Translater

09 جون 2018

اودھو پر فی الحال نہیں چلا شاہ کا جادو

بھاجپا 2019 کے آنے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کو مضبوط کرنے اور تنقید کررہے ساتھیوں کو منانے کی مہم پر آج کل بھاجپا پردھان امت شاہ نکلے ہوئے ہیں۔ اسی کے تحت بدھوار کو امت شاہ نے اپنے پرانے اور سب سے بڑبولے نکتہ چینی کرنے والی ساتھی پارٹی شیو سینا کو منانے کے لئے اس کے چیف اودھو ٹھاکرے سے ملے۔ امت شاہ اپنی ساری کوشش کے باوجود اودھو ٹھاکرے کو فی الحال منانے میں ناکام رہے۔ یہ تو لگ ہی رہا تھا کیونکہ جس دن یہ میٹنگ ہونی تھی اسی دن صبح شیو سینا نے اپنے اخبار ’سامنا‘ کے اداریہ میں بی جے پی پر تلخ حملے کئے اور دوہرایا کہ 2019 کا چناؤ پارٹی اکیلے لڑے گی۔ شیو سینا نے بی جے پی پر سال بھر میں ہوئے ضمنی چناؤ کے سام دام ڈنڈ بھید سے جیتنے کا الزام لگانے ہوئے اسے کسانوں اور پیٹرول کے بڑھتے داموں جیسے اشو پر گھیرا۔ پہلے شیو سینا ایم پی سنجے راوت کہہ چکے ہیں کہ مہمان کا خیر مقدم کرنا ماتوشری (اودھو کا گھر) کی روایت ہے لیکن اس ملاقات کے لئے شیو سینا کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ مودی بیرونی ملک میں شاہ دیش میں حکومت چلا رہے سمپرک ابھیان کم سے کم مہاراشٹر میں فیل ہوگیا ہے۔ شیو سینا نے دو ٹوک کہا بی جے پی احسان فرموش ہے ،اقتدار پاتے ہی یہ غرور میں ڈوب جاتی ہے اور شیو سینا کے احسانوں کو بھول جاتی ہے۔ پارٹی نے بی جے پی پر پیٹرول کے داموں کے بڑھنے اور کسانوں کی ہڑتال کو لیکر تنقید کی۔ پارٹی کا کہنا کہ سرکار پالگھٹ کی طرح سام دام ڈنڈ بھید سے کسانوں کی ہڑتال توڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ الزام لگایا ہے کہ ایسے میں وزیر اعظم مودی دنیا اور شاہ دیش میں رابطہ مہم چلا رہے ہیں۔ پالگھٹ ضمنی چناؤ میں بھاجپا سے ہار کے بعد شیو سینا نے ساتھی پارٹی کو سب سے بڑا سیاسی دشمن قراردیا تھا۔ شیو سینا نے شاہ اور ٹھاکرے کے درمیان چار برس کے بعد میٹنگ کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا۔ میٹنگ کے فوراً بعد شیو سینا ایم پی سنجے راوت نے اشاروں میں کہا آنے والے چناؤ اکیلے لڑنے کے فیصلے کو بدلا نہیں جائے گا۔ یعنی شاہ ۔ ٹھاکرے ملاقات ناکام رہی۔ انہوں نے کہا یہ فیصلہ پارٹی کی قومی ایگزیکٹیو نے لیا ہے کوئی باہری کیسے اسے متاثر کرسکتا ہے۔ یوپی کے بعد سب سے زیادہ لوک سبھا سیٹیں مہاراشٹر میں ہیں۔ یہاں48 سیٹیں ہیں۔ 2014 میں ان میں سے بھاجپا کو 23 اور شیو سینا کو 18 سیٹیں ملی تھیں۔ این سی پی کو4، کانگریس کو اور دیگر کے کھاتے میں 1 سیٹ گئی تھیں۔این ڈی اے ایم ابھی شامل پارٹیوں کے پاس کل 316 ایم پی ہیں۔ ان میں شیو سینا کے پاس دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ سیٹیں ہیں۔ بھاجپا نے مہاراشٹر میں دو علاقائی پارٹیوں سے بھی اتحاد کیا ہے۔ خبر ہے بھاجپا نے ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے کو اب اتحاد میں شیو سینا کے لئے پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرین میں زیادہ سامان لے جانے پر جرمانہ

اگر آپ ٹرین میں زیادہ سفر کرتے ہیں تو آپ کے لئے یہ جاننا ضروری ہے، جی ہاں اب ٹرینوں میں سفر کے دوران زیادہ سامان لے جانے والے مسافروں کے لئے اچھی خبر نہیں ہے۔ اب آپ کو زیاہ سامان لے جانے پر جرمانہ دینا پڑسکتا ہے۔ ریلوے کے افسر نے بتایا ٹرین ڈبوں میں زیادہ سامان لے جانے کو لیکر لگاتار مل رہی شکایتوں کے پیش نظر بھارتیہ ریل نے اپنی تین دہائی پرانے سامان لے جانے کے قواعد کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس کے تحت مسافروں کو زیادہ سامان لے جانے پر مقرر رقم سے چھ گنا زیادہ پیسہ بطور جرمانہ دینا ہوگا۔ مقررہ ضابطوں کے مطابق سلیپر کلاس اور سیکنڈ کلاس میں مسافر بغیر مزید ادائیگی کے بسلسلہ 40 کلو گرام اور 35 کلو گرام تک سامان لے جاسکتے ہیں۔ اور پارسل آفس میں زیاہ پیمنٹ کر وہ 70 سے80 کلو گرام سامان لے جاسکتے ہیں۔ مزید سامان مال گاڑی میں رکھا جاتا ہے۔ ریلوے بورڈ کی انفورمیشن اینڈ پبلسٹی ڈائریکٹر وید پرکاش نے بتایا کہ اگر مسافرکو مقررہ حد سے زیادہ سامان لے جاتے ہوئے پایا گیا تو اس پر مقررہ رقم سے چھ گنا سے زیادہ ادائیگی کرنی پڑے گی۔ یہ قدم مسافروں کی سہولت کو یقینی بنانے اور ڈبوں کے اندر ہونے والی بھیڑسے نمٹنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ مسافروں کے ذریعے لے جائے جارہے سامان پر نگرانی رکھنے کے لئے اچانک دورہ کئے جاتے ہیں۔ جرمانے کی کارروائی کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ریلوے افسر مسافروں کو سمجھائیں اور اس بات کی جانکاری دیں کہ وہ کس کلاس میں کتنا سامان لے جانے کے حقدار ہیں۔ کئی مسافروں کو اس بارے میں جانکاری نہیں ہوتی کہ کتنا سامان لے جانے کی اجازت ہے۔ بیشک یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن اس کو عمل میں لانا اتنا آسان نہیں۔ کیا ریلوے کے پاس اتنا اسٹاف ہے کہ وہ ہر مسافر کے سامان کو چیک کرے؟ زیادہ سامان لے جانے سے مسافروں کو بھی پریشانی ہوتی ہے ،ڈبے میں دیگر مسافروں کو بیٹھنے کی جگہ کی کمی ہوتی ہے پھر ان دنوں ڈبوں میں چوری اتنی ہوتی ہے کہ مزید سامان کی ہر وقت رکھوالی کرنی پڑتی ہے ، دن میں تو تب بھی یہ کیا جاسکتا ہے رات کو کبھی نہ کبھی تو نیند آ ہی جائے گی لائٹ بھی دھیمی کردی جاتی ہے اور موقعہ پاتے ہیں چور اپنا کام کرجاتے ہیں۔ یہ مسافروں کے مفاد میں ہے کہ وہ کم سے کم سامان لے کر جائیں لیکن قانون اور جرمانے سے زیادہ مسافروں کو بیدار کرنا زیاہ بہتر رہے گا۔
(انل نریندر)

08 جون 2018

شیلانگ میں تشدد:پہلے کبھی نہیں سنا تھا

میگھالیہ کی راجدھان شیلانگ پچھلے کچھ دنوں سے تشدد کے دور سے گزر رہی ہے۔ حالات اتنے خراب ہوگئے کہ فوج اور نیم فوجی فورس کا سہارا لینا پڑا۔ مرکز نے سی آر پی ایف کے ایک ہزارجوان بھیجے ہیں۔ اس سے ہی حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ کشیدگی ہمیں اس ریاست اور نارتھ ایسٹ کے اس شہر میں دیکھنے کو مل رہی ہے جو ابھی تک اپنے پرامن ماحول کی وجہ سے پورے دیش کے لئے ایک مثال تھا۔ ایک معمولی سا واقعہ اتنا بڑا اور تشدد کی شکل اختیارکرلے گا شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا ۔ شیلانگ میں تشدد کی وجہ ایک پرانا جھگڑا ہے۔ کہا جارہا ہے ابتدا کھاسی فرقہ کے ایک لڑکے اور پنجاب عورت کے درمیان جھگڑے سے ہوئی تھی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کھاسی فرقہ کا لڑکا سرکاری بس میں تھا جسے اس کا رشتہ دار چلا رہا تھا۔ اس لڑکے کے ساتھ میٹور علاقہ کے باشندوں نے مار پیٹ کی تھی، یہ جھگڑا علاقہ میں بس کھڑی کرنے کو لیکر شروع ہوا تھا۔ اسی درمیان یہ افواہ پھیلا دی گئی کھاسی فرقہ کے جس لڑکے کو مارا گیا اس کی موت ہوگئی۔ پھر کیا تھا لوگ بھڑک اٹھے۔ واردات کچھ بھی ہو جھگڑے کے پیچھے کی وجہ پرانا تنازعہ ہے۔ کھاسی فرقہ کے لوگ دوسری ریاستوں سے آئے لوگوں کو لیکر لمبے عرصہ سے ناراضگی ظاہرکرتے رہے ہیں لیکن اس طرح کے واقعات آئے دن کہ شورش کے بعد کبھی دب جاتے ہیں کبھی بڑھ جاتے ہیں لگتا تھا کہ معاملہ خاموش ہوگیا۔ لیکن سطح کے نیچے آگ جلتی رہی۔ شیلانگ میں جو نئی چیز ہورہی ہے وہ ہے کشیدگی کو بڑھانے اور بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا رول۔ واٹس اپ پر طرح طرح کی افواہیں شروع ہوگئی ہیں جس نے کشیدگی کی آگ میں گھی کا کام کیا اور تشدد بھڑک اٹھا جو ابھی تک جاری ہے۔ کھاسی فرقہ کو عام طور پر امن پسند مانا جاتا ہے خاص طور پر شیلانگ کو دیش کے ایسے شہر کی شکل میں شمار کیا جاتا ہے جہاں عورتیں سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔ یہاں رہنے والے دلت ،سکھ فرقہ کی آبادی بہت تھوڑی ہے۔ انہیں 160 سے بھی زیادہ سال پہلے صفائی کے کام کے لئے انگریزوں نے بلایا تھا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے مقامی ریتی رواج اور رہن سہن کا طریقہ اپنالیا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس میں دونوں فرقوں کے مفاد آپس میں ٹکراتے ہوں اس لئے دونوں فرقوں کے درمیان پہلے عدم اعتماد پیدا ہوگا تو پھر کشیدگی بڑھنا اور اس کے بعد تشدد کی خبریں پریشان کرنے والی ضرور ہیں۔ یہ سب کچھ ایسا ہے جس کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ حالانکہ سرکار نے صاف کیا ہے شیلانگ میں تشدد فرقہ وارانہ نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دوسری ریاستوں سے آئے لوگوں کے تئیں کھاسی فرقہ میں ناراضگی پائی جاتی ہے جو وقتاً فوقتاً تشدد کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اسے صرف قانون و نظم کے چشمے سے دیکھنا صحیح نہیں ہے۔ حالات کا بنیادی سطح پر تجزیہ کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

بندوقوں کے سائے میں گوگلی کے بادشاہ بنے راشد خان

آئی پی ایل ٹی۔ٹوئنٹی میچ میں وہ صرف 24 گیند پھینکتا ہے جس کے سامنے نہ وراٹ کوہلی کا بلہ چلتا ہے نہ ہی دھونی کی چالیں ، صرف 10 گیند میں وہ34 رن بنا کر میچ کا رخ پلٹ دیتا ہے اور جب وکٹ لیتا ہے تو چہروں پر بچوں کی سی معصومیت لئے دونوں باہیں پھیلا کر کچھ قدم دوڑتا ہے اور چہرہ آسمان کی طرف اٹھا کر اوپر والے کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ یہ کرکٹ کی دنیا میں نیا بادشاہ ہے راشد خان۔20 ستمبر 1988 کو افغانستان کے ناگرہار صوبہ کے جلال آباد میں پیدا ہوئے راشد خان ارمان کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق رہا ہے۔ جن حالات میں وہ پیدا ہوئے وہاں سے یہاں تک پہنچنا عام بات نہیں ۔ بچپن کے دن پناہ گزیں کیمپ میں گزرے۔ ان دنوں افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان جنگ شباب پر تھی۔ خون خرابہ میں روزانہ لوگ مارے جارہے تھے۔ ہزاروں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ سال2001 کی بات ہے حالات کچھ ایسے بگڑے کے راشد کے خاندان کو جان بچانے کے لئے پڑوسی ملک پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔ ان کا بچپن پناہ گزیں کیمہ میں گزرا، تب راشد6 سال کے تھے۔ یہیں ایک دیگر پناہ گزیں کے پاس ٹی وی تھا جہاں بچے کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے بیٹھتے تھے ، یہیں پہلی بار راشد نے کرکٹ میچ دیکھا۔ آہستہ آہستہ کرکٹ کے دیوانے ہوگئے۔ ان دنوں کرکٹ میں سچن تندولکر ، شاہد آفریدی جیسے کھلاڑیوں کا جلوہ تھا۔ ٹی وی پر ان کے شاٹ و بال کرنے کے انداز کو راشد نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ راشد کہتے ہیں کہ ہم نے لکڑی کے پرانے بیٹ سے بیٹ تیار کیا، ہمارے پاس ٹینس والی بال تھی لیکن ہم پر کرکٹ کا جنون سوار تھا۔ ان کی امی چاہتی تھیں کہ راشد پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنیں، انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت سمجھایا کہ وہ کرکٹ چھوڑ کر پڑھائی پر توجہ دیے لیکن راشد پر کرکٹ کا جنون سوار تھا۔ راشد قریب 8 سال پہلے پناہ گزیں کیمپ میں رہنے کے بعد اپنے ملک افغانستان لوٹے۔ راجدھانی کابل سے قریب 60کلو میٹر دور جلال آباد شہرمیں رہنے لگے۔ ان کی ٹائر کی دوکان تھی۔ مالی حالت اچھی نہیں تھی، گھر چلانا مشکل تھا، دیش کے حالات خراب تھے حالانکہ آتنکی حملہ اور خون خرابہ جاری تھا۔ ان دشواریوں کے درمیان وہ پڑھائی کرنے کے ساتھ کرکٹ کھیلتارہا۔ آج یہاں تک پہنچ گیا کہ 2015 میں وہ جب 17 سال کے تھے تو زمبابوے کے خلاف افغانستان کی طرف سے کھیلے اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پچھلے سال آئی پی ایل میں ان کی اینٹری ہوئی۔ سن رائز حیدر آباد نے انہیں 4 کروڑ روپے میں خریدہ۔ آئی پی ایل میں راشد جب سرخیوں میں آئے تو انہوں نے کے کے آر کے خلاف دوسرے کوالیفائر میچ میں 10 گیندوں پر 34 رنوں کی پاری کھیلی،3 وکٹ اڑائے۔ اس سال وہ اپنی شاندار گیند بازی کے دم پر آئی سی سی ورلڈ رینکنگ میں نمبر ون کھلاڑی بن گئے ہیں۔ دنیا میں سب سے کم عمر کے کرکٹر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔
(انل نریندر)

07 جون 2018

کیا2019 لوک سبھا چناؤ عاپ اور کانگریس مل کر لڑیں گی

دہلی میں ایک دوسرے کی کٹر مخالف رہی عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان کچھ ضرور پک رہا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے نیتاؤں نے ایسے اشارے دئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ 2019 میں لوک سبھا چناؤ دہلی کی 7 سیٹوں پر دونوں کے درمیان بٹوارہ ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر راہل گاندھی نے بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی بات کہی ہے حالانکہ دہلی پردیش کانگریس صدر اجے ماکن نے صاف کردیا کہ پردیش کانگریس ورکر اور کانگریس کے سبھی نیتا عام آدمی پارٹی کے ساتھ آنے والے 2019 کے پارلیمانی چناؤ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ دہلی کا چناوی ریکارڈ رہا ہے تکونے مقابلہ میں بی جے پی کو ہرانا دونوں کے لئے آسان نہیں رہا۔ 2015 کا اسمبلی چناؤ ایک معجزہ تھاجب مودی لہر کے بعدبھی عاپ نے دہلی میں بی جے پی کو بری طرح ہرایا تھا۔ لوک سبھا اور ایم سی ڈی چناؤ کے اعدادو شمار دیکھیں تو بی جے پی کا ووٹ فیصد ہمیشہ 30 فیصدی سے زیارہ رہا۔ ایسے میں آنے والے لوک سبھا چناؤ میں سہ رخی مقابلہ ہونے پر بی جے پی کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے۔ پچھلے دو چناؤ کی بات کریں تو 2015 اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو 32.2 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ عاپ کو 54.3 فیصد ووٹ اورکانگریس کو محض 9.7 فیصد ووٹ ملے تھے۔ عاپ کو 67 سیٹوں پر جیت ملی تھی اور بی جے پی کو3 ، کانگریس تو کھاتہ نہیں کھول پائی۔ اس کے بعد2017 میں ہوئے ایم سی ڈی چناؤ میں صورتحال بدل گئی۔ کانگریس کے زور لگانے سے پارٹی کے ووٹ بینک میں 11 فیصد اضافہ اور عاپ کے ووٹ پرسنٹ میں 26 فیصد کی کمی آگئی۔ چناوی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اس حساب سے بی جے پی کا ووٹ فیصد تقریباً اپنی جگہ قائم ہے۔ ووٹ کا بٹوارہ کانگریس اور عاپ کے درمیان ہے۔ عاپ نے دہلی میں اینٹری کے بعد کانگریس کے ووٹ بینک پر نشانہ پرلیا اور پارٹی کمزور ہوئی جس سے بی جے پی کو 32 فیصدی ووٹ ملنے کے باوجود بھی صرف تین سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ پردیش کانگریس صدر اجے ماکن اور کچھ دہلی کے سینئرکانگریسی نیتاؤں کا کہنا ہے راہل گاندھی کا بیان قومی پس منظر میں ہے نہ کہ دہلی کو لیکر۔ ان کا کہنا ہے پارٹی دہلی میں مضبوط ہورہی ہے اور ہماری ٹکر عاپ سے ہے۔ ایسے میں اگر کانگریس عاپ سے اتحاد نہیں کرتی تو باقی ریاستوں کی طرح یہاں بھی کانگریس کا مینڈیٹ ختم ہوجائے گا۔ دوسری طرف کرناٹک اسمبلی چناؤ نے بہت حد تک تمام اپوزیشن پارٹیوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن متحدہ ہوئی ہے اور کانگریس جنتا دل (ایس ) نے سرکار بنائی۔ اس سے پورے دیش کے ساتھ ہی دہلی میں بھی اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کے امکانات کو تقویت ملی ہے اور دہلی میں کانگریس ۔عام آدمی پارٹی میں سمجھوتے کی گنجائش بننے لگی ہے۔ عاپ کے قومی ترجمان دلیپ پانڈے نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کانگریس کے کچھ سینئر لیڈر عاپ پارٹی کے رابطہ میں ہیں اور وہ ہریانہ ، دہلی ، پنجاب میں ہمارا ساتھ چاہتے ہیں اور دہلی میں ہم سے وہ ایک سیٹ مانگ رہے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ اروند کیجریوال نے دہلی کی پانچ لوک سبھا سیٹوں پر انچارج مقرر کئے ہیں لیکن دو سیٹوں پر تقرری کیوں نہیں ہوئی ہے؟ اسے لیکر سیاسی گلیاروں میں کئی طرح کے سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ آخر کیوں عاپ پارٹی نے دہلی میں بچی دو سیٹوں پر اپنے انچارج مقرر نہیں کئے؟ بتایا تو یہ بھی جارہا ہے کہ 2019 لوک سبھا کے پیش نظر دہلی میں سیٹوں کے بٹوارہ پر بھی بات ہوئی جس میں عاپ نے پانچ سیٹیں خود رکھنے اور دو کانگریس کو دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے پیچھے دلیل یہ دی جارہی ہے کہ کانگریس کے مقابلہ دہلی میں عاپ کا ووٹ فیصد بہت زیادہ ہے۔ حالانکہ 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کو 46.6 فیصدی ووٹ ملے تھے اور عاپ کو 35.1 فیصدی اور کانگریس کو 15.2 فیصدی۔ اگر آپ اور کانگریس کے ووٹوں کو جوڑ دیا جائے تو یہ بنتا ہے48.3 فیصدی ، اس کے مقابلہ بی جے پی کا ووٹ شیئر بنتا ہے46.6 فیصدی۔
(انل نریندر)

ارباز نے ماناپانچ سال سے لگا رہا تھا سٹہ

15 مئی کو ممبئی کی اینٹی ایکسٹورشن سیل نے دلال سونو جالان کے چار ساتھیوں کی گرفتاری کر آئی پی ایل سٹے بازی ریکٹ کو بے نقاب کیا۔ 29 مئی کو گرفت میں آئے سونو کی ڈائری میں فلم اداکار اور سلمان خان کے بھائی ارباز خان سمیت کئی بالی ووڈ ہستیوں ،ٹھیکیداروں اور بلڈروں کے نام درج پائے گئے۔ ان میں خاص ہے ارباز خان کا نام۔ اس نے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ پانچ چھ سال سے آئی پی ایل میچوں میں سٹہ لگا رہے تھے۔ ارباز کے مطابق سٹے کی لت کے سبب ہی ملائیکا اروڑہ سے ان کی طلاق ہوئی تھی۔ پولیس نے اب تک ارباز کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا۔ارباز نے مانا کہ انہوں نے سٹے باز سونو جالان کے ذریعے سٹہ لگایا۔ وہ پچھلے تین سال میں 2.80 کروڑروپے ہار چکے ہیں۔ کافی قرض ہوگیا تھا ، لوگ پریشان کررہے تھے، کئی لوگ انکی بیوی ملائیکا کو بھی فون کرنے لگے تھے جس سے دونوں کے درمیان روز جھگڑے ہونے لگے۔ دونوں کا پچھلے سال طلاق ہوگیا۔ بھائی سلمان خان بھی ارباز سے ناراض تھے۔ حالانکہ ارباز نے ٹھانے پولیس کو بتایا کہ آئی پی ایل 2018 کے کسی میچ پرانہوں نے سٹہ نہیں لگایا۔ جمعہ کو پولیس نے ارباز کو سمن جاری کیا تھا۔ ارباز کے پہنچتے ہی سونو جالان کو بھی پوچھ تاچھ کے لئے بلایا گیا۔ دونوں کا آمنا سامنا کراکرچار گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔ پوچھ تاچھ کرنے والوں میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ و اے ای سی کے چیف دیپک شرما بھی تھے۔ جالان نے پیسہ وصولنے کے لئے ارباز کو دھمکایا بھی تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ارباز کے بینک کھاتوں کی جانچ کی جائے گی۔ کرکٹ کے دوران سٹے بازی کوئی نئی بات نہیں۔ نہ جانے کتنی بار سٹے باز پکڑے جاتے ہیں اور ان کے سازو سامان ضبط ہوتے ہیں ، کبھی کبھی کچھ روپے بھی پولیس برآمدگی میں دکھاتی ہے۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کچھ کو سزا ہوئی ہو لیکن سٹے بازی بند نہیں ہوتی۔ دیش میں اور دیش کے باہر ایک دوسرے سے جڑے سٹوریوں کی بہت بڑی جماعت ہے۔ بھارت میں یہ غیر قانونی ہے لیکن کئی دیشوں میں اسے قانونی حیثیت ملی ہوئی ہے۔ یہ سٹے باز اپنی کمائی کے لئے کسی کرکٹر کو بھی پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں وہ صاف نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ارباز جس خاندان سے آتے ہیں وہاں پیسے کی کمی نہیں ہونی چاہئے۔ فلم نہ ملنے کے سبب ارباز کی ذاتی آمدنی کافی کم ہوگئی ہے اور بڑھتے خرچوں کے سبب انہوں نے سٹے بازی کا راستہ پکڑا۔ سٹے بازی کیسے کسی کو بربا د کردیتی ہے اس کا ثبوت ارباز ہیں۔ دیکھا جائے تو ارباز ہر سطح پر لٹ گئے ہیں۔ غیر قانونی ہوتے ہوئے بھی سٹے بازی کا جال پھیلنا ہمارے قانون و نظام کی ناکامی ہے۔
(انل نریندر)

06 جون 2018

بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی سے معاملہ حل نہیں ہوگا

ایک بار پھر سرحد پر امن کے لئے اتفاق رائے بنانے کی کوشش جاری ہے۔ کوشش تو پاکستان سے بات کی بھی ہورہی ہے۔ ہماری سکیورٹی فورسز کو صرف بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی نہیں چاہئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے بیشک سرحدپر سیز بائر سے تھوڑی راحت فوجیوں اور سرحد پر رہنے والے شہریوں کو بھی ملے گی لیکن یہ مسئلے کا پورا حل نہیں ہے۔ ہماری فوج اس وقت تین محاذوں پر ایک ساتھ لڑرہی ہے۔ بین الاقوامی سرحد پر ، جموں کشمیر کے اندر درانداز دہشت گردوں سے اور پتھر بازوں سے۔ جب تک ان تینوں محاذ پر پاکستان سے کوئی ٹھوس بات چیت نہیں ہوتی ہماری رائے میں مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نہیں نکلے گا۔ بین الاقوامی سرحد پر گولی باری تو رک جائے گی لیکن ریاست کے اندر ان دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کا کیا ہوگا؟ پاکستان پر کتنا بھروسہ کیا جاسکتا ہے یہ الگ اشو ہے۔ پاکستان آئے دن اپنی بات سے مکرتا رہتا ہے۔ پانچ دن پہلے ہی دونوں ملکوں کی ڈی جی ایم او (ڈائریکٹر جنرل فوجی آپریشن) سطح پر بات چیت میں 2003 کی جنگ بندی معاہدے کو پوری طرح نافذ کرنے پراتفاق رائے جتانے کے بعد پاکستانی رینجرس نے ایتوار کی رات بین الاقوامی سرحد سے لگی ہندوستانی چوکیوں اور گاؤں پر بھاری گولہ باری کی۔ اس میں بی ایس ایف کے دو جوان شہید ہوگئے۔ ایک خاتون سمیت 14 لوگ زخمی ہوگئے۔ بی ایس ایف نے بھی پاکستان کی گولہ باری کا سخت جواب دیا ہے۔ سرحد پر ہائی الرٹ ہے۔ دہشت کے مارے مقامی لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ دو دن کی گولہ باری کے بعد پیر کو بی ایس ایف اور پاکستانی رینجرس سرحد پر امن بنائے رکھنے پر ایک بارپھرراضی ہوئے ہیں۔ جموں میں ہوئی اس میٹنگ کے بعد بی ایس ایف کے ایک افسر نے بتایا کہ ہم نے صاف کردیا ہے کہ اگر گولہ باری ہوئی تو معقول جواب دیا جائے گا۔ وہیں پاکستانی فوج نے کہا کہ بھارت ۔ پاک کے درمیان جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی ملک ایٹمی پاور ہیں۔ ایک طرف تو پاکستان امن کی بات کررہا ہے تو دوسری طرف اس کے ذریعے بھیجے گئے دہشت گرد اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ کشمیرکے شوپیاں میں دہشت گردوں نے بم پھینک کر چار جوانوں کو زخمی کردیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پام پورہ کے قریب شوپیاں تھانے کی پولیس گاڑی پر گولہ پھینکا، حملہ میں چار پولیس جوان دس شہری زخمی ہوگئے۔ پولیس وین پر کشمیری لڑکوں نے جم کر پتھر بازی کی۔ لاٹھیوں سے گاڑی پر حملے کئے، وہ تو شکر ہے پولیس جیپسی کادروازہ نہیں کھولا ورنہ گڑ بڑ ہوجاتی۔ یہ آئے دن کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ہماری سکیورٹی فورس اور پولیس تینوں محاذوں پر اس وقت لڑ رہی ہے۔ جموں کشمیر میں رمضان کے مقدس ماہ میں ایک طرف جنگ بندی جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیز فائر ہماری صرف سکیورٹی فورسز پر لاگو ہوتی ہے؟ کیونکہ نہ تو دہشت گرد حملے سے باز آرہے ہیں اور نہ ہی پتھر باز رکے ہیں؟ کل ملاکر ہماری رائے میں ایک طرفہ جنگ بندی یا بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری بند کرنے پر اتفاق رائے کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ جموں و کشمیر میں تشدد رکے اور خوشگوار ماحول بنے، بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی پاکستان کو سوٹ کرتی ہے چونکہ یہاں پاک فوجی مرتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں یا تو یہ آتنکی مرتے ہیں یا پھر پتھر باز لڑکے لیکن ہمیں تو یہ دیکھنا چاہئے جب تک تینوں محاذوں پر اتفاق رائے نہیں بنتا ایک طرفہ سیز فائر ہمیں راس نہیں آتا۔
(انل نریندر)

کیرانہ ۔ نور پور میں بھاجپا منتری چلے نہ تنظیم

لوک سبھا چناؤ میں مغربی اترپردیش کا رول اہم ہوتا ہے۔ یوں تو سارے اترپردیش کا رول اہم ہے لیکن حال ہی میں ختم ہوئے ضمنی چناؤ کے نتیجے کے سبب بھاجپا کو نئے سرے سے سمجھنا ہوگا یہاں کا مزاج۔ پچھلے اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو یہ بھاجپا کے لئے بہت مفید رہا لیکن اس ضمنی چناؤ کے اعدادو شمار نے بھاجپا کو پھر سے مغرب کے مزاج کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جائزہ لینے کو مجبور کردیا ہے۔ یہاں کا مزاج ذات پات اور مذہبی بنیاد پر زیاہ رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ 2014 میں مودی لہر کے چلتے بھاجپا کو مغربی علاقے کی 14 اسمبلی سیٹوں پر ایک طرفہ جیت حاصل ہوئی تھی۔ پولارائزیشن کی دھار کا منتر اپوزیشن نے اس بار تلاش کرنا تھا۔مہا گٹھ بندھن اس میں سپا ، کانگریس، بسپا، آر ایل ڈی شامل ہوگئے ، کی پالیسی کے تحت ہی سپا لیڈر کو آرایل ڈی کے چناؤ نشان پر لڑایا گیا اور یہ تجربہ کامیاب بھی رہا۔ کیرانہ اور نور پور میں بھاجپا نے پوری طاقت جھونک دی لیکن نتیجہ نہیں بل سکی۔ سرکار کے وزرا اور تنظیم کے عہدیدان کا دونوں حلقوں میں جم جانا بھی پارٹی کے کام نہیں آیا۔ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے کیرانا اور نور پور میں ایک ایک چناوی ریلی سے بھی خطاب کیا ۔ پولنگ سے ٹھیک پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ پڑوسی ضلع باغپت میں ایسٹرن پھیری پھیرل ایکسپریس وے کا بھی افتتاح کرا کر ووٹروں کو یہ اشارہ دینے کی کوشش کی گئی یوگی کے علاوہ وزرا کی فوج وغیرہ نے بھی چناؤ ریلیاں کیں۔ پردیش بھاجپا تنظیم سنیل بنسل کی رہنمائی میں بھاجپا تنظیم کے کئی بڑے ناموں نے کیرانا میں ڈیرہ ڈالا لیکن نا بھاجپا کے وزیر چلے اور نہ تنظیم چلی۔ کیرانا اور نور پور میں بھاجپا کا تین طلاق اشو بھی بے اثر رہا۔ اس مسئلہ پر مسلم عورتوں کے ووٹ بھی بھاجپا کو نہیں ملے۔ چناؤ کمپین کے درمیان سپائیوں اور آر ایل ڈی کے ورکروں کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے ذریعے لایا گیا تین طلاق بل ایک طرفہ ہے اور یہ سیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ مسلم طبقے سے وابستہ کچھ دانشور اور بھاجپا کی مخالف اپوزیشن پارٹیوں نے اس قانون کو صرف بھاجپا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مقصد سے لایا جانا بتایا۔ وہ اسے سازش بتا رہی ہیں اور وہ اس کے لئے زیادہ تر مسلم عورتوں کو یہ بات سمجھانے میں کامیاب رہی مسلسل ضمنی چناؤ میں ہار کے بعد پارٹی کے نیتا وزیراعلی آدتیہ ناتھ یوگی کے خلاف ہوگئے۔ پارٹی کے ممبر اسمبلی و وزرا،افسروں کے کرپشن کو ہار کی وجہ بتا رہے ہیں تو ایم پی نے حکمت عملی پر ہی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ بجنور کے ایم پی بھارتندو سنگھ نے کہا کہ چناؤ میں کچھ لوگ ایسے بھی لگائے جانے چاہئے تھے جن کو جیتنے کا تجربہ ہو۔ بھوپیندرسنگھ تین بار چناؤ ہارے زونل چیئرمین تھے انہیں پنچایتی راج وزیر بنادیاگیا۔ سنجیو بالیان ہریانہ میں جانوروں کے ڈاکٹر تھے،2014 میں آئے اور ٹکٹ مل گیا۔ ایم پی اور پھر منتری بنے اب پردیش کے نائب صدر ہیں۔ صاف ہے ان نیتاؤں جو فائدہ ملنا چاہئے تھا وہ نہیں ملا۔ مظفر نگر سے ایم پی سنجیو بالیان نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا بھارتیندو پڑوس کے ایم پی ہیں اچھا ہوتا چناؤ میں وقت دیتے۔ وہ راجہ ہیں انہیں گھر گھر گھوم کر ووٹ مانگنا اچھا نہیں لگتا۔ ہردوئی کے گوپال مؤ سے ممبر اسمبلی شام پرکاش نے تو پوری کویتا ہی لکھ ڈالی..... مودی نام سے پا گئے راج کرنہ سکے جنتا من کا کام کاج۔ سنگھ، سنگٹھن پر نہ لگام۔ وزیراعلی بھی لاچار، جنتا اور ممبر اسمبلی پریشان، افسر ، پردھان بھی کرپٹ۔ کیرانا میں پولنگ کے دوران بھاری تعداد میں ای وی ایم اور وی وی پیڈ کی تکنیکی خرابی بھی بھاجپا کے گلے کی ہڈی بن گئی۔ اپوزیشن نے اسے بھاجپا کی سازش بتا کر بھنا لیا۔ بھاجپا کو بھاری پڑگیا ضمنی چناؤ۔
(انل نریندر)

05 جون 2018

لنگر،پرساد اور بھنڈارہ پر جی ایس ٹی کی راحت

مجھے یہ جانکاری بڑی خوشی محسوس ہوئی کہ مرکزی سرکار نے گورودواروں میں لنگر سمیت تمام ایسی دھارمک اداروں جو فری لنگر، پرساد یا بھنڈارہ کھلاتے ہیں ان کے سامان پر لگنے والی جی ایس ٹی کو ہٹا لیا گیا۔ قارئین کو بتادوں کہ میں نے اپنے اسی کالم میں ایک ناراضگی بھرا مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’گوردواروں میں لنگر سے جی ایس ٹی ہٹاؤ‘‘ یہ آرٹیکل دینک ویر اجن، پرتاپ اور ساندھیہ ویرارجن کے 25 مارچ 2018 کے شمارہ میں شائع ہوا تھا۔ سورن مندر کی رسوئی دنیا کی سب سے بڑی رسوئی مانی جاتی ہے۔ یہاں روزانہ تقریباً12 ہزار کلو آٹا، 14 ہزار کلو دال ،1500 کلو چاول اور 2ہزار کلو سبزیوں کا لنگر پکتا ہے۔ روٹی بنانے والی مشینیں اور شردھالو روز کی دو لاکھ روٹیاں بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیر بنانے میں 5 ہزار لیٹر دودھ ، 1 ہزار کلو چینی اور 500 کلو گھی کا استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی گورو کے لنگر پر جی ایس ٹی مار پڑ رہی تھی۔ گوردواروں کے 450 سال کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ لنگر ٹیکس سسٹم سے متاثر ہورہا تھا۔ یہاں روزانہ تقریباً 1 لاکھ ملکی اور غیر ملکی شردھالو لنگر کھاتے ہیں۔ سنیچر ۔ایتوار اور تہواروں پر تو دو لاکھ سے تین لاکھ شردھالو لنگر کھاتے ہیں۔ جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد سے 4-5 کروڑ روپے کے فاضل بوجھ پڑرہا تھا۔ مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل اکالی دل اور دہلی گوردوارہ کمیٹی لنگر سے جی ایس ٹی ہٹانے کے لئے کافی عرصے سے کوشش میں لگی تھیں جس میں اب جاکر ان کو کامیابی ملی۔ اب باری ریاستوں کی ہے، وہ بھی مذہبی مقامات کو راحت دیں۔ دہلی سرکار سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی طرف سے دہلی کے سبھی گوردواروں ،مندروں ،مساجد سے جی ایس ٹی ہٹائے۔ اس سے پہلے لنگر پر جو ٹیکس لگتے تھے انہیں ہم چکاتے آئے ہیں لیکن جی ایس ٹی کے بعد سے فاضل بوجھ پڑ رہا تھا جس میں اب سبھی گوردواروں کو راحت ملے گی۔ یہ کہنا ہے منجندر سنگھ سرسہ کا جو دلی سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے جنرل سکریٹری ہیں۔ مذہبی مقامات میں چلنے والے لنگروں پر لگنے والے اپنے حصہ کے جی ایس ٹی کو واپس دینے کی مرکزی سرکار کے ذریعے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کا شرومنی اکالی دل نے خیر مقدم کیا ہے۔ دل کے چیئر مین سکھبیر سنگھ بادل اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے گوردواروں کے لنگر سے ہٹائے گئے جی ایس ٹی پرجمعہ کو گوردوارہ رکاب گنج صاحب میں میڈیا سے بات چیت میں مرکزی سرکار کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقعہ پر سکھبیر بادل نے پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ سے مرکزی سرکار کی طرز پر سبھی مذہبوں کے دھارمک مقامات کو ٹیکس سے چھوٹ دینے کی مانگ کی۔ ہم امیدکرتے ہیں کہ تمام ریاستیں بھی مرکزی سرکار کی طرح دھارمک مقامات میں لگا جی ایس ٹی ہٹا لیں گی۔
(انل نریندر)

آخر کیوں ہے اَن داتا سڑکوں پر

دیش کی چھ ریاستوں کے کسان جمعہ سے تحریک کے تحت سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ قرض معافی اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیں لاگو کرنے سمیت 32 مانگوں کی حمایت میں راجستھان، پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں کسانوں نے سڑکوں پر دودھ بہایا اور سبزیاں پھینکیں۔ قومی کسان مزدور فیڈریشن کے چیئرمین شیو کمار شرما نے بتایا کہ آنولن کو ’’گاؤں بند‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کسان بار بار کھیت چھوڑ کر سڑکوں پر کیوں آرہا ہے؟ سیدھا مطلب ہے ان کے مسائل کے حل کے تئیں انہیں مطمئن نہیں کیا جاسکا۔ کسان لگاتار مشکل میں گھرتا گیا ہے اور سامان کی مہنگائی کے دور میں کھیتی۔ کسانی پہلی جیسی نہیں رہی۔ کسانوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے 2004 میں مرکزی سرکار نے جانے مانے ماہر اقتصادیات ایم ایس سوامی ناتھن کی سربراہی میں نیشنل کمیشن آف فارمرس بنایا تھا اس نے 2006 میں کسانوں کی خوشحالی اور بہتر ترقی کے لئے کچھ سفارشیں دیں تھیں۔ یہ رپورٹ اقتدار کے کس گلیارے میں کھوگئی پتہ نہیں۔ تقریباً 50 سال پہلے دیش میں سبز انقلاب لانے والی مشہور زرعی سائنسداں سوامی ناتھن کی سربراہی میں 2004 میں اس وقت کی یوپی اے سرکار نے یہ کمیشن بنایا تھا۔ 2004 سے2006 (اکتوبر) کے درمیان میں رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ کسانوں کی اقتصادی پریشانی کی وجہ کیا ہے اور ان کے ازالے کے اقدامات کیا ہونے چاہئیں۔ کمیشن نے اراضی بہتری کے ادھورے ایجنڈے، سنچائی کے لئے پانی کی کمی کی تکنیک کی کمی اوروقت پر ادارہ جاتی قرض بہتر اور مناسب قیمت دلانے والے بازار کی کمی اور موسم کی بے یقینی کو مسئلہ کی اہم وجہ بتایا۔ کسان بس یہی رپورٹ لاگو کرنے ،قرض معافی اور اپنی فصل کا مناسب دام مانگتے رہے ہیں۔ اس بار بھی یہی اشو ہے۔ ابھی کچھ وقت پہلے ہی کسانوں کی 68 انجمنوں نے دہلی کوچ کیا تھا۔ تب بھلے ہی سرحدیں بند کر انہیں وہیں پہنچنے سے روک دیا گیاہو لیکن کسان انجمنوں نے اسی وقت سے جوابی کوشش بتا کر جتادیا تھا کہ ان کی اصلی یوجنا تو اپنی اپنی ریاست میں تحریک کو رفتار دینے کی ہے جس کی آواز دور تک سنائی دے۔
کسان دیش کا ان داتا ہے، جب دیش کا ان داتا ہی پریشان ہو ، خودکشی کرنے پر مجبور ہو دیش میں خوشحالی کیسے آسکتی ہے۔ اس تحریک کے چار دنوں میں ہی تین خودکشیاں ہوچکی ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کوئی بھی سرکار کسانوں کے مسئلہ کو جڑ سے حل کرنے کے تئیں ایماندار نہیں۔ قرض معافی سے حل نہیں نکلتا کسان کو اس کی فصل کے مناسب دام ملنے چاہئیں۔ اسے اپنی کھیتی کرنے کے لئے درکار سہولیات ملنی چاہئیں۔
(انل نریندر)

03 جون 2018

جب سرحد پر جنازہ اٹھ رہے ہوں تو امن بات چیت کیسے ہوسکتی ہے

مودی سرکار کے چار سال پورے ہونے کے موقعہ پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے صاف کردیا کہ جب تک سرحد پر لوگ مارے جاتے ہیں، جنازہ اٹھتے رہیں گے تب تک پاکستان کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے صاف کہا جب تک دہشت گردی کو پڑوسی سے مدد ملتی رہے گی بات چیت ناممکن ہے۔ پاکستان کو یہ دو ٹوک سندیش دینا اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان کی جانب سے یہ اشارہ دئے جارہے ہیں کہ وہ بھارت سے بات چیت کو تیار ہے کیونکہ یہ اشارہ خود پاکستانی فوج کے سربراہ کے حوالہ سے دیا گیا ہے اس لئے یہاں یہ تذکرہ کرنا اور بھی ضروری تھی کہ بھارت اس کو نظرانداز کرنے کو تیار نہیں۔ سرحد پر ہنگامے کے ساتھ جموں و کشمیر میں کسی طرح دہشت گردوں کی گھس پیٹھ کرائی جارہی ہے۔ آخر پاکستان یہ سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ اس کی طرف سے دہشت گردوں کی کھیپ بھیجنے کے بعد بھی بھارت اس سے بات چیت کے لئے تیار ہوجائے گا؟ دہشت گردی اور بات چیت دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ سشما سوراج کی اس دلیل کے حق میں یا تو بہت سارے واقعہ گنائے جاسکتے ہیں لیکن ان کے بیان کے ایک روز پہلے کشمیر میں ہوئے دو تین واقعات کو تازہ پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پلوامہ میں فوجی کیمپ پر ایتوا ر کی رات آتنکی حملہ ہوا جس میں فوج کے ایک جوان اور ایک شہری کی جان چلی گئی۔ پھر شوپیاں ضلع میں پیرکو آتنک وادیوں کے کئے گئے دھماکہ میں تین فوجی زخمی ہوگئے۔ ادھر اننت ناگ ضلع میں آتنک وادیوں نے ایک بینک سے 70 ہزار سے زیادہ کی رقم لوٹ لی اور گارڈ کی رائفل لیکر فرار ہوگئے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب رمضان کے پیش نظر مر کز نے ریاست میں فوجی کارروائی پر روک لگا رکھی ہے۔ یہی نہیں پچھلے دنوں فوج کے سربراہ نے کہا کہ اگر رمضان کے دوران امن قائم رہا تو فوجی کارروائی پر روک کی میعاد بڑھائی جاسکتی ہے۔ تازہ دہشت گردانہ واقعات سے ظاہر ہے کہ کون لوگ امن نہیں چاہتے۔ پچھلے تین چار برسو ں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں جیسی تیزی آرہی ہے اس کے پیش نظر دونوں دیشوں کے درمیان بات چیت ہونا مشکل ہوگیا ہے۔ روس کے اوفا شہر میں شنگھائی کو آپریٹیو آرگنائزیشن کی چوٹی کانفرنس کے دوران پتن کی پہل پر پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے وزیر اعظم مودی کی بات چیت ہوئی تھی۔ اس میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات نہ ہونے دینے اور سرحد پر امن یقینی بنانے پررضامندی ہوئی تھی مگر کنٹرول لائن کے دونوں طرف اعلی فوجی افسروں کی میٹنگوں سے زیادہ کچھ نہیں ہو پایا۔ بین الاقوامی برادری بھی چاہتی ہے کہ دونوں دیشوں میں بات چیت ہو۔ سوال الگ نظریئے کا بھی ہے۔ کسی بھی صورت میں پاکستان سے بات چیت ہونی چاہئے یا نہیں ۔بات چیت تبھی پائیدار نتیجے پر پہنچ سکتی ہے جب اس کے لئے پہلے مناسب ماحول قائم کیا جائے۔
(انل نریندر)

ستیندر جین ہمیشہ تنازعات میں رہے ہیں

منی لانڈرنگ معاملہ میں گھرے کیجریوال سرکار کے وزیر صحت و پی ڈبلیو ڈی وزیر ستیندر جین ہمیشہ تنازعات میں رہے ہیں۔ سی بی آئی نے بدھوار کو ان کے گھر و دفتر پرچھاپہ ماری کی۔ جانچ ایجنسی نے یہ کارروائی پی ڈبلیو ڈی میں کریٹیو ٹیم میں 24 آر کٹیکٹ کی بھرتی میں کرپشن کے الزامات پر کی تھی۔ جین نے خود ٹوئٹ کر اپنے گھر پر چھاپہ ماری کی جانکاری دی۔ دہلی سرکار میں سب سے متنازعہ وزیر کی شکل میں ستیندر جین کی ساکھ خراب ہوتی جارہی ہے۔ ان پر کئی طرح کے الزام لگ چکے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بھی مانگ اٹھ چکی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلی اروند کیجریوال کے قریبی ہونے کے چلتے جین ابھی تک بچتے آئے ہیں۔ اگر جس طرح سے جین پر مختلف جانچ ایجنسیوں کا شکنجہ کستا جارہا ہے ایسے میں آنے والے وقت میں جین کا عہدے پر بنے رہنا آسان نہیں ہوگا۔جین کے ٹھکانوں پر سی بی آئی کا یہ پہلا چھاپہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی منی لانڈرنگ معاملہ میں بھی جانچ ایجنسی نے ان کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی تھی۔ سی بی آئی یہ دعوی کرچکی ہے کہ ان کے پاس سے بے نامی اثاثے کے دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ چھاپہ ماری کے بارے میں ٹوئٹ کرنے کے بعد سی ایم اور ڈپٹی سی ایم سمیت کئی بڑے نیتاؤں اور ممبران اسمبلی نے سینکڑوں ٹوئٹ اور ری ٹوئٹ کئے۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ سی بی آئی چھاپہ میں کچھ نہیں نکلتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہاں جین کی کھوئی ہوئی دو شرٹ نکل آئیں صوفے کے نیچے ۔انہوں نے کہا کہ عاپ سرکار کو ٹارچر کیا جارہا ہے۔ سسودیا نے کہا کہ اب تو ہمیں عادت پڑ گئی ہے ہر روز پولیس، سی بی آئی اور ای ڈی عاپ نیتاؤں کے گھر و دفتروں پر بیٹھی رہتی ہے۔ دو دن پہلے سی بی آئی نے ستیندر جین کے خلاف ایک معاملہ بند کیا ہے۔ وجہ سی بی آئی کی نظر میں وہ معاملہ بنتا ہی نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو ایک رضاکار کے ناطہ کام دیا تھا اور ان کے خلاف سی بی آئی جانچ شروع کردی گئی۔ ادھربھاجپا پردیش پردھان منوج تیواری نے کہا کہ عاپ سرکار کے کالے چٹھوں کا لیکھا جوکھا ستیندر جین کے پاس ہے وہ عاپ سرکار کے الاٹ کردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ستیندر جین کا منہ کھلتا ہے تو عاپ نیتاؤں پر قانونی کارروائی طے ہے۔ پچھلے تین سال میں عاپ نیتاؤں کے یہاں پانچ بار چھاپہ ماری ہوئی۔ 5 اپریل 2018 کو ای ڈی نے ستیندر جین سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ 5 فروری2018 کو سی بی آئی کی چھاپہ ماری میں دہلی کے ڈینٹل کونسل کے رجسٹرار ڈاکٹر ترکانی راج کے لاکر کی جانچ میں ستیندر جین کے کچھ اثاثوں کے دستاویز ملے تھے۔ 25 اگست 2017 ۔ سی بی آئی نے منی لانڈرنگ معاملہ میں جین کے یہا ں چھاپہ ماری کی تھی۔ 19 جون2017 کو سی بی آئی 18 ماہرین کو غلط طریقے سے تقرری کے معاملہ میں جین کے یہاں چھاپہ مارا تھا۔ 16 جون 2017 سی بی آئی ٹاک ٹو اے کے معاملہ میں منیش سسودیا سے ان کے گھر پر پوچھ تاچھ کی گئی۔ 30 دسمبر 2016 کو جین کے او ایس ڈی نکنج اگروال کے دفتر میں چھاپہ مارا گیا۔ 15 دسمبر 2015 سچیوالیہ میں سی ایم کے پرائیویٹ سکریٹری راجندر کمار کے دفتر میں چھاپہ، وزیر اعلی اروند کیجریوال کے سول لائنس پر چیف سکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ مار پیٹ، ستیندر جین کے یہاں چھاپوں نے بیشک سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ جاتی ہو لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس پارٹی میں دنگا کرنے والے نیتاؤں اور ممبران اسمبلی کی کمی نہیں ہے۔ اعدادو شمار پر غور کریں تو اس پارٹی میں 48 سے زیادہ ایسے ممبر اسمبلی ہیں جن کے خلاف دہلی کے مختلف تھانوں اور سی بی آئی و اے سی بی میں سب سے زیادہ مقدمے درج ہیں۔ وہیں عاپ نیتاؤں کا کہنا ہے سی بی آئی ، اے سی بی سیاسی اغراز پر مبنی کارروائی کررہی ہے۔ اگر ان سرکاری ایجنسیوں کے مقدمات میں کوئی دم ہوتا تو اتنے عاپ نیتا عدالتوں سے بری نہ ہوتے۔ عاپ کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ سی بی آئی طوطے کی طرح کام کرتی ہے یہ بات پوری طرح سے صحیح ثابت ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...