Translater

11 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ سے کانگریس اور سپا میں زیادہ جوش

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا پہلا دور پورا ہوگیا ہے۔بارش کے باوجود بدھوار کے روز ووٹوں کی بھی برسات ہوئی۔ اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے دوران بارش اور سرد ہوائیں بھی ووٹروں کا جوش ٹھنڈا نہیں کرسکیں۔ اسے ووٹروں کی بیداری کہیں یا انا ہزارے و چناؤ کمیشن کی مہم کا نتیجہ۔ آزادی کے بعد ریاست میں پہلی بار 62 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ خاص بات یہ بھی رہی کہ پولنگ پوری طرح پرامن رہی نہیں تو یوپی چناوی تشدد کے لئے مشہور ہے لیکن پہلے فیس میں کہیں سے بھی تشدد تو دور چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بھی شکایت نہیں ملی۔ بھاری پولنگ کو سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے لے رہی ہیں اور اپنے انداز سے مطلب نکال رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ مانی جارہی ہے کہ ساری پولنگ کبھی بھی حکمراں پارٹی کو نہیں بھاتی مانا یہ ہی جاتا ہے کہ ووٹر اقتدار کے تئیں ناراضگی جتانے کیلئے ہمیشہ جذبہ دکھاتا ہے۔اس بار کے چناؤ میں سب سے بڑی پہیلی یہ ہے کہ اترپردیش کے قریب 46 فیصدی نوجوان ووٹر (18 سے39 برس) سے تقریباً55 لاکھ ووٹر 18 برس کے ہیں ۔ ایک کروڑ سے اوپر ایسے ووٹر ہیں جو پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اہم اشو یہ بھی ہے کہ نوجوان طبقے کا یہ ووٹ کیا کرشمہ دکھائے گا؟ اس طبقے کو سیاست میں کم دلچسپ ہی بلکہ اپنے کیریئر اور مستقبل ، نوکری وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔ نوجوان طبقہ چاہے شہری علاقے کا ہو یا دیہی علاقے کا وہ اپنے مستقبل کو لیکر کہیں زیادہ بے چین رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سیاست میں جھاڑو لگاکر کچھ صفائی کا کام کرسکتا ہے۔ کرپشن یا سیاست کے جرائمی ٹرینڈ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ختم کرنے میں دلچسپی دکھاتا ہے۔ اسی طبقے میں ریاست کی خوشحالی اور سرکار کے استحکام اور روز گار کے نئے مواقع جیسے اشو کو ترجیح دے کر تبدیلی لانے کی اہلیت ہے۔ اس لئے شاید ہر بڑی سیاسی پارٹی نے چاہے روزگار ہو یا مفت لیپ ٹاپ جیسے لالچ نوجوانوں کے سامنے رکھے ہیں۔ اس نئے طبقے کے ووٹروں کی وجہ سے اگر راہل گاندھی کانگریس کو تقویت دے رہے ہیں تو اکھلیش یادو سپا کے ترپ کے پتے بن گئے ہیں۔ بسپا اور بھاجپا میں اس طبقے کے طاقتور لیڈروں کی کمی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اترپردیش میں چناؤ کا آخری سیاسی نتیجہ جو بھی ہو پہلے مرحلے کی پولنگ نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ عام طور پر مایوس رہنے والے ووٹروں کا زمانہ گیا۔ ان امیدواروں کے لئے بھی امید کی کرن مدھم ہوگئی ہے جو محض 20-20 فیصدی ووٹ لیکر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ امید یہ جتائی جارہی ہے کہ باقی کے چھ مرحلوں میں60فیصدی کو بھی پار کرسکتا ہے۔ بہرحال ریاست کی 55 سیٹوں پر پر امن پولنگ کے باوجود چیلنج کم نہیں ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں اب تک جن 15 لاکھ سے زیادہ مشتبہ افراد کو پکڑا گیا ہے ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ ان سیٹوں والے حلقوں کے ہیں۔ پوری ریاست میں اب تک 33 کروڑ نقدی کے ساتھ ساتھ 4345 غیر قانونی ہتھیار،6636 کارتوس اور 243415 لیٹر غیر قانونی شراب ضبط کی گئی ہے۔
بدھ کے روز ہوئے پہلے مرحلے کے چناؤ کے دوران کانگریس۔ سپا اوربسپا جیسی پارٹیوں کی سانسیں اٹکی رہیں۔ دوپہر سے پہلے بیحد دھیمی پولنگ رہی جس سے کانگریس کافی تشویش میں پڑ گئی لیکن شام کو آئی اچانک تیزی نے پارٹی میں نیا جوش بھردیا۔پہلے مرحلے کی پولنگ میں جن سیٹوں پر ووٹ پڑے ان میں کانگریس کو اچھی خاصی امید ہے۔ان 10 ضلعوں میں اسمبلی کی 55 سیٹیں آتی ہیں جن میں سے کانگریس کو 10سے15 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس علاقے میں پارٹی کو دیگر پسماندہ طبقے اور مسلمان ووٹروں سے کافی امید ہے وہ کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ کو کانگریس اس لئے بھی اہم مان رہی ہے کیونکہ اس سے صوبے کا ٹرینڈ پتہ چلے گا۔ اس مرحلے میں کانگریس کی طرف سے ووٹروں کا رجحان بھی دکھائی دیا تو یہ باقی مرحلوں میں بھی اپنا اثر دکھا سکتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی کرم کانڈی ٹوٹکے جیسی وجہ ہی لگتی ہے۔ جن 10 ضلعوں میں 55 سیٹوں کے لئے پولنگ ہوئی ان علاقوں میں 2007 کے اسمبلی چناؤ اور 2009 کے لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کا تجزیہ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس علاقے میں مسلم، دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹ زیادہ ہیں جن پر کانگریس نے پورے چناؤ کے دوران زور دیا ہے۔ کانگریس پولنگ سے ٹھیک پہلے یہ صاف اشارہ دینے میں لگی ہے کہ پارٹی اس بار اپنے دم پر ہی سرکار بنا لے گی۔ راہل گاندھی نے کئی جلسوں میں اور سونیا گاندھی نے اوناؤ میں اپنی آخری چناؤ ریلی میں کہا کانگریس کسی کے ساتھ تال میل نہیں کرے گی۔ اس سے صاف اشارہ دینا تھا کہ کانگریس سرکار بنانے کے لئے کافی مطمئن ہے۔ اس کے پیچھے ان موقعہ پرست ووٹروں کو بھی پٹانا تھا جو آخر تک دیکھتے رہتے ہیں کہ سرکار کس کی بنے گی۔ اگر کانگریس بہت حوصلہ افزا ہے تو جوش سماج وادی پارٹی میں بھی انتہا پر ہے۔ سپا کا دعوی ہے کہ اگلی سرکار اس کی ہی بنے گی۔ اکثریت میں کمی رہی تو اس کا بھی انتظام ہوجائے گا۔ پارٹی کا دعوی ہے اکھلیش یادو کی چناؤ ریلیوں میں جس قدر بھیڑ اکھٹی ہورہی ہے اس سے مستقبل کے اشارے صاف دکھائی پڑ رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے الگ رکھنے کے اکھلیش یادو کے فیصلے سے تمام ان طبقوں میں بھی پارٹی سے قربت بڑھی ہے جو سپا سے ماضی میں دور رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس بار بہوجن سماج پارٹی کے تمام قلعے ڈھہ جائیں گے۔کہنا ہوگا کہ یہ چناؤ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کے سبھی پارٹیوں نے اپنے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ دوسروں پر خاص توجہ دی ہے۔ ان ووٹروں میں برہمن، راجپوت جیسی بڑی قومیں ، یادوں کو چھوڑ کر دوسرے پسماندہ طبقات وغیرہ وغیرہ ، مسلم ووٹ شامل ہیں۔ اور ان سبھی کے درمیان زبردست غور وخوض چل رہا ہے۔ کانگریس اور سپا کی طرف سے دلت قومیں بھی جاٹوں بنام غیر جاٹوں کی بنیاد پر اس منتھن کی کوشش ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کا دلت خاندانوں کے بیچ جا کر اٹھنا بیٹھنا اسی نظریئے سے دیکھا جارہا ہے۔ بہرحال ان سبھی کی کوششوں کے آخری نتیجوں کو اپنے حق میں لیکر جو پارٹیاں دعوی کررہی ہیں ان میں کانگریس سب سے آگے ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ کانگریس کے پاس اس چناؤ میں پانا ہی پانا ہے کھونا کچھ نہیں ہے۔ کانگریس کے تجزیہ نگار اسی بنیاد پر مان رہے ہیں کہ اس مرحلے میں پڑے ووٹوں کواس کے حق میں مان لیا جائے تو اگلے مرحلے میں بھی ووٹروں کارجحان اثر دکھا سکتا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 فروری 2012

کرناٹک ودھان سبھا میں ’ڈرٹی پکچر‘ کا قصہ

بھاجپا زیر اقتدار کرناٹک سرکار نے ایک بار پھر پارٹی کی جم کر فضیحت کروادی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب اترپردیش میں ودھان سبھا چناؤ کے ووٹ ڈلنے شروع ہوگئے ہیں۔سنسکرتک راشٹرواد کی جھنڈا بردار اس پارٹی کو کرناٹک کے اعلی نیتاؤں نے خاصہ کرارا جھٹکا دیا ہے۔ سرکار کے تین منتری ودھان سبھا میں ننگی لڑکیوں کی تصویریں یعنی بلو فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنے کیمرے میں ان تین منتریوں کی کرتوت پکڑی۔اس سے جم کر ہنگامہ ہوا۔ اترپردیش کے چناؤ کو دیکھتے ہوئے پارٹی اعلی کمان نے بغیر دیری کے تینوں کے استعفے مانگ لئے جو منظور بھی ہوگئے ہیں۔ کرناٹک ودھان سبھا میں منگلوار کو جس وقت پاکستانی جھنڈا لہرانے پر بحث ہورہی تھی ٹھیک اسی وقت یہ تینوں نیتا اپنے موبائل کی کلیپنگ دیکھ رہے تھے۔ یہ ہی نہیں کچھ ہاٹ تصویریں دیکھ کر یہ ایک دوسرے سے اشلیل اشارے بھی کررہے تھے۔ یہ سب حرکتیں کیمرے میں قید ہوگئیں۔ مقامی چینل نے ان میں سے کچھ تصویریں شائع بھی کردیں۔ شرمسار کر دینے والی اس گھٹنا کے ایک دن پہلے ہی اس بات کو لیکر بحث جاری تھی کہ سرکار نے منگلور کے سمندری کنارے پر ریو پارٹی کی اجازت کیسے دی؟ الزام لگا تھا کہ ٹورزم کے بڑھاوے کے نام پر سرکار نے اس فحش ریو پارٹی کی اجازت دے دی۔ اسپارٹی میں ڈرگس اور شراب کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ پارٹی میں کئی ودیشی لڑکیوں نے اپنے کپڑے اتار کر جشن منایا تھا۔ اس کی تصویریں بھی ایک چینل کے کیمرے میں آگئی تھیں،اسی درمیان اچھے کریکٹر کی دہائی دینے والی پارٹی کے منتریوں نے ودھان سبھا احاطے میں ہیں ڈرٹی پکچر دیکھ کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس تنازعے کے چلتے یوپی میں پارٹی کی چھوی کو دھکا لگ سکتا ہے۔اس معاملے سے شرمسار بھاجپا رہنماؤں نے پارٹی کی چھوی کو ہوئے نقصان کو کم کرنے کے لئے سہکارتا منتری لکشمن سابدی اور مہلا اور بال وکاس منتری سی سی پارٹل کو عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا جبکہ تکنیکی منتری کرشنا پالیمر کو دونوں منتریوں کو مبینہ طور سے بلو فلم دینے کے لئے برخاست کردیا۔ اس سال یکم جنوری کو بیجا پور ضلع میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر منگلوار کو بحث چل رہی تھی اسی وقت سابدی اور پاٹل موبائل پر فحش فلم دیکھ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق منتریوں کا استعفیٰ لینے کا دباؤ منگلوار رات میں لال کرشن اڈوانی نے بنایا تھا۔ اس کے بعد پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے تینوں سے استعفے مانگ لئے تھے۔ اعلی کمان نے مکھیہ منتری سے کہہ دیا تھا کہ آدھی رات تک تینوں منتریوں کے استعفے نہیں آتے تو انہیں برخاست کردیا جائے۔دہلی سے آئے اس فرمان کے بعد ہی تینوں نے آدھی رات کے بعد استعفیٰ بھیجا تھا۔ویسے کرناٹک کے سابق مکھیہ منتری بی ایس یدی یرپا نے میڈیا سے کہا تھا کہ منتریوں کے استعفے کے بعد اور چمتکار ہوجائے گا کیونکہ محض کچھ تصویریں دیکھنے کیلئے ہم نے اپنے منتریوں کو اتنی بڑی سزا دے دی ہے۔ یدی یرپا کے اس تبصرے کو لیکر دہلی میں بھاجپا کئی بڑے نیتا حیران ہیں۔ پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے کہا ہے کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے کسی نیتا کو رعایت نہیں دینے والے جبکہ کانگریس ایسی ہمت نہیں دکھاتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Dirty Pictures, Karnataka, Nitin Gadkari, Sex, Sexy Photo, Vir Arjun, Yadyurappa

09 فروری 2012

مغربی ممالک اپنی رائے سیریا پر نہیں تھونپ سکتے


سیریا کے اندرونی حالات بہت خراب ہیں۔وہاں ایک گرہ یدھ چھڑا ہوا ہے۔ وہاں راشٹرپتی برارالاسد کی فوج اور ان کا تختہ پلٹنے میں لگے باغیوں میں جم کر لڑائی ہورہی ہے۔منگلوار کو مختلف شہروں میں ہوئی کارروائی میں درجنوں لوگ مارے گئے۔ راشٹرپتی اسد کے فوجیوں نے ہومز شہر میں مورٹارڈ سے حملہ کیا جبکہ راجدھانی کے نزدیک ایک شہر میں بھی جارحانہ کارروائی کی۔ادھر سرکاری میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ مغربی عندلیب صوبے میں ہتھیار بند دہشت گردانہ حملے میں تین فوجی مارے گئے۔ سرکاری فوج مخالفوں پر ہیلی کاپٹروں اور ٹینکروں سے کارروائی کررہے ہیں۔ راجدھانی دمشق کے ارد گرد کے شہر باغیوں کے قبضے میں آگئے ہیں۔گذشتہ مارچ سے قریب سات ہزار اشخاص کی موت ہوچکی ہے۔ پچھلے دسمبر کو ارب لیگ نے سنگھرش روکنے کیلئے 200 آبزرور بھیجے تھے لیکن یہ بھی لڑائی روکنے میں ناکام رہے۔ باغیوں کی مدد امریکہ اور کچھ مغربی دیش کررہے ہیں۔ سیریا میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو لیکر پریشان امریکہ نے اپنی امبیسی بن کردی ہے۔ امریکی ودیش منترالیہ کے ترجمان وکٹوریہ جولینڈ نے منگلوار کو کہا کہ سیریا میں امریکی امبیسڈر رابرٹ فوڈ سمیت امبیسی کی سبھی ملازموں کو واپس بلا لیا ہے۔ کئی خلیجی ممالک کے سہیوگ پریشد نے بھی سیریا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے دمشق سے اپنے امبیسڈروں کو واپس بلانے اور اپنے یہاں سیریا کے امبیسڈروں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر سیریا کے راشٹرپتی الاسد نے ایک بار پھر ملک میں لڑائی روکنے اور اپوزیشن سے بات کرنے کا وعدہ کیا۔ الاسد نے یہ بھروسہ سیریا کے دورے پر گئے ودیش منتری سرگوئی لاروف کو دلایا۔ سیریائی اپوزیشن نے کہا ہے کہ راشٹرپتی کھوکھلے وعدے کررہے ہیں۔ سیریا میں روسی ودیش منتری کے سواگت میں ہزاروں کی بھیڑ دمشق کی سڑکوں کے کنارے جمع تھی۔ لوگ سڑکوں کے کنارے اور شہر کے اہم چوراہوں پر جھنڈے لیکر کھڑے تھے اور اسے ہلاکر سرگوئی لاروف کا استقبال کررہے تھے۔ باغی گذشتہ مارچ سے راشٹرپتی اسد کا تختہ پلٹنے کی سازش میں جٹے ہوئے ہیں لیکن اتنے دن گذرنے کے بعد بھی وہ جیت نہیں پائے۔ وجہ صاف ہے ،سیریا کی فوج اور عوام کا ایک بڑا حصہ پوری طرح اسد کے ساتھ ہے۔ سیریا ۔لیبیا نہیں جس کا آسانی سے تختہ پلٹ ہوسکتا ہے۔ یو ایس اے بھی ملک میں شانتی بحالی کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ بھی ناکام رہا۔ اتحادی سبھا کی سکیورٹی کونسل میں جو پرستاؤ لایا گیا تھا اصل میں وہ ارب لیگ سے متاثر تھا۔ تقریباً دو دہائی بعد سکیورٹی کونسل میں لوٹے بھارت نے اس پرستاؤ کی تائید میں ووٹ دیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت نے مغربی ممالک کا دم چھلا بن کر یہ قدم اٹھایا۔ دراصل اس کا یہ قدم ارب لیگ اور سیریا کے ساتھ اس کے اتہاسک تعلقات پر منحصر ہے۔ یہ ہی نہیں سیریا کے خلاف کھڑے گلف کوآپریشن کونسل کے بحرین ، کویت،عمان، قطر، سعودی ارب اور یو اے ای میں تقریباً 50 لاکھ بھارتیہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت جمہوریت کی تائید اور امن قیام کے حق میں ہے اور چاہتا ہے کہ سیریا کے رہنماؤں کا فیصلہ اس دیش کے لوگ ہی کریں۔ یوروپی ممالک اور امریکہ کی نظر سیریا کے تیل پر ہوسکتی ہے لیکن سیریا پر کون راج کرے گا اس کا فیصلہ صرف وہاں کی عوام کی کر سکتی ہے۔

کیا جنرل سنگھ کے خلاف حکمت عملی کے تحت سازش رچی گئی؟



Published On 9th February 2012
انل نریندر
بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازعے کے پیچھے کیا اقتدار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے سازش رچی تھی؟ کم سے کم آر ایس ایس کے مطابق تو یہ سارا تنازعہ ایک حکمت عملی کے تحت کھڑا کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس نے اپنے اخبار آرگنائزر میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کے مطابق اقتدار میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے جنرل وجے کمار سنگھ کو وقت سے پہلے ریٹائرڈ کرنے کی سازش پچھلے سال ہی تیار کرلی تھی۔ سنگھ نے اخبار آرگنائزر کے ذریعے سے فوج کے سربراہ کی کھل کر حمایت کی ہے اور ان کے خلاف سرکار کے سخت رخ کو جنرل سنگھ کی ایمانداری کا نتیجہ بتایا ہے اور کہا کہ کانگریس پارٹی کے لئے وہ ڈیفنس سودے میں آڑے آرہے ہیں۔ فوج کے سربراہ کے خلاف سرکار کے اندر اور باہر خاص طور سے کانگریس پارٹی کے اندر بیٹھے لوگوں کی سازش کا یہ دعوی ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے عمر کے تنازعے پر ان کی عرضی پر سرکار کو اپنا حکم واپس لینے کو کہا ہے۔ قانونی ماہرین اور واقف کار ذرائع نے اس بات کاپختہ امکان ظاہر کیا ہے کہ سرکار اپنا 30 دسمبر کا وہ حکم واپس لے لے گی جس کے ذریعے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے فوج کے سربراہ کی آئینی عرضی کو مسترد کردیا تھا۔ وزیر دفاع کے ذریعے اپنی شکایت خارج ہونے پر ہی جنرل سنگھ نے 16 فروری کو سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس کی سماعت ہورہی ہے۔ سازش کے پہلو کی بنیاد کو گناتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اقتدار میں سینئر عہدے پر بیٹھے لوگوں نے طے کیا کہ جنرل سنگھ کی جگہ اپنا آدمی معمور کرنا چاہئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یوپی اے محاذ حکومت کے عہد میں بڑی تعداد میں ہوئے ڈیفنس سودوں کو اس تنازعے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کی ایمانداری سرکار کے اندر اور باہر اور کانگریس پارٹی کے ڈیفنس سودے کرنے والوں کو راس نہیں آرہی تھیں۔ 'واٹ اے شیم ڈاکٹر سنگھ 'کے عنوان سے اداریہ میں سنگھ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی خاموشی بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سنگھ نے صدر اور دیش کے سپریم کمانڈر سے درخواست کی ہے کہ انہیں مشکل کے اس دور میں وزیر اعظم کے سامنے اپنے من کی بات رکھنی چاہئے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ جب عزت پر کیچڑ اچھالی جارہی ہو تو چپ رہنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ جنرل وی کے سنگھ نے آواز اٹھا کر ٹھیک ہی کیا ہے۔ جس طرح کا رد عمل ان کے قدم پر سامنے آیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں ،سارا دیش ان کے ساتھ ہے۔ پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ ہماری تشویش سرکار کے فیصلے کو لیکر نہیں ہے بلکہ تشویش فیصلے لینے کے عمل کو لیکر ہے جو غلط ارادے سے لیا گیا لگتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ کی شکایت کو سرکار نے غور کے لائق نہیں مانا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس سپریم کورٹ جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ سنگھ کے الزامات میں کتنا سچ ہے یہ تو سرکار ہی بہتر جانتی ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ معاملہ بڑی آسانی سے سلجھ سکتا تھا۔ جنرل سنگھ کی پیدائش آرمی ہسپتال میں اگر ہوئی تھی تو اس ہسپتال سے تاریخ پیدائش کیوں نہیں پوچھ سکتے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, RSS, Supreme Court, Vir Arjun

ششی کلا نے رچی تھی جے للتا کا تختہ پلٹ کی سازش



Published On 9th February 2012
انل نریندر
اقتدار کا نشہ بہت بری چیز ہے۔ ایک بار اس کا چسکا لگ جائے تو نہ تو رشتے داری آڑے آتی ہے اور نہ ہی دوستی۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور ان کی سہیلی ششی کلا کی کہانی پچھلے 25 سالوں سے سیاست کے گلیاروں میں سنی جارہی ہے۔ لیکن اچانک خبر آئی کہ جے للتا نے نہ صرف ششی کلا بلکہ ان کے سارے رشتے داروں کو اپنے گھر سے ہی نکال دیا ہے۔ آخر دونوں سہیلیوں کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ کبھی ششی کلا کے لڑکے کی شادی پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والی جے للتا نے ایسا سخت قدم اٹھایا۔ ''تہلکہ'' میگزین نے دعوی کیا ہے کہ ششی کلا نے صرف جے للتا کے چاروں طرف اپنے آدمی بٹھا رکھے تھے اور سرکار کے ہر فیصلے میں وہ دخل دے رہی تھیں بلکہ جے للتا کو سلو پوائزن دے کر تاملناڈو کا تاج پانے کی سازش رچی تھی۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور بھاجپا کی کرناٹک سرکار نے جے للتا کو بروقت آگاہ کر انہیں بچا لیا۔ جے للتا کو زہر دینے کا کام ششی کلا اپنی خاص نرس کی مدد سے انجام دے رہی تھی۔ مودی کے بتانے پر جے للتا نے ششی کلا اور ان کے رشتے داروں کی نگرانی کرانا شروع کردی اور آخر میں 17 دسمبر کو ششی کلا اور ان کے رشتے داروں سمیت 12 افراد کوپارٹی سے نکال دیا۔ تہلکہ کے مطابق مودی کے ذریعے آگاہ کئے جانے کے بعد جے للتا نے 'منرگڈی مافیہ' کی حرکتوں پر غور کرنا شروع کردیا۔ منرگڈی تروورو ضلع کا ایک قصبہ ہے اور ششی کلا یہیں کی رہنے والی ہے۔ تاملناڈو میں ششی کلا اور ان کے رشتے داروں کو منر گڈی مافیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ مافیہ جے للتا کا تختہ پلٹ کرنے کی سازش میں لگا ہوا تھا۔ وہ جے للتا کی بنگلورمیں چل رہے آمدنی سے زیادہ املاک کے معاملے میں پریشانیوں سے پیدا حالات کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مودی نے جے للتا کو بتایا کہ ششی کلا اور ان کے خاندان کی ناجائز مانگوں کی وجہ سے بڑے سرمایہ کار تاملناڈو میں سرمایہ کاری کرنے سے کترارہے ہیں۔ ایک این آر آئی تاملناڈو میں پیسہ لگانے کے لئے آیا تھا لیکن جب اس سے منرگڈی مافیہ نے75 فیصدی حصہ مانگا تو اس نے گجرات کا رخ کرلیا۔ مودی نے یہ بات فوراً جے للتا کو بتائی۔ ایسے ہی ایک دو اور قصے سامنے آئے ۔ تہلکہ کے مطابق جے للتا کو یہ خفیہ جانکاری ملی تھی کہ برسوں سے جو دوائیاں لے رہی تھیں ان میں دھیما زہر ملا ہوا تھا۔ شک ہونے کے بعد اچانک جے للتا بغیرششی کلا کو کچھ بتائے شہر کے ایک نامی گرامی ڈاکٹر سے ملنے چلی گئی ساتھ میں ان دوائیوں کو بھی لے گئی جنہیں وہ روز کھاتی تھی۔ اس ڈاکٹر نے جے للتا اور انہیں دی جارہی دوائیوں کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ دوائیوں میں سلو پوائزن ملا ہوا ہے۔ وزیر اعلی کی دیکھ بھال کے لئے چنی گئی نرس کو ششی کلا نے ہی چنا تھا۔ اب بحث تو چاروں طرف چھڑی ہوئی ہے کہ جے للتا کی دیکھ بھال گجرات سے بھیجی گئی نرس کرتی ہے اس کے بعد جے للتا نے ششی کلا اور ان کے سبھی رشتے داروں کو گھر سے باہر نکال دیا ہے۔140 سے زیادہ ان نوکروں کی فوج کو بھی ہٹا دیا جنہیں ششی کلا 1989 سے اپنے گاؤں منرگڈی سے خاص طور سے لیکر آئی تھی۔ جے للتا کا یہ قدم اس لئے بھی چونکانے والا تھا کیونکہ پچھلے25 سالوں میں ششی کلا کی مرضی کے بغیر جے للتا کوئی قدم نہیں اٹھائی تھی لیکن اقتدار کے لالچ کے سامنے 25 سال کی دوستی و احسان سب کے سب دھرے رہ گئے اور ششی کلا نے جے للتا کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور یہاں تک کے انہیں مارنے تک کی سازش رچ ڈالی۔
AIADMK, Anil Narendra, Daily Pratap, Jayalalitha, shashikala, Tamil Nadu, Vir Arjun

08 فروری 2012

یووراج ایک بورن فائٹر ہیں جیت ضرور ان کی ہی ہوگی



Published On 8th February 2012
انل نریندر
ٹیم انڈیا کے دھرندربلے باز یووراج سنگھ کو کینسر ہے ،پیر کو پھیلی اس خبر نے سب کرکٹ شائقین کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔تمام اخباروں میں ٹی وی چینلوں میں بس ایک ہی خبر چھائی رہی اور وہ یہ کہ 30 سالہ یووراج سنگھ کو پھیپھڑے کا کینسر ہے اور وہ امریکہ کے شہر بوسٹن میں واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں علاج کروا رہے ہیں۔ میڈیا میں بتایا گیا کہ یووراج کو کہاں کینسر ہے اور کیسے ان کا علاج جاری ہے۔ جب میں نے ٹی وی چینلوں پر یہ خبر دیکھی تو مجھے پہلی بات تو یہ محسوس ہوئی ہ یووراج کی بیماری کے بارے میں ان کے فیزیو جتن چودھری بڑی باریکی سے سمجھ رہے تھے کہ یووراج کو کیا ہوا ہے اور کیسے ان کی کیموتھریپی چل رہی ہے۔ مجھے تھوڑا عجیب سا لگا، کیونکہ ایسی سنگین بیماری میں بتانے کا کام ایک فیزیو تھریپس کا نہیں ہے۔ اگربوسٹن کا کوئی سرجن بتاتا توبات سمجھ میں آتی۔ ایک فیزیو ایسی تفصیلات بتانے کے لئے مجاز نہیں ہے۔ فیزیو کا کام تو آپریشن یا سرجری کے بعد شروع ہوتا ہے۔ منگل کا دن آتے آتے کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تازہ خبر آئی ہے کہ امریکہ میں کیموتھریپی کرا رہے یووراج کو پھیپھڑے کا کینسر نہیں ہے بلکہ ان کے پھیپھڑوں کے درمیان میں ایک عجیب قسم کا ٹیومر (پھوڑا) جو معمولی نہیں ہے اور ان کے علاج میں شامل میکس ہسپتال کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ وہ10 ہفتے یعنی مئی کے پہلے ہفتے تک میدان میں اتر سکتے ہیں۔ یووراج کو کینسر ہونے کا خلاصہ ہونے کے بعد سے میڈیا میں کی جارہی قیاس آرائیوں پر لگام لگاتے ہوئے میکس ہسپتال ساکیت کے ڈاکٹر نتیش رستوگی نے صاف کیا ہے کہ یووراج کو کینسر تو ہے لیکن پھیپھڑوں کا کینسر نہیں ہے۔ یووراج کی بیماری کا سن کر نہ صرف بھارت میں ہی ان کے پرستار پریشان ہوگئے ہیں لیکن سرحد پار پاکستان سے لیکرتمام دنیا سے ان کی تندرستی کے لئے نیک خواہشات کا آنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک پرستار نے کچھ یوں لکھا ''میں ایک پاکستانی ہوں اور ظاہر ہے کہ پاکستانی کرکٹ کا پرستار پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ بھی ہمیشہ ایسا ہی رہے گا لیکن یہ کسی کی زندگی سے ضروری نہیں ہے۔یووراج ایک بہت اچھے اور دمدار کرکٹر ہیں ، میں ان کی صحت کے لئے دعاء کرتا ہوں۔ کرکٹ کی دنیا میںیووی ایک اکیلے کلین ہٹر ہیں اور جلد ہی ٹھیک ہوجاؤ گے دوست۔ابھی تمہارے بہت سکسر اور سنچری دیکھنی ہے ۔ یووراج ضرور ٹھیک ہوجائیں گے ساری دنیا میں ان کے پرستار آج دعاء کررہے ہیں۔ یووراج کو دوسرے کھلاڑیوں سے تلقین لینی چاہئے وہ ایسے کھلاڑی نہیں ہیں جو اس طرح کی مشکل کا سامنا کررہے ہیں اس سے پہلے بھی ایسے کئی موقعے آچکے ہیں جب کھلاڑیوں نے نہ صرف کینسر کو ہرایا بلکہ اپنے کھیل میں نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ امریکہ کے لاس آرم اسٹرانگ تو اس کی ایک دمکتی مثال ہیں۔ لاس کو 1996 ء میں ہی کینسر کا پتہ چلا تھا۔ یہ یووی سے خطرناک مرحلے پر تھا لیکن نہ صرف اس نے اس کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا بلکہ سائیکل ریسنگ کی سب سے مشکل دوڑ ٹور دی فرانس کو تقریباً سات بار جیتا۔ پچھلے سال نومبر میں ہی لاس نے سائیکلنگ سے ریٹائرمنٹ لی ہے ایک بات دکھ کی یہ ضرور ہے کہ یووراج کی بیماری کا علاج پہلے کیوں نہیں ہوا؟ یووراج پچھلے کافی دنوں سے بیمار چل رہے ہیں۔ کہا یہ جاتا رہا ہے کہ ان کے گھنٹے کی سرجری ہوئی ہے ۔ ان کا ہسپتال اور ڈاکٹروں سے پچھلے کافی عرصے سے رابطہ بنا ہوا ہے۔ پتہ نہیں کسی نے اس سے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ ٹیسٹ وغیرہ تو ضرور ہوئے ہوں گے، کیا ہمارے ڈاکٹروں کو پتہ نہیں چلا یا پھر علاج میں غلطی ہوئی۔ بہرحال آگے دیکھیں ہمیں پورا یقین ہے کہ یووی نہ صرف اس منحوس بیماری کو ہرا دیں گے بلکہ بہت جلد میدان میں واپس لوٹ کر چھکے چوکے لگائیں گے۔ ساری دنیا کے ساتھ ہم بھی یووی کی تیزی سے تندرستی کے لئے دعاء کرتے ہیں۔ وہ ایک بورن فائٹر ہیں۔جیت ضرور ان کی ہوگی۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, Vir Arjun, Yuvraj

اور اب پرفل پٹیل پر رشوت لینے کا الزام



Published On 8th February 2012
انل نریندر
وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری مشکلات سے بھری لگتی ہے۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سامنے آکر کھڑی ہوتی ہے۔ اگر پی چدمبرم معاملے میں تھوڑی راحت ملی تو لمبی چین کی سانس لینے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔ اسی کڑی میں اب باری ہے مرکزی وزیر پرفل پٹیل کی یہ معاملہ کیا گل کھلائے گا؟ کینیڈا کے ایک بڑے انگریزی اخبار ''گلوب اینڈ دی میل'' نے پرفل پٹیل کو لیکر ایک سنسنی خیزخبر شائع کی ہے۔ اس میں الزام لگایا ہے کہ چار سال پہلے اس وقت کے وزیر شہری ہوابازی کی شکل میں پٹیل نے کروڑوں روپے رشوت کی شکل میں لئے تھے اس کے بعد بھی وہ کام نہیں کیا گیا جس کے لئے یہ موٹی رقم لی گئی تھی۔ کینیڈا پولیس نے اوٹاوا کی ایک عدالت میں پرفل پٹیل کو رشوت دینے کے الزام میں ہندوستانی نژاد کینیڈیائی شہری کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔اخبار کے مطابق کینیڈا میں ہندوستانی نژاد ایک تاجر نظیرکاریگر نے سابق وزیر شہری ہوا بازی پرفل پٹیل پر قریب 1.2 کروڑ روپے کی رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ اس نے ایئر انڈیا سے متعلق ایک ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے پٹیل کو یہ رقم دی تھی۔ یہ رقم اس وقت دی گئی تھی جب وہ ہندوستان کے وزیر شہری ہوا بازی تھے۔ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر حسن غفور کے دوست بتائے جارہے کاریگر کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر کے قریبی لکشمن ڈھوبلے کے ذریعے ان تک رشوت پہنچائی تھی۔ کینیڈا کا فیڈرل انصاف محکمہ کاریگر کے خلاف کرپشن آف فارن پبلک آفیشیل ایکٹ کی خلاف ورزی کو لیکر مقدمہ چلائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بیرون ملک میں رشوت دینا ممنوع ہے۔ مانا جارہا ہے کہ مقدمے میں پرفل پٹیل پھنس سکتے ہیں۔ معاملے کی آئندہ ستمبر میں سماعت ہوگی۔ ایئر انڈیا میں ای سکیورٹی کمپیوٹری کرن سسٹم کی سپلائی کے لئے گلوبل ٹینڈر مانگے گئے تھے۔ یہ ٹینڈر 100 ملین ڈالر کا تھا۔ اسے کینیڈا کی کمپنی کرائپٹو میڈرکس حاصل کرنا چاہتی تھی۔ نظیر کاریگر ہندوستان میں اس کمپنی کے مارکٹنگ انچارج تھے۔
انہوں نے اپنے پرانے دوستوں کے ذریعے رشوت دیکر ٹنڈر لینے کی تیاری کی تھی۔ نظیر نے پٹیل کو کروڑوں روپے کا رعایتی ٹیکس دیا تھا۔ دعوی کیا گیا ہے کہ نظیر نے پٹیل کو ڈھائی لاکھ ڈالر دئے تھے۔ اب کمپنی نے نظیر کے خلاف دعوی ٹھونک دیا ہے۔ منموہن سرکار برسوں سے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے چلتے بے چین ہے۔ اس گھوٹالے کے نائک اس وقت کے وزیر مواصلات اے ۔راجہ تھے۔ اس معاملے میں نئی نئی الجھنیں سامنے آرہی ہیں۔ اسی درمیان پٹیل پر لگا الزام لیڈر شپ کو ڈرانے لگا ہے۔ اب ہمارے وزیر صنعت پرفل پٹیل نے رشوت کے الزام کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے اس معاملے کی جانچ کرنے کی درخواست کی ہے۔ پٹیل نے کاریگر کے الزام کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ جب ایسا کوئی سمجھوتہ ہوا ہی نہیں تو رشوت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ پٹیل نے وزیر اعظم سے کہا کہ جانچ اس لئے کرائی جائے تاکہ ان کا کردار صاف ہوسکے۔ پٹیل نے لکھا ہے دستاویزوں کی جانچ کرنے سے پتہ چل جائے گا کہ وزارت یا ان کے ذریعے کو ئی بھی ٹھیکہ دینے میں مداخلت نہیں کی گئی تھی۔ سچ کیا ہے اس کا جانچ سے ہی پتہ چل سکتا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Praful Patel, UPA, Vir Arjun

07 فروری 2012

مصر کے پورٹ سعید فٹبال میچ میں تشدد کے پیچھے؟



Published On 7th February 2012
انل نریندر
گذشتہ بدھوار کو ایک ایسا فٹبال میچ ہوا جیسا شاید ہی کبھی پہلے دیکھا گیا ہو یا ہوا ہو۔ مصر کے حالات پوٹ سعید میں مقامی المصری اور قاہرہ کی الاہلے ٹیموں کے درمیان میچ ہوا۔ الاہلے ٹیم کو الماصری نے 3-1 گول سے ہرادیا جس کے بعد حمایتی آپس میں بھڑ گئے۔ میچ ختم ہوتے ہی الماصری حمایتی میدان میں گھس گئے اور انہوں نے جم کر غنڈہ گردی مچائی۔ ان حمایتیوں نے پتھراؤ کیا، پٹاخے چھوڑے، بوتلیں پھینکیں جس سے کئی شائقین اور کھلاڑیوں کو چھوٹیں آئیں۔ چشم دید لوگوں نے بتایا کہ اس پورے میدان میں افراتفری پھیل گئی اور نہ صرف کھلاڑی بلکہ شائقین بھی خود کوبچانے کے لئے ادھر ادھر دوڑتے نظر آئے۔ میچ کے دوران بھڑکے تشدد میں کم سے کم74 لوگ مارے گئے جبکہ 1 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ مصر کے کھیل کی تاریخ میں یہ سب سے دردناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں سیاسی حالات ابھی بھی دھماکو بنے ہوئے ہیں۔ ایک عام سے فٹبال میچ میں اتنا تشدد ہوسکتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا یا پھر سوچی سمجھی تشدد کرنے کی ایک چال تھی؟ بیشک زیادہ تر اموات بھگدڑ میں ہوئیں لیکن کئی لوگوں کو چاقوؤں سے بھی مارا گیا۔ اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ پہلے سے تیار اس سازش کو انجام دیا گیا ہے۔ المصری کے حمایتی چاقو لاٹھیاں لیکر الاہلے حمایتیوں پر ٹوٹ پڑے۔ دیکھا جائے تو ان کے حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی۔ میچ تو ان کی ٹیم نے 3-1 سے جیت لیا تھا۔ کیا دیش میں فوجی حکومت کے خلاف ہوا بنانے اور نئی آگ بھڑکانے کا یہ بہانہ تھا؟ کیونکہ میچ کے بعد سارا غصہ تو فوجی حکومت اور پولیس کے خلاف نکلا۔ مظاہرین نے فوجی حکمرانو ں کو ہٹائے جانے کی مانگ تیز کردی ہے وہیں راجدھانی میں پولیس کے ساتھ ہوئی تازہ جھڑپوں میں تین لوگوں کی موت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ لوگ پہلے ہی سے جمہوری اصلاحات کی دھیمی رفتار سے مایوس ہیں۔ میچ کے دوران ہوئے تشدد نے ان کے غصے کو چنگاری دکھا دی ہے۔ مظاہرین قاہرہ میں وزارت داخلہ کے سامنے مظاہرے پر ڈٹے تھے تبھی فوج نے ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاج اور مظاہرے کے لئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصری فوج نے عوام کو بانٹنے کے لئے یہ سازش رچی اور پولیس نے جان بوجھ کر وقت رہتے فساد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حسنی مبارک کے حمایتیوں نے مبارک کو بے دخل کرنے والی جنتا کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور بدلہ لینے کی کوشش کی۔ دراصل حسنی مبارک کو زبردستی ہٹا تو دیا گیا لیکن مصر کے اندرونی حالات کبھی بھی قابو میں نہیں آسکتے۔مسلم برادر ہڈ جو حالیہ چناؤ جیتی تھی اس نے اور وہاں کے سیکولر لوگوں میں تب سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔ مسلم برادر ہڈ اور فوج لگتا ہے مل کر کام کررہے ہیں۔اس سے مصر کی عوام میں یہ ڈر پیدا ہورہا ہے کہ کہیں پھر سے فوجی حکومت یا مسلم برادر ہڈ کا ہٹلری عہد نہ تھونپ دیا جائے۔ عوام میں بے چینی ہے اور مصر میں عدم استحکام کا دور چل رہا ہے۔ فٹبال میچ کا واقعہ معمولی نہیں تھا اس کے پیچھے گہری سازش لگتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Vir Arjun

پنجاب۔ اتراکھنڈ میں37 دنوں کیلئے حکومت و انتظامیہ ٹھپ



Published On 7th February 2012
انل نریندر
بھارت کے چناؤ کمیشن نے اپنے فیصلے سے پنجاب اور اتراکھنڈ ریاستوں کے انتظامیہ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لئے پنگو بنادیا ہے۔ حالانکہ دونوں ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے لیکن چناؤ ضابطہ ابھی بھی لاگو ہے۔ یہ چناؤ ضابطہ 37 دن کے لئے یعنی 6 مارچ تک چالو رہے گاجس دن ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ایک پنجاب کے افسرکا تبصرہ تھا کہ ہم تو اپنا سارا وقت ٹی وی دیکھ کر گذار رہے ہیں، کام تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پنجاب، اتراکھنڈ و منی پور تینوں ریاستوں میں چناؤ ہوچکے ہیں اور کسی کو صحیح سے معلوم نہیں کہ ریاست کا مالک کون ہے؟ وزیر اعلی،گورنر اور چیف الیکٹرول آفیسر یا چیف الیکشن کمیشن دہلی کون ہے، جس کے احکامات پر ریاست کا انتظام چلے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حالت کو پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا اگر چناؤ کمیشن تھوڑی سی توجہ دیتا۔اگر پنجاب اتراکھنڈ میں چناؤ 3 مارچ کو ہوتے اور نتیجہ6 مارچ کو آتا تو اس بے یقینی کی صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ریاستوں کے انتظامیہ کو پوری طرح ٹھپ کردیا گیا۔ چناؤ کمیشن بیشک یہ دلیل دے کہ ہم وہاں جلد ہی چناؤ کروانا چاہتے تھے کیونکہ چناؤ کی تاریخوں کو بہت سی باتوں کو دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی پارٹیوں کی رائے ،دوسرے ریاستوں میں چناؤ کے انتظامات کو دیکھنا، موسم و اسکول امتحانات و چھٹیاں،تہوار وغیرہ وغیرہ؟ اکالی دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم تھوڑا حیران ضرور ہوئے ہیں جب 30 جنوری کو پولنگ کی تاریخ کا اعلان ہوا۔ کیونکہ ہم امید کررہے تھے کہ چناؤ 10 سے15 فروری کے درمیا ن ہوں گے کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ 2002 اور 2007 میں13 فروری کو ہوئے تھے۔
اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب چناؤ ایسے وقت ہوئے جب ریاست میں کڑاکے کی سردی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں برف پڑی ہوئی تھی۔ ریاست بننے کے بعد 2002 اور 2007 میں دو بار اسمبلی انتخابات ہوئے۔ 2002 ء میں چناؤ14 فروری کو ہوئے تھے اور نتیجہ24 فروری کو اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح2007ء میں چناؤ21 فروری کو ہوئے تھے اور چھ دن بعد نتیجہ 27 فروری کو اعلان ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن کے حکام نے کہا کہ ابھی تک وزیر اعلی نے چناؤ ضابطے کو نرم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی ہے۔ بیشک وزیر اعلی ابھی بھی نگراں وزیر اعلی ہیں لیکن وہ کسی بھی افسر کا ٹرانسفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جواب طلبی کرسکتا ہے۔ افسر شاہی اس لئے بھی وزیر اعلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ وہ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں بھی یا نہیں؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی بھون چند کھنڈوری نے چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ چناؤخوف پر اعتراض کیا تھالیکن چناؤ کمیشن نے اسی نظرانداز کردیا۔ ایسی صورت سے بچایا جاسکتا تھا اگر ان دونوں ریاستوں میں چناؤ نتائج آنے سے کچھ دن پہلے ہوتے۔اس لئے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کا مطلب نکال رہی ہیں۔ اکالی بھاجپا کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر نے کانگریس کو خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تاکہ پارٹی ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کردے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

05 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ طے کرے گی یوپی کی سمت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
اترپردیش میں 16 اسمبلی چناؤ کیلئے پہلے مرحلے میں 55 سیٹوں کے لئے 8 فروری کو پولنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے کو ایک دوسرے سے بہتر بتانے میں لگی ہوئی ہیں لیکن اگر پچھلے پانچ انتخابات کے اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو سرکار بنانے کے لئے کم سے کم30 فیصدی ووٹوں کا نمبر پار کرنا ضروری ہوگا۔ بہرحال یوپی اسمبلی چناؤ کی جنگ اپنے شباب پر پہنتی جارہی ہے۔ گنگا جمنا، گھاگرا، رابتی اور گومتی کے پانی کے اثر کی طرح سیاست میں بھی مسلسل تبدیلی آرہی ہے۔ سیاست آگے کیا گل کھلائے گی اور کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ تو ووٹر ہی طے کریں گے۔ حکمراں بسپا اپوزیشن پارٹی سپا کے علاوہ کانگریس بھاجپا ، پیس پارٹی، راشٹریہ لوک دل سبھی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ حکمراں بسپا جہاں اپنی سرکار کے کام کے دم پر اور ذات پات کے تجزیئے کی بنیاد پر واپسی کا دعوی کررہی ہے وہیں سماج وادی پارٹی کو بھروسہ ہے کہ صوبے میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بسپا سرکار کی مبینہ ناکامیوں کے سبب چل رہی تبدیلی اقتدار کی ہوا کا اسے فائدہ ہوگا اور اس کے پیش نظر ووٹروں کی پہلی ترجیح سپا ہوگی۔ کانگریس کو امید ہے کہ 22 سال تک غیر کانگریسی سرکاریں دیکھ چکی جنتا یووراج راہل گاندھی کے کرشمے پر بھروسہ کر کے اس بار اسے ترجیح دینے والی ہے جبکہ بھاجپا کرپشن کے خلاف گاندھی وادی سماجی رضاکار انا ہزارے کی تحریک کو ملی عوامی حمایت کو اپنے حق میں مان کر زیادہ امید افزا ہے۔ جس طرح سے اقلیتوں کو ریزرویشن کے معاملے میں سبھی پارٹیوں کی کرکری ہوئی ہے اس سے بھی بھاجپا کو لگتا ہے کہ ہندو ووٹ خاص کر سورن جاتیوں کا ووٹ ان کے حصے میں آئے گا۔ اترپردیش میں اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں۔ پردیش میں سال1991 سے لیکر 2000 تک ہوئے اسمبلی کے پانچ انتخابات پر نظر ڈالیں تو نمبر ایک پارٹی بننے اور اکثریت پانے اور اس کے قریب پہنچنے کے لئے کم سے کم 30 فیصدی ووٹ کا نمبر پار کرنا ضروری ہے۔ اترپردیش کے یہ چناؤ کئی معنوں میں تاریخی ہونے جارہے ہیں۔ دیش کی سب سے بڑی ریاست میں اس بار ریکارڈ تعداد میں چھوٹی موٹی پارٹیاں بڑے دم خم کے ساتھ اتری ہیں۔ بسپا، سپا ، کانگریس اور بھاجپا کو ان سے نقصان ہونے کا امکان ہے۔ وہ انہیں صرف ووٹ کرنے والی یا ووٹ برباد کرنے والی پارٹیاں بتا رہی ہیں۔جیسے پیس پارٹی کے بارے میں بھاجپا کو چھوڑ کر تین باقی پارٹیوں کو یہ ہی لگ رہا ہے جس سے بھاجپا کو فائدہ ہونے والا ہے اس کے بارے میں باقی پارٹیاں کہہ رہی ہیں کے پیس پارٹی کو مدد تو بھاجپا سے ہی ملتی ہے۔ ریاست میں پیس پارٹی کا اس وقت وہی درجہ ہے جو اپنی ابتدائی پوزیشن میں بی ایس پی کا ہوا کرتا تھا۔ اس بار ریاست میں 150 کے قریب پارٹیاں چناؤ لڑنے کی تیاری میں ہیں جو الگ الگ ذات گروپوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔پچھلی بار قریب سوا سو پارٹیاں چناؤ لڑی تھیں جس میں چھ پارٹیاں 12 ریاستی سطح کی پارٹیاں اور 112 غیر تسلیم شدہ پارٹیاں تھیں۔ اترپردیش میں حد بندی کے بعد 113 سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوسکتے ہیں جنہیں پانے کے لئے سیاسی پارٹیوں نے دن رات ایک کردیا ہے۔ مسلم ووٹ پانے کیلئے بھاجپا کو چھوڑ کر سبھی سیاسی پارٹیاں زور آزمائی میں لگی ہیں لیکن ابھی بھی کوئی پارٹی دعوے سے کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسے مسلم ووٹ ایک طرفہ ملے گا۔ عام طور پر مانا جارہا ہے کہ مسلمان ایک رو میں ووٹ دے سکتے ہیں یعنی بھاجپا کو ہرانے کے لئے اس سیٹ پر جو بھی امید وار جیتتا دکھائی دے گا وہ اسے ووٹ دیں گے۔ اس طرح ہمیں لگتا ہے کہ مسلم ووٹ کانگریس، سپا، بسپا، پیس پارٹی میں بٹے گا۔ ہار جیت کا فرق بہت کم ہوگا جو امیدوار 10 ہزار ووٹ لے گا وہ جیتنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Muslim, Uttar Pradesh, Vir Arjun

جھٹکوں پر جھٹکے جھیلنے کے عادی منموہن سنگھ اور ان کی حکومت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کو سپریم کورٹ سے مسلسل جھٹکے لگتے جارہے ہیں۔ سینئر عدالت کا یوپی اے II- کو یہ تیسرے جھٹکے کو ملا کر پانچواں جھٹکا ہے۔ جمعرات کا جھٹکا اس لئے زیادہ بے چین کرنے والا ہے کیونکہ سی اے جی نے 1.67 لاکھ کروڑ روپے کے ٹوجی گھوٹالے کو اجاگر کر سنسنی پھیلائی تھی۔ وزیر اعظم خود اے راجہ کے بچاؤ میں آئے تھے اور پوری سرکار پہلے سی اے جی پھر پی اے سی کے پیچھے پڑگئی تھی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے سرکار نے بیش قیمتی اسپیکٹرم (کرنیں)کو ریوڑیوں کی طرح بانٹ دیا۔ سپریم کورٹ کا جمعرات کے روز سرکار کوتیسرا جھٹکا تھا۔ اس سے پہلے چیف ویجی لنس کمشنر پی جے تھامس کی تقرری کو سپریم کورٹ منسوخ کردیا تھا تب بھی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تنقید ہوئی تھی کیونکہ سی وی سی سلیکشن کمیٹی میں لیڈر اپوزیشن سشما سوراج کے اعتراض کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ سیدھے طور پر وزیر اعظم کے لئے جھٹکا تھا۔ سپریم کورنے ٹو جی معاملے میں ہیں قصورواروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے میں دیر لگانے کو غلط قراردیا تھا اور اس میعاد کو زیادہ سے زیادہ چار مہینے طے کردیا تھا۔ اس مسئلے میں بھی پی ایم کی کرکری ہوئی تھی۔ اس مرتبہ پی ایم او کٹہرے میں ہے۔ تیسرا اور تاریخی فیصلہ جمعرات کو آیاجو سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ اس بار بھی وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر مالیات کٹہرے میں ہیں کیونکہ جب سی اے جی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا اور میڈیا نے اسے اچھالا تو پردھان منتری نے راجہ کو ہدایت دی تھی اور بار بار انہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔ جب بات زیادہ بڑھی تو وہ جیل بھیج دئے گئے۔ تب منموہن سنگھ نے بچاؤمیں یہ دلیل دی کہ اتحادی حکومت کے سامنے ایسی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تازہ فیصلے میں ٹو جی اسپیکٹرم کے عمل کو غلط قراردیا ہے یعنی وہ غلط اور طرفداری والا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس غیر قانونی اور غلط عمل کو ڈیفنس کس بنیاد پر کیا؟ کیا انہیں اخلاقی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہئے؟ وزیر اعظم اور کتنے مخالفانہتنقیدوں کو جھیلیں گے۔ اس سے پہلے بھی جب یو پی اے I- کی حکومت تھی تب بھی سپریم کورٹ نے منموہن سرکار کو دو بار زبردست جھٹکے دئے تھے۔ ایک بار جب بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنانے کا موقعہ نہ دیکر وہاں صدر راج لگایا تھا تب کورٹ نے گورنر کے برتاؤ کو غیر آئینی قراردیا تھا۔ دوسری مرتبہ جھارکھنڈ میں بھی یہی حالت رہی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد شیبو سورین کو استعفیٰ دینا پڑا اور این ڈی اے کی سرکار بن گئی تھی۔ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کے لئے ایک ساتھ نہیں بلکہ تین مورچے کھل گئے ہیں۔ سب سے پہلے اترپردیش چناؤ، دوسرے چدمبرم کا مستقبل اور تیسرے دونوں کو بچانے میں یوپی اے محاذ کی تشویش۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے 122 ٹیلی کام لائسنس منسوخ ہونے کے بعد کانگریس پوری طاقت سے اپنے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بچاؤ کررہی ہے لیکن اس کے سیاسی اثر کو لیکر اس کی جان حلق میں ضرور اٹکی ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور سرکار دونوں نے مان لیا ہے کہ اب ان کے پاس اس مسئلے پر جارحانہ رخ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہیں سب پہلوؤں پر بحث کرنے کیلئے کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر شپ مان رہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے سے اپوزیشن کو چناؤ سے پہلے کرپشن کے اشو پر ایک ہتھیار تو مل گیا ہے۔ جس طرح سے کپل سبل نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی ایم کے کوٹے کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہے اے ۔ راجہ پر ٹھیکرا پھوڑا ہے اور اس سے کہیں ایک اور نیا مورچہ نہ کھل جائے۔ ممتا اور شرد پوار نے پہلے ہی ناک میں دم کررکھا ہے۔ اب پورے گھوٹالے کے لئے راجہ کو اکیلے ذمہ دار ٹھہرانا پہلے سے ناراض ڈی ایم کے کو اور اکسانا ہے، کہیں پہلے سے لگی آگ اور نہ بھڑک جائے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Supreme Court, UPA, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...