Translater

13 اپریل 2022

سینکڑوں ٹن کا پل چوری ہو گیا !

بہار کے ساسہ رام ضلع کے ایک گاو¿ں میں دن دہاڑے لوہے کا پل چوری ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ کو اس کی بھنگ تک نہیں لگ سکی ۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چور محکمہ سینچائی کے ملازم بن کر گاو¿ں میں آئے اور جے سی بی سے پل توڑ دیا پھر گیس کٹر سے کاٹ کر لوہا ٹرک میں لاد کر چلتے بنے ۔پل 100فٹ لمبااور دس فٹ چوڑا تھا ۔بتایا جاتا ہے کہ پل میں 100ٹن لوہا تھا ۔چوری کے تین دن بعد محکمہ سینچائی نے نا معلوم چوروں کے خلاف معاملہ درج کرایا ۔چوری کے اس معاملے میں پولیس نے ایس آئی ٹی بنائی ہے ۔بتا دیں کہ 47سال پرانے اس پل بڑی نہر پر بنا تھا ۔چور جب پل توڑ رہے تھے تب گاو¿ں والوں نے ان سے سوال کیا جس پر چوروں نے کہا کہ وہ سینچائی محکمہ کے ملاز م ہیں اور پل بہت ہی بوسیدہ ہو گیا ہے اس لئے اسے توڑا جارہا ہے جب چور چلے گئے تو دیہاتیوں نے سینچائی محکمہ سے بات کی تب پورے معاملے کا پتہ چلا ایسا ہی قصہ دہلی کے جمنا ندی پل کا بھی ہوا تھا یہاں ندی کو پار کرنے کے لئے مشرقی دہلی کی گیتا کالونی کے پشتے پر بنا لوہے کا پیٹرون پل اس سال 16جنوری کو چوری ہوگیاتھا ۔کیس درج کیا گیا لیکن ابھی تک اس پل چور ی ہونے کی کوئی گتھی سلجھ نہیں پائی ۔ (انل نریندر)

اگر ہمیں ہی سب مسائل پر سوچنا پڑے تو سرکار کیوں چنی؟

روہنگیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کی پہچان کرکے انہیں جلاءوطن کرن کی عرضی پر سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ یہ حکومت سے منسلک مسئلے ہیں ۔انہیں سرکار کے پا س لے جائیں ۔چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی والی تین نفری بنچ نے کہا اگر ہمیں ہی سبھی مفاد عامہ کی عرضیوں پر غور کرنا ہے تو ہم نے سرکار کیوں چنی ہے ؟ حالانکہ بنچ نے عرضی کو لسٹڈ کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ۔بنچ نے عرضی گزار وکیل و بھاجپا نیتا اشون کمار اپادھیائے سے کہا کہ ہر دن ہمیں صرف آپ کا کیس ہی سننا ہوتا ہے ؟ آپ سبھی مسئلوں کو لیکر عدالت میں آتے ہیں چناو¿ اصلاحات پارلیمنٹ آبادی کنٹرول کا مسئلہ ہو تو یا کچھ اور ۔۔۔بنچ نے یہ رائے زنی اس وقت کی جب اپادھیائے نے اپنی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز تارکین وطن کے ذریعے کروڑوں نوکریاں چھینی جا رہی ہیں اور اسے ہندوستانی شہریون کے گزر بسر کے حق پر اثر پڑ رہا ہے ۔چیف جسٹس رمن نے ان سے کہا کہ یہ سیاسی اشو ہیں انہیں سرکار کے پاس لے جائیں ۔اگر ہمیں ہی آپ کی سبھی مفاد عامہ کی عرضیوں پر غور کرنا ہے تو ہم نے سرکار کیوں چنی ۔راجیہ سبھا اور لوک سبھا جیسے ایوان ہیں اس پر عرضی گزار نے کہا اس معاملے میں پچھلے سال مارچ میں نوٹس جاری کیا گیا تھا لیکن اب کچھ معاملوںمیں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے وہیں کورٹ روم میں موجود سرکاری وکیل سولی سیٹر جنترل تشار مہتا نے کہا کہ انہیں معاملے کی جانکاری نہیں ہے ۔عرضی میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کو غیر قانونی گھس پیٹھیوں کو غیر ضمانتی اور غیر معاہدہ جرم بنانے کے لئے آئین میں قوانین میں ترمیم کرنے کی ھدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکزی سرکار دیش میں نہ تو غیر قانونی دراندازوں کو روکنے کے لئے سنجیدہ ہے اور نہ ان کو ضلع وطن کرنے پر سنجیدی ہے ۔عرضی میں کہا گیاہے کہ مرکزی سمیت سبھی ریاستی سرکاروں کو ھدایت دی جائے کہ ایک برس کے اندربنگلہ دیشیوںاور روہنگیا سمیت سبھی گھس پیٹھیوں کی پہچان کی جائے اور انہیں حراست میں لے کر ان کے دیش بھیجا جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیرملکی ایکٹ 1946میں مرکز میں سبھی ریاستی حکومتوں کو گھس پیٹھیوں کے لئے مو¿ثر قدم اٹھانے کی بات کہی گئی ہے ۔ (انل نریندر)

12 اپریل 2022

ایم ایل اے شہجیل اسلام کے پیٹرول پمپ پر بلڈوزر چلا !

ان کی آواز نکلی تو ہماری بندوق سے گولیاں چلیں گی ۔دھمکی دینے والے سپا ممبر اسمبلی شہجیل اسلام کا پیٹرول پمپ مسمار کرد یاگیا ۔جمعرات کو بریلی میں ڈولپمنٹ اتھارٹی نے اسے غیر قانونی تعمیر بتا کر بلڈوزر چلوا دیا ۔سپا لیڈر شپ نے زبردست احتجاج کر کے راستہ جام کیا ۔مقامی نیتا کچھ بھی بولنے سے بچ رہے ہیں ۔بریلی کے موجی پورہ سے سپا ممبر اسمبلی سہجل اسلام کا رام پور روڈ شارف پمپ ہے ۔جمعرات کو فورس لے کر پہونچے بریلی ڈولمپمنٹ اتھارٹی کے افسران سے پیٹرول پمپ کی مسینیں سیل کیں اور پھر گراہکوں سے وہاں سے واپس کر دیا ۔ٹیم نے ایم ایل اے شاہ جیل اسلام کو بلایا تو ان کے والد سابق ممبر اسمبلی صابر آگئے انہیںبتایا کہ ناجائز طریقہ سے پیٹرول پمپ بنایا گیا اس کے نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا اس لئے یہ مسمارہوگا ۔جبکہ ممبر اسملی سہجیل کہتے ہیں کہ انہیں نوٹس نہیں ملا ۔ایک اپریل کو منعقدہ ایک استقبالیہ پروگرام میں سہجیل اسلام نے کہا تھا کہ پچھلی بار وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہمارے لوگوں کے تئیں غلط الفاظ کا استعمال کرتے تھے اور اکھلیش یادو کی قیادت میں ا ب مضبوط اپوزیشن اگر اس بار ان کی آواز نکلی تو ہماری بندوق سے دھنواں نہیں بلکہ گولیاں نکلیں گی ۔ (انل نریندر)

حافظ سعید پر دکھاوے کی کاروائی !

پاکستان کے ایک دہشت گردی انسداد عدالت نے جمعہ کو 2611ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جماعة الدعوة کے سرغنہ حافظ سعید کو ٹیرر فنڈنگ کے دو اور معاملوں میں 32سال کی سزا سنائی اس سے پہلے ایسے پانچ معاملوں میں ا س کو پہلے ہی 36سال کی قید کی سزا سنائی جا چکی ہے کل 68سال قید کی سزا چلے گی ۔عدالت نے سعید پر 3.41لاکھ پاکستانی روپے کا جرمانہ بھی ادا کیا ۔عدالت کے ایک افسر نے بتایا دہشت گردی انسداد عدالت کے جج اعجاز احمد مخمور نے سعید کو 32سال قید کی سزا سنائی ۔پنجاب پولیس کے دہشت گردی انسداد محکمہ کے زریعے درج دو ایف آئی آر کی بنیاد پر اسے یہ سزا سنائی گئی ۔بتاتے چلیں کہ مالی کاروائی ٹاسک فورس کے ذریعے پاکستان پر مسلسل اس بات کےلئے دباو¿ ڈالا جارہا ہے کہ یہ اپنے یہاں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرے اس کے علاوہ بھارت سرکار بھی بین الاقوامی اسٹیج پر پاکستان حمایتی دہشت گردی کا اشو اٹھاتی رہی ہے ۔حافظ سعید کو لاہور کی کورٹ لکھپت جیل سے عدالت لایا گیا ۔جہاں وہ 2019سے سخت حفاظت مین قید میں ہے ۔سعید کو اقوام متحد ہ آتنکی ڈکلیئر کر چکا ہے ۔امریکہ کا محکمہ خارجہ بھی اسے عالمی آتنکی ڈکلیئر کر چکا ہے ۔اس کا جولائی 2019میں ٹیررفنڈنگ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا ۔اس کی تنظیم جماعة الدعوة اصل میں لشکر طیبہ کا ایک چہرہ ہے جو سال 2008میں ممئی حملے کو انجام دینے کے لئے ذمہ دارہ ے اس میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166لوگ مارے گئے تھے ۔حافظ سعیدپر عدالتی کاروائی کوئی نئی بات نہٰں ہے اس سمیت دیگر انتہائی مطلوب دہشت گرد پاکستان میں سزا سنائے جانے کے بعد بھی کچھ وقت تک نظر بند رہنے کے بعد آزاد گھومتے ہیں ۔بی ایس ایف کے سابق ڈی جی پر پی کے مشرا نے بتایا کہ پاکستان بار بار دکھاوے کی کاروائی کرتا ہے اس سے پہلے بھی اس نے حافظ سعید ، مسعود اظہر لکھوی وغیرہ کے معاملے میں آنکھ میں دھول جھوکنے کا کام کیا ہے ۔آتنکی عدالتی حکم کے باوجود فوج اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں کھلے عام اپنی سرگرمیاں چلاتے ہیں ۔ممبئی حملے کے معاملے میں پاکستان نے کبھی بھارت سے تعاون نہیں کیا اس کا دہرہ چہرہ دنیا کے سامنے ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے پاک فوج اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں پلنے والے دہشت گردوں پر مجبوری میں دکھاوے کی کاروائی ہوتی ہے ۔پاکستان فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر آنے کے لئے زور لگارہا ہے ۔کچھ پاکستانی فوج اپنے دیش کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اس لئے پاکستان دکھاوا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔حفاظ سعید پاکستانی آتنکوادی ہے اس کی پیدائش 4جون 1950کی ہے ۔پاکستان میں پنجاب میں ہوئی تھی ۔اس میں پاکستانی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ بنائی تھی ۔فی الحال جماعة الدعوة نام کی تنظیم کے وہ چیف ہیں ۔حافظ سعید کو بین الاقوامی سطح پر دہشت گردڈکلیئر کیا جاچکا ہے ۔تازہ کاروئی دکھاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔پاکستان کی یہ نوٹنکی ہے ۔ (انل نریندر)

10 اپریل 2022

ستروگھن سنہا کی لڑائی اب آسنسول میں !

پٹنہ لوک سبھا حلقے کی لڑائی اب مغربی بنگال کے آسنسول لوک سبھا کے ضمنی چناو¿ تک پہونچ گئی ہے ۔اور یہ اب پوری بہاری انداز میں لڑی جارہے۔ وہاں پر ترنمول کانگریس کے امیدوار اور بہاری بابو ستروگھن سنہا کو روکنے کے لئے پٹنہ کے دونوں ایم پی روی شنکر پرساد اور رام کرپال یادو آسنسول میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہیں روی شنکر پرساد پٹنہ صاحب جب کہ رام کرپال یادو پاٹلی پوتر سے ایم پی ہیں دونوں مرکزی وزیر رہ چکے ہیں اب یہ دونوں بنگال میں بہاری بابو کو بہاری طریقہ سے گھیرنے کی کوشش کریں گے لیکن لڑائی بھلے ہی بنگال کی سرزمین پر لڑی جارہی ہے ۔لیکن ان کی پوری کہانی بہاری انداز میں قلمبند کی جارہی ہے آسنسول میں پٹنہ لوک سبھا چناو¿ کا منظرایک بار پھر نظرائے گا ۔پٹنہ میں روی شنکر بنام رامو دھن میں دونوں آمنے سامنے تےھے ۔البتہ روی شنکر پرساد ان کے سامنے امیدوار نہیں ہوں گے لیکن بھاجپا امیدوار سارتھی ہوں گے ۔روی شنکر پرساد کے پہلے ستروگھن بھی پٹنہ صاحب سے بھاجپا کے ایم پی تھے لیکن بعد میں ان کی پارٹی سے دوری بڑھتی گئی اور پھر وہ پوری طرح باغی ہو گئے اس کے بعد روی شنکر نے بھاجپا کو اپنا امیدوار بنایاتھا ۔ستروگھن سنہا نے تب کانگریس کا ہاتھ پکڑا ۔تب انہیں ہار ملی ۔بہاری بابو پٹنہ کی ہار کا بدلا لینے کے لئے بے چین ہیں ۔ممتا بینرجی کے سہارے وہ روی شنکر پرساد کو چناوی میدان میں درپردہ طور پر ہی پٹخنی دینے کی تیاری کررہے ہیں ۔بابل سپریو کے بھاجپا چھوڑنے کے بعدآسنسول سے سیٹ خالی ہوئی ہے ۔ (انل نریندر)

مسلم کیلئے 1857اور 1947سے بھی حالات مشکل !

آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ دیش کے مسلمانوں کو اپنے مذہبی رسم و رواج کے معاملے مین 1857اور 1947 سے بھی زیادہ مشکل حالات سے مسلمان گزرر ہے ہیں ۔انہوں نے مسلمانوں کو خاص کر مسلم خواتین سے گزارش کی ہے کہ وہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے خلاف کئے جار ہے گمراہ کن پروپیگنڈے کے دباو¿ میں نہ آئیں ۔مولانا رحمانی نے ویڈیو سندیش جاری کر الزام لگایا کہ فرقہ پرست طاقتیں چاہتی ہیں کہ ہمیں ورغلائیں اور ہمارے نوجوانوں کو سڑک پر لے آئیں ایسے ہی معاملوں میں حجاب کا مسئلہ بھی ہے جو ابھی کرناٹک میں مسلمانوں کے لئے ایک بڑی آزمائش کا سبب بنا ہوا ہے ۔بورڈ پہلے ہی دن سے اس مسئلے پر دھیان دے رہا ہے اور اس کے لئے قانونی قدم اٹھائے جا رہے ہیں ۔مولانا رحمانی نے گمراہ کن پروپیگنڈہ کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ابھی سپریم کورٹ میں اور کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کی جارہی ہے اور بورڈ کے ذمہ داران ایک لمحے کے لئے بھی کسی ایسے لمحے سے بے خبر نہیں ہوئے اوراس کی قانونی کاروائی پراثر پڑا ہے ۔مگر افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ بورڈ کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔میں مسلمانوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں خاص کر مسلم بہنوں سے کہ وہ ایسے گمراہ کن پرپیگنڈہ سے متاثر نہ ہوں اور مسلم فرقہ میں ناراضگی پیدا کرنے کی جوکوشش کی جارہی ہے ۔آپ اسے کامیاب نہ ہونے دیں ۔مسلمانوں کو اپنی مذہبی روایات پر بحران کے معاملے میں 1857اور 1947سے بی بھارت میں مسلمان مشکل حالات سے گزررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

یوکرین کے بوچا شہر میں قتل عام اور بھارت !

یوکرین کے بوچاشہر سے آئی خبریں ، تصاویر او ر ویڈیوفوٹیج دل دہلا دینے والی ہیں ۔اس قتل عام کے واقعے کی آزادانہ جانچ کی مانگ کی حمایت کر بھارت نے مناسب قدم اٹھایا ہے ۔اقوام متحدہ میں بھارت کے نمائندے نے ان اجتماعی قتل عام کی مذمت کی ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے امریکہ اور یوروپی یونین روس پر جنگی جرائم کا الزام لگا رہے ہیں ۔بھارت نے کہا ہے کہ بوچا سے آرہی تمام شہریوں کے قتلوں کی خبریں پریشان کرنے والی ہیں اور ان کی منصفانہ جانچ ہونی چاہیے ۔یوکرین جنگ کے مسئلے پر عالمی امور کے ریگولیٹری ادارے اقوام متحدہ میں اب تک اپنے سب سے بڑے بیان میں بھارت کی سفیر ٹی ایم تریموتی نے کہا کہ ہم بوچا شہر میں ہوئے قتل عام کے بنا کسی لاگ لپیٹ کے مذمت کرتے ہیں اور منصفانہ جانچ کی حمایت کرتے ہیں ۔بھارت ایک بار پھر اپیل کرتا ہے کہ یوکرین تشدد فوراً بند رکھنا چاہے ۔جب قصور لوگوں کی جان داو¿ پر لگی ہو تو سفارتی بات چیت ہی متبادل رہ جاتاہے اس لئے بھارت امن اور جنگ خاتمہ کی اپنی کوشش پرزور طریقہ پر کرتا رہے گا ۔روسی فوج یوکرین کے شہروں میں جس طرح سے بے قصور شہریوں کو موت کی نیند سلا رہی ہے وہ جنگ کی بین الاقوامی قواعد اور معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اس کے لئے کئی دیش انٹر نیشنل کورٹ کا دروازہ پر بھی دستک دے چکے ہیں لیکن بھارت نے بھی کھل کر روس کے خلاف کوئی ایسا بیان نہیں دیا تھا ۔یوکرین جنگ کے مسئلے پر سیکورٹی کونسل میں جو بھی تجاویز پاس ہوئی ہیں ان پر ووٹنگ سے بھی بھارت بچتا رہا ہے ۔اس سے یہ پیغام جاتا رہا ہے کہ وہ روسی اقدامات کے خلفا ہونے سے بچتا رہا ہے ۔دراصل اس مسئلے پر بھارت شروع سے ہی غیر جانب داری پالیسی پر گامزن ہے لیکن اب پہلی بار ایسا ہوا ہے جب بوچا قتل عام کے واقعہ کے سامنے آنے کے بعدبھارت نے خاموشی توڑی ہے اور اقوام متحد ہ کے اسٹیج سے اس کی منصفانہ جانچ کروانے کی حمایت کی ہے ۔روس اس الزام کوسرے سے یوکرین کے بوچا میں قتل عام کو مسترد کرتا آرہا ہے ۔روس کی دلیل پر دنیا کا کوئی بھی دیش بھروسہ نہیں کررہا ہے ۔جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے کہا کہ بوچا میں عام لوگوں کو ٹینکوں کے تلے کچلا جا رہا ہے عورتوں کے ساتھ ان کے بچووں کے سامنے آبرو ریزی کی گئی ۔روسی فوج نے یو این چارٹرڈ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے ۔یوروپی ممالک اور امریکہ نے بوچا میں قتل عام کو خوفناک قرار دیتے ہوئے رو س پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے ۔روسی صدر پوتن کو ایک جنگی مجرم بتاتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہیے ۔روس نے ان الزامات کے تحت دکھائی جا رہی تصاویر کو فرضٰ بتاتے ہوئے دنیا بھر کے لیڈوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بنا سوچے سمجھے الزام نہ لگائیں ۔جنگ ااج اس مقام پرہے جہاں چاروں طر ف یوکرین کی بربادی کی تصویریں نظرآتی ہیں ۔بھارت نے آج تک تو اس جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیا لیکن صرف امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے ۔لیکن بوچا قتل عام پر بھارت کا موقف بالکل صحیح ہے ۔پی ایم مودی نے کہا کہ آج بھار ت بنا کسی دباو¿ اور ہر اپنے مفادات میں مضبوطی سے کھڑا ہے ۔جب پوری دنیا دو مخالف خمیوں میں بٹ گئی ہے تب بھارت انسانیت کی بات کر رہا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...