Translater

‏Maharashtra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Maharashtra لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 جولائی 2012

شرد پوار کی لڑائی نمبردو کی حیثیت کیلئے نہیں ہے

تمام کوششوں کے باوجوداین سی پی اور کانگریس لیڈر شپ کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی خلیج دور نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ اس مرتبہ این سی پی چیف شرد پوار نے کافی اڑیل رویہ اپنالیا ہے۔ لگتا ہے اب یہ ہے کہ اب شرد پوار اینڈ کمپنی اپنی راہ طے کرچکے ہیں۔ این سی پی کے ترجمان ڈی پی ترپاٹھی کے مطابق این سی پی چیف نے ابھی تک اتنا کھل کر سرکار کے کام کاج کی مخالفت نہیں کی تھی اس لئے مہاراشٹر سرکار کو لیکر دہلی تک تال میل کی سطح پر سب کچھ بہتر نہیں تو این سی پی سرکار سے کنارہ کرنے کا من بنا چکی ہے۔ کیا پوار اس لئے کیبنٹ چھوڑنا چاہتے ہیں کانگریس لیڈر شپ انہیں منموہن سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن دینے کو تیار نہیں ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تو بہانا ہے اصل میں پوار کا زیادہ جھگڑا مہاراشٹر میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے طور طریقوں کو لیکر ہے۔ کافی دنوں سے پوار اور پرتھوی راج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے پوار اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے مفادات کے خلاف ریاستی حکومت نے جو مہم چھیڑ رکھی ہے اس سے این سی پی خفا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیبنٹ میں سینیرٹی میں دوسرے نمبر کی آڑ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی این سی پی نے یوپی اے سرکار پر دباؤ بنا کر سرکار سے باہر نکل جانے کی بات تک کہہ ڈالی ہے۔ شرد پوار کی اصل ناراضگی کی وجہ مہاراشٹر میں ہے۔ مہاراشٹر پوار کا اصل گڑھ ہے۔ جب سے پرتھوری راج چوہان وزیر اعلی بنے ہیں تبھی سے کانگریس اور این سی پی میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ پوار اینڈ کمپنی کا الزام ہے کہ کانگریس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھ واڑا میں این سی پی کا اثر کم کرنے کے لئے وہاں کی ساری دیہی اسکیموں کوداؤ پر رکھا ہوا ہے۔ مہاراشٹر سرکار خور شری پوار اور ان کی لڑکی سپریا سلے اور پرفل پٹیل کے چناؤ حلقے میں مختلف اسکیموں کو لٹکانے کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کی ملی جلی حکومت ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار وزیر مالیات ہونے کے باوجود لاچار مانے جاتے ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کی ساری فائلیں دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرد پوار کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے وزیر اعلی کے عہد میں ایک سینچائی اسکیم میں الاٹ بجٹ سے 26 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کی جانچ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ میں پوار کے رشتے داروں کو ٹھیکے ملے تھے۔ اب اس پروجیکٹ پر ہوئے خرچ کی جانچ کی رفتار کو جہاں پوار سست کرنا چاہتے ہیں وہیں ایک معاملہ مہاراشٹر ہاؤسنگ گھوٹالے سے وابستہ ہے۔ دہلی میں بنے دوسرے مہاراشٹر سدن کی تعمیر کے وقت اس کی اسکیم رقم 52 کروڑ روپے تھی ،آخر میں یہ سدن تیار ہوتے ہوتے اس کی رقم 152 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مہاراشٹر سدن گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کو لیکر بھاجپا نیتا کرت سمیا نے حال ہی میں صدرسے بھی شکایت کی تھی اس معاملے میں بھی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کے قریبی رشتے داروں کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر سدن میں گھوٹالے کی بات سامنے آنے پر خود صدر نے اپنے کو اس کے افتتاحی پروگرام سے الگ کرلیا۔ شرد پوار کو اندیشہ ہے کہ جس طرح بھاجپا اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اس سے بھی معاملے کی جانچ ہوئی تو ان کی پارٹی کیلئے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔پرفل پٹیل پر بھی طرح طرح کے الزام ہیں۔ خود شرد پوار کے وزیر ذراعت کی حیثیت سے غذائی درآمد برآمد کے معاملے بھی تنازعوں میں ہیں اس لئے لڑائی کی جڑ نمبر دو کی حیثیت کی نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے جو اتنی آسانی سے شاید ہی سلجھ پائے۔ دراصل شرد پوار کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں کانگریس لیڈر شپ اس سال کے آخر تک لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ نہ کروالے۔ پھر مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ بھی 2014ء میں ہونے ہیں۔ ویسے لوک سبھا چناؤ اگر اپنے مقررہ وقت اپریل2014ء میں ہوتے ہیں تو مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اکتوبر 2014ء میں ہوں گے۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں این سی پی کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ پر بھی سیدھا پڑ سکتا ہے۔ سوال تو اب مہاراشٹر میں کانگریس ۔این سی پی اتحاد سرکار کے مستقبل کو لیکر بھی کھڑا ہورہا ہے۔ دوسری طرف شیو سینا میں آئی دراڑ ختم ہوچکی ہے۔ راج ٹھاکرے اور اوددھو ٹھاکرے کے درمیان بھی دوریاں کم ہورہی ہیں۔ اگر شیو سینا ایک ہوجاتی ہے تو شیو سینا ، ایم این ایس اور بھاجپا مہاراشٹر میں کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کی چھٹی کر سکتی ہے۔اس لئے معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ یہ لڑائی صرف نمبر دو کی حیثیت کی نہیں اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

20 مئی 2012

قصاب کی مہمان نوازی پر ہورہے 20 کروڑ کا خرچ کون برداشت کرے؟

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رحم کی اپیلوں کے معاملے میں اس کے سامنے دو معاملے التوا میں ہیں۔ ان معاملوں میں وہ کچھ ایسی ہدایت دے سکتی ہے جو صدر کے پاس التوا میں پڑی رحم کی اپیلوں کو لائن میں لگا سکتی ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ رحم کی اپیلوں کے نپٹارے کے لئے کوئی وقت یا میعاد مقرر کرے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی، ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ مرکز وقت اور میعاد مقرر کرنے پر غور کرے۔ حالانکہ معافی دینے کے صدر کے مخصوص اختیارات پر وہ کوئی ہدایت نہیں دینا چاہتے۔ عدالت نے کہا ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ سرکار جلد بازی میں فیصلہ کرے کیونکہ اس سے اس کے سامنے التوا معاملوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت نے بھلر کے معاملے میں سرگرمی تبھی دکھائی جب اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ اس کی عرضی کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے اسے خارج کردیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے مقدمے کے نفع نقصان کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے۔ صدر کے سامنے رحم کی عرضیوں کے برسوں تک لٹکے رہنے کے خلاف موت کی سزا یافتہ دو قصورواروں دیویندر سنگھ بھلر اور مہندر ناتھ داس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انہیں آئین کی دفعہ 21 کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اس لئے ان کی سزاؤں کو اب عمر قید میں بدل دیا جائے۔ دونوں عرضیوں پر صدر کے یہاں تقریباً 7 برسوں سے زیادہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ادھر سکھا راحت کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے خالی ہاتھ لوٹے مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے کہا ہے کہ آرتھر روڈ جیل میں بند اجمل قصاب کی سکیورٹی کا خرچ مہاراشٹر سرکار کے سر ڈالنا سراسر غلط ہے۔ چوہان نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کر مانگ کی ہے کہ قصاب کی سلامتی پر خرچ ہوئے قریب20 کروڑ روپے کو مرکزی سرکار برداشت کرے۔ چوہان نے یہ خط این سی پی نیتا اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے اس بیان کے بعد لکھا ہے جس میں انہوں نے قصاب کی اتنی لمبی دیکھ بھال کو غلط بتایا تھا۔ اجمل قصاب کی سلامتی میں لگی انڈو تبت پولیس نے مہاراشٹر سرکار کے پاس 28 مارچ 2009 سے لیکر 30 ستمبر 2011 تک کے قریب20 کروڑ روپے کا بل بھیج دیا ہے۔ یہ بل آئی ٹی بی پی کے ان ملازمین کی تنخواہ اور بھتوں پر خرچ ہوا ہے جو قصاب کی سلامتی میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے ہی سے اقتصادی بحران کا شکار مہاراشٹر سرکار پر 20 کروڑ روپے کا خرچ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلی چوہان نے چدمبرم کو خط بھیجا ہے۔ مرکزی سرکا ر اور ریاستی سرکار کے درمیان رسہ کشی کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں طول پکڑ سکتا ہے۔ قصاب کو مبینہ طور سے سرکاری مہمان کے طور پررکھے جانے کو لیکر شیو سینا کئی بار مرکز اور ریاستی سرکار پر حملہ کرچکی ہے۔ این سی پی کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ مراٹھی مانش کے اشو سے دور ہوجانے کی وجہ سے حال کے بلدیاتی انتخابات میں ممبئی کے ووٹروں نے اسے پوری طرح سے نامنظور کردیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کب تک اجمل قصاب کی دیش یوں ہی خاطر داری کرتا رہے گا؟ آخر کوئی وقت ،میعاد تو طے کرنی ہی ہوگی؟

21 فروری 2012

مہاراشٹر کے منی چناؤ میں بھگوا بھاری پڑا


Published On 21st February 2012
انل نریندر
مہاراشٹر کے 10 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی حالانکہ قومی سیاست میں اتنی اہمیت نہ ہو لیکن اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ مہاراشٹر میں تو خیر یہ ایک طرح سے اسمبلی منی چناؤضرور مانا جاسکتا ہے ان انتخابات کے نتیجوں سے جہاں شیو سینا ۔ بھاجپا محاذ خوش ہوگا وہیں یہ کانگریس ۔ این سی پی محاذ کے لئے ایک جھٹکا ہے۔دیش کی آدھے سے زیادہ ریاستوں کے سالانہ بجٹ والی ملک کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشن ممبئی مہانگر پالیکا(بی ایم سی) کے اقتدار کے بالکل قریب پہنچ کر شیو سینا نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ چناؤ ہوا ہوائی دوروں سے نہیں بلکہ ووٹروں کو پولنگ مرکزوں پر لے جاکر جیتے جاتے ہیں۔ 10 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ میں شیو سینا۔بھاجپا محاذ نے پانچ شہروں میں بھگوا پرچم لہرایا ہے۔ کانگریس اور این سی پی کو چار چہروں میں ہی کامیابی ملی ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کی غیر متوقع طور سے ناسک میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ شیو سینا اور بھاجپا و آر پی آئی نے مل کر227 سیٹوں والی بی ایم سی میں 107 سیٹیں جیت کر سب سے بڑے محاذ کے طور پر کامیابی درج کرائی۔ کانگریس اور این سی پی نے پہلی بار یہاں مل کر چناؤ لڑا اور منہ کی کھائی۔ چناؤ نتائج آتے ہی کانگریس پارٹی میں رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ پارٹی کے لیڈر ایک دوسرے پر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ممبئی کانگریس یونٹ کے پردھان کرپا شنکر کا مقامی ایم پی سنجے نروپم اور پریہ دت کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ کرپا شنکر سنگھ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے سرپر ہار کار ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورا چناؤ شری چوہان کی لیڈر شپ میں لڑا گیا تھا تو پھر وہی ہار کے ذمہ دار مانے جانے چاہئیں جبکہ دہلی میں بیٹھے کانگریس کے دوسرے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ممبئی کو غیرمراٹھی لیڈروں کے حوالے کرنے کا خمیازہ اٹھانا پڑا ہے۔ مراٹھی مانش کے نام سے شیو سینا اور ایم این ایس جیسی پارٹیاں کامیاب رہی ہیں ان کا خیال ہے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھی لیڈر شپ کو ممبئی میں پنپنے نہیں دیا گیا۔ اسی وقت ممبئی کے دو کانگریسی لیڈر ہیں اور دونوں کرپا شنکر اور سنجے نروپم نارتھ انڈیا کے ہیں۔ مرلی دیوڑا راجستھان سے ہیں تو پریہ دت پنجاب سے ہیں۔ ایسے میں مراٹھا ووٹ کس وجہ سے کانگریس کو ملتا؟ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ممبئی کی ہار کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اعلی کمان نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں ہار کے اسباب کی جانچ کے لئے ممبئی کانگریس کمیٹی، پردیش کانگریس کمیٹی اور وزیر اعلی سے الگ الگ رپورٹ مانگی ہے۔ پارٹی کا ایک گروپ آپسی گروپ بندی مان رہا ہے۔ کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے بطور وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو صوبے میں بھیجے جانے کے فیصلے کو ریاست کی سیاست میں سرگرم اثر رکھنے والے تمام لیڈر ابھی تک پچا نہیں پائے ہیں۔ کانگریس این سی پی کے درمیان بہتر تال میل نہ رہنے کو بھی ہار کا سبب مانا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعلی اشوک چوہان ، ولاس راؤ دیشمکھ کے الگ الگ خیمے میں صوبے میں پرتھوی راج چوہان کے کردار کو صحیح دل سے نہیں قبول کرپائے۔ تنازعات کے گھیرے میں آئے کرپا شنکر جیسے نیتاؤں کا بچاؤ بھی پارٹی کے حق میں نہیں گیا۔ چناؤ کے دوران صدر کے بیٹے راجندر سنگھ شیخاوت سے کروڑوں روپے ملنا بھی پارٹی کو تنازعوں میں ڈال دیا ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے چناؤ میں پوری طاقت جھونکی تھی۔ ان پر مخالفین چٹکی بھی لے رہے تھے کہ وہ گلی کوچوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ نتیجے یوپی چناؤ کے دوران آئے ہیں لہٰذا پارٹی کے لئے یہ ایک مزید جھٹکا ہے۔ حالانکہ پارٹی نے اس بات سے انکار کیا کہ چناؤ نتیجوں کا اثر یوپی کے چناؤمیں پڑے گا۔پارٹی نے کہا راہل گاندھی کی کوششوں اور یوپی کے چناؤ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ انچارج موہن پرکاش نے کہا کہ یہ اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ مقامی بلدیاتی چناؤ تھا جہاں نتیجے مقامی اسباب پر منحصر کرتے ہیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, MNS, Shiv Sena, Vir Arjun

27 نومبر 2011

حکومت کو نکسل مخالف آپریشن میں ملی اہم کامیابی



Published On 27th November 2011
انل نریندر
سرکار کواپنی اینٹی نکسلی آپریشن میں ایک شاندار کامیابی ملی ہے۔ سی پی آئی (ماؤوادی) کی ملٹری یونٹ کے چیف پولٹ بیورو کے ممبر کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کو سکیورٹی فورس نے مڈ بھیڑ میں مار گرایا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس مڈ بھیڑ کی تصدیق کے ساتھ ہی بھارت میں نکسل تحریک کا ایک باب کا صفایا ہوگیاہے۔ سی آر پی ایف کی نکسل مخالف کمانڈو بٹالین 207 کوبرا کے جوانوں نے کشن جی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بنیادی طور سے آندھرا پردیش کا باشندہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی طویل عرصے سے نکسل تحریک سے جڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے اس نے مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کشن جی نے دو نکسلی ماؤ وادی کمیونسٹ پارٹی اور پیپلز وار گروپ کے آپس میں انضمام میں اہم کردار نبھایا تھا۔ قریب چھ سال پہلے ہوئے اس انضمام کے سبب نکسلیوں کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ کشن جی کے دونوں نیپال کے ماؤ وادی کے ذریعے چین سے بھی روابط میں تھا۔ پریم گنج ضلع کے ناگپلی گاؤں سے نکسلواد کا سفر شروع کرنے والا کشن جی گوریلا جنگ کا ماہر تھا۔ اس نے بنگال سے مہاراشٹر تک کمان سنبھال رکھی تھی۔ اس کا خاص مقصد تھا کہ مغربی مدنا پور ،باکوڑہ اور پرولیا بیلٹ کو جھارکھنڈ، اڈیسہ اور چھتیس گڑھ سے جوڑنا تھا۔ کشن جی کی موت کے بعد نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں بہار، اڈیسہ، چھتیس گڑھ و اترپردیش میں جمعہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ نکسلی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رام نواس نے بتایا کہ نکسلی بدلے کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ نکسلی 40 ہزار کلو میٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بستر علاقے میں وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں ان کی یکساں حکومت چلتی ہے۔ کشن جی کی موت سے نکسلی ماؤ وادی مسئلہ تو ختم نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جس سے انہیں نکلنے میں وقت ضرور لگے گا۔ سرکار کی نکسل مخالف کارروائی میں یہ ایک شاندار کارنامہ ضرور ہے۔
Andhra Pradesh, Anil Narendra, Chhattis Garh, China, Daily Pratap, Kishanji, Maharashtra, Naxalite, Nepal, Odisa, Vir Arjun, West Bengal

شرد پوار کو تھپڑآخر کیوں پڑا؟



Published On 27th November 2011
انل نریندر
جمعرات کو نئی دہلی کے این ڈی ایم سی سینٹر میں افکو کے ایک پروگرام میں بطور مہمان خصوصی آئے مرکزی وزیر زراعت نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس دن ان کے ساتھ کیا گذرنے والی ہے۔ پروگرام کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کیلئے پوار جب باہر کی طرف نکلے تو تبھی ایک سکھ شخص نے آگے بڑھ کر ان کے گال پر طمانچہ جڑدیا۔ پوار کو سمجھ میں نہیں آیا آخر اچانک ہوا کیا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ وزیر کے اسٹاف کی دھکا مکی سے ناراض اس شخص نے اپنی کرپان نکال لی اور احتجاج کے طور پر اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے کی کوشش کی۔ این ڈی ایم سی کے گارڈوں نے اس شخص کو بڑی مشکل سے قابو کر پولیس کے حوالے کیا۔ حملہ آور کا نام ہروندر سنگھ ہے اور وہ دہلی کے وجے وہار میں رہتا ہے۔ وہ نعرے لگا رہا تھا ''و ہ بھرشٹ ہیں ، میں یہاں منتری کو تھپڑ ہی مارنے آیا تھا،وہ سبھی بدعنوان ہیں۔ اس نے آگے کہا کہ آج گورو تیغ بہادر کی شہادت کا دن ہے۔ حالات اور بھی برے ہوسکتے تھے میں نے ہی روہنی عدالت میں سکھرام کو بھی مارا تھا۔ میں سکھ ہوں ،چپل نہیں ماروں گا، صرف بھاشن دیتے ہیں بھگت سنگھ کو بھول گئے جس نے قربانی دی، مارو مارو مجھے خوب مارو میں پاگل ہوں۔ ان کے پاس گھوٹالے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں غلط نہیں ہوں۔
شرد پوارپر طمانچے کی گونج نے دہلی کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن نے اس واقعے کی مذمت کی ہے لیکن اسے مہنگائی سے پیدا غصہ قراردے کر سرکار پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہیں کانگریس نے اس واقعے کے لئے بھاجپا نیتا یشونت سنگھ کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پوار سے بات چیت کر پورے واقعے کی مذمت کی۔ کانگریس کے پارلیمانی وزیر ہریش راوت نے کہا یشونت سنہا کے بیان ' مہنگائی نہیں رکی تو تشدد ہوگا'واپس لینا چاہئے۔ایسی رائے بنانا غلط ہے وہیں بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کہ یہ شخص میرے بیان سے پہلے ہی سکھرام کو تھپڑ مار چکا ہے۔ ایسے میں اسے مجھ سے جوڑا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج کا تبصرہ تھا کہ بھاجپا اس کی مذمت کرتی ہے۔عدم تشددکے ذریعے ناراضگی جتائی جانا چاہئے۔پوار عمر کے سبب احترام کے لائق ہیں وہیں سب سے دلچسپ تبصرہ انا ہزارے کا تھا۔ انہوں نے پوار پر حملے کی اطلاع ملنے پر پہلے رد عمل کے طور پر پوچھا کہ ''صرف ایک تھپڑ؟'' بعد میں انہوں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پوار کو تھپڑ پڑنا جمہوریت پر طمانچہ ہے۔ جنتا میں اس واقعہ ا کیا رد عمل ہوا ہے کچھ تبصرے پیش ہیں۔مرکزی وزیر شرد پوار کو پڑا تھپڑ کسی نیتا یا منتری پر نہیں بلکہ ان کے ذریعے بنائے گئے سسٹم پر ہے جس سے عام لوگوں کا پورا بجٹ بگڑ گیا ہے۔ وہ عام آدمی کیا کرے جس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ دہلی والوں نے اسی طرح کی رائے زنی کی ہے۔ مہنگائی گھروں کے کچن کے ساتھ لوگوں کے خوابوں پر بھی حملہ کررہی ہے۔ایک انسان اپنے بچے کو پڑھا کر کچھ بنانے کے خواب دیکھنے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے پیسے کیسے کیسے بچائیں۔ کیرل کی ایک طالباکا نظریہ ہے میور وہار کی ایک ورکنگ خاتون نے کہا یہ تھپڑ ایک عام آدمی کا نہیں پورے دیش کی جنتا کا ہے ۔ دیش کے نیتاؤں اور وزرا کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جنتا اپنے طریقے سے جواب دینا سیکھ رہی ہے۔ اسے پانچ سال تک بہلا پھسلا کر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ کوٹلہ فیروز شاہ کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پریشانی ہے تو لوگ ایسا کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ وزیر دفتر میں بیٹھ کر جو پالیسی تیار کرتے ہیں وہ عام آدمی کی کمر توڑنے والی ہوتی ہے ایسے میں لوگ کیا کریں ۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ سیوا نگر میں ایک سیاسی ورکر کا کہنا تھا پریشانی اپنی جگہ ہے لیکن ہر جگہ تھپڑ مارنا ٹھیک نہیں ہے۔ سبق سکھانا ہے تو چناؤ میں سکھائیں۔ لوگ بھی کیا کریں جب ان کے نمائندے امید پر کھرے نہیں اترتے تو وہ تیش میں آجاتے ہیں اور یہی تیش تھپڑ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک تاجر کی رائے تھی سرکار جب سورہی ہو تو اسے جگانے کیلئے اس بہتر طریقہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل آر کے شرما کا خیال ہے کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے۔ وزیر ، نیتا اور ان کے رشتے دار کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں ۔ عام آدمی بھرپیٹ کھانے سے پہلے بھی سوچتا ہے کہ حالت خطرناک ہے اور دیش کے پالیسی سازوں کو اب سنجیدگی سے جنتا کے دکھ درد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میکس ہسپتال کے ڈاکٹر سمیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ اپنی ناراضگی نکالنے کا یہ طریقہ کاپی کیٹ یعنی نقل کرنا کہا جاسکتا ہے۔ جب لوگ دوسرے کی نقل کرتے ہیں وہ کسی پر حملہ کرتے ہیں اور اسے چوٹ پہنچاتے ہیں تو وہ ایک بھدی پبلسٹی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ حملہ کرنے والا پہلے کے واقعے سے کہیں نہ کہیں ضرور ترغیب پا چکا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اسے بھی لوگوں کی توجہ مل سکتی ہے۔
شرد پوار پر ہوئے حملے سے سیاسی پارہ بھی تیز ہوگا۔ پوار کی پارٹی این سی پی اندر خانے کانگریس سے سخت خفا ہے ۔ اسے لگ رہا ہے کہ جس طرح سے کانگریس نے پوار کو مہنگائی کی علامت بنایا ہے اس کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ اگرچہ فوری طور پر کانگریس کے نیتا پوار کے بچاؤ میں اترے لیکن این سی پی اس واقعے سے بہت مایوس ہے۔ وزیر ہیوی صنعت پرفل پٹیل نے کہا بڑے نیتاؤں کی سلامتی پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے اور ان پر حملے کے بعد مہاراشٹر میں کچھ علاقوں میں پارٹی ورکروں کے مشتعل رویئے پر پٹیل نے صبر و تحمل رکھنے کی اپیل کی۔ معاملے کے پیچھے بھاجپا کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ ہے اس بارے میں پارٹی اس لئے بھی ناراض ہے کہ کانگریس مسلسل مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار کو ہی آگے رکھتی تھی۔ بیشک بدعنوانی اور مہنگائی سے دیش پریشان ہے اور غصے میں ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم چاروں طرف آگ لگانا شروع کردیں اور جو سامنے آئے اس پر ٹوٹ پڑیں۔ اس سے حل تو کیا نکلے گا ہاں چاروں طرف بدامنی ضرور پھیل جائیگی۔ وہیں سیاستدانوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عوام کا موڈ کیا ہے۔ ہمارے سامنے مشرقی ایشیا کی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری نے دیش میں آگ لگا دی ہے۔ سیاستدانوں کو اس ٹرینڈ سے ڈرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, Manmohan Singh, NCP, Sharad Pawar, Sonia Gandhi, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yashwant Sinha

01 جولائی 2011

ان ریو (نشہ) پارٹیوں نے تو تباہی مچا رکھی ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 1st July 2011
انل نریندر


پچھلے دنوں رائے گڑھ ضلع میں ایک ہوٹل میں چل رہی ریو (نشہ) پارٹی پرچھاپہ مارتے ہوئے وہاں سے ممبئی منشیات انسداد برانچ کے ایک انسپکٹر سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رائے گڑھ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ آر ڈی شنڈے نے بتایا کہ اس پارٹی میں گرفتار کئے گئے انسپکٹر کا نام انل جادھو ہے۔ پارٹی میں نوجوانوں کو منشیات دی جارہی تھی۔ ضلع کے کھلاپور میں ایتوار کی رات ہوئی اس پارٹی میں جانے مانے خاندانوں کی 59 لڑکیوں سمیت تقریباً290 لڑکے شامل ہوئے۔ سبھی کو میڈیکل جانچ کے بعد جانے دیاگیا۔ رپورٹ آنے کے بعد پولیس ان لوگوں پر کارروائی شروع کرے گی جنہوں نے منشیات لیں تھیں۔ پولیس نے ایتوار کی دیر رات کھالاپور کے ہوٹل ماؤنٹ آبو میں ہورہی اس پارٹی میں چھاپہ مار کر یہاں سے گانجھا، چرس اور کوکن کے علاوہ 3.8 لاکھ روپے نقد بھی برآمد کئے۔پچھلے دنوں گجرات میں بھی ایک ایسی ہی ریو پارٹی کو پولیس نے پکڑا تھا۔ دونوں جگہ ایک بات خاص ہے کہ شراب، کال گرلز اور بے سدھ ہوکر ناچتے اور شراب اور ڈرگس لیتے ہوئے نوجوانوں کو پکڑا گیا اور یہی عالم ہوتا ہے تقریباً ہر ریو پارٹیوں کا۔ ان دونوں پارٹیوں میں فرق تھا تو بس یہ ہی کہ ایک گجرات کی پارٹی میں گرفتار ملزمان کا تعلق ریاست کے نامی گرامی لوگوں سے ہے۔ اس لئے ان کے نام اجاگر نہیں کئے گئے۔ جبکہ ممبئی کی پارٹی میں پکڑے گئے زیادہ تر لڑکے تھے اور ان کی عمر ایسی دہلیز پر ہے جہاں ان کے بہکنے کے پورے امکانات ہوتے ہیں۔کل ملاکر ہر عمر ، ہر درجے، ہر طبقے کے لوگ اس کے شکار ہورہے ہیں۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ہوگا اگر جلدی ہی یہ سننے کو ملے کہ والدایک ریو پالس میں پکڑا گیا، بیوی دوسری میں اور بیٹا بیٹی تیسری ریو پارٹی میں پکڑے جائیں۔ ہم بے وجہ ہی کہتے ہیں کہ دیش میں نوکریوں کی کمی ہے۔ دیکھئے کتنی نوکریاں بکھری پڑی ہیں۔ ایک طرف تو غریبی کے سبب لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب یہ لوگ لاکھوں روپے ان پارٹیوں میں شراب، ڈرگس میں اڑا رہے ہیں۔ دیش میں بیشک بھکمری ہو لیکن ایسی پارٹیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ نوجوان پیڑھی کو تو کھانے کی کمی نہیں وہ تو پی کر ہی نشہ کرکے کام چلا رہے ہیں۔ ریو پارٹی ایسے عیاش لوگوں کا جمگھٹ ہے جہاں شراب پینے ،کھلے بند ناچنے، ڈرگس کی ہی زندگی گذارنے لگے ہیں ان سے تو بات کرنا بھی بیکار ہے کیونکہ وہ پوچھتے ہی کہہ دیں گے کہ آپ جیسے پرانی دقیانوسی باتیں کیوں کررہے ہیں۔ ویسے بھی مغربی کلچر کا اتنا اثر آج دیش کے نوجوانوں پر چھاگیا ہے کہ وہ والدین کی ہر بات کی مخالفت کرنا اپنا پیدائشی حق مانتے ہیں۔ ویسے ایسے والدین کی بھی کمی نہیں جنہیں خود سوشلائزنگ سے فرصت نہیں۔ انہیں اس کی پرواہ نہیں کہ ان کے بچے کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، کب آرہے ہیں، سبھی خود کی زندگی اپنے انداز میں جینا چاہتے ہیں۔ بڑے بوڑھوں کی عزت کرنے کے دن لدھ گئے ہیں۔ سوشلائزنگ کی خاطر آج درمیانے طبقے کی لڑکیوں کو ان کے لئے اپنا اسٹیٹس بنائے رکھنا ، اپنی عزت بحال رکھنے سے زیادہ اہم ہے کے ایسی پارٹی میں اپنی حدیں توڑنا اتنا ہی آسان ہے جتنی آسانی سے وہ اپنے ماں باپ کا بھروسہ گنوا دیتے ہیں۔ انہیں تو اپنے پاپا کا جنم دن یاد رہے گا نہ ماں باپ کی شادی کی سالگرہ، انہیں کہاں کب ریو پارٹی ہو رہی ہے یہ ضرور یاد رہے گا۔ آج کل فیس بک آگیا ہے اس میں بندے بندیوں کی سب تفصیلات مل جاتی ہیں اور ایک دوسرے سے فون پر رابطہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔انہی کمیونٹی سائٹوں سے فون نمبر ایکسچینج ہوتے ہیں۔ جگہ طے ہوتی ہیں۔ لڑکے آپس میں ملنے کیلئے برقرار رہتے ہیں۔ ہم بیکار ہی کہتے ہیں کہ لوگوں کے پاس وقت نہیں، ایک دوسرے کیلئے یا لوگ اب سوشل نہیں رہے، لیکن ان ریو پارٹیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ لڑکے تو پہلے سے کہیں زیادہ سوشل ہوگئے ہیں۔ اب وہ سماج کے پرانے اصولوں کو توڑ کر اپنا نیا راستہ ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جسم فروشی کے کاروبار کے بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ریو پارٹیوں میں اتنا فری سیکس ملتا ہے کہ اس کے بعد سیکس کا چسکا لگ جاتا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کا ٹوٹنا کئی معاملوں میں خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ پہلے گھر کے بڑے بوڑھے جو کہتے تھے بچوں کو ماننا پڑتا تھا اور تہذیب کے دائرے میں رہنا پڑتا تھا۔ بچوں کو بوڑھے بڑے اچھے سنسکار دیتے تھے، ان پر کڑی نظر رکھتے تھے لیکن اب یہ سب ختم ہوتا جارہاہے۔ پیسوں کے لالچ اور مغربی کلچر نے یہ سب توڑ دیا ہے اور مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب سماج کی تباہی انتہا پر ہوگی، شادی، رشتے اور سماجیت جیسی باتیں صرف قصے کہانیاں ہی بن کر رہ جائیں گی۔ جسم فروشی ، نشہ خوری اور بڑھتا جرائم عام بات ہوجائے گی۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Maharashtra, Mumbai, Rev Party, Vir Arjun

25 جون 2011

ٹیم اناّ کو آخر میں پھرتحریک شروع کرنے کا ہی متبادل رہے گا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
25جون 2011 کو شائع
انل نریندر
منموہن سنگھ حکومت گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف مہم کی ہوا نکالنے اور اسے ناکام کرنے کیلئے سبھی طرح کے ہتھکنڈے اپنانے لگی ہے۔ سام دام ،ڈنڈ بھید سبھی طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ آج کل دونوں حکومت اور کانگریس پارٹی کے ترجمان بنے دگوجے سنگھ کہتے ہیں کہ انا ہزارے نے اگر انشن کیا تو ان کا حشر بھی بابا رام دیو جیسا ہی ہوگا۔ یعنی ان کی تحریک کو ہر حال میں کچل دیا جائے گا۔ بدھوار کو دگوجے سنگھ نے کہا کہ انا ہزارے کے خلاف بھی ویسا ہی رویہ اپنایا جاسکتا ہے جیسا رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی ریلی کے ساتھ ہوا۔ حالانکہ یہ موقعے کی نزاکت پر منحصر کرے گا۔ نئے نئے انکشافات اور بیانوں کو دے کر اپنا موازنہ وکی لکس سے کئے جانے پر انہوں نے کہا کہ وکی لکس تو لاجواب ہے ہی لیکن اس سے بھی زیادہ زبردست ہے دگوجے کے انکشافات ہیں۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وکی لکس کا کہنا ہے کہ انا تو بزرگ لیڈر ہیں اور ان کے حمایتی انہیں چنے کے جھاڑ پر چڑھا کر انشن پر بٹھا دیتے ہیں جبکہ عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا انشن پر بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی جوابدہی انا اور ان کی ٹیم کے تئیں نہیں بلکہ جنتا کے تئیں ہے۔ دیش میں پارلیمانی نظام بالاتر ہے اور اس کے عمل پر تعمیل ہوگی۔
انا نے وکی لکس کو اسی کی زبان میں جواب دیا ہے۔ لوک پال بل کے مسودے پر رضامندی کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد انا ہزارے نے بدھوار کو کہا بدعنوانی پر نیتاؤں اور افسروں کی ملی بھگت پاکستان سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے 16 اگست سے پھر انشن کرنے کے فیصلے کو دوہراتے ہوئے کہا کہ سرکار اور ان کی ایجنسیاں ان کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اس لئے سرکار کی جانب سے جن لوک پال کے بارے میں طرح طرح کے گمراہ کن بیان دئے جارہے ہیں۔ اپریل میں جنتر منتر پر پانچ دن اور 8 جون کو راج گھاٹ پر انشن دیکھنے کے بعد سرکار سمجھ گئی ہے کہ16 اگست سے شروع ہونے والی تحریک پہلے کی بہ نسبت زیادہ بڑی ہوگی۔ اس لئے طرح طرح سے جنتا کو گمراہ کرنے میں سرکار لگی ہوئی ہے۔ انا نے کہا کہ 16 اگست سے دوبارہ انشن شروع کرنے سے پہلے وہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیداری یاترا پر جانا چاہتے ہیں لیکن اس پروگرام میں انہیں دقت آرہی ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں انہیں کئی بار عدالتوں کے چکر لگانے ہوں گے۔ اگلے مہینے سے پہلے ان کے خلاف مہاراشٹر کے کچھ لیڈروں کی طرف سے دائر کردہ مقدموں کی تاریخوں میں پیش ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ معاملے صرف مجھے پریشان کرنے کیلئے دائر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکارنے انہیں پریشان کرنے کے لئے ان کے ہندسووراج ٹرسٹ جانچ پڑتال شروع کردی ہے۔ یہ سب میری توجہ بٹانے اور تحریک کمزور کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انا نے یہ بھی کہا کہ وہ گاندھی جی کے ماننے والے ہیں۔ انہیں ستیہ گرہ سے کوئی روک نہیں سکتا۔ میں پھکڑ ہوں، مجھے جیل میں ڈال دو، گولیوں نے بھون دو، میں پیچھے ہٹنے والا نہیں۔
تازہ صورتحال اب یہ ہے کہ حکومت نے تمام سیاسی پارٹیوں پر ساری بات کو منتقل کردیا ہے۔ لوک پال بل پر سرکار نے3 جولائی کو کل جماعتی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد لوک پال بل کا مسودہ کیبنٹ میں جائے گا۔ وہاں سے مسودہ فائنل ہونے پر اسے پارلیمنٹ کے اندر یاکم اگست سے شروع ہورہے مانسون اجلاس میں پیش کردیا جائے گا۔ سرکار کے ذرائع نے بتایا کہ کل جماعتی میٹنگ میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے مسودے کے ساتھ ہزارے فریق کی طرف سے بنایا گیا مسودہ بھی رکھا جائے گا۔ سرکار اور انا کے درمیان لوک پال بل پر پچھلے دو مہینوں میں قریب 9میٹنگیں ہوئی ہیں لیکن عام اتفاق رائے نہیں بن پایا۔ سرکار کے مسودے سے غیر متفق انا نے 16 اگست سے پھر انشن پر جانے کا اعلان کیا ہے۔ اب دیکھیں اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں کوئی حل نکلتا ہے۔ ان کے سامنے دو مسودے ہوں گے ایک جو انا ہزارے ٹیم نے تیار کیا ہے اور دوسرا سرکار نے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یوپی اے سرکار انا ہزارے کی مانگوں کو کسی بھی صورت میں تسلیم کرے گی۔ انا کے پاس دوبارہ تحریک شروع کرنے کے علاوہ شاید کوئی اور متبادل نہیں بچے گا۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, Jantar Mantar, Maharashtra, Rajghat, UPA, Vir Arjun

نتن گڈکری کو دھول چٹانے میں جٹے انہیں کہ پارٹی لیڈر


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
25جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک ہفتے کے ڈرامے کے بعد آخر بھاجپا نیتا شری گوپی ناتھ منڈے مان ہی گئے ہیں۔ کہا جارہا ہے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سے ملنے کے بعد مہاراشٹر میں بھاجپا کے چہرے اور لوک سبھا میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے اپنے تیور نرم کرلئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی صدر نتن گڈکری کے خلاف منڈے کی بغاوت سے پیدا بحران فی الحال ٹلنے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھاجپا جو ایک وقت میں اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس ‘کہا کرتی تھی وہ کتنی نیچے آگئی ہے اور دوسری پارٹیوں کی طرح بن کر رہ گئی ہے۔ گوپی ناتھ منڈے اتنے اہم نہیں جتنا اہم ہے پارٹی میں ڈسپلن بنائے رکھنا۔ گوپی ناتھ منڈے نے کیا کیا نہیں کیا؟ انہوں نے کھل کر پارٹی صدر نتن گڈکری کو گالی دے ڈالی۔ پہلے شیو سینا میں جانے کی کوشش کی وہاں سے ان کے دروازے بند کردئے گئے۔ پھر کانگریس میں گھسنے کی کوشش کی۔ منڈے ہیں تو پرمود مہاجن کے بہنوئی اس لئے سودے بازی میں تو اپنے آپ کو ماہر سمجھتے ہیں۔ کانگریس سے انہوں نے اپنے آنے کی شرط رکھی۔ مجھے کیبنٹ کا درجہ چاہئے۔ رپورٹوں کے مطابق وہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر و سکریٹری احمد پٹیل سے اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے بھی ملے۔ کانگریس نے الٹا شرط رکھی کہ آپ پہلے بھاجپا کی ٹکٹ پر بیڈ لوک سبھا سیٹ سے استعفیٰ دیں اور بطور کانگریس امیدوار وہاں سے ضمنی چناؤ جیتیں پھر آپ کو وزیر بنانے کی بات سوچی جائے گی۔ گوپی ناتھ منڈے اس کے لئے شاید تیار نہیں تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں پرتھوی راج چوہان کی خالی ہوئی راجیہ سبھا کی سیٹ دے دی جائے۔ جب کانگریس سے لات پڑی تو منہ بچانے کے لئے منڈے نے واپس آنے کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا۔ یہاں سشما سوراج کام آگئیں۔ کیونکہ منڈے نے نتن گڈکری کو کھلی چنوتی دی تھی اس لئے بھاجپا کا ایک گروپ کی انہیں خفیہ حمایت مل رہی تھی۔ اس گروپ کے صدر نتن گڈکری کو نیچا دکھانے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔بھاجپا کا آج ہائی کمان کیا ہے؟ کون ہے ہائی کمان؟ کانگریس میں تو سونیا گاندھی جو پارٹی صدر ہیں وہی ہائی کمان ہیں۔ ان کے فیصلے کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اچھے اچھوں کو آنکھیں دکھانے پر پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے لیکن بھاجپا میں حساب الٹا ہی ہے۔ صدر کو گالی نکالو اور ہیرو بنو۔ بھاجپا کو مضبوط کرنے میں لگے گڈکری کو پارٹی کے اندر ہی ایک گروپ روکنا چاہتا ہے تاکہ وہ پارٹی میں اپنی پکڑ مضبوط نہ کر پائیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں الجھا کر بھاجپا کی یہ لابی گڈکری کو کمزور صدر ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جس سے وہ بڑے فیصلے نہ لے سکیں۔ منڈے نے بھاجپا میں بنے رہنے کا کوئی شکھانند نہیں کیا بلکہ گڈکری کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے لئے ایک چال چلی۔ بھاجپا میں یہ لابی سرگرم ہے۔ گڈکری کے بھاجپا میں پرانے لوگوں کو لانا انہیں راس نہیں آرہا ہے۔ گڈکری نے حال ہی میں اپنے کئی انٹرویو میں جو سخت سندیش دیا اس سے بھاجپا کی دوسری لائن کے لیڈر پریشان ہیں۔ گڈکری نے صاف کہا کہ وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے اپنے ایجنڈے پر قائم رہیں گے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ پرانے جمے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے۔ گڈکری کے ساتھ ساتھ سنگھ پوری طرح کھڑا ہے۔ سنگھ چاہتا ہے کہ بھاجپا کی کھوئی ہوئی ساکھ واپس آجائے۔ گوپی ناتھ منڈے کی لڑائی اشوز پر نہیں ہے دراصل اشو ان کے لئے یہ ہے کہ ان سے جونیئر نتن گڈکری دسمبر2009 ء میں صدر بننے کے بعد ان سے اوپر کیسے پہنچ گئے۔ وہ آج بھی اپنے آپ کو گڈکری سے اوپر مانتے ہیں۔ وہ خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پارٹی کے اندر لیڈروں کے آپسی ٹکراؤ بڑھ رہے ہیں جو خود کو دوسروں سے الگ بتاتی آئی ہے۔ زیادہ دن نہیں ہوئے جب کرناٹک کے ریڈی بھائیوں کو لیکر سشما سوراج اور ارون جیٹلی کی تکرار سرخیوں میں چھائی ہوئی تھی۔ ایسا لگتا ہے پارٹی اٹل جی کے سرگرم سیاست سے الگ ہونے اور اڈوانی جی کی سرپرستی کے کردار میں آنے کے بعد سے لیڈر شپ بحران کا شکار ہے۔اصل میں پانچ سات برس پہلے تک جو لیڈر دوسری اور تیسری لائن میں گنے جاتے تھے وہ اب پہلی لائن میں شمار کئے جانے لگے ہیں اور ان میں آگے بڑھنے کی دوڑ لگ گئی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ ایسے وقت جب دیش گھوٹالوں کے غیر متوقع دور سے گذر رہا ہے ، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی شباب پر ہے اور مرکزی سرکار کی مقبولیت سب سے نچلے پائیدان پر آگئی ہے۔ بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپا کا ان سب سے لڑنے کیلئے نہ تو کوئی ٹھوس پروگرام ہے اور نہ ہی طاقتور لیڈر شپ۔ کل کو جنتا پوچھ سکتی ہے اگر جنتا آپ کو متبادل کی طرح چنے تو آپ کا پردھان منتری کا امیدوار کون ہوگا؟ آپ کی لیڈر شپ کیا ہے؟ ہماری رائے میں تو شری گوپی ناتھ منڈے کو نکال کر باہر کرنا چاہئے تھا تاکہ دوسروں کو بھی سبق ملے۔ اپنے آپ کو ’پارٹی ود دی ڈفرنس‘ کہلانے والی پارٹی سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس طرح کے سمجھوتے کرتی پھرے گی۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gopinath Munde, L K Advani, Maharashtra, Nitin Gadkari, Parmod Mahajan, Prithvi Raj Chavan, Sushma Swaraj, Vir Arjun

19 مئی 2011

کانگریس کے پاس موقعہ ہے پوار اینڈ کمپنی کو صحیح اوقات دکھائے

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 19مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چنائو کے دوران جس طرح لیفٹ فرنٹ کا مغربی بنگال میں اور تاملناڈو میں ڈی ایم کے کا صفایا ہوا ہے اس سے این سی پی صدمے کی حالت میں آگئی ہے۔ اگر ہے تو وہ فطری ہی ہے۔ پارٹی کے ورکروں میں اب یہ ہی تذکرہ چل رہا ہے کہ ڈی ایم کے کی ہار کی وجہ ٹو جی اسپیکٹرم بدعنوانی گھوٹالہ تھا تو این سی پی نیتا شرد پوار تو کئی معاملوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آئی پی ایس، ٹو جی اسپیکٹرم، لواسا جیسے کئی متنازعہ معاملوں میں جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر چلے آرہے مراٹھا پتر شرد پوار کو جنتا کیسے بخشے گی؟ اکیلے پوار ہی نہیں بلکہ پرفل پٹیل کے بھی متنازعہ اشخاص بلوا ، حسن علی سے رشتوں کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ ایئر انڈیا اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے۔ این سی پی اپنے استھاپنا دیوس10 جون کو ممبئی میں دلتوں کی ایک بڑی کانفرنس کرنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہے لیکن کانگریس این سی پی کے خیمے سے آر پی آئی کے اٹھاولے گروپ کو اپنی طرف راغب کرلینے والے بھاجپا۔ شیو سینا محاذ نے ٹھیک ایک دن پہلے بدعنوانی مخالف کانفرنس کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مہاراشٹر کے کوآپریٹو بینک کے ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے میں گلے تک ڈوبی نظر آرئی راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نیتا یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ پارٹی کے یوم تاسیس سے پہلے وہ اپنے ورکروں کو کیا پیغام دیں؟ یہاںتک کہ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے دیہی علاقوں میں پارٹی کو ورکروںکی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی پردیش آفس پر بھی ورکروں کی بھیڑ لگاتار کم ہورہی ہے اور جو لوگ وہاں دکھائی دے رہے ہیں ان کے چہرے پر بھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج نے اداسی لا دی ہے۔ پنے سے آئے ایک سینئر کانریسی لیڈر نے بتایا کہ این سی پی نے اگراپنی ساکھ کو درست کرنے کے لئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا تو ونائک دیشمکھ کی دیکھا دیکھی این سی پی کے تمام لیڈر اس سال کے آخر سے شروع ہورہے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات سے پہلے کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا سکتے ہیں۔
کانگریس کے لئے یہ موقعہ اچھا ہے شرد پوار سے ہمیشہ کے لئے نمٹ لیں۔شرد پوار کی پارٹی این سی پی کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ کانگریس نے اس کی سرزمین میں شگر لابی پر سخت حملہ کیا ہے مگر پوار کانگتیس کو کوئی کرارا جواب دینے کے بجائے اس کی چاپلوسی کرتے نظر آرہے ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد مسئلے کو چھیڑ کر الگ پارٹی بنانے والے شرد پوار کانگریس کے ہی ساتھ مل کر پچھلے12 سال سے مہاراشٹر کے اقتدار اور 6 سال سے مرکز میں اقتدار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود پوار اپنی عادت کے مطابق وقتاً فوقتاً کانگریس کو انگلی کرتے ہی رہتے ہیں۔ وزارت زراعت نے ان کی پالیسیوں اور چالبازیوں نے دیش کو زبردست مہنگائی کے دہانی پر لا کھڑا کیا ہے لیکن پوار نے یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں کی کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اس کے لئے پورے ذمہ دار ہیں۔ کانگریس کو شرد پوار ڈبا سکتے ہیں انہوں نے پہلے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ یہ موقعہ اچھا ہے اگر کانگریس تھوڑی ہمت کرلے تو شرد پوار کو صحیح اوقات دکھا سکتی ہے۔ وزارت زراعت اور پرفل پٹیل کی وزارت اس جھٹکے میں بد ل دی جانی چاہئے۔

مارکو روبیو سیدھے جام نگر کیوں گئے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روگیو حال ہی میں بھارت آئے حالانکہ وہ غیر رسمی دورہ پر آئے تھے،لیکن وہ پروٹوکول کے مطابق راجدھانی نئی دہلی نہیں آ...