Translater

19 دسمبر 2015

ڈی ڈی سی اے: کرکٹ کا کامن ویلتھ گھوٹالہ

گذشتہ دو دنوں سے یا کہیں کہ دہلی سچیوالیہ میں سی بی آئی کے چھاپے سے ناراض و بوکھلائی عام آدمی پارٹی نے جمعرات کو مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی پر سیدھا حملہ بول دیا ہے۔ پارٹی نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کر دہلی و ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن(ڈی ڈی سی اے) میں بڑے مالی گھوٹالے اور گڑبڑیوں کے الزام دوہرائے، جس کے 2013ء تک صدر ارون جیٹلی تھے۔وزیر اعلی اروند کیجیریوال نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے ہلا بولا اور جیٹلی کے استعفے کی مانگ کرڈالی۔پریس کانفرنس میں ڈی ڈی سی اے کو کرکٹ کا کامن ویلتھ گھوٹالہ قراردیا گیا۔ میں قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آخر ڈی ڈی سی اے کا معاملہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کے 14 سال تک چیف رہے۔ سابق کرکٹر کیرتی آزاد، بشن سنگھ بیدی، گوتم گمبھیر جیسی نامی ہستیوں نے ڈی ڈی سی اے میں پھیلی بدعنوانی کو لیکر کیجریوال سے تمام شکایتیں کی تھیں۔ فیروز شاہ کوٹلہ میدان کی تعمیر نو پر خرچ ہوئے114 کروڑ پر بھی سوالیہ نشان لگے ہیں۔اس کا شروعاتی بجٹ24 کروڑ تھا۔ ڈی ڈی سی اے نے کوٹلہ میدان کی تعمیر سال2002ء سے2007 کے درمیان کرائی تھی۔ ڈی ڈی سی اے پر یہاں تک الزام لگایا گیا ہے کہ رنجی ٹرافی سیزن کے دوران کھلاڑیوں کو پرانی گیندوں سے کھیلنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ تمام کھلاڑیوں کو دوسال سے میچ فیس بھی نہیں دی گئی ہے۔ اس کے چلتے تمام کھلاڑیوں کو دیگر راجیوں میں کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ دہلی سرکار کی جانچ رپورٹ میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے چناؤ میں ڈی ڈی سی اے غلط رخ اپنائے ہوئے ہے۔ ڈی ڈی سی اے کی سبھی سرگرمیوں میں جوابدہی شفافیت نہیں دکھائی دیتی۔ دہلی سرکار کی جانچ کمیٹی نے ان الزامات کی بنیاد پر جو سفارش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ڈی ڈی سی اے کے افسران و منتظمین کے خلاف بدعنوانی مخالف ایکٹ 1988 کے تحت دہلی سرکار کے ذریعے ویجی لنس جانچ کرائی جانی چاہئے۔سپریم کورٹ کے ذریعے قائم جسٹس لوڈھا کمیٹی کے ذریعے بھی ڈی ڈی سی اے کے کام کرنے کے طریقے کو سدھارنے کے لئے اختیار دیا جانا چاہئے۔ اتنا ہی نہیں ڈی ڈی سی اے کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لایا جانا چاہئے تاکہ عام جنتا یہ جان سکے کہ ڈی ڈی سی اے کس بنیاد پر فیصلے لے رہی ہے اور روپیہ کہاں اور کتنا استعمال ہورہا ہے؟ کانگریسی نیتا دگوجے سنگھ نے مانگ کی ہے کہ مشترکہ سنسدیہ کمیٹی سے معاملے کی جانچ کرائی جانی چاہئے اور اس کا صدر بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کو بنایا جانا چاہئے۔ ادھر کیرتی آزاد نے ڈی ڈی سی اے میں بھرشٹاچار پر جلد اور خلاصے کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ادھر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ کیجریوال جھوٹ اور بدنامی میں یقین کرتے ہیں اور انماد کی حدیں چھونے والی زبان بولتے ہیں۔
(انل نریندر)

امریکہ جھکتا ہے بس جھکانے والا چاہئے

امریکہ جھکتا ہے بس جھکانے والا چاہئے، میں بات کررہا ہوں امریکہ اور روس کی۔ جب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن سیریا ۔ عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف میدان میں اترے ہیں، دھیرے دھیرے پانسہ پلٹ رہا ہے۔ آئی ایس پر چوطرفہ حملے بڑھ رہے ہیں۔ اب تک امریکہ اس ضد پر قائم تھا کہ سیریا میں راشٹرپتی اسد کو امن قائم کرنے کیلئے عہدے سے ہٹنا ہوگا۔دوسری جانب پوتن اس بات پر اڑے تھے کہ اسد اپنے عہدے پر بنے رہیں گے اور وہی آئی ایس کے خلاف مہم کی کمان سنبھالیں گے۔ آخر کار سیریا معاملے میں امریکہ کو روس کے سامنے جھکنا ہی پڑا۔امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے روس کی لمبے وقت سے چلی آرہی اس مانگ کو مان لیا کہ راشٹرپتی بشرالاسد کے مستقبل کا فیصلہ سیریا کے لوگوں کو کرنے دینا چاہئے۔ ادھر آئی ایس کے خلاف اب تو مسلم دیشوں کا بھی مورچہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام کے نام پر دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلا رہے آتنکیوں کو سبق سکھانے کے لئے مسلم دیشوں نے کمر کس لی ہے۔سعودی عرب کی لیڈر شپ میں34 دیشوں نے آتنک واد کے خلاف فوجی گٹھ بندھن بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس گٹھ بندھن کی مشترکہ کمان سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں قائم ہوگی۔ اسلامک فوجی گٹھ بندھن بنانے کی جانکاری دیتے ہوئے سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا کہ اس گٹھ بندھن کی ضرورت اس لئے پڑی کیونکہ ہر طرف سے آتنک واد کا سامنا کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے مختلف سطحوں پر تعاون کی ضرورت ہے۔آتنک کے خلاف مسلم دیشوں کے فوجی گٹھ بندھن میں سعودی عرب کے زبردست مخالف اور شیعہ اکثریتی ایران شامل نہیں ہے۔ بتادیں کہ ایران کی نیتی سنی اکثریتی دیشوں سے الگ ہے۔ وہ سیریا کے شیعہ راشٹرپتی بشرالاسد کے اقتدار کی حمایت کرتا ہے اور ان کے حق میں اس نے اپنی سینائیں بھی بھیجی ہیں۔ وہیں یمن میں بھی وہ شیعہ ہوتیوں کا سمرتھن کررہا ہے جبکہ ان کے خلاف سعودی عرب فوجی مہم چلا رہا ہے۔ ان اسلامک دیشوں کے گٹھ بندھن میں پاکستان ، ترکی ، مالدیپ، ملیشیا، یو اے ای، مصر اور قطر شامل ہیں وہیں خانہ جنگی سے جھوجھ رہے لیبیا اور یمن کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آتنک کا سامنا کررہے افریقی مسلم اکثریتی ملک مثلاً، مالی، چاڈ، صومالیہ و نائیجریا بھی گٹھ بندھن میں شامل ہیں۔ پاکستان بہرحال اس بات سے حیران ضرورت ہے کہ سعودی عرب میں اس 34 دیشوں کے فوجی گٹھ بندھن میں اس کی مرضی لئے بنا اس کا نام کیسے شامل کرلیا؟ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خارجہ سکریٹری اعجاز چودھری نے کہا کہ وہ اس خبر سے حیران ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو گٹھ بندھن میں شامل کیا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں جب سعودی نے اسلام آباد کی مرضی کے بنا اسے گٹھ بندھن میں شامل کیا ہو۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2015

’نربھیہ‘ کانڈ کے تازہ ہوگئے زخم

جیوتی سنگھ عرف نربھیہ کانڈ ساؤتھ دہلی میں آج سے تین سال دو دن پہلے 16 دسمبر 2012ء کو رونما ہوا تھا۔ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی کا شکار ہوئی ’نربھیہ ‘ کے بالغ ملزمان کو بڑی عدالت کے ذریعے سزا دئے جانے پر بھی اب کبھی بھی کوئی بحث نہیں سنائی دیتی۔ بہرحال اس گھناؤنے غیر انسانی کانڈ کا ماسٹر مائنڈ نابالغ مجرم ضرور خبروں میں ہے۔ 16 دسمبر کے بعد بھڑکی تحریک اور تب سرکار اور عدالت کے رخ سے لگا تھا کہ اب تو کچھ صورت بدلے گی لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ نربھیہ کے ساتھ کی گئی اجتماعی حیوانیت اور بربریت آمیز آبروریزی سانحہ سن کر خوف تاری کردینے والی یادیں ابھی لوگوں کے ذہن سے دور نہیں ہوئیں تھیں کہ تین دن میں راجدھانی میں دو معصوموں کو حیوانیت کا شکار بنائے جانے کے واقعہ نے پھر وہ زخم تازہ کردیا ہے کہ جوئنائل عدالت کے قواعد کے مطابق اطفال اصلاح گھر میں رکھے جانے کے اس ماسٹر مائنڈ نابالغ کی تین سال کی میعاد پوری ہونے والی ہے۔ اسے اگلے ایتوار کو رہا کردیا جائے گا لیکن مرکزی سرکار اس کی ابھی رہائی کے حق میں نہیں ہے۔سرکار نہیں چاہتی کہ آدھے ادھورے انتظام کے درمیان اس خطرناک مجرم کو سماج میں چھوڑدیا جائے۔ وسنت وہار کے اس قتل کانڈ کے معاملے میں قصوروار لڑکے کی رہائی کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور اس سے پہلے وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کو ایک سیل بمہر لفافے میں نابالغ سے منسلک خفیہ بیورو (آئی بی) کی رپورٹ کورٹ میں پیش کی ہے۔مرکز نے دلیل دی کہ باز آبادکاری کیلئے ابھی تک کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنا ہے اور اس کے لئے تیار منصوبے میں کئی اہم باتیں ندارد ہیں۔ رہائی سے پہلے ان خامیوں کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔ نابالغ کی رہائی کا احتجاج کررہے بھاجپا نیتا اور عرضی گزار ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے چیف جسٹس جی۔ روہنی اور جسٹس جینت ناتھ کی بنچ سے کہا کہ اس معاملے میں ایسا حکم پاس کیا جائے جو نظیر بنے۔ انہوں نے کہا بھلے ہی نابالغ اصلاح گھر میں زیادہ سے زیادہ تین سال وقت گزار چکا ہے لیکن قانون کے تحت اسے دو سال تک رکھا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آئی بی و بازآبادکاری کو لیکر تیار رپورٹ پر غور کرنے کے بعد ہی جلد ہی اس معاملے پر مفصل فیصلہ دیں گے۔ دوسری طرف حکومت نے لوک سبھا میں تشویش ظاہر کی کہ بیتے 10 سال میں لڑکوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات میں تقریباً 50 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ریاستوں اور مرکزوں سے اکھٹے کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق2005ء میں جہاں 25601 لڑکیوں سے جرائم ہوئے وہیں2014 میں یہ تعداد بڑھ کر38586 ہوگئی ہے۔ ایک بڑا باعث تشویش سوال یہ بھی ہے کہ جن جرائم پیشہ لڑکوں کو رہا کیا جاتا ہے انہیں کھلے سماج میں کس شکل میں سونپا جاتا ہے جب نربھیہ معاملے میں اتنی خامیاں چھوڑ دی گئی ہوں تو باقی معاملوں میں اس کا کیا رویہ ہوگا، اس کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

پختہ معلومات اور ثبوت پر ہی سی بی آئی نے مارے چھاپے

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کے ساتھ ساتھ دو دیگر جرائم پیشہ سے سی بی آئی نے بدھوار کو بھی 9 گھنٹے تک لمبی پوچھ تاچھ کی۔ یہ افسرراجندر کمار کون ہیں؟ 48 سالہ راجندر کمار وزیر اعلی کے پرنسپل سکریٹری ہیں۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے بی ٹیک کرنے والے راجندر 1989ء بیج کے آئی ایس افسر ہیں۔ اسی سال فروری میں کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری کی حیثیت سے مقرر ہوئے راجندر کمار وزیر اعلی کے قریبی اور بھروسے مند افسران میں سے ایک ہیں۔ کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر کی صلاح کو درکنار کرتے ہوئے ان پر الزامات کے باوجود انہیں اپنا پرنسپل سکریٹری بنایا۔بتایا جاتا ہے کہ آئی آئی ٹی کی پڑھائی کے وقت سے ہی دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ راجندر کمار کے خلاف انسداد کرپشن برانچ (اے سی بی) کے پاس 7 شکایتیں 2012ء سے آئی ہوئی ہیں۔ برانچ نے ایک شکایت ویٹ کمشنر کو بھیجی ہے اور ایک سی بی آئی کو جانچ کیلئے بھیجی تھی۔اسی شکایت پر چھاپے ماری ہوئی ہے جو دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے ممبر سکریٹری رہے آشیش جوشی نے کی تھی۔شیلا دیکشت کے عہد میں او سی این جی گاڑی فٹنس گھوٹالے کی جانچ کررہی ہے اس میں بھی اے سی بی نے راجندر کمار کا نام پوچ تاچھ کئے جانے والی فہرست میں شامل کیا تھا ۔کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کافی وقت سے سی بی آئی کے نشانے پر تھے۔رنجیت سنہا جب سی بی آئی ڈائریکٹر تھے تبھی راجندر کمار کو شکنجے میں لانے کا پلان بن چکا تھا لیکن کن ہی اسباب سے یہ معاملہ ٹلتا رہا۔ دہلی سرکار کے ایک افسر نے ہندی روزنامہ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق شیلا دیکشت سرکار کے عہد میں بھی راجندر کمار کو لیکر کارروائی کی بات کہی تھی۔ اس وقت کے وزیر تعلیم اروندر سنگھ لولی نے بھی شیلا جی سے راجندر کمار کو ہٹانے کی مانگ کی تھی لیکن معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں سی بی آئی نے راجندر کمار کی 3 ہزار سے زیادہ فون کال ریکارڈ کی ہیں۔ اتنا ہی نہیں راجندر کمار کے بیج کے قریب 15 آئی اے ایس افسر اور دہلی سرکار کے 35 افسران سے پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان سے ملے ثبوت کی بنیاد پر سی بی آئی نے منگلوار کو چھاپے مارے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ راجندر کمار کے ای میل میں کئی پختہ ثبوت ہیں لیکن انہیں کھولنے میں وہ تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ اب سی بی آئی ایکسپرٹ کے ذریعے ای میل کھلوانے جارہی ہے۔ جب سی بی آئی سے پوچھا گیا کہ راجندر کمار نے جو گڑبڑیاں کی ہیں وہ دوسرے محکموں میں رہتے ہوئے کی تھیں تو پھر اب بطور سی ایم کے پرنسپل سکریٹری کے دفتر میں چھاپے کیوں مارے گئے؟ اس پر سی بی آئی کا کہنا ہے کیونکہ ہمیں پختہ جانکاری ملی تھی کہ کارروائی سے بچنے کیلئے راجندر کمار نے اہم فائلیں اسی دفتر میں چھپا رکھی ہیں۔راجندر کمار پر کارروائی کی ایک کوشش کچھ ماہ پہلے بھی ہوئی تھی لیکن اس وقت لیفٹیننٹ گورنر اور کیجریوال کے درمیان چل رہی رسہ کشی انتہا پر تھی ۔ اینٹی کرپشن محکمے نے وزارت داخلہ سے اجازت بھی مانگی تھی ۔وزارت داخلہ کے ایک افسر کے مطابق تب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ بنا ٹھوس ثبوت کے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی صلاح دی تھی کہ اگر شکایت ابتدائی طور سے صحیح لگ رہی ہے تو معاملے کی جانچ کسی مرکزی ایجنسی سے کروائی جائے جس سے یہ خدشہ نہ ہو کہ اینٹی کرپشن محکمہ کسی کے کہنے پر کام کررہا ہے۔ پچھلے چار دنوں میں راجندر کمار کے دفتر ۔گھر سمیت کل14 ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کا پلان بن چکا تھا۔سی بی آئی کی لسٹ میں کل 7 لوگ تھے جہاں چھاپے مارے جانے تھے۔ سی بی آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی نگرانی میں 4 ڈی ایس پی سطح کے افسر اس کے کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ صبح ہوتے ہی 30 گاڑیوں نے ایک ساتھ 14 ٹھکانوں کیلئے کوچ کردیا۔ ان میں راجندر کمار کے علاوہ انٹیلی جنٹ انڈیا کمیونی کیشن کے سابق ایم ڈی اے۔کے ۔دگل، جی ۔کے نندا، ایس کوشک، سندیپ کماراور اینڈیور پرائیویٹ کمپنی کے دنیش گپتا شامل ہیں۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق چھاپے میں ان کے ہاتھ بہت ہی پختہ ثبوت لگے ہیں جو آنے والے وقت میں بڑے خلاصے کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گڑ بڑی کے تار شیلا دیکشت سرکار تک پہنچ رہے ہیں لہٰذا آنے والے وقت میں شیلا سرکار کے اور افسروں سے بھی پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

17 دسمبر 2015

راجندر کمار پر چھاپے، ہائے توبہ کیوں؟

منگل کی صبح ہی سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ہلا مچایا ہوا ہے کہ سی بی آئی نے میرے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بتادیں کہ منگل کی صبح سی بی آئی نے وزیر اعلی کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ راجندر کمار کے خلاف دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے سابق ممبر آشیش جوشی نے شکایت درج کرائی تھی اس کے بعد سی بی آئی نے معاملے کی جانچ کی اور پہلی نظر میں انہیں کروڑوں روپے کے ناجائز لین دین اور غلط طریقے سے نا پسندیدہ لوگوں کی حمایت کرنے کا معاملہ دکھائی دیا۔ الزام ہے کہ راجندر کمار نے اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔ انہوں نے برسوں سے ایک ہی کمپنی کو دہلی سرکار کے ٹینڈردئے اور دلائے۔ ذرائع نے بتایا کہ آشیش جوشی سے شکایت ملنے کے بعد کئی سطح پر اس شکایت کی چھان بین کی گئی۔ جانچ کے دوران کئی محکموں اور دوسرے ذرائع سے معلومات اکھٹی کی گئیں۔ جب پختہ جانکاری سامنے آئی تو وارنٹ لیکر منگلوار کو چھاپہ مارا گیا۔ راجندر کمار کے گھر اور دفتر پر بھی چھاپہ ڈالا گیا۔ چھاپوں میں کاغذات، فائلیں، کمپیوٹرسے وابستہ چیزوں کو قبضے میں لے لیا گیاکچھ کی جانچ موقعے پر ہی کی گئی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ضرورت کے حساب سے قانونی خانہ پوری کر کسی سے بھی پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے، کہیں بھی چھاپہ مارا جاسکتا ہے۔ ایک افسر کا کہنا ہے راجندر کمار سی ایم کے پرنسپل سکریٹری ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سی ایم آفس ہیں لیکن اسے بنیاد بنا کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ چھاپے ماری کی یہ کارروائی کورٹ سے وارنٹ لیکر کی گئی لیکن سی ایم کیجریوال نے اس کے فوراً بعد ٹوئٹ کرکے کہا کہ میرے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے اور میری فائلیں دیکھی جارہی ہیں۔ یہاں تک بھی رکتے تب بھی بات تھی لیکن انہوں نے تو اس کے لئے سیدھا پی ایم کو نشانہ بنایا۔ الزام لگایا کہ پرنسپل سکریٹری کی فائلیں دیکھنے کے بہانے سی بی آئی ان کی فائلیں دیکھ رہی ہے۔ سلسلہ وار ٹوئٹ کرکے کیجریوال نے لکھا کہ مودی مجھے سیاسی طور پرہینڈل نہیں کرپائے تو انہوں نے یہ بزدلانہ کام کیا ہے۔ مودی بزدل اور ذہنی مریض ہیں۔سی بی آئی جھوٹ بول رہی ہے میرے آفس پر چھاپہ مارا گیا ہے راجندر کے بہانے میرے دفتر میں ساری فائلیں پڑھی گئی ہیں اگر راجندر کے خلاف سی بی آئی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو کیوں نہیں مجھ سے شیئر کیا گیا؟ میں ان کے خلاف ایکشن لیتا۔ شام ہوتے ہوتے انہوں نے وزیر مالیات ارون جیٹلی کو بھی نشانے پر لے لیا۔ انہوں نے ارون جیٹلی کے خلاف ڈی ڈی سی اے میں گھوٹالے کا ثبوت ہونے کا دعوی کرتے کرتے الزام لگایا کہ سی بی آئی اس سے جڑی فائلیں ڈھونڈنے آئی تھی۔ اس پر حیرت نہیں کہ اروند کیجیریوال آپے سے باہر ہوگئے بلکہ پارلیمنٹ میں بھی اس کو لیکر خوب ہنگامہ ہوا۔ ہنگامہ اب پارلیمنٹ کی نیت بن گئی ہے کوئی بھی معاملہ ہو وہ پارلیمنٹ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ شری کیجریوال کو یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ راجندر کمار پر کرپشن کے الزام پرانے ہیں۔ یہ جانکاری ہوتے ہوئے بھی انہوں نے ایسے داغی افسر کو اپنا پرنسپل سکریٹری کیوں بنایا؟ کیا انہوں نے یہ جان بوجھ کر کیا تاکہ ان کے چانکیہ کہلائے جانے والے اس افسر کو بچایا جاسکے۔ ویسے اس سے پہلے بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا کررہے مختلف لیڈروں اور افسروں کے خلاف بھی سی بی آئی اسی طرح کی کارروائی کر چکی ہے۔ جب بھی ایسی کارروائی ہوتی ہے اپوزیشن سرکار پر سی بی آئی کے بیجا استعمال کے الزام لگا دیتی ہے۔ یہ عجیب ہے کہ جب سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو کسی بھی سطح کے افسر کے خلاف کارروائی سے پہلے سرکار اجازت لینے کا قاعدہ ختم کیا تھا تو اسے کیجریوال نے اپنی جیت بتایا تھا لیکن اب وہی یہ رونا رو رہے ہیں کہ جانچ ایجنسی نے ان کے پرنسپل سکریٹری پر چھاپے سے پہلے انہیں کیوں نہیں مطلع کیا۔آخر میں کیا ایک وزیر اعلی کو دیش کے وزیر اعظم کے تئیں اس طرح کی سڑک چھاپ زبان اور لفظوں کا استعمال کرنا چاہئے؟ لیکن سڑک چھاپ سیاست کرتے کرتے عزت مآب وزیر اعلی موصوف ، وقت اور خوشگوار زبان لگتا ہے بھول گئے ہیں۔
(انل نریندر)

جب شرد پوار کے سپنے کو سونیا نے چکنا چور کردیا!

عام طور پر مانا جاتا ہے کہ مراٹھا لیڈر شرد پوار ایک بہت شاطر سیاستداں ہیں۔ وہ کب کون سی چال چل دیں، کب کیا کہہ دیں کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ایسے شاطر لیڈر کو بھی سونیا گاندھی نے مات دے دی ہے۔ شرد پوار نے اپنی کتاب ’’لائف آن مائی ٹرمس ان گراس روٹ اینڈ کوریڈورس آف پاور‘ ‘میں شرد بابو نے چونکانے والا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ شرد پوار نے دعوی کیا ہے 10 جن پتھ کے خودساختہ وفاداروں نے سونیا گاندھی کو اس بات کیلئے رضامند کیا تھا کہ 1991ء میں شرد پوار کے بجائے پی وی نرسمہاراؤ کو وزیر اعظم بنایا جائے کیونکہ گاندھی خاندان کسی ایسے شخص کو وزیر اعظم نہیں بنانا چاہتا تھا جو آزاد خیال رکھتا ہو۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر نے کہا وفاداروں میں سورگیہ ارجن سنگھ خودبھی وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار تھے اور انہوں نے پوار کے بجائے راؤ کو چننے کا فیصلہ لینے میں سونیا گاندھی کو راضی کرنے میں چالاکی سے چال چلی۔ راؤ کی کیبنٹ میں پوار وزیر دفاع تھے۔ پوار کی کتاب کو ان کی75 ویں سالگرہ تقریب میں باقاعدہ طور سے سونیا گاندھی، وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر اور نائب صدر کی موجودگی میں ریلیز کیا گیا ۔ انہوں نے کہا بڑے عہدے کے لئے ان کے نام پر غور نہ صرف مہاراشٹر میں بلکہ پارٹی کے اندر بھی چل رہا تھا۔ وہ کافی ہوشیار تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کافی کچھ جنتا پر منحصر کرتا ہے۔ جہاں سونیا گاندھی رہتی ہیں اپنی کتاب میں پوار نے لکھا ہے کہ پی وی نرسمہاراؤ بھلے ہی سینئر لیڈر تھے لیکن چناؤ سے پہلے صحت کی وجہ سے وہ قومی اسٹیم کی سیاست سے الگ تھے۔ ان کے لمبے تجربے کو دیکھتے ہوئے انہیں واپس لانے کے مشورے دئے گئے۔ پوار نے لکھا کہ سونیا گاندھی کے وفاداروں نے سونیا گاندھی کو یقین دلایا کہ نرسمہاراؤ کی حمایت کرنا ٹھیک رہے گا کیونکہ وہ بوڑھے ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے اس لئے پوار کے بجائے راؤ کو چنا گیا جنہیں 35 سے زیادہ ووٹوں کی بڑھت ملی۔ شرد پوار نے ایک دوسرے باب میں 1977ء میں اٹل بہاری سرکار کے خلاف عدم اعتمادتحریک پاس ہونے کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے۔ کتاب سے صاف جھلکتا ہے کہ شرد پوار کے وزیر اعظم بننے کے سپنے کو سونیا گاندھی نے بھانجی مار دی اور ان کا ارمان پورا ہوتے ہوتے رہ گیا۔کہتے ہیں نہ کہ سیاست میں نہ کوئی کسی کا سگا نہیں، دوست کب دشمن بن جائے کہا نہیں جاسکتا۔ ذاتی مفاد ہی بالاتر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

16 دسمبر 2015

سعودی عرب میں خواتین انقلاب

سعودی عر ب میں واقعی خواتین انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے اور دیش کی تاریخ میں پہلی بار عورتوں کو کسی چناؤ میں حصہ لینے کی اجازت ملی ہے۔ مقامی انتخابات میں پہلی بار خواتین ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور بطور امیدوار چناؤ میں بھی اتریں۔ اپنی آزادی کی شروعات ہی سب سے پہلے ووٹ کے حق کے ساتھ کرنے والے بھارت جیسے ملکوں میں سعودی خواتین کے اس کارنامے کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ دنیا کے امیر ملکوں کی صوبائی انتخابات میں کھڑے ہونے والی خواتین کو اکیلے گاڑی چلانے کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ ووٹ ڈالنے کیلئے انہیں اپنے گھر کے کسی مرد ممبر کے ساتھ آنا پڑا اور اپنے لئے الگ سے بنی قطاروں میں کھڑے ہوکر ووٹ ڈالنا پڑا۔ سب سے عجیب و غریب بات یہ ہے کہ بطور ووٹر 10 فیصد سے بھی کم خواتین کا رجسٹریشن ہو سکا۔ 2 کروڑ10 لاکھ کی آبادی والی ارب راج شاہی میں صرف 11 لاکھ90 ہزار خواتین ووٹر ہیں ۔پہلا نتیجہ مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مکہ سے آیا۔ مکہ کے میئر اوسامہ البار نے بتایا کہ پاس کے گاؤں مدرکا میں سلمہ بنت حزب الاوتیبی نے جیت حاصل کی ہے۔ اسی کے ساتھ دیش کی پہلی منتخبہ نمائندہ بن گئی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق17 عورتیں چنی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے دوسرے سب سے بڑے شہر جدہ کی ایک سیٹ پر خاتون امیدوار لایا السلیمان نے جیتی ہے۔ دیش بھر میں 2100 سیٹوں کے لئے ہوئے چناؤ میں 7 ہزار امیدوار تھے ان میں 979 خواتین تھیں۔ سعودی عرب میں راج شاہی ہے، یہاں صرف بلدیاتی چناؤ ہی ہوتے ہیں۔ 2005 ء میں پہلی بار چناؤ ہوئے تھے۔13.5 لاکھ مرد ووٹروں کے مقابلے 1.31 لاکھ خواتین نے ووٹنگ کے لئے رجسٹریشن کرایا۔ چناؤ نتائج کے بعد سعودی عرب سنیما کمیٹی نے اعلان کیا کہ دیش میں جلد سنیما گھر کھلیں گے۔ راجدھانی ریاض میں اسے بنانے کیلئے معاہدے پر سائن کیا گیا ہے۔ دیش میں لمبے وقت سے کئی تنظیموں نے سنیما لانے کیلئے تحریک چھیڑرکھی تھی۔ سمندری راج شاہی میں پارلیمنٹ جیسی کوئی چیز آج بھی نہیں ہے۔ ہاں 284 ممبران پر مشتمل مشاورتی کونسل میں ایک تہائی ممبروں کی نامزدگی مقامی بلدیاتی وزارت کے ذریعے کی جاتی ہے لہٰذا کچھ مہلا امیدوار چناؤ جیتنے میں کامیاب رہیں تو شاید ان میں سے کچھ کو مشاورتی کونسل میں شامل ہونے کا موقعہ مل جائے۔ ابھی تو حالت یہ ہے کہ سعودی اقتدار اعلی میں نمائندے جب غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ساتھ میں اپنی بیویوں تک کو نہیں لے جاتے۔ اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ سعودی خواتین کو کوئی اختیار دینا نہیں ہے۔ایک خاتون رضاکار نے شرعیہ قانون کی خلاف ورزی کرکے سڑک پر اکیلے گاڑی چلانے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کرلیا۔ ایسے تنگ نظریئے والے حکمرانوں کا خواتین کو تھوڑی آزادی دینا مہلا انقلاب ہی کہا جائے گا۔
(انل نریندر)

ایک طرف ٹھنڈا دوسری طرف گھنا کہرہ

بڑھتی آلودگی سے پریشان دہلی کے شہریوں کے لئے ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ پہاڑوں پر جاری برفباری کا سیدھا اثر دہلی پر پڑ رہا ہے۔ تیز ہواؤں کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں آئی ریکارڈ گراوٹ نے اچانک سنیچر کو نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ اسکولی بچوں سے لیکر آفس جانے والے تک سبھی لوگ سردی میں ٹھٹر رہے ہیں۔ سنیچروار کا دن سیزن کا سب سے ٹھنڈا رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کا کم از کم درجہ حرارت5 ڈگری تک گر کر11 ڈگری سیلسیس پر آگیا۔ وہیں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی22 ڈگری سے گھٹ کر18 ڈگری سیلسیس تک رہ گیا۔ محکمہ موسم کے مطابق صبح گھنے کہرے کے ساتھ ہوگی وہیں ہفتے کے آخر تک کم از کم 8 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ماہرین موسمیات ڈی پی یادو نے بتایا کہ پہاڑوں میں برفباری کی وجہ سے ٹھنڈ اور سرد ہواؤں کا اثر بھی بڑھے گا۔ 20 دسمبر کے بعد ٹھنڈ اور بڑھے گی ایک تو ٹھنڈ اور ٹھنڈی ہواؤں نے دہلی کے شہریوں کو پریشان کررکھا ہے رہی سہی کثر اس کہرے نے نکال دی ہے۔ کئی علاقوں میں صبح میں دھند کی سطح 300 سے بڑھ کر 600 میٹر کے درمیان درج کی گئی ہے۔ رفتار اور دھند کے چلتے جمعہ کی رات 15 منٹ میں دو کا حادثے ہوگئے۔ان میں 6 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔ راشٹرپتی بھون کے پاس جمعہ کی رات ایک کے بعد ایک پانچ کاریں اور دو موٹر سائیکل آپس میں ٹکراگئیں۔ حادثے میں دہلی پولیس کا ایک اے ایس آئی اور دو عورتوں سمیت 5 لوگ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دیر رات قریب پونے 12 بجے ریل بھون کے پاس راج پتھ سے رفیع مارگ کی طرف جارہی ہونڈا سٹی تیز رفتار کے سبب کار ڈرائیور نے رفیع مارگ ریڈ لائٹ پر ایس ایکس4 کار کو ٹکر ماردی۔ ٹکر اتنی زور دار تھی کہ ہونڈا سٹی اچھل کر فٹ پاتھ پر گر پڑی۔
چشم دید افراد نے فوراً پولیس کو خبردی۔ اطلاع ملتے ہی موقع پر پی سی آر وین پہنچی۔ پولیس معاملے کی چھان بین کررہی تھی کہ رفیع مارگ کی طرف سے ریل بھون کی طرف جارہی ایک گاڑی حادثے سے بچنے کی کوشش میں بے قابو ہوکر پی سی آر وین سے ٹکراگئی۔ اس کے بعد بھی وہ وہیں نہیں رکی اور ماروتی زیناور آلٹو کو ٹکر مارتے ہوئے آگے نکل گئی۔ اس دوران ایک گاڑی کی چپیٹ میں دو موٹر سائیکل آگئیں۔ حادثے میں پی سی آر وین میں موجود اے ایس آئی زخمی ہوگئے۔ اوڈی کار میں بیٹھی دو عورتوں دو دیگر لوگوں کو بھی چوٹیں لگیں۔ آلٹو ڈرائیور ریحان کے مطابق حادثے کے بعد اوڈی کار کا گیئر بیگ کھل گیا۔ اس سے ڈرائیور کو چوٹ نہیں آئی اور وہ گاڑی کو چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ سمجھ میں نہیں آیااچانک یہ کار کہاں سے آگئی۔ گاڑی ڈرائیور کو دیر رات گاڑی چلانے میں خاص دھیان رکھنا ہوگا، رفتار پر قابو ہونا چاہئے کیونکہ چاندنی بہت کم ہوگی۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2015

مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر روک

جب سے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے پیرس اور اس کے بعد امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں جو دہشت ناک واقعہ ہوا اس کے بعد سے امریکہ میں ایک ایسا طوفان سا آگیا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر براک اوبامہ ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے صدر عہدے کیلئے ری پبلکن پارٹی کے امیدواربننے کے مضبوط دعویدار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
امریکی عوام اوبامہ کہ آئی ایس سے مقابلہ کرنے کی قوت ارادی پر شبہ ظاہر کررہے ہیں۔ صدر سے جس سختی کی امید کی جارہی ہے وہ عوام کو دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وہاں کے ایک مسلح سروس کے افسر نے کہا کہ آئی ایس سے نمٹنے کے لئے سخت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس پر اوبامہ نے کچھ نہیں کہا۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کمپین کے دوران دھماکو بیان دیتے ہوئے کیلیفورنیا قتل عام کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگانے کی مانگ کرڈالی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا جب تک ہمارے دیش کے نمائندے یہ نہیں پتہ لگا لیتے کہ کیا کچھ چل رہا ہے، تب تک امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پوری طرح سے روک لگا دی جائے۔ ان کا یہ اشتعال انگیز بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب محض ایک دن پہلے ہی اوبامہ نے دیش میں اینٹری کیلئے مذہبی جانچوں کو خارج کرنے کی بات کہی تھی اور ٹرمپ نے ری پبلکن پارٹی کے امیدواروں کے دعویداروں کے ساتھ مل کر کٹر پسند اسلام کو خاص خطرے کی شکل میں نشاندہی نہ کرنے پر اوبامہ کی زبردست تنقید کی ہے۔ 9/11 کے بعد طالبان کے صفائے کیلئے جس طرح امریکہ نے افغانستان اور پھر عراق پر حملے کئے ان سے القاعدہ تو ختم نہیں ہوا لیکن دہشت گردی بڑھتی چلی گئی اور آج اس نے سب سے خطرناک شکل میں آئی ایس کی شکل اختیار کرلی ہے۔ امریکہ کو دہشت گردی سے تبھی فکر ہوتی ہے جب امریکی زمین پر کوئی آتنکی واقع ہوتا ہے۔ ان اسباب پر تو وہ دھیان نہیں دیتا جس کی وجہ سے حالات اتنے بگڑے اور بگڑتے جارہے ہیں۔ سارا غصہ مسلمانوں پر نکال دیتا ہے۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کی وجہ سے پورے مذہب کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔
بدقسمتی تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مانگ امریکہ میں زور پکڑتی جارہی ہی۔ پیرس میں بھی مساجد میں پولیس کے چھاپے شروع ہوگئے ہیں۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ مسلم مذہب کے پیشوا یا یوں کہئے علماء مولانا دہشت گردی کے خلاف زور شور سے آوازیں اٹھائیں۔ ان کے ہمدردوں پر سخت نظر رکھیں، ان پر سختی کی جائے ناکہ پورے فرقے کو قصوروارٹھہرایا جائے یا اسلام کو ہی خطرہ بتایا جائے۔ اگر ایسا ماحول بنتا ہے تو بلا شبہ آئی ایس کے اثر میں آنے والے لڑکوں کو صحیح راستے پر لانے میں بھی کافی مدد ملے گی۔ اسلام کو بدنام ہونے سے بچانے کا خاص کام اسلامک مذہبی پیشواؤں کا ہے ۔
(انل نریندر)

لشکر کی خودکش حملہ آور تھی عشرت جہاں

2004 میں عشرت جہاں مڈبھیڑ معاملے کے بعد جو بھی تنازعہ شروع ہوا تھا وہ آج تک چلتا آرہا ہے۔ دیش کے تمام خودساختہ دانشور (فرضی صحافی) اسے فرضی انکاؤنٹر بتانے پر تلے ہوئے تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ ممبئی سے لگے علاقے ٹھانے اور مندرا کی باشندہ عشرت جہاں 2004 کو جاوید شیخ عرف پرگیش پلئی اور پاکستان کے دو لڑکوں امجد علی و ذیشان جوہر عبدالغنی کے ساتھ احمد آباد گھومنے آئی تھی اور پولیس نے ان چاروں کو احمد آباد کے باہری علاقے میں ایک فرضی مڈ بھیڑ کرکے مار ڈالا تھا۔ اس کے خاندان والوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ طالبہ تھی۔ عشرت جہاں کی ماں شمیمہ کوثر نے گجرات آئی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ اس کی بیٹی جاوید شیخ کے عطر کے کاروبار میں سیلس گرل کے طور پر کام کیا کرتی تھی جبکہ گجرات پولیس نے کہا تھا کہ احمد آباد میں مارے گئے دہشت گرد ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر حملہ کرنے کے ارادے سے وہاں پہنچے تھے۔
عشرت جہاں کیس پر گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور گجرات پولیس کے کردار پر سوال اٹھے تھے۔ لشکر طیبہ نے بھی عشرت جہاں کو اپنی ویب سائٹ پر شہید کر درجہ دیا تھا۔ اب ممبئی پر26/11 آتنکی حملے کے ماسٹر مائنڈ لشکر طیبہ کے آتنکی ڈیوڈ ہیڈلی نے عشرت کے بارے میں بڑا خلاصہ کرکے اس کی تصدیق کی ہے کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی آتنکی تھی۔ غور طلب ہے کہ ممبئی کی ایک عدالت نے ڈیوڈ ہیڈلی کو بدھوار کو معافی دے دی تھی اور اسے 26/11 ممبئی آتنکی حملے کے معاملے میں سرکاری گواہ بنایا ہے۔ ہیڈلی نے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے ) کو بتایا کہ2004 میں احمد آباد میں ماری گئی ممبئی کی لڑکی عشرت جہاں لشکرطیبہ کی فدائی حملہ آور تھی۔ اس خلاصے سے گجرات پولیس کے اس دعوے کی تصدیق ہوئی ہے جس میں عشرت کو دہشت گرد قراردیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ہیڈلی نے امریکہ میں یہ اطلاع این آئی اے اور محکمہ قانون کی چار پارلیمانی ٹیم کے ساتھ شیئر کی ہے۔ ہیڈلی نے بتایا تھا کہ عشرت جہاں لشکر کی فدائی دستے کی ممبر تھی جسے لشکر کے مزمل نام کے دہشت گرد نے اپنے دستے میں شامل کیا تھا۔عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کو لیکر دیش میں بڑا تنازعہ چھڑ گیا تھا ہیڈلی کے اس انکشاف سے اس اشو پر چل رہی سیاست پر ڈراپ سین ہونا چاہئے لیکن اس سے شبہ ہے کہ یہ خود ساختہ سیکولر لیڈر اس تنازعے کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ یہ بات ڈیوڈ ہیڈلی نے کہی ہے جسے اس معاملے میں غیر جانبدار مانا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...