18 اگست 2018

دیش نے ایک یگ پروش کھویا، ہم نے تو بہت کچھ کھو دیا

اٹل بہاری واجپئی کا جانا صحیح معنوں میں ایک دور کا خاتمہ ہے۔ ہندوستانی سیاست میں اٹل جی ایک ایسا خلا چھوڑ گئے ہیں جسے بھرنا آسان نہیں ہوگا۔ ہندوستانی جمہوریت نے جو بھی گنے چنے سیاستداں پیدا کئے ہیں اٹل جی ان میں سب سے اونچے مقام پر شمار کئے جاسکتے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی یعنی ایک ایسا نام جس نے ہندوستانی سیاست کو اپنی شخصیت، اپنے عمل سے اس طرح سے متاثر کیا جس کی دوسری مثال ملنی مشکل ہے۔ ایک عام خاندان میں پیدا ہوئے اس سیاستداں نے اپنی تقریر فن اور دل کو بھانے والی مسکان اور تحریر و آئیڈیالوجی ، فراخ دلی کا جو ثبوت دیا ہے وہ آج کی سیاست میں بہت اہم ہے۔ بھاجپا کے وہ ایک محض لیڈر تھے جنہیں آجات شترو کہا جاسکتا ہے۔ اٹل جی کا جتنا سنمان پارٹی میں تھا اس سے کہیں زیادہ دوسری پارٹیوں کے نیتا ان کا احترام کیا کرتے تھے۔ بہت متوازن، نپی تلی زبان اور دلچسپ انداز اور دلائل پر مبنی ڈھنگ سے اپنی بات رکھتے تھے۔ اٹل جی جب پارلیمنٹ میں بولتے تھے تو سبھی سیاسی پارٹیوں کے نیتا ان کی تقریروں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ سنا کرتے تھے۔ پارٹی سے بالاتر ہوکر عزت حاصل کرنے والے اس اہم خوبیوں کے مالک وہ بھاجپا کوایک قابل قبول اور عوامی شکل دے سکے۔ صحیح معنوں میں وہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے بعد بھارت کے سب سے کرشمائی لیڈر اور وزیر اعظم ثابت ہوئے۔ صحیح معنوں میں اٹل بہاری واجپئی ایک ایسی سرکار کے نائک بنے جس نے ہندوستانی سیاست میں تال میل کی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ ایک معنی میں ایک ایسی قومی سرکار تھی جس میں مختلف وراثتی نظریات، علاقائی مفادات کی نمائندگی کرنے والے تمام لوگ شامل تھے۔ دو درجن پارٹیوں کے نظریات کو ایک منتر سے نبھانا آسان نہیں تھا لیکن اٹل جی کا قومی نظریہ ان کی سادھنا اور بے داغ شخصیت نے سارا کچھ ممکن کردیا۔ وہ صحیح معنوں میں ہندوستانیت اور اس کے وقار کی مثال بن گئے۔ ان کی حکومت میں عدم استحکام کے بھنور میں پھنسے دیش کو ایک نئی راہ دکھائی۔ یہ راستہ ملی جلی حکومتوں کی کامیابی کی مثال بن گیا۔ اٹل بہاری واجپئی صحیح معنوں میں ایک ایسے وزیراعظم تھے جو بھارت کو سمجھتے تھے ہندوستانیت کو سمجھتے تھے۔ سیاست میں ان کی کھینچی لکیر اتنی لمبی ہے جسے پار کرپانا ممکن نہیں دکھائی پڑتا۔ انہوں نے دہائیوں بعد قومیت کو بالاتر مانا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی سرکار گڈ گورننس کی مثال قائم کرنے والی ثابت ہوئی۔ عوامی رابطہ پالیسیوں کے ساتھ مہنگائی، عام آدمی کے مفادات کو ہمیشہ دھیان میں رکھ کر پالیساں بنائی گئیں۔ انہوں نے کہا لوگوں کے سامنے ہمارا پہلا عزم ایک ایسی پائیدار ،ایمانداری اور شفاف سرکار دینے کا ہے جو چوطرفہ ترقی کرنے میں اہل ہو۔ اس کے لئے سرکار ضروری انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں پروگرام شروع کرے گی۔ ان اصلاحات میں پولیس اور دیگر سول سروسز میں کی جانے والی اصلاحات شامل ہیں۔ این ڈی اے نے دیش کے سامنے ایسی گڈ گورننس کی مثال رکھی جس میں قومی سلامتی، دیش کی بازآبادکاری اور فیڈرلزم کا نظریہ اقتصادی اور جدیدیت و سماجی انصاف وغیرہ جیسے سوال شامل تھے۔ عام جنتا سے وابستہ سہولیات کا وسیع پھیلاؤ ،آئی ٹی انقلاب، انفورمیشن انقلاب اس سے جڑی کامیابیاں ہیں۔ اٹل جی سے ان کے سیاسی حریف بھی کتنا پیار کرتے تھے اس مثال سے پتہ چلتا ہے جب راجیو گاندھی کا قتل ہو تب اٹل جی نے ایک قصہ بیان کیا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں سرجری کرانے کی صلاح دی تھی۔ اس کے بعد وہ سو نہیں پا رہے تھے، ان کے دل میں شش و پنج کی صورتحال بنی ہوئی تھی کہ راجیو گاندھی نے انہیں اقوام متحدہ جانے والے نمائندہ وفد میں ان کا نام شامل کر امریکہ بھیجا۔ راجیو گاندھی کا مقصد تھا کہ امریکہ میں اٹل جی کا علاج ہو اور ہوا بھی۔ سارا خرچ راجیو سرکار نے اٹھایا۔ اٹل جی نے راجیو گاندھی کے قتل کے بعد پہلی بار یہ قصہ سنایا تھا اور کہا تھا کہ راجیو گاندھی ایک مہان شخصیت تھے اور ان کے بڑکپن کی سراہنا کرتے رہے اور کہتے رہے کہ راجیو گاندھی کی وجہ سے میں آج زندہ ہوں۔ اٹل جی سے جو مل لیا کرتا انہیں کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ وہ بھی ایک بار رابطہ قائم کرلیں تو آخری وقت تک نبھاتے تھے۔ اٹل جی کا پرتاپ، ویر ارجن، ساندھیہ ویر ارجن پریوار سے ہمیشہ قریبی تعلق رہا ہے۔ ایسی کئی ذاتی مثالیں ہیں جس میں سے کچھ کو میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اٹل جی ویرارجن کے سابق مدیر رہ چکے تھے ۔ انہوں نے ویر ارجن کی ادارت 1950 سے 1952 کے درمیان کی تھی۔ اٹل جی ویر ارجن میں اس وقت ایڈیٹر تھے جب میرے سورگیہ دادا مہاشہ کرشن جی چلایا کرتے تھے۔ اٹل جی کیوں کہ آر ایس ایس کے پرچارک بھی تھے اور انہیں دنوں جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی جموں و کشمیر میں داخلہ کے لئے پرمٹ سسٹم کی مخالفت کرنے کے لئے 1952 میں سری نگر جا رہے تھے۔ اٹل جی بھی ان کے معاون کی شکل میں سرینگر چلے گئے۔ اٹل جی نے نہ صرف ویر ارجن میں کام کرنا بند کیا بلکہ صحافت چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھا۔ جب وہ وزیر اعظم بنے تھے تو میرے سورگیہ پتا کے نریندر کا جنم دن منانے کے موقعہ پر میں اٹل جی سے ملا اور انہیں میرے گھر سندر نگر آنے کی دعوت دی گئی۔ اٹل جی فوراً تیار ہوگئے اور سندر نگر میرے گھر تشریف لائے۔ جب وہ وزیر اعظم تھے تو انہیں اقوام متحدہ میں تقریر کرنی تھی اور وہ اپنے ساتھ کچھ صحافیوں کو بھی لے جا رہے تھے تو انہوں نے1998 میں اس ٹیم میں مجھے بھی 14 نفری ٹیم میں شامل کیا۔ اس کے دو سال بعد 2002 میں ویتنام اور انڈونیشیا (بالی) گئے۔ ایک بار ایسا ہوا جب میرے سورگیہ پتا شری کے نریندر اپنا جنم دن چیمس فورڈ کلب میں اپنے دوستوں کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔ اٹل جی تب وزیر اعظم نہیں تھے جب انہیں پتہ چلا تو وہ گول گپے لیکر کلب پہنچ گئے اور پھر کئی بار اٹل جی سے ملنا ہوا۔ یہ باتیں اب یادیں بن کر رہ گئی ہیں۔ اٹل جی کے جانے سے ہمیں تو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے لیکن کیا کر سکتے ہیں سوائے اپنی شردھانجلی پیش کرنے کے۔ راج دھرم کے اپنانے کے ساتھ احتجاج کا احترام کرنے والے سیاستداں کی شکل میں وہ ہمیشہ یاد رہیں گے۔
(انل نریندر)

17 اگست 2018

سی ایم بنام سی ایس :چارج شیٹ کے بعد کیا

چیف سکریٹری انشوپرکاش بدسلوکی و مارپیٹ معاملہ میں دہلی پولیس نے وزیر اعلی اروندکیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا و دیگر 11 ممبران اسمبلی کے خلاف پیر کے روزپٹیالہ ہاؤس کی اسپیشل عدالت نے 1533 صفحات کی چارج شیٹ دائرکی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ13 الگ الگ دفعات لگائی گئی ہیں۔ ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سمر وشال کی عدالت 25 اگست کو اس پر نوٹس لے گی۔ چیف سکریٹری انشوپرکاش کو اہم گواہ بنایا گیا ہے۔ وزیر اعلی کیجریوال کے اس وقت کے مشیر بی کے جین کو اہم چشم دید گواہ بنایا گیا ہے۔ وہیں چار دیگر آئی اے ایس افسر جو وزیر اعلی، نائب وزیر اعلی و دیگر وزرا کے برے برتاؤ کا شکار ہوئے ہیں انہیں بھی اہم گواہ بنایا گیا ہے۔ چارج شیٹ میں سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔1 کیجریوال ،سسودیا و دیگر ممبران نے مجرمانہ سازش کر چیف سکریٹری کو قتل کے ارادہ سے سنگین چوٹ پہنچائی۔2 افسرو ں کو قید کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور بے عزت کیا گیا۔ 3 سبھی ممبران نے حالات خراب کئے۔4 ان لوگوں نے چیف سکریٹری کو اپنی پبلک سروس کی ذمہ داری نبھانے سے روکا اور قید کیا۔ اگر یہ کیس پولیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ان دفعات کے تحت زیادہ سے زیادہ7 سال کی سزا ہے۔ اگر ثابت ہوجاتا ہے اور تین سال سے زیادہ کی سزا ہوتی ہے توملزمان کا سیاسی کیریئر تقریباً ختم ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تین سال سے زیادہ سزا میں ملزم چناؤ نہیں لڑ سکتا۔ ہمارے سامنے راشٹریہ جنتادل کے چیف لالو پرساد یادو کا مقدمہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سی بی آئی عدالت میں اپنا کیس ثابت کر پائے گی؟ سی بی آئی کا ان معاملوں میں تو ٹریک ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے۔ ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر میں سی بی آئی کے ذریعے دہلی سرکار کے وزرا اور ممبران اسمبلی کے خلاف 22 مقدمے درج کئے تھے ان میں سے 19 مقدمے عدالت نے خراج کردئے۔ ایک مقدمہ میں تو نائب وزیر اعلی منیش سسودیا تک بری ہوگئے۔ سی بی آئی نے دہلی سرکار کے وزرا و ممبران اسمبلی کے خلاف کرپشن کو لیکرکئی بار چھاپے مارے اور میڈیا میں ان کے خلاف الزامات لگے لیکن ابھی تک ایک بھی کیس سی بی آئی عدالت میں درج نہیں کرایا۔ دہلی سرکار کے وزیر ستیندر جین ،گوپال رائے، کیلاش گہلوت، راجندر پال، گوتم اور عمران حسین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ چارج شیٹ چنی ہوئی سرکار کو پریشان کرنے اور ان کے خلاف کی جانے والی سازش کی تازہ مثال ہے۔ یہ مودی سرکار کی مایوسی کا نتیجہ ہے اگر وزیر اعلی انتظامیہ کے سربراہ ہیں تو چیف سکریٹری افسر شاہی کے بڑے عہدہ پر بیٹھا افسر ہے۔ ظاہر ہے سی ایم ہاؤس میں اس رات کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوا ہے اور اگر ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری سے قطعی نہیں بچ سکتے۔ الزامات میں کتنی سچائی ہے عدالت یہ جاننے کے لئے گواہوں اور ثبوتوں کا سہارا لے گی اور اگر فیصلہ وزیر اعلی اور ساتھیوں کے خلاف آتا ہے تو دیش کے سیاسی کلچر پر کالے داغ سے کم نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ سی بی آئی کیس ثابت کرسکتی ہے یا نہیں ؟ بہتر تو یہ ہوگا کہ شری کیجریوال و ساتھی چیف سکریٹری و اعلی افسران کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملہ کو سلجھا لیں، اس میں سبھی کی بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

آپ لوگوں کو گھر کیلئے بھٹکا رہے ہیں، ہم آپ کو بے گھر کردیں گے

امرپالی گروپ کے ڈائریکٹروں اور پرموٹروں کو بدھوار کو سپریم کورٹ نے سخت الفاظ میں وارننگ دے دی ہے کہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔ عدالت ہذا نے کہا اصلی مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے مکانوں کا قبضہ دینے میں دیری کی ہے۔ اب زیادہ ہوشیاری نہ دکھاؤ آپ کو بے گھر کردیں گے۔ ادھورے ہاؤسنگ پروجیکٹوں کے لئے 5112 کروڑ روپے نہ اکھٹے کئے تو آپ کی ایک ایک پراپرٹی بیچ دیں گے۔ آپ لوگوں کو گھر کیلئے بھٹکا رہے ہیں ، ہم آپ کو بے گھر کردیں گے۔ اس تلخ تبصرہ کے بعد جسٹس ارون مشرا اور جسٹس یو یو للت کی بنچ نے امرپالی کے ڈائریکٹروں کو 15 دن کے اندر اپنی سبھی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی فہرست اور ان کی قیمت کتنی ہے یہ جانکاری دینے کو کہا ہے۔ عدالت نے امرپالی کے پروجیکٹوں کا رکھ رکھاؤ دیکھنے والی کمپنی اور ان کی طرف سے اکھٹے کئے گئے پیسے کی تفصیل بھی مانگی ہے۔ یہ ہی نہیں کورٹ نے موجودہ سرمایہ کاروں کے ساتھ 2008 میں اب تک کمپنی چھوڑ چکے ڈائریکٹروں کے بارے میں بھی جانکاری مانگی ہے۔ گروپ کے ڈائریکٹروں و پرموٹروں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ادھورے ہاؤسنگ پروجیکٹ پورے کرنے کے لئے 5112 کروڑ روپے کیسے اکھٹا کریں گے۔ اگلی سماعت جلد ہوگی۔ گروپ کے ڈائریکٹروں سے سختی سے پوچھا کہ ٹرانسفر کئے گئے کروڑوں روپے کہاں سے آئے تھے اور کن کمپنیوں کو دئے گئے؟ رقم دینے کا مقصد کیا تھا ، کیا کسی کام کے لئے ایڈوانس رقم دی گئی تھی یا پھر ادھار یا کسی دیگر پروجیکٹ کے لئے ؟ کس قاعدے کے تحت خریداروں کی رقم دوسرے کھاتوں میں ٹرانسفر کی گئی؟ کونسے قاعدے و تقاضے کے تحت رقم ٹرانسفر کی گئی؟ بنچ کے گروپ کو اس رقم کی سرمایہ کاری کی صحیح صحیح تفصیل دینے کے احکامات دئے گئے ہیں قابل ذکر ہے امرپالی گروپ 42 ہزار خریداروں کو گھروں کا قبضہ دینے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت نے گروپ کی 40 کمپنیوں کو سبھی سرمایہ کاروں کے بینک کھاتے اور جائیداد قرق کرنے کے بھی احکامات جاری کئے تھے۔ ادھر نیشنل بلڈنگ کنسٹریکشن کارپوریشن لمیٹڈ نے 2 اگست کی سماعت میں عدالت سے کہا تھا کہ وہ امرپالی گروپ کی کمپنیوں کو جو قریب 42 ہزار مکان خریداروں کو فلیٹ کا قبضہ دینے میں ناکام رہی ہے کے پروجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے تیار ہے۔ عدالت نے این بی سی سی کو اس سلسلہ میں 30 دن کے اندر ٹھوس تجاویز پیش کرنے کے احکامات دئے تھے کہ وہ کس طرح اور کتنے وقت کے اندر ان پروجیکٹوں کو پورا کریں گے۔
(انل نریندر)

15 اگست 2018

آج ہرشخص پریشاں سا کیوں ہے

آج کی تاریخ میں ہر آدمی پریشان ہے۔ میں نے زیادہ تر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ آج خوش نہیں ہیں۔ ہر کوئی کسی نہ کسی مسئلہ میں گھرا ہوا ہے۔ بہت کم شخص ایسے ملیں گے جو یہ کہیں گے کہ آج کے حالات سے وہ مطمئن ہیں۔ میرا یہ نظریہ صحیح ثابت ہورہا ہے۔ ایک حالیہ سروے میں یہ بتایا گیا ہے کہ دیش میں 89 فیصدی لوگ کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس شہر میں ہر شخص پریشاں سا کیوں ہے؟ قریب40 برس پہلے میٹرو زندگی کی بھاگ دوڑ میںیہ سوال پوچھا تھا لیکن آج عالم یہ ہے کہ بات شہر سے بڑھ کر دیش تک پہنچ گئی ہے۔ سروے میں شامل لوگوں میں سے ہر 8 کشیدگی سے متاثرہ لوگوں میں سے ایک شخص کو ان پریشانیوں سے نکلنے میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گھر، خاندان، سماج، دفتر سب جگہ لوگ اس کے شکار ہیں۔ بچے ،بوڑھے، بڑے کوئی بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے لوگ کئی وجوہات سے اپنے اس مسئلہ کا علاج نہیں کرپاتے۔ ترقی یافتہ اور کئی ملکوں کے مقابلہ میں بھارت میں کشیدگی کی سطح بڑی شکل لے چکی ہے۔ اس سروے کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے 14467 لوگوں سے آن لائن انٹرویو لیا گیا جس کے بعد یہ سامنے آیا کہ بھارت مسلسل چوتھے برس کشیدگی کے معاملہ میں دنیا کے باقی ملکوں سے کہیں آگے ہے۔ کشیدگی کے اسباب کی بات کی جائے تو لوگوں کا کام اور ان کی اقتصادی حالت اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں جو سوال پریشان کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی آبادی کشیدگی میں جی رہی ہے تو صحتمند سماج کی تعمیر آخر کیسے ہوگی؟ کیا سرکار کواس بارے میں نہیں سوچنا چاہئے؟ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو حکمراں سرکار کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ساتھ ساتھ بھارت میں دماغی مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ جائے گی اور یہ دیش میں دھماکہ خیز حالت پیدا کرسکتی ہے۔ عام شہروں اور میٹرو شہروں میں لوگ جس طرح کی بھاگ دوڑ بھری زندگی جی رہے ہیں اس کاسبب کشیدگی ہوتی ہے۔ زیادہ ہی سب کچھ شاٹ کٹ سے حاصل کرنے کی چاہ اور آلہ کار مقابلوں نے اس کشیدگی بھری زندگی کو بڑھاوا دیا ہے۔ کوئی تو مہنگائی سے پریشان ہے تو کوئی جی ایس ٹی سے تو کوئی بازار میں گراہکوں کے غائب ہونے سے۔ نوجوانوں میں روزگار ایک بڑا مسئلہ ہے، لاکھوں کی تعداد میں آج پڑھے لکھے نوجوان نوکری کے لئے بھٹک رہے ہیں۔ عورتیں اپنی جگہ غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں۔ اس کشیدگی بھری زندگی میں سبھی قارئین کو یوم آزادی کی مبارکباد۔ امید کرتے ہیں اس سے جلدی چھٹکارا ملے گا۔
(انل نریندر)

راہل گاندھی کی قیادت صلاحیت پر سوالیہ نشان

کانگریس صدر راہل گاندھی ویسے تو مہا گٹھ بندھن بنانے کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن اس چھوٹے سے چناؤ میں تو جس طرح اپوزیشن نے جیتی ہوئی پاری ہاری ہے اس سے تو راہل گاندھی کی قیادت کی صلاحیت پر زیادہ بھروسہ نہیں قائم ہوتا۔ میں آج راجیہ سبھا ڈپٹی چیئرمین کے چناؤ میں کانگریس امیدوار وی کے ہری پرساد کی ہار کی بات کررہا ہوں۔ اپوزیشن کے پاس ممبران کی درکار تعداد نہ ہونے کے باوجود این ڈی اے کا امیدوار ہری ونش نرائن سنگھ چناؤ جیت گئے ہیں جبکہ این ڈی اے اکثریت سے کم ہونے کے بعد جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ این ڈی اے نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ مودی۔ امت شاہ کی جوڑی کے سامنے مضبوط اور کامیابی اپوزیشن کا تانا بانا قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ ورنہ کیا بات ہے کہ این ڈی اے سرکار کے خلاف اپوزیشن کی صف بندی اس راجیہ سبھا میں بکھرگئی جہاں این ڈی اے کے پاس اپنے امیدوار ہری ونش کو جتانے لائق اکثریت کا جادوئی نمبر بھی نہیں تھا۔ موجودہ سیٹ کانگریس پارٹی کے ممبر اور سابق ڈپٹی چیئرمین پی جے کرین کے ریٹائر ہونے سے خالی ہوئی تھی۔ آئینی روایت کے لحاظ سے بھی وہ عہدہ کانگریس کے ہری پرساد کو ہی جانا چاہئے تھا لیکن کانگریس اور اپوزیشن کی جگہ پر لگاتار قبضہ کررہے حکمراں اتحاد نے نہ صرف انا ڈی ایم کے کو چاق چوبند کیا بلکہ شش و پنج میں رہنے والے بیجو جنتا دل اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کو اپنے حق میں ووٹ ڈلوانے کے لئے تیار کرلیا۔ اتنا ہی نہیں اس نے وائی ایس آر کانگریس اور آپ کو پولنگ کا بائیکاٹ کرنے کے لئے بھی راضی کرلیا۔ یہ ایک جھلک ہے مستقبل کی جہاں 2019 کے عام چناؤ کے بعد اگر ایسی کوئی صورتحال بنی جس میں بھاجپا کو اکثریت نہیں ملی وہ اپنے انتظام کے فن سے اسے حاصل کرسکتی ہے۔ تین پارٹیوں کے کل سات ممبران نے ووٹ میں حصہ نہیں لیا جس میں عاپ کے تین ووٹ اپوزیشن کے کھاتے میں جڑ سکتے تھے لیکن کانگریس صدر راہل گاندھی نے عاپ سے رابطہ قائم نہیں کیا جبکہ این ڈی اے نے امیدواری کے باوجود کیجریوال سے رابطہ قائم کیا تھا۔ یہاں پر این ڈی اے اور اپوزیشن کا فرق دکھائی پڑتا ہے۔ صاف ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی مضبوطی کے لئے کانگریس کو لچیلا رخ اپنانا ہوگا۔ اس نتیجے کے بعد اپوزیشن کے لئے دو سندیش بہت واضح ہیں ایک یہ کہ لوک سبھا چناؤ میں صرف بھاجپا احتجاج سے کام نہیں چلے گا اور دوسرا علاقائی پارٹیوں کے لئے بھاجپا مخالفت کے بجائے مقامی مفادات اور اپنے وجود کی بے چینی زیادہ اہم ہے۔ ٹی آر ایس کی مثال سامنے ہے جس نے کبھی ممتا کے فیڈرل فرنٹ کی حمایت کی تھی لیکن راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے وقت وہ این ڈی اے کے ساتھ ہوگئی۔ ایسے میں اب کانگریس کے اندر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں کہ جب این ڈی اے اپنی اتحادی پارٹیوں کو ساتھ رکھ کر دیگر پارٹیوں کی حمایت حاصل کرسکتی ہے تو کانگریس کیوں نہیں؟
(انل نریندر)

14 اگست 2018

داغی کو ٹکٹ دینے والی پارٹی کا رجسٹریشن کیوں نہ منسوخ ہو

سنگین مجرمانہ مقدموں کا سامنا کررہے اشخاص کے چناؤ لڑنے پر پابندی کے لئے دائر عرضیوں پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ میں سماعت شروع ہوگئی ہے۔سپریم کورٹ کی واضح رائے کہ دیش کی سیاست میں جرائم پیشہ کی اینٹری نہیں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس روہت نریمن، اجے، خان ولکر ،دھننجے چندرچوڑ، جسٹس اندو ملہوترہ کی آئینی بنچ نے جمعرات کو مرکزی حکومت سے پوچھا کیوں نہ مجرمانہ مقدمات جھیلنے والے اشخاص کو چناؤ لڑنے کا ٹکٹ دینے والی سیاسی پارٹیوں کا رجسٹریشن منسوخ کردیا جائے؟ عدالت عظمیٰ نے حکومت سے پوچھا کیا چناؤ کمیشن کو ایسا کرنے کی ہدایت دی جاسکتی ہے؟ سیاست میں جرائم کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونے کی بات کرتے ہوئے عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ جرائم سے پاک سیاست کے لئے کیا آئین سازیہ کو اس سلسلہ میں قانون بنانے کے لئے کہا جاسکتا ہے؟ پانچ نفرتی آئینی بنچ نے یہ سوال اس سلسلہ میں داخل مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کے دوران اٹھائے۔ بتادیں کہ 8 مارچ 2016 کو ایک تین نفری بنچ نے معاملہ آئینی بنچ کے حوالہ کردیا تھا۔ اس سے پہلے عدالت ایم پی اور ممبران اسمبلی پر چل رہے جرائم کے مقدموں کی سماعت اسپیشل فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کر ایک سال میں نپٹانے کی ہدایات سبھی ہائی کورٹ کو دے چکی ہے۔ سیاست میں مجرمانہ عناصر کی دخل اندازی کوئی اچانک سامنے نہیں کھڑی ہوئی ، مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دیش کے جمہوری ڈھانچے کو لیکر فکر مند حلقوں میں طویل عرصہ سے تشویش جتائی جاتی رہی ہے۔ خاص طور پر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مجرمانہ پس منظر کے یا اس سے متعلق مقدمات کا سامنا کررہے لوگوں کی اینٹری کو کئی بار قانونی طور پر شکنجہ کسنے کے معاملہ اٹھے ہیں لیکن اب تک اس معاملہ پر کوئی ٹھوس قواعد و ضوابط عمل میں نہیں آسکے۔ جمعرات کو ایک بار پھر سپریم کورٹ نے اس سوال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نظام میں جرائم کرن کی اینٹری نہیں ہونی چاہئے۔ حالانکہ مرکزی سرکار کا خیال ہے کہ یہ موضوع پوری طرح پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ مرکزی سرکار کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشو پوری طرح سے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ساتھ ہی کہا جہاں تک سزا سے پہلے چناؤ لڑنے پر پابندی کا سوال ہے تو کوئی بھی آدمی تب تک بے قصور ہے جب تک کورٹ اسے سزا نہیں دے دیتی۔ آئین کے تقاضے یہ ہی کہتے ہیں ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ وزیر جب حلف لیتے ہیں تو آئین کو اس سے اچھوتا رکھنے کی بات کرتے ہیں تو کیا کوئی آدمی جس کے خلاف مرڈر کا الزام ہے وہ ایسا کرسکتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حلف نامہ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ جن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ اس دوران عرضی گزار کے وکیل دنیش دویدی نے کہا کہ 2014 سے 34 فیصدی ایم پی ایسے پارلیمنٹ پہنچے ہیں جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں۔ کیا قانون توڑنے والا قانون بنا سکتا ہے؟ سیاست میں جرائم کی اینٹری جمہوریت میں ناقابل قبول ہے۔ اس پر جسٹس روہنٹن نریمن نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے ہم تو اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے اسی سے پتہ چلتا ہے پانچ مہینے پہلے مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ کو یہ بتایا تھا کہ دیش بھر میں 1765 ایم پی و ممبران اسمبلی کے خلاف 3045 مجرمانہ مقدمہ زیر التوا ہیں۔ موجودہ سسٹم کے مطابق دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا والے قصوروار شخص جیل سے چھوٹنے کے چھ سال بعد تک چناؤ نہیں لڑسکتا لیکن ایسے لوگوں کے تاحیات چناؤ لڑنے پر پابندی لگانے کی مانگ کی جارہی ہے۔ اس مسئلہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی مقدمہ کے فیصلہ میں قصوروار ٹھہرائے جانے تک کسی شخص کو بے قصور مانا جاتا ہے لیکن اگر صرف مقدمہ کو امیدواری کے لئے نااہلی کی بنیاد مانا جائے گاتو اس سے کچھ مشکلیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ اسی سے متعلق ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس طرح کے قانون کا سیاسی بیجا استعمال کا اندیشہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ پولیس ریاستی سرکاروں کے ماتحت کام کرتی ہے اس لئے حکمراں پارٹی اپنی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو جھوٹے مقدمہ دائر کر چناؤ لڑنے سے روکنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ پھر کوئی مقدمہ فیصلہ تک پہنچنے میں سالوں لگ سکتے ہیں اور اتنے وقت تک کے لئے چناؤ میں حصہ لینے سے روکنا جمہوریت کے لئے مناسب نہیں مانا جائے گا۔ ظاہر ہے ان اعتراضات کو پوری طرح درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود اسی اندیشہ کو بنیاد بنا کر سیاسی عمل میں مجرمانہ عناصر کی دخل اندازی کو روکنے کی کوشش کے تئیں ٹال مٹول کا رویہ صحیح نہیں ہوگا۔ سیاسی پارٹیاں ٹکٹ دیتے وقت امیدوار کے کرمنل ریکارڈ سے زیادہ اس کے ذریعے سیٹ نکالنے کے امکان کو جب تک ترجیح دیتی رہیں گی اس میں شبہ ہی ہے بھارت کی سیاست جرائم سے پاک ہوسکے۔
(انل نریندر)

چین کا دوہرا کردار اجاگر: 10 لاکھ مسلم قید میں

دہشت گردی کے مسئلہ پر خاص طور پر جماعت الدعوی عرف لشکرطیبہ کے چیف کے مسئلہ پر بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان کا لگاتار بچاؤ کرنے والے چین کا دوہرا کردار کے وہ خود کیسے اپنے دیش میں دہشت گردی سے نمٹتا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا کہ چین نے 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو مبینہ طور پر کٹرواد مخالف خفیہ کیمپوں میں قید کرکے رکھا ہوا ہے اور 20 لاکھ دیگر کو آئیڈیالوجی بدلنے کا سبق پڑھایا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں اپنے یہاں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو لیکر بدنام چین کا اس طرح ایک اور خوفناک چہرہ سامنے آیا ہے۔ چین نے اپنی اکلوتی مسلم ریاست شنگ زیانگ میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو دیش مخالف سرگرمیوں کے نام پر خفیہ اجتماعی حراست کیمپوں میں قیدی بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نسلی امتیاز انسداد کمیٹی کے ممبرجے میک ڈوگل کے مطابق اس پر اقوام متحدہ انسانی حقوق پینل نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ پینل نے اس سلسلہ میں چین کے حالیہ برسوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے۔ معلوم ہو کہ اوئنگر مسلمان چین کے مغربی شنگ زیانگ صوبہ میں اکثریت میں ہیں اور چین نے اس صوبہ کو آزاد اعلان کررکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس پینل نے جمعہ سے ژنہوا میں چین کی رپورٹ کا جائزہ لینا شروع کیا ہے۔ کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین جے میک ڈوگل نے کہا کہ ہمیں ملی مختلف بھروسہ مند رپورٹوں سے کمیٹی کے ممبر بیحد فکر مند ہیں۔ سماجی استحکام اور مذہبی کٹرتا سے نمٹنے کے نام پر چین نے اوئنگر مختار خطہ کو کچھ ایسا بنا دیا ہے جو خوفگی کے آنچ میں ڈھکا بہت بڑا نظربندی کیمپ جیسا ہے۔ نگرانی گروپوں کا کہنا ہے اوئنگر مسلمانوں کو چوکسی اور سکیورٹی آپریشن کے بہانے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہزاروں اوئنگر مسلمانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں آئیڈیا لوجی بدلنے والے کیمپوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے صاف کہا صرف اپنی مذہبی پہچان کی وجہ سے اوئنگروں کے ساتھ چین میں دشمنوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے۔ بیرونی ممالک سے شنگ زیانگ صوبہ میں لوٹنے والے سینکڑوں اوئنگر طلبہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کئی حراست میں ہیں اور حراست میں کئی مربھی چکے ہیں۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق میٹنگ میں موجودہ50 ممبران چینی نمائندہ وفد کے ممبران نے میک ڈوگل کے الزامات پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ میں چین کے سفیر یوزیانہوا نے اقلیتوں کے لئے چین کی پالیسی کو خیر سگالی اور اتحاد بڑھانے والا بتایا ہے۔2014 میں شنزیانگ کی حکومت نے رمضان کے مہینے میں مسلم قیدیوں کو روزہ روکھنے اور داڑھی بڑھانے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ صدر جن پنگ کے حکم پر مسجد، مدرسہ ڈھا دئے گئے ۔
(انل نریندر)

12 اگست 2018

نئے آئین سے بدل جائے گی بھارتیہ کرکٹ

سپریم کورٹ کے جمعرات کو بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ سے متعلق فیصلہ سے ہندوستانی کرکٹ کی شکل بدلنے کا امکان ہے۔ اس میں کئی اشو پر فیصلے دوررس اثر ڈالیں گے۔ سپریم کورٹ نے لوڈھا کمیٹی کی کچھ اہم سفارشوں میں تبدیلی کرتے ہوئے بی سی سی آئی کے نئے آئین کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ ایک ریاست ایک ووٹ کو عدالت نے ختم کردیا ہے۔ ساتھ ہیکولنگ آف پیریڈ میں سپریم کورٹ نے تبدیلی کرتے ہوئے بی سی سی آئی کو بڑی راحت دے دی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی تین نکاتی بنچ نے بی سی سی آئی یا کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی میعاد کے درمیان کولنگ آف پیریڈ کے اصول کو تو صحیح مانا لیکن تبدیلی کرتے ہوئے اب ایک بجائے لگاتار دو میعاد کے بعد تین برس کاکولنگ پیریڈ کردیا ہے۔ ہر عہدیدار کی میعاد تین سال ہوگی حالانکہ بنچ نے کہا کہ کسی بھی عہدیدار کی کل میعاد 9 برس سے زیادہ نہیں ہوگی ساتھ ہی کوئی عہدیدار 70 برس سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اور کوئی وزیر یا سرکاری نوکر یا پبلک آفس میں کام کررہے لوگ کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نہیں بن سکتے۔ بی سی سی آئی کے سابق بگ باس این سری نواسن کرکٹ ایڈمنسٹریٹر بنے رہنے کی لمبی لڑائی آخرکار ہار گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 70 سال کی عمر کی حد و قواعد برقرار رکھ کر سری نواسن کے تمام عہدے چھوٹ جائیں گے۔ ریاستوں کے کئی ممبران کو بھی بڑی راحت دیتے ہوئے ایک ریاست ایک ووٹ کے قاعدے کو منسوخ کردیا ہے۔ اس سے ممبئی سوراشٹر، بڑودہ اور ودربھ کرکٹ فیڈریشنوں کی مستقل ممبر شپ پھر سے بحال ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ راجیو شکلا کے لئے سنجیونی لیکر آیا ہے کیونکہ وہ پچھلے تین سال سے بی سی سی آئی کے عہدیدار نہیں ہیں۔ یہ ہی نہیں چناؤ تک اترپردیش کرکٹ فیڈریشن سے بھی ان کا کولنگ آف پیریڈ تین سال کا ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا فائدہ سورو گانگولی کو بھی ہوا ہے۔ یہ ہی نہیں عدالت کے حکم کے بعد اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ 30 دنوں کے اندر جس ریاست میں بورڈ کا نیا آئین نہیں اپنایا تو وہ رنجی ٹرافی میں کھیلنے سے تو جائے گا ساتھ ہی بورڈ کی طرف سے دی جارہی مالی مدد بھی بند ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے بی سی سی آئی میں جمی بیٹھی سرکردہ ہستیوں کی واپسی کے راستے بند کردئے ہیں۔ سی اے بی چیئرمین سوروگانگولی اور ڈی ڈی سی اے چیئرمین رجت شرما کو چھوڑ کر کوئی بھی نامی گرامی بورڈ کے پانچ عہدیدار فی الحال بی سی سی آئی میں داخل نہیں ہوسکتا۔ منتظمین کی کمیٹی کے چیئرمین ونود رائے نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عزت مآب عدالت کا شاندار فیصلہ ہے۔ شرد پوار این سری نواسن اور نرجن شاہ کے لئے بورڈ کے دروازہ ہمیشہ کے لئے جہاں بند ہوگئے ہیں وہیں نئے لوگوں کو موقعہ ملے گا۔
(انل نریندر)

بھیک مانگنا اب جرم نہیں

بھیک مانگنا اب جرم نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ دہلی ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں دیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ۔ ہری شنکر کی بنچ نے بھیک دھندے کو آئی پی سی کے زمرے میں رکھنے والے قانون کو غیر آئینی بتاتے ہوئے اسے منسوخ کردیا ہے۔ بنچ نے کہا بھیک مانگنے کو جرم ماننے والے بمبئی بھیک روک تھام قانون کے تقاضے آئینی جانچ میں ٹک نہیں سکتے۔ بنچ نے 23 صفحات کے فیصلہ میں کہا کہ اس فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بھیک مانگنے والوں کا جرم مبینہ طور سے کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت مقدمات خارج کرنے لائق ہوں گے۔ عدالت ہذا نے کہا اس معاملہ میں سماجی اور اقتصادی پہلو پر تجربہ پر مبنی نظریہ کے بعد دہلی سرکار بھیک کے لئے مجبور کرنے والے گروہ پر کنٹرول کے لئے متبادل قانون لانے کو آزاد ہے۔ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی سرکار نے کہا تھا کہ بمبئی بھیک دھندہ روک تھام ایکٹ 1959 میں کافی توازن ہے۔ اس قانون کے تحت بھیک مانگنا جرم کے دائرہ میں آتا ہے۔ دہلی سرکار اور مرکزی سرکار دونوں نے اکتوبر 2016 کو ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ سماجی انصاف و تفویض اختیارات وزارت نے بھیک دھندے کو جرم کے زمرے سے باہر کرنے اور بھکاریوں اور بے گھر لوگوں کو بسانے کے لئے بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔ حالانکہ بعد میں حکومت نے اس قانون میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ راجدھانی میں ٹھگ گروہ کے بدمعاش بھکاری کے بھیس میں سڑکوں پر جرائم کو انجام دیتے ہیں۔ ان کا اہم جرم لوگوں کی کار سے بیگ ،لیپ ٹاپ وغیرہ سامان چرانا ہے۔ کئی بار نشیڑی بھی بھکاری کے بھیس میں واردات کو انجام دیتے ہیں۔ کئی بار پکڑے بھی گئے ہیں۔ راجدھانی دہلی میں ہی 75 ہزار سے زیادہ بھکاری ہیں ان میں سے 30 فیصدی 18 سال سے کم عمر کے ہیں۔ 40 فیصدی راجدھانی میں خاتون بھکاری ہیں۔ ان میں نشہ کرنے والے بھکاری بھی شامل ہیں۔ ہائی کورٹ نے معاملہ کی سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ اگر کوئی منظم ڈھنگ سے بھکاریوں کا گینگ یا ریکٹ چلاتا ہے تو اس پر کارروائی کی جانی چاہئے۔ آپ کو بتادیں بمبئی پرونشن آف بیگنگ ایکٹ کے تحت اگر کوئی شخص پہلی بار بھیک مانگتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اسے تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ قانون کے تحت 10 سال تک کی حراست میں رکھنے کی بھی سہولت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہلی سرکار کو سماج کلیان محکمہ کی مدد سے بھکاریوں کو لیکر کوئی ٹھوس مفصل منصوبہ تیار کرنا ہوگا اوران کی باز آبادکاری کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)