Translater

11 اپریل 2020

تین مہینے کی چھوٹ کی قیمت گیارہ سے زیادہ ای ایم آئی !

ای ایم آئی جمع کرنے سے دی گئی چھوٹ یعنی موری ٹیریم کو ملتوی کرنے کی سہولت تو دے دی گئی لیکن آخرمیں اکاو ¿نٹس ہولڈروںکو مہنگی پڑےگی کیونکہ بینک اپنے خاطے داروں سے گیارہ مہینے تک فاضل ای ایم آئی وصولے گا اگر قسطے نہیں چکا پارہے ہیں تو اپنی شاخ بچانے کے لیے تو ان کوکئی گنا رقم چکانی ہوگی ۔لاک ڈاو ¿ن کودیکھتے ہوئے رزرو بینک آف انڈیا نے ای ایم آئی ملتوی کرنے کا موقع دیا ۔یعنی پہلی مارچ سے 31مارچ مئی 2020کے درمیان قسطیں دینے خاطہ ایم پی اے نہیں ہوگا ۔اس میعاد کے دوران بہر حال سود دینا ہوگا ۔یہ سود ای ایم آئی پرلگا کر اصل رقم پر لگے گا ۔اور جو قرض لینے کے وقت طے ہوئی ۔شرع سود یا اس کی ایک مشط ادائیگی کر سکتے ہیں ۔ایسے وقت میں مورو ٹیریم کا20لاکھ روپئے کا قرض بیس سال یعنی 240مہینے کے لیے 8.4فیصد سالانہ سود پر لیا گیا اس پر ای ایم آئی قریب 17230بنتی ہے ۔اور بارہ قسطیں دی جا چکی ہیں یا ابھی انیس سال کی قسطیں باقی ہیں بنیادی اثاثہ میںچھیالیس ہزار روپے گھٹا دیں یعنی 19.54لاکھ رپے کا قرض باقی ہے ۔مئی 2020تک کی قسطیں 241و 243مہینے کی جمع کرنی ہوںگی ۔اس لیے اگر ممکن ہوتو وہ رعایت گزرنے کے بعد اصل رقم پر جو سود اور بڑھی قسطوں سے بچنا چاہتا ہے تو خاطے دار اس موری ٹوریم کی سہولت نا لیں اور وقت کے مطابق اپنی قسطیں بھر دیںتو بہتر ہوگا ۔ہاں مجبوری ہو تو کیا کر سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

زندگی نہیں موت کی رسمیں بھی بدلیں!

کورونا نے صرف زندگی جینے کے طریقے بدل دیے ہیں بلکہ موت کی آخری رسوم کے طریقے اور رسمیں بھی بدل دیے ہیں ۔دیش میں کورونا سے بھلے ہی موتیں ہوئی ہوں لیکن دوسری بیماریاں شوگر ،ہارٹ اٹیک ،گردے فیل ہونا سے قدرتی موت جاری ہے ۔اگر اب نا ارتھی چار کندھوں پر شمشان تک جا سکتی ہے ۔اور نا چتا کے آس پاس اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے اور ناہی دوسری رسموں کے لیے محفلیں بلائی جاتی ہیں اور نا ہی تیرہویں ہوتی ہے ۔کورونانے موت کے بعد ہونے والے تمام طریقے بدل ڈالے ہیں دکھ سے متعلق پیغامات میں بھی ان دنوں ایک لائن بہت عام ہوگئی ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے مرحوم آتما کی سانتی کے لیے گھر سے ہی پرارتھنا یا دعا یامغفرت کریں ۔سبھی غم زدہ پیغامات میں یہی درخواست ہوتی ہے ۔رشتہ دار اپنے گھر سے شردھان جلی موبائل مسج کے ذریعے بھیج دیتے ہیں ۔ایسا کرنے کے پیغام سے اتنا صاف ہے کہ رسمیں نبھانے سے زیادہ ضروری زندگی ہے اگر کسی کی موت کورونا انفکشن سے ہوئی ہو اسے قبرستان میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے ۔آخری رسوم سے جڑے نریندر جوکی بتاتے ہیں کہ لوگ کریا کرم کو لیکر بے حد حساس ہیں اورکئی بار سمجھانے کے بعد بھی وہ مانتے ہیں کہ لاک ڈاو ¿ن کے چلتے استھیوں کا وسرجن مشکل میں پڑ رہا ہے ۔حال ہی میں اپنی بیوی کوکھونے والے ایک شخص راجندر سنگھ بتاتے ہیں کہ ان نے پتینی کی استھیاں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں لاک ڈاو ¿ن کھلنے کے بعد گنگا میں بہا دیںگے ۔اسی طرح چرچ اور سبھی میں اسی کی تعمیل ہورہی ہے ۔کورونا کے چلتے مردہ افرادکو اپنے چار رشتےداروں اور دوستوںکا کاندھا بھی نہیں ملرہا ہے اور غمزدہ خاندان تعزیتی جلسوں کے ذریعے ویڈیو اکانفرنسنگ کر رہے ہیں ۔اور اس میں آن لائن ایپ کی مدد لی جارہی ہے ۔دہلی میںزیر تعلیم ایک لڑکی جو لاک ڈاو ¿ن میں پھنسی تھی اس کو اس کے پتا کے آخری دیدار موبائل پر کروائے گئے اورناجانے ایسے کتنے لوگ ہیں جو لاک ڈاو ¿ن کے چلتے متوفی افراد کی آخری رسوم نہیں ادا کر پارہے ہیں ۔چونکہ جو چلاگیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے لیکن دوسروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالی جا سکتی ۔وبا کے چلتے مذہبی رسم ورواج کے قاعدے طے کیے گئے ہیں ان کے مطابق انتم سنسکار میں بیس سے زیادہ لوگ شامل نہیں ہو سکتے ۔لاش کو شمشان تک گاڑی میںلے جانا ہوتا ہے انتم یاترا کی اجازت نہیں ہے جو جائیں اپنے ماسک و سینی ٹائزر ساتھ لے جا رہے ہیں ۔موکش دھام کے ملازم بھی دوری بنائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
(انل نریندر)

کب تک لاک ڈاو ¿ن جاری رکھا جائے؟

21دنوں کا لاک ڈاو ¿ن جیسے جیسے اپنے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے سرکار کی مشکل بھی بڑھ رہی ہے کہ 21دن کے بعد یہ لاک ڈاو ¿ن جاری رکھیں یاجزوی لاک ڈاو ¿ن جاری رکھیں ۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوںمیں سبھی پارٹیوں کے نتیاو ¿ں کے ساتھ جو میٹنگ کی اور اس سے پہلے کووڈ19-پر بنے وزارتی گروپ کی میٹنگ ہوئی تو اس میںکئی تجاویز ملیں ۔وزارتی گروپ نے اسکول کالج شاپنگ مال اور مذہبی عبادت گاہیں مئی تک بند رکھنے کی سفارش کی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزارتی گروپ کی رائے ہے کہ لاک ڈاو ¿ن 14اپریل سے آگے نا بڑھنے کی صورت میں بھی یہ سرگرمیاں بند رہنی چاہیے ۔ساتھ ہی مندر مساجد مال جیسے مقامات پر جمع ہونے والی بھیڑ کو ڈرون سے دیکھا جانا چاہیے ۔سرکار کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ لاک ڈاو ¿ن کا کیا کیاجائے ؟اسے ایسے ہی کچھ وقت کے لیے جاری رہنے دیا جائے یا کچھ حد تک ختم کر دیا جائے ۔ابھی حالت یہ ہے ہر دن کے ساتھ کورونا مریضوں کی تعداد میں پانچ سو یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہو رہا ہے ۔لیکن دوسری طرف لاک ڈاو ¿ن کے سبب ساری کاروباری و صنعتیں بند ہیں ۔جس سے دیش اندر ہی اندر ایک ایسے بحران کو تقویت پہونچ رہی ہے جس آگے چل کر خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے ۔ان کے علاوہ تیسرا فیکٹر یہ ہے خود ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی لاک ڈاو ¿ن کو کورونا سے لڑنے کا مناسب طریقہ نہیں مانا۔وزیر اعظم نریندر مودی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلی ٰ سے اس مسئلے پر بات چیت کر چکے ہیں جس میں طے ہوا کہ ضلع انتظامیہ کی رپورٹ کی بنیاد پر لاک ڈاو ¿ن ہٹانے کا پلان بھیجا جائے ۔سبھی ریاستیں مرکز کو اپنی رپورٹ بھیجیں گے اسی بنیادپر مرکزی سرکار اپنا فیصلہ لے گی ۔ایسے مشکل میں ایک بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ بڑے فیصلوںمیںسیاسی عام رائے بنائی جائے ۔لاک ڈاو ¿ن جلد بازی میںلاگو کرنا پڑاتھا اس وقت ایسی رائے بنانے کا وقت نہیں تھا ۔جس کی وجہ سے ایسی بہت سی باتیں چھوٹ گئیں جن کی وجہ سے سرکار کی نکتہ چینی ہوئی لیکن اب جب چند روز کاوقت باقی ہے تب سرکار سب کی صلاح پر توجہ دے رہی ہے ۔چھوٹی موٹی چیزوںکوچھوڑ دیں تو اس مشکل وقت میں تمام اپوزیشن پارٹیاں سرکار کے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہیں جیسا ابھی لگ رہا ہے کہ پوری دیش میں ایک ساتھ لاک ڈاو ¿ن ختم نہیں ہوگا ۔سرکار کاپلان ہے جن جگہوں پر کورونا کے مریض زیادہ پائے گئے ہیں اور وہاں انفکشن کی تعداد کی بناد پر ریاستوں کو زمرے میں بانٹا جائے گا ۔اسی حساب سے الگ الگ ریاستوں یا پھر اضلاع میں لاک ڈاو ¿ن ہٹانے اور مختلف خدمات شروع کرنے کے بارے میں سوچا جائےگا ۔ان میں زیادہ کورونا سے متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاو ¿ن میں کوئی چھوٹ نہیں دی جائےگی ۔لیکن جن ریاستوںمیں پچھلے سات آٹھ دن سے کوروناکا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا وہاں راحت مل سکتی ہے ۔سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ جوں جوں لاک ڈاو ¿ن کی میعاد بڑھے گی وہیں سماج کے کمزور طبقوں کی مشکلیں بڑھیں گی ۔ابھی تو یہ طبقہ کسی طرح اپنی زندگی گزر بسر کررہا ہے لیکن آخر کب تک وہ بے روزگار بیٹھا رہے گا ۔
(انل نریندر)

10 اپریل 2020

اب کورونا کے نشانے پر جانور!

دنیا بھرمیں تقریباً 80ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں ۔کورونا وائرس کولیکر حال میں ایک چوکانے والی بات سامنے آئی ہے جس نے لوگوں کی پریشانیوں کو اور بڑھا دیا ہے وہ یہ کہ یہ وائرس کوروناسے متاثرہ ملکوںجیسے امریکہ میںیہ وائرس اب جانوروںمیں پھیل گیا ہے جس وجہ سے امریکہ کے نیویارک شہر کے چڑیا گھر میں ملمن نسل کی شیرنی نادیہ کووڈ19-سے متاثر پائی گئی ہے یہ چڑیا گھر مارچ کے وسط ہفتہ سے بند ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ چیتوں اور شیروں کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم سے ان جانوروں کو انفکشن ہوا ہے حالانکہ شروع میں تو اس کے اثرات نہیں دکھائی دیے بتایا جاتاہے کہ چڑیا گھتروںمیں چار سالہ شرنی نادیہ اور تین دیگر چیتوں اور و دیگر تین افریقی شیروںکوخشک کھانسی ہو رہی ہے ۔حالانکہ سبھی کو ان کے ٹھیک ہونے کی امید ہے ۔بتایا کہ ان کو بھوک بھی کم لگ رہی ہے ۔بہر حال نیویارک کے بروکس چڑیاگھر کا معاملہ کسی غیر پالتو جانور میں انفکشن کا یہ پہلا معاملہ ہے ۔اس سے پہلے ایک شخص کے خاندان میں دو کتوںمیںکوروناپایا گیا تھا ۔مگر میں ان میں بھی فوری طور پر اثرات دکھائی نہیں دیے گئے تھے ۔اور بیلجیم میں بھی ایک بلی کا کیس پوزیٹو آیاتھا اس بلی کو سانس لینے میں بے چینی ہو رہی تھی ۔لیکن ابھی تک اس کے ثبوت نہیں ہیںکہ پالتو جانور میں کوروناوائرس کا ثبوت نہیں ہے ۔ادھر اتراکھنڈ کے جم کورویٹ نیشنل پارک انتظامیہ اور محکمہ جنگلات امریکی چڑیا گھر میں شیرنی کو انفکشن ہونے کا پتہ لگنے کے بعد چوکس ہوگیاہے اور قومی جنگلی جانور تحفظ اتھارٹی نے ایڈوائزری جاری کی ہے او ر اس نے چیتوںیا شیروں کے آبادی والے علاقوںمیں دکھائی دینے پر ان کو پکڑکر جانچ کرانے کے احکامات دیے ہیں ۔ادھر اتراکھنڈ کے کورویٹ نیشنل پارک میں 259سے زیادہ شیر و چیتے ہیں ا س کے علاوہ انتظامیہ نے گائید لائن جاری کی ہے اس میں سی سی ٹی وی کیمرے ڈرون ہاتھی کی گشت اور تھرمل کیمروں سے ان شیر چیتوں پر 24گھنٹے نظر رکھنے کو کہا گیا ہے ۔ان میں سے اگر کوئی بیمار دکھائی دے تو اس کے فوراً اجانچ کرانے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔انڈین گنزرویٹو انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر وائس جھالا کا کہنا ہے کہ شیریوں کے انفکشن ہونے پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابھی ان میںوائرس کے پھیلنے کو لیکر پختہ جانکاری نہیں ہے ۔یہ جانوروں میں موسم بدلنے سے زکام پھیلنے سے بھی ان میں ٹھنڈ کا اثر ہو سکتا ہے ۔چیتوں یا شیروں سے انفکشن انسان میں پھیلنا مشکل ہے کیونکہ یہ انسانوں کے آس پاس نہیں آتے ۔ادھر چائنیز اکیڈمی آف ایگری کلچرسائنس اور چین کے نیشنل ہارٹ کنٹین مینٹ لیبورٹی برائے جنگلی جانور بیماریاں کنٹرول و روک تھام کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کتے،سور اور بتخوں میں وائرس کے انفکشن ہونے کا امکان کم ہے جبکہ اونٹ بلاو ¿ اور بلیوںمیں اس وائرس انفکشن ہونے کا امکان زیادہ ہے ۔
(انل نریندر)

کورونا سے ڈریں نہیں90فیصدی ٹھیک ہو جاتے ہیں!

عالمی وبا کوروناکو لے کر دنیا دہشت میں ہے اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ اب تک پوری دنیا میں اس وبا سے 81ہزار کے قریب لوگ مر چکے ہیں ۔بے شک حالیہ دنوںمیں جس طرح سے اس کا انفکشن بڑھا ہے اس سے ہر کوئی گھبرایا ہوا ہے ۔پوری دنیا میںتباہی مچانے والے اس کووڈ19-انفکشن کو لیکر دنیا پردہ اٹھانے کی جتنی کوشش کر رہی ہے یہ بیماری اتنی ہی پیچیدہ ہوتی جارہی ہے ۔ایک اسٹڈی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کووڈ انفکشن قریب 25فیصد لوگوں میں بیماری کے اثرات آخر تک ظاہر نہیں ہوپاتے لیکن لوگ انجانے میں اس بیماری کوپھیلا رہے ہیں ۔ممکن ہے کہ بیماری کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کیوں کہ چار میںسے ایک مریض کی پہچان نہیں ہوپاتی ایک انگریزی سائنس الرٹ جرنل میں شائع ایک ریسرچ کے مطابق چین اور دیگر ملکوں میں بغیر اثرات والے مریضوں پر کئی تحقیق چل رہی ہیں ان میں دوطرح کے مریض دکھائی دیے ہیں ۔کچھ ایسے مریض ہیں جن میں ابتدا میں اس وبا کے اثرات نہیں دکھائی پڑتے لیکن ایک دوہفتے کے بعد دکھائی دینے لگ جاتے ہیں ۔چارمیں سے ایک یعنی قریب25فیصد ایسے مریض ہیں جن میں آخرتک بیماری کے اثرات نہیں نظرآتے ہیں۔اب خوشی کی بات یہ ہے کہ اگر دہلی کے اسپتالوںمیں بھرتی مریضوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تو قریب دس مریضوں کی ہی حالت نازک ہے اس میں سے بھی 6.62فیصد مریض آئی سی یو میں ہیں ۔90فیصد مریضوں کی حالت بہتر ہے اس لیے لوگوں کو کورونا سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔صرف جسمانی دوری اور گھرمیں رہنے کے قاعدے کو پورا کرتے رہیں ۔ڈاکٹر بھی کہتے ہیں کہ 80سے 85فیصد مریضوںمیں معمولی انفکشن دیکھا جارہا ہے اس لیے لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہاتھ دھونے اور تنہائی میں رہ کر اس بیماری کے انفکشن سے بچا جا سکتا ہے دہلی میں موجودہ وقت میں 596مریض سامنے آئے ہیں۔اور باقی مریضوں کا علاج چل رہا ہے سبھی مریضوں کی حالت بقدر بہتر ہے ۔دہلی میں مرنے والوں کی شرح ڈیڑھ فیصدی سے بھی کم ہے ۔ان میں بھی زیادہ تر بزرگ شوگر کی بیماری کے ہائی پر ٹینشن متاثر مریض ہیں ۔اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ زیادہ تر ان بیماریوں سے متاثر ہیں اور اپنی پرانی بیماری کو دوا سے کنٹرول رکھتے ہیں اگر ایسی حالت میں اگر انفکشن بھی ہوتا ہے تو وہ ٹھیک ہو سکتا ہے ۔اور کافی لوگ ٹھیک ہو کر گھر آگئے ہیں یہ ایک نیا وائرس ہے اس لیے آنے والے دنوں میں کیا پوزیشن رہے گی یہ کہنا مشکل ہے ۔پھر بھی یہ دیکھا گیا ہے سائنس سے وابسطہ دوسرے وائرس انفکشن کی بیماریاں گرمیوںمیں بہت کم ہو جاتی ہیں ویسے بھی جن دیشوں میں ٹھنڈ زیادہ ہے وہاں یہ انفکشن زیادہ پایا گیا اس لیے آنے والے دنوںمیں گرمی زیادہ پڑےگی تو بھارت کو اس خطرناک وائرس سے راحت مل سکتی ہے ۔بس اپنا خیال رکھیں اور بیماری کے بارے میں زیادہ ناسوچیں ۔کم سے کم میں تو یہی کررہا ہوں ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2020

کورونا کے پیچھے ہوسکتی ہے چینی لیب!

دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلا کر انسانیت کے خلاف گھناو ¿نے جرائم کرنے کے لیے انٹرنیشنل کانسل آف جیورسٹ (آئی سی جے )نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے چین کے خلاف کاروائی کی درخواست کی ہے ۔لند ن میں واقع اس عدالت کے صڈر اور آل انڈیا وار اسو سی ایشن کے چئیر مین سی اگر وال نے شکایت درج کرکے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے معاملے میں فوری مداخلت کرنے اور چین کو دنیا خاص کر بھارت کو نقصان پہونچانے کا معاوضہ دینے کی ہدایت کی مانگ کی ہے ۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ کورونا کا پھیلاو ¿ روکنے میں لاپرواہی سے دنیا بھر میں مندی ،اربوں ڈالر کا نقصان ،بھارت اور دنیا میں کروڑوں لوگوں کے لیے بے روزگاری کھڑی ہو گئی ہے ۔عادش اگروال نے اقوام متحدہ کی توجہ اس طرف اس حقیقت کی طرف دلائی ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )نے چین حکومت کی سازش کی وجہ سے کووڈ19-کو وبا قرار دیا ہے ۔چین کی اس سازش کا مقصد جیوک جنگ کے ذریعے خود کو سپر پاور کے طور پر قائم کرنا اور ڈبلیوایچ او اور باقی دنیا کو الرٹ نا کرکے دیگر دیشوں کو کمزور کرنا ہے ۔آئی سی جے صدر نے کہا کہ چین نے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو خطرے می ڈال دیا ہے اور دنیا بھر میںکاروبار بالکل ڈھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔کوروناوائرس کے پھیلاو ¿ کے بارے میں جانکاری دینے میں شفافیت کی کمی اور لگتا ہے کہ لگاتا ر گمراہ کن بیانوں نے پوری برادری کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔یونیورسل رلیکشیشن آف ہیومن رائٹس کی دفع 21کے تحت فورا ً مداخلت کرکے چین کے خلاف فوراً کاروائی کرنی چاہیے ۔چین کے صوبوں میں کورونا وائرس کیسے نہیں پھیلا لیکن دنیا کے سبھی ملکوں میں کیسے پھیل گیا ۔چین کے جانوروں کی مارکیٹ سے پھیلا لیکن لوگ اس تھیوری پر ابھی بھی بھروسہ نہیں کررہے ہیں ۔وائرس کا پتہ لگانے کے لیے سرکاریں جاسوسی بھی کرارہی ہیں ۔برطانوی حکومت کو خفیہ جانکاری ملی ہے کہ وائرس کا انفکشن پہلے چینی لیب سے جانوروںمیںپھیلا او کے بعد وہ انسانوں تک پھیل گیا جو خطرناک شکل اختیار کرچکاہے ۔برطانیہ کے سینئر ذرائے کاکہنا ہے کہ بھلے ہی اب تک پختہ ثبوت نہیں مل پارہے ہیں لیکن وائرس ووہان کے جانوربازار سے پھیلا ۔لیکن چینی لیب سے لیک ہوئے سیکٹر کو درکنار نہیں کیا جا سکتا ۔ایک انگریزی اخبار ڈیلی میل کے مطابق وزیراعظم بور س جانسن کے ذریعے بنائی گئی آفات کمیٹی کو برا کے ایک ممبر نے بتایا پچھلی رات خفیہ اطلاعات ملی اس بارے میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ وائرس جانوروں سے پھیلا ہے ۔لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وائرس ووہان کی لیب سے ہی کسی جراثیم کے اخراج سے سب سے پہلے انسانوں میں پھیلا ۔کوبرا سکیورٹی سروس نے اس سلسلے میںتفصیلات دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وائرس کی اصلیت کو لے کر یہ ایک متبادل بھروسہ والے نطریے ہیں ممکن یہ ہے کہ یہ کوئی ایک محض اتفاق نہیں ہے کہ ووہان میں ایک لیب قائم ہے اس حقیقت کو ترک نہیںکی جاسکتا ووہان میں بہت سے مختلف تحقیق کے لیب موجود ہیں اور چین میں یہ سب سے ایڈوانس لیب مانا جاتا ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کی رائے ہے کہ جراثیم پر مبنی گیس کا اخراج کا اثر یہی سے پھیلا ہے ۔
(انل نریندر)

دہلی پولیس کو جنتا کا سلام !

لاک ڈاو ¿ن کے وقت دہلی پولیس کتنی وفاداری اورلگن کے ساتھ اپنا فرض انجام دے رہی ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔کورونا وبا کے درمیان بھی پولیس جوان پوری ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں اور ضرورتمندوں وک کھانا کھلا رہے ہیں ۔مریضوں کو اسپتال پہونچا رہے ہیں اپنی صحت کی پروا کیے بغیر دیش کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں لوگ شوشل میڈیا سے لیکر پرنٹ میڈیا میں جم کر دہلی پولیس کی تعریف کر رہے ہیں ایسے میں بھلا خود دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں وہ انے جوانوں کے فلاحی کام سے بے حد خوش ہیں ۔تمام ضلعوں کے ڈی سی پی سے بات کرکے انہوں نے پولیس کے کاموں کے لیے شاباشی دینے کے ساتھ ساتھ اسی طرح لگن سے کام کرتے رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ڈی سی پی ،ایس ایچ او کے ذریعے سے یہ پیغام سبھی پولیس والوں تک پہونچا رہے ہیں ۔پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ جمعہ دوپہر قریب ڈھائی بجے ایک ضلع میں ڈی سی پی نے وایڈیکس پر تمام تھانہ انچارجوں کو ضروری اطلاعات دی ہیں ۔اس کے بعد سبھی کو بتایا کہ پولیس کمشنر صاحب ہمارے کام سے بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ پولیس کافی اچھا کام کررہی ہے۔ پولیس اچھا کام کر رہی ہے اور اسی طرح کے پیغامات تمام ضلعوں میں تعینات سبھی پولیس ملازمین کو دیے جارہے ہیں ۔کیونکہ کمشنر کے ذریعے خود ہی ہر جوان کو شاباشی دینا ممکن نہیں ہے اس لیے ڈی سی پی کے ذریعے سے پیغام بھیج کر دن رات جوانوں کا حوصلہ بڑھایاجا رہا ہے ۔کمشنر کی جانب سے خاص ہدایت دی گئی ہے کہ بھوک سے وابسطہ کوئی بھی کال ملے تو اس کا خاص خیال رکھیں اور اس پر فوراً ایکشن لیں اور ٹیلی فون کرنے والے تک فوراً کھانا پہونچائیں ۔افسر یہی چاہتے ہیں کہ پولیس کے ہوتے ہوئے کوئی بھی بھوکا نا رہے ۔کام کی بات کے ساتھ ساتھ پولیس ملازمین کو ڈی سی پی کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں اپنا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ہروہ کام کرتے وقت ہرطرح کی احتیاط برتیں اس کے علاوہ اپنے گھر والوں کا بھی دھیان رکھیں ۔پولیس کمشنر خود اپنے کام کو لیکر پولیس ملازمین کے درمیان واہ واہ بٹور رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سی پی اپی ڈیوٹی کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر روز پولیس کمشنر کی طرف سے دویا تین آرڈر پاس کیے جا رہے ہیں جس میں ہدایتوںکے علاوہ پولیس ملازمین کی بھلائی کے لیے پولیس کمشنر کی اچھی سوچ صاف دکھائی پڑتی ہے ۔ہم دہلی پولیس کے تمام افسروں اور جوانوں کو سلام کرتے ہیں انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنی جان کی پرروا کیے بغیر دیش میں اس مشکل گھڑی میں جنتا کے ساتھ ہیں۔
(انل نریندر)

08 اپریل 2020

انسان گھروں میں جانور سڑکوں پر!

کوروناوائرس قہر پر لگام لگانے کے پیش نظر دیش بھر میں لاک ڈاو ¿ن کے چلتے دہلی کے شہریوں کو جہاں آلودگی سے راحت ملی ہے ہوا صاف ہے سڑکیں صاف ہیں شور وغل نہیں ہے وہیں چڑیوں کی چہچہاہٹ پھر سے سنائی دے رہی ہے۔تیندوے ،ہرن اور یہاں تک بلاو ¿ جیسے جنگلی جانوروں کو بھی شہری ہندوستان کے کئے حصوں میں داخل ہونے کی خبریں آرہی ہیں ۔کووڈ19-عالمی بیماری کے چلتے جہاں انسان گھروںمیں قید ہے وہیں جانور پرندے ،علاقوںمیں پھر سے نظرآنے لگے ہیں جو کبھی ان کے ان کے لیے ایک نایاب بن گئے تھے ۔یہ سوچنا خوش آئین بات ہے کہ قدرت اپنے گھاو ¿ بھر رہی ہے خاص کر 24مارچ سے لگے لاک ڈاو ¿ن کے بعد سے ،لیکن ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ سب اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ شہری علاقوںمیں جنگلی جانوروں کا نظر آنا جاری ہے ۔اسی ہفتہ کی شروعات میں چنڈی گڑھ کی سڑک پر ایک تیندوا نظرآیاتھا ۔لاک ڈاو ¿ن کے بعد نوئیڈا کے بی آئی پی مال کے پاس ایک نیل گائے کو سڑک پارکرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ہریدوار میں شام کے ٹائم ہرن کو سیر کرتے دیکھا گیا ۔گڑگاو ¿ں کے باشندوں نے گلیریا مارکیٹ میں موروں کو پکڑا اور کیرل کے کوزی کوڈ کے علاقے میں دوبلاو ¿ دیکھنے کو ملے جبکہ وائیناڈ میں ہاتھی گھومتے پائے گئے ۔ماہرین جنگلات وندناشوا نے اس کا موازنہ پرواسی مزدوروںکے شہروں سے گاو ¿ں کی طرف جانے کا کرتے ہوئے کہا کہ جنگل سے اب یہ پرندے چرندے جنگلی جانور شہروں کی طرف آرہے ہیں کیونکہ ہم نے ان کا موازنہ ایک در اندازی سے کیا ہے ۔ہم نے دیگر جانوروں سے ان کے گھر و گھانا چھین لیا ہے ۔اور جنگلات ان جانوروں کا جنگل ہے اور ان کا شہری علاقوںمیںآنا اچھا اشارہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا مزدور کی طرح گاو ¿ں سے شہر آئے اور اب وہ دوبارہ گاو ¿ں جا رہے ہیں اسی طرح جانور بھی شہری علاقوں کو چھوڑ دیںگے یا انہیں مار دیاجائےگا ایسے ہی ماہر جنگلا ت و ماحولیات سندر لال بہو گنا نے کہا کہ اس ہجر ت میں جنگلوں میں انسانوں کی گھس پیٹ سے جانوروں کے لیے کھانے پینے کی کمی ہے بہوگنا نے کہا کہ قدیم زمانے میں جنگل اور شہری آبادی ملی جلی ہوا کرتی تھی جہاں لوگ اور جانور ایک دوسرے سے قریب رہتے تھے ۔ہماری تہذیب کہتی ہے کہ سبھی جانور ہمارا خاندان ہے ۔سرکار نے جنگلوں کومحض کاروبار کے مقصد سے استعمال کیا ہے ۔جانوروں کے لیے کھانا کافی نہیں ہے اور بھوک کے سبب وہ سڑکوں پر آرہے ہیں ہماری کالونی میں تو واک کرتے ہوئے کتوں نے بھی کاٹا ہے جس کی وجہ یہ لگتی ہے جس کی وجہ یہ لگتی ہے کہ تمام ڈھابے اور رستورانت انہیںکھانا کھلادیا کرتے تھے جس وجہ سے وہ بھوکے ہیں اور کتے بلیاں بھی کھانے کو ترس رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

تارکین کام کاروںکیلئے روز مرہ کی ضرورتیں پوری کرنا مشکل!

ہندوستان میں سب سے زیادہ روزگار دینے والے کار آمد چھوٹے اور منجھولے صنعتیں کورونا کی مار سے خود مشکل میں گھر گئی ہیں ۔لاک ڈاو ¿ن کے چلتے ابھی بند پڑی ہیں اگر لاک ڈاو ¿ن آگے بڑھتا ہے تو قریب ایک کروڑ سات لاکھ چھوٹی صنعتیں ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس پیسے کی کمی ہے ۔گلوبل الائنس فار ماس انٹر پرنیور شپ کے چئیرمین روی وینکٹیشن کا کہنا ہے کہ اگر دیش میں لاک ڈاو ¿ن 4سے آٹھ ہفتہ بڑھتا ہے تو یہ چھوٹی صنعتیں 25فیصدی یعنی 1.7کروڑ بند ہو جائیں گی اس وقت دیش میں 6.9کروڑ چھوٹی اور منجھولی صنعتیں ہیں انفورسز کے چئیرمین اور بینک آف بڑودا کے چیئر مین رہے وینکٹیشن نے آل انڈین مینوفیکچرس اشوشئیشن کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا کہ اگر کورونا بحران 4سے 8ماہ تک بڑھتا ہے تو دیش کی 19سے 43فیصدی ایم ایس ای ہمیشہ کے لیے بھارت کے نقشہ سے غائب ہو جائیں گی ۔وینکٹیشن آگے کہتے ہیں کہ چھوٹی منجھولی ہر سیکٹر میں چھٹنی ہو سکتی ہے ۔پانچ کروڑ لوگوں کو نوکری دینے والے ہوتل انڈسٹری میں قریب 1.2کروڑ لوگوں کی نوکری جا سکتی ہے وہیں 4.6کروڑ لوگوں کو روزگار دینے والے خوردہ سیکٹر سے 1.1کروڑ لوگوں کی نوکریس جا سکتی ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے سب سے بڑا چیلنج چھوٹے اور منجھولے صنعتی گھرانوں میں سیدھے اور عارضی طور سے جڑے لوگوں کے لیے ہے ۔دہاڑی مزدوروں کو لاک ڈاو ¿ن سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سرکار نے جب سے لاک ڈاو ¿ن کیا ہے تو گھریلو نوکرانی کہ طور پر کام کرنے والی ایک خاتون ممتا اپنے گھر ناجانا چاہتی تھی لیکن اب اس نے بھی گھر کی طرف رخ کر لیا ہے ایسے ہی بہت سے لوگ پریشان ہیں اور وہ اپنا گزر بسر نہیں کر پارہے ہیں ایسے ہی آخر بوس سے مزدوروں کی شکایت ہے کہ انہیں ان ہائی پروفائل سوسائٹی سے دور رکھا جا رہا ہے جہاں وہ کام کرتے تھے ۔گھریلو نوکرانی ممتا نے کہا کہ میں پہلی اپریل کا انتظارکررہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ مجھے اپنے کام کی تنخواہ مل جائے گی لیکن لاک ڈاو ¿ن نے ان کا یہ خواب ملیا میٹ کر دیا اور مجھے واپس بھیج دیا گیا ۔ایسے ہی بہت سے لوگ ہیں جن کے رشتے دار یا پڑوسی دہلی میں رک گئے ہیں ان کے پاس کھانے پینے کو پیسہ نہیں ہے ان کی شکایت ہے کہ ہمیں پیسہ کون دے گا ۔پچھلے ہفتے کچھ بڑی تعداد میں غیر دہلی باسی مزدور اپنے گھروں کو چلے گئے ۔سرکار کو اب یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جو لوگ دہلی میںرک گئے ہیں ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں پہونچیں امیدکی جانی چاہیے تھی کہ لاک ڈاو ¿ن سے پہلے کیا اثر پڑیگا ۔اس کا انتظام پہلے سے کر لیا جانا چاہیے تھا ۔
(انل نریندر)

07 اپریل 2020

کھیتوں میں سڑ رہی سبزیاں کسانوں میں خود کشی کی دھمکی دی

لاک ڈاو ¿ن میں لوگوں کو کو گھروں میں قید رہنے پر مجبور کیا لیکن سب سے زیادہ مار سبزی کسانوں پر پڑرہی ہے ۔بازا رمیں سبزیاں نہیں آپارہی ہیں ۔دلال کم سے کم دے رہے ہیں یہاںتک سبزیوں کی کھیتوںمیںکٹائی نا ہونے سے وہ وہیں سڑ رہی ہیں ۔یوپی وہار ،جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ کے علاوہ این سی آر کا بھی یہی حال ہے ۔بہرحال کسان حکومت سے امید لگائے ہیں ۔رانچی میں تو دس گاو ¿ں کے کسانوں نے سرکار کو خط لکھ کر خود کشی تک کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ادھر دہلی کی منڈیوںمیں سبزیاں نہیں آرہی ہیں ۔میرٹھ میں 22ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین پر سبزیاں پیدا ہوتی ہیں لاک ڈاو ¿ن ہونے کے چلتے دہلی کی آزاد پور منڈی میں سبزیوں کا آنا بند ہے ۔جھارکھنڈ میں بازار نہیں ملنے کے سبب سبزی کسان تباہ ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کوپریٹو افسر کو خط لکھ کر خود کشی کرنے کی وارننگ دی ہے ۔لکھا ہے کہ تاجروں کو گاو ¿ں تک نا آنے دینے سے ان کا مال بازار تک نہیں پہونچ پارہا ہے ۔پہلے کسان اپنی پیداواراڑیسہ بنگال اور چھتیس گڑھ بھیج چکے لیکن لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے سب چوپٹ ہو چکا ہے ۔وہارمیں سبزی پیدا کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور سبزی باہر نا جانے سے کھیتوںمیں ہی کھڑی کھڑی سوکھ رہی ہے ۔سہارن کے ایک کسان ٹھاکر بھگت اور لکشمن شاہو کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر کسی طرح سے سبزی کی تھوڑی بہت کھپت ہو رہی ہے لیکن نقصان زیادہ ہو رہاہے یہی حال اتراکھنڈکا ہے ۔وہاں سے سبزیاں دوسری ریاساتں کو نہیں جارہی ہیں جس وجہ سے سبزیاں خراب ہو رہی ہیں۔لکھنو ¿ کے کسانوں کے لیے یہ لاک ڈاو ¿ن مصیبت بن گیا ہے ۔راجپور گاو ¿ں کے کسان اہلاوت گوڑ نے کھیت میں لگائے بیگن اور پالک کاٹ کر جانوروںکو کھلا دئیے ایسے ہی آگرہ کا حال ہے ۔آجدنیا کی سب سے بڑی ضروری غزائی سپلائی کا توازن بنائے رکھنا ضروری ہوگا ہم کمزورلوگوں اور کسانوں کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔اگر سرکار نے جلد کوئی کارگر پالیسی نہیں بنائی تو یہ کسان بڑی مشکل میںآجائیںگے ۔
(انل نرنیدر)

مولانا نے مذہب کے نام پر دی موت کی دعوت!

اتر پردیش یا سینٹر ل وقف بورڈ کے صدر سید وسیم رضوی نے تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کے خلاف نظام الدین تھانے میں شکایت درج کرائی ہے ۔رضوی کاالزام ہے کہ مولانا سعد کی وجہ سے لوگوں میںکورونا وائرس پھیلا ہے۔ان پر ملک کی بغاوت اور قتل جیسے سنگین جرم کاالزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے ۔رضوی کی شکایت میں کہا گیا ہے کہ مرکز کے مولانا سعد کے ذریعے کئے گئے ہو بہت دکھی ہیں اس جگہ سے سینکڑوں لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور یہاں سے کیاگیا کام دیش کے خلاف جنگ کے برابر ہے اس کی وجہ سے بے قصور لوگوں کی جان جارہی ہے اور بیماری پھیلانے میں مرکز کا اہم رول رہا ہے ۔تبلیغی جماعت کے چیف مولانامحمد سعد اور ان کے دیگر چھ ساتھی فی الحال کرائم برانچ کی دست پکڑ سے باہر ہیں ۔نظام الدین تھانے کے انچارج کے بیان پر درج مقدمہ میں مولانا سمیت 7لوگوں پر الزام ہے انہوں نے مرکز میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کرکے سرکاری ہدایتوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔یہ الزا م ہے مرکز چین انڈونیشیا ،تھائی لینڈ ،بنگلہ دیش ،ملیشیا ۔اٹلی وغیرہ سمیت کئی ملکوں سے دو ہزار سے زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے اسی طرح دیش کے اٹھارہ ریاستوںسے 15ہزار کے قریب افراد نے 15-16-17مارچ کو ہوئے جلسہ میں شامل ہوئے تھے ۔زیادہ تر لوگ ٹورسٹ ویز ا پر آئے تھے لیکن یہ مذہبی جلسہ میں شامل ہوئے اسی درمیان مولانا کے کئی متنازعہ بیان بھی شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں جن کو سن کر کوئی بھی دانشور حیرت میں پڑ جائے گا ۔آج پھیلی کورونا وائرس کی پھیلی بیماری کی وجہ سے مسلمانوں کا جماعت کے تئیں عقیدہ بدل جاتا ہے تو یہ بیماری ختم ہو جائے گی ۔لیکن ان کا عقیدہ ختم نہیں ہوگا لیکن تمہارے مشورے کے آداب تمہارے ساتھ ہیں ۔تمہارے ساتھ بیٹھنا ایک پلیٹ میں کھانا اس کااثر مدتوں تک ختم نہیں ہوگا ۔مولاناسعد کہتے ہیں موت سے بھاگ کر کہاں جاو ¿گے موت تو تمہارے آگے آگے چل رہی ہے ایسا نا ہو محض ڈاکٹروں کی باتوںمیں آکر نمازیں چھوڑو ملاقاتیں چھوڑ و ،ملنا جلناچھوڑو،ستر ہزار فرشتوں پر تم کیوں یقین نہیں رکھتے ۔فی الحال مولاناروپوش ہیں ۔پولیس جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے ۔مولانا ہاتھ آجائیں تو کئی اور سنسینی خیز انکشافا ت ہوں گے ۔مولانا کو سامنے آنا پڑےگا ۔کب تک چھپے رہ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

ایک ڈاکٹر کا وزیر اعظم کو کھلا خط!

اتوار 22مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر پورے دیش نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سب سے آگے کھڑے ڈاکٹروں ،نرسوں و تمام ہیلتھ ملازمین کے لیے تالیاں و تھالیاں بجا کر شکریہ ادا کیا لیکن ہمارے ڈاکٹر کن مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں اس کا پتہ اس کے خط سے چلتا ہے جو ڈاکٹر نے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھاہے ۔اس کا متن اس طرح ہے قومی راجدھانی میں مرکزی سرکار کے ذریعے چلائے جا رہے ایک اسپتال کے پیڈی ایٹرک آئی سی یو میں کام کر نے کے ناطے آپ کی توجہ اصل حالات کی طرف دلانا چاہتا ہوں این 95ماکس تو بھول جائیے ۔ہمارے پاس عام ماسک تک درکار تعداد میں نہیں ہیں ۔ہم نے اپنے گاو ¿ن دوتین دن تک دوبارہ استعمال کرنے پڑے ہیں جو بنا گاو ¿ن کام کرنے کے برابر ہے ۔سبھی پرسنل پوگیٹو ساز و سامان کی سپلائی بہت کم ہے دہلی میں نارتھ ایم سی ڈی کے سب سے بڑے اسپتالوںمیں سے ایک ہندو رو ¿ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے اجتماعی استعفیٰ دینے کی پیش کش کی ہے وہ اس بات سے ناراض ہیں کہ کورونا وائرس کا انفکشن دہلی میں بڑھنے کے بعد بھی ناتو انہیں پی پی آئی سامان دستیاب کرائے گئے او رنا ہی سینیٹائزر اسپتال میں دستیاب ہیں ۔یہاں تک کہ ماسک بھی ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے پیسوں سے خرید کر لگا رہے ہیں ۔سی ایم او نے ڈاکٹروں اور نرسوں کی استعفیٰ کی مانگ کو ٹھکرا دیا ہے ۔دہلی کے کئی ڈاکٹر خود مریضوں کو دیکھتے دیکھتے خودوائرس کا شکار ہو چکے ہیں ۔اگر دیش کی راجدھانی میں واقع ہمارے اسپتالوں کی حالت یہ ہے ۔اور ہمارے ڈاکٹروں کی تو دوسرے حصوں میں کیا ہوگی ۔ڈاکٹر نے وزیر اعظم کو لکھے خط میں آگے لکھا ہے کہ بات یہی آپ سے اس وبا سے نمٹنے میں ہیلتھ سسٹم کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو بالکنی سے کھڑے ہوکر تالیاں بجانے کے بجائے ڈاکٹروں کو ضروری سامان دستیاب کرانا چاہیے ۔مجھے 99فیصد امید ہے کہ یہ کھلا خط آپ تک نہیں پہونچے گا لیکن پھر بھی اس امید میں خط لکھا رہاہوں کہ ڈاکٹر اور لوگ تالیاں بجانے کی جگہ موثر حل کے لیے اکھٹے ہوں گے اگر آپ ہیلتھ ملازمین کو وہ چیزیں نہیں دے سکتے توانہیں اپنی طرف اور دیش کی حفاظت کے لیے جو چاہیے وہ تالیاں بجا کر مزاق نااڑائیں ۔وزیر اعظم کو یہ کھلا خط دہلی کے لیڈی ہارڈنگ ہاسپٹل (آر ایم ایل )میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر دیب برت مہا پاترا نے اپنی فیس بک کے ذریعے لکھا ہے ۔ڈبلیو ایچ او گائیڈ لائن کے مطابق پی پی ای یعنی پرسنل پروگیٹو اکویپ مینٹ میں گلبس میڈیکل ماکس ،گاو ¿ن اور ایم 195ریسپریٹرس شامل ہوتے ہیں ۔لکھنو ¿ رام منوہر لوہیا انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی ایک ڈاکٹر ششی سنگھ کا ویڈیو بھی شوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں نے شئیر کیا ہے وہ شکایت کرتی ہیں کہ نرسوں کو بیسک ضروری چیزیں نہیں مل رہی ہیں ۔ان کے پاس ایک پلین ماسک اور دستانے تک نہیں ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ پورے اتر پردیش میں یہی حال ہے اور اس بارے میں بولنے سے روکا جارہا ہے ۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2020

پاکستان میں آج بھی مولوی جلسے کر رہے ہیں!

جہاں کئی دیش کورونا سے بچاو ¿ کے لیے پوری طرح لاک ڈاو ¿ن جیسے اقدامات کررہے ہیں وہیں پاکستان حکومت نے ملک میں جزوی لاک ڈاو ¿ن کیا ہے ۔عمران کاکہنا ہے کہ پوری طرح لاک ڈاو ¿ن ممکن نہیں ہے ۔لوگ اپنی مرضی سے اپنے گھروں میں رہیں ۔عمران خان جس مشکل کی بات کر رہے ہیں اس کااندازہ دیش بھر کے مزدوروں کی حالت دیکھ کرلگایا جاسکتاہے ۔اسلام آباد کے جنا سپر مارکیٹ میں یومیہ مزدوری مزدور اسماعیل شاہ بتاتے ہیں ۔میرے گھر والوں نے چاردنوں سے پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا اور ہفتے بھر سے ایک روپیہ بھی نہیں کمایا ۔اسماعیل ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہیں جو تعمیراتی کام سے مزدوری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں ۔اسلام آباد میں بازار پبلک ٹرانسپورٹ، انٹر نیشنل پروازیں،کالج،یونیورسٹیاں بند ہیں ۔ہند ایران اور افغانستان سے لگی سرحدیں بندکر دی گئی ہیں ۔مساجد میں جمعہ کی نماز اجتماعی طور پر بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔لیکن بہت سے مولوی اس کیامخالفت کر رہے ہیں ۔کچھ دنوں پہلے لاہور میں تین روزہ اجتماع ہواتھااس میں ہزاروں لوگ شامل ہوئے جن میں متحدہ عرب عمارات فلسطین ،وسطی ایشیاکے زائرین شامل تھے ۔پاکستان میں وائرس کے اب تک 2500معاملے سامنے آچکے ہیں اور 35کی موت ہو چکی ہے ۔اسلام آبا دمیں کمیونٹی ہیلتھ کے انچارج ذیشان کاکہنا ہے ہمارے پاس دستیاب طبی ساز وسامان کی کمی ہے جس وجہ سے اس وائرس کا مقابلہ مشکل ہو رہاہے اور ہیلتھ کئیر سسٹم فیل ہوچکاہے یہاں ہر پانچ ہزار لوگوں پر ایک ویڈ ہے ۔انہون نے کہا کہ14لیبوریٹیر ہیں جس میں نمونوں کی جانچ ہو رہی ہے ۔کرانچی میں آغا خاں یونیورسٹی اسپتال جیسے ہسپتالوں میں وائر س کے نئے نمونے لینے سے منع کر دیا ہے اور سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔اسپتالوں میں کورنامریضوں اور دیگر کے لیے اسپتال میں لانے کے لیے ایک ہی راستہ رکھا ہے ۔انتظامیہ نے مرنے والوں کی آخری رسوم کے لیے خاص انتظام رکھا ہے ۔پولیس و ہیلتھ حکام کی نگرانی میں لاشیں سیدھے اسپتال سے قبرستان بھیجی جارہی ہیںاور مرنے والوں کے افراد کو دفنانے میں شامل ہونے سے منع کردیاگیا ہے۔
(انل نریندر)

پدم شری نرمل سنگھ کی 30 گھنٹے میں موت!

کورونا وائرس سے متاثرہ دربار صاحب کے سابق خدمت گزار پدم شری نرمل سنگھ خالصا کی جمعرات کی صبح موت ہو گئی ان کو ساڑے چار بجے صبح دل کا دورہ پڑا تھا ان کو آئی سی لوشن میں رکھاگیا تھا ۔تیس گھنٹے کے بعد ان کی موت ہوگئی یہ پنجاب مین کورونا سے پانچویں موت ہے ۔ان کے انتم سنسکار کے لیے انتظامیہ کو کافی جد و جہد کرنی پڑی شمشان گھاٹ کے منتظمین نے گھنی آبادی کا حوالہ دیکر انتم سنسکار کرنے سے منع کر دیاتھا جبکہ تیسرے گیٹ پر لوگوں نے تالا لگا دیا اور 16گھنٹے کی مشقت کے بعد انہیں بارہ کلو میٹر دور کھیتوں میں انتم سنسکار کے لیے فتح گڑھ میں ان کا انتم سنسکار کیاگیا ۔وہیں جمعرات کو لدھیانہ اور ہوشیار پور میں ایک ایک پوزیٹو کیس آنے سے متاثرین کی تعداد 48ہو گئی ہے ۔انڈین میڈیکل ایسو شیشن کے سابق صدراور قلب امراض کے ڈاکٹر کے کے اگروا ل نے لاش دہن سے اٹھنے والی راکھ اور دھنویں سے کوئی خطرہ نہیں بتایا ۔پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھویر سنگھ بادل نے کہا کہ خالصہ کا ویرکار میں انتم سنسکار روکنے کا واقعہ افسوس ناک ہے ایسی حرکت سکھ پنت کی مشہور ہستی کی متوفی کا اپمان ہے ۔وزیر اعلیٰ کیپٹن معاملوں میں مداخلت کریں اور یقینی بنائیں کہ ریاست میںایسے واقعات دوبارہ نا ہوں راگی نرمل سنگھ کچھ دن پہلے ہی باہر سے لوٹے تھے انہوں نے وہاں سینکڑوں لوگوں سے ملاقاتیں کی ہوں گی ان کے رابطے میں آنے والی سنگت تو کوروناوائرس سے متاثر تو نہیں ہوئی ؟
(انل نریندر)

کورونا یودھاو ¿ں پر حملوں کی سخت مذمت ہونی چاہیے!

اس وقت جب سارا دیش کورونا وائرس کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنی اپنی سطح پر مشکلات سے لڑرہا ہے ۔وہیں کچھ لوگوں کے رویے بھی اچانک نہیں ہیں اور یہ ان کو بے چین کرنے والے ہیں مدھیہ پردیش کرناٹک ،ویہار ،راجستھا ن سمیت کئی ریاستوں میں کورونا یودھاو ¿ں پر حملوں کی شرمناک خبریں آرہی ہیں کورونا مشتبہ افراد کی جانچ اور عام لوگوں میں اس جان لیوا وائرس کو لیکر بیدار ی پھیلانے کے لیے پہونچی محکمہ صحت کی ٹیموں پر کہیں پتھربرسائے گئے تو کہیں ان پر تھوکا گیا تو کہیں موبائل چھین کر بد تمیزی کی گئی ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو نظام الدین کے تبلیغی جماعت کے مرکز کے اجلاس میں شامل ہوئے تھے ۔مشتبہ مریضوں میں دہلی میں بھی جہالت کامظاہرہ کیا تھا اور کھلے عام ان پر تھوک رہے تھے ۔اس سے کوروناوائرس کا انفکشن تیزی سے پھیل سکتا ہے ۔نظام الدین مرکز میں شامل ہوکر غازی آباد لوٹے جماعتیوں سے ضلع اسپتال انتظامیہ بھی پریشان ہوگیا ہے ۔یہ جماعتی تنہائی کے قواعد پر عمل نہیں کررہے ہیں اور نرسوں کی موجودگی میں ہی کپڑے اتار دیتے ہیں جب کپڑے بدلنے کے لیے وارڈ میں باتھروم بنا ہوا تو ایسا کرنے سے منع کرنے پر نرسوں کےاساتھ بدتمیزی کی جارہی ہے۔اندور میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی جانچ کے لیے پہونچی ہیلتھ محکمے کی ٹیم پر لوگوں نے جم کر پتھراو ¿ کیا اور حملے میں د و لیڈی ڈاکٹر زخمی ہوئیں ۔شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے حملے کے ویڈیو میں ہیلتھ ملازم اپنی جانچ بچا کر بھاگتے دکھائی دے رہے ہیں اور مستقل بھیڑ پتھراو ¿ کر رہی ہے ایسے ہی کرناٹک میں جمعرا ت کوکورونا وائرس کو لیکر سروے کرنے گئی آشا ورکروں سے بدتمیزی کی گئی ۔وائرل ویڈیومیں کرشنادیوی آشا ورکروں نے الزام لگایا کہ مقامی ملازمین کا ایک گروپ ہیڈ گوار نگر گیا تھا وہاں مقامی لوگوں نے اس گروپ کوگھیر کر موبائل چھین لیے اور بدتمیزی گی گئی ۔معاملے میں سو نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کر لیاگیا ہے ۔متعدد جگہوں پر ہیلتھ ملامین کے ساتھ تعاون نا دینے اور بدسلوکی کے رویے کودیکھتے ہوئے ریاستی حکومتوں نے سخت کاروائی کے احکامات دیے ہیں ۔لگتا ہے ہمارے دیش میں کچھ لوگوں کو ڈنڈے کی زبان سمجھنے کی عادت پڑ گئی ہے اس کے بغیر انہیں اپنے شہری کی ذمہ داری یاد نہیں رہتی طبی عملے او راس مشکل سے پار پانے میں دیگر ملازمین کی سکیورٹی اور فرض شناشی کی سراہنا نا صرف سرکاروں کی ذمہ داری ہے بلکہ ہرشہری کو اس کے لیے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ کورونا کی لڑائی ابتدائی دور میں ہے اور اس میںکہیں نا کہیں پریشانی نظر آسکتی ہے۔ہیلتھ رضاکاروں سے بدتمیزی کرنا انتہائی افسوس ناک ہے اگر ہمیں اس وبا سے لڑنا ہے تو ہم کو ان بہادر اپنے ہیلتھ ملازمین کوپورا تعاون دینا چاہیے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...