Translater

26 مارچ 2021

منسکھ ہیرین کے قتل کا معاملہ !

مہاراشٹر دہشت گردی انسداد دستہ (اے ٹی ایس )نے منسکھ ہیرین قتل معاملہ این آئی اے کو سونپے جانے کے دوسرے دن ہی سلجھانے کا دعویٰ کردیا ایجنسی نے بتایاکہ معطل اے سی پی سچ واجے کے کہنے پر ہی واردات ہوئی صنعت کار مکیش انبانی کے گھر کے پاس ملی دھماکو چھڑیں و دیگر چیزوں کے ساتھ ملی اسکارپیو کار کے مالک ہیرین کے قتل میں اے ٹی ایس نے سچن واجے کو اہم ملزم بنایا ہے واجے کو ایک دلال نے کئی سم کارڈ مہیہ کرائے تھے جو کرائم میں استعمال کئے گئے تھے اے ٹی ایس نے اس معاملے میں معطل پولس کانسٹبل ونایک سندھے اور دلال نریش گوڑ کو خود گرفتار کیا گیا ہے عدالت نے ان کو تیس مارچ تک اے ٹی ایس کی حراست میں بھیج دیا سندھے لکھن بھیا مڈ بھیڑ معاملے کو قصور وار ہے اور پیرول پر باہر ہے سندھے نے ہی چار مارچ کو رات میں پوچھ تاچھ کیلئے مانسک کو فون کر کے بلایا تھا اے ٹی ایس نے ملزمان سے تین موبائل فون اور سم کارڈ برآمد کئے ہیں دونوں کو حراست میں لینے کے بعد اے ٹی ایس اب منسخ کے قتل کے سازش کا پتہ لگائے گی اور منسخ کی سونے کی چین انگلی میں پہنی انگوٹھی کا پتھراور دوسری چیزیں بر آمد کرنے کی کوشش کرے گی مرکزی وزارت داخلہ نے اس معاملے کو این آئی اے کو سانپا تھا ایسے میں گرفت میں آئے دونوں ملزمان سے جانچ ایجنسی بھی پوچھ تاچھ کرے گے حالانکہ ابھی تک یہ کیس اے ٹی ایس کے پاس ہی ہے مانا جار ہا ہے کہ بہت جلد این آئی اے منسکھ کی موت کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔ (انل نریندر)

ایسی بھیڑ ہوگی تو کہیں نہیں جائے گا کورونا!

دہلی میں پچھلے سال کورونا وائرس کو کی تیزی دیکھی گئی اور تقریباً سبھی یا تو تہواروں کے سبب آئی یا پھر لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ۔ جس طرح دہلی میں حالات چل رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ ہمیں چوتھی لہر دیکھنے کو مل سکتی ہے دہلی میں ایک بار پھر سے کورونا وائرس کے تیزے سے معاملے بڑھ رہے ہیں حالانکہ اگر آپ مارکیٹ میٹرو ٹرین گلی محلوں میں نظر دوڑائیں تو اب لوگوں میں کورونا کا زیادہ ڈر نہیں لگتا لوگ پھرسے پرانے انداز میں لوٹ آئے ہیں پچھلے سال کورونا وبا کے آغاز کے وقت لوگوں میں جو ڈر کا ماحول تھا وہ اب پوری طرح سے ختم ہوگیا لگتا ہے ڈر ختم ہونے کے پیچھے ویکسین کا آجانا بھی ہے لیکن وہ اس بات سے انجان ہیں کہ ویکسین کے بعد بھی کورونا ہوسکتا ہے ماہرین کے مطابق ویکسین لگنے کے بعد بھی کسی میں اچھی اینٹی باڈیز بن جاتی ہے تو کسی میں کم اینٹی باڈیز بن جاتی ہے جس کے چلتے کووڈ ہوسکتا ہے ایک وجہ یہ بھی ہے دہلی میں اب تک کورونا کے تین لہر دیکھ چکے ہیں اس لئے چوتھی لہر آنے سے بھی لوگوں کو زیادہ فرق نہیں پڑ رہا ہے جس وجہ سے بازاروں میں چلے جائیں تو وہاں لوگوں کی بھیڑ نظر آجائے گی اور مارکیٹ میں لوگ بغیر ماسک کے گھومتے نظر آجائیں گے ایسے میں کورونا کا بڑھنا لازمی ہے کیونکہ اب ہولی نوراتری اور رمضان عید جیسے تہوار بھی آرہے ہیں اس وجہ سے بھی مارکیٹ میں خرید اری کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔پچھلے سال رکچھا بندھن اور اس کے بعد آئی عید کے بعد تیز بڑھنے شروع ہوئے تھے وہیں اکتوبر میں دشہرے کے بعد دیوالی تک یہ سلسلہ جاری رہا اب ایسے میں فکر اس بات کی ہے کہ دوچار دن میں ہولی آرہی ہے اگر ایسے میں لوگوں نے کورونا گائیڈ لائنس پر عمل نہیں کیا تو دہلی میں کہیں چوتھی لہر دیکھنے کو نہ مل جائے وہیں لوگ بازاروں میں سوشل ڈسٹنشنگ کی دھجیا ں آڑا رہے ہیں اور بھیڑ کی اوقات میں آپ میٹرو میں سفر کریں تو دیکھیںگے کس طرح سے لوگ سماجی دوری کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔وہ بھی جب تک تک ڈی ایم آرسی کی طرف پوری میٹرو میں ماسک لگانے اور سوشل ڈسٹنشگ بنانے رکھنے کے پوسٹر لگائے گئے ہیں کل میں وزیر اعظم کی چناو¿ ریلی دیکھ رہے تھے ان میں لاکھوں لوگ آتے ہیں اور شاید ہی کوئی ماسک پہنا ہوا ہویا سوشل ڈسٹنشگ کی تعمل کر رہا ہو اگر کورونا بڑھ رہا ہے تو اس کیلئے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ (انل نریندر)

نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں کیجریوال!

راجدھانی دہلی میں اروند کیجریوال حکومت نے شراب پینے کی قانونی عمر گھٹا دی ہے جسے پچیس سے گھٹا کر 21برس کر دیا گیا ہے ساتھ ہی اس سے کم عمر کے شخص کو ایسی کسی جگہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں شراب کی بکری یا پی جاتی ہے دہلی سچیولیہ میں پریس کانفرنس کے دوران دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے بتایا دہلی کی ایکس سائز پالیسی میں کیجریوال سرکار نے اہم ترین تبدیلی کر دی ہے ۔ کیبنٹ نے نئی شراب پالیسی کو پیر کو منظوری دے دی نئی پالیسی کے مطابق دہلی میں شراب کی نئی دکانیں نہیں کھلیں گی سرکار اب کوئی شراب کی دوکان نہیں چلائے گی ۔ شراب نئی پالیسی منیش سسودیا نے کہا نئی شراب پالیسی کے لئے لوگوں نے 14700تجاویز پیش کی تھی اور ماہرین کمیٹی نے بھی اپنی رائے دی تھی اس کے بعد حکومت نے وزارتی گروپ بنایا جس نے تجاویز اور ماہرین کمیٹی کی رائے پر سرکار سے سفارشیں کیں جن بنیاد پر دہلی کیبنٹ نے نئی شراب پالیسی کو منظوری دے دی انہوں نے کہا نئی ایکسائز پالیسی میں سرکار ایسے سبھی پہلوں کو ہٹا رہی ہے جس سے شراب مافیا ناجائز شراب کا دھندھا نہ کرسکے اس کے علاوہ سرکار ایکسائز روینوی کی کمی کو روکنے کیلئے ایکسائز پالیسی میں بڑی تبدلیاں کر رہی ہے ۔ دہلی سرکار دہلی بھر میں شراب کی دکانوں کو برابر تقسیم یقینی بنائے گی تاکہ شراب مافیا اس دھندھے سے ختم ہوسکے دہلی میں کئی علاقوں میں شراب کی دکانیں نہ ہونے سے مافیا کا کاروبار پھیل رہا ہے پچھلے کچھ برسوں میں کی گئی کاروائی میں مافیا کافی مقدار میں ناجائز شراب پکڑی گئی سسودیا نے کہا دہلی میں موٹے طور پر قریب 850ناجائز شراب کی دکانیں ہیں لیکن شراب مافیا 2000سے زیادہ دکانیں چلاتے ہیں اور دکانوں سے شراب کی سپلائی کی جاتی ہے نئی پالیسی ناجائز سرگرمیوں کو روکنے کیلئے ہے ایک طرح شراب مافیا گھروں ور دکانوںمیں شراب بیچتے ہیں اور دوسری طرف 50فیصد دکانیں صرف 45وارڈ میں ہیں دہلی میں 2016میں جتنی دکانیں تھیں اس کے بعد سے کوئی بھی نئی شراب کی دکان نہیں کھولی گئی آگے بھی نہیں کھولی جائے گی سرکار پالیسی لانے پر اسے تاریخ کا کالا دن قرار دیا گیا ہے شراب پینے کی عمر گھٹانے کو لیکر بھاجپا نے اعتراض جتایا ہے ساتھ ہی منگلوار کو اس معاملے میں لیفٹننٹ گورنر انل بیجل سے بھی مل کر شکایت کرنے کا فیصلہ لیا ہے بھاجپا صدر آدیش گپتا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی سرکار دہلی کو برباد کرنے میں لگی ہوئی ہے ہر وارڈ میں شراب کی دکانوں کی تعداد بڑھانا سیاسی فنڈنگ کا بڑا پلان ہے سرکاری شراب کی دکانیں بن کر مافیا کو سونپنے کا پلان ہے اس سے 1500سے 2ہزار کروڑ روپئے مزید آمدنی ہونے والی ہے کیجریوال نے 2014میں دہلی کے چناو¿ میں نوجوانوں کو نشے سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب سرکار نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے جہاں شراب پینے پر روک لگنی چاہئے وہیں سرکار اس کو بڑھاوا دے رہی ہے اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑے گا جب رات کے تین بجے تک شراب کی دکانیں کھلیں گی اور اکیس سال کی عمر میں بیٹا یا بیٹی شراب پینے کی چھوٹ ہوگی اور پریوار کیسے بچے گا۔ (انل نریندر)

25 مارچ 2021

سنگھ میں وقت کے ساتھ تبدیلیوں کے اشارے!

امید کے مطابق جب دتاترے ہوسبولے کو آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ)کا نگراںو جانشین چنا گیا ایک متفقہ فیصلہ ہی مانا گیا وہ پچھلے ایک دھائی سے بھی زیادہ اس عہدے پر قائم موجودہ سرکارواہا بھیا جی جوشی کی جگہ لیں گے اس فیصلے کے پیچھے بھی سنگھ کو وقت کے ساتھ خود کو بدلنا اور آنے والی چنوتیوں اور تبدلیوں کے ساتھ خود کو تیار کرنے کی سمت میں ایک فیصلہ کن قدم مانا جا رہا ہے حوسبولے کو قریب سے جاننے والے لوگ مانتے ہیں کہ ان کی تقرری سے سنگھ کے لئے کبھی دو اہم مورچوں پر فائدہ ملے گا۔حوسبولے کا آئیڈلوجی سطح پر ایک بڑی شخصیت مانا جاتا ہے انہیں سنگھ کا پروگریٹیو چہرہ بھی مانا جاتا ہے وہ نئے نظریے کے ساتھ تال میل کوآگے بڑھانے کی حمایتی رہے ہیں لمبے عرصے تک طلبہ یونین کے ساتھ جڑے رہنے اور نوجوانوںمیں آئیڈولوجی کو پہونچانے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کافی عرصے سے نوجوانوں کے بیچ بھی کافی اچھا کام کر رہے ہیں سنگھ کا خیال ہے کہ اسے جدیدیت یا گلوبل چیزوں سے بھی پرہیز نہیں ہے جب تک وہ ہمارے اقدار پر قبضہ نہیں کریں تو سنگھ کو لگتا ہے کہ اب اسلئے تنظیم کی بڑی لیڈر شب کو اونچی قیادت کی ضرورت ہے جو توازن بنا کر جنریشن میں تبدیلی کو تسلیم کرے اور جنریشن میں تبدیلی کیلئے ہوسبولے سب سے بہتر متبادل مانے جاتے تھے وہ سنگھ کے سی ای او عہدے پر رہنے کے بعد بھاجپا اور سرکار کے ساتھ بھی تال میل اور بہتر ہونے کی امید ہے ہوسبولے کے پی ایم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں ساتھ ہی جب سے نریندر مودی دیش کی سیاست کی پہیا بنے ہیں تب سے سنگھ کو بھی پتہ ہے کہ آج کی تاریخ میں جتنی ضرورت سرکار بھاجپا کو ان کی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت سنگھ کو مودی کی ہے جب سے بی جے پی سرکار بنی تب سے تقریباً ہر معاملے پر سنگھ سرکار کے درمیان تال میل ٹھیک رہا ہے اس کے پیچھے اٹل سرکار میںملی نصیحت بھی ہے جب سنگھ اور بی جے پی درمیان رشتے اتنے بہترنہیں تھے جس کا نقصان بھاجپا کو 2004میں اٹھان پڑا یسے میں سنگھ نے سینئر عہدے پر ایسے شخص کو سامنے رکھا جو اس توازن کو اور مضبوط بنانے میں مددگار ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق ہوسبولے اب بی جے پی آر ایس ایس کورڈینیشن دیکھنے کیلئے نئی ٹیم بنائیں گے اور اس میں وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو جگہ دے سکتے ہیں۔ (انل نریندر)

ضبط ہوسکتے ہیں ہندوستانی اثاثے!

برطانیہ کی تیل کمپنی کئیرن اینرجی پی ایل سی نے کہا کہ اس نے بیرونی ممالک میں ہندوستانی اثاثوں کی نشان دہی کی ہے جسے وہ حکومت ہند کی طرف سے 1.70عرب ڈالر کی رقم نہ لوٹائے جانے پر ضبط کر سکتی ہے ایک بین الاقوامی جوڈیشیل اتھارٹی نے سابقہ پوزیشن سے کی گئی مانگ کو منسوخ کرتے ہوئے بھارت سے پیسہ لوٹانے کو کہا ہے کیئرن کمپنی نے 2020کی سالانہ آمدنی سے متعلق بیان میں کہا کہ کمپنی کو بھروسہ ہے جو فیصلہ آیا ہے اسے بات چیت کے ذریعے یا پھر ہندوستانی اثاثوں کو ضبط کرکے لاگو کرایا جائے گا کمپنی نے فیصلے کو رجسٹرڈ کرانے اور اسے منظوری حاصل کرنے کیلئے نوملکوں کی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اس نے کہا جوڈیشیل اتھارٹی نے عام رائے سے یہ حکم جاری کیا کیئرن کے معاملے میں بھارت نے برطانیہ عدالتی باہمی سرمایہ معاہدے کے تحت اپنی جوازوں کو توڑا ہے اور 1.2عرب ڈالر کے ساتھ سود اوراصلی رقم اد اکرنے کو کہا ہے اس کے تحت کل بقایہ سال کے آخر تک 1.7عرب ڈالر تھی ۔ بھار ت کی سو سے زیادہ ملکوںمیں اثاثے ضبط کرنے کیلئے عدالت کے اتھارٹی کے فیصلے کو لاگو کیا جاسکتاہے ۔ جس نے غیر ملکی اتھارٹی کے حکم کو تسلیم کرنے و انفورسمینٹ کیلئے 1950کے نیو یارک کنویشن کو منظوری دی ہے اس سے پہلے ایک ایجنسی نے8مارچ کو خبر دی تھی نیدر لینڈ کی تین نفلی کمیٹی ثالثی جوڈیشیل عدالت کے 21دسمبر کے فیصلے کو امریکہ ، برطانیہ ، نیدر لینڈ ، کینیڈا، اور فرانس کی عدالتوں نے تسلیم کر لیاہے اب تک بھارت سرکار کے سیدھے طور پر کیئرن معاملے میں فیصلے کو چنوتی دینے یا ان کا سمان کرنے کو لیکر کوئی عدم نہیں جتایاحالانکہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اپیل کرنے کے اشارہ دیں ہیں جوڈیشیل اتھارٹی نے 21دسمبر کو اپنے حکم میں کہا سرکار کے نے برطانیہ کے ساتھ سرمایہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے 10247کروڑ روپئے کی مانگ کو لیکر کمپنی کے جو شیئر اس نے ضبط کئے بیچے اور منافعہ اور ٹیکس واپسی جو بھی ضبط کئے اسے لوٹانے کی جواب دیہی سرکارکے پاس کیئرن معاملے میں بین الاقوامی ثالثی جوڈیشیل فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے وسط اپریل تک کا وقت ہے برطانیہ کی کیئرن اینرجی کو کمپنی کو 1.2عرب ڈالر اور سود سمیت رقم لوٹانے کو کہا ہے عدالت کی بینچ نے کیئرن اینرجی کے خلاف سرکار کے 10.247کروڑروپئے کے دعوے کو بھی خار ج کر دیا تھا عدالت نے سرکار کو کمپنی کے بیچے گئے شیئر ضبط اور روکے گئے ٹیکس ریفنڈ کو لوٹانے کو کہا تھا 8جنوری کو نیدر لینڈ میں معاملے رجسٹرڈ ہوا بھارت میں 19جنوری کو اس کے رجسٹریشن پر اپنی مہر لگادی اس فیصلے کے 90دن کے اندر اپیل کی جاسکتی ہے ۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر کی لڑائی پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ پہونچی!

مہاراشٹر میں جاری سیاسی بحران کی آنچ پیر کو پارلیمنٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک پہونچ گئی ممئی کے سابق پولس کمشنر پرم بیر سنگھ کے الزامات کی جانچ مرکزی ایجنسیوں سے کرانے اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے استعفیٰ کی مانگ کو لیکر لوک سبھا میں بھاجپا کے ایم پی کافی غصے میں رہے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے اور اپنے تبادلے کو منسوخ کرانے کی اپیل کو لیکر پر م بیر سنگھ سپریم کورٹ پہونچ گئے ادھر این سی پی چیف شردپوار نے صاف کردیا کہ وزیر داخلہ انل دیش مکھ استعفیٰ نہیں دیں گے ان پر لگے الزامات غلط ہیں پرم بیر سنگھ نے سپریم کورٹ میں داخل اپنی عرضی میں کہا کہ سو کروڑ روپئے کی وصولی کرنے کے ٹارگیٹ والی بات وزیر اعلیٰ کو بھی بتائی تھی کچھ دن بعد ہی ان کا تبادلہ کر دیا گیا پرم بیر سنگھ نے اپنے تبادلے کے حکم کو بھی چیلنج کر دیا ہے ٹرانسفر و پوسٹنگ پر افسر ارمسکلا کی رپورٹ کی جانچ کی جانی چاہئے پرم بیر نے الزام لگایا کہ ایم پی موہن ڈیلکر خودکشی معاملے میں دیش مکھ بھاجپا نیتاو¿ں کو پھنسانے کیلئے دباو¿ ڈال رہے تھے پرم بیر نے اپنے ثبوت بھی کورٹ کو سونپے اور فوراً سی بی آئی جانچ کے احکامات نہیں دیئے گئے تو دیش مکھ کے گھر پر لگے سی سی ٹی وی فوٹیج ڈلیٹ کر دیئے جائیں گے ۔دیش مکھ نے فروری میں اعلیٰ افسروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کرائم خفیہ یونٹ کے سربراہ سچن واجے و سماج سیوا برانچ کے اے سی پی پاٹل سمیت دیگر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور ہر مہینے سو کروڑ روپئے کی وصولی کا ٹارگیٹ دیا ۔ پرم بیر کا الزام ہے کہ دیش مکھ پولس کی فائلوں میں بیجا دخل دیتے ہیں حالانکہ وہ دباو¿میں نہیں آئے حالانکہ انہوں نے کہا کہ دو برس کا کم از کم مقرر میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی تبادلے منمانے اور غیر قانونی طریقے سے کئے گئے پارلیمنٹ میں واجے کا معاملہ آنے پر لیڈی ایم پی کوسیو شینا نے تیزی حملے کی دھمکی تک دے ڈالی مہاراشٹر کے امرواتی سے ایم پی نونیت رانا نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلاکو خط لکھ کر سیوشینا ایم پی اروند ساونت پر سنگین الزام لگایا کہ انہوں نے یعنی ساونت نے مجھے پارلیمنٹ کمپلیکس میں دھمکی دی تھی کہ ادھو ٹھاکرے سرکارکے خلاف کچھ بھی بولا یا سچن واجے کا معاملہ اٹھایا تو ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اور کہا کہ مہاراشٹر میں کیسے گھومتی ہے میں دیکھتا ہوں اور تجھے بھی جیل میں ڈال دوں گا یہی نہیں ساونت نے تیزابی حملہ کرانے کی دھمکی دی ادھر این سی پی چیف سردپوار نے پیر کو پریس کانفرنس کر مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ کا بچاو¿ کیا ۔انہوں نے کہا مجھے اتوار کو یہ نہیں پتہ تھا کہ دیش مکھ اسپتال میں تھے فروری میں دیش مکھ اور سچن واجے کے درمیان ہوئی بات چیت کے الزام غلط ہیں دیش مکھ کے استعفیٰ کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اس سے پہلے پوار نے کہا تھا الزام سنگین ہے اور دیش مکھ کے استعفیٰ کا فیصلہ وزیر اعلیٰ ہی لیں گے ۔بھاجپا کی اس مانگ میں کوئی جوازنہیں ہے الزامات کی جانچ ہونے تک دیش مکھ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے این سی پی صدر سردپوار نے کہا اہم معاملہ صنعت کار مکیش انبانی کی گھر کے باہر ایک کار سے دھماکو سامان ملنے سے جڑا ہے میری رائے ہے کہ ممئی اے ٹی ایس صحیح سمت میں جارہی ہے۔ (انل نریندر)

24 مارچ 2021

ای وی ایم میں چناو ¿ نشان کی جگہ امیدوار کی فوٹوہو!

سپریم کورٹ نے حکومت ہندکے اٹورنی جنرل اور ماہر قانون داں سے اس مفاد عامہ کی عرضی پر جواب مانگا ہے جس میں ای وی ایم میں چناو¿ نشان ہٹا کر اس کی جگہ امیدوار کا نام اور فوٹو ڈالے جانے کیلئے چناو¿ کمیشن کو احکامات دیئے جانے کی درخواست کی گئی ہے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے اور جسٹس ایس بو پننا اور رمن سبرامنیم کی بینچ نے مرکزی حکومت اور چناو¿ کمشین کو کوئی نوٹس جاری کیئے بغیر وکیل اشونی اپادھیائے اور انکے عرضی کی ایک کاپی اٹارنی جنرل رینو گوپال اورو تشار مہتا کو دینے کیلئے کہا سماعت اگلے ہفتے ہوگی فی الحال ہم کوئی نوٹس جاری نہیں کر رہے ہیں مختصر سماعت کے دوران بینچ نے اپادھیا کے جانب سے پیش سینئر وکیل وکاس سنگھ سے یہ جاننا چاہا کہ ای وی ایم چناو¿ نشان رکھے جانے پر کیا اعتراض ہے انہوں نے چناو¿ کمشین کو خط بھی لکھا ہے لیکن اس کا جواب نہیں ملا ہے انہوںنے کہا عرضی گزار اس لئے ای وی ایم میں چناو¿ نشان کے بجائے امیدوار کی تفصیل چاہتے ہیں کہ تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کتنا مقبول ہے اور کتنا تعلیم یافتہ ہے بینک نے سم سے پوچھا کہ چناو¿ میں نشان کس الیکٹرانک ووٹنگ کس وجہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کاروائی کو متاثر کر تا ہے اس پر انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں اگلی سماعت میں بتائیں گے انہوں نے مانگ کہ پارٹی کے چناو¿ نشان کا استعمال ناجائز اور غیر آئینی اورآئین کی خلاف ورزی ہے کرپشن کے خاتمے اور سیاسی جرائم کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ای وی ایم سے سیاسی پارٹی کا چناو¿ نشان ہٹانا اور اس کی جگہ امیدوارکا نام عمر تعلیمی اہلیت اور امیدوار کا فوٹو ڈالنا ہے ۔ (انل نریندر)

سچن واجے کے اصلی آقا و پوری سازش کا انکشاف جلد!

دیش کے سب سے امیر صنعت کار مکیش انبانی کی رہائش گاہ کے باہر دھماکوں سے لدی کار کے معاملے میں گرفتار ممبئی پولس کا افسر سچن واجے کے بجائے کوئی دوسرا آدمی اصلی آقا ہے قومی جانچ ایجسنی این آئی سے جڑے ایک سینئر زرائع نے بتایا پورا معاملہ حل کیا جا چکا ہے واجے ایک دوسرے کھلاڑی سے ساتھ لیتا تھا اور جلد ہی اس پوری سازش کا انکشاف ہو جائے گا۔ مان جاتا ہے این آئی اے کے اس دعویٰ کے بعد ہی پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کے تبادلے کی پوری کہانی لکھی گئی جانچ سے جڑے لوگوں کے مطابق 13مارچ کو گرفتاری کے بعد پوچھ تاچھ میں سچن واجے نے این آئی اے افسران کو بتایا تھا کہ وہ اس پورے معاملے میں اپنی پرانی ساخ کو حاصل کرنے کیلئے کسی دسرے کے کہنے پر جڑا تھا اس بنیاد پرجانچ کرنے کے بعد واجے کی بات کی تصدیق ہو رہی ہے حالانکہ حکام نے یہ نہیں کہا کہ دوسرے پولس کمشنر پرم ویر سنگھ ہیں لیکن پولس محکمے میں واجے کے سر پر پرم ویر کے ہاتھ ہونے کے بارے میں بات عام ہے اسی وجہ سے مانا جارہا ہے پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اب این آئی اے کی ٹیم کسی بھی وقت پرم ویر سنگھ سے کچھی بھی پوچھ تاچھ کر سکتی ہے۔این آئی اے نے بدھوار کو کہا کہ امبانی کے گھر کے قریب ملی کار سی سی ٹی وی فوٹیج میں پی پی ای کٹ میں دکھائی دیئے شخص کے سچن واجے جیسے لگ رہی ہے حالانکہ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے مرسڈیج کار کی تلاشی کے بعد اس میں پانچ لاکھ روپئے نقد نوٹ گننے کی مشین دو نمبر پلیٹ کچھ کپڑے اور مٹی تیل سے بھری بوتل ملی تھی اور پی پی ای کٹ کے نیچے کرتہ پائجامہ پہنا گیا تھا یہ کپڑے جلا کرثبوت مٹانے کیلئے مٹی کا تیل استعمال کیا گیا واجے کے کیبن سے ملے لیپ ٹاپ میں سے بھی سارا ڈاٹا ڈلیٹ کر دیا گیا تھا اس نے اپناموبائیل بھی پھینک دیا تھا مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دویندر فنڈناویس نے جانچ میں این آئی اے اور اے ٹی ایس دونوں کے رول پر سوال کھڑے کئے ہیں اور اس پورے کھیل کا اصلی آقا کوئی اور ہے انہوں نے موجودہ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے بھی ہاتھ سچن واجے کے سر پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے فڈنویس نے میڈیا کو بتایا این آئی کو منسوخ ہرین کی موت کی جانچ کرنی چاہئے این آئی اے جانچ واجے تک ہی محدود ہے جبکہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ اصلی آقا کوئی اور ہی ہے اس واقعے سے سیوشینا اور این سی پی کانگریس اتحاد اور ریاستی حکومت کی ساک دھکا لگا ہے جسے بھاجپا کو ایک بڑا سیاسی اشو دے دیا ہے ۔ بہر حال این آئی اے کے ساتھ ممبئی پولس کی بھی ذمہ داری ہے اس معاملے سے جڑی جانچ کو جلد سے جلد اس کے انجام کو پہونچائے ۔ (انل نریندر)

عمران خان کے بعد اب جنرل باجوا!

پاکستان کے فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوانے بھارت کے ساتھ رشتوں کو لیکر اچانک اپنا جو رخ بدلا ہے اور دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی بات کہی ہے اگر وہ اس پر ایماندار ہیں تو یہ اچھی بات ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے لیکن جنرل باجو ا کی بات پر یقین کر نا اس لئے مشکل ہے کیونکہ بھارت کے خلاف جس کٹر رویئے کو پاکستان نے اپنا یا ہوا ہے ا س کی کڑی یہی جنرل باجوا ہیں ۔ پچھلے کچھ وقت میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھی اسی طرح کی باتین کر کے یہ جتاتے رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات ہونے چاہئے خاص بات یہ ہے کہ جنرل باجوا کی طرف سے پچھلے دو مہینے میں بھارت سے بات چیت کی یہ تیسری پیشکش ہے جو اسلام آبادڈئیلاک کے نام سے منعقد ہوئی تھی اس میں ملک و بیرونی ملک کے کئی حکمت عملی کے ماہرین و سفارت کار موجود تھے بھارت پاک کے درمیان پچھلے مہینے ہی کنٹرول لائن پر جنگ بندی پر رضا مندی بنی ہے عمران خان نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ پر امن رشتے بناتا ہے تو اس کا اسے سیاسی فائدہ ملے گا بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی سے بھارت کو پاکستان جغرافیائی راستے کے وسائل اور مشرق وسطیٰ سیدھے پہونچنے میں مدد ملے گی عمران خان نے جب اقتدار سنبھالا تھا تب وہ بڑھ چڑھ کر ایسی باتیں کرتے تھے اور موقعہ ملتے ہی یہ کہنے سے نہیں چوکتے تھے کہ رشتوں میں فروخت کیلئے اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا لیکن وہ اپنے وعدوں اور دعووں پر کتنے کھرے اترے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کا اچانک سے دل میں کیسے نرمی اگئی کیونکہ اسے لگنے لگا ہے کہ پڑوسی دیش بھارت کے ساتھ دوستانہ رشتے رکھنا چاہئے ؟ کیا دنیا کے سامنے اپنی بری ساخت کو صاف کرنے کیلئے وہ ایسا کر رہا ہے یا وہ پھر وہ کسی کے دباو¿ میں اس حکمت عملی پر چل رہا ہے ؟ بتا دیں کہ پاکستان کی پچھلی سرکاریں بھی امن کی باتیں کرتی رہی ہیں اس کے بعد پلوامہ حملہ ہوگیا آئے دن کشمیر میں پاک حمایتی آتنکی تنظیمیں حملے کرواتی رہی ہیں ۔ بھارت پاکستان کے درمیان بڑا اشو پاک اسپونسر دہشت گردی ہے ان کی سر زمین پر ان کی مدد سے دہشت گرد تنظیم پھل پھول رہی ہیں بھارت بار بار ان دہشت گروپوں کی حرکتوں کا ثبوت دیتا رہا ہے لیکن پاکستان نے ان کو ٹال دیاہے لمبے عرصے پاکستان بھارت کو گہرے زخم دیتا رہا ہے ایسے میں علاج کی وہ پر امن دوہائی دینے لگے تو حیرت پیدا ہونا لازمی ہے آخر بھارت کیسے بھول سکتا ہے پلوامہ کے حملے کو یا پارلیمنٹ کمپلیکس سے لیکر ممبئی تاج ہوٹل کرائے آتنکی حملوں کے ملزم آج بھی پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں موج مستی کر رہے ہیں بھارت نے سبھی کے خلاف پاکستان کو پختہ ثبوت دیئے لیکن کسی کے خلاف پاکستان نے اب تک کوئی کاروائی نہیں کی ہے ایسے میں پاکستان یہ کیسے توقع کر رہا ہے کہ بھارت ساری پچھلی باتوں کو بھو ل کر اب آگے بڑھے اور اس کے ساتھ اچھے رشتے بنائے؟ گھریلو محاذ پر عمران سرکار پہلے ہی مشکلوں سے گھری ہے اپوزیشن پارٹیوں نے مظاہروںسے سرکار کی نیند اڑا رکھی ہے معیشت کا اشو اب بڑھ چکا ہے شاید اسلئے اب جنرل باجو اکو بھارت کے ساتھ اچھے رشتوں کا دماغ پر شوسا چھایا ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

23 مارچ 2021

چینی ویکسین لگوانے سے عمران خان کو کورونا!

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کورونا رپورٹ پاجیٹیو آئی ہے انہوں نے اس کے بعد گھر میں ہی تنہائی اختیا رکر لی ہے وزیر اعظم کے مخصوص مشیر ڈاکٹر سلطان نے ٹویٹرکا رخ کرتے ہوئے عمران خان کے کورونا انفیکشن کی تصدیق کی ہے عمران نے 18مارچ کو چین میں بنی کورونا ویکسین سینو فارم کی پہلی ڈوژ لگوائی تھی پاکستان میں فی الحال یہی ویکسین دستیاب ہے جس کے پانچ لاکھ ڈوژ چین نے مفت دیئے تھے عمران خان کے ترجمان ڈاکٹر شھباز گل نے کہا وزیر اعظم کو ہلکہ بخار اور خانسی کی شکایت بتائی گئی ہے ۔ عمران خان نے وبا کی تیسری لہر کے پیش نظر ملک کے شہریوں سے کورونا کی گائیڈ لائنس پر عمل در آمد کرانے کی اپیل کی ہے پاکستان اس وقت کورونا کی تیسری لہر کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے سنیچر اتوار کو ایک ایک دن میں تین ہزار سے اوپر نئے کورونا مریض سامنے آئے اور اس سے ملک میں کورونا انفیکش کی شرح بڑھ کر 9.4فیصد ہوگئی ہے کورونا کے بڑھتے معاملے کے سبب سیال کوٹ کے کئی علاقے میں لاک ڈاو¿ن لگا دیا گیا ہے اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پاکستا ن میں برطانیہ کے نئے وائرس اسٹرین کے بھی مریض بڑھ رہے ہیں ۔ حال ہی میں چین سے پاکستان کو کورونا ویکسین ملی تھی فی الحال پاکستا ن میں سینئر شہریوں کو کورونا ویکسین ٹیکہ مہم جاری ہے۔ (انل نریندر)

راجستھان میں فون ٹیپنگ معاملے پر سیاسی تکرار!

ریاستی اسمبلی میں جمعہ کو راجستھان کے مبینہ فون ٹیپنگ معاملے کو لیکر زبردست ہنگامہ ہوا وقفہ سوالات میں بھاجپا ممبر بھوپیندر یادو نے اس مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ یہ انڈیان ٹیلی گرافٹ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے اس پر فوراً روک لگائی جانی چاہئے راجستھا ن سرکار ان الزامات سے کانگریس ناراض ہوگئی اور جم کر ہنگامہ کیا آخر میں اسپیکر نے فیصلہ دینے کے بعد معاملے کو ٹھنڈا کیا فون ٹیپنگ معاملہ آخر ہے کیا؟پچھلے سال جولائی -اگست مہنے مہنے میں ریاست کے کچھ نمائندوں کے فون ٹیپ کئے جانے کے درمیان بھاجپا ممبر اسمبلی کالی چرن شراف نے اگست میں بلائے گئے اسمبلی اجلاس میں سوال کیا تھا کیا یہ صحیح ہے کہ پچھلے دنوں میں فون ٹیپ معاملے سامنے آئے ہیں ؟ اگر ہاں تو کس قانون کے تحت اور کس کے حکم پر یہ ہوا؟ ریاستی اسمبلی کی ویب سائٹ پر ڈالا گیا اس کے مطابق پبلک سیکورٹی یا جمہوریت کے مفاد میں یا کسی ایسے جرم کو بڑھاوا دینے سے روکنے کیلئے جس سے عوامی سلامتی یا جمہوریت کو خطرہ ہو ٹیلی فون و انٹرنیٹ ایکٹ 1885کی دفعہ پانچ (2)انڈین ٹیلی کمیونیکشن کے ایکٹ 2007کے وغیرہ کے دائرے میں آتا ہے راجستھا نے بھاجپا ایم پی اور سابق مرکزی وزیرراجیہ وردھن سنگھ راتھوڑ نے فون ٹیپنگ کو لیکر ریاست کے وزیر اعلیٰ اشو ک گہلوت کی سے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے ایم پی نے کہا کانگریس سرکار ایجنسیوں کا بے جا استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے اس پر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ بے وجہ اشو بنا کر اسمبلی کی کاروائی میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے راجستھا اسمبلی میں فون ٹیپنگ کو لیکر 14اگست 2020کو ہی پوری بات رکھ چکا ہوں ایسا لگتا ہے کہ یہ بھاجپا کا آپسی جھگڑا ہے اور یہ بالادستہ کی لڑائی ہے جس میں بے وجہ اشو بنائے جا رہے ہیں بھاجپا کے ممبر نے راجیہ سبھا میں کہا کہ دیش کے آئین کے تحت کوئی بھی شخص کسی کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دے سکتا جب تک اس کے خلاف کوئی قانونی معاملہ نہ ہو لیکن راجستھان میں اسکی خلاف ورزی ہورہی ہے میں راجستھا ن سے آتا ہوں بھوپیندر یادو نے کہا کہ وہاں کے چھ کروڑ شہریوں اور اپوزیشن لیڈروں میڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کے کچھ نیتاو¿ں کا بیان درج کرانا چاہتا ہوں وہاں وزیر اعلیٰ کے اوایس ڈی کے ذریعے ان سبھی کے فون ٹیپ کرائے گئے ہیں انہوں نے پوچھا یہ کیسی حکومت ہے اب یہ دیش چلانا چاہتے ہیں ؟ اس اشو کو اٹھاتے ہی کانگریس بھڑک گئی ہے ساتھ ہی بھاجپا ممبر کے الزامات کو کاروائی سے ہٹانے کو لیکر اڑ گئی ہے اور ایوان میں شو رو شرابا کیا اور اسپیکر نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی انہوں نے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ وہ کہہ رہے ہیں کی باغی لیڈر کا فون ٹیپ ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

کیجریوال نے کھیلا ہندو کارڈ!

”انسان کا انسان سے ہو بھائی چارا،یہی پیغام ہمارا“دیش بھر میں زبردست مودی لہر کے باوجود 2014میں پہلی مرتبہ دہلی اسمبلی چناو¿ میں یکطرفہ جیت کے بعداروند کیجریوال نے اسٹیج سے یہی گانا گایا تھا 2019کے اسمبلی چناو¿ میں بھی عام آدمی پارٹی نے ہیلتھ اور تعلیم پر اپنے اچھے کام کئے تھے اسی بنیا د پر ووٹ مانگے تھے اور مقبولیت کی لہر پر سوار بھاجپا کیجریوال کو اپنی شاندار پرفارمنس دہرانے سے نہیں روک پائی ۔ بنیادی اشوز پر کامیابی کے ساتھ سیاست کرنے کیلئے مانی جانے والی پارٹی آپ اب اچانک دیش بھکتی اور رام راج کی باتیں کرنے لگی ہے ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اس کے پیچھے ان کا ارادہ کیا ہے ؟ کیجریوال خود بھگوان ہنومان اور بھگوان رام کا بھکت بتا چکے ہیں ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کی سرکار دہلی کی سیوا کرنے کیلئے رام راجیہ سے پاس دس اصولوں کی تعمیل کرتی ہے ۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ جب ایودھیا میں رام مند ر بن کر تیار ہوجائے گا تو وہ دہلی کے بزرگ ہندو شہریوں کو وہاں کی مفت تیرتھ یاترا کروائیں گے کچھ دن پہلے دہلی سرکار کا بجٹ دیش بھکتی کے نام سے پیش کیا گیا ۔ قومی فخر کی بات کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ پوری دہلی میں 500بڑے قومی جھنڈے فہرائے جائیں گے کیجریوال سرکار پہلے ہی دہلی کے اسکولوں میں دیش بھکتی کے نصاب کی بات کرچکی ہے اس کا مقصد دیش بھکت شہریوں کو ایک طبقہ بنانا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کیجریوال کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے ؟ سینئر وکیل پرشانت بھوشن کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں ان کو لگتا ہے کہ اس سے انہیں ہندو¿ں کے ووٹ مل سکتے ہیں یہ بی جے پی کو ایک طرح سے اسی کے کھیل میں مات دینے کی کوشش کر رہے ہیں ا ن کو لگتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک بڑے قومی متباد ل کی طرح پیش کر سکتے ہیں۔ یہ شاید اروند کا سیاسی جائزہ ہے کہ ان کو ہندووٹ پر خاص طور پر منحصر کر ناپڑے گا ۔ کیونکہ اس وقت بی جے پی نے پولارئیزیشن کردیا ہے سینئر صحافی عام آدمی پارٹی کے نیتا رہے اسیتوش کہتے ہیں مذہب اور راشٹر واد کی بات کرنا کیجریوال اور ان کی پارٹی کی چناوی مجبوری ہے واضح ہو اسوتوش عام آدمی پارٹی کے ترجما ن رہ چکے ہیں ۔ اب انہوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے وہ کہتے ہیں کہ اروند کیجریوال کو اس بات کا اندازہ ہے کہ دہلی میں ایک بہت بڑا طبقہ جو بی جے پی کوو وٹ دیتا ہے اور عام آدمی پارٹی کو بھی ووٹ دیتا ہے آپ پارلیمنٹ کا چناو¿ دیکھیں تو بی جے پی کو 57فیصدی ووٹ ملتے ہیں اور سبھی ساتوں سیٹیں بی جے پی کو چلی جاتی ہیں لیککن اسمبلی چناو¿میں عام آدمی پارٹی کامیاب ہوجاتی ہے اسکا مطلب یہ ہے تو اگر آپ اپنے ووٹ بینک کو سنبھال کر رکھنا چاہتی ہے تو اس کو اپنے آپ کو ہندو نیتا کے طور پر قائم کرنا پڑے گا۔ اروند کیجریوال کی کوئی خاص آئیڈیو لوجی نہیں اور انہیں لگتا ہے جو چیز ہم کو ووٹ دلوائے وہی کرنا چاہئے اسوتوش یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات سے انکا رنہیں کیا جاسکتا کہ اروند کیجریوال کا تھوڑا سا نظریاتی جھکاو¿ سافٹ ہندو کی طرف ہوسکتا ہے سسی بھوشن کہتے ہیں کی کیجریوال ایک اصل سیاسی پرانی ہیں جدھر دیکھو کچھ کرنے سے زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں وہ ہر کام اسی حساب سے کر لیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2021

ماں کو تھپڑ مارا تو وہ دم توڑ گئی !

راجدھانی دہلی میں کرائے دار سے جھگڑے کے بعد ایک بیٹے نے کہا سنی کے دوران اپنی 76سالہ ماں کو تھپڑ مار دیا جس سے اس بزرگ عورت اوطار کور کی موت ہوگئی ماںکی موت کے بعد بیٹے نے پولس کو بتائے بے غیر ہی اس کا انتم سنسکار بھی کر دیا لیکن سوشل میڈیا میں واردات کا ویڈیو وائر ل ہوگیا جس کے بعد پولس حرکت میں آگئی اور چھان بین شروع کرنے کے آئی پی سی کی دفعہ 304کے تحت کیس درج کر بیٹے کو حراست میں لے لیا پولس ڈپٹی کمشنر سنتوش کمار مینا نے بتایا کہ متوفی بزرگ اوطار کور اپنے بیٹے رنبیر کے ساتھ رہتی تھی 15مارچ کو پولس کو ایک عورت نے بتایا کہ یہاں پارکنگ کو لیکر مکان مالک سے جھگڑا چل رہا تھا پولس نے موقع پر پہونچ کر دیکھا کہ معاملہ رفع دفع ہوگیا ادھر اس واقعے کے بعد رنبیر اپنی ماں سے جھگڑنے لگے اور بیوی بھی اسکی اپنے شوہر کا ساتھ دینے لگی جھگڑا اتنا بڑا کی بیٹے نے اپنی ماں کو زور دار تھپڑ مار اور وہ بے سدھ ہوکر سڑک پر گر گئی اسکے بعد بہو نے ساس کو اٹھانے کی کوشش کی رشتے دار اسپتال لیکر پہونچے ڈاکٹروں نے مرا ہوا قرار دیا اور وہاں سے گھر لائے اور پھر انتم سنسکار کے لئے نکل لئے معاملے کی اطلاع پولس کونہیں دی اور انتم سنسکار بھی کر دیا۔ (انل نریندر)

تامل ناڈو میں مسلم ووٹ میں بھی اویسی نے سیندھ لگائی!

تامل ناڈو اسمبلی چناو¿ دلچسپ لیتا جا رہا ہے فلم اسٹار وجے کانت کی پارٹی ڈی ایم کے انا ڈی ایم کے ساتھ گٹھ بندھن میں چناو¿ لڑنے کے اعلان سے تصویر بدل گئی ہے اتحاد کے بعد تکونہ مقابلہ ہوگیا ہے ڈی ایم کے اور اویسی کی پارٹی بھی اتحاد میں شامل ہے ایسے میں مسلم ووٹ میں تقسیم سے ڈی ایم کے ۔کانگریس اتحاد کو سیدھا نقصان ہوگا ۔تامل ناڈو میں مسلم ووٹروں کی تعداد 6فیصد ہے اور کسی بھی سیٹ پر ان کا دبدبہ نہیں ہے لیکن قریب سیٹ ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹو کی تعداد 20ہزار کے قریب ہے اویسی کے اچانک اتحاد سے کئی سیٹوں پر اثر ڈال سکتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ مقامی مسلم پارٹی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی آف انڈیا کا بھی اتحاد ہے اورمکمل ندھی کے چیف کمل حسن کی نظر بھی مسلم ووٹپ پر اویسی کے وجے کانت کی پارٹی ڈی ایم کے اور جناکرن کی انا ڈی ایم کے ساتھ آنے سے بھی اتحاد بھی مسلم ووٹوں میں دسیندھ لگائے گا ایسے میں ان سیٹ پر مسلم ووٹ تقسیم ہوتا ہے تو اس سیدھا فائدہ ڈی ایم کانگریس اور اویسی کی جماعت اتحاد کو ہوگا چونکہ ڈی ایم کے اتحاد کی چناوی جیت کا حساب کتاب مسلم دلت پر ٹکا ہے ۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ اویسی کی جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے دنا کرن کے اتحادنے صورتحال ہی بدل دی ہے اویسی چناو¿ اتحاد نہیں کرتے تو سسی کلا کا بھتیجا ہونے سے دنا کرن اے آئی ایم ڈی ایم کو نقصان پہونچا سکتی ہے کیونکہ سسی کلا سے بھلے ہی سیاسی ریٹائر منٹ لے لیا ہو تو پارٹی میں ان کے حمایتوں کی کمی نہیں ہے اویسی اور ڈی ایم کے اتحاد نے ریاست کے چناو¿ کی تصویر ہی بدل دی ہے ۔ (انل نریندر)

امریکی صدر بائیڈن نے پتن کو قاتل قرار دیا !

امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پتن کے بارے میں ایسا بیان دے ڈالا جس سے ہلچل ہونا فطری ہے در اصل پچھلے سال امریکی صدارتی چناو¿ میں دخل انداز کے معاملے میں پتن کو قاتل بتاتے ہوئے انہیں اس کی قیمت چکانے پڑے گی بائیڈن کے سے بھڑکے روس نے واشنگٹن میں موجود اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے حالانکہ دلیل دی ہے تبادلہ خیال کے لئے بلایا گیا ہے اے بی سے نیوز کے ساتھ بات چیت نے بائیڈن نے اس امریکی انٹلی جینس کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر یہ رائے زنی کی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو فائدہ پہونچانے کیلئے پتن نے یا تو چناو¿ میں دخل دینے کی کاروائی کی نگرانی کی تھی اس پر جو بائیڈن نے کہا کہ پتن نے جتنے بھی غلط کام کئے ہیں سبھی کا پردہ جلد فا ش ہوگا اس کیلئے وہ جو بھی قیمت ادا کرنے جا رہے ہیں آپ جلد ہی دیکھیں گے اس دوران انہوںنے پچھلے مہینے پتن کے ساتھ اپنی ٹیلی فون کی بات چیت کا بھی ذکرکیا خیال رہے امریکہ میں پچھلے سال ہوئے امریکی صدارتی چناو¿ نے روس کے صدر ولادیمیر پتن کے رول کو لیکر خوفیہ رپورٹ نے لوگوں کو چونکا دیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پتن نے امریکی صدراتی چناو¿ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت میں کمپین چلانے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا حالانکہ وہ انہیںجتانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ادھر امریکی کونسل خانے نے یہ اعلان کیا کہ وہ نولینی کوزہر دینے کیلئے سزا کے طور پر روس پر لگی پابندیوں کو اور سخت کر رہے ہیں اس پر روس نے جواب میں اپنے سفیر کو ماسکو واپس بلا لیا ہے حالانکہ روس نے کہا وہ دونوں ملکوں کے رشتوں کو خراب کرنا نہیں چاہتے روس نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے امریکہ کے ساتھ کے رشتے ایسی جگہ نہ پہونچے جہاں سے واپس نہ آیا جاسکے اس سے پہلے 1988میں روس نے عراق میں حملے کے خلاف احتجاج میں امریکہ اور برطانیہ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا ۔ جو بائیڈن کے انتظامیہ کے ابتدئی دنوں میں اتنا بڑا فیصلہ دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے صدر بائیڈن نے اشارہ دیا ہے کہ اس معاملے میں ابھی اور سنسنی خیز باتیں سامنے آنے کاامکان ہے امید کرتے ہیں کہ دنیا کہ ان دو بڑی طاقتوں کے رشتے اور نہ بگڑیں ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...