Translater

18 جنوری 2020

تائیوان نے چین کو دیا زبردست جھٹکا

تائیوان میں صدر سائی وین کا دوبارہ صدر کا چناﺅ جیتنا چین کے لئے اس لئے بھاری جھٹکا ہے کیونکہ چین نے انہیں ہرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا چین کی دھمکیوں کے آگے تائیوان با لکل نہیں جھکا ۔صدارتی چناﺅ میں ایک طرف تھیں سائی ان وین تو دوسری طرف اہم حریف اور چین حمایتی ،ایم ٹی پارٹی کے چیف ہاﺅن کوان تھے ۔سنیچر کو آئے چناﺅ نتائج میں اس یورپی دیش میں پہلی خاتون صدر کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا ہے سینٹرل الیکشن کمیشن کے مطابق دیش کے 22شہروں اور کاﺅنٹی میں قریب 19310000ووٹر ہیں ۔کل ووٹروں میں چھ فیصد بیس سے 23سال کی عمر کے ہیں ۔چین تائیوان کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا وہ اسے اپنا حصہ مانتا ہے تائیوان کے معاملوں میں کسی دیش کا بولنا بھی چین کو پسند نہیں ہے ۔سائی کی جیت پر امریکہ نے خوشی ظاہر کی ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے امریکی وزیر خراجہ مائیک پومپیو نے امید جتائی ہے کہ وہ چین کی زیادتی کے دباﺅ کو بھلا کر اسکے ساتھ رشتوں میں پائیداری لانے کی کوشش کریں گے ۔سائی کی شاندار جیت پر ورکروں نے اور دیش اور پارٹی کے جھنڈے ہاتھوں میں لے خوشیاں جتائی سائی نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ آزادی اور جمہوری طریقہ سے زندگی جینے سے اسے کتنا پیار ہم اپنے دیش سے پیار کرتے ہیں یہ ہماری شان ہے ۔چین کی تمام دھمکیاں بے اثر رہیں ۔چنین ہمایتی کے ایم ٹی پارٹی کے چیف ہان کوان نے اپنی ہار تسلیم کر لی ہے ۔سائی کی ڈیموکریٹک پارٹی کو 80لاکھ ووٹوں میں سے 57فیصدی ووٹ ملے جبکہ ان کی حریف پارٹی کو 38فیصد ووٹ ملے ۔تائیوان کا نتیجہ چین کے لئے بڑے جھٹکے کا اشارہ نہیں ہے ۔اس نے سائی کو صدر کے عہدے پر پھر سے نہ لوٹنے دینے کے لئے ہان کے حق میں پوری طاقت جھونک دی تھی پچھلے چار سال سے چین نے اقتصادی اور سفارتی دباﺅ بنا رکھا تھا ۔جس سے وہاں کی جنتا سائی کی حکومت سے اکتا گئے تھے لیکن اس کی یہ پالیسی کام نہیں آئی اور سائی کی پارٹی امید سے زیادہ ووٹ سے جیت پر دوبارہ پھر اقتدار میں آگئی اُدھر ہانگ کانگ بھی چین کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ۔تمام کوششوں کے باوجود ہانگ کانگ میں احجتاجی مظاہروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے دوسرے ملکوں کو گھیرنے کی چین کی حکمت عملی اُلٹی پڑ رہی ہے تائیوان نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ چین کو بھی شکست دی جا سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

جان کی بازی داﺅں پر لگا کر ہمارے فوجی ڈیوٹی پر ڈٹے ہیں

پچھلے کئی دنوں سے کشمیر میں ہو رہی برفباری نے کنٹرول لائن علاقہ میں خوفناک تباہی مچائی ہوئی ہے ۔خاص کر فوجی ادارے اور فوجی اس کے شکار ہو رہے ہیں ۔تین دن سے برفیلے طوفان اور برفیلی چٹانیں کھسکنے سے بارہ لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں یہی نہیں دراندازوں کو روکنے کی خاطر خار دار ناکے بندی بھی کئی جگہوں پر ڈھہ گئی ہے جس وجہ سے فوج کو موسم کے خراب حالات میں بھی چوکسی اور احتیاط برتنی پڑ رہی ہے ۔ان حالات میں اپنی ڈیوٹی نبھانا انتہائی خطرناک اور مشکل ہو گیا ہے ۔ہمارے فوجی کن حالات سے گزر رہے ہیں اس ایک واقعہ سے پتہ چلتا ہے سامنے سے برف کا پہاڑ آرہا ہے اور محازی چوکی پر تعینات ہندوستانی فوج کے جوان جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی پر ڈٹے تھے ان کے پاس 40سے پچاس میٹر تک اِدھر سے اُدھر جانے کا موقعہ تھا اگر جان بچانے کو دور جاتے تو تاک لگائے بیٹھا دشمن در اندازی کر سکتا تھا انہیں بھروسہ تھا کہ برف کے نیچے دب گئے تو انہیں بچانے کے لئے ساتھی ضرور آجائیں گے اس بھروسے کے ساتھ چوکیوں پر ڈٹے جوانوں کو تو بچا لیا گیا لیکن چا جوان مادر وطن کی سرزمین کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے پچھلے 48گھنٹے میں نارتھ کشمیر اور لداخ کے حصے میں اوس سے زیادہ غیر متوقہ طور پر برف باری ہوئی ہے ۔گریز سیکٹر میں 51سینٹی میٹر اور تندھار سیکٹر میں 56سیٹی میٹر اور نو گاﺅں میں 112اری اور گلبرگ میں 61سیٹی میٹر برف پڑی ہے اس کے سبب خطے میں اب تک کا سب سے کم صفر سے 57 سیلسیز ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق فوجی چوکیوں کے آس پاس برف کے 32پہاڑ برفیلی چٹان بن کر آتے دیکھ فوج نے اپنے جوانوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا تھا ۔اور اس برفیلی چٹانیں گرنے سے پانچ فوجی برف کے نیچے دب گئے راحت بچاﺅ کام کے دوران چار فوجیوں کو نکالا گیا ۔ان میں سے تین کی موت ہو گئی جبکہ ایک فوجی اب بھی لا پتہ تھا اس کی لاش برآمد ہوئی ہے فوج نے برف میں پھنسے بی ایس ایف کے چار جوانوں کو بھی بچایا تھا ۔لیکن دل کا دورہ پڑنے کے سبب ایک جوان کی جان چلی گئی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مشکل حالات میں جوان اپنی چوکی نہیں چھوڑ سکتا ۔اسے پتہ ہے کہ موت سامنے ہے ۔لیکن وہ اپنی ڈیوٹی پر اٹل رہتا ہے چونکہ دشمن دراندازی کرنے اور چوکی پر قبضہ کرنے کی فراق میں رہتا ہے دیش واسیوں کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ہمارے بہادر فوجی اپنے جان کی بازی داﺅں پر لگا کر ہمیشہ حفاظت میں لگے رہتے ہیں ان جوانوں کو ہمارا سلام ۔جے ہند،

(انل نریندر)

17 جنوری 2020

سی اے اے کے خلاف کیرل سپریم کورٹ پہنچا

شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)2019کے خلاف کیرل ریکارڈ پر ریکارڈ بناتا جا رہا ہے ۔اب یہ دیش کی پہلی ریاست بن گیا ہے جس نے سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔کیرل نے عرضی دائر کر اس قانون کو آئین کے بنیادی جذبے کے منافی بتایا ہے ۔اور اس سے پہلے ریاست میں سی اے اے لاگو نہ کرنے کی تجویز اسمبلی میں پاس کر ریکارڈ بنا چکا ہے ۔سرکار نے مانگ کی ہے کہ اس قانون کو آئین میں برابری آزادی و سیکولرزم کے اصولوں کی خلاف ورزی والا قرار دیا جائے کمیونسٹ پارٹی قیادت والی سرکار نے عرضی میں پاسپورٹ ،ترمیم قانون2015اور غیر ملکی (ترمیم حکم 2015کے جواز کو بھی چیلنج کیا ہے یہ قاعدہ پاکستان،بنگلہ دیش،اور افغانستان سے ان غیر مسلم تارکین وطن کو یہاں رہنے کی سہولت دیتا ہے جو 31دسمبر 2014سے پہلے اس شرط پر بھارت میں داخل ہوئے تھے کہ وہ اپنے دیش میں مذہبی ٹارچر کے سبب بھاگ آئے تھے عرضی میں قانون اور انصاف وزارت کے سیکریٹری اور بھارت سرکار کو مدا علیہ بنایا گیا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنا رائے ودین نے کہا کہ ریاست ،سی اے اے کے خلاف سپریم میں اس لئے گئی چونکہ یہ قانون آئینی تقاضوں کے خلاف ہے ۔یہ آئین کے اندر رہتے ہوئے شہری حقوق کی حفاظت کرنے کی ہماری طرف سے مداخلت کی گئی ہے غور طلب ہے کہ غیر ملکی تارکین ہندو،سکھ،جین،پارسی اور عیسائی پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی سہولت دینے والے شہریت ترمیم قانون کی اپوزیشن مخالفت کر رہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جو مذہبی بنیاد پر امتیاز کا معاملہ ہے اور آئین امتیاز کی اجازت نہیں دیتا وہیں مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جن پڑوسی ملکوں سے غیر مسلموں سے مذہبی اذیت دی جاتی ہے انہیں قوموں کو شہریت دینے کے لئے خاص انتظام کیا گیا ہے ۔سرکار کا کہنا ہے کہ اس سے غیر ملکی مسلمانوں کو شہریت نہ دینے کا تذکرہ نہیں ہے ۔واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف 60عرضیاں دائر ہو چکی ہیں ان پر 22جنوری کو سماعت ہوگی ۔سپریم کورٹ نے اس قانون پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا ترمیم قانون 10جنوری سے پورے دیش میں نافذ ہو گیا ہے ۔اب دیکھتے ہیں کہ 22جنوری کو سپریم کورٹ سماعت کے دوران کیا فیصلہ دیتا ہے اس پر دیش دنیا کی نظریں ٹکی رہیں گی ۔

(انل نریندر)

ڈی ایس پی دیوندر کی گرفتاری پر سیاست گرمائی

کشمیر میں دہشتگردوں کے ساتھ گرفتار ہوئے ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کے رول پر منگل کے روز کانگریس نے سنگین سوال کھڑے کئے ہیں اس کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے کے وقت دیوندر سنگھ وہیں تعینات تھے اور اس حملے کی پھر سے جانچ ہونی چاہیے ۔پارٹی دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینئر کانگریسی لیڈر رندیپ سنگھ سورجیوالا نے کہا کہ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے اس پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی بیان دینا چاہیے ۔2001میں پارلیمنٹ اور پلوامہ آتنکی حملے میں بھی دیوندر سنگھ کا نام آیا ہے اس سے پہلے لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ پلوامہ جیسے واقعات کے قصوروار کون تھے اس پر نئے سرے سے جانچ ہونی چاہیے تب ہمارے 42جوان شہید ہو گئے تھے چودھری نے آگے کہا کہ اگر ڈی ایس پی کا نام دیوندر خان ہوتا تو آر ایس ایس کی ٹرول ریجی منٹ کی بے حد رد عمل صاف اور تلخ ہوتا دیش کے دشمنوں کے رنگ اور نسل اور فرقہ سے موازنہ کرنے کی سخت مذمت ہونی چاہیے بھاجپا نے منگل کو کانگریس کے الزامات پر کہا کہ اپوزیشن پارٹی بھارت پر حملہ کرنے اور پاکستان کو بچانے میں ماہر ہے بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے ڈی ایس پی دیوندر سنگھ کی گرفتاری پر کانگریس کے ذریعہ مذہب تلاشنے کو لے کر اپوزیشن سخت نکتہ چینی کی اور اس طرح سے کانگریس پاکستان کو اکسیجن دینے اور بھارت پر حملہ کرنے والے کے طور پر سمٹ گئی ہے ۔انہوںنے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹی کا پڑوسی دیش کا بچاﺅ کرنے کی تاریخ رہی ہے ۔انہوںنے کانگریس کو یہ وضاحت کرنے کی چنوتی دی کہ کیا انہیں پلوامہ حملے کے گنہگاروں کو لے کر کوئی شبہ ہے ؟انہوںنے کہا کہ ایسے کئی پہلوسامنے آئے جو سازش ظاہر کرتے ہیں ۔کانگریس پاکستان کی زبان بولتی ہے اور اس نے پھر دہشتگردی میں مذہب تلاش لیا ہے اسی نے ہندو دہشتگردی کی بات کی تھی ۔کچھ دن پہلے کانگریس لیڈر ترن گگوئی نے پی ایم مودی کو ہندو جنا کہا تھا ۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی کہا تھا کہ ہمیں سی می یا اسلامی دہشتگردی سے ڈر نہیں ہے ہمیں ہندﺅں سے ڈر ہے یہ پارٹی روز کسی نہ کسی بات پر پاکستان کی پیٹ سہلاتی ہے اور ہندوستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپتی ہے ڈی ایس پی دیوندر سنگھ پہلے بھی کئی معاملوں میں سرخیوں میں رہے ہیں ۔1990میں انہیں سب انسپیکٹر مقرر کیا تھا اور انہیں آزمائشی کام کے دوران اس نے اور اس کے ساتھی نے ایک ٹرک سے برآمد نشیلی چیزوں کو بیچ دیا تھا ۔اوراس کی برخاستگی اس وقت کے آئی جی نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روک دی تھی اس کے بعد دونوں کو ایس او جی میں بھیج دیا گیا ۔1997میں کشمیر کے بڑگام میں تعیناتی کے دوران زد فدیہ مانگے جانے پر اسے پولس لائن میں بھیج دیا گیا تھا ۔2015میں اس وقت کے ڈی جی پی راجیندر نے اس کی تعیناتی شونپیہ اور پلوامہ ضلع ہیڈ کوارٹر میں کر دی تھی ۔پلوامہ میں گڑبڑی کی شکایت پر اس وقت کے ڈی جی پی وید نے اگست 2018میں این ٹی ہائی جیکنگ ونگ میں بھیج دیا تھا دیکھیں جانچ میں دیوندر کے خلاف اور کتنے معمے سامنے آتے ہیں ؟

(انل نریندر)

16 جنوری 2020

امریکہ اور ایران جنگ کے چھٹتے بادل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے رو ز اشارہ دیا کہ وہ عراق میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کا جواب فوجی طریقے سے نہیں دے گا جس کے بعد دونوں ملکوں میں جنگ کے حالات پہنچنے سے پہلے اپنے قدم کھینچتے دکھائی دیئے ایرانی لیڈروں اور لوگوں کو سیدھا پیغام دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ان سبھی کے ساتھ امن کے لئے تیار ہے ۔جو امن چاہتے ہیں ایران کے لیڈروں اور لوگوں کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ کا شاندار مستقبل ہو جس کے آپ حق دار ہیں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹ کے ذریعہ کہا ہے کہ ایران جنگ بڑھانا نہیں چاہتا صاف طور پر اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ آگے اگر امریکہ کوئی جوابی کارروائی نہیں کرئے گا تو امریکہ بھی کچھ قدم نہیں اُٹھائے گا یہ تشفی کی بات ہے کہ جنگ کے بادل جو چھائے ہوئے تھے وہ آہستہ آہستہ چھٹنے لگے ہیں بے شک دونوں ملکوں کے پیچھے ہٹنے کے اپنے اپنے اسباب ہیں ایران اور امریکہ جنگ نہیں چاہتے اس لئے کشیدگی کم کرنے کے لئے قدم اُٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ایسا صدر ٹرمپ کے بیان اور ایران کے میزائل آٹیک میں بھی دیکھنے میں بھی ملا ایران اس لئے بھی جنگ سے پیچھے ہٹ رہا ہے کہ کیونکہ اس کے اقتصادی اور اندرونی حالات اچھے نہیں ہیں ۔امریکہ کے لوگ بھی جنگ نہیں چاہتے ایسا پہلے کئی بار کہہ چکے ٹرمپ کیونکہ اسی سال امریکہ نے صدارتی چناﺅ ہونا ہے اگر جنگ ہوتی تو ٹرمپ کو کمپین میں نتیجوں کا جنتا کو جواب دینا ہوگا ۔ایران کا پرانا ریکارڈ ہمیشہ فوراََ فیصلے لینے والا رہا ہے ۔خلیج میں کشیدگی کم ہونا ہر کسی کے لئے فائدہ مند ہے ۔چین ،روس،سعودی عرب،ا سرائیل اور یورپی ممالک بھی جنگ نہیں چاہتے اس لئے وہ امن اور تحمل برتنے کی بار بار نصیحت دیتے رہے ہیں ۔کیونکہ دنیا کا کوئی بھی دیش فی الحال جنگ کو برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہے حالانکہ ایران امریکہ کے درمیان بات چیت سیدھی ممکن ہے ۔اس لئے اس میں تیسرے فریق کی گنجائش نہیں ہے ایران کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ قدم اُٹھاتا ہے تو دنیا کے دیگر دیش اس کے خلاف ہو جائیں گے جو ابھی تک ساتھ ہیں خلیج میں کشیدگی کم ہونا ہر لحاظ سے بھارت کے لئے فائدہ مند ہوگا کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی مقیم ہیں ۔اس لئے بحریہ لوگوں کو نکالنے کے لے تیار ہے حالانکہ ابھی ایسی نوبت نہیں آئی بھارت میں سب سے زیادہ پیسہ اور تیل یہیں سے آتا ہے خاص کر عراق کے حالات کیونکہ خلیج میں عراق بھارت کو تیل دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے ۔ایران کے چاہ بار بندرگاہ میں بھی ہندوستان کی بڑی سرمایہ کاری ہے ہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بادل چھٹنے پر بدھائی دیتے ہیں ۔ان دونوں دیشوں میں جنگ پوری دنیا کو متاثر کرئے گی ۔سبھی کو اسے ٹالنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دونوں ملکوں کو صبر سے کام لینا ہوگا ۔

(انل نریندر)

اقتصادی محاذ پر ڈبل جھٹکا

سال2020اقتصادی محاذ پر تشویش ناک خبر لے کر آیا ہے دیش کے سب سے بڑے سرکار بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے ملک میں اقتصادی سستی کی تشویشناک پیش کی ہے ۔بینک کے چیف اقتصادی مشیر ڈاکٹر سمیا ،کانتی گھوش،کی رپورٹ کے مطابق سال 2019-20میں قریب 16لاکھ نوکریاں ہی مل پائیں گی جبکہ 2018-19میں 89.7لاکھ نوکریاں ملیں تھیں اس لحاظ سے اس سال 16لاکھ روزگار میں کمی ہوگی ای پی ایف او ڈیٹا پر مبنی رپورٹ کے مطابق اپریل،اکتوبر، 2019تک 43.1لاکھ نئی نوکریاں ملیں تھیں پورے برس کے لئے اس کا اوسط 73.9لاکھ ہے این پی ایس رجحانوں کے مطابق سرکاری ملازمتوں کی تعداد بھی 39ہزار کم رہنے کی بات کہی گئی ہے ۔دوسری ریاستوں نوکری کر رہے لوگ اپنے گھر پر کم پیسہ بھیج رہے ہیں دیوالیہ کارروائی کے فیصلے میں تاخیر کے سبب کمپنیاں ملازمین کی کٹوتی کر رہی ہیں ۔یہ اس کی وجہ سے ہو سکتی ہے ۔ساتھ میں انکریمنٹ بھی کم لگنے کا اندیشہ ہے ۔پانچ برسوں میں پیداوار اضافی شرح 9.4سے 9.90کے درمیان رہی اس سے کم تنخواہ اضافے کا اندیشہ ہے ۔اس کی وجہ سے کارپوریٹ اور دیگر لوگ غیر ضروری قرض بھی لے سکتے ہیں ۔رپورٹ آگاہ کرنے والی ہے چونکہ وول برگ کے مطابق دیش میں بے روزگاری شرح45سال میں سب سے زیادہ ہے ۔سرکار خود ایک دہائی کی سب سے کم اضافی شرح سے لڑ رہی ہے ایسے میں گھٹتی نوکریوں سے سرکار پر دباﺅ بنے گا این سی آر وی ڈیٹا کے مطابق 2018میں 12ہزار سے زیادہ بے روزگاروں نے خودکشی کی تھی ۔ایک طرف بڑھتی بے روزگاری دوسری طرف بڑھتی مہنگائی کی مار نے جنتا کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔دسمبر 2019میں خوردہ مہنگائی شرح 7.35فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔جو پانچ سال میں سب سے زیادہ ہے اس سے پہلے مودی سرکار کے شروعاتی دنوں میں جولائی 2014میں یہ سب سے زیادہ 7.39فیصد درج ہوئی تھی مہنگائی شرح بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ خوردنی اجناس خاص کر پیاز دس گنا مہنگا ہونا جاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2018کے مقابلے دسمبر میں سبزیاں 60.5فیصد مہنگی ہوئی جبکہ خوردنی اجناس شرح 14.12فیصد رہی دسمبر 2018میں 2.65فیصد تھی نومبر 2019میں غذائی مہنگائی شرح 10.01فیصد تھی ۔قابل غور ہے کہ دسمبر میں پیاز 150روپئے کلو تک بکی اور اس کو کم کرنے کے لئے قابل غور قدم نہیں اُٹھائے گئے تو دیش مشکل میں جا سکتا ہے بڑھتی بے روزگاری کے ساتھ اونچی مہنگائی شرح اور مانگ کی کمی کو اسٹیگ فلیشن کہتے ہیں ۔ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنوری کے اعداد و شمار سے بہتری کی امید ہے ۔آر بی آئی کو خوردہ مہنگائی پر 2سے 6فیصدی کی حد کے اندر رکھنی ہوتی ہے ۔

(انل نریندر)

15 جنوری 2020

کوئٹہ میں طالبانی اجلاس میں خود کش حملہ

پاکستان میں بم دھماکوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے کوئٹہ شہر کی مسجد میں طالبان کے اجلاس کے دوران ہوئے دھماکے میں 30لوگ مارے گئے اس میں طالبان کا سپریم لیڈر شیخ عبدالحکیم اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تین افسران موجود تھے ۔ایس آئی ٹی ای خفیہ کے مطابق آئی ایس آئی ایس نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے ۔حالانکہ پاکستانی خبر رساں ایجنسی نے یہ دھماکہ ایک مدرسے میں ہونے کی بات کہی ہے ۔آئی ایس آئی ایس نے مسجد کے اندر ہوئے اس حملے پر پاکستانی ٹیلی گرام چینل اور کچھ غیر ملکی سماچار ایجنسیوں کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ اس نے کچھ افغان طالبان کے ممبران کو نشانہ بناتے ہوئے یہ حملہ کیا ہے لیکن طالبان کے ترجمان محمد یوسف نے اس سے انکار کیا ہے ۔کہ مسجد کے اندر کوئی افغان طالبان ممبر موجود تھا ۔بلوچستان سرکار کے ترجمان لیاقت شاہ واسی نے کہا کہ اس خود کش دھماکے میں 16لوگ مارے گئے اور 19زخمی ہوئے مرنے والے نمازیوں پر بھی کنفویزن ہے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں تیس لوگ مارے گئے جبکہ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت ساٹھ لوگ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے ۔اس خطرناک حملے سے تین دن پہلے کوئٹہ میں ہی بم دھماکے میں دو لوگوں کی موت ہو گئی تھی ۔اس واقعہ پر اپنے رد عمل میں صدر مامون عبدالقیوم اور وزیر اعظم عمران خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی موت پر دکھ ظاہر کیا ۔انہوںنے مرحومین کی روح کی شانتی کے لئے دعا اور زخمیوں کو جلد صحت یاب ہونے کی دعا کی ۔وزیر اعظم عمران خان نے اس دھماکے پر رپورٹ مانگی ہے ۔صوبائی سرکار سے زخمیوں کو ہر ممکن طبی مدد پہنچانے کو کہا ہے کوئٹہ پولس کے ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ کہ مرنے والوں میں پولس کا ڈی ایس پی عمر امان اللہ بھی شامل ہے ۔ایک اخبار ایکسپریس ڈریبوین کے مطابق پچھلے مہینے نا معلوم بندوقچیوں نے ڈی ایس پی کے بیٹے کا کوئٹہ میں قتل کر دیا تھا ۔پولس شہری انتظامیہ کی مدد کی جائے گی فوج کے چیف جنرل باجوا کے حوالے سے کہا گیا کہ بے گناہوں کو نشانہ بنانے والے کبھی سچے مسلمان نہیں ہو سکتے ہارے ہوئے دہشتگردوں کے منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہو نے دیئے جائیں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ یہ حملہ کسی رقابت کا حصہ ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

ڈی ایس پی کا دہشتگردوں کے ساتھ گرفتار ہونا

جموں و کشمیر کے جنوبی کشمیر کے علاقے کلگام کے میر بازار علاقہ سے حزب المجاہدین کے کمانڈر نوید بابو سمیت دو دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔چونکانے والی بات یہ تھی کہ چیکنگ کے دوران جب ان تینوں کو گرفتار کیا گیا تو ان کے ساتھ جموں و کشمیر پولس کا ایک ڈی ایس پی بھی موجود تھا ۔سیکورٹی فورس نے اسے بھی گرفتار کر لیا یہ ڈی ایس پی راشٹرپتی پولس ونر ہے ۔یہ پولس افسر سری نگر ائیر پورٹ انٹی ہائی جیکنگ اسکوائڈ میں تعینات تھا ۔اس کی شناخت دیوندر سنگھ کی شکل میں ہوئی ہے ۔آتنکوادیوں میں سید نوید مشتاق عرف نوید بابو جس کا نمبر آتنکی سرغنہ ریاض نائیکو کے بعد آتا ہے ۔دوسرے نمبر کا دہشتگرد آصف راکر ہے ۔پولس نے تینوں کو حزب المجاہدین کا آتنکی بتایا ہے ۔آصف تین سال پہلے اس آتنکی تنظیم سے وابسطہ ہوا تھا دہشتگردوں نے بتایا کہ ڈی ایس پی آتنکوادیوں کو وادی سے باہر نکلنے میں مدد کرتا تھا اور اس کی مدد سے دہشتگرد دہلی آنے والے تھے اِدھر ڈی ایس پی کے گھر پر چھاپے کے دوران پانچ دستی گولے تین اے کے 47رائفلیں برآمد ہوئی ہیں۔دیوندر سنگھ کو پچھلے سال پندرہ اگست کو راشٹرپتی کے میڈیل سے نوازہ گیا تھا ۔اس کی تعیناتی سری نگر ائیرپورٹ پر تھی اس سے پہلے 2001میں پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اس کا نام سرخیوں میں آیا تھا تب وہ انسپکٹر کی شکل میں اسپیشل گروپ کا حصہ بنا تھا ۔شروعاتی پوچھ تاچھ میں سامنے آیا ہے کہ ڈی ایس پی کی کار میں سوار دونوں دہشتگردوں سے مبینہ طور سے 12لاکھ روپئے میں سودے بازی ہوئی تھی اور اس رقم کے بدلے ان دہشتگردوں کو وادی سے نکال کر چنڈی گڑھ اور دہلی لے جانے والا تھا ۔اور اتنا ہی نہیں اپنے منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے اس نے باقاعدہ چار دن کی چھٹی بھی لی تھی ۔جموں و کشمیر پولس اور دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ سے سیکورٹی ایجنسیاں بھی گھبرا گئی ہیں ۔ان کی سانٹھ گانٹھ کی پرتیں اب آئی بی اور راءجیسی مرکزی ایجنسیوں کی مشترکہ جانچ میں کھلیں گی ۔ذرائع کی مانیں تو خطرناک دہشتگردوں کے لئے ہتھیاروں کی ڈیل کرانے کا ذمہ بھی ڈی ایس پی کے پاس تھا ۔اس معاملے میں سیکورٹی ایجنسیاں پوچھ تاچھ کر رہی ہیں ۔اس میں بڑے راز کھل سکتے ہیں ۔اتوار کو ریاستی پولس کے ڈائرکٹر جنرل وجے کمار نے کہا کہ ڈی ایس پی دیوندر سنگھ گھناونہ جرائم کیا ہے پوری سچائی تو حالانکہ جانچ کے بعد ہی سامنے آپائے گی لیکن فی الحال سوال تو اُٹھے گا ہی کہ ایسے مشتبہ شخص کو اہم ترین ذمہ داری اور پھر پچھلے سال راشٹرپتی میڈیل کس بنیاد پر دیا گیا ؟یہ معاملہ گہری جانچ سے ہی کھلے گا بلکہ اب اس کی بھی گہری پڑتال کی ضرورت ہے کہ وہاں پولس اور سیکورٹی فورسیز میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو دہشتگردی کے خلاف لڑائی کو منظم طریقے سے اندر اندر کھوکھلا کر رہے ہیں ۔اس طرح تو دہشتگردی کے خلاف لڑائی مشکل ہو جاے گی ۔

(انل نریندر)

14 جنوری 2020

سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی سرکار کے لئے بڑا جھٹکا

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ جموں وکشمیر میں انٹر نیٹ سروس کو بے معیادی بند نہیں کیا جاسکتا۔انٹرنیٹ کا استعمال آئین کی دفعہ19(1)کے تحت بنیادی حق ہے ۔حالانکہ پچھلے سال اگست میں جب دفعہ144نافذ ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر میں انٹرنیٹ پر پوری طرح روک لگا دی گئی تھی ۔تبھی سے الگ الگ علاقوں کے لوگوں اور سیاسی پارٹیوںنے سرکار کے اس فیصلے کی سخت نکتہ چینی کی تھی اسے اظہار آزادی کو کچلنے کے طور پر دیکھا گیا تھا اور سرکار سے اس فیصلے کو واپس لینے کی مانگ کی گئی تھی تمام نکتہ چینوں اور ملامتوں کے باوجود سرکار نے اس مانگ کو نظر انداز کیا ۔اتنے مہینوںسے شورش پھیلانے کے اندیشے کا حوالہ دے کر دفعہ144کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر پابندی برقرار رکھی گئی لیکن اب سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس معاملے میں جو رائے زنی کی ہے وہ سرکار کے اس فیصلے کو ایک طرح سے کٹگھرے میں کھڑا کرتی ہے ۔سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کو آئین کے آرٹیکل 370کے زیادہ تر تقاضوں کو ختم کرنے کے بعد لگائی گئی پابندیوں پر ایک ہفتے کے اندر جائزہ لینے کو کہا ہے ۔کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد اور متعدد عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے دیش کی سب سے بڑی عدالت نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے بینکنگ ،اسپتال،تعلیمی اداروں سمیت سبھی ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے صاف کہا کہ انٹرنیٹ کو سرکار بے معیادی بند نہیں کر سکتی ۔جسٹس رمن ،جسٹس آر سبھاش ریڈی ،اور جسٹس وی آر گوئی کی تین ممبری بنچ نے کہا کہ لوگوں کو نا اتفاقی جتانے کا پورا حق ہے دفعہ 144کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے ۔مخالف نظریات کو کچلنے کے اوزار کے طور پر اس بے جا استعمال نہ ہو ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کشمیر میں تشدد کی لمبی تاریخ رہی ہے ہمیں آزادی اور حفاظت میں توازن بنائے رکھنا ہوگا اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے ۔انٹرنیٹ کو ضرورت پڑنے پر بند کیا جانا چاہیے ۔پانچ اگست 2019کو آرٹیکل 370ختم ہونے کے بعد سے پوری ریاست میں انٹرنیٹ سروس بند ہے نئے سال میں مودی سرکار کے لئے سپریم کورٹ کی طرف سے بڑا جھٹکا قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینر لیڈر غلام نبی آزاد نے دعوی کیا ہے کہ سرکار نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی اس بار بڑی عدالت کسی بھی دباﺅ میں نہیں آئی وہیں دوسرے کانگریسی نیتا کپل سبل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے وہیں چدمبرم نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ مرکز کے غرور والے نظریے کو مسترد کرتا ہے یقینی طور سے مودی سرکار کے لئے زبردست جھٹکا ہے ۔

(انل نریندر)

یوکرین کا طیارہ ایرانی فوج کی غلطی کا شکار ہوا

ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کے ٹھیک بعد تہران سے یوکرین جا رہا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا تھا وہیں ایران کے نیوکلیائی تنصیبات کے پاس ذلزلے کے تیز جھٹکے محسوس کئے گئے تھے ایران نے دونوں واقعات میں کسی طرح کی سازش سے انکار کیا تھا لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے پورے معاملے کا معمہ سنگین ہو گیا ۔ایران کی ایک نیوز ایجنسی کے مطابق تحران بین الااقوامی ہوائی اڈے کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تکنیکی اسباب سے طیارے کے انجن میں آگ لگ گئی تھی دوسری طرف ماہرین دعوی کر رہے تھے کہ طیارہ میزائل کا شکار ہوا ہے اُدھرکناڈہ کے وزیر جسٹن ہڈو نے کہا کہ متعدد خفیہ اطلاعات اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ ایران نے طیارے کو مار گرایا ۔اس حادثے نے 176لوگوں کی موت ہو گئی تھی جس میں 63کناڈہ کے شہری تھے اس طیارے میں ایران کے 63یوکرین کے 111سوڈان کے 10افغانستان کے 4جرمنی کے 3برطانیہ کے 3شہری سوار تھے کناڈہ اور برطانیہ کے ساتھی کئی دیشوں کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ ایران کی میزائل کے زد میں آگیا تھا برطانیہ کے وزیر بورس جونسن نے کہا کہ اب ایسی جانکاری ملی ہے کہ ایران میں حادثے کا شکار ہوا یوکرین کا بوئنگ 747ایران کی میزائل کی زد میں تھا ۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایران نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا ہو سوشل میڈیا میں ایسے بہت سے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کو گرائے جانے کے وقت کے ہیں ۔نیویارک ٹائمس نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا اس نے ایک ویڈیو کا ویرفیکیشن کیا ویڈیو میں کوئی چیز آسمان کی طرف آتی دکھائی دے رہی ہے اور اس کے بعد اس کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے ۔اور یہ تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہے اور کچھ سیکنڈ کے بعد تیز دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے تمام الزامات کے بعد پہلے منع کرنے والے ایران کو آخر کار ماننا پڑا کہ تیارہ ایرانی میزائلوں نے ہی غلطی سے نشانہ بنایا تھا ۔ایران نے کناڈا آسٹریلیا اور برطانیہ کے دعوے کے درمیان جمعہ کو کہا تھا کہ اس کی میزائل سے یوکرین کا جہاز نہیں گرا تھا ۔واضح ہو کہ کمانڈر قاسم سلیمانی کے ائیر اسٹرائک میں مارے جانے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران نے عراق میں موجود امریکی ائیر بیس کو نشانہ بنانے کے لئے میزائل داغے تھے اُسی دوران نیوکرین کا ایک بوئنگ میزائل کی زد میں آکر حادثے کا شکار ہو گیا ۔اب ایران نے اعتراف کر لیا ہے کہ طیارہ غیر ارادی چوک کے سبب ایران کی میزائل سے ہی گرا سوال اُٹھتا ہے کہ طیارے میں سوار 176لوگوں کی موت ذمہ دار کون ہے کیا ایران متوفی مسافروں کے ورثاءکو اب معاوضہ دینے کو تیار ہے؟

(انل نریندر)

12 جنوری 2020

تشدد کے چلتے کینسل ہو رہی ہے سیاحو ں کی بھارت آمد

دیش میں شہریت قانون میں ترمیم کے بعد برپا تشدد کی وجہ سے ملک کی معیشت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے خاص کر سیاحتی صنعت اس سے سیدھی متاثر ہوئی ہے ۔دیش بھر میں مظاہروں کی وجہ سے 25لوگوں کی اموات ہونے کی خبر ملنے کے بعد امریکہ،برطانیہ ،روس،سمیت کم سے کم سات ملکوں نے اپنے شہریوں کو بھارت نہ جانے کی صلاح دی ہے ۔اس کے بعد وسیع پیمانے پر بکنگ منسوخ کرائی گئی اکیلے تاج محل کا دیدار کرنے کے لئے بکنگ کرانے والے دو لاکھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے پچھلے دو ہفتے میں اپنا آگرہ دورہ اور ہوٹل و دیگر سیاحتی مقامات کی بکنگ کو عین موقع پر منسوخ کر دیا ہے ۔ایسے میں دیش کے لئے بڑا مالی نقصان کہا جا سکتا ہے جو پچھلے چھ برسوں میں معیشت کی دھیمی رفتارکی وجہ سے جی ڈی پی 4.5فیصدی پر آگئی ہے تاج محل کے پاس بنے اسپیشل ٹورزم پولیس تھانے کے انسپکڑ دنیش کمار کا کہنا ہے کہ اس سال دسمبر میں پچھلے سال کے مقابلے سیاحوں کی آمد 60فیصدی کم رہی ۔وہیں آسام میں سیاحتی ڈیلپمینٹ کارپوریشن کے چیف جین بھلہ بروا کا کہنا ہے کہ ہر سال دسمبر کے دوران ریاست میں قریب پانچ لاکھ سیاح آتے ہیں لیکن اس مرتبہ تحریکوں اور مختلف ممالک کی ٹراول ایڈوایزری کے چلتے یہ اعداد وشمار 90فیصد کم ہو گئے عام طورپر ہر سال 65لاکھ غیر ملکی سیاح تاج محل دیکھنے آتے ہیں اور ان سے داخلہ فیس کی شکل میں 100کروڑ روپئے کی کمائی ہوتی ہے ہر غیر ملکی سیاح سے داخلہ ٹکٹ کی شکل میں 11سو روپئے لئے جاتے ہیں ۔یورپی سیاحوں کے گروپ میں شامل ریچرڈ بیکر ڈیو کا کہنا ہے کہ ہم سبھی ریٹائرڈ لوگ ہیں ہمارے لئے سفر دھیما اور آرام دہ ہونا چاہیے آخبارات کی اہم خبریں تشویش پیدا کر رہی ہیں اور ہم اپنی پہلے سے طے یوجنا کے بجائے واپس لوٹ رہے ہیں ۔سرکار کو چاہیے کہ دیش میں شہریت قانون کے پیدا تنازعہ کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں کمی کو سنجیدگی سے لے اور ایسا خوشگوار ماحول بنائے جس سے غیر ملکی سیاح بے خوف و خطر بھارت آنے لگیں ۔

(انل نریندر)

بھوکے بچوں کی چیخ سن کر سامنے آیا سیکورٹی فورس کا نیا اوتار

واقعہ 2جنوری کا ہے جو اتوار کو سامنے آیا بتایا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سی آر پی ایف کی ایک ہیلپ لائن پر شام 5:30بجے ایک خاتون کا فون آیا کہ اس کا خاندان سری نگر جموں ہائی وے پر جام میں پھنسا ہوا ہے بچے بھوکے ہیں اور بھوک سے بلبلا رہے ہیں مدد کیجئے ۔آصفہ نام کی اس خاتون کے فون پر سی آر پی ایف کی 167ویں بٹالین کی ڈی کمپینی فورا ایکشن میں آتی ہے اور پیدل ہی نکل پڑتی ہے برفیلے راستے میں بارہ کلو میٹر چل کر اُس خاندان کے لئے کھانہ پہنچا دیا جاتا ہے کھانا پہنچتے ہی ٹیم کے اسپیکٹر رگھویر سنگھ نے پورے واقعہ کو میڈیا کو بتایا پڑھیے رگھویر سنگھ کی زبانی ....ہمیں شام 5:30بجے کے بعد حکم ملا کہ ہائی وے پر جام میں ایک خاندان پھنسا ہوا ہے جس میں دو بچے ہیں اور صبح سے انہوںنے کچھ نہیں کھایا اس لئے ان کے لئے کھانہ پہنچانا ہے یہ کام ہمارے لئے ایک طرح کا امتحان تھا ۔دراصل ہمیں ایسی ذمہ داری کا ملنے کا اندازہ نہیں تھا خیر ہم نے چھ لوگوں کی ٹیم بنائی اور دال چاول دو ڈھائی لیٹر دودھ چھ لیڑ گرم پانی پھل اور بسکٹ لے کر نکل پڑے دو کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد ہمیں لمبا جام دکھائی دیا لیکن اُس خاندان تک پہنچے میں بارہ کلو میٹر تک چلنا پڑا ہمارے پاس اُس پریوار کا فون آیا اس لئے اس کو تلاشنے میں دقت نہیں ہوئی لوگ چٹانیں گرنے کی وجہ سے سڑک پر جام میں پھنسے ہوئے تھے ہم نے فون پر اُس خاتون کو بھروسہ دلایا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کھانہ آگیا ہے ۔یہ سنتے ہی بچوں کے ہونٹوں اور چہروں پر خوشی کی لہر سی دوڑ گئی تین-چار سال کے دو بچے تھے ہم نے اس عورت سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلیے لیکن گاڑی میں بیٹھی دونوں عورتوں نے پیدل چلنے میں معزوری دکھائی اگر جام نہیں کھلتا ہے تو آپ کو اُٹھا کر ہی اگلے اسٹیشن تک لے چلیں گے لیکن وہ لوگ وہاں رکنا چاہتے تھے سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں اس لئے کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں تھا انہیں صرف کھانا چاہیے تھا ان کے کھانا کھانے تک رات آٹھ بجے تک وہیں رکے رہے اور فون دے کر واپس چل دئے اور اس کے بعد بارہ کلو میٹر تک پھر واپس چل کر اپنے بیس کیمپ پر گیارہ بجے واپس پہنچ گئے لیکن اس پریوار کا کوئی فون نہیں آیا صبح وہ جموں پہنچ گئے تو فون کر کے شکریہ ادا کیا یہ بات ہماری سیکورٹی فورس کو بہت سکون دینے والی تھی ہمارے جوانوں کو اکثر و بیشتر نکتہ چینی سننے کو ملتی ہے لیکن ایسے فلاحی کاموں کو کم بتایا جاتا ہے سی آر پی ایف جوانوں نے ان کی غذائی مدد کر کے پریوار کو بچا لیا حالانکہ مدد کی فراہمی میں برفیلے موسم میں 24کلو میٹر ٹھنڈ میں پیدل آنا جانا پڑا ہم سی آر پی ایف کی اس ٹیم کو بدھائی دینا چاہتے ہیں ۔

(انل نریندر)

مظاہرہ جائز لیکن تشدد کا حق نہیں

الہٰ آباد ہائی کورٹ نے شہریت ترمیم قانون کو لے کر ہوئے احتجاجی مظاہرے و تشدد پر سرکاری کارروائی کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں سرکار کے خلاف احتجاجی آواز اُٹھانے اور مظاہرے کا شہریوں کو بنیادی حق حاصل ہے لیکن یہ دوسروں کے بنیادی حقوق کے بر عکس استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔لوگوں کو سڑک پر جلوس نکال کر ریلی یا مظاہرے کرنے کا حق ہے مگر انہیں ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے کا حق نہیں ہے ۔ایمبولینس ،فائر سروس وغیرہ ضروری خدمات کو روکا نہیں جا سکتا اگر کوئی تنظیم مظاہرہ کرتی ہے تشدد برپا کرتی ہے تو وہ اپنی جواب دہی سے یہ کہہ کرنہیں بچ سکتی کہ تشدد میں باہری لوگوں کا ہاتھ ہے ۔یہ حکم جسٹس سدھیر اگروال و جسٹس راجیو مشرا کی بنچ نے لکھنﺅ کے وکیل رجت گنگوار کی مفاد عامہ کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے دیا اور صاف کیا کہ ہر ایک دھرنے کے لے احتجاجی مارچ نکالنے والوں کی جواب دہی ہوگی اگر امن و نظام قائم رکھنے کے لئے دفعہ 144نافذ کی گئی ہے تو اس کے جواز کو چنوتی نہیں دی گئی ہے تو پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کا کو شخص یا کسی گروپ کو حق نہیں ہے ۔آئینی افسر کو قانون نافذ کرنے کے لئے ضروری کارروائی کا پورا حق ہے کورٹ نے کہا کہ عرضی گزار یہ بتانے میں ناکام رہا ہے کہ سرکاری کارروائی اُس کے یا تنظیم کے بنیادی حقوق کے خلاف تھی اس کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس پر کہا جا سکے کہ سرکاری کارروائی میں شفافیت کی کمی ہے اُدھر الہٰ آباد ہائی کورٹ نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں مظاہرے کے دوران پولیس کارروائی کی جانچ کر رہی قومی انسانی حقوق کمیشن کو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ دینے کی ہدایت دی ہے عدالت نے کمیشن کی جانچ کے چلتے ایس آئی ٹی سے معاملے کی جانچ کا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے یہ حکم چیف جسٹس گووند ماتھر و جسٹس وویک ورما کی ڈیوژن بنچ نے محمد ایان خان کی عرضی پر دیا ہے ۔سرکار کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں 26لوگوں کو تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔پولس نے قانون کے تحت کارروائی کی ہے ۔اس تشدد میں کئی طلباءزخمی ہوئے تھے کورٹ نے کہا کہ کمیشن جانچ کر رہا ہے اور نو جنوری تک اسٹاف کی معرفت عرضی کی فوٹو کاپی کمیشن کو دستیاب کرائیں اور کمیشن اپنی توثیق یا جانچ رپورٹ کورٹ میں پیش کرئے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...