Translater

29 دسمبر 2012

ملازمین کی معطلی کو لیکر دوردرشن اور پی ایم او میں ٹھنی

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سرکار اور ان کا پی ایم او کی ان دنوں بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعے پر دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں۔ معاملہ کچھ ایسا ہے وزیر اعظم نے گذشتہ پیر کو ٹیلی ویژن پر دیش کی عوام کو خطاب کرنا تھا۔ اس کیلئے پی ایم او ہاؤس پر صبح9.30 بجے ریکارڈنگ کی جانی تھی۔ الزام ہے کہ دوردشن کے کیمرہ مین 9.40 پر جبکہ انجینئرنگ محکمے کے سبھی ملازمین 10 بجے کے بعد پردھان منتری ہاؤس پہنچے۔ اس وجہ سے پی ایم ہاؤس میں پہلے سے موجودہ ٹی وی خبررساں ایجنسی اے این آئی نے پی ایم کی تقریر کی ریکارڈنگ کی بعد میں اسے ایڈٹ کئے بغیر کی نشر کردیا گیا اور پی ایم کے پیغام کے آخر میں’سب ٹھیک ہے‘ کہتے سنا گیا۔ دوردرشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کے خلاف معطلی کی کارروائی کا پی ایم کی تقریر کابنا ایڈٹ ہی نشر ہوجانے کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہیں وزیر اعظم ہاؤس دیر سے پہنچنے کے سبب معطل کیا گیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ 7 ریس کورس روڈ جانے والے راستوں پر ٹریفک پابندی کے چلتے دوردرشن کی ریکارڈنگ ٹیم وقت پر نہیں پہنچ سکی۔ انہیں پی ایم او نے کچھ ہی وقت پہلے ریکارڈنگ کے لئے آنے کے لئے کہا تھا۔ دوردرشن کے پانچ ملازمین کے خلاف کی گئی کارروائی کو لیکر پی ایم او اور دوردرشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دوردرشن کے افسروں کا صاف کہنا ہے جس غلطی کے لئے 5 ملازم معطل کئے گئے ہیں ان کے لئے پی ایم او کے افسر ذمہ دار ہیں۔ دوردرشن کے ان افسروں کا دعوی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کی ریکارڈنگ کے لئے مقرر پروٹوکال کی تعمیل ہوتی تو اس طرح کی گڑ بڑی نہیں ہوتی۔ اس کے لئے وہ خاص طور پر وزیر اعظم کے رابطہ مشیر یعنی کمیونی کیشن ایڈوائزر کے رویئے سے ناراض ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ پی ایم او کے ایک افسر کی جلد بازی سے سب کچھ گڑ بڑ ہوگئی۔ مگر دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پی ایم او میں بھی اس طرح کی ریکارڈنگ کے لئے ذمہ دار افسروں کو اس مرتبہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ روایت ہے صدر و وزیر اعظم کی تقریر دوردرشن ہی ریکارڈکرتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اس بار پیغام کی ریکارڈنگ ایک پرائیویٹ ایجنسی سے کیوں کروائی گئی؟ ساتھ ہی یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ اگر پیغام کو ٹھیک سے سن کر و ایڈٹ کرکے دکھایا جاتا تو اس طرح کی گڑ بڑی کی گنجائش نہیں رہتی۔ دوسری جانب پی ایم او کے افسر اس کے لئے دوردرشن ملازمین کی لیٹ لطفی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ غفلت کہاں ہوئی یہ تو پتہ نہیں اس کا خمیازہ ضرور ان پانچ دوردرشن ملازمین کوبھگتنا پڑ رہا ہے۔ ویسے اس واقعہ سے پی ایم او کی بوکھلاہٹ بھی سامنے آتی ہے۔ دراصل آبروریزی کے معاملے میں یہ سرکار اتنی کنفیوز چل رہی ہے کہ ہمیں تعجب نہیں ہوا کہ یہ بوکھلاہٹ ان پانچ دوردرشن ملازمین پر کیوں دکھائی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

’فاسٹ ٹریک‘ عدالت یعنی جلد انصاف کی زمینی حقیقت

پچھلے دنوں چلتی بس میں آبروریزی کے واقعہ کے بعدحکومت نے آبروریزی کے معاملوں کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کا جہاں ہم خیر مقدم کرتے ہیں وہیں یہ بھی ضرور بتانا چاہیں گے کہ اس کو عمل میں لانا اتنا آسان نہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی کی سبھی 6 عدالتوں (ضلع کورٹ) میں ان گینگ ریپ معاملوں کی تفصیل بھی تیار کرلی ہے جس سے ان معاملوں کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں یومیہ بنیاد پر شروع کرائی جاسکے۔اس کی خاص وجہ متاثرین کو جلدی انصاف دلانا ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ سے مراد ایسی کورٹ سے ہے جس میں ایک خاص طرح کے مقدمات کی سماعت ہوگی۔ اس وقت منشیات اسمگلنگ سے جڑے کیسوں کے نپٹارے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ بنائی گئی ہے لیکن اب بدقسمتی یہ ہے کہ اب ان سبھی فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ان کے علاوہ دوسرے معاملات کی بھی سماعت ہوتی ہے اس سے یہ محض نام کی ہی فاسٹ ٹریک کورٹ رہ گئی ہے۔ ان عدالتوں میں اسپیشل معاملوں کے فیصلے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔ آبروریزی کے معاملے کے بعد دیش بھر میں پیدا ناراضگی سے حکومت فاسٹ ٹریک کورٹ بنا کر بدفعلی کے معاملوں کو جلدی سے جلدی نپٹارہ کرنے کی بات کہہ رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کے محض پانچ فاسٹ ٹریک عدالتیں بنا دینے سے بدفعلی کے معاملوں کا نپٹارہ ممکن نہیں ہوگا۔دہلی کی عدالتوں میں ایسے دس ہزار سے بھی زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ وہیں قائم کی جارہی پانچ فاسٹ ٹریک کورٹ کے پاس کم سے کم دو دو ہزار معاملوں کو نپٹانے کی چنوتی ہوگی جو آسان نہیں ہے۔ اس لئے عدلیہ کی کارروائی سے وابستہ لوگ دہلی میں کم سے کم 20 فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کی بات کررہے ہیں۔ بدفعلی معاملوں کو جلدی نپٹانے کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کی تعداد بڑھانی ہوگی۔ ان عدالتوں کو دہلی کی عدالتوں میں التوا میں پڑے 10 ہزار سے زائد ایسے معاملوں کا نپٹارہ کرنے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل سیشن جج پریم کمار کا کہنا ہے کہ بدفعلی کے ہر معاملے کی روز بروز سماعت ممکن نہیں ہے۔ اگر ملزم ایک سے زیادہ ہیں تو ان کے وکیل بھی زیادہ ہوں گے اور جنتا کی ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سرکار بھی فاسٹ ٹریک عدالت یا خصوصی عدالت بنانے کی تسلی دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر بیٹھی ہے لیکن اگر حکومت ججوں کے منظور عہدوں کو بھرنے کے ٹھوس قدم اٹھائے تو وہ جلد اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرسکتی ہے۔ ججوں کی خالی جگہوں اور لمبے پڑے مقدموں کی تعداد دیش کے عدلیہ نظام کی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ نچلی عدالتوں میں ستمبر 2011 تک 2 کروڑ73 لاکھ مقدمے التوا میں تھے۔ ان میں سے 1 کروڑ95 لاکھ کرائم کے کیس تھے۔ دیش بھر میں ضلع عدالتوں میں ججوں کی18 ہزار 123 عہدے منظور ہیں لیکن اس وقت 14 ہزار 287 جج کام کررہے ہیں۔ یعنی 3836 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ضلع عدالتوں میں دو سطح پر جج مقرر کئے جاتے ہیں جوڈیشیل سروس، ہائر جوڈیشیل سروس ۔ جوڈیشیل سروس میں مجسٹریٹ اور سول جج کی بھرتی مقابلہ جاتی امتحانات کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ ایڈیشنل سیشن و ضلع جج ہائر جوڈیشیری کے ممبر ہوتے ہیں۔ ججوں کی بھاری کمی کے سبب عدالتیں مقدموں کے بوجھ سے بھری پڑی ہیں۔ اگر آبروریزی کے معاملوں میں ہمیں ٹھوس فاسٹ ٹریک انصاف دینا ہے تو پہلے موجودہ کمیوں کو پورا کرنا ہوگا تبھی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ صرف اعلان سے کام نہیں ہونے والا۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2012

نریندر مودی کی چوتھی پاری شروع

گجرات میں تیسری بار جیت کا پرچم لہرا کر بدھ کے روز نریندر مودی کھچا کھچ بھرے احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں پھر سے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لینے پہنچے تو پوری بھاجپا ہی نہیں بلکہ پورا این ڈی اے بھی ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ حلف لینے سے پہلے نرمی سے انہوں نے مختلف مذاہب کے پیشواؤں ،مولوی، مہاتما و عیسائی پادریوں سے آشیرواد لیا اور اپنی ماں ہیرا بین کے پاؤں چھوئے۔ حلفب برداری تقریب میں یوں تو لیڈروں کا آنا ایک خانہ پوری ہوتی ہے لیکن مودی کے اس گرانڈ شو کے سیاسی مطلب نکالے جاسکتے ہیں۔ ایک دو لیڈروں کو چھوڑدیا جائے تو بھاجپا کے سبھی سرکردہ لیڈروں کے ساتھ دوسری لائن کے لیڈر وہاں موجود تھے۔ وہیں این ڈی اے میں جنتا دل (یو ) کو چھوڑ کر دوسرے ساتھی ہی نہیں بلکہ پرانے اتحادی بھی ایک ساتھ نظر آئے۔ تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا ،انڈین نیشنل لوک دل کے صدر اوم پرکاش چوٹالہ کی موجودگی کو بھی خاص دلچسپی سے دیکھا جارہا ہے۔ قابل غور ہے کہ ہریانہ میں بھاجپا نے مفاد عامہ کی خاطر کانگریس کا ہاتھ تھاما ہے۔ پھر بھی چوٹالہ مودی کا جوش بڑھانے پہنچے تھے۔ اتنا ہی نہیں ساتھی پارٹی شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے آئے تو تقریب میں ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے بھی موجود تھے۔ بھاجپا کے سارے وزرائے اعلی موجود تھے۔ 
بھاجپا سے لال کرشن اڈوانی، پارٹی صدر نتن گڈکری، سشما سوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ سمیت شاہنواز حسین، مختار عباس نقوی وغیرہ وغیرہ سبھی موجود تھے۔ سیاسی پارٹیوں کا یہ مجموعہ اس لئے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پچھلے دنوں مودی کے وزیر اعظم امیدواری کی دعویداری کی بات اٹھتی رہی ہے۔ عام طور پر مودی کی ساکھ کٹر ہندوتو نیتا کی رہی ہے۔ ایسے میں کسی مسلم دانشور سے مودی کی تعریف ہو، کوئی نئی بات ضرور ہے۔ دارالعلوم دیو بند کی مجلس شورہ کے ممبر اور سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی نے کہا کہ گجرات میں مسلم حمایت کے سبب بھاجپا کو 20 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ گجرات کے سورت میں پیدا اور دینی جدید تعلیمی ادارے چلانے والے 61 سالہ دیو بندی عالم غلام محمد وستانوی نے کہا کہ نریندر مودی کی جیت سے گجرات کے مسلمانوں میں کوئی عدم سلامتی کا احساس نہیں ہے۔ گجرات کے مسلمان پچھلے10 سالوں سے سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اپنے کاروبار چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایک دہائی کے دوران گجرات فساد سے پاک رہا۔ اس دوران مسلمانوں کی حق تلفی نہیں ہوئی، اس کا سہرہ وزیر اعلی نریندر مودی کو جاتا ہے۔ مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں پروجیکٹ کئے جانے کے سوال کوانہوں نے یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ ابھی اس کا جواب دینے کا وقت نہیں آیا۔ بھاجپامیں اس عہدے کے لئے بڑے نیتاؤں کی طویل فہرست ہے۔ ہم مسٹر مودی کو گجرات کا تیسری بار وزیر اعلی بننے پر مبارکباددیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس جیت سے مغرور نہیں ہوں گے اور عوام کی سبھی طرح کی سیوا کرتے رہیں گے اور ترقی کا راستہ آگے بڑھاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

سپاہی سبھاش تومر کی موت لوگوں کی پٹائی سے یا ہارٹ اٹیک سے ؟

پچھلے دو دنوں سے ایک نیا تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ دہلی پولیس کے بدقسمت کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت کیسے ہوئی؟ قابل ذکر ہے کہ ایتوار کو اجتماعی بدفعلی کے معاملے کے خلاف جاری مظاہرے کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں زخمی ہوئے سبھاش تومر نے منگلوار کی صبح ہسپتال میں دم توڑدیا۔ پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد اس کا پورے سنمان کے ساتھ انتم سنسکار کیا گیا۔ کانسٹیبل سبھاش چندر تومر کی موت بھیڑ کی پٹائی سے ہوئی یا دھوئیں یا لاٹھی چارج سے یا بھگدڑ سے لگے صدمے سے؟ دہلی پولیس کمشنر نیرج کمار فرماتے ہیں کہ چھاتی اور گردن میں چوٹ کے نشان پائے گئے۔ وہ ایتوار کو انڈیا گیٹ پر بھیڑ کار شکارہوئے۔ دوسری طرف رام منوہر لوہیا ہسپتال جہاں سپاہی کی موت ہوئی وہاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ٹی ۔ ایس سدھو کہتے ہیں کہ صدمے سے سپاہی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ جسم پر کوئی سنگین چوٹ کے نشان نہیں تھے۔
اس درمیان 47 سالہ سپاہی تومر کی پوسٹ مارٹم کے بعد آئی رپورٹ میں ان کی موت کی ایک وجہ نہیں بتائی گئی۔ رام منوہر لوہیا ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے جب تومر کو لایا گیا تھا اس وقت وہ مرنے حال تھا اور ہمارے ڈاکٹر اسے ہوش میں لائے۔ کیونکہ اس کی حالت بہت خراب تھی اس لئے ہم نے اسے آئی سی یو میں شفٹ کردیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت کسی چیز کے سینے اور گردن پر لگنے سے آئی چوٹوں کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ڈاکٹر سدھو کے اس بیان کے برعکس ہے کچھ معمولی چوٹوں کے علاوہ تومر کو ئی بڑی چوٹ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی گہرے زخم تھے۔
ادھر تومر کے لڑکے ادتیہ کا کہنا ہے میرے والد کی موت انڈیا گیٹ پر مظاہروں کے دوران مچی بھگدڑ کے سبب ہوئی۔ مظاہرین نے انہیں دھکا دیا۔ انہیں کچل دیا۔ انہیں اندرونی چوٹیں آئیں، انہیں دل سے متعلق کوئی بیماری نہیں تھی۔ اس پورے واقعے میں ایک نیا موڑ تب آیا جب واردات کے دو چشم دید گواہوں نے دعوی کیا کہ تومر کو چوٹ نہیں تھی۔ جرنلزم کے طالبعلم و چشم دید گواہ جوگیندر نے دعوی کیا ’’میں اپنی ایک مہلا دوست کے ساتھ انڈیا گیٹ پر تھا جو زخمی ہوگئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ مظاہرین کے پیچھے ایک پولیس والا بھاگ رہا ہے اور وہ اچانک گر گیا، اس کے بعد قریب میں پڑی پی سی آر وین اسے ہسپتال لے گئی۔ میں بھی اسی گاڑی میں گیا تھا، میں نے اسے ہسپتال میں دیکھا اور اس کے جسم پر چوٹ کا کوئی نشان نہیں تھا، وہ بھیڑ کے ذریعے کچلا نہیں گیا اور نہ ہی اسے کوئی چوٹ آئی تھی۔‘ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کونسی بات اور واردات کو سچ مانا جائے؟ حالانکہ اس سے جانے والے کو فرق نہیں پڑے گا وجہ کوئی بھی رہی ہو وہ اپنی ڈیوٹی پر شہید ہوا ہے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2012

اور شندے صاحب پوچھتے ہیں کہ اب لوگ کونسا انصاف چاہتے ہیں؟

مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کہتے ہیں کہ آبروریزی کے خلاف عوام کیوں آندولن کررہی ہے۔ان لوگوں کی زیادہ تر مانگیں مانی جاچکی ہیں۔ ضروری کارروائی کی جارہی ہے۔ قانون میں ترمیم کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ اب لوگ کونسا انصاف چاہتے ہیں؟ ہم بصد احترام وزیر داخلہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے کونسا انصاف کردیا؟ سارا دیش آبروریزی کرنے والوں کو موت کی سزا کی مانگ کررہا ہے، کیا آپ نے ایک بار بھی یہ صاف کہا ہے کہ متاثرہ لڑکی سے غیر انسانی برتاؤ کرنے والوں کو پھانسی دینے کا انتظام کیا جارہا ہے؟ نہیں؟ آپ تو اصل اشو کو دبانے و عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ یہ انتہائی دکھ کی بات ہے آپ کی وزارت کی گمراہی کی وجہ سے ایک بہادر پولیس جوان کی موت ہوگئی۔ اجتماعی آبروریزی کے خلاف انڈیا گیٹ پر ایتوار کو تشدد پر مبنی مظاہروں کے دوران بری طرح زخمی دہلی پولیس کے 47 سالہ کانسٹیبل سبھاش چندر کی موت ہوگئی۔ اس حکومت کا حالات سے غلط طریقے سے نمٹنے کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ دہلی پولیس بنام دہلی حکومت تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ طالبہ سے آبروریزی کے معاملے کو لیکر دہلی پولیس اور شیلا سرکار کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ وزیر اعلی شیلا دیکشت نے الزام لگایا ہے کہ متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرنے گئی ایس ڈی ایم کو دہلی کے پولیس افسروں نے دباؤ میں لیا ہے جبکہ دہلی پولیس کمشنر کہتے ہیں کہ الزام لگانے والی ایس ڈی ایم پہلے بھی ایسی مشکلیں کھڑی کرچکی ہے۔ دراصل معاملہ متاثرہ لڑکی کے بیان درج کرنے والی سب ڈویژنل مجسٹریٹ اوشا چترویدی سے جڑا ہوا ہے۔ ایس ڈی ایم نے الزام لگایا کہ متاثرہ لڑکی کا بیان درج کرنے کے دوران پولیس نے دباؤ بنا کر اپنی سہولیت کے حساب سے بیان درج کرنے پر مجھ سے برا برتاؤ کیا۔ ویڈیو گرافی کرنے کو لیکر بھی کافی وقت خراب ہوا کیونکہ پولیس ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔ پولیس، دہلی حکومت اور وزارت داخلہ کے درمیان کون صحیح کہہ رہا ہے اس میں طالبہ کو انصاف دلانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ خاص اشو تو آج بھی وہی ہے جو ایتوار کو تھا۔ قصورواروں کو سزا کب اور کیا ملے گی؟ انتہائی دکھ کا موضوع ہے کہ سرکار سبھی تحریکوں کے ساتھ ایسے ہی برتاؤ کرتی آرہی ہے کہ مانو وہ اپوزیشن پارٹیوں کے مفاد سے متاثر ہے اور کچھ کرائے کے لوگوں کے ذریعے کی گئی آندولن تحریکوں ایتوار سے لیکر اب تک پولیس نے انڈیا گیٹ اور دیگر مقامات پر لڑکوں سے جس طرح برتاؤ کیا ویسا عام طور پر کرائے کے مظاہرین کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا سرکار کو ناراض طالبہ سے بات کرنی چاہئے تھی اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی لیکن یہ سرکار اتنی شش و پنج میں رہی کہ اسے یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ مظاہرین سے کیسے نپٹے؟ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ حکومت نے تحریک کے کریکٹر کو سمجھنے میں بھول کی ہے۔ابھی بھی تحریک میں آدھے سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی تنظیم کے ذریعے لائے گئے کرائے کے لوگ نہیں ہیں۔ سرکار ایسا سمجھ رہی ہے کہ یہ پوری تحریک دہلی میں ہوئی ایک آبروریزی کے بارے میں ہے جبکہ یہ ایک جوالہ مکھی ہے جو اس معاملے سے بھڑکی ہے۔ کئی برسوں سے لوگوں کے دل میں آبروریزی کو لیکر ناراضگی ہے اس دیش میں عورتیں چاہے غریب ہوں یا امیر خود کو غیر محفوظ مانتی ہیں۔ دہلی کا واقعہ دیش کی ناراضگی کی علامت بن گیا ہے۔ سرکار اس مسئلے کو 7-8 پولیس ملازمین کو معطل کرکے سلجھا لینا چاہتی ہے۔ سوال یہاں اہم ہے کہ کیا دہلی پولیس ہی دیش میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ دار ہے؟ کیا مرکزی سرکار، دہلی حکومت یا ریاستی حکومتیں و افسران ،عدلیہ ذمہ دار نہیں ہیں؟ عام جنتا کی حفاظت کے لئے بنائی گئی دہلی پولیس کا ایک بڑا حصہ سیاستدانوں ،رسوخ دار لوگوں کی سکیورٹی میں کیوں تعینات رہتا ہے، خاص کر ان لوگوں کی سکیورٹی میں کیوں لگایا گیا ہے جو خود داغ دار ہیں اور جن کے اپنے مجرمانہ بیک گراؤنڈ ہیں؟ آج بھی فورنسک لیب میں کئی عہدوں کی کمی ہے۔ جس سے کرائم کی ریسرچ میں دیری ہوتی ہے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کا مسئلہ بھی برسوں سے زیر بحث تھا لیکن اس پر کبھی بھی مضبوطی سے فیصلہ پہلے کیوں نہیں لیا گیا؟ عدالتوں میں بھی ججوں کی تقرری کے معاملے مناسب تناسب کے حساب سے نہیں نپٹائے جاتے۔ اس سب کا اثر قانون و نظم پر پڑ رہا ہے۔ ان خامیوں کے لئے پولیس کمشنر نہیں سرکار میں بیٹھے ہوئے سیاستداں اور افسران ذمہ دار ہیں۔ کیا سرکار تب ہلے گی جب بیچاری لاچار بے سہارا لڑکی کو مردہ اعلان کردیا جائے گا؟ اس کو اتنا مارا پیٹا گیا ہے کہ وہ بیچاری بچ تو گئی ہے لیکن اس کی زندگی جہنم ہوجائے گی۔ پچھلے30 برسوں میں آبروریزی اور قتل کے گھناؤنے معاملوں میں محض تین لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔ پھانسی دینے کا قانون بنا دینے بھر سے مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ سخت سے سخت سزا ضروری ہے۔ ایسے معاملوں میں پختہ قوت ارادی دکھانے کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک حکمراں طبقے میں بیٹھے عوام کے آقاؤں کے ذریعے قوت ارادی نہیں جاگے گی تو پھانسی کی سزا کیا کر لے گی؟ سڑکوں پراترے لڑکوں کی یہ ناراضگی حکمراں طبقے کی اس لیپا پوتی کا ہی نتیجہ ہے۔ معافی دینے میں ریکارڈ قائم کرنے والی ہندوستان کی سابق صدر پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل تو رحم کی عرضیوں پر اپنی دریا دلی دکھاتے وقت بھول گئیں کہ جن لوگوں کی پھانسی کی سزا وہ معاف کررہی ہیں ان میں 7 ایسے درندے ہیں جنہوں نے نابالغ بچیوں کے ساتھ نہ صرف بدفعلی کی بلکہ ان کو بے رحمی سے قتل بھی کیا۔ ان سبھی رحم کی عرضیوں پر صدر کے پاس سفارش وزیر داخلہ شندے صاحب کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہ 7 وہ درندے ہیں جن پر ملامت آمیز حرکت کی سزا پھانسی بھی کم مانی جائے گی۔ بدفعلیوں کو سزا دینے پر پورا دیش ایک رائے ہے۔ اس بڑی مہم کے ذریعے ایک اخبار نے رائے جانی ہے تو 11 ریاستوں کے وزرائے اعلی ، یہاں کے اپوزیشن و حکمراں لیڈر 143 ایم پی، ایم ایل اے پھانسی کے حق میں ہیں۔ یہ ہی نہیں لوک سبھا اسپیکٹر دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کے لیڈر کئی مرکزی وزیر بھی اپنی رضامندی ظاہر کررہے ہیں تو آخر پھانسی کے قانون پر مرکزی سرکار اسپیشل اجلاس بلانے سے کیوں ڈر رہی ہے؟اگر سرکار ججوں کی بات کرتی ہے تو وہ ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے بہوگنا ساکن بٹھیل چوپڑا کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ اس طرح کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ جسٹس پرتاپ ہرداس اور ارون چودھری کی بنچ نے کہا عورتوں کے خلاف سنگین جرائم کے لئے سزائے موت دی جانی چاہئے۔ رہی بات دنیا کے رد عمل کی ،پہلی بات تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے، دوسری بات دنیا کے دوسرے ممالک میں پھانسی دی جارہی ہے۔ عرب ممالک میں تو اس طرح کے گھناؤنے جرائم کے لئے پھانسی سے بھی زیادہ سخت سزا دی جاتی ہے۔ ایران میں اگر ایسا معاملہ آتا ہے تو وہاں عام معاملوں میں کوڑے مارنے کی سزا اور گھناؤنے معاملوں میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ایسی ہی کچھ حالت عراق میں بھی ہے۔ یہاں کے شرعی قانون کی بنیاد پر چوراہے پر مجرم کو پتھر مار کر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ فلپائن میں بھی آبروریز کی سزا موت ہے۔ سعودی عرب میں سب سے بڑا قانون ہے وہاں کوڑے مارنے سے لیکر کھلے عام پھانسی تک کی سزا ہے اور پھانسی بھی ایسے دی جاتی ہے کہ اگر عام آدمی پہلی بار اس منظر کو دیکھے تو بیہوش ہوجائے۔ سری لنکا اور پاکستان میں بھی آبروریزی کے گھناؤنے معاملوں میں موت کی سزا ہے۔ چین میں تو آبروریزکو ڈنڈے مارنے کی سزا و گلا گھونٹ کر مارا جاتا ہے۔ امریکہ میں بھی آبروریزی کی سزا میں الیکٹرانک بجلی کے شاک دئے جاتے ہیں اور ہمارے شندے صاحب پوچھتے ہیں کہ جنتا اب کیا چاہتی ہے؟ یہ ہی نہیں شندے صاحب نے تو مظاہرین طلبا کو ماؤوادی تک کہہ دیا؟
(انل نریندر)

26 دسمبر 2012

ولادیمیر پوتن ہندوستان آپ کا احترام و خیر مقدم کرتا ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن مختصر دورہ پر بھارت تشریف لائے تھے۔ پیر کو بھارت اور روس نے 42 سخوئی جنگی جہازوں و 71 میڈیم لفٹرہیلی کاپٹروں پر مشتمل چار ارب ڈالر کے ڈیفنس سودے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس کے تحت روس کے جدید ترین سخوئی 30- اے کے آئی جنگی جہازوں کی بھارت میں پروڈکشن ہوگی اور رات میں فوجی کارروائی کرنے میں اہل 71 فوجی ہیلی کاپٹر روس سے خریدے جائیں گے۔ روسی صدرولادیمیر پوتن اور ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی موجودگی میں دونوں ملکوں کی 13 ویں چوٹی کانفرنس میں اس پر غور وخوض کیا گیا ۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان حکمت عملی اور کاروباری رشتوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے قریب 10 معاہدوں پر اتفاق رائے ہوا۔ ولادیمیر پوتن ہمارے احترام کے حقدار ہیں۔2000ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے بھارت۔ روس تعلقات کو بورس یلتسن عہد نے باہر نکال کر ایک نئی دوستی کا آغاز کیا تھا۔ یہ صدر پوتن کا پانچواں دورۂ ہند ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ روس بھارت کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اسٹیجک سیکٹر میں روس نے پچھلی دہائیوں میں سب سے زیادہ جدید ترین جہاز ،ٹینک، راکٹ لانچر، کروز میزائل، جنگی بیڑے وغیرہ مہیا کروائے ، جس سے بھارت کو اپنی سکیورٹی میں مضبوطی ملی۔ ولادیمیر پوتن اور ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے درمیان اب تک اتنی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور دونوں لیڈروں میں ذاتی طور پر اتنا گہرا دوستانہ ،بھائی چارہ قائم کرلیا ہے کہ باہمی اشتراک کی کوئی چاہے کتنی مشکل پریشانی کیوں نہ ہو وہ ان کے لئے ایک ٹیڑھی کھیر سے کم نہیں ہوسکتی۔ بھارت اور روس کے درمیان رشتے انتہائی دوستانہ ہیں۔ ماسکو میں بھارت کے سفیر اجے ملہوترہ نے پوتن کے دورۂ ہند سے پہلے ماسکو میں کہا چاہے سرکاری سطح پر ہو یا عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ قابل غور ہے کہ بھارت اور روس کے درمیان فوجی تکنیکی تعاون دونوں ملکوں کی حکمت عملی ساجھیداری کا ایک اہم ترین ستون بن چکا ہے۔ کاروباری اور اقتصادی تعاون کے سیکٹر میں دونوں ملکوں نے 2015ء تک سالانہ کاروبار کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ اس برس کے آخر تک اسے تقریباً12 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ یکم دسمبر2012ء سے 30نومبر 2013ء تک روس دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے گروپ جی20- کی سربراہی کرے گا۔ جی گروپ کی صدارت سنبھالنے کے بعد روس اور زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گا۔ کچھ لوگوں کاتو یہاں تک کہنا ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی معیشت روس کے ہاتھ میں ہے اور روس عالمی تجارت آرگنائزیشن کا چیئرمین بن جانے کے بعد اس خطے میں بھارت۔ روس اشتراک کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔ دونوں ملکوں کے کاروباریوں کے درمیان رابطہ اور اشتراک بڑھانے کی غرض سے ہندوستان نے حال ہی میں ویزا قواعد کو بھی مزید آسان کردیا ہے۔ جو کاروباری پھیلاؤ میں کافی مددگار ثابت ہوگی۔ہم صدر ولادیمیر پوتن کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ روس ہمیشہ سے بھارت کا ایسا دوست رہا ہے جس پر بھارت آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرسکتا ہے۔ بیشک آج کی تاریخ میں امریکہ ایک سپر پاور ہے لیکن روس کی اپنی اہمیت ہے۔ پوتن کی رہنمائی میں روس ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور جلد دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔
(انل نریندر)

سچن کے سنیاس کیساتھ ایک دور کا خاتمہ

کرکٹر سچن تندولکر کے ریٹائرمنٹ کی بحث پچھلے کچھ عرصے سے جاری تھی۔ خاص کر ٹیسٹ میچوں میں ان کی خراب کارکردگی کو دیکھتے ہوئے۔ اب جب انہوں نے ون ڈے سے ریٹائرہونے کا فیصلہ لیا تو اس پر سب کو حیرت ہورہی ہے۔ حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی خاص وجہ نہیں دکھائی پڑتی۔ بھارت کی ورلڈ کپ جیت کے بعد سے سچن تندولکر بہت کم ونڈے کھیل رہے تھے ،جو اشارہ تھا کہ وہ اس سے جلد ریٹائر ہونے کا ارادہ بنا رہے ہیں۔ ورلڈ کپ جیت سے سچن کی زندگی کی ایک سب سے بڑی تمنا پوری ہوگئی اور انہیں یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ اگلے ورلڈ کپ میں وہ شاید حصہ نہ لے سکیں۔ دراصل سچن کے چہیتے کبھی اپنے ہیرو اور بھگوان کا سر جھکتے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ پچھلے کچھ عرصے سے سچن رن تو نہیں پارہے تھے الٹے جس طرح سے وہ کلین بولڈ ہورہے تھے اس سے ان کے شائقین اور پرستاروں کو بھی محسوس ہونے لگا تھا کہ ماسٹر بلاسٹر کو اب سنیاس لے لینا چاہئے۔ پچھلے دنوں آسٹریلیا کے مہان کرکٹر کپتان رکی پونٹنگ نے سنیاس لینے کا اعلان کیا تھا۔اس کا بھی سچن پر ضرور اثر ہوا ہوگا۔ بہرحال سچن کا ونڈے کرکٹ سے سنیاس لینے کا فیصلہ لائق خیر مقدم ہے۔ کرکٹ کے اس مہان کھلاڑی کے نام تقریباً ہر ریکارڈ درج ہے۔ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں 100 سے زیادہ سنچری بنانے والے اکیلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے اب تک463 ونڈے میچوں میں سب سے زیادہ 18426 رن بنائے ہیں۔ کرکٹ پرستاروں کو لگ رہا تھا کہ پچھلے سال ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا ہونے کے بعد وہ دن دور نہیں جب سچن ونڈے سے سنیاس لینے کا اعلان کردیں گے۔ اب جب انہوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو سب ہی چاہتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں کچھ دھماکے دار پاریاں کھیل کر عالمی کرکٹ سے بھی پورے سنمان کے ساتھ رخصت ہوں۔ ویسے تو سچن تندولکر کافی برسوں سے ونڈے میچ اپنی پسند کے حساب سے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آخری ونڈے میچ اس سال مارچ میں ایشیا کپ کے دوران کھیلا تھا جس میں انہوں نے اپنی 100ویں سنچری بنائی تھی۔ سچن بھارتیہ کرکٹ کے صحیح معنوں میں مہا نائک ہیں اور کسی مہا نائک پر جب الزامات کی بوچھار ہو یا کیچڑ اچھالی جائے تو اچھا نہیں لگتا۔ سچن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی تنقیدوں کا جواب خود نہ دیکر اپنے بلے سے دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے 23 سال کے طویل کیریئر میں ایسا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کیا۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ عمر کا اثر ان پر بھاری پڑنے لگا تھا۔ ویسے سبھی چاہتے ہیں کہ وہ جب کرکٹ کو قطعی طور پر الوداع کہیں تو اس وقت دھماکے دار پاری کھیلیں۔ سنیاس ایسی چیز ہے جس سے ہر کسی کو گزرنا پڑتا ہے لیکن ریٹائرمنٹ کا ٹائم صحیح ہو تو آپ الزامات کی بوچھار سے بچ سکتے ہیں ،جیسے سنیل گواسکر، رکی پونٹنگ، ایڈم گلکرسٹ نے کیا ہے۔ ہم سبھی چاہتے ہیں کہ کرکٹ کے مہا نائک کی وداعی پورے اعزاز کے ساتھ ہو۔ آئی پی ایل فرنچائزی ممبئی انڈینز نے سنیاس لے چکے سچن کی 10 نمبر کی جرسی کو بھی ریٹائر کرنے کی مہم چلا دی ہے۔ ٹوئٹر پر سچن کے پرستاروں نے لکھا کہ یہ سندیش ہے کہ نمبر 10 صرف سچن کا ہے۔ جب سچن ہمارے لئے ونڈے میں اتنا کچھ کرسکتے ہیں تو کیا ہم ان کا سنمان10 نمبر کی جرسی کو ریٹائر کرکے نہیں کرسکتے۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2012

آزاد بھارت کی تاریخ میں اتنی مجبور قیادت پہلے کبھی نہیں دیکھی

یہ بڑے ہی دکھ کا موضوع ہے کہ دہلی میں نئی نسل کی ہمت کو جس طرح سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس چھوڑ کر توڑنے کی کوشش کی ہے اس کی جتنی بھی ملامت کی جائے کم ہے۔ اس کارروائی نے سارے دیش کو ہلا دیا ہے۔ آبروریزی کے خلاف نوجوانوں میں پیدا ہوئے غصے کو لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پانی کی بوچھار سے بھی سرکار خاموش نہیں کرپائی۔صبح سے رات تک انڈیا گیٹ پر مظاہروں کا دور جاری رہا۔ پہلی مرتبہ وجے چوک پر اتنے لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی جس کا مطالبہ صرف انصاف اور سکیورٹی ہے۔ ان میں سے کوئی نہ تو کسی پارٹی کا ہے اور نہ ہی کسی ذات کا اور نہ ہی کسی ایک جگہ کا ہے۔ یہ کارروائی صرف ان نوجوانوں کو کچلنے کی نہیں تھی۔ عورتوں کے وقار کے حق میں اٹھ رہی آواز کو دبانے کی بھی تھی۔ سارا دیش جب مرکزی سرکار سے ایسے شاطر ملزمان کو سزائے موت دینے سے متعلق قانونی ترمیم کا انتظار کررہا تھا تب جوڈیشیل کمیشن بنانے جیسا قدم رات کو سامنے آیا۔ قصاب کو پھانسی دینے کا سہرہ لینے والے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے اتنے دباؤ کے بعد بھی کچھ نہ دے سکے۔ ’’سزائے موت ‘‘ لفظ کہنے تک بچتے رہے۔ حقیقت میں یہ منموہن سرکار خود خوفزدہ ہے۔ کوئی سخت فیصلہ لے سکے یہ ہمت اس میں نہیں ہے۔ اس لئے کسی خاتون کو بھروسہ نہیں کہ کمزور لیڈر شپ اس کی حفاظت کرسکتی ہے۔ عورتوں کے وقار کو اس طرح سے تار تار کیا جانا ،جیسا ایتوار کو طالبہ کے ساتھ کیا گیا، ہماری نظروں میں تو یہ ناقابل معافی جرم ہے اس لئے خاندانی جرائم کو بھی سرکار الگ الگ زمروں میں ڈالنا چاہ رہی ہے۔ قتل پر تو پہلے ہی سزائے موت ہے، یوں ہی سرکار تھوڑے ہی کسی کو پھانسی کی سزا سنا سکتی ہے یہ تو عدالت پر منحصر ہے؟ آپ کو تو صرف قانون میں اتنی ہی ترمیم کرنی ہے اس لئے نئی ترمیم لانے میں آنا کانی کیوں؟ کیا سرکار کو ایسے جرائم پیشہ افراد کی زیادہ فکر ہے ؟ وہ تو اس مسئلے پر بحث سے بھی گھبرا رہی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ بھی ایک ہفتے بعد ہوگی۔ عدالتوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ عدالت وہ سزا نہیں دے سکتی جس کا قانون میں ذکر ہی نہیں ہے۔ آبروریزی کے لئے قانون میں 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کی سہولت ہے۔ جج تک مانتے ہیں کہ جن معاملوں میں متاثرہ کی زندگی موت سے بدتر بن گئی ہو ،جیسا کہ اس معاملے میں ہے، قصورواروں کو موت کی سزا ملنی چاہئے۔ اس کے لئے قانون میں ضروری ترمیم ہونی چاہئے۔1994ء میں بدفعلی اور قتل کے گھناؤنے جرم کے لئے دھننجے چٹرجی کی پھانسی پر مہر لگاتے وقت سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ عورتوں کے تئیں بڑھتے تشدد والے جرائم پر سزا کے بارے میں بڑی پیچیدگیاں ہیں۔ زیادہ تر کو سزا نہیں ہوتی۔ مہاراشٹر کے ایک ٹیچر شیواجی کو بدفعلی اور آبروریزی کے جرم میں موت کی سزا سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے پھر کہا کہ قصوروار کو مناسب سزا دیکر سماج کو انصاف کی پکار کا جواب دینا چاہئے۔ قانون کا مقصدسماج کی حفاظت اور جرائم پیشہ کور خوفزدہ کر جرائم کرنے سے روکنا ہے۔ ہماری رائے میں صدر بھی تھوڑا چوک گئے۔ نوجوانوں سے کھل کر ہی مل لیتے۔ پیپلز پریزینڈنٹ بن جاتے۔ عبدالکلام سے بھی آگے بڑا موقعہ تو کانگریس صدر کے پاس تھا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی چاہتیں تو تاریخی فیصلہ لے بھارت کی سرزمین کو وقار دلا سکتی تھیں۔ گاندھی خاندان کے ممبر کیا یہ بھول گئے کہ جب دہلی کے پہاڑ گنج میں خوفناک آگ لگنے پر راجیو گاندھی خود موقعے پر پہنچ گئے تھے اور لوگوں کی مدد میں لگ گئے تھے۔ دیگر گڑ بڑیوں میں انہوں نے ایک خارجہ سکریٹری اور ایک وزیر اعلی کو برخاست کردیا تھا۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ اب سیاسی اقتدار کی بجائے افسروں کی حکومت ہے۔ پچھلے پانچ دنوں سے ہزاروں لڑکے لڑکیاں سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ وقت رہتے انہیں خاموش کرنے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، پانی کی بوچھاریں ماری جارہی ہیں۔ اس آبروریزی واقعہ کے ملزمان کی گرفتاری اور پانچ پولیس ملازمین کی معطلی سے محض دہلی پولیس ،دہلی سرکار ، انتظامیہ اور وزارت داخلہ ذمہ دار ی سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے۔ عام جنتا کی قربانی لینے کی جگہ سیاسی پارٹی ،بدنظمی اور قانون میں فوری تبدیلی کے لئے ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھانے جارہی ہے؟ راجدھانی میں بگڑے حالات کیا پورے سیاسی نظام کے لئے داغ نہیں ہیں؟ آزاد بھارت کی تاریخ میں اتنی مجبور لیڈر شپ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
(انل نریندر)

کیا 2014 ء لوک سبھا چناؤ مودی بنام راہل ہوگا؟

کیا 2014ء کا لوک سبھا چناؤ نریندر مودی بنام راہل گاندھی لڑا جائے گا؟ یہ دعوے سے تو نہیں کہا جاسکتا لیکن محسوس تو ایسا ہی ہورہا ہے۔ سب طرح کی کوشش کرنے کے باوجود بھی گجرات میں نریندر مودی کو تیسری مرتبہ کامیابی پر کانگریس بھلے ہی کچھ کہے یا نہ کہے لیکن چناوی نتائج نے تو کانگریس لیڈر شپ کے سامنے کئی نئی چنوتیوں کی زمین تیار کردی ہے۔ کانگریس نے گجرات میں مودی بنام راہل لڑائی سے بچنے کی جو حکمت عملی بنائی تھی وہ کافی حد تک کامیاب رہی۔ نریندر مودی نے کوشش کی کہ کانگریس گجرات چناؤ کو مودی بنام راہل بنائے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 2009 کے عام چناؤ میں کانگریس کی پرفارمینس بہتر ہونے کے بعد گذشتہ برسوں میں اترپردیش ، بہار، مغربی بنگال، پنجاب، اتراکھنڈ کے انتخابات میں کانگریس کی چناؤ مہم راہل گاندھی کے ہاتھ میں تھی۔ اس کے باوجود اترپردیش، بہار، مغربی بنگال، پنجاب میں پارٹی کچھ خاص کرشمہ نہیں دکھا سکی، جیسا کہ امید تھی۔ راہل کارڈ فلاپ ثابت ہوئے لیکن ووٹ نہیں گھٹ پائے۔ ان ریاستوں میں کانگریس تنظیم ، گروپ بندی، ٹکٹوں کے بٹوارے میں گڑبڑ یہ بھی کئی اسباب رہے جو کانگریس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوئے۔ پارٹی کو جو امید تھی کہ راہل کا کرشمہ ان سب کمیوں کو ڈھک دے گا، وہ کامیاب نہیں ہوپایا۔ اس ٹریک ریکارڈ کے باوجود کانگریس اگلا لوک سبھا چناؤ راہل کی رہنمائی میں لڑنے کے لئے انہیں بڑی ذمہ داری سونپنے کا خاکہ تیار کرچکی ہے۔ راہل کے سب سے بڑے وفادار دگوجے سنگھ نے تو کہنا بھی شروع کردیا ہے کہ کانگریس2014ء کا چناؤ ان کی لیڈر شپ میں لڑے گی اور راہل کانگریس کے پی ایم امیدوار ہوں گے۔ پارٹی کے کئی دیگر لیڈر و مرکزی وزیر منموہن سنگھ کے رہتے ہی 2014ء چناؤ کے بعد راہل کووزیر اعظم بنانے کا ابھی سے زور لگا رہے ہیں۔ رہی بات خود کے بل پر تیسری بات چناؤ جیت کر گجرات میں بھگوا پرچم لہرانے والے نریندر مودی کو اپنی ماں کے آشیرواد کے علاوہ بھاجپا کے بڑے نیتاؤں کے حصے نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے پروجیکٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ نریندر مودی کو سب سے زیادہ دقت این ڈی اے اتحادی پارٹیوں سے ہوگی۔ این ڈی اے کے جنتا دل (یو ) جیسی اتحادی پارٹی کی حمایت کا مسئلہ ہے۔جنتادل (یو) لیڈر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار فی الحال تو مودی کی کامیابی پر خاموش ہیں لیکن ان کے سپہ سالار یہ کہنے سے نہیں کتراتے کے وزیر اعظم عہدے کی امیدواری کا فیصلہ چناؤ سے پہلے ہی ہوجائے۔ بھاجپا فی الحال اس سے بچ رہی ہے لیکن وہ اس مسئلے کا حل نکالنے میں لگ گئی ہے۔ یہ ممکن ہے بھاجپا لیڈرشپ ابھی تو کئی ریاستوں میں ہونے والے چناؤ میں مودی کو اسٹار کمپینر بنائے۔ پورے دیش میں گھومنے سے پتہ چلے گا کہ مودی گجرات کے باہر کتنے مقبول ہیں۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ بھاجپا کے پاس مودی کا راہل سے مقابلہ کرنے کے لئے اور بھی کئی طریقے ہیں لیکن ان پر قطعی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس وقت دہلی میں لڑکو ں کی ناراضگی ساتویں آسمان پر ہے۔ راہل تو نوجوانوں کے سامنے آنے کی بھی ہمت نہیں کرپا رہے۔ اگر نریندر مودی یہ احساس کریں اور طلبا کو دہلی آکر خطاب کریں تو ان کی مقبولیت اور بھی بڑھے گی۔ بھاجپا کا بھی اس سے تھوڑا بھلا ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2012

بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔۔۔2

ہماچل پردیش کے ووٹروں نے جو روایت 1977ء میں شروع کی تھی کہ کسی بھی پارٹی کو مسلسل دوسری مرتبہ سرکار بنانے نہیں دیں گے ، اس پر قائم رہی ہے اور حکمراں بھاجپا کو ہٹا کر پھر سے کانگریس کو اقتدار کی باگ ڈور سونپ دی ہے۔ حکمراں بھاجپا41 سیٹوں سے سمٹ کر26 سیٹوں پر پہنچ گئی ہے اور کانگریس 23 سے بڑھ کر36 سیٹیں ہی جیت پائی ہے۔ کافی عرصے سے تنازعوں اور کرپشن کے الزامات سے گھری کانگریس کے لئے ہماچل کے نتیجے کافی حد تک نہ صرف تسلی بخش رہے بلکہ نئی طاقت دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں۔ اترا کھنڈ کی طرز پر ہماچل میں بھی کانگریس اوربھاجپا کے درمیان ٹکر تھی۔ ایگزٹ پول کانٹے کی ٹکر بتا رہے تھے یہ غلط ثابت ہوا۔ بھاجپا جہاں پنجاب کو دوہرانا چاہتی تھی وہیں کانگریس اتراکھنڈ کی نظیر سامنے رکھ کر چل رہی تھی۔ ایسے میں ہماچل کی روایت اور اینٹی کمبینسی فیکٹر کا سہارا لیتے ہوئے کانگریس اپنے لئے واضح اکثریت پانے میں کامیاب رہی۔ ہماچل میں کانگریس کی جیت کی ایک وجہ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت بھی رہیں۔ شیلا جی نہ صرف ہماچل اسکریننگ کمیٹی کی چیئرمین تھیں بلکہ انہی کی وجہ سے کانگریس کے سابق وزیر اعلی و سینئر لیڈر ویر بھندر سنگھ کی واپسی ہوئی ہے۔ کرپشن کے الزام لگانے کے بعد ویر بھدر سنگھ نے مرکزی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اس کے بعد انہیں سائڈ لائن کیا جارہا تھا۔ بعد میں انہیں ہماچل کانگریس کا پردھان بنایا گیا اور ہونے والے وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کا فائدہ کانگریس کو پہنچا۔ ہماچل میں بھاجپا کی ہار کافی حد تک اس کے اندر جاری رسہ کشی کی وجہ سے ہوئی۔ ٹکٹ بٹوارے میں گروپ بندی کے چلتے صحیح ٹکٹوں کی تقسیم نہیں ہوئی۔ شانتاکمار اور جے پی چڈھا جیسے سرکردہ نیتاؤں کو کنارے کرکر ناراض کردیا گیا۔ چڈھا کے کہنے پر تین سیٹیں دی گئیں ۔ تینوں سیٹیں بھاجپا نے جیت لیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گروپ بندی کے چلتے بڑے نیتاؤں کے اثر کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ ہماچل میں چناؤ مہم کی کمان خود بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے سنبھال رکھی تھی اور چناؤ مہم کے لئے بھی۔جبکہ خود پردھان کرپشن کے الزامات سے گھرا ہو تو آپ حریف (ویر بھدر سنگھ ) کے کرپشن کے الزامات پر کیا کہہ سکتے ہیں؟ بھاجپا کے وزیراعلی پریم کمار دھومل شروع سے ہی دفاع کی شکل میں چناؤ لڑے انہوں نے اپنی حکومت میں ترقی کی بات کی۔ مرکزی سرکار کے ذریعے مہنگائی کے مسئلے اور وزیر بھدر سنگھ کے کرپشن پر زیادہ توجہ رکھی۔ ہماچل میں ووٹروں میں ایک بہت بڑا طبقہ ریاستی ملازمین کا ہے۔ یہ دھومل سرکار کے خلاف تھا۔ ویسے بھی ویر بھدر سنگھ کی آج بھی ان میں اچھی خاصی پکڑ بنی ہوئی ہے۔ ہماچل میں دھومل کے لڑکے انوراگ ٹھاکر کی غیر مقبولیت بھی ایک اشو بنی۔ ہماچل میں جنتا نے دھومل کو ہرایا۔ اگر وہ کانگریس کو جتاتی تو کانگریس36 سیٹوں سے آگے نہ اٹک سکتی تھی۔ یہ بہت زیادہ ہوتا۔ ہماچل کے نتیجے 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں اتنی اہمیت نہیں رکھتے۔ کیا یہاں سے کل ملا کر 4 ایم پی آتے ہیں لیکن ہوا بنانے میں مددگار ضرور ہوتے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں کہ بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔ گجرات ہماچل کے چناؤ نتیجے کو سال2014ء میں ہونے والے عام چناؤ سے جوڑنا جلد بازی ہوگی۔ مودی کی یہ جیت پارٹی کے لئے اہم ہے۔ان کی وزیر اعظم عہدے کے لئے دعویداری مضبوط کرتی ہے لیکن اس جیت سے یہ اندازہ قطعی نہیں لگایا جاسکتا کہ 2014ء میں بھاجپا اقتدار میں آرہی ہے۔ اگلی9 ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں جس میں ہوسکتا ہے کہ عام چناؤ کی تصویر کچھ صاف ہوجائے۔ موٹے طور پر اگر ہمیں گجرات ، ہماچل کا تجزیہ کرنا ہوتو اقتصادی طور پر خوشحالی والی ان دونوں ریاستوں میں چناؤ میں مرکزی اشو مثلاًمہنگائی، کرپشن، بڑھے گھوٹالے حاوی نہیں تھے۔ گجرات میں مودی اور ہماچل میں ویر بھدر سنگھ کی پہچان بھی چناؤ جیتنے کی خاص وجہ بنی۔ کل ملاکر دونوں ہی قومی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا ان دونوں ریاستوں کے نتیجوں سے خوش ہوں گی اور اپنی اپنی یت بتائیں گی۔ (انل نریندر)

اگر سرکار ،پولیس،عدالت چاہے تو آبروریزی معاملہ 10 دن میں نپٹ سکتا ہے

راجدھانی میں ایتوار کی رات چلتی بس میں آبروریزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کو لیکر آج چھٹے دن بھی بڑی تعداد میں طالبات اور عورتوں نے مظاہرہ، دھرنا اور کینڈل مارچ جاری رکھے۔ نئی دہلی میں راج پتھ، انڈیا گیٹ،صفدر جنگ ہسپتال، جنترمنتر اور پی ایم او اور وزارت داخلہ جیسے اہم مقامات پر دن بھر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سبھی کی ایک ہی مانگ تھی کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ دراصل آج اگر عوام اتنی ناراض ہے تو اس لئے بھی کیونکہ بدمعاشوں کا حوصلہ بڑھنے کی ایک وجہ ہمارا سسٹم بھی ہے۔ بدفعلی کے معاملے میں10-10 سال عدالت میں مقدمہ چلے گا تو ایسے میں اس طرح کے واقعات پر کیسے روک لگ سکتی ہے؟ دہلی کی الگ الگ عدالتوں میں آبروریزی کے10 ہزار سے بھی زیادہ معاملے اس وقت زیر سماعت ہیں اگر پورے دیش کا حساب لگا لیا جائے تو یہ تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ حکومت فاسٹ ٹریک عدالت بنانے کی بات تو کررہی ہے ۔پولیس اگر صحیح طریقے سے چھان بین کرے تو ایسے معاملوں میں 7 سے10 دن میں چھان بین پوری کی جاسکتی ہے۔ قانونی ماہر بتاتے ہیں کہ سب کچھ پولیس کی قوت ارادی پر منحصر کرتا ہے ۔ پولیس چاہے تو سات سے دس دن میں چھان بین پوری کرکے چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے اور اس کے بعد روزانہ سماعت کی جائے تو زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے لیکن پولیس کو چھان بین کے دوران کچھ اہم نکات پر ضرور توجہ دینی ہوگی تاکہ چھان بین میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ سپریم کورٹ کے سینئروکیل کے ۔ٹی ۔ایس تلسی نے بتایا کہ پولیس کو اس طرح کے معاملے میں سائنسی ثبوت پر توجہ دینی چاہئے۔بس برآمد کی جا چکی ہے، ملزم گرفتار ہوچکے ہیں، بس سے فنگر پرنٹ سے لیکر خون کا سیمپل اور واردات میں استعمال لوہے کی چھڑ وغیرہ برآمدہوچکی ہیں۔ ان تمام نمونوں کی فورنسک رپورٹ آنی چاہئے۔ اور ایف آئی آر کی بنیاد پر فورنسک لیب سے کہا جائے کہ وہ رپورٹ جلد دے دے۔ سپریم کورٹ کے فوجداری کے وکیل ڈی ۔وی گوسوامی نے بتایا کہ آبروریزی کے واقعات میں لڑکی کا بیان بہت اہم ہوتا ہے۔ جہاں تک موجودہ معاملے کا سوال ہے تو اس معاملے میں لڑکی کا بیان درج ہوچکا ہے۔ساتھ ہی لڑکی کا میڈیکل ٹیسٹ کرنے والے ڈاکٹر کا بیان بھی لیا جائے گا، جس پولیس کانسٹیبل نے ایف آئی آر درج کی ہے اس کا بیان بھی لیا جائے گا، اس کے علاوہ جانچ افسر کا بیان اور فورنسک جانچ کرنے والے افسر کا بیان بھی قلمبند ہونا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اگر چاہے تو100 نمبر ڈائل کرنے والے شخص اور اس کی کال اٹینڈ کرنے والے پولیس کانسٹیبل کو بھی گواہ بنا سکتی ہے۔ لڑکی اور اس کے دوست دونوں کی میڈیکل رپورٹ ملزمان کی میڈیکل رپورٹ کے ساتھ فورنسک رپورٹ اہم ثبوت ہے۔ ان گواہوں کے انتخاب اور ثبوتوں کو اکٹھا کرنے میں پولیس کو 7 سے 10 دن کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد پولیس چارج شیٹ داخل کرے۔ چارج شیٹ فورنسک رپورٹ کے بغیر داخل ہوسکتی ہے اور رپورٹ آنے پر ضمنی چارج شیٹ داخل کی جاسکتی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ گواہوں کی لمبی لسٹ نہ بنائے اور صرف اہم بیانات پر زیادہ توجہ مرکوز کرے۔ یومیہ سماعت ہونی چاہئے۔ ممکن ہو تو صرف خاتون جج مقدمہ سنیں اور خاتون وکیل ہی پیش ہوں۔ لڑکی سے بیہودہ سوالوں سے بچا جائے۔ صرف ان سوالوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو سزا کے لئے ضروری ہیں۔ ایسے معاملوں میں اپیل کے معاملے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ یہ تو اس کی میعاد اور کارروائی طے کی جائے یا پھر اپیل یا رحم کی پوزیشن میں نہ رکھی جائے لیکن یہ سب کچھ پولیس ، سرکار ،عدالت و فورنسک اور سائنسی لیب کی رپورٹ پر منحصر ہوگا۔ تکلیف دہ پہلو ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس سرکار و عوامی نمائندوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں جن میں کئی ممبر اسمبلی سابق ممبر اسمبلی و ممبر پارلیمنٹ خود بدفعلی کے الزامات میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ ایسے سنگین الزامات کو بھی سیاسی اشو بنا کر معاملے کو آگے بڑھنے سے روک یتے ہیں۔ جنتا بھی ایسے خطرناک ملزم نیتاؤں کو بار بار کیوں چنتی ہے۔ ہماری سمجھ سے تو باہرہے کیونکہ یوپی اے اقتدار میں ہے ہم کانگریس صدر سونیا گاندھی سے بہت امید رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں پہل کرکے ایسا سسٹم بنوادیں تاکہ آبروریزی کے معاملوں کا نپٹارہ شروع سے سزا تک 10 دن میں ختم ہوجائے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...