Translater

07 اپریل 2018

کیجریوال ٹرن ناٹ الاؤڈ کے سائن بورڈ

کل میں جب اپنی رہائش گاہ سندر نگر سے دفتر (بہادرشاہ ظفر مارگ) جا رہا تھا تو پرگتی میدان کے سامنے ایک بجلی کے کھمبے پر ایک پوسٹر ٹنگا تھا اس پر لکھا تھا ’یو ٹرن پروہیبیٹڈ‘‘ اور اس کے نیچے کیجریوال کی فوٹو پر کانٹا لگا ہوا تھا اور لکھا تھا کے کیجریوال’’ ٹرن ناٹ الاؤڈ‘‘۔ عزت ہتک کیس میں سزا سے بچنے کے لئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ایک کے بعد ایک سیاستدانوں سے معافی مانگ رہے ہیں اس سے ان کی خوب فضیحت ہورہی ہے۔ سیاسی لوگ ان پر طنز کس رہے ہیں۔ اسی کڑی میں اکالی ۔بھاجپا اتحاد کے ممبر اسمبلی منجندر سنگھ سرسہ دہلی کے چوراہوں پر کیجریوال ٹرن ناٹ الاؤڈ کے بورڈ لگوا رہے ہیں۔ معافی مانگنے کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے اب شری کیجریوال نے وزیر خزانہ جیٹلی سے بھی معافی مانگ لی ہے ۔ یہ کیجریوال کی اب تک کی سب سے بڑی معافی مانگی جارہی ہے۔ ان کے ساتھ عام آدمی پارٹی کے نیتاسنجے سنگھ ، آشوتوش ، دیپک باجپئی اور راگھو چڈھا نے بھی معافی مانگی ہے۔ جیٹلی نے ان سبھی کو معاف بھی کردیا ہے اس کے بعد دونوں فریقین نے دہلی ہئی کور اور پٹیالہ ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا کیس واپس لے لیا ہے وہیں کمار وشواس نے معافی مانگنے سے انکارکردیا ہے۔ ایسے میں ان پر قانونی کارروائی چلتی رہے گی۔ کیجریوال نے عدالت میں بحث کے دوران ان کے وکیل رام جیٹھ ملانی کے ذریعے کئے گئے تبصرہ کے لئے بھی معافی مانگی ہے۔بتادیں کہ اب تک کیجریوال نتن گڈکری، کپل سبل کے بیٹے امت سبل اور وکرم سنگھ میٹھیا سے بھی معافی مانگ چکے ہیں۔ ویسے ابھی کئی نیتاؤں پر بیہودہ اور متنازع تبصرہ کرنے کے کئی معاملہ التوا میں ہیں۔ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف کرپشن کا الزام لگائے جانے کے بعد ان کے او ایس ڈی پون کھیڑا نے کیجریوال کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ دائر کیا تھا۔ یہ معاملہ ابھی زیر سماعت ہے۔ وکیل سریندر سنگھ شرما نے بھی وزیر اعلی کیجریوال پر مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ وزیر اعلی کیجریوال کے خلاف ساؤتھ دہلی سے بھاجپا کے ایم پی رمیش ودھوڑی کی طرف سے داخل ہتک عزت کا معاملہ ابھی نچلی عدالت میں التوا میں ہے۔ بھاجپا نیتا کا الزام ہے کیجریوال نے ایک نیوز چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ودھوڑی پر مجرمانہ مقدمہ التوا میں ہے جبکہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ جی ڈی سی اے اور اس کے سابق کرکٹر چیتن چوہان نے بھی کیجریوال کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔ یہ معاملہ جی ڈی سی اے کی مالی دھاندلیوں سے وابستہ ہے جس کا عدالت میں دو پولیس ملازمین نے بھی کیجریوال کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ حکام کے برتاؤ کو لیکر دہلی اسمبلی میں کرائی گئی بحث کے دوران اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب اپوزیشن نے مانگ اٹھائی کہ جب وزیر اعلی سبھی سے معافی مانگ رہے ہیں تو لگے ہاتھ چیف سیکریٹری سے بھی معافی کیوں نہیں مانگ لیتے؟ جس سے سرکار میں جاری تعطل کو ختم کردیا جائے۔ دہلی کا وکاس پھر پٹری پر آجائے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ دہلی کی سرکار کو دہلی کی ترقی کی چنتا نہیں ہے مگر کیجریوال اسی سے معافی مانگتے ہیں جہاں وہ پھنستے دکھائی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب اقوام متحدہ کی فہرست میں پاکستان کے 139 آتنک وادی

ایک بار پھر دنیا کے سامنے پاکستان کا آتنکی چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل نے دنیا بھر کے آتنک وادیوں کی نئی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کے 139 لوگوں،انجمنوں کا نام شامل ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس فہرست میں ممبئی حملہ کے سرغنہ لشکر طیبہ کا بھی نام ہے۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق فہرست میں سب سے اوپر اسامہ بن لادن کے جانشین ایمن الظواہری کا نام ہے۔ اس فہرست میں سبھی کی نشاندہی کی گئی ہے جو پاکستان میں رہ چکے ہیں،وہاں سے اپنی سرگرمیاں چلائی ہیں یا پھر سرگرمیاں چلانے کے لئے پاکستانی سرزمین کا استعمال کرنے والی انجمنوں سے جڑے رہے ہیں۔ لشکرطیبہ چیف حافظ سعید کو ایک ایسے شخص کی شکل میں شامل کیا گیا ہے جو انٹر پول کا مطلوب ہے اور کئی آتنکی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ لشکر طیبہ نے چنئی میں کئی جگہوں پر آتنکی حملہ کرائے تھے اور ان میں چھ امریکی شہری سمیت166 لوگ مارے گئے تھے۔ خبر کے مطابق اقوام متحدہ اس فہرست میں ہندوستانی شہری داؤد ابراہیم کاسکر کا بھی نام شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے پاس کئی پاسپورٹ ہیں جو راولپنڈی اور کراچی سے جاری ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کا دعوی ہے کہ کراچی کے ایبٹ آباد میں داؤد کا ایک بڑا بنگلہ ہے۔ فہرست میں حاجی محمد عبدالسلام اور ظفر اقبال بھی شامل ہیں۔ فہرست میں جیش محمد افغان کوآپریٹیو کمیٹی ،لشکر جھنگوی، الاختر ٹرسٹ انٹرنیشنل، حرکت الجہادالاسلامی، تحریک طالبان ،پاکستان جماعت اہرار اور خطیبہ امام البخاری کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فہرست میں کچھ نام ایسے ہیں جو افغان سرحدی علاقہ میں سرگرم ہیں۔دنیا جانتی ہے پاکستان سرکار اور فوج کی مرضی کے بغیر کوئی آتنکی تنظیم اپنی سرگرمیاں نہیں چلا سکتی۔ پاکستان نے تو حافظ سعید تک کو آتنکی ماننے سے انکا کردیا تھا۔ اقوام متحدہ کی اس کارروائی کے بعد وہ حافظ سعید جیسے آتنکی سرغناؤں کو اب کیسے بچائے گا یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔حالانکہ دنیا کو بیوقوف بنانے کے لئے پاکستان نے اس پر پابندی لگادی تھی لیکن ساتھ ہی ایک ساتھی تنظیم کی شکل میں جماعت الدعوی جیسی تنظیم کھڑی کروا دی بعد میں امریکہ اور اقوام متحدہ نے اس کو بھی آتنکی تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ حافظ سعید و جہادی تنظیموں کو پاک فوج کی پوری حمایت حاصل ہے اور انہیں اقوام متحدہ کی فہرست کی زیادہ پرواہ نہیں۔ ایسے میں دیکھنا ہے کہ اقوام متحدہ کی تازہ کوشش کے بعد پاکستان کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

06 اپریل 2018

محض16 گھنٹے میں پی ایم نے پلٹا اسمرتی ایرانی کا فیصلہ

شکر ہے وزیر اعظم کے دفتر نے وقت رہتے دخل دیااور فرضی خبروں پر روک لگانے کے مبینہ مقصد سے ایک دن پہلے ہی جاری کی گئی سرکار کی گائڈ لائنس واپس لے لی گئیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مداخلت کر سرکار کے خلاف ہونے والے بونڈر سے بچا لیا۔ اسمرتی ایرانی سربراہی میں چلنے والی وزارت اطلاعات و نشریات نے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا تھا کہ صحافیوں کی مانیتا سے متعلق گائڈ لائنس کے مطابق اگر فرضی خبر کی اشاعت یا ٹیلی کاسٹ کی تصدیق ہوتی ہے تو پہلی بار ایسا کرتے پائے جانے پر پترکار کی مانیتا چھ مہینے کے لئے معطل کی جائے گی اور دوسری بار ایسا کرتے پائے جانے پر اس کی منظوری ایک سال کے لئے معطل ہوجائے گی۔ اس کے مطابق تیسری بار خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جانے پر پتر کار (خاتون ؍مرد) کا مستقل ایگریڈیشن منسوخ کردیا جائے گا۔وزارت نے کہا تھا کہ اگر فرضی خبر کے معاملہ پرنٹ میڈیا سے متعلق ہیں تو اس کی کوئی شکایت بھارتیہ پریس کونسل کو بھیجی جائے گی اگر یہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پائی جاتی ہے تو شکایت نیوز براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کو بھیجی جائے گی تاکہ یہ مقرر ہوسکے کہ خبر فرضی ہے یا نہیں۔ وزارت نے کہا تھا کہ ان ایجنسیوں کو 15 دن کے اندر خبر کے فرضی ہونے کا جواب داخل کرنا ہوگا۔ پیر کی دیررات جاری گائڈ لائنس کو پی ایم مودی نے محض 16 گھنٹے بعد ہی پلٹ دیا۔ انہوں نے نہ صرف انہیں واپس لینے کی ہدایت دی بلکہ یہ بھی کہا ایسے معاملوں پر پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن جیسے اداروں کو ہی فیصلہ لینا چاہئے۔ مگر جس طرح سے اسمرتی ایرانی اسے لیکرآئیں اور جس طرح اس پر اٹھائے گئے اعتراض کا جواب دے رہی تھیں وہ حیرت میں ڈالنے والا ہے۔ افواہوں اور فرضی خبروں پر روک لگانے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر پہلے یہ تو واضح ہو کہ فرضی خبر ہے کیا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکار کے نوٹ میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔ فیک نیوز کے حق میں کوئی نہیں ہے۔ صحافت حقائق پر مبنی ہو یہ ایک عام اصول ہے لیکن سچا جرنلسٹ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی لکھے یا بولے اس کی بنیاد سچائی اور پختگی پر منحصر ہو۔ جو ایسا نہیں کررہا ہے وہ پترکار نہیں ہے۔ لیکن صحافت کو کنٹرول کریں یہ نظریہ ہی غیر جمہوری ہے۔ اس گائڈ لائنس میں صحافت کو کنٹرول کرنا اور خوف زدہ کرنے کی منشا تھی۔ کونسی خبر غلط ہے اسے طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ وزیراطلاعات و نشریات کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ جنہیں مانیتا پراپت رپورٹر کہتے ہیں ان کی تعداد کل سرگرم صحافیوں کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کی گائڈ لائنس جاری ہوئیں تو ادھر صحافیوں کا احتجاج شروع ہوگیا۔ ایڈیٹر گلڈز آف انڈیا نے بیان جاری کر وزارت اطلاعات و نشریات کے نوٹیفکیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس سے صحافیوں کے ٹارچر اور اخبارات کو جھکانے کے مقصد سے تمام اوچھی شکایتوں کا راستہ کھل جائے گا۔ گلڈ نے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کے لئے پی ایم او کی مداخلت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایسے اشو پر پریس کونسل آف انڈیا ہی فیصلہ کرے گی۔ سرکار صحافیوں کو مانیتا دے یہ ویسے بھی مناسب نہیں ہے۔ ایسا کرنے کی جگہ وہ صحافت کو اپنی خواہش کے مطابق چلانے کا تصور کرنے لگی ہے۔ خبریں فرضی ہونے یا نہ ہونے کی جانچ کا ذمہ میڈیا کی ریگولیٹری ایسوسی ایشن پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کو ہی سونپا گیا تھا لیکن سرکار ان خبروں کو فرضی مان سکتی ہے اس کی مثال پچھلے دنوں میں وزیر اطلاعات ونشریات سمیت 13 مرکزی وزرا کے ذریعے ٹوئٹ کئے گئے اس ویب سائٹ کے لنک سے ملی جس میں چار بڑی خبروں کو بے نقاب کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ان چار مبینہ فرضی خبروں میں ایسی دو خبریں بھی شامل تھیں جو دیش کی نامور انگریزی اخباروں میں پولیس ایف آئی آر اور خارجہ سکریٹری کے ذریعے کیبنٹ سکریٹری کو بھیجے گئے نوٹ کے حوالہ سے چھاپی گئی تھیں۔ یعنی ہماری مرکزی کیبنٹ کا ایک بڑا حصہ بھارت سرکار کے ذمہ دار لوگوں کے حوالہ سے دی گئی خبروں کو بھی فرضی قراردینے کی مہم کی شامل ہوگیا۔ ہماراخیال ہے کہ صاف ستھری صحافت کی ضرورت ہے لیکن یہ اس کے اندر سے ہونے دیا جائے۔ سرکار اس سے دور رہے۔
(انل نریندر)

سچن تندولکر صحیح معنوں میں ایک لیجینڈ ہیں

راجیہ سبھا سے ریٹائرڈ ہورہے 40 ممبران پارلیمنٹ میں سے تین نے اپنے چھ سال کی میعاد میں ایک بھی سوال نہیں پوچھا۔ وہیں این سی پی کے ایم پی اور سچن تندولکر نے قابل قدر کام کیا۔ این سی پی ایم ڈی پی ترپاٹھی ایوان میں حاضری کو لیکر ٹاپ پر رہے۔ راجیہ سبھا کے ریکارڈ کے مطابق وہ99 فیصدی میٹنگوں میں شامل رہے۔ ایوان میں60 ایم پی ریٹائرڈ ہوئے لیکن ان میں سے20 دوبارہ چن کر واپس آئے۔ ایوان میں اپنی میعاد میں ایک سوال نہیں پوچھنے والے ایم پی پرسنا کے چرنجیو اور فلم اداکارہ ریکھا ہیں۔ دونوں کو اس وقت کی یوپی اے سرکار نے نامزد کیا تھا جبکہ ساؤتھ انڈین سنیما کے سپر اسٹار چرنجیو کانگریس کے ٹکٹ پر آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا میںآئے تھے۔ کرکٹ کے میدان پر بلے سے اپوزیشن ٹیموں کو جواب دینے کے لئے مشہور سچن تندولکر نے پارلیمنٹ کی پچ پر بھی نکتہ چینی کرنے والوں کو اپنے ہی انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے پچھلے چھ سال میں راجیہ سبھا ایم پی کے طور پر تنخواہ اور بھتہ کے ملے قریب90 لاکھ روپے وزیر اعظم راحت فنڈ میں دان دے کر یہ جتادیا کہ انہیں آخر کیو ں لیجینڈ کہا جاتا ہے۔ سچن کی میعاد 26 اپریل کو ختم ہورہی ہے۔ حال ہی میں انہیں دیگر ریٹائرڈ ہورہے ممبران کے ساتھ رسمی الوداعیہ دیا گیا۔سچن کو 26 اپریل2012 کو راجیہ سبھا ایم پی نامزد کیا گیا تھا۔ وہ راجیہ سبھا پانے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے بطور ایم پی کانگریس نیتا راہل گاندھی کے پڑوس میں بنگلہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا تھا۔ کچھ ماہ پہلے سچن ایوان میں رائٹ ٹو پلے پر اپنی بات رکھنے کے لئے کھڑے ہوئے لیکن ہنگامہ کے چلتے وہ اپنی بات نہیں رکھ سکے تھے۔ تندولکر کو ان برسوں میں پارلیمنٹ میں کم موجودگی کے لئے کئی بار تنقید جھیلنی پڑی تھی۔ حالانکہ انہوں نے اپنے ایم پی فنڈ کا اچھا استعمال کیا۔ ان کے دفتر سے جاری ریکارڈ کے مطابق وہ دیش بھر میں 185 پروجیکٹوں کو چلا رہے ہیں۔ ان پروجیکٹوں کو الاٹ30 کروڑ روپے میں سے 7.4 کروڑ روپے تعلیم کے میدان میں خرچ کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ ان میں کلاس روم کی تعمیر اور ان کی تزئین سمیت تعلیم سے وابستہ کئی ترقیاتی کام شامل ہیں۔ ایم پی آدرش گرام یوجنا پروگرام کے تحت سچن نے دو گاؤں کو بھی گود لیا جس میں آندھرا پردیش کا پتم راجو کے پرنا اور مہاراشٹر ا دوجن گاؤں شامل ہے۔ اس سے پہلے بطور ایم پی سچن نے مقامی پارلیمانی حلقہ کے ترقی فنڈ سے جموں کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ایک اسکول کی عمارت بنوانے کے لئے 40 لاکھ روپے دئے تھے۔ سچن کے اس قدم کی محبوبہ مفتی نے بھی تعریف کی تھی۔ سچن صحیح معنوں میں ایک لیجینڈ ہیں جیسا کہ انہوں نے خود بھی ثابت کردیا۔
(انل نریندر)

05 اپریل 2018

جمہوری سماج میں تشدد حل نہیں

دلتوں اور قبائلیوں کی اذیت ایک سماجی سچائی ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور اسے دور کرنے کی بھی سخت ضروری ہے۔ لیکن جو طریقہ اس کو کرنے میں اپنایا گیا ہے وہ صحیح نہیں مانا جاسکتا۔تشدد کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی یہ کام ہوسکتا ہے۔ بھارت بند بھلے ہی نہ ہوا ہو لیکن بھارت ہل ضرور گیا ہے۔ درج فہرست ذاتوں و قبائلی ایکٹ کے بارے میں سپریم کورٹ کا جو فیصلہ پچھلے دنوں آیا اسے لیکر دلت فرقہ میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے عدالت نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اس قانون میں صرف ابتدائی بنیاد پر گرفتاری ہوتی ہے وہ غلط ہے اور ماڈل پوزیشن تو شاید یہ ہوتی ہے کہ سپریم کورٹ اگر کسی مسئلہ پر کوئی فیصلہ دے دے تو یا تو اسے مان لیا جائے نہیں تو اس کے خلاف نظرثانی عرضی ڈالی جائے۔ یا پھر ڈال دی گئی ہے اور اس پر بھی سپریم کورٹ نے وضاحت کردی ہے یہ الگ اشو ہے۔ ایسا نہیں کہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلہ کے خلاف جنتا پہلی بار سڑکوں پر اتری ہو۔ جمہوریت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ یہ نہ تو لاٹھی اور طاقت سے چلتی ہے اور نہ ہی غیراخلاقی کاموں سے۔ جمہوریت کو چلانے کی طاقت سماجی اور اقتصادی انصاف ہے اور اسے عدالتی سطح پر ہی نہیں بلکہ دیگر اداروں کے سطح پر یقینی کیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ دنیا بھر کے شہری اور سرکاری تنظیم انسانی حقوق ادارہ ہمیشہ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر کسی غیر ارادتاً جرم میں صرف ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتاری کی سہولت ہے تو اس کا بیجا استعمال ہوگا۔ ایسے ہم نے جہیز انسداد قانون میں بھی دیکھا ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کی نظرثانی پٹیشن پر تبصرہ کیا کہ ہم نے ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کو کمزور نہیں کیا ہے۔ جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں انہوں نے فیصلہ کوصحیح طرح سے نہیں پڑھا ہو یا پھر اس کو ذاتی مفادات پرستوں کے ذریعے انہیں گمراہ کردیا گیا ہے۔ ہم نے یہی کہا ہے کہ بے قصور افراد کو سزا نہیں ملنی چاہئے۔ بھارت بندمیں 15 ریاستوں میں مظاہرے ہوئے۔ اس دوران ہندی بیلٹ کی10 ریاستوں میں تشدد کے دوران 13 لوگوں کی جانیں گئیں۔ دراصل سیاسی پارٹی دلت ووٹوں کے لئے کچھ کرسکتی ہے۔ دیش میں17 فیصد دلت ووٹ ہے اور 150 سے زیادہ لوک سبھا سیٹوں پر دلتوں کا اثر پڑتا ہے اس لئے تحریک کے ساتھ سبھی پارٹیاں کھڑی ہیں۔ جن 12 ریاستوں میں تشدد ہوا وہاں ایس سی ؍ ایس ٹی طبقہ سے 80 ایم پی ہیں اور دلتوں کواپنی رائے ظاہر کرنے کا پورا حق ہے لیکن تشدد کا طریقہ صحیح نہیں مانا جاسکتا۔
(انل نریندر)

کلر یمنا ایکسپریس وے، کب ہوگا سدھار

گریٹر نوئیڈا سے آگرہ تک بنے یمنا ایکسپریس وے کو اگر کلر روڈ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔165 کلو میٹر لمبے یمنا ایکسپریس وے پر یقینی سفر کے لئے ذمہ دار آخر کون ہے؟ رکھ رکھاؤ کرنے والی کمپنی جے پی انفراٹیکس یا پھر ٹریفک پولیس ؟ ہمیں تو دونوں میں سے کوئی ذمہ دار نہیں لگتا۔ یمنا ایکسپریس وے اتھارٹی، انتظامیہ، پولیس بی جے پی کی ٹال مٹولی سے ایکسپریس وے پر لگاتار حادثات ہورہے ہیں۔ پولیس کے لچر رویئے کے چلتے کرائم کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔حالانکہ یہ ایکسپریس وے پانچ ضلعوں سے ہوکر گزرتا ہے لیکن ان اضلاع کی پولیس میں تال میل نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر بدمعاش لوٹ مار کے واقعات کو انجام دیتے ہیں۔ پولیس سرحدی تنازع میں الجھتی رہتی ہے اور بدمعاش فرار ہوجاتے ہیں۔ چھ سال پہلے شروع ہوئے یمنا ایکسپریس وے پر حادثوں و کرائم کے واقعات کے پیش نظر محفوظ سفر کا وعدہ اس وقت کی سپا سرکار نے کیا تھا لیکن چھ سال کے بعد بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ یمنا ایکسپریس وے پر آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا رہتا ہے۔ تازہ مثال ہے اس کلر ایکسپریس وے پر ایم کے تین ڈاکٹروں کی حادثے میں موت ۔ حادثوں اور کرائم دونوں ہی معاملوں میں قابو پانے میں انتظامیہ و پولیس افسران ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ یمنا اتھارٹی کی مداخلت کے بعد بھی پانچ ضلعوں کی پولیس نے پچھلے سالوں میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یہ ایکسپریس وے گوتم بدھ نگر ، علیگڑھ ، متھرا، ہاتھرس، آگرہ ضلع سے ہوکر گزرتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے بڑھتے حادثوں کی سب سے بڑی وجہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی بتائی جارہی ہے۔ اس ایکسپریس وے پر رفتار کی حد کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ہوتی ہے۔ روزانہ 60 ہزار گاڑیاں ایکسپریس وے سے آتی جاتی ہیں جس میں سے چار ہزار گاڑی ٹریفک قواعد کی دھجیاں اڑاتی ہیں۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق اس ہائی وے پر 200 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گاڑیاں دوڑتے ہوئے پائی گئی ہیں۔ کیمروں کی نگرانی ہونے کے باوجود حالات سدھر نہیں رہے ہیں۔160سے180 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑیاں دوڑنا عام بات ہوچلی ہے۔ اب تک سات ہزار گاڑی ڈرائیوروں کا ڈرائیوننگ لائسنس تین مہینے کے لئے معطل کرنے کی سفارش متعلقہ اتھارٹی سے کی جاچکی ہے۔ زیادہ تر حاثہ آدھی رات کے بعد ایک سے تین بجے کے درمیان ہوتے ہیں۔ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بے انتظامی کو فوراً درست کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ دیکھیں کوئی سدھار ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

04 اپریل 2018

آتنکیوں کے خلاف 7 سال میں سب سے بڑی کارروائی

کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے ایتوار کو آتنک وادیوں کے خلاف پچھلے سات سال میں سب سے بڑی کارروائی کی۔ ایتوار کے دن تین مڈ بھیڑیں ہوئیں ان میں13 آتنکی مارے گئے اور ایک کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ 12 آتنکی شوپیاں علاقہ میں مارے گئے جبکہ ایک اننت ناگ میں ڈھیر ہوا۔ مارے گئے آتنک وادیوں میں تقریباً 10 مہینے پہلے شہید ہوئے لیفٹیننٹ عمر فیاض کے دو قاتل بھی شامل تھے۔ اس دوران تین فوجی ملازم بھی شہید ہوگئے۔ کشمیر کے کچگھوٹا اور پیٹ ڈیمل گاؤں میں مڈ بھیڑ کے دوران لوگوں نے سکیورٹی فورس پر پتھراؤ کیا۔ اس دوران کراس فائرننگ میں پھنس کر چار لوگوں کی موت ہوگئی۔ شوپیاں ۔اننت ناگ اور پلوامہ میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ انہیں بھگانے کے لئے آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ گن چلانی پڑی۔ جھڑپوں میں جوانوں سمیت 90 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورس کو اطلاع ملی تھی کہ شوپیاں دراگڑ اور کچھگھوٹا گاؤں اور اننت ناگ کے پیٹ ڈیمل گام میں بڑی تعداد میں آتنکی موجود ہیں۔ انہیں امرناتھ یاترا سکیورٹی فورسز اور سیاستدانوں پر حملوں کی سازش رچنے کے لئے میٹنگ کرنی تھی۔ اس میں حزب المجاہدین اور لشکر کے ہی آتنکی تھے۔ سکیورٹی فورس نے سنیچر کی رات قریب 1 بجے گھیرا بندی شروع کردی۔ جوابی کارروائی میں شوپیاں میں 7 اور اننت ناگ میں 5 آتنکی مارے گئے۔ یقینی طور سے ایک دن میں 12 آتنکیوں کو مار گرانا سکیورٹی فورس اور فوج کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی اس لئے کہیں زیادہ قابل ذکر ہے کیونکہ مارے گئے آتنکیوں میں لیفٹیننٹ عمر فیاض کے قاتل بھی شامل ہیں۔ ایک دن میں 12 آتنک وادیوں کا مارا جانا یہ بھی بتاتا ہے کہ فوج ، پولیس اور سکیورٹی فورس آتنک واد کو کچلنے کے لئے عہد بند ہے۔ پچھلے سال تو 200 سے زیادہ آتنک وادی مارے گئے تھے جوا پنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اننت ناگ کی مڈ بھیڑ میں ایس ایس پی نے آتنک وادیوں کو سرنڈر کرانے کے لئے ان کے گھر کے لوگوں کو موقعہ پر بلایا۔ وہ آدھے گھنٹے تک سمجھاتے رہے ایک نے بات نہیں مانی اور مارا گیا۔ دوسرے نے سرنڈر کردیا۔ دکھ کی بات یہ ہے آتنک وادیوں سے مڈ بھیڑ کے دوران کچھ کشمیری نوجوان الٹے سکیورٹی فورس پر پتھراؤ کرنے پرآمادہ ہوگئے۔ فوج کو سیلف ڈیفنس میں گولی چلانی پڑی اور کراس فائرننگ میں 5 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس سلسلے کو جلد روکا جاسکتا ہے لیکن تبھی جب کشمیر کی جنتا پاکستان نواز عناصر کے بہکاوے میں آنے سے بچے گی ۔ مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کوملا کر دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف جنتا کو ان کا ساتھ دینے کا ماحول بنانا چاہئے۔ انہیں پاکستان کے کھیل کو سمجھانا ہوگا۔
(انل نریندر)

جلانے والی پیٹرول ۔ڈیزل کی قیمتیں

ساؤتھ ایشیائی ممالک میں بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمت سب سے زیادہ ہے۔قومی راجدھانی میں پیٹرول کی قیمتیں ایتوار کو 73.73 پیسے فی لیٹر پہنچ گئی ہیں جو چار سال میں سب سے اونچی سطح پر ہے۔ وہیں ڈیزل64.58 روپح فی لیٹر ہوگیا ہے جو آج تک کا سب سے اونچا دام ہیں۔ڈیزل کے دام بڑھنے سے غذائی چیزوں کے دام بڑھتے ہیں ،مہنگائی بڑھتی ہے۔ پبلک سیکٹر کی پیٹرولیم کمپنیاں پچھلے سال جون سے یومیہ بنیاد پر ایندھن کے دام میں ترمیم کررہی ہیں۔ قیمت انڈکس کے مطابق دہلی میں ایتوار سے پیٹرول اورڈیزل کے داموں میں 18 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی میں اب پیٹرول 73.73 روپے فی لیٹر ہے اس سے پہلے 14 ستمبر 2014 کو پیٹرول کے دام 76 روپے فی لیٹر اونچی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ ڈیزل کے دام 64.58 روپے فی لیٹر سب سے اونچے دام پرپہنچ چکے ہیں۔ اس سے پہلے 7 فروری 2018 کو ڈیزل نے 64.22 روپے فی لیٹر کی اونچی سطح کو چھوا تھا۔وزارت پیٹرولیم نے بین الاقوامی سطح پر بڑھتے کچے تیل کے داموں کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کے دام پر ایکسائز ٹیکس کٹوتی کی مانگ کی تھی لیکن وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 1 فروری کو بجٹ میں اس مانگ کو نظر انداز کردیا تھا۔ بتادیں کہ ساؤتھ ایشیائی ممالک میں بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمت سب سے زیادہ ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل سرکار کی کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پیٹرول پمپ پر ایندھن کی قیمت کا آدھا حصہ کاروں کا ہوتا ہے۔ نومبر 2014 ، جنوری 2016 کے دوران عالمی سطح پر تیل قیمتوں میں گراوٹ کے باوجود وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے ایکسائز ٹیکس میں9 باراضافہ کیا ہے۔ صرف ایک بار پچھلے سال اکتوبر میں اس میں 2 روپے فی لیٹر کی کٹوتی کی گئی تھی۔ ایکسائز ٹیکس میں کٹوتی کے بعد مرکز نے ریاستوں سے قیمتوں میں اضافہ کر (ویٹ ٹیکس) گھٹانے کو کہا تھا لیکن مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش یعنی بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ہی ایسا کیا تھا۔ بھاجپا حکمراں ریاستوں سمیت دیگر ریاستوں نے مرکز کی درخواست پر توجہ نہیں دی تھی ۔پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا صارفین پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ ڈیزل کے مہنگے ہونے سے ٹرانسپورٹ خرچ پر اضافہ ہوتا ہے اور اسکا سیدھا اثر مہنگائی پر پڑتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے۔ سرکار اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی۔ سارا کچھ تیل کمپنیوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ جب بین الاقوامی بازار میں تیل سستا ہوتا ہے تب بھی صارفین کواس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ 
(انل نریندر)

03 اپریل 2018

فائرننگ لائن میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس

بھارت کے چیف جسٹس شری دیپک مشرا کے خلاف تحریک ملامت کی آہٹ کے درمیان عدلیہ میں غیر ضروری غیر آئینی سرکاری مداخلت کے سنگین الزام کے بھی سامنے آنے سے اس الزام کی پھر سے تصدیق ہوگئی ہے کہ ہماری عدلیہ میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے دوسرے نمبر کے سینئر جج جسٹس چلمیشور نے چیف جسٹس دیپک مشرا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مختلف عدالتوں میں ججوں کی تقرری میں سرکار کی سیدھی مداخلت پر سپریم کورٹ کی پوری کورٹ سماعت کرے۔ 21 مارچ کو لکھے اپنے خط کی کاپی جسٹس چلمیشور نے سپریم کورٹ کے دیگر 22 جج صاحبان کو بھی بھیجی۔ اس بار جسٹس چلمیشور نے سرکار اور عدلیہ کے درمیان مبینہ دوستی پر اعتراض جتاتے ہوئے اسے جمہوریت کے لئے خطرناک بتایا ہے۔ ڈھائی مہینے بھی چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقہ کار پر سوال اٹھانے والے جسٹس چلمیشور نے الزام لگایا ہے کہ ججوں کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کالے قواعد کی تعمیلات کو مرکزی سرکار اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر منظوری یا اس کو آتھرائزڈ کرتی آرہی ہے۔ ایسے میں گمراہی ہی کے جب کالے قواعد کے ذریعے دوبارہ ویریفائی کے نام پر بھی سرکار نے اسے نامنظور کردیا جبکہ آئینی تقاضوں کے مطابق دوبارہ بھیجے گئے نام کو سرکار کے ذریعے منظور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ دیگر مثال دیتے ہوئے جسٹس چلمیشور نے چیف جسٹس دیپک مشرا سے مطالبہ کیا ہے کہ موضوع کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی پوری بنچ اس پر غور کر فیصلہ کرے۔ ظاہر ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چار سینئر جج صاحبان نے پریس کانفرس کر چیف جسٹس شری مشرا کے خلاف جو الزام لگائے تھے ان کی تپش ابھی بھی باقی ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا اشو اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے ججوں پر عدلیہ کے بڑھتے قبضے کے سامنے اپنی منصفانہ اور اپنی تنظیمی ایمانداری ہونے کے الزام لگ رہے ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اس وقت فائرننگ لائن(تنقیدوں کے سائے میں) میں ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے راجیہ سبھا میں تحریک ملامت لانے کی تیاری کرلی ہے۔ مارکسوادی پارٹی سمیت کچھ علاقائی پارٹیوں کے ذریعے تیار ریزولوشن کے ڈرافٹ پر کچھ پارٹیوں نے تو دستخط بھی کردئے ہیں۔ سی پی ایم کے راجیہ سبھا ایم پی ماجد میمن نے تحریک ملامت لانے کی تصدیق کی ہے۔ تحریک ملامت لانے کے لئے کسی بھی ایوان میں 50 ممبران کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اسے پاس کرانے کے لئے ایوان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ جنوری میں سپریم کورٹ کے چار جج صاحبان نے پریس کانفرنس کر چیف جسٹس پر روسٹر ٹھیک سے لاگو نہ کرنے سمیت کئی الزام لگائے تھے۔ ایک معاملہ جج ڈی ایم لوہیا کی پراسرار حالات میں موت سے متعلق عرضی کا تھا۔ تحریک ملامت پر پچھلے ہفتہ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان مسلسل کئی میٹنگ ہوئی ہیں۔ اتفاق رائے بنانے کے بعد کانگریس اور این سی پی نے تحریک ملامت ریزولوشن سے متعلق مسودے پر دستخط کردئے ہیں۔ اگر اپوزیشن آگے بڑھتی ہے تو دیپک مشرا پہلے چیف جسٹس ہوں گے جن کے خلاف ایسا ریزولوشن آئے گا۔ اس سے پہلے دو ججوں کے خلاف راجیہ سبھا میں تحریک ملامت پیش کی جاچکی ہے۔ 2011 میں سب سے پہلے کولکاتہ ہائی کورٹ کے سابق جج سمترا سین اور اس کے بعد سکم ہائی کورٹ کے سابق جسٹس پی ڈی دناکرن کے خلاف ایسی تحریک پیش کی گئی تھی۔
(انل نریندر)

3550 کروڑ کا قرض، چندہ کوچر کے شوہر کے خلاف جانچ

آئی سی آئی سی آئی بینک کی ایم ی و سی ای او چندہ کوچر و ان کے شوہر دیپک کوچر کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ سی بی آئی نے دیپک کوچر ویڈیو کان گروپ کے چیئرمین وینو گوپال دھت اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس میں فی الحال چندہ کوچر کا نام نہیں ہے۔ دسمبر 2008 میں وینیو گوپال دھت نے دیپک کوچر اور ان کے دو رشتے داروں کے ساتھ مل کر ایک کمپنی بنائی تھی اس کے بعد کمپنی کو64 کروڑ روپے کا لون دیا گیاتھا۔ لون دینے والی کمپنی وینیو گوپال دھت کی تھی بعد میں اس کمپنی کا مالکانہ حق محض 9 لاکھ روپے کے اس ٹرسٹ کو سونپ دیا گیا جس کی کمان دیپک کوچر کے ہاتھ میں تھی۔ دیپک کوچر کو اس کمپنی کا ٹرانسفر وینیو گوپال کے ذریعے آئی سی آئی سی آئی بینک کی طرف سے 2012 میں ویڈیو کون گروپ کو 3250 کروڑ روپے کا قرض ملنے کے چھ مہینے بعد کیاگیا۔ اس قرض کا قریب 86 فیصد (2810 کروڑ روپے) چکایا نہیں گیا۔ 2017 میں ریڈیو کان گروپ کے قرض کو بینک نے ایم پی اے قرار دے دیا۔ اب جانچ ایجنسی دھت کوچر آئی سی آئی سی آئی بینک کے درمیان لین دین کی جانچ کررہی ہے۔ ویڈیو کان کو آئی سی آئی سی آئی بینک یا یہ قرض کل 40 ہزار کروڑ روپے کے قرض کا ایک حصہ تھا جسے ویڈیو کان گروپ نے اسٹیٹ بینک کی قیادت والے 20 بینکوں کے کنسورٹیم سے لیا تھا۔ ویڈیو کان کے ایک ڈائریکٹر اروند گپتا نے 2016 میں بھی نیوپاورریوایبلس پرائیویٹ لمیٹڈ اور وینیو گوپال کے درمیان لین دین کا انکشاف کرتے ہوئے اس بارے میں وزیر اعظم، ریزرو بینک اور دیگر ایجنسیوں کو آگاہ کردیا تھا لیکن اس کے بعد نہ تو کوئی جانچ کی گئی اور نہ ہی کوئی کارروائی ہوئی۔ بقول گپتا انہوں نے دیپک کوچر کی کمپنی نیو پاورپر 2010 سے نظر رکھنی شروع کی تھی کیونکہ وہ ویڈیو کان کے ڈائریکٹر تھے اس لئے ہر کاروباری سرگرمیوں کی جانکاری اپنے پاس رکھتے تھے۔ سی بی آئی نے پہلے معاملہ میں چھ ہفتے پہلے درج ایف آئی آر میں کارروائی شروع کردی ہے۔ ایجنسی نے قرض دینے میں مبینہ گھوٹالوں کا پتہ لگانے کے لئے آئی سی آئی سی آئی بینک کے کچھ افسران سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ سی بی آئی کے حکام نے بتایا کہ اگر کسی بھی طرح کی گڑ بڑی کے ثبوت ملے تو بینک کی سی ایم ڈی ،سی ای او چندہ کوچر اور ان کے شوہر دیپک کوچر اور دیگر لوگوں سے مفصل پوچھ تاچھ کے لئے بلایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک اور گھوٹالہ ہے جس کی جانکاری سرکار کو تھی لیکن وقت رہتے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ امید کی جاتی ہے قصورواروں کو مناسب سزا ملے گی۔
(انل نریندر)

01 اپریل 2018

کم جونگ ان کی خفیہ ٹرین

نارتھ کوریا کے لیڈر کم جونگ ان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چوٹی ملاقات سے پہلے انتہائی خفیہ طریقے سے چینی صدر شی جنگ پنگ سے ملنے پیچنگ پہنچ گئے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کم جونگ ان اور ان کی بیوی تین دن کے لئے چین کے دورہ پر آئے تھے۔ ایجنسی کے مطابق کم نے وہاں نیوکلیائی پھیلاؤ کو روکنے کا عزم کیا۔ بدلنے میں چین نے نارتھ کوریا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ کم جونگ ان اپنی بیوی سمیت پیچنگ کی ایک خفیہ ٹرین کے ذریعے پہنچے۔ حالانکہ اس بات پر حیرانی ہو سکتی ہے کہ وقت بچانے کے لئے دنیا کے زیادہ تر بڑے لیڈر جب ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے سفر کرتے ہیں تو پھر نارتھ کوریا میں الٹی گنگا کیوں بہی؟ کم جونگ کے والد کم جونگ ال کو بھی ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے نفرت تھی۔ جب وہ سال2002 میں تین ہفتے کے روسی دورہ پر گئے تھے تو ان کے ساتھ سفر کرنے والی ایک روسی افسر نے بتایاتھا کہ وہ بھی ٹرین سے آئے تھے لیکن جس ٹرین میں کم جونگ سوار تھے وہ کوئی عام ٹرین نہیں تھی۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق بیجنگ میں نظر آئی اس ریلی گاڑی میں 21 کوچ تھے اور ان سبھی کے رنگ ہرے تھے۔ ان کی کھڑکیوں پر ٹینٹڈ گلاس تھا تاکہ کوئی باہر سے یہ دیکھ نہ پائے کہ اندر کون سوار ہے۔ اس ٹرین میں ہرایک ڈبہ بلٹ پروف ہوتا ہے جو عام ریل کے ڈبے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہوتی ہے۔ اندازہ کے مطابق اس کی زیادہ تر اسپیڈ 37 میل فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سفر کرنے والے مسافروں کے لئے شراب جھینگا مچھلی اور پوگ کا انتظام ہے۔ اتنا ہی نہیں جب کم جونگ ال جایا کرتے تھے تو ان کی تفریح کے لئے کچھ عورتیں بھی ٹرین میں ہوا کرتی تھیں جنہیں لیڈی کنڈیکٹرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر کے اس دورہ میں 90 خاص ڈبے تھے جن سے ٹرین چلتی ہے۔ جب بھی نیتا سفر کرتے ہیں تو ایک اڈوانس سکیورٹی ٹرین بھی ہوتی ہے۔ ایک ٹرین میں خود نیتا ہوتے ہیں اور تیسری ٹرین میں فاضل باڈی گارڈز اور دیگر عملہ ہوتا ہے۔ ٹرین کا ڈبہ بلٹ پروف ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ نارتھ کوریا میں 20 ایسے اسٹیشن ہیں جو تاناشاہ کے ذاتی استعمال کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ٹرین کے بکتر بند مرسڈیز گاڑیاں بھی ہیں جو کم کو ٹرین سے باہر لے جاتی ہیں۔ کم روایتی طور پر نارتھ کوریا کا سب سے قریبی ساتھی ہے۔ اس سفر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ نارتھ کوریا اب نیوکلیئر ٹیسٹ نہیں کرے گا۔ بربادی کے جو بادل پچھلے دنوں چھائے ہوئے تھے وہ بظاہری طور پر ہٹ گئے ہیں۔
(انل نریندر)

قلم کے سپاہیوں پر قاتلانہ حملہ

ایک بار پھر قلم کے سپاہیوں پر قاتلانہ حملے ہورہے ہیں۔ ایک ہی دن پیر کو دو صحافیوں کو مار ڈالا گیا۔ ایک بہار میں تو دوسرا مدھیہ پردیش میں۔ ان وارداتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آج کے ماحول میں صحافیوں کا کام کتنا خطرہ بھرا ہوگیا ہے۔ مدھیہ پردیش کی واردات میں بھنڈ کے ایک ٹی وی جرنلسٹ کو ریت ڈھونے والے ٹرک سے کچل کر مار ڈالا گیا۔ ادھر بہار کے آرا میں معمولی جھگڑے کے بعد ایک صحافی اور ان کے ساتھی پر اسکارپیو گاڑی چڑھا دی گئی۔ مدھیہ پردیش کی واردات میں صحافی نے پولیس ڈائریکٹرجنرل اور پولیس کے اس پی بھنڈ اور انسانی حقوق کمیشن کو کئی بار درخواستیں دے کر ریت مافیہ سے اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا اور سکیورٹی کی مانگ کی تھی۔ بھنڈ پولیس کے ایس پی پرشانت کھرے نے بتایا کہ پولیس نے سندیپ کو کچلنے والے ٹرک ڈرائیور رنویر یادو عرف گیندا کو گرفتار کرلیا ہے۔ سندیپ شرما کو ریت لے جانے والے خالی ٹرک میں بھنڈ کے سٹی کوتوالی پولیس تھانہ کے سامنے سڑک پر پیر کو مبینہ طور سے کچل دیاتھا جس سے اس کی موقعہ پر موت ہوگئی۔ اس معاملہ کو سنگین بتاتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس کے چیف و پارٹی کے سینئر لیڈر جوترآدتیہ سندھیا نے اس کی فوری سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تھی اور مارے گئے ٹی وی صحافی سندیپ شرما (35 ) نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے پولیس اور مافیہ سانٹھ گانٹھ کے خلاف کئی خبریں لکھی تھیں اس لئے ان کی آنکھ کی کرکری بنے ہوئے تھے۔ بہادری کے ساتھ صحافت کرنے والوں پر ایسے حملہ قابل مذمت ہیں اور ہمارے جمہوری نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ بھارت جیسے دیش میں صحافی کتنے محفوظ ہیں پچھلے دو سال میں ہوئے واقعات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں۔ جون 2015 سے نومبر 2017 تک 12 صحافی مارے گئے۔ ان میں وہ صحافی بھی ہیں جن کی آواز کو کٹر پسند سہن نہیں کر پارہے تھے۔ صحافیوں پر اس طرح کے حملہ انہیں نڈر ہوکر کام کرنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کیسی بدقسمتی ہے کہ ایک طرف کرپشن کو روکنے کے وعدہ اور دعوی روزانہ زور شور سے راج نیتا کرتے ہیں اور دوسری طرف کرپشن اجاگر کرنے والوں کی جان ہمیشہ خطرہ میں رہتی ہے۔ صحافیوں کی سکیورٹی کے لئے بنی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ نے اپنی رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کو کام کے دوران پوری سکیورٹی نہیں مل پاتی۔ جو صحافی کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کرنے میں لگے ہوئے ہیں ان کی جان خطرہ میں رہتی ہے۔ بھارت میں قانون کی حکمرانی چلے گی یا مافیہ کی؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...