اس وقت لگی جب انہوں نے دیش کے بیحد شورش زدہ علاقے خیبر ایجنسی میں طالبان کمانڈرصدام کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے صدام پیشاور آرمی اسکول قتل عام کا اہم سازشی تھا جس کی تلاش کی جارہی تھی۔ پاکستان میں16 دسمبر کو آرمی اسکول میں ہوا حملہ دیش کے اب تک سب سے بڑے آتنکی حملے کے طور پردیکھاگیا۔ اس میں141 بچوں سمیت150 افراد مارے گئے تھے۔ خیبر ایجنسی کے سیاسی نمائندے شہاب علی شاہ نے بتایا کہ جمرود کے گدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے اپنی ایک کارروائی میں صدام کو مار گرایا اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان نے جمعہ کو دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لئے فیڈرل آتک واد انسداد فورس بنائی ہے۔ اس کے علاوہ مالی اداروں کو ہدایت دی گئی ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو ملنے اولی اقتصادی مدد کی جانچ کریں اس کے ساتھ ساتھ ایک پینل بھی بنایا ہے جو اس لعنت سے نمٹنے کیلئے بنائی گئی اسکیموں کو نافذ کرنے پر نظررکھے گا۔ اس دوران پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے لاہور کی مشہور کوٹ لکھپت جیل پر حملے کی دہشت گردوں کی سازش کو ناکام کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس جیل میں 5 خطرناک آتنک وادیوں سمیت موت کی سزا پائے کم سے کم 50 دہشت گرد بند ہیں۔ لاہور کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہم نے آتنک وادیوں کی سازش کو ناکام کیا ہے اور جیل کے پاس فرید کالونی سے دو عورتوں اور ایک مرد کو گرفتار کیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ جمعرات کو ان کے پاس سے ایک راکٹ لانچر اور سکیورٹی ایجنسیوں کی وردیاں بندوقیں اور موبائل فون برآمد کئے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا پائے پانچ خطرناک آتنک وادی بند ہیں۔ آج حالت یہ ہے پاکستانی عوام کے جس تھوڑے سے حصے میں تحریک طالبان کے لئے ہمدردی تھی وہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ پیشاور قتل عام نے حکومت کو یہ حوصلہ دیا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے وہ اپنے سبھی طرح کے ذرائع کا استعمال کرے۔ پیشاور کی واردات نے پاکستان کو بدل دیا ہے۔ جیسا کہ میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سرزمیں سے آتنک واد کو ختم کرنے میں پوری طرح سے لگے ہوئے ہیں۔ یہ آسان نہیں ہے لیکن اگر حکومت کا مضبوط ارادہ ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔
(انل نریندر)

’پی کے‘ فلم کی مخالفت اور کمائی دونوں میں اضافہ!

عامر خاں کی فلم ’پی کے‘ کو لیکر دن بدن تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ مذہبی دقیانوسی اور سادھو سنتوں کو نشانے پر لینے والی عامر خاں کی اس فلم پر کئی ہندو انجمنوں نے اعتراض کیا ہے اور کئی ہندو تنظیموں اور مذہبی پیشواؤں نے اس فلم پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم’ پی کے‘ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی بے عزتی کی گئی ہے۔ دھرم آچاریوں میں ہندو مسلم دونوں شامل ہیں۔ حالانکہ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے فلم کی تعریف کی ہے۔ فلم میں ہندو مذہب کے تقاضوں اور روایات و باباؤں اوربھگوان پر تلخ تبصرے کئے گئے ہیں۔ اس فلم کے احتجاج میں اتری ہندو وادی تنظیم جاگرن منچ نے کہا کہ اس فلم پر پابندی لگنی چاہئے کیونکہ یہ فلم ہندو روایات کا مذاق اڑا رہی ہے۔ دوارکا پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی سروپ آنند سرسوتی نے بھی کہا کہ اس میں ہندو مذہب کی بے عزتی کی گئی ہے۔ مسلم عالم پھرنگی محلی کہتے ہیں کہ فلم میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے گنگا جمنی تہذیب پر خراب اثر پڑ سکتا ہے۔ یوگ گورو بابا رام دیو نے ’پی کے‘ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے تئیں توہین آمیز رائے زنی اور مناظر کو دکھائے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے کہ صرف ہندو دیوی دیوتاؤں کی ہی فلم میں کھلے عام بے عزتی کیوں کی جاتی ہے؟انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ’پی کے‘ کا بائیکاٹ کریں تاکہ ہندو مذہب و کلچر کی بے حرمتی نہ ہوسکے۔ فلم کو لیکر وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی کمیٹی ،اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے مظاہرہ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا خالد رشیدی پھرنگی محلی نے بھی ’پی کے‘ فلم کے کچھ مناظر میں مبینہ طور سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا دیس اور پردیس کا ماحول خراب کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ایسے میں فلموں میں ایسی چیزیں قطعی نہیں دکھائی جانی چاہئیں۔ پھرنگی محلی کا کہنا ہے فلم میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی باتیں سامنے آرہی ہیں جو بالکل غلط ہے۔ اظہار آزادی کا مطلب کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔ اگر فلم میں ایسے منظر ہیں تو سینسر بورڈ کو انہیں ہٹا دینا چاہئے تھا تاکہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کا ماحول نہ بگڑے۔ سینسر بورڈ کی چیئرمین لیلا سیمسن کا کہنا ہے عامر خاں کی فلم ’پی کے‘ سے کوئی منظر نہیں ہٹایا جائے گا۔ سیمسن کہتی ہیں کہ فلم کو ریلیز کیا جاچکا ہے۔ ہر فلم کسی نہ کسی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے اس پر ہم سین ہٹا کر کسی کے تعمیری نظریئے کو ختم نہیں کرسکتے۔ کوئی سین نہیں کٹے گا ۔ دوسری طرف ’پی کے‘ باکس آفس میں بزنس کے ریکارڈ توڑتے ہوئے صرف9 دن میں 214 کروڑ روپے کی کمائی کرچکی ہے۔عامر خاں نے ’پی کے‘ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ کے کٹر پسند نیتاؤں نے مسلم ہونے کی وجہ سے عامر خاں پر ہندو مذہب کی بے عزتی کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس کی تنقید کا انہوں نے جواب دیا ہے کہ ہم سبھی مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ میرے سبھی ہندو دوستوں نے فلم دیکھی ہے، انہیں ایسا نہیں لگتا۔ فلم کے ہدایتکار، پروڈیوسر اور کہانی کے مصنف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ راجو ہیرانی ہندو ہیں،ودو ونود چوپڑا ،ابھیجیت ہندو ہیں، فلم پروڈکشن ٹیم کے 99 فیصدی لوگ ہندو ہیں،فلم کے پروڈیوسر ،ڈائریکٹر نے کہا فلم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ہم ہندو، مسلم ، سیکھ ،یا عیسائی پیدائشی علامت کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے۔ہمیں باقاعدہ طریقہ زندگی اور کچھ روایت کی تعمیل کرنی پڑتی ہے۔ کچھ سال پہلے ایک اور فلم آئی تھی ’او مائی گاڈ‘ اس میں بھی ایسے مناظر دکھائے گئے تھے۔ فلم ’پی کے‘ کی کہانی بھی اسی فلم سے ملتی جلتی ہے۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ محض ہندو مذہبی اقدار و روایات پر ہی حملہ کیوں ہوتا ہے۔ کیا عامر خاں اپنے مذہب پر ایسی فلم بنا سکتے ہیں؟یا کسی اور مذہب پر؟
(انل نریندر)

30 دسمبر 2014

خلاصی کا بیٹا بنا جھاڑ کھنڈ کا وزیراعلی

ٹاٹا اسٹیل جمشید پور کارخانے میں مزدوری سے اپنی زندگی کاسفر شروع کرنے والے رگھوورداس جھاڑ کھنڈ کے نئے وزیراعلی بن گئے ہیں۔ رانچی کے موھرا بادی کے میدان میں ایک شاندار تقریب میں ان کو وہ ان کے کیبنٹ کے چار ساتھیوں کو حلف دلایا گیا ہے ان میں سی پی سنگھ، نیل کنٹھ سنگھ منڈا، ڈاکٹر لوئس مرانڈی اور آج سکھے چندر پرکاش چودھری شامل ہے۔ رگھورداس جھاڑ کھنڈ کے دسویں وزیراعلی ہے۔ بھاجپا نے جھاڑ کھنڈ غیر قبائلی لیڈر رگھورداس کو وزیراعلی بنا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ گھسی پیٹھی راہ پر چلنے پر نہیں بلکہ وہ روایت کو توڑنے میں یقین رکھتی ہے اس سے پہلے ہریانہ میں غیر جاٹ کو وزیراعلی بنا کر وہ اس نظریہ کا ثبوت دے چکی ہیں۔ جب جھاڑ کھنڈ بنا تھا تو تب بھی بھاجپا نے ہی سرکار بنائی تھی گزرے چودہ سالوں میں زیادہ تر وقت بھاجپائی ہی اقتدار میں رہی ۔ باپو لال مرانڈی اور ارجند منڈا وزیراعلی رہے۔ قبائلی اکثریتی ریاست میں یہ ایک فطری معجزہ ہے جب پارٹی نے غیرقبائلی نے لیڈر کو رگھورداس کو وزیراعلی کی شکل میں ریاست کی کرسی پر بیٹھایا ہے۔ ٹاٹا اسٹیل کارخانے میں مزدور والد کے مزدور لڑکے کی شکل میں ا پنی زندگی کی پریشانیاں دیکھ چکے رگھورداس ریاست کو درپیش پریشانیوں کو سمجھتے ہیں۔ پارٹی کے ضلع سطح کے ورکر سے لے کر دو مرتبہ پردیش پردھان اور نئے وزیراعلی کی حیثیت سے ان کے پاس تنظیم اور انتظامیہ کا چلانے کا وسیع تجربہ ہے لہذا چیلنجوں سے نمٹنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ حالانکہ ریاست میں بی جے پی نے اپنے بل بوتے اکثریت نہیں پائی ہے اور سرکار چلانے کے لئے وہ آل جھاڑ کھنڈشبھو سورن کی حمایت پر منحصر رہے گی۔ اس کے باوجود رگھورداس جھاڑ کھنڈ کے پہلے وزیراعلی ہوں گے۔ جن کے سامنے کمزور حکومت جیسی حکومت چنوتی نہ ہوگی اور نہ اندر خانے اتنی رسہ کشی کااندیشہ۔ لیکن وزیراعلی کاعہدہ ان کے لئے پھولوں کی سیج پر نہیں ہوگی۔ یہ صرف غیرقبائلی ہونے کے سبب نہیں بلکہ سب سے زیادہ اس لئے کہ مرکز میں اپنی ہی پارٹی کی اکثریتی حکومت ہونے کی وجہ اپنی ناکامی کے لئے وہ کسی کو الزام نہیں دے پائیں گے۔غیرقبائلی وزیراعلی کی شکل میں ان کا کام کاج ایسا ہو کہ قبائلیوں کو یہ محسوس کرنے کا موقعہ نہ ملے کہ ان کی برادری کاوزیراعلی نہیں بنا اس کے لئے پسماندہ جھاڑ کھنڈ انتہائی پس ماندہ قبائلی فرقے کی بھرپور ترقی کے ساتھ ان سے رشتے بنائے رکھنا ایک چنوتی ہوگی۔ بڑھتی نکسلی کا مسئلہ دوسرا بڑا چیلنج بھی اسی سے جڑا ہوا ہے۔ جھاڑ کھنڈ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں تعلیم، روزگار، سینچائی ، خواتین کی بہبود اور قبائلیوں کی بہتری اور نکسلیوں جیسے کئی خاتمہ اشو پر بنیادی کام کرنا ہوگا۔قریب ڈیڑھ ڈھائی نو وزیراعلی اور تین بار صدر راج دیکھ چکے جھاڑ کھنڈ ریاست کرپشن سے عاجز آچکی ہے اورنئی ابتدا کی امید اس لئے ہے کہ وہ عوام میں سیاست دانوں کو ہٹا کر بھاجپا کو ایک موقع دیا ہے۔ دیکھیں! جھاڑ کھنڈ کے نئے وزیراعلی کے سامنے بدعنوانی سے پاک ترقی کے ساتھ ساتھ قبائلیوں پسماندہ لوگوں کی ترقی اور ان کو مکھیہ دھارا میں لانے کا بھی رگھورداس کو کرنا ہوگا۔ شری رگھورداس مکھیہ منتری بننے پر بدھائی۔

 (انل نریندر)

انڈین مجاہدین کے نشانے پر راجستھان

خطرناک دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے راجستھان کی سرزمین کو سلسلے وار دھماکوں سے دہلا نے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے بعد ریاست بھر میں مکمل چوکسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ راجستھان کے وزیرداخلہ گلاب چند کٹاریاں سمیت 16 وزراء کو ملے دھمکی بھرے ای میل کے بعد ڈائریکٹر جنرل پولیس یوگیندر بھاردواج نے اے ٹی ایس اور خفیہ مشینی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ خاص میٹنگ کرکے ریاست میں سیکورٹی سسٹم کو مزید چوکس کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈی جی پی گوگل اور این آئی اے کے مشتبہ افراد کی تلاش میں انٹر پول سے بھی رابطہ قائم کرنے کو کہا ہے۔ غور طلب ہے انڈین مجاہدین نے راجستھان کی راجدھانی جے پور سمیت کئی اضلاع میں سلیپر سیل کی شکل میں دہشت گردوں کی فوج کھڑی کی تھی۔ درندے ریگی کر ریاست میں دھماکوں کا منصوبہ بناچکے تھے۔ مگر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کو ملی اطلاع پر اے ٹی ایس پر راجستھان نے پل رہی دہشت گردوں کی فوج کو دبوچ کر ان کی کمر توڑ دی تھی۔ قریب 6ماہ پہلے سیکورٹی ایجنسیوں نے جے پور، سیکر، اجمیر ، چودھپور میں آئی ایم کے تقریبا 16 گروگوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان سے پوچھ تاچھ سے ہوئے منصوبوں کی بنیاد پر ریاست میں حفاظتی انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔ راجدھانی کے مذہبی مقامات ، ریلوں اسٹیشنوں، بس اڈے ، بڑے مال اور مشہور اسکول ، اور ہوائی اڈے کے علاوہ حفاظت سخت کردی گئی ہے۔ ہوٹلوں، دھرمشالوں اور سرائے میں گہری تلاشی کارروائی شروع کر مشتبہ افراد پر سی سی ٹی وی کیمروں سے نظر رکھی جارہی ہے۔ انگریزی زبان میں ملے ای میل کے ہندی میں لکھا ہے پیارے دوستوں، ہم انڈین مجاہدین ہے ہم آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ ہم آپ کو بڑے بینک، سرپرائز دینے والے ہیں آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد کیا ہے اس لئے آپ جو اچھا کرسکتے ہوں کرلو۔ ہم آپ کھلی وارننگ دیتے ہیں کی ہمارا ایکشن راجستھان میں کئی مقامات پر ہوگا۔ اگر اس کو روک سکتے ہو تو روک لو۔ ہماری یہ کارروائی 26 جنوری 1915کو ہونی ہے۔اطلاع بذریعہ آئی ایم۔ ڈی جی پی یوگیندر بھاردواج میں ریاست کے شہریوں کو فکر مند نہ ہونے کی نصیحت دیتے ہوئے سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے میل کو افواہ پھیلانے کے نظریے سے دیکھتے ہوئے اس کو شرارتی عناصر کی سازش بتایا ہے ڈی جی پی کے مطابق میل سے پہلے بھی آتنک وادیوں کو گڑ بڑی پھیلانے کی خبریں مل چکی ہے۔ آتنک وادیوں کے دھماکے کرنے کی تاریخ او رمقامات کا صاف پتہ نہیں چلتا۔ پولیس کے علاوہ اے ٹی ایس ، پی ڈی ایس سی آئی ڈی اور آئی بی سمیت دیگر خفیہ مشینی سرگرم ہوگئی ہے۔ سرحد پار سے آنے جانے والے فون کالوں کے علاوہ سیٹیلائٹ فون رکھنے والوں کو بھی لا آرڈر پر لے کر جانچ میں جٹی ہے۔ اس بیچ وزیراعلی وسندھرا راجے کی سیکورٹی بڑھاتے ہوئے سیکریٹری ایٹ پر بھی بھاری حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ا مید کرتے ہیں کہ یہ آتنکی اور دہشت گردی کا منصوبہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2014

پچھلے14 مہینوں میں 12 چناؤ میں ہاری اور یہ سلسلہ تھم نہیں رہا!

یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے جتنی تیزی سے بھاجپا آگے بڑھ رہی ہے اس سے دوگنی رفتار سے کانگریس زوال پذیر ہورہی ہے۔ اتنی پرانی پارٹی کی یہ حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ پچھلے14 مہینوں میں کانگریس نے 12 ریاستوں میں مسلسل ایک کے بعد دیگر چناؤ ہارے ہیں۔ اپنی 129 سال کی تاریخ میں ایسی ناکامی اور مسلسل گرتا سیاسی گراف پہلے کبھی کانگریس نے نہیں دیکھا تھا۔ جھارکھنڈ ۔کشمیرکی ہار کے بعد جہاں پہلے وہ سرکار میں ہواکرتی تھی اب اس سے بھی بے دخل ہوگئی ہے۔ کانگریس کے پاس صرف9 ریاستیں ہی بچی ہیں۔ ان میں بھی شمال مشرق میں پانچ اور شمالی ہندوستان میں دو یعنی ہماچل اور اتراکھنڈ اور 2کرناٹک اور کیرل میں باقی ریاستی بچی ہیں۔ وہ جن ریاستوں میں چناؤ ہاری ہے ان میں زیادہ تر وہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کھسک گئی ہے۔ دوسری طرف اب بھاجپا کے پاس 11 ریاستوں میں اقتدار آگیا ہے۔ان میں آندھرا پردیش ، پنجاب میں وہ اتحادی پارٹی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کا مظاہرہ اس کی اب تک کی تاریخ میں سب سے خراب رہا اور وہ 44 سیٹوں پر ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ اس کے بعد اس نے مہاراشٹر ، ہریانہ میں اقتدار گنوایا۔ دونوں ریاستوں میں وہ تیسرے نمبر پر رہی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ اقتدار میں رہی کانگریس اب اس ریاست میں چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔ یہاں اسے محض6 سیٹیں ملیں جو علاقائی پارٹی جھارکھنڈ وکاس مورچہ سے بھی کم ہے۔ جھارکھنڈ وکاس مورچہ کو 8 سیٹیں ملیں جبکہ آرجے ڈی اور جنتا دل (یو) کے ساتھ مل کر وہ چناؤ لڑی تھی۔ وہیں جموں و کشمیر کی بات کریں تو یہاں بھی کانگریس پانچ سال تک اقتدار میں سانجھے دار رہی لیکن نتائج میں چوتھے نمبر پر رہی۔ پچھلے 14 مہینوں میں کانگریس 12 چناؤ ہاری ہے۔یہ ریاستیں ہیں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، سکم، آندھرا پردیش، تلنگانہ، اڑیسہ، جموں و کشمیر، جارکھنڈ۔ بھاجپا کے پاس ابھی تک 11 ریاستیں ہیں جس میں گوا سب سے چھوٹی ریاست ہے باقی سب بڑی ریاستیں ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ کانگریس اعلی کمان نے کبھی بھی اس ہار کے اسباب کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس کا محاسبہ کیا۔ نہ تو سونیا گاندھی نے ہار کے اسباب جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے صاحبزادے راہل گاندھی نے۔ الٹا انہوں نے تو اپنا غصہ پارٹی کے جنرل سکریٹریوں پر ہی اتاردیا۔جموں وکشمیر اور جھارکھنڈ میں ملی زبردست شکست کا جائزہ لینے کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں راہل پارٹی کے حکمت عملی سازوں پر بھڑک گئے۔ 12 تغلق لین میں اپنی رہائش گاہ پر بلائی گئی اس میٹنگ میں پہلی بار راہل اپنے جنرل سکریٹریوں سے ناراض دکھائی دئے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق راہل نے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محنت کی ہوتی تو ان دونوں ریاستوں میں نتیجے مختلف ہوتے۔ ایک سوال کے جواب میں ناراض راہل گاندھی نے ان حکمت عملی سازوں پر نکتہ چینی کی جنہوں نے چناؤ کے دوران کانگریس کی حالت بیحد خراب ہونے کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔ راہل گاندھی نے میڈیا شعبے کا کام کاج دیکھ رہے پارٹی جنرل سکریٹری اجے ماکن کی طرف بھی مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ کیا وجہ ہے پارٹی کے ذریعے پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک مودی سرکار کے خلاف جارحانہ مہم چھیڑنے کا اثر عام آدمی تک نہیں پہنچ پایا۔ انہوں نے کہا پچھلے 7 مہینے میں مودی سرکار نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کو سراہا جائے الٹے تبدیلی مذہب مشن کے چلتے ان کی بھاری بدنامی ہوئی، پھر کیا وجہ ہے کہ مودی کی مقبولیت ابھی بھی برقرار ہے؟ ہم (کانگریس) کے لوگ اپنی بات آخر جنتا تک پہنچانے میں کیوں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں؟ راہل نے تجویز رکھی کہ پارٹی عہدیداران بنیادی سطح کے پروگراموں سے جڑیں اور ان کی باتیں اور تجاویز سنیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ عام جنتا کانگریس سے کیا امیدیں رکھتی ہے؟ اور کانگریس کی مقبولیت کا گراف کیوں گرتا جارہا ہے؟ کانگریس لیڈر شپ بیشک اپنے عہدیداران کو کوسے لیکن اصل مسئلہ تو لیڈرشپ کا ہے۔ کانگریس آج بے قیادت لگتی ہے۔ یہ بات کون راہل۔ سونیا گاندھی کو سمجھائے۔
(انل نریندر)

دہلی اسمبلی چناؤ میں مودی اور شاہ کی اگنی پریکشا ہوگی؟

جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے بعد بھارتیہ جنتاپارٹی کی نظریں اب دہلی اسمبلی چناؤ پر لگی ہیں۔ 16 سال بعد دہلی کے اقتدار پر دوبارہ واپسی ہونے کو پارٹی بڑا چیلنج مان کر چل رہی ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی کے لئے ایک اگنی پریکشا سے کم نہیں ہے۔ بقول پارٹی صدر امت شاہ دہلی میں بھاجپا کی کڑی پریکشا ہونی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی طرح کی چوک سے بچنے کے لئے بھاجپا پردھان امت شاہ چناوی حکمت عملی کی باگ ڈور پوری طرح سے اپنے ہاتھ میں رکھنے والے ہیں۔آنے والے دنوں میں دہلی چناؤ کو لیکر کئی اہم قدم اٹھائے جائیں گے۔ جس میں16 برسوں کے بعد دہلی میں پھر سے بھاجپا کی واپسی ہوسکے۔ جھارکھنڈ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر میں بھی اکثریت کا نمبر جٹانے کیلئے پارٹی پوری کوشش میں لگی ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے بعد اب امت شاہ کی پوری توجہ دہلی اسمبلی چناؤ پر مرکوز ہے۔ ذرائع کی مانیں تو امت شاہ عام آدمی پارٹی کو ہلکے میں لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ حال ہی میں سامنے آئے کچھ سروے نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دہلی میں وزیر اعلی کے طور پر اروند کیجریوال لوگوں کی سب سے زیادہ پسند ہیں۔ حالانکہ ان میں بھی بھاجپا کی جیت کی بات کہی گئی ہے لیکن پارٹی کسی طرح کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔جمعرات کے دن امت شاہ نے پارٹی کے پردیش دفتر کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں سینئر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی۔ دہلی اسمبلی میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے لئے پارٹی کو پوری طرح سے جارحانہ کمپین میں لگ جانے کی صلاح دی۔ پارٹی کے لیڈروں کے بیانوں سے صاف لگتا ہے کہ پارٹی دہلی اسمبلی چناؤ کو لیکر پورے جوش میں دکھائی دیتی ہے جبکہ پارٹی کے کچھ سینئر لیڈر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی ارجن سنگھ منڈا کی ہار نے پارٹی کو ایک ایسا صاف پیغام دے دیا ہے کہ اب ہر نیتا صرف نریند ر مودی کے بھروسے چناؤ نہیں جیت سکتا۔ پھر دہلی کی حالت جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر سے بالکل الگ ہے۔ دہلی میں بجلی ،پانی، لا اینڈ آرڈر جیسے برننگ اشو ہیں جن کو کیجریوال پوری طرح سے بھنانے میں لگے ہیں۔ ادھر کانگریس بھی یہ ہی امید کررہی ہے کہ شاید دہلی سے پارٹی کی گھر واپسی ہوگی۔ بیشک نریندر مودی کی مقبولیت ابھی بھی ہے لیکن یہ گھٹ رہی ہے۔ اکیلے مودی لہر پر پارٹی دہلی اسمبلی چناؤ نہیں جیت سکتی۔پھر بھاجپا یہ بھی نہیں بتا رہی ہے اگر وہ کامیاب ہوئی تو اس کا وزیراعلی کون ہوگا؟ اس کے فائدے بھی ہیں نقصان بھی۔ بغیر وزیر اعلی اعلان کر چناؤ لڑنا مودی ۔امت شاہ کی نئی تھیوری ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ کی آہٹ شروع ہوچکی ہے چیف الیکشن کمشنر نے بدھ کودہلی کے چیف الیکٹرول افسر اور ضلعوں کے چناؤ افسران اور پولیس کے اعلی افسروں کے ساتھ میٹنگ کی اور چناؤ سے متعلق سبھی اشوز پر تبادلہ خیالات کئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ فروری2015 میں ہو سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2014

آسام میں نہ رکتا دہشت گردانہ تشدد!

ہم نے دیکھا ہے کہ عام طور پر جب ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو ہم ان جہادی گروپوں لشکر طیبہ،جیش محمد اور القاعدہ کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں ان کے ذریعے آتنکی حملوں کی بات کرتے ہیں لیکن دیش کے اندر بھی ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں لیکن ان کا زیادہ ذکر نہیں ہوتا۔ ایسی ہی ایک تنظیم ہے الفا۔ آسام میں اشتعال انگیزی اور حملوں کا سلسلہ تھوڑے بہت اتار چڑھاؤ کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 2014 ء کے جاتے جاتے دہشت گردوں نے آسام کے سونی پور اور کوکرا جھار اضلاع میں بھیانک قتل عام کرکے اپنی خونی حرکتوں کو درج کرادیا ہے۔ بوڈو دہشت گردوں نے دور دراز کے آدی واسی دیہات کو نشانہ بنایا ہے۔ مارے گئے لوگوں میں کافی بچے اور عورتیں ہیں۔ غصے میں بھرے آدی واسیوں نے پانچ بوڈو خاندانوں پر بدلہ لینے کیلئے حملہ کردیا۔ اس قتل عام میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور20 گھر جلا ڈالے۔ اس قتل عام کے پیچھے بوڈو دہشت گردوں کی تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ ہے جسے ہم مخفف میں این ڈی ایف کے نام سے جانتے ہیں، کا ہاتھ ہے۔ یہ قتل عام بتاتا ہے کہ بھارت کے دور دراز سرحدی علاقوں میں مقیم لوگ چٹ پٹ تشدد اور شورش کو جھیل رہے ہیں۔ الفا کے کئی عہدیداران کی گرفتاری اور پھر اس کے چیف کے امن عمل میں شامل ہونے کے بعد سے یہ مانا جارہا ہے کہ آسام کو دہشت گردانہ تشدد سے کافی حد تک نجات مل گئی ہے مگر اس رائے پر ایک بار پھر سے سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دراصل چاہے الفا ہو یا این ڈی ایف بی ہو ان کے جیسے گروپ جو امن معاہدوں میں شامل نہیں ہوئے اب بھی ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں جب تب موقعہ ملتا ہے وہ قتل اور دھماکوں کو انجام دیتے رہتے ہیں۔ کبھی ان کے نشانے پر سکیورٹی جوان ہوتے ہیں تو کبھی عام لوگ۔ آسام کے وزیر اعلی ترون گگوئی نے ان حملوں کو بربریت آمیز قرار دیا ہے۔ این ڈی ایف بی بوڈو علیحدگی پسندوں کی سب سے بڑی مشتعل تنظیم ہے جس سے سرکار کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ آزاد بوڈو لینڈ سے کم بات پر سمجھوتے کو تیار نہیں ہیں۔ این ڈی ایف بی میں دو گروپ ہیں ان میں سے ایک سرکار سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا تو دوسرا گروپ بات چیت کے حق میں ہے۔ جس گروپ نے یہ قتل عام انجام دیا ہے وہ بنیادی طور سے این ڈی ایف بھی کی مسلح یونٹ بوڈو لینڈ آرمی کے سابق چیئرمین سنگپجیت کا گروپ ہے۔ نارتھ ایسٹ کی دہشت گرد تنظیم اپنی موجودگی درج کرانے یا اپنا دبدبہ بڑھانے کے لئے اس طرح کے قتل عام کو انجام دیتی رہتی ہیں۔ ان کے اس کاروبار کا خمیازہ عام شہری بھگتے ہیں۔ نارتھ ایسٹ کا اگر ڈولپمنٹ نہیں ہوا تو اس کے پیچھے ایک وجہ ان تنظیموں کی تشدد آمیز سرگرمیاں ہیں۔ مقامی سیاستداں اپنی سیاست چلانے کیلئے ان گروپوں کا سہارا لینے سے نہیں ہچکچاتے۔ نارتھ ایسٹ کا مسئلہ اتنا سنگین بھی نہیں ہے جتنا بنا دیا گیا ہے۔ اگر ایمانداری سے ان مسئلوں کو سلجھا لیا جائے اور ترقی پر توجہ دی جائے تو وہاں امن قائم ہوسکتا ہے لیکن پہلے قومی دھارا کے بھارت کو نارتھ ایسٹ کے لوگوں سے ذہنی طور پر دوری بنا کر ان کی بات سننی ہوگی۔ تبھی وزیر اعظم نریندر مودی نے نارتھ ایسٹ میں امن قائم کرنے کی سمت میں کچھ قدم اٹھائے ہیں۔ دیکھیں وہ مستقبل قریب میں کتنے کارگر ثابت ہوتے ہیں اور آسام کی عوام کو امن کا دور مل سکتا ہے؟
(انل نریندر)

درجہ حرارت صفر تک گرا کہرے سے تھم گئی زندگی!

راجدھانی دہلی میں سردی نے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ پیر کے روز نہ صرف کم از کم درجہ حرارت پچھلے پانچ برسوں کے سب سے نچلے سطح پر پہنچ گیا بلکہ راجدھانی میں سب سے ٹھنڈے دن کی شروعات ہوگئی۔راجدھانی میں پیر کو شملہ کے مقابلے سب سے زیادہ سردی تھی۔ دہلی میں درجہ حرارت4.2 ڈگری تک پہنچ گیا تھا جبکہ شملہ میں6.2 رہا۔ کبھی کسی نے سوچا نہ تھا کہ پہاڑوں سے زیادہ میدانی علاقوں میں سردی پڑے گی۔ گھنے کہرے سے دہلی میں ٹریفک ٹھپ ہوا۔ اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایئرپورٹ سے قریب20 پروازیں روانہ نہ ہوسکیں اور50 ٹرینیں 12-18 گھنٹے تک لیٹ ہوئیں۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ کے بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری جاری ہے۔ پہلگام میں درجہ حرارت-3.6 ڈگری سیلسیس پر ہے۔ہمالیہ کے کالپا میں درجہ حرارت -0.1 ڈگری سیلسیس پر رہا۔ اترپردیش میں 24 گھنٹے کے اندر21 لوگوں کی جانیں سردی سے گئیں۔ بنارس ،میرٹھ، الہ آباد، گورکھپور میں رات کا درجہ حرارت صفر تک پہنچ گیا ہے۔ پرتاپ گڑھ ضلع میں سب سے زیادہ کم درجہ حرارت2.2 ڈگری سیلسیس تک ریکارڈ کیا گیا۔ راجدھانی میں پڑ رہی کڑاکے کی سردی نے بدھوار کو اپنا پچھلا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ منگلوار کے مقابلے میں بدھوار کو زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت بسلسلہ ایک ایک ڈگری سیلسیس کی گرواٹ آئی اور کہرہ چھایا رہا اس کی وجہ سے یمنا ایکسپریس وے میں اب تک کا سب سے بڑا حادثہ رونما ہوا۔ یہاں پر ایک ساتھ 70 سے زیادہ گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے یہ سب سے بڑا حادثہ بن گیا۔ اب سے پہلے کہرے کے چلتے یمنا ایکسپریس وے پر پچھلے 22 سال اور نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور ایکسپریس وے پر چار سال پہلے25 گاڑیاں ٹکرائی تھیں۔ بدھوار کو ہوئے حادثے میں سب سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے اور کئی موتیں بھی ہیں۔حادثے کے لئے کہرے کے ساتھ ڈرائیوروں کی لاپروائی بھی ذمہ دار ہے۔دھند کی وجہ سے30 سے50 میٹر تک کوئی چیز دکھائی نہیں دی لیکن کئی لوگ100 سے زیادہ کی رفتار سے چل رہے تھے۔ قریب صبح ساڑھے آٹھ بجے زیرو پوائنٹ سے 24 کلومیٹر دور ٹول پاس پر ایک کے بعد ایک 70 گاڑیاں ٹکراتی گئیں۔ حادثے میں بی ایچ ایل کے جنرل منیجر اور ڈپٹی منیجر کی موت ہوگئی۔ کئی غیر ملکی سیاحوں سمیت 22 لوگ زخمی ہوئے۔ الزام یہ ہے پولیس ملازمین نے وصولی کے لئے ایک ٹرک کو رکنے کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد ڈرائیور نے اچانک بریک لگادیا اور گھنے کہرے میں گاڑیاں ٹکراتی چلی گئیں۔ این سی آر سمیت شمالی بھارت میں کڑاکے کی سردی سے ابھی تک کوئی راحت ملتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ این سی آر میں ہنڈن کا درجہ حرارت تو 2.3 ڈگری تک سردی بڑھنے کی پیشگوئی محکمہ موسمیات نے کردی ہے۔ اگلے تین دن میں درجہ حرارت کم ازکم 2.3 ڈگری تک اور گرے گا۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2014

بھارت کے سب سے کرشمائی لیڈر اٹل بہاری واجپئی!

شری اٹل بہاری واجپئی صاحب کو بھارت رتن دئے جانے سے جتنی خوشی ہمیں ہورہی ہے اس کو ہم لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔ اٹل جی ہمارے ہمیشہ قریب رہے ہیں۔ سبھی کو معلوم ہے کہ شری اٹل بہاری واجپئی دینک ویرارجن کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اٹل جی کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ وہ انسانی ہمدردی کی علامت ہیں کیونکہ وہ ایک عمدہ ہندی شاعر بھی ہیں۔ سیاستدانوں کی خوبیوں اور خامیوں سے آراستہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی کسی بھی پارٹی سے شخصی طور پر مخالفت نہیں کی اور مخالفت کرنے کا بھی ان کا اپنا انداز ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک تلخ آرٹیکل لکھاتھا جس کا عنوان تھا ’’دیش کوا ٹل جی چلا رہے ہیں یا برجیش مشرا؟‘‘ اٹل جی نے فوراً مجھے فون کیا اور کہا ایڈیٹرصاحب دیش کون چلارہا ہے؟ اور پھر مسکرادئے۔ یہ تھا ان کا احتجاج کرنے کاطریقہ۔ میری نظر میں اٹل جی بھارت کے سب سے اچھے وزرائے اعظم میں سے ایک تھے۔ پوکھرن 2- ایٹمی تجربہ جب ہونا تھا تو امریکہ سمیت کچھ ملکوں نے اس کی جم کر مخالفت کی تھی۔ مگر انہوں نے ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنیوکلیائی تجربہ کرڈالا۔ جب نیوکلیائی تجربہ ہوگیا تو امریکہ کی رہنمائی میں اس کے پچھل پنگو ملکوں نے بھارت پر اقتصادی پابندیاں اور اقتصادی بندشیں لگادیں۔ ان پابندیوں سے ہندوستان کی معیشت ڈگمگانے کا خطرہ تھا لیکن اٹل جی اس سے پریشان نہیں ہوئے اور انہوں نے تارکین وطن ہندوستانیوں سے دیش کی مدد کرنے کی اپیل کی۔اس اپیل کا اثر یہ ہوا کروڑوں ڈالر این آر آئی نے اکٹھا کرکے ہندوستان کو بھیج دئے۔ اس سے ہندوستان کی معیشت کو نقصان نہیں ہوا۔ تارکین وطن ہندوستانیوں کی کانفرنس کا آغاز اٹل جی نے ہی کیا تھا جو آج تک ہوتی آرہی ہے۔ 2004 میں اٹل جی کی حکومت پیداوار شرح 6.5 فیصدی تک لے آئی تھی اورمہنگائی بھی صرف 3.5 فیصدی تک آگئی تھی۔ اس کے بعد یہ بڑھتی ہیں گئی اور پھر کبھی یہ پیداوار شرح و مہنگائی اتنی آگے نہیں بڑھ سکی۔ اٹل جی ایک اصلاح پسند لیڈر ہیں جب جنتا پارٹی کی سرکار میں وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے تو انہوں نے پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے پاکستان کا ویزا آسان کردیا تھا۔ اس سے ہندوستانیوں کو پاکستان جانے میں آسانی ہوگئی تھی۔پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے مقصد سے وہ لاہور بس میں گئے لیکن مشرف نے ہندوستان کی پیٹھ میں خنجر گھومپ پر کارگل جنگ کرادی۔ مجھے اٹل جی کے ساتھ اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کیلئے امریکہ جانے کا موقعہ ملا۔ یہ دورہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اقوام متحدہ میں جب اٹل جی ہندی میں تقریر کی تو ان کا طرز انداز دیکھ کر سبھی موجود نمائندے اور سربراہ مملکت خوش ہوگئے۔اٹل جی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ہندوستانیوں کو عرب ممالک میں جانے سہولت ملی ۔ اس سے لاکھوں ہندوستانی عرب ممالک میں گئے، وہاں نوکریاں پائیں اور پیسہ بھیجنا شروع کردیا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔بھارت کے سب سے کرشمائی لیڈروں میں اٹل بہاری واجپئی شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے دیش کو سیاسی پلیٹ فارم پر ایک ایسی شخصیت والے لیڈر کی شکل میں ان کا احترام کیا جاتا ہے جن کی وسیع سطح پر کافی پہنچ ہے اور انہوں نے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے90 کی دہائی میں سیاست کے اہم اسٹیج پر بھاجپا کو مضبوط کرنے میں اہم رول نبھایا۔ویر ارجن پر اٹل جی نے نمایاں چھاپ چھوڑی ہے۔ ویر ارجن کے اداریہ پیج پر سب سے اوپر سنسکرت کا یہ مقولہ لکھا جاتا ہے ’’ارجنسے پرتگیہ ہے، نہ دینیہ نہ پلائنمو‘‘ اٹل جی لوک سبھا میں اپنا استعفیٰ دینے سے پہلے آخری بار یہ مقولہ پڑھ کر استعفیٰ دینے راشٹرپتی بھون چل دئے۔ ہم نے اس مقولہ کو اپنالیا اور ویر ارجن کے ادارتی صفحہ پر سب سے اوپر لکھ کر انہیں کہ راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ اٹل جی کو بھارت رتن دینے سے اپنے آپ کو بھی بہت قابل فخر محسوس کررہے ہیں۔ اٹل جی کو روزنامہ پرتاپ، دینک ویر ارجن اور ساندھیہ ویر ارجن کی جانب سے بہت بہت مبارکباد۔
(انل نریندر)

ڈیرے کے’’ میسنجر آف گاڈ‘‘ فلم پر چھڑا تنازعہ!

ہریانہ کے سرسہ کے متنازعہ ڈیرہ سچا سودا کے پیشوا گورمیت رام رحیم سنگھ ایک بار پھر تنازعات میں گھر گئے ہیں۔اگلے ماہ ریلیز ہونے والی ان پر بنی فلم پر بہت سی سکھ انجمنوں نے پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ 16 جنوری2015ء کو ریلیز ہونے والی ’’میسنجر آف گاڈ‘‘ کو لیکر سکھوں کی کچھ جتھے بندھیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فلم کو پنجاب میں نہیں چلنے دیں گے۔ آل انڈیا سکھ اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے پردھان کرنیل سنگھ پیر محمد نے امرتسر میں پریس کانفرنس کرکے پوچھا کہ فلم بنانے کیلئے بابے نے کہاں سے پیسہ لیا۔ اس کے علاوہ اکالی دل امرتسر کے پردھان سمرجیت سنگھ مان نے کہا کہ سینسر بورڈ اس فلم کو دیش بھر میں پابندی عائد کرے کیونکہ اس میں گوروبانی کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔رام رحیم سکھوں کو بدنام کررہے ہیں۔ مان نے کہا اس کے پیچھے آر ایس ایس بھی ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی خود ان کے ڈیرے پر آئے تھے۔ حالانکہ دمدمی ٹکسال کے چیف ہرنام سنگھ گھوما نے کچھ کہنے سے منع کردیا۔ سرسہ ڈیرہ کے چیف سنت گورمیت رام رحیم پر بنی فلم میں سنت نے ہیرو کا رول خود نبھایا ہے۔ 60 دن میں بنی اس فلم میں گانے بھی رام رحیم نے ہی گائے ہیں۔سنت نے اپنے سرسہ ڈیرے کے علاوہ پالم پور میں بھی شوٹنگ کی ہے۔ اکالی دل نے اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔ فلم کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ریاست کے وزیر تعلیم اور شرومنی اکالی دل کے ترجمان ڈاکٹر دلبیر سنگھ چیما نے کہا کہ ابھی اس اشو پر کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک فلم بازار میں نہیں آتی۔ اکال تخت کے چیف گوربچن سنگھ نے کہا کہ ڈیرا چیف پر قتل اور آبروریزی کا الزام ہے ان کی فلم سے لوگ گمراہ ہوسکتے ہیں۔ پنجاب سرکار سے اس فلم پر پابندی لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فلم سکھ ہندو اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ کرنیل سنگھ پیر محمد نے بھی مرکز اور ریاستی حکومت سے فلم کی ریلیز پر روک لگانے کوکہا ہے۔ پچھلے دنوں اکال تخت نے لوگوں سے ڈیرا چیف کے دھارمک سماگموں میں نہ جانے کی اپیل کی تھی اور سکھ انجمنوں کا فرض ہے کہ وہ اس فلم کو ریلیز نہ ہونے دیں۔ اکال تخت نے سرسہ کے ڈیرا چیف گورمیت رام رحیم کے ذریعے مبینہ طور پر سکھوں کے 10 ویں گورو گوبند سنگھ کا بھیس اپنائے جانے پر بھی اعتراض جتایا تھا جس کے بعد پنجاب میں سکھوں اور ڈیرا حمایتیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس فلم سے ایک بار پھر اکالیوں اور ڈیرا حمایتیوں میں کشیدگی بڑھے گی اور خون خرابہ ہوگا۔ دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں کے لئے یہ چیلنج ہوگا کہ فلم ریلیز ہونے سے پہلے اور بعد میں قانون و نظام نہ خراب ہو ۔اس فلم کے ہیرو اور ہدایتکار، موسیقار گورمیت رام رحیم خود ہی ہیں۔ فلم کا ٹریلر سوشل میڈیا پر آچکا ہے۔ ڈیرا کے ماننے والوں کا دعوی ہے ملک و بیرون ملک میں ان کے پانچ کروڑ حمایتی ہیں۔ ہریانہ میں ان کے 25 لاکھ ماننے والے ہیں۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2014

جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے چناؤ نتائج کیا اشارہ دیتے ہیں؟

جموں وکشمیر اور جھارکھنڈ اسمبلی چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے رتھ پر سوار ہوکر اب تک کی سب سے شاندار پرفارمینس کا مظاہرہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نہ صرف دوسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے بلکہ ووٹ شرح کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ اس چناؤ میں اسے 23 فیصدی ووٹ ملے جبکہ پچھلی بار پارٹی نے 11 سیٹیں جیتی تھیں جو اس بار دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔ پارٹی کے لئے مشن44 بھلے ہی نمبروں میں پورا نہیں ہوپایا لیکن جموں و کشمیر میں پارٹی کا ابھرنا یقینی طور سے یہاں کی سیاست میں ایک نیاموڑ مانا جارہا ہے۔ حالانکہ کشمیر وادی میں بی جے پی کھاتہ نہیں کھول پائی لیکن اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیابی ضرور ملی۔ پارٹی دو فیصدی ووٹ لیکر باقی بھارت اور پاکستان حمایتی علیحدگی پسندوں کو ایک پیغام دینے میں ضرور کامیاب رہی۔ علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کی اپیل تبدیلی مذہب جیسے اشو نے پارٹی کی ووٹنگ پر اثر ڈالا ہے۔ دوسری طرف جھارکھنڈ کی بات کریں تو اس ریاست میں بی جے پی کی اگلی سرکار بننے جارہی ہے۔ ریاست کے قیام کے ڈیڑھ دہائی بعد پہلی بار ایسا موقعہ آیا ہے کہ چناؤ سے پہلے اتحاد کی ریاست میں اکثریتی حکومت ہوگی۔عدم استحکام کے سبب جھارکھنڈ نے سیاسی زوال کے کئی دور دیکھے ہیں۔ بی جے پی باقاعدہ طور پر بدھوار کو جھارکھنڈ میں نئے وزیر اعلی کے نام کا اعلان کرے گی لیکن یہ لگتا ہے کہ اس بار پہلی بار غیر آدی واسی وزیر اعلی بنے۔ آدی واسی لیڈروں اور ریاست کے سابق وزرائے اعلی کی بات کریں تو ووٹروں نے ان سرکردہ لیڈروں کو آئینہ ضرور دکھا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی ریاستوں کے وزرائے اعلی اپنی ممبری بچانے میں بھی بمشکل کامیاب رہے۔ جب وہ دو دو سیٹوں پر لڑے تھے۔
نیشنل کانفرنس کے چیئرمین اور چھ سال سے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی رہے عمر عبداللہ سرینگر ضلع کی سونوار سیٹ سے پی ڈی پی کے امیدوار اشفاق میر سے ہار گئے جبکہ بڈگام ضلع کی ویروا سیٹ پرایک ہزار ووٹوں سے جیت پائے۔ وہیں جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمت سورین بھی دمکا اور برہیٹ سیٹ سے لڑے لیکن کامیابی انہیں برہیٹ ہی میں ملی۔ پچھلی مرتبہ وہ دمکا سے کامیاب ہوئے تھے۔ ادھر ریاست کے پہلے وزیر اعلی اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے پردھان بابو لال مرانڈی گریڈی اور دھنوار دونوں سیٹوں پر ہارگئے۔ گریڈی میں بھاجپا کے نرمے شابکش نے انہیں ہرایا۔ اس کے علاوہ تین بار وزیر اعلی رہ چکے ارجن منڈا کی ہار نے بھاجپا کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ منڈا کو ریاست کے وزیر اعلی کے دعویداروں میں سب سے اوپر مانا جاتا تھا۔ جھارکھنڈ سے ہی ایک اور سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا کو بھی عوام نے مسترد کردیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی بیوی گیتا کوڑا مغربی سنگھ بھوم ضلع کی جگناتھ پور سیٹ سے جیت گئی ہیں۔ ویسے ان چناؤ سے کئی اشارے ضرور ملتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ نریندر مودی کا جادو لوک سبھا چناؤ جیسا اب نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر وادی میں بی جے پی کو لوک سبھا چناؤ سے بھی کم ووٹ ملے ہیں ، جھارکھنڈ میں بی جے پی کا دائرہ سمٹا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے دوران بی جے پی جھارکھنڈ میں اکیلے54 اور جموں و کشمیر میں26 سیٹوں پر آگے تھی۔ دوسری بات جو ابھر کر سامنے آئی ہے وہ ہے بی جے پی کو اتحادی کی سیاست پر پھر سے غور کرنا پڑسکتا ہے۔ 
مرکز میں اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف ہاتھ ملا رہی ہیں۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کے خلاف دو بڑی پارٹیاں ہاتھ ملا لیتیں تو تصویر بدل سکتی تھی۔ ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ملا۔ تیسرا مرکز کی مودی سرکار کیلئے اسمبلی چناؤ میں جیت راجیہ سبھا میں مضبوطی دے گی۔ اس ایوان میں پارٹی کے کمزور ہونے کی وجہ سے اقتصادی اصلاحات بل رکے پڑے ہیں۔ چوتھی بات اگلے سال دہلی اور بہار میں چناؤ ہونے ہیں ان نتیجوں کا اثر بھی پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کیلئے ہار کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس چوتھے نمبر پر رہی۔ کبھی یہ دیش میں سب سے زیادہ ریاستوں میں سب سے بڑی پارٹی بنی رہتی تھی۔ کانگریس کے لئے یہ چناؤ بھی ایک تباہ کن خواب کی طرح رہا۔ اب پارٹی کے اندر لیڈر شپ کو لیکر پھر سے سوال اٹھے گا۔ چناؤ نتیجوں نے دونوں ریاستوں کیلئے امکانات کے دروازے کھول دئے ہیں۔
لوک سبھا چناؤ کے دور سے ہی پارٹی عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے۔ جھارکھنڈ کو پہلی بار پائیدار حکومت کا احساس ہوگا۔حکمراں مخالف لہر میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کو بیشک اقتدار سے باہر کردیا ہو لیکن پارٹی کا یہاں صفایا نہیں ہوا۔ آدی واسیوں کا چہرہ مانے جانے والی یہ پارٹی ایک مضبوط اپوزیشن کی شکل میں نئی سرکار کے لئے زور دار طریقے سے نکیل کسنے کا رول نبھا سکتی ہے۔ کانگریس کی گراوٹ پر شاید کسی کو حیرت ہوئی ہو لیکن لالو اور نتیش کا اتحاد جس طرح یہاں مار کھاگیا وہ بہار کے ان دو سرکردہ لیڈروں کیلئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس ریاست میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ دہلی میں بھاری بھرکم ریلی میں لالو اینڈ کمپنی نے جو ہوا بنانے کی کوشش کی تھی اس پر ان چناؤ نتائج نے پانی پھیردیا ہے۔ سب سے بڑا معجزہ تو جموں و کشمیر میں دیکھنے کو ملا۔ جس بھاجپا کو آج تک اپنی موجودگی درج کرانے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی تھی وہ اچانک یہاں کے اقتدار کیلئے ایک مضبوط طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔ امت شاہ نے یہاں 44+ کی ایسی سیاسی چال چلی کہ چناؤ بائیکاٹ کی پاکستانی سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ووٹروں نے بے خوف اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا اور گولی کی جگہ ووٹ بھاری پڑا۔ یہ ہماری جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ بھی ہے اور ہمارے دشمنوں کے منہ پر کرارا طمانچہ بھی ہے۔ آخر میں ہمیں چناؤ کمیشن کو بدھائی دینی ہوگی کہ تشدد کاشکار ان دونوں ریاستوں میں وہ کامیابی سے چناؤ کروانے میں کامیاب رہے۔ بھارت کی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2014

ڈرگس ریکٹ میں مجیٹھیا کو سمن!

پنجاب میں ڈرگ ریکٹ زوروں سے پھل پھول رہا ہے۔وقتاً فوقتاً یہ تشویشناک خبریں آتی رہتی ہیں کہ پنجاب میں منشیات کا استعمال مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ پنجاب کے ایک کیبنٹ وزیر وکرم سنگھ مجیٹھیا کو ڈرگ دھندے سے جڑی منی لانڈرنگ کے معاملے میں جانچ کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پنجاب کے وزیر محصول مجیٹھیا کو ڈرگس اسمگلروں کے گوروہ کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ گھوٹالے میں 26 دسمبر کو پیش ہونے کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ مجیٹھیا بادل خاندان کے قریبی رشتے دار ہیں اورنائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل کے سالے اور مرکزی وزیر مملکت ہرسمرت کے بھائی ہیں۔ مرکزی وزارت مالیات کے ماتحت مالیاتی جانچ ایجنسی انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ میں شامل لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جس کو بے نقاب تارکین وطن ہندوستانی انوپ کہلو کی مدد سے مارچ2013ء میں فتح گڑھ صاحب تھانے میں کیا گیا۔اس کے بعد ہوئی جانچ میں پچھلے سال نومبر میں مبینہ سرغنہ جگدیش سنگھ بھولا کی گرفتاری ہوئی جو پنجاب پولیس کے معطل ڈی ایس پی ہیں۔ پولیس کو بیان دیا کہ پورا ڈرگ ریکٹ مجیٹھیا کی نگرانی میں چلتا ہے اور اس کی جانکاری پولیس کو بھی ہے۔ حالانکہ مجیٹھیا نے ان الزامات کو غلط بتایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مجیٹھیا سے پوچھ تاچھ کے لئے 50 سوالوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ مجیٹھیا نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے طلب کیا ہے۔ یہ بھی بتایا کہ ہو اس ریکٹ کے سامنے آنے کے دن ہی جانچ میں مدد دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے پنجاب کے نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل کی بیوی اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور کے چھوٹے بھائی وکرم سنگھ مجیٹھیا کا نام ڈرگ اسمگلروں کی اس فہرست میں تھا جسے سابق ڈی جی پی جیل ششی کانت نے وزیر اعلی کو سونپی تھی۔ اپوزیشن اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتی آرہی ہے لیکن ریاستی حکومت نے پولیس سے جانچ کراکر مجیٹھیا کو کلین چٹ دے دی تھی۔ مجیٹھیا کے حکمراں بادل پریوار سے انتہائی قریبی رشتے ہونے اور اتحادی بھاجپا کے ساتھ کشیدگی بھرے رشتوں کے چلتے پنجاب کی سیاست میں طوفان آسکتا ہے۔ شیو سینا کے ساتھ کچھ وقت پہلے ہوئی زور دار نوک جھونک کے بعد کیا بی جے پی اپنی ایک اور اتحادی پارٹی اکالی دل سے لڑنے کی حالت میں پہنچ رہی ہے؟ بی جے پی کے تیز طرار نیتا نوجوت سنگھ سدھو اور اکالیوں کے درمیان پہلے سے ہی ٹکراؤ چل رہا ہے۔ مجیٹھیا کو سمن کے پیچھے کچھ لوگ کافی دنوں سے لگے ہوئے ہیں۔ ان کی مانیں تو یہ بی جے پی اور اکالیوں کے درمیان خلیج بڑھانے کی شروعات ہے اس لئے مجیٹھیا سکھبیر کے سالے ہیں اور ہرسمرت کور کے چھوٹے بھائی ہیں یعنی جانچ کی دستک درپردہ طور پر بادل خاندان کے دروازے پر ہے۔6 ہزار کروڑ روپے کے اس ڈرگ ریکٹ میں مجیٹھیا کا ذرا سی بھی رول سامنے آتا ہے تو انہیں گدی چھوڑنے پڑ سکتی ہے اور اس سے بھاجپا اور بادل خاندان میں تلخی بڑھے گی۔
(انل نریندر)

ان ٹریفک جام کی وجہ سے وقت اور ایندھن کی بڑھتی بربادی!

دہلی میں ٹریفک جانچ کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے۔ کئی چوراہوں خاص کر آئی ٹی او چوراہے پر تو لال بتی 10 سے15 منٹ تک رہتی ہے۔ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ وقت کیلئے بنی رہتی ہے۔ کہیں بھی وقت پر پہنچنے کیلئے بہت پہلے سے نکلنا پڑتا ہے تاکہ وقت پر پہنچیں۔ راجدھانی کی سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسئلے سے نہ صرف وقت اور ایندھن کی بربادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ دھوئیں سے آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی آئی دہلی کی ایک ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ ٹریفک جانچ میں پھنسنے کی وجہ سے گاڑیوں کا تقریباً دو سے پانچ لاکھ لیٹر ڈیزل ۔پیٹرول ہر روز برباد ہورہا ہے۔ آئی ٹی آئی کے ٹرانسپورٹیشن اینڈ انجیری پریوینشن پروگرام (ڈرپ) کے تحت کئی گئی اس ریسرچ میں چونکانے والی بات سامنے آئی ہے۔ سائنس، تکنیکی اور میڈیکل لائن والے جریدے ایل ایس ویئر میں شائع ریسرچ میں سامنے آیا کہ جام کے سبب گاڑی اپنے سفر کا24 فیصد وقت 4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہی چل پاتے ہیں۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ راجدھانی کی سڑکوں پر ہر وقت تقریباً 10 لاکھ گاڑیاں دوڑتی رہتی ہیں۔ ان میں بس، کار کے علاوہ ٹووہیلر اور آٹو رکشا وغیرہ بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد80 لاکھ سے زیادہ پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد ممبئی، کولکتہ، چنئی سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ7 لاکھ گاڑیاں ایسی ہیں جو سال 2010ء سے آلودگی کنٹرول کی باقاعدہ جانچ کر اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کررہی تھیں جس سے ٹریفک جام کے صحیح اثر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔اسٹڈی میں مزید بتایا گیا کہ دہلی کی سڑکوں پر 4.4 سے 4.7 سال تک کی اوسط عمر والی کار اور بائیکل چل رہی ہیں جبکہ 17فیصدٹرک اور15 فیصد ٹیمپو 10 سے15 سال پرانے چل رہے ہیں۔ ڈرپ کے پروجیکٹ سائنٹسٹ سرت کٹی کنڈا کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی آلودگی کنٹرول ہونے پر نگرانی رکھنا اس مسئلے کا فوری قدم ہے جبکہ سڑکوں کی بہتری اور ٹریفک سسٹم کو ریڈ لائٹ سے مستثنیٰ کرنا ٹریفک جام کے مسئلے سے نمٹنے کا طویل المدت قدمت ہے۔ اس مسئلے کا ایک واحد مستقل حل یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو درست کرنا اور اسے مقبول بنانا۔ اس کیلئے یونیفائڈ بس روڈ بنانے ۔ ہر علاقے کو جوڑتے ہوئے روٹ اور بسوں کی تعداد بڑھانے، چھوٹی اے سی بسوں کی تعداد بڑھائی جانا ضروری ہے۔ آئی آئی ٹی چوک کی بات کریں تو 15 لاکھ کی چپت روزانہ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے بریک ڈاؤن سے دوسری گاڑیوں کو لگ رہی ہے۔400 بسوں کے روزانہ بریک ڈاؤن کا مطلب10 سے15 ہزار لیٹر پیٹرول اور قریب 5 ہزار لیٹر ڈیزل کی بربادی ہے۔ 15 لاکھ روپے روزانہ اتنے ایندھن پر خرچ ہوتے ہیں ۔ ایک برس میں یہ نمبر50 کروڑ کو پار سکتا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر روزانہ ہونے والے حادثوں کی تفصیل الگ ہے۔ تشویش کا باعث یہ ہے کہ راجدھانی میں اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے۔ گاڑیوں کی تعداد بدستور بڑھ رہی ہے۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2014

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر اعظم نریندر مودی کافی دکھی ہیں۔انہوں نے سنگھ اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کو اشارہ دے دیا اگر یہی حالات بنے رہتے ہیں تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیں گے۔ انہوں نے سنگھ کے لیڈروں سے کہا کہ مجھے عہدے کا لالچ نہیں ہے ۔ ہندی فلم کی یہ مشہور لائنیں ’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا، میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘مودی حکومت پر یہ سطور بالکل کھری بیٹھتی ہیں۔ مودی سرکار کو مرکز میں آئے ابھی 7 مہینے بھی نہیں گزرے لیکن اس وقت جتنی تنقید آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں نے کی ہے اتنا تو خود اپوزیشن پارٹیاں بھی نہیں کرپائیں۔ اور تو اور حکومت کی کرکری یا کہیں اپوزیشن کو مودی سرکار پر حملہ کرنے کا اشو مل گیا ہے۔ بھاجپا کے پاور ہاؤس مانے جانے والے آر ایس ایس کے لوگ یہ اشو دستیاب کرا رہے ہیں ۔ عموماً کسی بھی حکومت کا پہلا سال ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میعاد میں خود اپوزیشن بھی حکمراں پارٹی کی پالیسیوں اور ان کے ذریعے کی جانے والی غلطیوں کاانتظار کرتی ہے۔ اس کے بعد ہی سرکار کے کام کاج کی بنیادپر نکتہ چینی شروع ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو حالات ہی بالکل الٹے ہیں۔ آر ایس ایس اور سے وابستہ مختلف تنظیموں نے گھر واپسی کے نام پر جیسی ہڑبڑی اور دکھاوے کا مظاہرہ کیا ہے اس سے دیش دنیا کو یہ غلط پیغام گیا ہے۔ بھاجپا مخالف سیاسی پارٹیوں کو منفی پروپگنڈہ کرنے کا موقعہ بھی ملا ہے۔ جب مناسب طریقے سے کی گئی تبدیلی مذہب یا پھر گھر واپسی پر کسی طرح کی پابندی نہیں تب پھر کسی بھی تنظیم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس معاملے میں نشانہ طے کرتی اور مہم چھیڑتی نظر آئے۔ مبینہ گھر واپسی کے سلسلے میں اس طرح کے اعلانات تو سخت اعتراض آمیز ہیں۔ ہم ایک طے برس تک سب کو ہندو بنا دیں گے۔ ایسے اعلانات سے دیش کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کی بھی بدنامی ہورہی ہے جو اپنی فراخدلی اور بھائی چارگی کے لئے زیادہ جانا جاتا ہے۔ مودی کا درد صرف سنگھ میں ہی نہیں بلکہ ان کے گھر میں بیٹھے لوگ بھی ہیں۔ اس کڑی میں پہلا نام سادھوی نرنجن جوشی کا ہے دوسرا نام ساکشی مہاراج کا۔ ابھی مودی ممبران پارلیمنٹ پر کنٹرول ہی کررہے تھے کہ بھاجپا کے بزرگوار اترپردیش کے گورنر نے رام مندر کا راگ چھیڑ کر سرکار کے سامنے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ اتنے واویلے کے بعد بھی لگتا ہے کہ سنگھ کے لوگوں نے ابھی کوئی سبق نہیں لیا ہے کم سے کم سنگھ چیف موہن بھاگوت کے کولکتہ میں دھرم پریورتن پر دئے گئے بیان کو دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا مودی نے سنگھ کے نیتاؤں سے کہا کہ اس طرح کے بیانوں سے سرکار کی ساکھ ملیا میٹ ہورہی ہے۔ بھاجپا کی دلیل ہے کہ سرکار گڈ گورنینس کے ایشو پر جیت کر آئی ہے اور اس طرح کی بیان بازی سے مودی سرکار کی کٹر ساکھ بننے کا خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں بھی مودی نے سخت الفاظ میں اس طرح کے بیانات سے بچنے کیلئے کہا تھا لیکن اس کے فوراً بعد ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے متنازعہ بیان دے دیا۔ پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اگر ایسی طرح کے متنازعہ بیان چلتے رہے تو کسی بھی وقت دہلی اسمبلی چناؤ کا اعلان اور 2017 میں یوپی کا مشن فیل ہوسکتا ہے۔اس سے آر ایس ایس کے منصوبوں کو بھی دھکا لگے گا۔ خیال یہ بن رہا ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار میں آتے ہی آر ایس ایس کا قبضہ ہورہا ہے۔ویسے بھی یہ پیغام بے مطلب نہیں کہ تبدیلی مذہب یا گھر واپسی میں کہیں نہ کہیں لالچ کا بھی رول ہوتا ہے۔ ان حالات میں یہ سب ضروری ہوگیا ہے کہ تبدیلی سے متعلق قانون کو درست کرکے سخت اور اس سے وابستہ تنظیم یہ سمجھیں کہ اگر وہ مودی سرکار کے ہمدرد ہیں تو گھر واپسی و دیگر ایسے اشو کو فوراً ترک کریں۔ مودی سرکار کے ترقی کے ایجنڈے کو چلنے دیں۔ بے وجہ انہیں الجھائے نہ رکھیں۔ یہ سب متنازعہ اشو بعد میں بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، سرکار کو صحیح معنی میں جمنے تو دیں۔
(انل نریندر)

جہادی آتنکی تنظیموں نے عورتوں و بچوں پر قہر ڈھایا!

آج کل پوری دنیا میں دہشت گردی سے متعلق خبریں پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ بچے ،عورتیں بھی اب ان دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر آچکی ہیں۔ آئے دن عورتوں پر دہشت گردوں کے قہر سے متعلق خبریں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ شام اور عراق میں دہشت کا سامراج قائم کرنے کی چاہ رکھنے والے بربریت والی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے مبینہ طور سے عراق کے فالوجا شہر میں 150 لڑکیوں اور عورتوں کو صرف اس لئے موت کی نیند سلا دیا کہ انہوں نے ایک دہشت گردی تنظیم کے جہادیوں سے نکاح کرنے سے منع کردیا تھا۔ ’ڈیلی میل‘ اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق عراق کے انسانی حقوق وزارت نے ایک پریس ریلیز میں خبردی ہے کہ ابو انس البی نامی اس تنظیم کے خونخوار قاتلوں نے الانور صوبے میں تشدد کا یہ ننگا ناچ کیا ہے۔ابو انس نے ان عورتوں کو جہادیوں سے پہلے نکاح کرنے کو کہا لیکن ان عورتوں نے جب نکاح کرنے سے انکارکردیا تو ان سب کو لائن میں لگا کر ان کو قتل کردیا۔مری عورتوں میں زیادہ تر ذرادی قبیلے کی تھیں۔ کئی عورتیں حاملہ بھی تھیں۔ عورتوں پر آئی ایس کا یہ ظلم کچھ نیا نہیں ہے اس کے لئے عورتیں محض ایک شے کی طرح ہیں جنہیں وقت کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ آئی ایس جن علاقوں پر قبضہ کرتا ہے وہاں کی عورتوں کو غلام بنا کر بیچ دیتا ہے۔ مارنے کے بعدان کی لاشیں فالوجا کی ایک قبر میں اجتماعی طور پر دفنا دی گئیں۔ اس ریلیز کے مطابق آئی ایس کے لڑاکوں نے فالوجا کی ایک مسجد کو جیل میں تبدیل کردیا ہے جہاں وہ سینکڑوں عورتوں اور مردوں کو قیدی بنا کر رکھتے ہیں۔ ادھر ہزاروں میل دور پر واقع نائیجریا میں سرگرم انتہا پسند تنظیم بوکوحرام نے دیش کے شمال مشرقی علاقے میں کم سے کم 185 عورتوں اور بچوں کو اغوا کرلیا ۔ اس سے پہلے انہوں نے33 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ ایک مقامی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دہشت گردوں نے گم سوری گاؤں پر اچانک حملہ کردیا ۔وہ سب ٹرک میں سوارہوکر آئے تھے انہوں نے مردوں کو پہلے گولیوں سے بھونا اور پھر گاؤں کی عورتوں اور بچوں کو ٹرک میں بٹھا کر لے گئے۔ اس سے پہلے انہوں نے گاؤں کے پیٹرول پمپ کو جلایا۔ علاقے میں کمیونی کیشن کی کمی ہے اس وجہ سے واقعہ کی خبر کئی دنوں کے بعد لگ سکی۔ علاقے کے ٹیلی کمیونی کیشن ٹاوروں کو دہشت گردوں نے پہلے ہی اڑادیا تھا۔ مقامی حکام کو ایتوار کے روز اس حملے کی خبر کچھ دیہاتی لوگوں سے ملی جو کسی طرح سے بھاگ کر یہاں پہنچے تھے۔میداگوری نائیجیریا کے دونوں صوبوں کی راجدھانی ہے اور یہ تنظیم مغربی تعلیم کی سخت مخالف ہے۔ بوکوحرام سال2009 سے نائیجیریا میں قہر برپا رہی ہے۔ اس نے اسکولوں ،گاؤں اور پولیس ،گرجا گھر اور عام ناگرکوں پر کئی حملے کئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ اس نے سرکاری عمارتوں پر بھی بم پھینکے ہیں۔ اس مہینے میداگوری میں بوکوحرام کی ایک فدائی خاتون حملے میں 5 لوگ مارے گئے تھے۔ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ ان جہادی دہشت گردوں نے نہ تو بچوں کو بخشا ہے نہ عورتوں کو۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2014

50 سالہ علیحدگی پسندی ختم امریکہ اور کیوبا میں معاہدہ!

کمیونسٹ کیوبا کے تئیں 50 سال سے زائد علیحدگی کو ختم کرنے کیلئے سیاسی رشتے بحال کرنے کی سمت میں امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ہمت افزاء اور تاریخی اور حیرت انگریز ختم اٹھاکر نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ اسے تمام عالمی برادری نے ایک تاریخی پل قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ اور دونوں ملکوں کے قیدیوں کی رہائی کا اعلان کینیڈا اور ویٹکن میں ایک سال سے زائد خفیہ بات چیت کے چلتے ممکن ہو سکا ہے، جس میں پوپ بھی شامل تھے۔ کیوبا اور امریکہ کے درمیان رشتوں کی بحالی کی ایک تاریخی خبر دنیا کو بھلے ہی اچانک محسوس ہوئی ہو لیکن پردے کے پیچھے سے اس کی طویل کوششیں کافی عرصے سے جاری تھیں۔ تقریباً53 سال سے ایک دوسرے کے حریف رہے دونوں ملکوں کے رشتے خوشگوار کرنا حقیقت میں اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کے پیچھے بڑا کردار دونوں ملکوں کے صدور پوپ فرانسس اور جاسوسوں کی رہی ہے۔ رشتوں کو بہتر کرنے کی کوشش صدر براک اوبامہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کردی تھی۔ تب انہوں نے امریکہ میں مقیم کیوبیائی نژاد لوگوں کو اپنے رشتے داروں سے ملنے اور انہیں پیسہ بھیجنے پر لگی پابندی میں نرمی دینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ اس میں تیزی آئی اور ایک سال کے دوران کافی لوگ اپنے رشتے داروں سے ملنے لگے۔ اس دوران کیوبا اور امریکی حکام کے درمیان کینیڈا اور ویٹکن میں 9 ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکی مانگ ایک دوسرے کے قیدیوں کی ادلا بدلی کی تھی۔ امریکہ اپنی جیل میں بند 3 ہزار کیوبائی ایجنٹوں کے بدلے میں کیوبا میں 20 سال سے بند ایک امریکی خفیہ افسر کی رہائی چاہتا تھا۔ دراصل گروس نامی اس خفیہ ایجنٹ ایک این جی او کے لئے کام کرتے تھے اور2009 میں ان کی گرفتاری کے بعد ہی امریکہ نے رشتوں کو بہتر بنانے کی سمت میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا۔ پوپ کی ثالثی کیوبائی صدر فیڈرل راول کاسٹرو کو منانے میں اہم رہی۔ دراصل پوپ فرانسس ارجنٹینا میں پیدا ہوئے تھے ایسی صورت میں انہیں اس کام کو انجام دینے میں آسانی رہی۔ کیوبا کے صدر راول کاسٹرو نے پانچ دہائی کے بعد اس دیش کے بعد رشتے بنانے کے امریکی صدر براک اوبامہ کے فیصلے اور قیدیوں کے ادل بدل کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ نے کیوبا کے تین جاسوس سزا یافتہ قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیوبا نے بھی 2009ء میں قید کئے گئے امریکی راحت رساں ایلن گروس اور ایک خفیہ ایجنٹ کو رہا کردیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنٹ 20 سال سے کیوبا میں بند تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل و تمام سکیورٹی ملکوں نے رشتوں کے بہتر ہونے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان روابط بڑھانے میں مددگار ہوگا۔ ہم امریکی صدر براک اوبامہ اور کیوبا کے صدر راول کاسٹرو کو اس حوصلہ افزا تاریخی معاہدے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

آڈیٹوریم میں تو بچوں کو مار ڈالا ہے، اگلا فرمان کیا ہے؟

کبھی کبھی الفاظ واقعی بے معنی ہوجاتے ہیں۔ ہم خوف کے سائے میں خاموشی سے اپنی بے بسی کو محسوس کرتے رہتے ہیں اور ہمارے اندر جو جذبات مشتعل ہورہے ہوتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں معقول الفاظ نہیں ملتے۔ اور پھر ہم ہمدردی کے الفاظ کوسود سمجھتے ہوئے خاموش ہوجاتے ہیں۔ ان وحشی طالبان نے پیشار کے معصوم بچوں پر حملہ کرکے ہمیں ایک ایسے ہی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ پیشاور کے آرمی اسکول میں حملے کا منصوبہ ملا فضل اللہ سمیت طالبان کے سینئر 16 دہشت گردوں نے دسمبر کے شروع میں افغانستان میں ہوئے ایک اجلاس میں بنایاتھا۔ یہ اطلاع پاکستان کے حکام نے جمعرات کودی ہے۔ پاک حکا م کا کہنا ہے ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ طالبان چیف ملا فضل اللہ اور طالبان کمانڈر سعید حافظ دولت سمیت کئی دیگر لوگوں نے اس منصوبے کو بنایا۔ ان کا کہنا ہے خیبر ضلع میں سرگرم لشکر اسلام کا چیف منگیل باغ میں بھی اس سازش کا ذمہ دار تھا۔ 7 دہشت گردوں کو پیشاور کے پاس خیبر علاقے میں ٹریننگ دی گئی تھی۔ دہشت گردوں کے آقا اس وقت افغانستان میں تھے اور حملے کے دوران دہشت گردوں کے خلاف رابطہ بنائے ہوئے تھے۔ ہم نے آڈیٹوریم میں موجود سبھی بچوں کو مار ڈالا ہے اب ہمارے لئے اگلا فرمان کیا ہے؟ وہیں ٹھہرو ،فوج کے لوگوں کو آنے دو ،خود کو اڑانے سے پہلے انہیں بھی مار ڈالوں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے افسروں کے مطابق پاکستان آرمی اسکول پر حملہ کرنے والے فدائین کی اپنے آقاؤں سے یہ آخری بار بات چیت ہوئی تھی۔ اس حملے سے ہمیں ممبئی کے 26/11 حملے کی یاد تازہ ہوگئی۔ ممبئی میں بھی قصاب اینڈ کمپنی بھی حملے کے دوران آقاؤں سے سیدھے رابطے میں تھی۔ آخری بات کرنے کے بعد بچے دو دہشت گرد فدائین اسکول کے باہر تعینات اسپیشل آپریشن کے جوانوں کی طرف بڑھ گئے تھے۔ آتنکیوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان اس طرح کی بات چیت کا انکشاف اس خفیہ ڈوزیر سے ہوا ہے جسے پاک فوج کے چیف جنرل راحل شریف نے بدھ کے روز افغانستان حکومت کے افسروں کو سونپا تھا۔ اسکول میں گھستے ہی فدائین حملہ آور سیدھے بڑے آڈیٹوریم کی طرف بڑھ گئے جہاں سینئر سیکشن کے بچوں کو ابتدائی ہیلتھ کے گر سکھائے جارہے تھے۔
افسروں کے بیچ اس بات پر غور و خوض چل رہا ہے کہ کیا حملہ آوروں کو آڈیٹوریم میں موجود بچوں کے جمع ہونے کی پہلے سے اطلاع تھی؟ کیا انہیں کوئی مخبر پوری جانکاری دے رہا تھا؟ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس حملہ آوروں کے نام اور ان کی بات چیت کی پوری تفصیل ہے۔ ان میں سے ایک حملہ آور کا نام ابو زر تھا جبکہ اسے ہدایت دینے والے کا نام کمانڈر عمر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پیشاور کے حملے نے یہ صاف کردیا ہے کہ طالبان کا صفایا پاکستان کی حکومت کیلئے ایک ہمالیہ پہاڑ سے کم بڑا چیلنج نہیں ہے۔ طالبان کے گناہوں کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کو طالبان کے خلاف اپنے سارے ہتھیار استعمال کرنے چاہئیں اور حکومت کو تب تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک اس کی سرزمین سے دشمن کا پورا صفایا نہ ہوجائے لیکن کیا پاکستان ایسا کرے گا؟
(انل نریندر)

20 دسمبر 2014

عالمی دہشت گردی کتاب میں نیا باب، اسکولوں کو نشانہ بنانا!

بین الاقوامی دہشت گردی کی کتاب میں ایک نیا باب جڑ گیا ہے ، یہ ہے آتنک وادیوں کے ذریعے اسکولوں کو نشانہ بنانا۔ ہم اوپر والے سے دعاکرتے ہیں کہ پیشاور آرمی اسکول میں جو قتل عام ہوا وہ پھر کبھی نہ دوہرایا جائے لیکن اس میں ہمیں شبہ ہے کہ ان جہادیوں کی نظر میں یہ کوئی برا کام نہیں ہے۔ کیونکہ حملہ آور طالبان کو اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ الٹے اسے وہ جائز ٹھہرا رہے ہیں۔ خیر ہم اپنی بات کریں ۔ کیا بھارت ایسے حملے کے لئے تیار ہے؟ پاکستان کے پیشاور میں دائرے سے ہٹ کر اسکولی بچوں کو نشانہ بنائے جانے سے بھارت سکتے میں ہے۔ وزارت داخلہ نے اسکولوں اور ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ وہیں ماہرین دہشت گرد تنظیموں کو حملہ کرنے کے بدلتے طریقے پر حکومت اور عوام کو خبردار کردیا ہے۔دکھ سے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ابھی تک بھارت کی اس سمت میں کوئی خاص تیاری نہیں دکھائی پڑتی۔ اسکولوں میں حفاظت کے نام پر کوئی قدم نہیں دکھائی پڑتا۔ وہاں نہ تو ٹھیک طرح سے سکیورٹی گارڈ تعینات ہوتے ہیں اور نہ ہی آنے جانے والوں کی کوئی چیکنگ ہوتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تو یہ جانچ بھی نہیں کی جاتی کہ بچوں کو جو شخص لینے آیا ہے وہ واقعی اس کے والدین ہیں یا قریبی رشتے دار ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کچھ تنظیمیں ایسی ہیں جو پاکستانی دہشت گرد جہادی تنظیموں کی طرز پر اس طرح کے حملے کوا نجام دے سکتی ہیں۔ بی ایس ایف کے سابق ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ فرماتے ہیں کہ بڑھتے دہشت گردانہ خطرے سے نمٹنے کا طریقہ محض خفیہ مشینری کی چستی اور جدید پولیس مشینری ضروری ہے۔ آپ سبھی اسکولوں ،اسپتالوں میں سکیورٹی دستیاب نہیں کراسکتے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار بھی انٹرنل سکیورٹی کے معاملے میں یوپی اے سرکار کے ہی طریقے پر چل رہی ہے اور زبانی جمع خر چ کررہی ہے۔ اسمارٹ پولیس کی بات کرنے والی مودی سرکار نے پولیس کو جدید ترین اور خفیہ مشینری کی مضبوط کی سمت میں اتنے مہینوں میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی ایک بھی قدم آگے نہیں بڑھایا ہے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل افسر کریم کا کہنا تھا کہ بھارت میں کچھ جہادی تنظیمیں ایسی ہیں جو اس طرح کی کارروائی کو انجام دے سکتی ہیں۔ حالانکہ بھارت میں سرگرم ایسی تنظیموں کے پاس جدید ترین ہتھیار اور بڑی طاقت نہیں ہے مگر یہ تنظیمیں اسکولوں اور ہسپتالوں میں چھوٹے سطح پر دہشت گردانہ واقعات کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کریم کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی جس طرح بڑا چیلنج بن رہی ہے اس حساب سے اس نے نمٹنے کی تیاری نہیں ہے۔ ادھر وزارت داخلہ کے ذرائع نے مانا ہے کہ سرکار نے اسکولوں ، اسپتالوں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کی پہل شروع کردی ہے۔ ہزاروں پولیس ملازم اور وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی میں لگے ہوئے ہیں ان کو کم کرکے پولیس کانسٹیبلوں کو اسکولوں ،اسپتالوں میں تعینات کرنا چاہئے۔ اسکولوں کے انتظامیہ کو چست کرنا ہوگا، جو اسکول موٹی موٹی فیس لیتے ہیں انہیں اپنے خرچ پر سکیورٹی گارڈ رکھنے ہوں گے۔ اس سنگین چیلنج سے بلا تاخیر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

کب تک پاکستان دوہرا رخ اپنائے گا؟

پیشاور اسکول میں گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہونے والی صبح یقینی طور سے پاکستانیوں کو رات سے بھی زیادہ کالی محسوس ہوئی ہوگی۔ اس لئے کہ زیادہ تر اسکولی بچوں کو جس دن دفنانا پڑا وہ دن کسی بھی ملک کے لئے کبھی نہ بھولنے والا ہوگا۔ اس کانڈ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پاکستان کے ساتھ کیسے بھی رشتے ہوں لیکن آج ہم سبھی پاکستان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعے کے بعد پاکستان ان دہشت گرد تنظیموں کے تئیں اپنے نظریئے اور پالیسی میں تبدیلی لائے گا؟ کیا یہ دکھ اور یہ وابستگی پاکستان کی سرزمیں سے ان دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے جو گاہے بگائے پاکستان ہی نہیں باہر کے بھی بے قصور شہریوں کو مارتے رہتے ہیں؟ ابھی بچوں کے قتل عام کو24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے پاکستان کا آتنک واد کو لیکر دوہرا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ پاکستان کی ایک عدالت نے جمعرات کو لشکر طیبہ کے آپریشن کمانڈر ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ زکی الرحمن لکھوی کو اس لئے ضمانت دے دی کیونکہ وکیلوں کی ہڑتال کے چلتے سرکاری وکیل مقدمے کی سماعت کے لئے عدالت نہیں پہنچے تھے۔ تازہ اطلا ع کے مطابق پاکستان سرکار نے لکھوی کو ایم پی او کے تحت 3 مہینے تک جیل میں ہی رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس کی اطلاع بھارت سرکار کو بھی دے دی ہے۔بدقسمتی دکھئے وکیل پیشاور کے اسکول میں آتنکیوں کے ذریعے بچوں اور لوگوں کے قتل کے احتجاج میں ہڑتال پر تھے۔ 54 سالہ لکھوی اور دیگر 6 نے وکیلوں کی ہڑتال کے درمیان ضمانت کی عرضی دی تھی۔ پیشاور کے حملے کو 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد سب سے خوفناک قومی ٹریجڈی بتایا جارہا ہے جس سے وہاں عام لوگوں کی سیاسی پارٹیوں سے ناراضگی اور ناامیدی کو لاچاری کی علامت مانا جاسکتا ہے۔ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ پاک وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے کٹر سیاسی حریف عمران خاں سمیت سبھی سیاسی پارٹیوں کو ایک ساتھ آکر اس حملے کی نہ صرف مذمت کرنی پڑی بلکہ انہیں پاکستان کی سرزمیں سے دہشت گردوں کا پوری طرح صفایا کرنے کا وعدہ بھی کرنا پڑا۔ پاکستان کیلئے یہ واقعی امتحان کی گھڑی ہے لیکن کیا پاکستان حقیقت میں دہشت گردی کو پوری طرح سے ختم کرنے کے لئے تیار ہے؟ نواز شریف نے حملے کے فوراً بعد دہشت گردی سے متعلق معاملوں میں پھانسی پرلگی سزا پر روک ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ پھانسی نہ دینے کا 6 سال پرانا فیصلہ پلٹ دیا گیا ہے۔ ایسے دہشت گردوں کے خلاف دیتھ وارنٹ دو دن میں جاری ہوں گے۔800 دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ حکومت نے اچھے برے طالبان کا فرق بھی ختم کردیا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ طالبان سے بات چیت نہیں ہوگی صرف کارروائی ہوگی اور تب تک جاری رہے گی جب تک ایک بھی آتنکی زندہ رہے گا۔ نواز اور پاک فوج دہشت گردوں پر کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا صرف طالبان پر؟ کیونکہ آج بھی دنیا کے دو سب سے بڑے آتنکی سرغنہ حافظ سعید اور داؤد ابراہیم اسی کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ پاک سرکار آج بھی انہیں جن سیوک مانتی ہے۔ اگر واقعی پاکستان کی سرکار اورفوج دہشت گردی سے نجات چاہتی ہے تو پہلے اسے حافظ سعید اور داؤد ابراہیم اور لکھوی جیسے سرغناؤں سے نجات پانی ہوگی۔ اگرچہ پاکستان سرکار اور فوج حافظ سعید وغیرہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو پھر اس کا سیدھا مطلب ہوگا کہ اچھے برے دہشت گردوں میں فرق نہ کرنے کا جو یقین دلایا ہے اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ نواز شریف دہشت گردوں کے صفائے کا وعدہ کرتے ہیں اور ممبئی حملے کے لئے ذمہ دار مانے جانے والے آتنکی سرغنہ حافظ سعید بھارت کو دھمکانے میں لگا ہوا ہے۔ حافظ سعید پر کارروائی تو دور کی بات اس نے اس حملے کے بعد ایک بار پھر سے بھارت کو دھمکی دی ہے اور پاکستان میں اسے کوئی روک بھی نہیں رہا ہے۔ کیا پاکستان یہ تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ آتنکی حملہ کہیں بھی ہو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بار بار پاکستان کے دوہرے چہرے کے ثبوت ملتے ہیں ، امید کی جاتی ہے پاکستان اپنے دوہرے چہرے کو بدلے گا اور جو وعدہ کیا ہے اسے بھی نبھائے گا؟
(انل نریندر)

19 دسمبر 2014

یہ ہے دہشت گردی کا سب سے خوفناک چہرہ!

یکایک جہادی دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں اور اب پیشاور میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ کشمیر میں تو آئے دن اس طرح کے حملے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ کیا یہ حملے ایک تنظیم کروا رہی ہے؟ کیا سڈنی اور پیشاور کے حملوں میں کوئی یکسانیت ہے؟ ویسے تو ہمارے کشمیر میں پچھلے 26 برسوں میں دہشت گردی 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے چکی ہے لیکن پاکستان کے پیشاور آرمی اسکول میں جس طرح گھس پر بچوں کو لائن میں کھڑا کر دہشت گردوں نے گولیوں سے بھونا ہے ،وہ رونگٹے کھڑے کرنے والا منظر تھا۔ کچھ بچوں کے سر بھی کاٹ دئے گئے۔ واردات کے وقت اسکول میں 1100 سے زائد بچے تھے۔ بچوں کو مارنے والی یہ وہی تنظیم ہے جس نے ملالہ کے سر میں گولی ماری تھی۔بزدلی کی حدیں پار کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ہمارے کنبوں کو اجاڑدیا ہے اس لئے ہم نے پاک فوج کے بچوں پر یہ حملہ کیا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ انہوں نے ہمیں کتنا تڑپایا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں کسی بھی اسکول پر ہوئے حملے میں یہ سب سے بڑا اور بربریت آمیز حملہ تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ پاکستان فوج نے پاکستانی طالبان اور نارتھ وزیرستان کے دہشت گردوں کے خلاف ’’ضرب عود‘‘ نام کا فوجی آپریشن چلایا ہوا ہے۔ اسی سال جون میں شروع ہوئی اس کارروائی کے تحت اب تک 1600 سے زائد دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ اسی کے جواب میں پاکستانی طالبان نے اس قتلِ عام کو انجام دیا ہے۔ پاک فوج کی کارروائی سے دہشت گردوں میں بوکھلاہٹ تھی۔ خاص طور پر وہ فوج سے بدلہ لینے کے فراق میں تھے۔ فوج کے کیمپ پر حملہ کرنے کے لئے انہیں زیادہ تیاری کے ساتھ جانا پڑتا اس لئے انہوں نے پیشاور کے اس آرمی اسکول میں پڑھ رہے فوجیوں و عام لوگوں کے بچوں کو نشانہ بنایا۔ویسے بھی بچے آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں اور اس آرمی اسکول میں کوئی مضبوط سکیورٹی انتظام نہیں تھے۔ 
محض دو تین سکیورٹی گارڈ تھے وہ بھی بغیر ہتھیار کے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردانہ واقعات پر نظر ڈالیں تو واقف کاروں کا کہنا ہے کہ پیشاور میں حملے ملالہ یوسف زئی کو2014ء کا نوبل انعام دئے جانے کا بدلہ بھی ہوسکتا ہے۔ بچوں کی اسکولی تعلیم کیلئے مہم چلا رہی ملالہ پر2012ء میں انہی پاکستانی طالبان نے حملہ کیا تھا۔ حال ہی میں طالبان نے ملالہ کو نوبل انعام دئے جانے کی مخالفت بھی کی تھی۔ بتادیں کہ پیشاور خیبر پختون خواہ صوبے کی راجدھانی ہے اس صوبے میں پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کے سربراہ کرکٹر سے لیڈر بنے عمران خاں ہیں۔عمران خاں سے ستمبر میں نواز حکومت سے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ جنگ بندی کریں اور انہیں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت دیں۔ پاکستان میں طالبان کے تئیں نرم رویہ رکھنے کے الزام میں عمران خاں کو طالبان خاں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حملہ دہشت گردی کا سب سے خوفناک چہرہ ہے جس نے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا۔
ان دہشت گردوں کیلئے بچوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے پھر وہ آئی ایس ہو یا بوکوحرام تنظیم یا القاعدہ یاپھر طالبان یہ واقعہ پاکستان کی پوری مشینری کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے جس نے طالبان کو پھلنے پھولنے کا پورا موقعہ دیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس حملے کو قومی ٹریجڈی بتایا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے اس پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے اشو پرمحاسبہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ خود بھی دہشت گردی کے مسئلے سے لڑ رہا ہے لیکن بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے والوں کو پناہ دیتا آیا ہے۔ حقیقت میں پیشاور میں ہوئے حملے سے دو دن پہلے سڈنی میں ایک سرپھرے کے ایک کیفے میں کچھ لوگوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ بتاتا ہے کہ کیسے دہشت گردی ایک عالمی خطرہ بن گئی ہے۔ کہ کیسے ایک اکیلا دہشت گرد بھی لاکھوں لوگوں کی جان پریشانی میں ڈال سکتا ہے۔ 26 سال پہلے کشمیرمیں جو تشدد شروع ہوا وہ 50 ہزار لوگوں کی جان لے چکا ہے۔ یہ اعدادو شمار سرکاری ہیں۔ غیر سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔مرے کتنے بھی ہوں یہ تو صاف ہے کشمیر میں اور دیش کے دیگر حصوں میں دہشت گردوں کا یہ موت کا ننگا ناج جاری رہے گا اور اس کے لئے صرف پاکستان ذمہ دار ہے۔ سرکاری اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کا اتنا بڑا عرصہ جس میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی ہے 7 ہزارسے زیادہ ہمارے سکیورٹی ملازمین کی قربانی لے چکا ہے۔15 ہزار سے زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس عالمی دہشت گردی کا یہ ہے کہ یہ سبھی تنظیمیں اس دہشت گردی کو اسلام کے نام پر چلائی ہوئی ہیں۔ ایسے تو اور کوئی بھیڑ بکریوں کو بھی نہیں مانتا جیسے طالبانی آتنکیوں نے پیشاور عالمی اسکول میں معصوم بچوں کو مارا۔ ایسے خوفناک اور بربریت آمیز حملے کا تصور کرنا تک مشکل ہے۔ 
یہ اچھی بات ہے پاکستانی فوج نے اس خوفناک واردات کے بعد دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھنے کی بات کہی ہے لیکن اس میں شبہ ہے کہ پاکستانی فوج اور وہاں کی حکومت دہشت گردوں کے درمیان اچھے برے کا فرق کرنا بند کردے گی۔ یہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی فوج اور سرکار طالبان دہشت گردوں کے خلاف تو سرگرم ہے لیکن تمام دیگر جہادی گروپوں کو سرپرستی دینے میں لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے معاملے میں اپنی ٹال مٹول والی پالیسی کے ساتھ اپنے طرز فکر میں بھی وسیع تبدیلی جانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو اپنی ان پالیسیوں کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے۔ بہتر ہو کہ قومی ٹریجڈی سے گزر رہا پاکستان اب ان غلطیوں کا احساس کرے جس کے چلتے وہ ایک عدم استحکام ،شورش اور خطرناک ملک کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پاکستان آج ایک ناکام اسٹیٹ بن گیا ہے جس کی قومی پالیسی دہشت گردی پر مبنی ہے۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2014

اقدام خودکشی جرم نہیں،دفعہ309 ختم ہوگی!

اقدام خودکشی اب سزا کے لائق جرم نہیں رہے گا۔ کیونکہ حکومت نے آئی پی سی کی دفعہ309 کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔ آئینی کمیشن کی سفارش کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ اس دفعہ کو ہٹانے کے بارے میں 22 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام 4 ریاستوں نے اپنی رضامندی جتادی ہے۔ وزیر مملکت داخلہ ہری بھائی پروی چودھری نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستانی آئینی کمیشن نے اپنی210 ویں رپورٹ میں یہ سفارش کی ہے۔اقدام خودکشی کو سزا دینے والی دفعہ309 کو قانون کی کتاب سے خارج کردینا چاہئے۔ آئی پی سی کی اس دفعہ کو ختم کرنے کی سفارش طویل عرصے سے کی جارہی تھی۔44 سال پہلے بھی آئینی کمیشن نے اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز رکھی تھی۔ ابھی تک خودکشی کی کوشش کرنے والے کے خلاف جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا کی سہولت تھی۔ اس اشو کے دو پہلو ہیں ۔ تمام ماہر عدلیہ مانتے رہے ہیں کہ خودکشی کرنے میں ناکام رہنے والے شخص کے لئے یہ دفعہ ایک اذیت دینے جیسی ہے۔ ایسا کرنے میں جو کامیاب ہوگیا یعنی جس نے اپنی مرضی سے موت کو گلے لگا لیا قانون اس کے خلاف توکچھ نہیں کرسکتا لیکن جو بچ گیا تو اسے پریشان کرتا ہے۔ بہت سی ذہنی اذیتوں سے گزرنے کے بعد ہی کوئی شخص خودکشی کا راستہ اپناتا ہے اس لئے اسے ذہنی مریض کے زمرے میں رکھا جانا چاہئے نہ کہ مجرم کے۔ ایسے شخص کو ہمدردی اور میڈیکل مدد درکار ہوتی ہے سزاکی نہیں۔ آئینی کمیشن نے درحقیقت اس غیر انسانی نظریئے کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی جس پر18 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام حکومتوں کی رضامندی کے بعد مرکزی حکومت نے اس پر مہر لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی کمیشن کی مرضی اور مرکزی سرکار کی انسانی پہل کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن خودکشی کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کبھی نہیں کرنی چاہئے بلکہ دفعہ309 کو ختم کرنے کے دوسرے نقصانات بھی ہیں۔ خودکشی کی کوشش کو جرم کے زمرے سے ہٹائے جانے سے اس کے پیچھے کے اسباب کی تلاش بھی مشکل ہوسکتی ہے۔ اس کا خاص طور سے قرض کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کسانوں اور جہیزی اموات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ بہار، مدھیہ پردیش، سکم جیسی ریاستوں نے اسے ختم کرنے کی اس بنیادپر مخالفت کی ہے کہ اس سے ریاستی سرکار وں کو بلیک میل کرنے والوں اور مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنے اور خود سوزی کی بات کرنے والوں کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا قانون ایسا کوئی سسٹم رائج کرے تاکہ ایسے لوگوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ خودکشی کی کوشش کو جرم نہ ماننے کے بہت سے خطرے درپیش ہوں گے۔ دیش کے خلاف جنگ چھیڑنے والے یہ لوگ ثبوت مٹانے کی کوشش میں بھی خودکشی کی کوشش کرتے ہیں ایسے میں دفعہ309 کو ختم کرتے ہوئے سرکار کو ایسی شقوں کے بارے میں بھی غور کرنا ہوگا جس سے مجرم سماج مخالف عناصر اور آتنک وادیوں کو اس کا فائدہ نہ ملے۔
(انل نریندر)

ریو پارٹیوں کیلئے8 کروڑ کی منشیات ضبط!

یہ چونکانے والی بات ہے کہ راجدھانی دہلی میں پڑھی لکھی نوجوان نسل میں منشیات کا ٹرینڈ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ آئے دن کروڑوں روپے کی منشیات پکڑی جاتی ہیں۔ حال ہی میں نئے سال کیلئے منائی جانے والی ریو پارٹیوں میں استعمال ہونے والی منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی گئی ہے۔ نئے سال کے موقعہ سے پہلے ہی منشیات کے سوداگروں نے ریو پارٹیوں کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس کڑی میں مشرقی دہلی ضلع کی پولیس نے ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر کی بڑی کھیپ کے ساتھ ایک غیر ملکی سمیت دو لوگوں کو پکڑا ہے۔ ملزمان کی پہچان نیدر لینڈ کے باشندے پیڈرو ماریہ توبر گارسیا 37 سال، کرشنا اپارٹمنٹ گارڈن، اندرا پورم کے باشندے سنی کھنہ 38 سال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے پاس سے 1200 ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کی مانیں تو بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمت8 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ پولیس دونوں سے پوچھ تاچھ کر معاملے کی چھان بین میں لگی ہوئی ہے۔ مشرقی ضلع پولیس کمشنر اجے کمار نے بتایا کہ ٹیم کو اطلاع ملی تھی کہ ایک بین الاقوامی ڈرگ اسمگلر پیڈرو ماریہ6 ستمبر کو ڈرگ سپلائی کے لئے دہلی آیا ہوا ہے۔ یہاں وہ اپنے کسی ممبر سے مل کر یہ ڈرگ سپلائی کرے گا۔ اس کے بعد اے ٹی ایس کی ٹیم کے انسپکٹر سنجیو پہاوا کی رہنمائی میں ایک ٹیم بنائی گئی جس نے پیڈرو اور سنی کو یمنا اسپورٹس کمپلیکس کے پاس دبوچ لیا۔ تلاشی میں دونوں کے پاس سے 1200 ایل ایس ڈی اسٹامپ پیپر ملے۔ پیڈرو نے بتایا کہ نیدرلینڈ سے ڈرگ بھارت لیکر آیا تھا۔ بھارت میں نئے سال پر ہونے والی ریو پارٹیوں میں اس ڈرگ کی کافی مانگ ہے اور اس کے منہ مانگی دام بھی ملتے ہیں۔ پیڈرو کا دہلی، گوا، ہماچل،ممبئی سمیت کئی ریاستوں میں نیٹورک پھیلا ہوا ہے۔ پولیس کی مانیں تو نئے سال پر ہونے والی ریو پارٹیوں کو دیکھتے ہوئے ان ڈرگس کو بھارت لایا گیا تھا۔ جانچ میں پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیڈرو بھارت میں ڈرگ لاکر یہاں سے چرس لے جاتا تھا۔ اس کے لئے اس کے گوروہ کے ممبر اس کی مدد کیاکرتے تھے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ بھارت میں ایل ایس ڈی کی اتنی بڑی کھیپ دوسری بار پکڑی گئی ہے۔ اب آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا ہے ایل ایس ڈی اور کیسے کرتے ہیں اس کا نشہ؟ ایل ایس ڈی بیحد ہائی رقیق یا اسٹامپ پیپرکی شکل میں ہوتا ہے۔اس کو استعمال کرتے ہی اس سے جنسی بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کا نشہ کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ہائی پروفائل پارٹیوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زبان پر ایل ایس ڈی ڈراپ یا اسٹامپ پیپر کو رکھا جاتا ہے بعد میں پیپر چبالیا جاتا ہے۔ ڈراپ ڈالنے کے بعد لمبے وقت تک ایل ایس ڈی کا نشہ رہتا ہے۔ واقف کاروں کی مانیں تو اس نشے کی زیادہ خوراک سے کئی بار موت بھی ہوجاتی ہے۔ ایل ایس ڈی ہائی پروفائل رقیق بیحد قیمتی ہونے کے چلتے اس کا استعمال بڑے گھرانوں کے بگڑیل لڑکے ریو پارٹیوں میں کرتے ہیں۔ بھارت میں ڈرگس کا بڑھتا استعمال ہمارے سماج کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آج کل نوجوان نسل بڑوں کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتی۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2014

تبدیلی مذہب نے بی جے پی کو دھرم سنکٹ میں ڈالا!

آگرہ میں ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر جو کچھ ہوا اس نے طول تو پکڑا ہی تھا خاص کر اس لئے کہ جو مسلم مبینہ طور پر ہندو دھرم میں لوٹے وہ ہی سوال کھڑے کررہے ہیں۔سنسد سے لیکر سڑک تک اسے لیکر سوال اٹھ رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اس بات پر اتنا ہنگامہ ہوا کہ مرکزی سرکار نے اس سے دامن جھاڑتے ہوئے کہا کہ یہ راجیہ سرکار کا معاملہ ہے۔ غور طلب ہے کہ آگرہ میں سوموار کو ’’گھرواپسی‘‘ کے نام پر قریب 60 مسلم پریواروں کا تبدیلی مذہب کرایا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ’’گھر واپسی‘‘ کا یہ انعقاد جلدبازی میں اور دکھاوے کے لئے کیا گیا۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل نے دعوی کیا کہ یہ اپنی مرضی سے ہندوبنے ہیں لیکن اگلے ہی دن میڈیا میں ان پریواروں کے کچھ ممبرا ن نے کہا کہ تبدیلی مذہب کا یہ ناٹک انہیں طرح طرح کے لالچ دیکر کرایا گیا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ انہیں ادھار کارڈ اور پلاٹ جیسی سہولیات دستیاب کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جو بھی ہو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت میں ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو زور زبردستی سے اسلام قبول کرایاگیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی تمام مسلم یہ قبول کرتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے لیکن ان کی’’ گھر واپسی‘‘ کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ ایک کڑوی سچائی یہ بھی ہے کہ غریبوں کی خدمت کے نام پر سرگرم عیسائی مشنریوں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو طرح طرح کے لالچ دے کر عیسائی بنایا۔ یہ کام تو ابھی بھی نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں چل رہا ہے۔ان حقائق کے باوجود ہندو تنظیمیں ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر ایسا کچھ کریں جس سے تنازع پیدا ہو، صحیح نہیں مانا جاسکتا۔ عبادت کا طریقہ ایک شخصی معاملہ ہے جہاں نہ تو زور زبردستی چلنی چاہئے اور نہ ہی لالچ وغیرہ۔اس سے بھاجپا کو فائدہ نہیں ہونے والا ہے الٹا نقصان ہی ہوگا۔ وکاس کے نعرے پر اپنی پہچان بنانے میں جٹی بی جے پی کو تبدیلی مذہب کے معاملے میں زیادہ فائدہ نہیں ہونے والا۔ پارٹی کو لگ رہا ہے کہ اس سے اسکا ایجنڈا پٹری سے اتر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ جلد نپٹنا چاہئے۔ تبدیلی مذہب کا ایک ایسا ہی پروگرام 25 دسمبر کو علیگڑھ میں منعقدہ کیا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ وہاں کئی عیسائی خاندان اپنی مرضی سے ہندو دھرم اپنائیں گے۔تبدیلی مذہب بیحد حساس معاملہ ہے ہمارے دیش میں کسی بھی شخص کو کوئی بھی دھرم اپنانے کی آزادی آئین سے ملی ہوئی ہے۔ کوئی چاہے تو وہ اپنا دھرم بدل سکتا ہے لیکن اس کے لئے کچھ قانونی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ دھرم بدلنے سے پہلے اس بات کی اطلاع باقاعدہ انتظامیہ کو دینی ہوتی ہے۔ دباؤ کا لالچ دیکر تبدیلی مذہب قانون کے خلاف ہے۔اترپردیش میں چونکہ چناؤ ہونے والے ہیں ایسے میں راجیہ کی کچھ مخالف پارٹیوں کو لگتا ہے کہ انہیں سیاسی طور پر اس سے فائدہ ہوگا۔ ہمارا تو بس اتنا کہنا ہے کہ جو کچھ ہو وہ دیش کے قانون کے تحت ہی ہو۔
(انل نریندر)

امریکی سینیٹ نے سی آئی اے کو کٹہرے میں کھڑا کیا!

یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ 9/11 کے بعد امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گوانٹاناموبے کے نام سے مشہور جیل میں بہت بربر طریقے سے گرفتار مبینہ دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کی۔ اس پر کئی فلمیں بھی بن گئی ہیں۔ میں نے ایسی فلمیں دیکھی ہیں اور دیکھنے پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اب امریکی سینیٹ نے سی آئی اے کو9/11 کے بعد بربر طریقے سے پوچھ تاچھ کا ملزم ٹھہرایا ہے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس خدمات سے متعلقہ پارلیمانی کمیٹی نے اس شخص کی تصدیق کردی ہے جس کے بارے میں کافی الزام لگ رہے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور اقتدار میں سی آئی اے نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے لوگوں پر پوچھ تاچھ کے دوران تشدد کیا اور اس کے کچھ طریقے بہت ہی ظالمانہ تھے۔چونکانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ سی آئی اے نے امریکی سنسد اور سرکار دونوں سے یہ بات چھپائی اور ہمیشہ یہی دعوی کیا کہ اس کے طریقے پوری طرح انسانی تھے۔ سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے ملک کو بربر طریقے سے پوچھ تاچھ کے بارے میں گمراہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پوچھ تاچھ بہت ہی خراب ڈھنگ سے کی گئی اور اس کے ذریعے جو جانکاری جٹائی بھی گئی وہ بھروسے کے قابل نہیں تھی۔9/11 کے بعد کچھ گرفتاریوں اور پوچھ تاچھ کے پروگرام کی جب بہت زیادہ تنقید ہوئی تو صدر براک اوبامہ نے اس کو بند کرنے کا حکم دیا۔ امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے سی آئی اے کے سمرتھن میں کہا کہ دیش کی حفاظت کے لئے کچھ سختی برتنا ضروری ہے اور اس سختی سے بہت اہم جانکاریاں حاصل ہوئیں۔ اسی جانکاری کی وجہ سے اسامہ بن لادن کو ختم کیا جاسکا تھا۔ حالانکہ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی نے اس بات کو غلط قراردیا ہے اور ذیادتیاں کرنے سے اہم جانکاری ہاتھ لگی ہے یا لادن تک پہنچنے میں ایسے طریقوں کا کوئی عمل دخل ہے۔ رپورٹ پر رد عمل میں اقوام متحدہ نے امریکہ سے کہا ہے کہ مجرم افسران پر مقدمہ چلایا جائے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بین انڈرسن نے کہا کہ رپورٹ سے صاف ہے کہ بش انتظامیہ کے دوران نیتیاں اس طرح سے بنائی گئیں جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ادھر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے زور دے کر غلطیوں کے باوجود القاعدہ کے مشکوکوں کے خلاف استعمال کئے گئے طریقوں سے حملے رکے اور امریکیوں کی جانیں بچیں۔ اوبامہ نے راشٹرپتی بننے کے بعد 2009ء میں اس طرح کے پوچھ تاچھ پروگرام پر روک لگا دی تھی اور گوانتاناموبے کو بند کرنے کے حکم دے دئے تھے۔اس پوچھ تاچھ میں قیدیوں کے سر کو پانی میں ڈبونا، انہیں بے عزت کرنا اور سونے نہ دینے جیسے طریقے شامل تھے۔ ڈیموکریٹ ممبر کی اکثریت والی سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے کئی سالوں کی ریسرچ کے بعد اس رپورٹ کو تیار کیا ہے۔ امریکہ میں بھی اس رپورٹ کو لیکر کافی وبال ہورہا ہے۔ حالانکہ دوسری طرف ہمارے سامنے آئی ایس جیسی تنظیمیں بھی ہیں جو کھلے عام لوگوں کا سر قلم کررہے ہیں اور انہیں دکھا بھی رہے ہیں۔جب دہشت گرد لوگوں کے سر کاٹنے کا ویڈیو نشر کررہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے کی سرگرمیوں کے تئیں بھی لوگوں میں سمرتھن بھاؤ پیدا ہو۔لیکن امریکہ ایک تہذیب یافتہ دیش ہے اور آئی ایس ایک بربر آتنک وادی سنگٹھن ، پوچھ تاچھ کے طریقے بھی تہذیبی ہونے چاہئیں۔ کم سے کم امریکہ سے تو یہی امید کی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2014

روس سے بھارت کی خصوصی نیوکلیائی سانجھے داری ،صدر پتن کا خیر مقدم ہے!

ہندوستان کے ساتھ رشتوں کو خصوصی نیوکلیائی سانجھے داری قرار دیتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پتن نے منگل کو اپنے دورۂ ہند سے پہلے بھارت ۔ روس رشتوں میں گرمجوشی کو ختم ہونے کو غلط ثابت کرنے کے ارادے سے ہندوستان دورے پر تشریف لائے۔ ہم صدر پتن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ روس ایک بھروسے مند اور وقت پر کھرا اترنے والا دیش ہے۔ جس نے ہندوستان کو کبھی بھی مایوس نہیں کیا۔ ہاں پچھلے کچھ دنوں سے دونوں ملکوں کے دہائیوں پرانے رشتوں پر سنکٹ کے بادل ضرور آئے ہیں۔بھارت کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی صدر پتن کو ایک اہم ذمہ داری کا بوجھ کا احساس ہو رہا ہوگا کہ دونوں ملکوں کے دہائیوں پرانے رشتے پر خدشات کے بادلوں کو کیسے دور کیا جائے؟ یوکرین معاملے میں امریکہ سمیت مغربی ممالک نے روس پر جو اقتصادی پابندیاں لگائی ہیں وہ پریشان کرنے والی ہیں۔ پیٹرول کی قیمت پر بھاری گراوٹ نے اس چبھن کو ایسے درد میں تبدیل کردیا ہے جس سے راحت کا راستہ فوری نکالنا پتن کے لئے ضروری بن گیا تھا۔ چیلنجوں کی ان گھڑیوں میں نظر اپنوں کو ہی تلاشتی ہے۔ بھارت سے بہتر اور پرکھا ہوا دوست کون ہوسکتا ہے روس کے لئے۔روس نے نہ صرف بھارت کے ڈیفنس سازو سامان کا سب سے بڑا بازار بن گیا ہے بلکہ ترقی کے پانچ سالہ منصوبے تک ہم نے اس کے تجربوں کو شیئر کیا تھا۔ اس رشتے کی اصل آزمائش1971ء میں پاکستان سے جنگ کے دوران ہوئی تھی ، جب ہمیں ڈرانے کیلئے امریکہ کے بھیجے بحری جنگی بیڑے سوینت فلیٹ کے جواب میں روس نے اپنے جگی جہاز اتارنے کا اعلان کردیا تھا۔ روس سے اب تک ہمارے رشتوں کی بنیاد ڈیفنس سازو سامان جنگی جہازوں اور دیگر جہازوں کی خرید پر ٹکی تھی وہ پروڈیوسر تھااور ہم اس کے سب سے بڑے خریدار ہوا کرتے تھے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ ہم اب خریدار سے پروڈکٹ کرنے والے بن گئے ہیں اور اسی حیثیت میں آگے بھی بڑھنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’میک اِن انڈیا‘ مہم سے اس کا آغاز کردیا ہے۔صدر پتن نے اسے بھانپ لیا ہے اور اس لمحے میں وہ مشترکہ ڈیفنس پروڈکشن کو آگے بڑھائے۔ روس پیٹرول اور گیس کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے اور بھارت کی توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اہل ہے۔ ایٹمی بھٹیوں کے سودے میں سکیورٹی سے متعلق ہمارے قانون پر امریکہ اور مغربی دیشوں کو بھلے ہی پریشانی ہو لیکن روس کو کبھی بھی پریشانی نہیں ہوئی۔ پتن بھارت میں نیوکلیائی بجلی کی سیریز بنانے کا خواہشمند ہے۔ روس کے اشتراک سے بنے کڈن کلم بجلی گھر کی ایک یونٹ سے پروڈکشن شروع ہوگئی ہے جبکہ دوسری یونٹ شروع ہونے والی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو پتن کے دورے کے دوران اس بات پر بھی توجہ مرکوز کرنے ہوگی کہ 26 جنوری کو امریکہ کے صدر مسٹر براک اوبامہ تشریف لا رہے ہیں۔ روس اورا مریکہ میں بھارت کے رشتوں کو متوازن بنانے کی چنوتی ہوگی۔ ویسے ہمیں یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ امریکہ پر ہم اتنا بھروسہ نہیں کرسکتے جتنا روس پر کرتے ہیں۔ہم پتن صاحب کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

افسوس نربھیا کانڈ سے کوئی سبق نہیں لیا!

یہ دوسری نربھیا ہے جس کی جان بچ گئی ۔ ورنہ16 دسمبر 2012ء کی اس خوفناک رات کی طرح اس نربھیا کے ساتھ بھی رونگٹے کھڑے کردینے والی حیوانیت کا مظاہرہ ہوسکتا تھا۔دل دہلادینے والا یہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گوڑ گاؤں کی فائننس کمپنی میں ملازم یہ لڑکی ذرا سی ہوشیاری سے بچ گئی۔ یہ انکشاف جانچ کے دوران سامنے آیا ہے۔ کیب میں آبروریزی کی واردات کو انجام دینے سے پہلے ملزم شیو کمار یادو نے لڑکی کو اس قدر پیٹا تھا کہ اس کا منہ سوجھ گیا۔ملزم نے16 دسمبر2012ء کی اس رات نربھیا جیسا حال بنانے کی لڑکی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے جسم میں لوہے کا سریا ڈال دے گا۔ ملزم شیو کمار نے لڑکی کو قتل کرنے کی دھمکی دی لیکن لڑکی نے ہوشیاری دکھائی اور اس وقت وہ چنگل سے بچنے کیلئے روتے بلکتے ہوئے جیسے تیسے جھانسہ دیکر نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ واقعہ بتاتا ہے کہ دو برس پہلے چلتی بس میں نربھیا کے ساتھ ہوئے ذیادتی کے بعد بنے سخت قانون کے باوجود حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس شرمناک واقعہ کے بعد بیشک پولیس نے 48 گھنٹوں کے اندر ہی ملزم کو پکڑ لیا، مگر اصلی اشو تو عورتوں کی سلامتی کا ہے جسے لیکر پولیس اور انتظامیہ و ہمارا سماج ناکام رہا ہے۔ دہلی میں عورتوں کے خلاف جرائم میں الٹے اضافہ ہورہا ہے۔ دہلی پولیس روز ایسے 40 مقدمات درج کرتی ہے۔ پولیس اسٹیشنوں میں ہر دن کم سے کم 4 معاملے آبروریزی کے آ رہے ہیں جبکہ چھیڑ چھاڑ ، جنسی ہراسانی، گھریلو مارپیٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تازہ اعدادو شمار کے مطابق اس سال15 نومبر تک عورتوں کے خلاف جرائم کے اب تک 1323 معاملے درج ہوئے جبکہ اسی دوران پچھلے سال یہ تعداد11479 تھی۔ 
مرکزی وزیر مملکت داخلہ ہری بھائی چودھری نے راجیہ سبھا میں اٹھے ایک سوال کے جواب میں ان اعدادو شمار کو رکھا ہے۔ اس لحاظ سے اگر دہلی کو ریپ کیپٹل کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ جب بھی ہوئی خوفناک واقعہ رونما ہوتا ہے خاص کر آبروریزی ، تو عام لوگ ہی نہیں ذمہ دار بلکہ سرکاری عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی لاپروائی کے انداز میں آجاتے ہیں۔نربھیا گینگ ریپ کانڈ میں جو غصہ آبروریزوں کے خلاف نظر آیا تھا ویسا ہی غصہ آج ملزم کیب ڈرائیور اور کیب کمپنی اوبر کے خلاف دکھائی پڑرہا ہے۔ لیکن کم ہی لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے۔ دو سال کی اس میعاد میں سڑکوں کو لڑکیوں کے لئے محفوظ بنانے کے نقطہ نظر سے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا جاسکا۔ پولیس اور انتظامیہ مشینری کا نظریہ الٹا بگڑا ہوا دکھائی پڑتا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کئی ملکوں میں اپنی خدمات دینے والی اوبر کمپنی کی جس ٹیکسی میں جو بربریت دکھائی گئی اس میں جی پی ایس سسٹم تو چھوڑیئے اس کے پاس دہلی میں ٹیکسی چلانے کا پرمٹ تک نہیں تھا۔ اس لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر بدفعلی کرنے والا شیو کمار اس سے پہلے بھی اپنی ٹیکسی میں بدفعلی کے معاملے میں جیل کی ہوا کھا چکا ہے اس کے باوجود کمپنی نے اسے پھر رکھ لیا؟ بیشک محکمہ ٹرانسپورٹ نے اوبر کی ٹیکسیوں پر دہلی میں روک لگادی ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ اب تک نیشنل پرمٹ کے نام سے کاروبار کرتی ہے۔ پچھلے ایک دہائی میں راجدھانی میں چلتی گاڑی میں بدفعلی کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جن میں 2010ء کا ڈھولاکنواں معاملہ بھی ہے جس میں اسی برس اکتوبر میں پانچ لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ اس واردات کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ بدفعلی کے معاملے میں سزائے موت جیسا سخت قانون بھی عورتوں کو محفوظ نہیں بنا سکا۔لیکن صرف پولیس انتظامیہ کو الزام دینے سے سخت سے سخت قانون بنانے سے معاملہ حل ہونے والا نہیں۔ جب تک سماج اسے روکنے کے لئے آگے نہیں آتا ایسے معاملات ہوتے رہیں گے۔ کچھ ٹھوس کرنا ہوگا کیونکہ اکیلے دہلی میں ہی نہیں بلکہ تمام میٹرو شہروں میں عورتیں نوکری کے لئے راتوں میں اکیلے سفر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ نربھیا کانڈ سے بھی دہلی میں حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2014

اب ٹیم انڈیا میں بدلے گا 65 برس پرانا پلاننگ کمیشن!

کانگریس حکمراں ریاستوں کے رسمی احتجاج کے باوجود نریندر مودی حکومت نے پلاننگ کمیشن کا ڈھانچہ بدلنے کی سمت میں فیصلہ کرلیا ہے۔ پلاننگ کمیشن اپنی عمر کا 65 واں سال شاید پار نہ کرپائے۔ پہلے وزرائے اعلی کی میٹنگ میں پھر اخباری کانفرنس میں وزیر مالیات ارون جیٹلی نے پلاننگ کمیشن کے بے جواز کو جس طرح سے پیش کیا ہے اس سے شاید ہی کوئی متفق ہو۔ قلیل المدتی ترقی کے لئے پلان بنانے کیلئے اور ریاستوں و مرکز کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کیلئے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے س ادارے کی تشکیل کی تھی۔ اس نے ابتدا میں کچھ دہائیوں تک بیشک ترقی کے کام میں اہم کردار نبھایا تھا لیکن یوپی اے سرکار کے پچھلے10 سال میں اسے مرکز کی ایک ایجنسی کی شکل میں کام کرتے ہوئے زیادہ دیکھا گیا جہاں مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں سے امتیاز برتنا شروع کردیا تھا۔ ریاستوں کا پیسہ ریاستوں کی ترقی کے لئے دیتے ہوئے بھی یہ پلاننگ کمیشن ایسے پیش آتا تھا جیسے کوئی احسان کررہا ہو۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پلاننگ کمیشن کو ٹیم انڈیا کی طرح بدلنے کی خانہ پوری کردی ہے اور اس کا سبھی وزرائے اعلی نے خیر مقدم کیا ہے۔ وزرائے اعلی کی عام رائے تھی کہ پلاننگ کمیشن کو ایسے ادارے کی شکل دی جائے جس میں ریاستوں کی مناسب سانجھے داری ہو اور ان کی ضرورتیں ادارے کے فیصلوں میں جھلکیں۔ موجودہ پلاننگ کمیشن کے ڈھانچے کی اسکیم ہم نے 50کی دہائی میں اس وقت سوویت روس میں رائج سسٹم سے لیا تھا جو کہ دہلی کی ہدایت اور کنٹرول سسٹم پر منحصر تھی۔ اس سسٹم کی سب سے بڑی جو خامیاں تھیں ان میں ریاستوں کو اپنا موقف رکھنے کی گنجائش اور ان کی خاص ضرورتوں پر توجہ دینے کی گنجائش انتہائی محدود تھی۔ 90 کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات کے دور کے بعد دیش کی وقت کے ساتھ بڑھتی ضروریات سے قدم سے قدم ملا کر چلنے میں پلاننگ کمیشن مسلسل ناکامی کی طرف مائل رہا۔ 10 برسوں تک اس پلاننگ کمیشن کے چیئرمین رہ چکے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی رائے دی تھی کہ بازار پر انحصار اور آج کی اصلاحاتی اور کھلی معیشت کے ساتھ ساتھ تال میل بٹھانے کیلئے پلاننگ کمیشن کو اپنے طرز فکر میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ حالیہ برسوں میں گجرات، مہاراشٹر، بہار ، ہریانہ یا کچھ دیگر ریاستوں نے توقع سے بہتر اقتصادی ترقی حاصل کی ہے۔ وہ تو مرکزیت کے ساتھ اور پلاننگ کمیشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان ریاستوں کی حکومتوں کی کوشش کے بوتے پر ممکن ہوئی ہے کیونکہ وزیراعلی رہتے ہوئے خود نریندر مودی نے پلاننگ کمیشن کے جانبدارانہ رویئے کو قریب سے محسوس کیا تھا۔ لہٰذا اس کے موجودہ خاکے میں تبدیلی لانے کے ان کا عزم جائز ہو سکتا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جگہ نئے اداروں میں ریاستوں کی سانجھے داری زیادہ ہوگی۔ مرکز کے ساتھ ریاستوں کی حکومتوں کو بھی پلان بنانے میں حصہ داری کا موقعہ ملے گا۔ مالی معاملوں میں بھی ریاستوں کے نظریئے اور ضرورتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ نئے ادارے کا ڈھانچہ ایسا ہوگا جس میں مرکز، ریاستیں اور کمیشن ایک ٹیم کی شکل میں کام کریں گی۔ کوئی بھی تبدیلی بہتر نتیجے لانے کے لئے ہونی چاہئے کسی کو کمتر بتانے کے لئے نہیں۔ پلاننگ کمیشن کی جگہ کوئی بھی ادارہ بنے وہ مستقبل میں آنکھ بند کر کام نہیں ہوپائے گا۔
(انل نریندر)

کیجریوال کیخلاف ’عام‘ آدمی پارٹی میں بغاوت!

چناؤ میں ہر پارٹی میں باغیوں کی فوج پریشانی کا سبب بنتی ہے اور یہ سبھی پارٹیوں میں ہوتا آیا ہے لیکن عام آدمی پارٹی کے اندر اروند کیجریوال اینڈ کمپنی کیلئے یہ بغاوت خاصی درد سر بنی ہوئی ہے۔ کیجریوال کیلئے اس سے نمٹنے کی چنوتی ہے۔ امیدواروں کی دوسری فہرست میں جن سابق ممبران کے نام نہیں ہیں ان کا نام بھی کٹنا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔ ایسے میں باغیوں کی فوج میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دیکر شاذیہ علمی بھاجپا کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں۔ ’آپ‘ میں شاذیہ ایک واحد مسلم خاتون تھیں۔ شاذیہ کے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی میں اب کوئی جانا پہچانا مسلم چہرہ نہیں ہے۔ ’آپ‘ کے بانی ممبر اشونی اوپادھیائے بھی بھاجپا میں شامل ہوچکے ہیں۔ بھاجپا نے اشونی کو ترجمان بنا کر کیجریوال کے خلاف تلوار چلانے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔جنگپورہ سے اسی پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی اور اسمبلی اسپیکر ایم ایس دھیر بھی بھاجپا میں لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے بھی کیجریوال کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ امبیڈکر نگر سے عام آدمی پارٹی کے سابق ممبر اسمبلی اشوک بھاجپا میں شامل ہوچکے ہیں وہ بالمیکی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف آپ سے وابستہ کرن سنگھ نے کیجریوال کے خلاف ایک مہینے تک جنتر منتر پر مون برت رکھا۔ کرن سنگھ سینکڑوں پرانے ورکروں کے ساتھ اروند کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ’آپ‘ سے انکار پر عام آدمی سینا کی تشکیل کرنے اولے پربھات کمار بھی مسلسل کیجریوال پر سنگین الزام لگاتے ہوئے نکتہ چینی کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی سے معطل لکشمی نگر سے سابق ایم ایل اے ونود کمار بنی نے تو کیجریوال کے خلاف نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے چناؤ لڑنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ حالانکہ پٹیل نگر سے ٹکٹ کٹنے کے بعد ابھی وینا آنند نے کیجریوال کے خلاف منہ نہیں کھولا لیکن ذرائع کی مانیں تو جن سابق ممبران کے نام امیداوروں کی دوسری فہرست میں شامل نہیں کئے گئے ان کا ٹکٹ کٹنا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔ بہرحال ٹکٹ کٹنے پر کچھ اور سابق ممبر اسمبلی بھی بھاجپا میں آسکتے ہیں۔ اگر وہ بھاجپا میں شامل نہیں ہوتے تو کیجریوال کے خلاف ضرور مخالفانہ پروپگنڈہ کریں گے جس کا فائدہ بھاجپا کو ہوسکتا ہے۔ ’آپ‘ پارٹی کے ذرائع کا دعوی ہے جن سابق ممبران کے ٹکٹ کیجریوال کاٹ رہے ہیں ان کے پاس ان کے خلاف کافی ثبوت اور مواد ہے جس کا استعمال وہ اس وقت کریں گے جب یہ سابق ممبر اسمبلی کیجریوال پر حملہ کریں گے۔ کیجریوال اینڈ کمپنی کی پارٹی اس بغاوت سے زیادہ فکر مند نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی اور کیجریوال کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان باغیوں کی فوج سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ باغیوں کی فہرست اور لمبی ہوسکتی ہے جب باقی لوگوں کا ٹکٹ کٹنے کا اعلان ہوگا۔ ابھی چناؤ دور ہیں دیکھیں پولنگ کی تاریخ اعلان ہونے پر کیا حالات بنتے ہیں؟ لڑائی بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہوگی۔ کانگریس ابھی تک کہیں بھی سین میں نہیں ہے۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2014

لوک عدالتوں نے ایک دن میں سوا کروڑ مقدمے نپٹاکر ورلڈ ریکارڈ بنایا!

دیش بھر کی تمام عدالتوں میں سنیچر کے روز لگی دوسری قومی لوک عدالت نے ایک ہی دن میں 1.25 کروڑ سے زیادہ مقدمات کو نپٹاکر ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ قومی جوڈیشیل سروس اتھارٹی کے مطابق اس مہم میں ایک ہی دن میں دیش میں التوا میں پڑے مقدمات میں 9 فیصدی کی گراوٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ لوک عدالت نے ٹرانسپورٹ حادثات میں تین ہزار کروڑ روپے کے دعوؤں کو بھی نپٹایا ہے۔ پچھلے سال شروع ہوئی قومی لوک عدالت نے دیش بھر کے71.50 لاکھ مقدمات کا نپٹارا کیا گیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق ایک دن میں اتنے زیادہ مقدمات کا نپٹارا آج تک کسی بھی دیش میں نہیں ہوا۔ جن معاملوں میں سب سے زیادہ نپٹان ہوا ان میں بینک قرضوں کی وصولی، سڑک حادثے، چیک باؤنس اورخاندانی معاملے وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لوک عدالت میں ان معاملوں کو لیاگیا جو طویل عرصے سے التوا میں تھے۔ مقدمہ داخل کرنے کی پہلے کی حالات میں تھے۔لوک عدالت کے ذریعے سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گئے53 معاملوں میں سے 28 کا فیصلہ ہوا۔ سنیچر کی صبح سپریم کورٹ کمپلیکس میں دوسری لوک عدالت کا آغاز جسٹس اے ۔آر دوی نے کیا۔ اس موقع پر جسٹس دوے صاحب نے اپیل کی کہ لوگ اپنی ضد کو چھوڑ کر فراخدلی دکھاتے ہوئے معاملوں کا تصفیہ کریں۔ راجدھانی دہلی میں لوک عدالت نے التوا میں پڑے 62 ہزار مقدموں کا نپٹارا کیا۔ آپسی بات چیت کے ذریعے لوک عدالت میں ڈائریکٹ ٹیکس کے مقدمات میں قریب65 کروڑ روپے کی معاہدہ رقم بھی دی گئی ہے۔ ان مقدمات میں دیوانی، چیک باؤنس، بجلی، ٹریفک، سڑک حادثے، چھوٹے موٹے مجرمانہ و جہیزی معاملے بھی شامل تھے۔دہلی ہائی کورٹ ضلع عدالتوں پٹیالہ ہاؤس ، تیس ہزاری، کڑکڑ ڈوما، روہنی، ساکیت و دوارکا میں تقریباً90 ہزار معاملوں کی سماعت ہوئی۔ ان میں سے61951 مقدموں کا نپٹارا آپسی بات چیت اور سمجھوتہ رقم کے تبادلے کے ساتھ ہوگیا۔ جن معاملوں میں دونوں فریقوں میں رضامندی نہیں ہو پائی انہیں واپس متعلقہ عدالتوں میں سماعت کیلئے منتقل کردیا گیا۔ سنیچر کو مختلف عدالتوں میں 201 جج بیٹھے اور 26 کروڑ53 لاکھ روپے کی سمجھوتہ رقم دی گئی۔ دیوانی اور سڑک حادثوں کے مقدمات میں یہ پیسہ لیا اور دیا گیا۔ سپریم کورٹ کی اس پہل کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ دیش میں کروڑوں مقدمات التوا میں پڑے ہیں۔ تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے ان میں سے زیادہ تر مقدمے خاندانی جھگڑے اور چوری وغیرہ کے ہوتے ہیں جن کا نپٹارا ایک دو پیشی میں ہوسکتا ہے۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بند ہیں یا تو وہ چوری کے مقدمے میں یا موبائل چوری یا چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث تھے۔ ان کی جیل کے اندر کبھی اتنی لمبی تاریخ ہوجاتی ہے جتنی سزا نہیں ہوتی اتنے وقفے تک رہنے سے ان کے روابط خطرناک جرائم پیشہ سے قائم ہوجاتے ہیں اور ان کی اصلاح ہونے کی بجائے وہ شاطر بدمعاش بن کر نکلتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو اس مسئلے پر بھی بلا تاخیر توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)

مزدوروں کی ہڑتال سے پی ایم مودی کے’ میک اِن انڈیا‘ کو دھکا لگے گا!

جس طرح سے مختلف سیکٹروں کے مزدور ہڑتال پر جانے کیلئے آمادہ ہیں اس سے جہاں دیش میں پروڈکشن پر اثر پڑتا ہے وہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی ’میک اِن انڈیا‘ مہم کو بھی دھکا لگ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں بینکوں کی ہڑتال نے پوری معیشت کو دھکا پہنچایا۔ اب اگر لاکھوں مزدور ہڑتال کے پلان پر عملی جامہ پہنادیں تو پبلک اور پروڈکشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان میں کوئلہ بندرگاہ ،ڈیفنس پروڈکشن کارخانے اور ریل میں کام کرنے والے بچہ مزدور 11 دسمبر کو بڑی ہڑتال کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ بینک نے 2 دسمبر سے 5 دسمبر تک الگ الگ شہروں میں ہڑتال کی تھی۔ممبئی میں ہڑتال ٹالنے کیلئے پیر کو ڈپٹی چیف لیبر کمشنر نے بینکوں کی یونین کی میٹنگ بلائی لیکن وہ بے نتیجہ رہی۔دوسرے سیکٹروں کے ملازمین ایف ڈی آئی، بزنس اور سرکار کی مزدور مخالف پالیسیوں کے خلاف ہڑتال کرنا چاہتے ہیں۔ اس بار کی ہڑتال بڑی ہوسکتی ہے کیونکہ سبھی سیاسی پارٹیوں کی مزدور تنظیمیں ایک ساتھ آگئی ہیں۔ اس کے بڑھنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں کئی سیکٹروں کے مزدور شامل ہوسکتے ہیں۔ کوئلہ مزدور یونینوں نے دہلی میں دوسری انجمنوں سے کہا ہے کہ وہ کوئلہ پروڈکشن ٹھپ کرنے پر غور کررہی ہیں۔ وہیں بندرگاہ پر کام کاج کرنے والے 46 ہزار مزدوروں کی تنظیم کہہ رہی ہے کہ وہ مال کی ڈھلائی اور اترائی بند کرسکتے ہیں۔ڈیفنس پروڈکشن کی انجمنیں بھی ہڑتال پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ دوسری تنظیمیں بھی اس کے ساتھ ہیں۔ ڈاک محکمے کے ملازمین نے بھی اسی طرح سے تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہڑتال کو لیکر دہلی میں مسلسل میٹنگیں ہورہی ہیں۔11 دسمبر کو ہڑتال کی تاریخ طے کرنے کے لئے ساری مزدور فیڈریشن کی بڑی میٹنگ دہلی میں رکھی گئی ہے۔ نئے محنت اور روزگار وزیر ونڈارو دتہ کی مزدور یونینوں کے ساتھ پہلے دور کی بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے تو وزیر کی اپیل کو بھی نامنظور کردیا ہے۔ 
مودی سرکار کے خلاف ملک گیر مظاہرے نہیں کئے جائیں انٹیک کے چیئرمین سنجیوا ریڈی کہتے ہیں کہ سرکار کے مزدور مخالف چہرے کو عوام کے بیچ مل کر اجاگر کیا جائے گا۔ اس کے ایک نیتا گوروداس داس گپتا اور سیٹو کے لیڈر تپن سین کا کہناہے کہ سڑک پر نہیں پارلیمنٹ میں مزدوروں کی آواز بلند کی جائے گی۔ کوئلہ مزدوروں کا معاملہ پچھلے دنوں مارکسوادی پارٹی کے ایم پی تپن سین نے راجیہ سبھا میں بھی اٹھایاتھا۔ وہیں ایم ایم ایس کے سکریٹری جنرل ایم۔ ایس سدھو نے کہا کہ ریل ملازم بے میعادی ہڑتال پر جانے کی تیاری کررہے ہیں اور کوئلہ بندرگاہ ڈیفنس پروڈکشن، کارخانوں اور ڈاک سمیت کئی سینکڑوں کی مزدور یونینیں ساتھ ہیں اس لئے اس بار کی ہڑتال اب تک کی سب سے بڑی ہوگی۔ امید کی جاتی ہے کہ وقت رہتے مودی حکومت ہڑتال کو ٹالنے اور مزدوروں کی انجمنوں کی جائز مانگوں پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ہڑتالوں سے چوطرفہ نقصان ہوتا ہے، فائدہ کسی کو نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2014

اوبامہ کے دورہ ہند سے پہلے تیز ہوئے آتنکی حملے!

کشمیر میں جمعہ کو ہوئے خوفناک دہشت گردانہ حملوں سے اس وقت ملک بھر میں پوری طرح الرٹ ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تو اب راجدھانی دہلی پر آتنک وادی حملے کا خطرہ منڈرارہا ہے۔ جموں و کشمیر میں دو مرحلوں میں ہوئی پولننگ سے آتنک وادی بوکھلا گئے ہیں۔ جہاں جہاں حملے تیز کر لوگوں کے حوصلے پست کرنے میں لگ گئے ہیں اس کے ساتھ ہی ان کی کوشش ہے کہ عام لوگوں کو اتنا خوفزدہ کردیا جائے تاکہ وہ پولنگ مراکز پر پہنچنے میں ہچکچائیں۔ اگلے مرحلے کی پولنگ9 دسمبر کو ہے اور وزیراعظم نریندر مودی پیرکو کشمیر پہنچے۔اس سے پہلے بری فوج کے سربراہ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ نے شہیدجوانوں کو شردھانجلی پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی قربانی ذائع نہیں جائے گی۔ فوجی حکام کے ساتھ میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ دراندازوں کو کسی بھی حالت میں سرحد پار نہ کرنے دی جائے گی اورانہیں کنٹرول لائن پر ہی مار گرادیا جائے۔ وادی میں امن اور جمہوریت کے ماحول کو بگاڑنے کی ہر ممکنہ سازش کو پوری طاقت سے ناکام کیا جائے۔ پوری میں مارے گئے آتنک وادیوں کے پاس سے برآمد سامان کی جانچ پڑتال سے پتا چلا ہے کہ سامان پاکستان میں تیار کیا گیا تھا۔ بھارت کے پاس اس بات کے بھی پختہ ثبوت ہیں کہ لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین چاہتے ہیں کہ وادی کے ساتھ ہی دیش کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ واقعات بڑھیں۔ کشمیر کے بعد ان کا سب سے بڑا نشانہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی مانیں تودہلی میں بڑے آتنک وادی حملے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ خطرہ کتنا بڑا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے نارتھ ڈسٹک نے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اب تک سب سے بڑے حفاظتی انتظامات کے تحت اسپیشل کمانڈو کو اتاردیا ہے۔ اے۔کے47 اور ایم ۔ پی5 جیسے جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح اس ٹیم کا ایکشن منٹ میں نہیں بلکہ سکنڈروں میں ہوگا۔ آتنکی حملہ ہونے پر ان کے پاس سیدھے گولی مارنے کے آدیش ہیں۔ جموں و کشمیر میں جمعہ کو ہوئے حملوں کو دیکھتے ہوئے بیحد سنجیدگی سے اس لئے بھی لیا جارہا ہے کیونکہ یومیہ جمہوریہ پر امریکی صدر براک اوبامہ تشریف لا رہے ہیں اور آتنک وادیوں اور ان کے سرغناؤں کی اوبامہ کے دورہ ہند سے پہلے دہلی کو دہلانے کا منصوبہ ہے۔ خفیہ محکموں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر کے دورۂ ہند سے پہلے دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ دہلی میں ممبئی میں 26/11 جیسی واردات کو انجام دے سکتے ہیں جس سے اوبامہ کو بھارت آنے سے روکا جاسکے۔ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں خفیہ ایجنسیوں کو اگلے کچھ دنوں تک کلی طور پر چوکس رہنا ہوگا۔کنٹرول لائن کشمیر وادی اور نئی دہلی اور تینوں مقامات پر حملے ہوسکتے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں مقامی لوگ آتنک واد سے جڑ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ جمعہ کو تابڑ توڑ حملوں میں جموں و کشمیر میں پچھلے 7-8 برسوں میں ایک بھی حملہ نہیں ہوا تھا لیکن اب ایک دن میں ہی چار حملے کردئے گئے اور اتنے سکیورٹی جوانوں کی موت بھی نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان دراندازی کرانے پر تلا ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے سخت جواب دینا ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے بری فوج کے جنرل سہاگ کو ہر طرح کی جوابی کارروائی کرنے کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔
(انل نریندر)