Translater
27 ستمبر 2024
اڈیشہ میں میجر سے بدسلوکی !
اڈیشہ پولیس کا بہت ہی گھناو¿نا چہرہ سامنے آیا ہے یا یوں کہیں تو کہ پولیس کے آئے دن کچھ نا کچھ کارنامہ دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں ۔چاہے وہ اجمیر میں مہلا سپاہی کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کا معاملہ ہو یا پھر سڑکوںپر وصولی کو لے کر معاملہ ہو لیکن یہ چہرہ تو اس سے بھی زیادہ چونکانے والا ہے اور درندگی کا حامل ہے ۔اڈیشہ کے بھرت پور تھانہ میں فوج کے میجر اور ان کی منگیتر کے ساتھ جنسی اذیت رسانی مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ تھانہ کے انسپکٹر انچارج اور ایک دوسرے افسر نے ان کو جنسی ٹارچر کیا۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان لوگوں نے میری جیکٹ سے میرے ہاتھ باندھے۔مہلا کانسٹیبل کے دوپٹہ سے میرے پیروں کو باندھا اور ایک کمرے میں بند کر دیا اس کے بعد ایک پولیس والا آیا اس نے میرے اوپر سے کپڑے ہٹا کر میرے سینے پر لگاتار کئی لاتیں ماریں ۔ہندوستانی فوج کے ایک میجر کی منگیتر نے بتایا یہ سب کیسے ہوا؟ اڈیشہ ہائی کورٹ کی ضمانت ملنے کے بعد متاثرہ نے بھونیشور پولیس کے تھانہ میں اس کے ساتھ ہوئی بدتمیزی اور زیادتی کا خلاصہ کیا ۔متاثرہ نے بتایا کہ وہ اپنے منگیتر کے ساتھ 15 ستمبر کی رات گھر جارہی تھی راستے میں کچھ لوگوں نے ا ن کا راستہ روک کر مارپیٹ کی کوشش کی ۔وہ پولیس سے مدد لینے کے لئے بھرت پور پولیس تھانہ پہونچی تو وہاں صرف ایک خاتون پولیس کرمچاری موجود تھی اس نے ایف آئی آر درج کرنے اور جرائم پیشہ کے پیچھے پولیس ٹیم بھیجنے کی مانگ کی تو مہلا پولیس کرمچاری نے ان کے ساتھ خود بدتمیزی کی اور گالیاں دیں اس پر میں نے بتایا کہ میں ایک وکیل ہوں اور آپ ایف آئی آر لکھیں ۔اس دوران پولیس کرمچاری بھڑک گئے اور میرے منگیتر کو جیل میں ڈال دیا ۔میں نے کہا کہ آپ ایک فوجی افسر کو جیل میں نہیں ڈال سکتے ۔اتنے پر وہ مہلا پولیس کرمچاری نے میرے بال پکڑ کر میرے ساتھ بدتمیزی اور مار پیٹ شروع کر دی ۔ایک مہلا پولیس کرمچاری نے میرا گلا دبانے کی کوشش کی تو میں نے بچاو¿ کے لئے اس کا ہاتھ کاٹ لیا ۔اس کے بعد مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا ۔کچھ دیر بعد ایک سینئر افسر نے میری پینٹ اتار کر میرا ریپ کرنے کی دھمکی دی ۔اس خلاصہ کے بعد جہاں فوج کے سینئر افسر حرکت میں آگئے ہیں وہیں پولیس کے ڈی جی پی نے تھانہ کے اس وقت کے انسپکٹر وینا کرشن کے ساتھ پانچ ملازمین کو معطل کر دیا ہے ۔ان پانچوں کے خلاف ڈسپلن کی کاروائی شروع کر دی گئی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس کرمچاریوں نے اس دوران میجر سے بدتمیزی اور اس کا پرس چھینا۔آرمی کا آئی ڈی کار ڈ سمیت کار کی چابی چھین لی گئی ۔اس مبینہ اذیت رسانی کے معاملہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اڈیشہ ہائی کورٹ نے پیر کو واردات پر تشویش ظاہر کی اور مکھیہ دھارا کی میڈیا اور شوشل میڈیا دونوں کو متاثرہ کے نام و پہچان بتانے سے روک دیا۔ہائی کورٹ نے اس ریاست کے سبھی 650پولیس تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نا لگانے کو لے کر انتظامیہ کی سخت نکتہ چینی کی تھی ۔کورٹ نے ایک سینئر افسر کو 8 اکتوبر تک اس معاملے پر پوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
(انل نریندر)
تیسری عالمی جنگ کی جانب بڑھتا مشرق وسطیٰ
یہ یقین کرنا مشکل ہے کے لبنان میں حزب اللہ کے استعمال میں آنے میں پیجروں اور واقی ٹاکی میں ہوئے دھماکوں کو صرف ایک ہی ہفتہ گزرا ہے ۔اس کے بعد سے اب تک حزب اللہ کے لئے تباہ کن بم باری کا ایک سلسلہ ایسا چلا کے رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔کمونیکیشن نیٹورک میں رکاوٹ اور لڑاکوں پر حملے اور ان کے کمانڈروں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔اسرائیل نے حزب اللہ کے گڑھ لبنان میں بڑے حملے کئے ہیں ان حملوں میں 570 لوگوں کی موت کی خبر آئی ہے ۔ان حملوں میں لوگ ملبے کے نیچے دبے ہیں اور اندےشہ ہے کے مرنے والوںکی تعداد بہت بڑھے گی ۔مرنے والوں میں عورتےں اور بچے بھی شامل ہیں قیاس ہے کے ان حملوں میں بھی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے اس نے ہی حال ہی میں پیجر ،واکی ٹاکی اور سولر پلانٹ پر دھماکوں کو انجام دیا تھا اس سے پورے لبنان میں آتش بازی جیسی صورت حال پیدا ہپو گئی تھی وہیں لبنان میں بڑی سطح پر ہوئے حملوں کے بعد اسرائیل نے دیش میں ایک ہفتہ کے لئے ایمرجنسی لگا دی ہے ۔اصل میں اتوار کو حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل میں 100 سے زیادہ راکٹ داغے تھے ۔یہ راکٹ اسرائیل کے ہائیفا شہر کے نزدیک گرے ۔اس حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔وہیں راکٹ حملے کے بعد حزب اللہ کے لیڈر نعیم قاسم نے کھلی لڑائی کا اعلان کیا تھا ۔جبکہ جوابی کاروائی میں اسرائیل نے ساو¿تھ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر زبردست حملہ کیا ۔اسرائیل نے حماس کے ساتھ غزہ میں جنگ کے بعد نارتھ سرحد میں مورچہ کھول دیا ہے ۔ان حملوں کے سبب لبنان کے شمالی علاقہ سے لوگوں کی ہجرت شروع ہو گئی ہے ۔اسرائیل کے وزیر دفاع یادوف نے کہا کہ شمالی سرحد کے باشندوں کو اپنے گھرو ں میں محفوظ واپسی تک حزب اللہ کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔ادھر اتنے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود حزب اللہ کا ناتوحوصلہ گرا ہے اور نا تو اس کی فوجی کاروائی میں کمی آئی ہے ۔حزب اللہ نے منگلوار کی تباہی کے بعد بدھوارصبح سویرے اسرائیل پر تقریباً 300 سے زائد راکٹ داغے تھے ۔لبنان کے ساتھ لڑائی میں سیریا بھی شامل ہو گیا ہے جب سے اسرائیل ،غزہ ،لبنان کی لڑائی شروع ہوئی ہے تب سے پہلی بار اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب بھی نشانہ پر آگیا ہے ۔حزب اللہ نے راجدھانی کو پہلی بار اپنے نشانہ پر لیتے ہوئے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر میزائل داغے ۔لبنان کی طرف سے میزائل داغے جانے کا پتہ لگتے ہی پورے سنٹرل اسرائیل میں ہوائی حملوں کے سائرن بجنے لگے ۔اتنا صاف ہے کہ اب یہ جنگ رکنے والی نہیں ہے ۔اگر اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملہ کیا تو حزب اللہ بھی تیار ہے ۔اس صورت میں حماس ،حزب اللہ ،ایران ،سیریا ا ور یمن پانچ طرف سے اسرائیل گھر جائے گا اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے ۔خبر ہے کہ امریکہ نے ایک طرف ایئر کرافٹ کیریئر اور سینکڑوں مزید فوجی اسرائیل بھیجے ہیں ۔اگر یہ جنگ بڑھتی ہے تو پوری دنیا خطرے میں ا ٓجائے گی ۔کہیں تیسری عالمی جنگ کی شروعات نا ہو جائے ۔امید ہے کہ ایسی حالت کی نوبت تک نہیں آئے گی ۔
(انل نریندر)
26 ستمبر 2024
10 سال بعد پھر جنتا کی عدالت میں!
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر ا ور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ کیجریوال ایک بار پھر دہلی کی سڑکوں پر لگ رہی جنتا کی عدالت میں پہنچے ہیں ۔اتوار کو انہوں نے جنتر منتر پر جم کر بھاجپا اور مودی پر گرجے ۔بہت دنوں بعد اپنے پرانے جارحانہ اندازمیں وہ نظر آئے ۔اروند کیجریوال کے ساتھ جنتر منتر پر سنگھ پرمکھ موہن بھاگوت سے پانچ سولا پوچھے دراصل یہ سوال زیادہ موہن بھاگوت سے پی ایم مودی کے ساتھ وزیر داخلہ امت شاہ کی شکایت پر مبنی تھے ۔کیجریوال نے اپنی تقریر میں کئی بار موہن بھاگوت کا نام لیا اور بی جے پی سنگھ کے رشتہ پر بھی اپنی بات رکھی ۔کیجریوال نے سوال ایسے وقت پوچھے ہیں جب سب کو معلوم ہے بھاجپا اور سنگھ کے رشتوں میں کڑواہٹ چل رہی ہے ۔انہوں نے یہ کہہ کر مودی کا قدکم دکھانے کی کوشش کی کہ آر ایس ایس ہی مکھیا ہے اور اسے اپنے بچوں کو کنٹرول میں رکھناچاہیے ۔کیجریوال نے کہا آر ایس ا یس بھاجپا کی مان کی طرح ہے لیکن آج بھاجپا اپنی ماں کو آنکھیں دکھا رہی ہے ۔کیجریوال کا یہ بیان جے پی نڈا کے اس تبصرے کے سلسلے میں آیا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا بھاجپا کو آر ایس ا یس کی ضرورت نہیں ہے ۔کیجریوال نے اتوار کو جنتر منتر پر منعقدہ جنتا عدالت میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے پانچ سوال پوچھے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا آر ایس ایس مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کر سیاسی پارٹیوں کوتوڑنے اور ا پوزیشن پارٹیوں کی سرکاریں گرانے ،کرپٹ نیتاو¿ں کو اپنے پالے میں لانے بھاجپا کی حکمت عملی سے متفق ہیں؟ کیا ریٹائرمنٹ کی عمر سے متعلق بھاجپا کا قاعدہ پردھان منتری مودی پر بھی لاگوہوتا ہے ۔جیسا کہ لال کرشن ایڈوانی پر لاگو ہوا تھا ۔کیا بھاگوت سیاسی لیڈروں کو کرپٹ کہنے اور پھر انہیں اپنے پالے میںشامل کرنے کی بھاجپا کی حکمت عملی سے متفق ہیں؟ انہوں نے موہن بھاگوت سے یہ بھی پوچھا کہ جب بھاجپا چیف جے پی نڈا نے کہا کہ ان کی پارٹی کو آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے توا نہیں کیسا لگا ؟ کیجریوال نے کہا کہ اگر وہ کرپٹ اور بے ایمان ہوتے تو ان کی سرکار دہلی کے لوگوں کواتنی سہولیت نادے رہی ہوتی ،سپریم کورٹ نے تو مجھے ضمانت دی لیکن بھاجپا نے مجھ پر کرپشن اور بے ایمانی کرنے کے جو جھوٹ الزام لگائے ہیں میں داغ لے کر جی نہیں سکتا ۔میری چمڑی ا تنی موٹی نہیں ہے ۔کیجریوال نے دہلی کی جنتا سے کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے میں بے ایمان اور کرپٹ ہوں تو مجھے ووٹ مت دینا ۔انہوں نے آگے بتایا کہ وہ شراد کے بعد اپناسرکار بنگلہ خالی کردیں گے اور لوگوں کے بیچ جا کر رہیں گے ۔آگے کہا کہ آج میرے پاس رہنے کے لئے کوئی گھر بھی نہیں ہے ۔میں نے دس سال سے جنتا کا پیار اور آشیرواد کمایا ہے اسی پیار کی وجہ سے کئی لوگ مجھے اپنے گھرمیں رہنے کے لئے بلا رہے ہیں ۔بی جے پی کے پردیش صدر وریندر سچدیوا نے کیجریوال سے سوال کیا کہا کہ آر ایس ایس سے تو بعد میں سوال کریں پہلے وہ انا ہزار کے سوالوں کا جوا ب دیں ۔انہون نے کہا کیجریوال کا سیاسی سفر ختم ہونے کی سمت میں بڑھ رہا ہے ۔دیکھیں اب سنگھ کیجریوال کے سوالوں کا جواب دیتا ہے یا نہیں ،دیتا ہے تو کیا دیتا ہے ؟
(انل نریندر)
زبردستی دباو ¿ ڈالنے کی حکمت عملی !
پی ایم نریندر مودی کے امریکہ دورہ کے دوران ایک تصویر موضوع بحث ہے اس میں امریکی سفیر ایرک گوسیٹی ہیں بھارت کی طرف سے اس تصویر میں پی ایم مودی کے ساتھ وزیر خارجہ ایس جے شنکر و خارجہ سکریٹری وکرم مستری اور امریکہ میں بھارت کے سفیر ونے کاترا نظرآئے ہیں ۔اس تصویر اور امریکی دورہ میں جن کے نظر آنے کو لے کر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں وہ ہیں بھارت کے قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈوبھال ایسا عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ہندوستانی ڈپلومیسی میں تین لوگ اہم ہیں ۔ایک خود پی ایم نریندر مودی ،دوسرے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور تیسرے این ایس اے اجیت ڈوبھال ۔عام طور پر مودی جی کے ساتھ ڈوبھال ہوتے ہیں ایسے میں سوال پوچھا جارہا ہے کہ اجیت ڈوبھال ا مریکہ کیوں نہیں گئے ؟ شاید یہ پہلی بار ہے جب وہ پی ایم کے ساتھ امریکہ نا گئے ہوں ۔اجیت ڈوبھال کا امریکہ نہ جانا کئی وجوہات سے بحث کا موضوع ہے ۔حال ہی میں پی ایم مودی کے دورہ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں بڑے حکام نے خالصتان حمایتی لیڈروں سے ملاقات کی تھی ۔یہ وائٹ ہاو¿س میں ہوئی تھی ۔پچھلے کئی دنوں سے امریکہ خالصتانیوں کو لے کر بھارت پر دباو¿ بنا رہا ہے یہ امریکہ کی پوری ڈپلومیسی ٹرک ہے ۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پی ایم مودی کے دورہ سے ٹھیک کچھ دن پہلے امریکہ کے شہر نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ درج ہوتا ہے۔خالصتان دہشت گرد گرپنت پنو کے اقدام قتل کے الزامات کو لے کر امریکہ کی ایک عدالت نے بھارت سرکار اور بڑے حکام کو ثمن جاری کیا ہے جس پر وزارت خارجہ نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے ۔پنوں نے امریکہ کی ایک نیویارک عدالت میں د یوانی کا مقدمہ دائر کیا ہے جس کا مقصد پچھلے سال شر عام ہر دیپ سنگھ نجر کی موت اور اس کے فورًا بعد پنوں کے قتل کی سازش رچنے میں مبینہ شمولیت کے لئے بھارت سرکار کو جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے ۔اس معاملے کی بنیاد پر نیویارک کے ساو¿تھ ضلع میں واقع یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ نے ثمن جاری کیا اس میں بھارت سرکار کے قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈوبھال ، را کے سابق پردھان سامنت گوئل اور را ایجنٹ وکرم یادو اور بھارتیہ کاروباری نکھل گپتا کا نام ہے ۔بھارت عدالت نے بھارت سرکار سے اس سلسلے میں 21 دنوں میں جواب مانگا ہے ۔عدالت نے بھارت کے کئی لوگوں کو سمن کیا تھا اس سمن میں اجیت ڈوبھال نکھل گپتا وغیرہ حکام کے نام ہیں ۔21 دنوں کے اندر اس کا جواب دیا جانا ہے ۔بھارت کے وزارت خارجہ نے اس ثمن کو غیر ضروری بتایا ہے ایسے میں کچھ حلقوں میں یہ سوال پوچھاجارہا ہے کہ کیا ڈوبھال سمن کے سبب مودی جی کے ساتھ امریکہ نہیں گئے ۔حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے ڈوبھال کشمیر چناو¿ کو بنا کسی اڑچن کے ممکن کروا رہے ہیں ہمارا خیال ہے کہ یہ امریکہ کے ناجائز دباو¿ بنانے کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ٹھیک پی ایم کے دوروں سے پہلے ایسا بیہودہ کیس رجسٹر کرنا اپنے آپ میں امریکہ کی دباو¿ والی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ گروپنت سنگھ پنو مانے ہوئے آتنکی ہیں جو دن رات بھارت کے خلاف وہاںزہر اگلتے رہتے ہیں یہ بات گہرائی سے غور کی جانی چاہیے کہ اس کی سرگرمیوں میں ملوث امریکہ اور کنیڈا جیسے ملک اس کو پناہ دئیے ہوئے ہیں ۔پنوں جیسے لوگوں کے خلاف بلا زجھک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
24 ستمبر 2024
اس سے تو بدل جائیگا جنگ کا طریقہ!
حزب اللہ سے جڑے ایک ایم پی علی عمر کے بیٹے کی پیجر پھٹنے سے موت ہو گئی تھی لبنان میں 18 ستمبر کو واکی ٹاکی میں ہوئے دھماکوں میں اب تک 20 سے زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے اور 450 سے زیادہ زخمی ہیں یہ جانکاری لبنان کے وزیرصحت نے دی ہے ۔واکی ٹاکی حزب اللہ استعمال کرتا رہا ہے ۔دھماکہ جن جگہوں پر ہوئے ہیں وہ حزب اللہ کے گڑھ مانے جاتے ہیں ۔17 ستمبر کو پیجر پھٹنے کے سبب جن لوگوں کی موت ہوئی تھی اس میں سے کچھ کی انتم یاترا کے دوران ہی واکی ٹاکی میں دھماکے ہوئے ۔حزب اللہ کے ممبروں کی جانب سے استعمال کئے جانے والے پیجرس 17 ستمبر کواچانک پھٹنا شروع ہو گئے تھے ۔ان دھماکوں کے لئے حزب اللہ نے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔حالانکہ اب تک اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔پچھلے دنوں اسرائیل کے وزیر دفاع یاموف گیلنٹ نے جنگ کے نئے دور شروع ہونے کی بات کہی تھی ۔اسرائیلی فوج کو بھی شمالی علاقہ میں تعینات کیا گیا تھا ۔لبنان ریڈ کراس سوسائٹی کا کہنا ہے کہ الگ الگ علاقوں میں ہوئے کئی دھماکوں کے بعد اس کی ٹیمیں دیش کے ساو¿تھ اور مشرق گراو¿نڈ پر ہیں۔کئی زخمیوں کو راجدھانی بیروت اور بول بیک کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ۔حزب اللہ کے گڑھ کہے جانے والے ساو¿تھ بیروت میں چار لوگوں کے جنازے کے دوران بھی ایک دھماکہ ہوا تھا ۔خبررساں ایجنسی رائٹر کے مطابق حزب اللہ جس کمیونیکیشن ڈیوائس کا استعمال کرتا رہا ہے اس میں یہ دھماکے ہوئے تھے ۔پیجر بم حملے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں ۔تائبان کی گولد اپولو کمپنی نے اے آر - 942 ماڈل کے 5000 پیجر ہنگری کی بی اے سی کمپنی سے منگوائے تھے ۔اپولو کے بیان کے مطابق کمپنی کی بوڈا پیسٹ فیکٹری ڈیک مارک کا استعمال کرتی ہے ۔سپلائی لائن میں پروڈکشن کے وقت ہی پیجر میں قریب خطرناک دھماکوں آرڈیکس کی چپ کے ساتھ ڈالا گیا تھا ۔تقریباً پانچ مہینے پہلے اے آر 942 ماڈل کے پیجر کے بیچ میں دھماکہ پھر کئے گئے تھے ۔پیجر ایرر مسج آتے ہی دس سکنڈ میں وارڈ بریشن کے درمیان آواز آئی تھی ۔یوزر کے ذریعے کنسل بٹن دبانے کے بعد بلاسٹ ہوا تھا ۔اسرائیل کے اس حملے بلکہ یوکرے کی ایک جارحانہ رویہ سے ایران اور مغربی ایشیا میں ساکھ کو چوٹ پہنچی ہے ۔اسرائیل نے ایران حمایتی لبنان کے حزب اللہ کو نشانہ پر لیا ہے ۔ایسا کر اسرائیل اب ایران کو بھڑکا رہا ہے ۔جس سے ایران مجبور ہو کر جواب دے ۔بتا دیں کہ حزب اللہ کا پورا نیٹورک ایران کی مدد سے چلتا ہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے ماحول بدل جائے گا ۔علاقہ سے جنگ کا طریقہ بدل جائے گا؟ فی الحال اس طرح کے حملوں کے لئے کوئی دیش تیار نہیں ہے ۔لہذا بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی چوکس رہنا ہوگا اور ا سے ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنا چاہیے ۔کل کو تصور کیجئے کہ لوگوں کے ٹی وی پھٹنے لگ جائیں تو کیا ہوگا؟ ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ پیجر اٹیک جیسے نئے حملے سے کچھ جنگ کے طریقے میں بدل جائیں گے ۔ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے نا تو صرف پیجر بلکہ موبائل فون ،ایل سی ڈی ،لیپ ٹاپ یا ایسی کوئی ڈیوائس جس کا کنکشن ڈائرکٹ یا انڈائرکٹ کسی سرور سے جڑاہو اسے اڑایا جاسکتا ہے ۔اس لئے اس کا توڑ نکالنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
آستھا پر حملہ !
آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندربابو نائیڈو کے ایک بیان نے جمعرات کو زلزلہ لا دیا ہے۔دراصل نائیڈو نے ایک دن پہلے بتایا تھا کہ تریوپتی میں واقعہ ترومالا مندر میں ملنے والے پرسادم لڈو میں اینیمل فیٹ (پشو چربی کے اجزاءملے ہیں جسے گھی کے اصلی دیسی گھی بتا کر لڈوو¿ں میں ملایا جارہا تھا اس میں فش آئل اور اینیمل فیٹ ہے ۔جس کمپنی سے گھی لیا جارہا تھا اس سے معاہدہ ختم کر بلیک لسٹ کررہے ہیں ۔معاملہ کی جانچ وجلنس کو سونپ دی گئی ہے ۔ایک سال پہلے کی کمپنی کو سپلائی کا ٹنڈر ملا تھا ۔نائیڈو نے وائی ایس آر سی پی اور سابقہ وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی پر شردھالوو¿ںکی آستھا اور ترومالامندر کی پوترا سے کھلواڑ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔انہوںنے کہا جگن موہن سرکار نے پرسادم کی پوترترا کو تار تار کیا ہے ۔بتادیں کہ تریمالا مندر دنیا کے سب سے بڑے مقبول اور امیر دھارمک استھلوں میں سے ایک ہے ۔یہاں ہر دن قریب 70 ہزار شردھالو بھگوان وینکٹیشور سوامی کے درشن کرتے ہیں ۔اس سنسنی خیز خبرمیں کروڑ وں شردھالوو¿ں کی آستھا پر چوٹ لگائی ہے ۔یہاں کے لڈو بہت مشہور ہیں ۔تروپتی کے لڈو میں جانوروں کی چربی کو ملانے کو لے کر ہنگامہ ایودھیاتک پہونچ گیا ہے ۔یہاں کے سنتوں کا الزام ہے تروپتی کے ایک لاکھ لڈو رام مندر کی پران پرتیسٹھا میں بھی بانٹے گئے تھے جس سے پوتر پروگرام میں ایودھیا پہونچے لاکھوں لوگوں کی آستھا اور سناتن دھرم پر چوٹ پہنچی ہے ۔رام مندر جنم بھومی کے پجاری آچاریہ ستیندر داس نے کہا کہ تروپتی لڈو میں ملاوٹ کے پیچھے بین الاقوامی سازش نظر آتی ہے ۔دراصل آندھرا پردیش سرکار نے گھی سپلائی کا کام 29 اگست کو کے این ایف کو پھر سے دے دیا ۔کے ایم ایف نندنی برانڈ کا دیسی گھی سپلائی کرتا ہے ادھر ٹی ٹی پی نے گھی کی کوالٹی کی جانچ کیلئے 4 نفری اسپیشل کمیٹی بنا دی ہے ۔تریومالا مندر انتظامیہ تروپتی دیواستھان چلاتا ہے ۔مندرکمپلیکس میں بنی 300 سال پرانی کچن پٹو میں شروع سے دیسی گھی کے روز 3.5 لاکھ لڈو بنتے ہیں یہ مندر کا خاص پرساد ہے جسے قریب 200 برہمن بناتے ہیں ۔لڈومیں اصلی بیسن ،بوندی،چنی ،کاجو اور شُدھ دیسی گھی ہوتا ہے ۔ہر مہینے 1400 ٹن گھی مندر میں لگتا ہے ۔مندر بھگوان بھروسہ چلتاہے لیکن گھوٹالے والوں کی شردھا نا تو بھگوان کے تئیں اور نا ہی بھگتوں کے تئیں ہے وہ تمام مندر جو اپنے یہاں سے پرساد بانٹتے ہیں یا بیچتے ہیں ان سب کی کوالٹی کی جانچ کا انتظام ضروری ہے ۔قصورواوں کو بچانا یا کرائم چھپانے سے کام نہیں چلے گا ۔تمام مندروں کو کوالٹی جانچ سے گزرنا چاہیے ۔بہرحال تروپتی میں لڈوو¿ں کی تقسیم فورًا بند کر دی جائے ۔اشودھ ملاوٹی سپلائی کے لئے ذمہ دار ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ میں ڈالنا اور اس پر جرمانہ لگانا کافی نہیں ہے ۔ملاوٹی انسداد قانون کی سخت قواعد لاگو ہونے چاہیے۔اور ایسی سزا ملنی چاہیے کہ ایک مثال بن جائے ۔یہ کام خود چیف منسٹر چندربابو نائیڈو کو یقینی کرنا چاہیے اس میں سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔تروپتی کے مشہور لڈو پرسادم میں استعمال گھی کی کوالٹی کو لے کر شردھالوو¿ں کی تشویش کے درمیان ترومالا تروپتی دیوو استھان نے کہا کہ اس پوتر پرساد کی پاکیزگی بحال کر دی گئی ہے ۔میڈیا پر ایک پوسٹ پر کہا کہ شری لڈو کی پوترتا اب بے داغ ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...