Translater

26 اگست 2017

شاہ کے ایک بیان سے 75+ نیتاؤں کو سنجیونی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ حال ہی میں بھوپال گئے تھے وہاں پر انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جس سے کئی لیڈروں کے چہرے پر مسکان آگئی۔ امت شاہ نے سنیچر کو بھوپال میں یہ کہہ کر سب کو چونکادیا کہ 75 سال کی عمر کے نیتاؤں کو چناؤ نہیں لڑانے کا پارٹی میں کوئی قاعدہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی روایت ہے۔ بھاجپا کے اس لچیلے پن سے پارٹی کے 75+ کے قریب دو درجن سے زیادہ لیڈروں میں ایک بار پھر سرگرم سیاست میں لوٹنے کی امید جاگ گئی ہے۔ یہ نیتا خاص کر نہیں 15 ریاستوں کے ہیں جہاں 2019ء کے عام چناؤ تک اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ دراصل 2014ء میں وزیر اعظم نریندر مودی نے 75 سال پار لیڈروں کو اپنی کیبنٹ میں نہیں رکھا تھا۔ سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی جیسے کئی لیڈر اسی وجہ سے کیبنٹ سے باہر ہوگئے تھے۔ انہیں پارٹی کے مارگ درشک منڈل تک محدود کردیا گیا تھا۔ اسی دوران یہ بھی پارٹی میں صاف کردیا گیاتھا کہ چناؤلڑنے کی زیادہ تر عمر حد 75 سال ہے۔بھاجپا حکمراں ریاستوں میں یہ فارمولہ اپنایا گیا۔ گجرات میں وزیر اعلی رہیںآنندی بین پٹیل کو75 سال کی عمر پارکرتے ہی کرسی چھوڑنی پڑی تھی۔ انہوں نے یہ عمر حد پوری ہونے سے مہینے پہلے ہی عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ فیس بک پوسٹ میں عمر کی بنیاد پر ہی انہوں نے استعفے کی وجہ بتائی تھی۔ دراصل بھاجپا نے 2019ء کے لوک سبھا چناؤ میں 360 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کیا ہے۔ اس مشکل چنوتی بھرے ٹارگیٹ کی حکمت عملی بناتے وقت سینئر لیڈر شپ سمجھ چکی ہے کہ من چاہے نتیجے پانے کے لئے بزرگ اور تجربہ کا لیڈروں کو ترجیح دینی ہی پڑے گی۔ اس لئے امت شاہ نے بیحد چالاکی سے غیر اعلانیہ اصول میں یہ لچیلا پن لانے کا اشارہ دیا ہے۔ موجودہ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن 74 برس کی ہوگئی ہیں وہ پچھلے کافی برس سے اندور سے ایم پی ہیں لیکن شاہ کے اس بیان سے صاف ہے کہ انہیں 2019 میں بھی لوک سبھا کا ٹکٹ مل سکتا ہے۔ ہماچل پردیش کے چناؤ جلد ہونے والے ہیں۔ پارٹی کو وہاں ایک تجربہ کار چہرے کی تلاش ہے۔ 82 سالہ شانتا کمار بھی اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر وزیر یا وزیر اعلی کی دوڑ میں آسکتے ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی یدیرپا کی لیڈر شپ میں چناؤ لڑنے کی تیاری کررہی ہے ان کی عمر بھی 75 سال پار ہورہی ہے لیکن اب اس بیان کے بعد ان کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ یوپی کوٹے سے مرکز میں کلراج مشر بھی 75 سال کی عمر پار کرچکے ہیں ان کے علاوہ پریم کمار دھومل73 ، گلاب چند کٹاریہ 72، امرارام 74 ، بھگت سنگھ کوشیاری75 ، حکم دیو یادو77 ، سی پی ٹھاکر 85 سالہ جیسے کئی لیڈروں کی قسمت جاگ سکتی ہے۔ لیکن اڈوانی ، جوشی، آنندی بین ،نجمہ ہیپت اللہ، یشونت سنہا کو 75 پار کے لوگوں کو برین ڈیڈ اعلان کیا گیا تھا۔
(انل نریندر)

ہماری نوجوان پیڑھی نشہ کی لت میں تباہ ہورہی ہے

یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے کہ نشہ کی لت ہمارے نوجوانوں کو بری طرح سے متاثر کررہی ہے۔ اسکولی بچوں میں نشہ کی اس لت نے نہ صرف ان کا مستقبل خراب کیا ہے بلکہ پورے خاندان پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج 7-8 اور 9 سال کے بچے وائنر سونگھنے والا نشہ کررہے ہیں جو جان لیوا ہے۔ سونگھنے والے نشہ میں پیٹرولیم مصنوعات ہوتی ہے جو دماغ کی پروٹیکٹنگ کوٹنگ کو ختم کرتی ہے۔ اس سے دماغ کے سیلس مرنے لگتے ہیں اور دماغ کی گروتھ روک جاتی ہے۔ نشہ سے ان بچوں کو باہر نکالنے والے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ شروع میں یہ بچے باقی بچوں کی طرح نارمل ہوتے ہیں لیکن کسی چیز کی ٹینشن یا پریشانی انہیں نشہ کرنے کیلئے مجبور کردیتی ہے۔ لت لگنا وہیں سے شروع ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر راجیش کا کہنا ہے کہ دماغ میں ریوارڈ پاتھوے ہوتا ہے۔ اس سے ڈوپا مائن ریلیز ہوتا ہے جب یہ ریلیز ہوتا ہے تو انسان کو خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ چاہے اس کی وجہ کچھ بھی ہو۔ کچھ انسان کو اپنی تعریف سننے میں ڈوپا مائن ریلیز ہوتا ہے۔کچھ میں کھیلنے سے ہوتا ہے تو کچھ میں نشہ لینے سے۔ پھر انسان جب نشہ پر منحصر رہنے لگتا ہے اور نشہ نہیں کرتا تو اس کے برین سے ڈوپا مائن ریلیز نہیں ہوتا اور وہ دکھی رہنے لگتا ہے۔ ایسے میں ان کی صرف ایک ہی چاہت ہوتی ہے کہ اگلا ڈوز کہاں سے لایا جائے، کیا کیا جائے۔ ایک مثال میں شعیب ہوں، جب میں 9سال کا تھا تو مجھے میتھ میں پریشانی آتی تھی،کچھ سمجھ نہیں آتا تھا، گھر میں کوئی بتانے والا نہیں تھا۔ میں پریشان رہنے لگاتھا جب پہلی بار میرے کچھ دوستوں نے مجھے رومال سونگھنے کو دیا تو مجھے اچھا لگا، میری پریشانی دور ہوتی نظر آئی، پھر یہ میری عادت بن گئی۔ یہ عادت لت میں کب بدلی مجھے پتہ نہیں چلا۔ پہلے گھر سے پیسے چراکر نشہ کرتا رہا۔ پھر پیسے نہیں ملتے تو کوڑاتک بینتا تھا اور اسے بیچ کر نشہ کرتا تھا۔ نشہ سے میری زندگی خراب ہوگی۔مجھے نیند نہیں آتی تھی ،بے چینی ہونے لگتی ہے ، میں پریشان ہوجاتا ہوں اور پھر نشہ کے لئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیا ر ہوجاتا ہوں مجھے روزانہ نشہ چاہئے ہوتا ہے، ایسے نہ جانے کتنے بچے اور نوجوان دہلی میں ہیں جو نشہ کی لت کی وجہ سے اپنی زندگی خراب کررہے ہیں۔ نشہ کی لت کا آج مارکیٹ میں کئی سامان دستیاب ہیں۔ سونگھ کر کیا جانے والا نشہ، اس میں کامن ہے گلو،تھنر، ربڑ، آیوڈیکس اور تارپین کا تیل، نیل ریموو ، گم پیسٹ نشہ میں استعمال ہونے والی چیزوں میں آسانی سے 50 روپے تک میں مل جاتے ہیں۔ انجکشن کا بھی استعمال ہورہا ہے جو عام طور پر جانوروں کو لگایا جاتا ہے یہ 35 سے40 روپے میں مل جاتا ہے۔ نیند کی گولی اور پین کلر کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ کئی دواؤں میں افیم ہوتی ہے اور کچھ سرپ میں بھی یہ پایا جاتا ہے، یہ بھی 50 اور 100 روپے میں مل جاتا ہے۔ اسمیک بھی بازار میں آسانی سے مل جاتی ہے۔ یہ کافی مہنگی ہوتی ہے۔ ایک ڈوز پر 400 روپے تک کا خرچ ہے۔ بچے اس خرچ کو اٹھا نہیں پاتے اس کے لئے کرائم پر اتر آتے ہیں۔ گانجا بھی پورے دیش میں آسانی سے مل جاتا ہے۔ اس کے لئے ایک ڈوز کی قیمت200 روپے ہے۔براؤن شوگر کا ایک ڈوز 300سے350 روپے میں آتا ہے۔ نشہ کے شکار لوگ روزانہ کم سے کم دو ڈوز استعمال کرتے ہیں۔ بازار میں دواؤں کا کاروبار اس لئے فیل ہورہا ہے کیونکہ اس کے استعمال کرنے والوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ سرکار نے نشہ مکتی کے کئی سینٹرل کھولے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے تو اس کے لئے سامنے آنے والوں کی۔ ماں باپ کے پاس وقت نہیں ہے وہ اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں اور بچوں کو اوپر والے کے حوالہ چھوڑ دیتے ہیں۔ کئی خاندانوں میں ماں باپ دونوں کام کرتے ہیں اور بچے اکیلے ہوتے ہیں یہ سرکار کے لئے تو چنوتی ہے لیکن سماج کیلئے اس سے بڑی چنوتی ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان پیڑھی کو نشہ کی لت سے بچانا ہے تو سبھی سطح پر جنگ کی طرح لڑنا ہوگا۔ محض بھارت ہی نہیں تقریباً ہر دیش اس مسئلہ سے لڑ رہا ہے۔
(انل نریندر)

25 اگست 2017

تین طلاق غیر قانونی و غیر شرعی جو اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں

دیش کی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ میں ایک ساتھ تین طلاق یعنی طلاق بدت کی 1400 سال پرانی رسم کو ختم کردیا۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ کے دو ججوں نے اسے مذہب کا حصہ مانتے ہوئے 6 مہینے کیلئے روک لگادی اور مرکز سے قانون بنانے کوکہا۔ حالانکہ تین جج صاحبان نے اکثریت سے اس روایت کو مذہب کا اٹوٹ حصہ نہیں مانا اور اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوراً ختم کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ کی اکثریت سے آیا یہ فیصلہ تاریخی ہونے کے ساتھ ہی برابری کے لئے جدوجہد کررہی مسلم خواتین کی بڑی جیت ہے اور اس فیصلہ نے دہائیوں سے چلی آرہی اس الجھن کی صورتحال کو دور کرتے ہوئے صاف کردیا ہے کہ منمانے ڈھنگ سے دی گئی طلاق ناقابل تسلیم اور ناجائز اور غیر آئینی ہے۔ اس جیت کا سہرہ اگر کسی کے سر باندھا جاسکتا ہے تو وہ عام مسلم عورتیں ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مسلم خواتین کی کئی انجمنیں تین طلاق کے قانون کو ختم کرنے کے لئے پچھلے کافی عرصے سے سرگرم تھیں۔ مسلم پرسنل لا ء بورڈ جیسی تنظیم نے تو اسے لیکر ایک ماحول بھی بنایا تھا۔ تین طلاق جیسے اشو کو قومی بحث کا موضوع بنانے کا سہرہ بھی کچھ حد تک ان انجمنوں کو دیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس جیت کا کریڈٹ ان خواتین کو ہی ملے گا جنہوں نے چپ چاپ اس لڑائی کو لڑا، بغیر کسی تنظیم سے وابستہ ہوئے ،بنا کسی تحریک کا حصہ بنے ان میں اتراکھنڈکے علاقہ کاشی پور کی باشندہ سائرہ بانو کا نام سب سے اوپر ہے جنہوں نے اپنی ذاتی پریشانی کو چھلکتے ہوئے دیکھا اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایسی ہی لڑائی عشرت جہاں ، فرح فیض، گل رانی پروین اور آفرین رحمان نے بھی اپنے اپنے طریقے سے لڑی۔ ان کے پیچھے کروڑوں عام مسلم خواتین کی جو خاموش حمایت ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ مسلمانوں میں خاص طور پر سنی فرقے کے حنفی مسلک میں تین طلاق کا رواج تھا اور اب بھی ہے۔ حالانکہ طلاق کے دیگر طریقے بھی رائج ہیں لیکن تین طلاق میں خواتین کی پوزیشن کے پیش نظر سپریم کورٹ نے اسے آئین کے دائرے میں تولا۔ ساتھ ہی تین طلاق کو اسلامی قانون کے خلاف بتانا اور اکثریت کے فیصلے میں جسٹس جوزف نے کہا کہ میں چیف جسٹس کے اس نظریئے سے متفق ہونے میں بہت مشکل محسوس کررہا ہوں کہ تین طلاق کے رواج پر بلا تاخیر مذہبی شکل میں غور کرنا چاہئے اور یہ ان کے پرسنل لاء قانون کا حصہ ہے۔ جسٹس کورین کے نظریئے سے جسٹس للت نے اتفاق جتایا جو اکثریت کے فیصلہ کا حصہ تھے۔ مقدس قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس جوزف نے کہا کہ وہ یکدم صاف ہیں اور غیر جواز ہیں۔ جہاں تک طلاق کا تعلق ہے مقدس قرآن نے پاکیزگی اور استحکام کا کریڈٹ شادی کو دیا ہے۔ اکثریت کے فیصلہ میں کہا گیا کہ حالانکہ زیادہ تر ناگزیں حالات میں طلاق کی اجازت ہے لیکن طلاق کی آخری شکل میں حاصل کرنے سے پہلے صلاح کی ایک اور کوشش ہو اور اگر یہ کامیاب ہوگئی تو اسے منسوخ کرنا قرآن کا ضروری قدم ہے۔ تین طلاق معاملہ میں یہ قدم غلط ہے اس لئے تین طلاق مقدس قرآن کے بنیادی اصول کے خلاف ہے اور نتیجتاً یہ شریعت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تین طلاق کی حمایت کرنے والے مولوی اور مسلم انجمنیں اکثر شریعت کا حوالہ دیتی رہی ہیں لیکن اس فیصلے کے پس منظر میں انہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جو سماج اپنی برائیوں کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتاوہ پچھڑتا چلا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معمولی باتوں پر آپا کھوکر ٹیلی فون سے لیکر اسکوائپ اور واٹس اپ تک کے ذریعے عورتوں کو طلاق دینے کے معاملے سامنے آتے رہتے ہیں۔ منمانے طریقے سے دی جانے والی طلاق متاثرہ عورت کی ذہنی ، اقتصادی اور سماجی زیادتی کا سبب بن جاتی ہے کیونکہ اس کے بعد اکثر ایسی خواتین کے لئے نہ تو گھر میں جگہ ہوتی ہے اور نہ ہی سماج میں۔ یہ سسٹم پوری طرح سے خواتین کے خلاف ہے جس میں ان کا موقف سننے جانے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ پھر یہاں سے نکاح حلالہ جیسی اذیت کا دور بھی شروع ہوتا ہے، امید کی جانی چاہئے کہ سپریم کورٹ اس پر بھی جلد فیصلہ کرے گا۔ تین طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسلم سماج کا ایک طبقہ بھلے ہی اسے شریعت میں دخل اندازی بتا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے 20 مسلم ممالک ایسے ہیں جنہوں نے شریعت کو کنارے کرتے ہوئے تین طلاق کو کافی پہلے ہی ختم کردیا تھا۔ پاکستان و بنگلہ دیش دونوں ہی اسلامی ملک ہیں ، دونوں دیش سنی مسلمان اکثریت ملک ہیں یہاں کہ فیملی لا آرڈیننس 1961 میں تین طلاق کو ممنوع کیا گیا ہے۔ مصر کے لا آف پرسنل اسٹیٹس 1929 میں سال1985 میں ترمیم کر چار دفعات میں طلاق کی تشریح کی گئی جس کے مطابق تین طلاق پوری طرح سے ممنوع ہے۔ شیعہ اکثریتی ایران سرکاری طور پر اسلامی ملک ہے یہاں کے کوڈ آف پرسنل اسٹیٹس 1959 کو سال1987 میں بدل کر تین طلاق کو ممنوع کیا گیا۔ جارڈن، کویت، لیبیا، شام، تیونس، متحدہ ارب عمارات، یمن، سری لنکا ،اجزائر میں بھی تین طلاق غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا ، ملیشیا، فلپین ولبنان ، مراقش، سوڈان وغیرہ میں بھی تین طلاق پر پابندی ہے۔ ان میں وہ ملک بھی شامل ہیں جنہیں ہم اکثرت کٹر مذہبی دیش مانتے ہیں لیکن بھارت میں اگر یہ سب چلتا رہا تو اس کا قصوروار ہم کچھ حد تک سیاست کو بھی ٹھہرا سکتے ہیں۔ کچھ سماجی پیچیدگی کو بھی اور کچھ ان لوگوں کو بھی جنہیں اس لعنت کے ٹوٹنے سے ڈر لگتا ہے۔ ادھر سرکار نے کہا ہے کہ تین طلاق پر کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا حکومت اس مسئلہ پر تعمیرانا ومصالحانہ طریقے سے غور کرے گی اور پہلی ہی نظر میں اس فیصلے کو پڑھنے سے صاف ہوتا ہے کہ (پانچ نفری بنچ میں ) اکثریت نے اسے غیر آئینی اور ناجائز بتایا ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس فیصلہ کو ان لوگوں کے لئے بڑی جیت قراردیا جن کا ماننا ہے کہ پرسنل لاء قانون ترقی پسندانہ ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فیصلہ اب دیش کا قانون ہے۔ جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ اسلامی دنیا کے کئی حصوں میں تین طلاق کی رسم کو خارج کردیا گیا۔ آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ بھی جانتا ہے کہ وہ آئینی بنیاد پر تین طلاق کو اب واجب نہیں ٹھہرا سکتا اس لئے اس نے مسلم خواتین کے مفادات کا خیال رکھنے کے لئے نکاح نامے میں کچھ نہیں باتیں جوڑنے کی پیشکش کی تھی لیکن عدالت نے اس طرح کی کنٹروورسی میں پڑنے کے بجائے آئین کی روح کی آواز سنی اور اس فیصلہ سے بورڈ کو کچھ سبق لینا چاہئے، سمجھنا چاہئے کہ آئین بالاتر ہے، امید کی جانی چاہئے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مسلم سماج میں ایک نئی بیداری کا سبب بنے گا۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب تک یہ مولوی نہیں مانتے ’طلاق طلاق طلاق‘ جاری رہنے کا امکان ہے۔
(انل نریندر)

24 اگست 2017

9 سال جیل میں رہنے کے بعد کرنل پروہت کو ملی ضمانت

مالیگاؤں دھماکہ کے سرخیوں میں چھاپے معاملہ میں ملزم لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنا بڑا واقعہ اس لئے ہے کہ وہ 9 برسوں سے ضمانت کیلئے جدو جہد کررہے تھے لیکن کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ انہیں مہاراشٹر دہشت گردی انسداد دستہ نے مبینہ طور پر ہندو آتنک واد کا ماسٹر مائنڈ ثابت کرنے کی پرزور کوشش کی تھی۔مالیگاؤں بلاسٹ میں لیفٹیننٹ کرنل پروہت اور سابق میجر رمیش اپسے ویاس ، سوامی دیانند کی گرفتاری کے بعد سے ہی بھگوا دہشت گرد لفظ رائج ہو گیا۔ مرکز میں اس وقت کی کانگریس سرکار نے ہندووادی تنظیموں پر آتنکی واردات میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس وقت وزیر داخلہ رہے پی چدمبرم نے تو 2016 میں ریاسی پولیس سربراہوں کی میٹنگ میں بھگوا آتنک واد سے ہوشیار رہنے تک کی صلاح دی تھی۔ کانگریس اقتدار سے باہر ہوئی تو اس کے خلاف مخالف آوازیں اٹھنے لگیں۔ یہ ہی نہیں کانگریس نیتا دگوجے سنگھ نے تو ممبئی میں 26 نومبر 2008ء کو آتنکی حملہ میں پولیس افسر ہیمنت کرکرے کی موت کے پیچھے بھی ہندو وادی تنظیموں کی سازش بتاڈالا تھا۔ کیونکہ اے ٹی ایس چیف کے طور پر وہ مالیگاؤں دھماکہ کی جانچ کررہے تھے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ہیمنت کرکرے قصاب اینڈ پارٹی کے شکار ہوئے تھے۔ اپریل میں اسی مالیگاؤں بلاسٹ کیس میں سانحہ کی اہم ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرکو بھی ضمانت مل گئی تھی۔ کرنل پروہت کو مشتروط ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے ریمارکس کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ کسی کی ضمانت کی مانگ صرف اس بنیاد پر خارج نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ ایک فرقہ کے جذبات ملزم کے خلاف ہیں۔ کیا پروہت ابھی تک اسی بنیاد پر ضمانت سے محروم رہے؟ حالانکہ ضمانت ملنا بے قصور ثابت ہونا نہیں ہوتا، لیکن پروہت کی ضمانت پر بمبئی ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں جو بحث ہوئی، این آئی اے نے جو دلیلیں دیں و عدالتوں نے جو ریمارکس دئے ہیں ، اس سے فوری طور پر لگتا ہے کہ جیسے ملزمان پر ابھی تک قاعدے سے مقدمہ ہی نہیں چلا ہے۔ این آئی اے کے احتجاج کے باوجود پیر کو بڑی عدالت نے اس سلسلہ میں بمبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے 45 سالہ پروہت کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس آر کے اگروال و جسٹس اے ایم سپرے کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا ضمانت سے صرف اس لئے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک فرقہ کے جذبات ملزم کے خلاف ہیں۔ ممبئی اے ٹی ایس اور این آئی اے کے ذریعے دائر چارج شیٹ میں فرق ہے۔ ٹرائل کی سطح پر دونوں چارج شیٹ کی جانچ کی جائے گی۔ کورٹ کسی ایک چارج شیٹ پر غور نہیں کرسکتی۔ پروہت نے سبھی معاملہ میں ملزم پرگیہ ٹھاکر کو بمبئی ہائی کورٹ میں ضمانت دئے جانے کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی عرضی دائر کی تھی۔ اس معاملہ میں جو تنظیم کٹہرے میں کھڑی ہوئی اور جس کی مدد کے الزام میں سری کانت پروہت گرفتار کیا گیا وہ ابھینو بھارت ہے۔ اس تنظیم کا ساتھ دینے والوں میں ایک دوسرا نام پرگیہ ٹھاکر کا بھی تھا لیکن دھماکہ کرانے کے الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں ضمانت مل گئی۔ ظاہر ہے ا س سے سری کانت پروہت جیسے فوجی اڈوں سے آر ڈی ایکس دھماکو چرا کر پرگیہ ٹھاکر اور ان کے ساتھیوں کو دینے کا الزام اپنے آپ خارج ہوگیا۔ یہ بھی پروہت کے حق میں گیا۔ شروع میں اس معاملہ کی جانچ کرنے والے مہاراشٹر آتنک واد انسداد دستے اور پھر جانچ ہاتھ میں لینے والی قومی ایجنسی کے نتیجے متضاد ہیں۔ مالیگاؤں دھماکہ ایک ایسا کڑوا سچ ہے جس کا پوراسچ ابھی تک نہیں جانتے لیکن ایک بات تو صاف ہے کہ ابتدا سے ہی اس معاملہ کا سیاسی استعمال ہورہا تھا۔ ایک طرف اس کے لئے بھگوا آتنک واد جیسے لفظ گھڑے گئے تھے تو دوسری طرف جانچ ایجنسی کے بیجا استعمال کی دلیلیں بھی دی گئیں۔ سچ جو بھی کو لیکن دہشت گرد جیسے حساس معاملہ پر اس طرح کی سیاست ہو اس سے محض دہشت گردوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں نہ تو مذہب آنا چاہے نہ ہی سیاست کرنی چاہئے۔ اس کے لئے بنی جانچ ایجنسیوں کو پوری طرح آزادی سے جانچ کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی سے جو بھی دیگر معاملہ ہیں ان میں بھی جانچ اور عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے کا کام ترجیحاتی بنیاد پر ہو۔
(انل نریندر)

کیا دہلی کی عدالتوں میں پختہ سکیورٹی کی کمی ہے

دہلی ہائی کورٹ میں بم کی اطلاع نے ایک بار پھر دہلی کی عدالتوں کی سلامتی پر سوال کھڑے کردئے ہیں۔ جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملی۔ فون کرنے والے نے پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دے کر کہا کہ ایک گھنٹے کے اندرکورٹ میں بم پھٹ جائے گا۔ خبر ملتے ہی نئی دہلی پولیس و ہائی کورٹ کی انٹرنل سکیورٹی کو الرٹ کردیا گیا۔ ڈاگ اور بم اسکوائڈ و اسپیشل سیل و قدرتی آفات مینجمنٹ و فائر محکمہ کے علاوہ دیگر بچاؤ ٹیمیں موقعہ پر پہنچ گئیں۔ جیسے ہی کورٹ میں موجود لوگوں کو بم کی خبر لگی تو افراتفری مچ گئی۔ تلاشی کے دوران قریب 30 منٹ کے لئے کورٹ کی کارروائی بھی روکنی پڑی اور کئی گھنٹے چلی تلاشی کارروائی کے بعد اطلاع کو جھوٹا قراردے دیا گیا۔ بتادیں کہ اس سے پہلے ممبئی ہائی کورٹ میں بم دھماکے ہو چکے ہیں،عدالتوں میں کئی بار گولہ باری بھی ہوچکی ہے۔ روہنی، کڑکڑ ڈوما اور پٹیالہ ہاؤس سمیت کئی دیگر عدالتوں میں کئی بار گولیاں چلیں۔ واردات ہوتے ہی سخت سکیورٹی کے وعدے کئے جاتے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں میں حالات پہلے جیسے ہوجاتے ہیں۔ وکیل، عدالتوں میں آنے والے لوگوں کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔ ہائی کورٹ میں سکیورٹی کہنے کو تو سخت ہے لیکن وکیل کی ڈریس میں کوئی بھی دہشت گرد یا شرارتی عناصر عدالت میں پہنچ جائے تو اسے روکنا مشکل ہوگا ۔ بیشک کورٹ کی سکیورٹی میں لگا دہلی پولیس کا اسٹاف عدالت میں جانے والے افراد کی جانچ تو کرتا ہے لیکن وکیل اور ان کے اسٹاف کی جانچ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ کوئی بھی وکیل ڈریس میں آجائے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ تیس ہزاری بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین سنجیو نائر نے مانا کہ کورٹ کی سکیورٹی رام بھروسے ہے۔ ٹرائل کورٹ ہونے کے سبب جہاں یومیہ ملزمان کو پیش کیا جاتا ہے ان کے ساتھ کافی لوگ ہوتے ہیں۔ کچھ دشمن بھی ہوتے ہیں جو بدلہ لینے کی تاک میں رہتے ہیں۔ دہلی کی عدالتوں میں کئی ایسی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ 23 دسمبر 2015ء کی صبح قریب پونے 12 بجے کڑکڑ ڈوما عدالت میں چار حملہ آوروں میں کورٹ روم میں گھس کر ایک بدمعاش عرفان عرف چھینو پر گولیاں برسائیں،30 جنوری 2014 کو کورٹ کمپلیکس کے گیٹ نمبر 5 کے پاس بدمعاش نے فائرننگ کی تھی، اقدام قتل کی کوشش کے ملزم ستیندر عرف گوگی کو کورٹ میں لے جاتے ہوئے ایک لڑکے نے گولی مار دی تھی۔ ان عدالتوں میں جو پارکنگ لاٹ بنے ہوئے ہیں وہ بھی سکیورٹی کی نظر سے محفوظ نہیں ہیں۔ گاڑی میں کوئی بھی گولہ بارو لیکر آسکتا ہے۔ دہلی کی عدالتوں میں بھیڑ رہتی ہے اور یہ اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ آخر پولیس بھی کہاں تک پختہ سکیورٹی بندوبست کرسکتی ہے۔ عدالتوں کی پختہ سکیورٹی انتظام پر سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

23 اگست 2017

کہیں سیلاب سے تباہی تو کہیں خشک سالی سے پریشان

دیش کی کئی ریاستیں اس وقت سیلاب کی مار جھیل رہی ہیں۔ بہار میں سیلاب سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایتوار کو بھی 58 لوگوں کی موت کی خبر آئی۔حالانکہ متاثرہ علاقوں میں پانی گھٹنے لگا ہے جس سے لوگوں کو کچھ راحت ضرور ملی ہے لیکن باند پر پانی کا دباؤ بڑھنے سے سنکٹ بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف مغربی بنگال میں مہانندا ندی میں طغیانی سے پانی نیشنل ہائی وے پر آجانے سے گاڑیوں کے پہیہ رک گئے۔ مالدہ میں حالات بہتر نہ ہونے پر فرقا سے لیکرعمر پور تک قریب 40 کلو میٹر تک ٹرکوں کی قطاریں دیکھی گئیں۔ بہار میں مرنے والوں کی تعداد 350 سے اوپر پہنچ کی ہے۔ مشرقی بہار کوسی اور سیمانچل میں اب تک 188 افراد ڈوب چکے ہیں۔ سب سے زیادہ ارریہ میں تباہی ہوئی ہے۔ یہاں 60 لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ اترپردیش میں کئی جگہ سیلاب کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ گورکھپور میں رابتی ندی کے بڑھتے دباؤ کی وجہ سے منجھریا کے پاس باند ٹوٹ گیا جس سے کئی گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ پانی چھوڑا اور بڑھا تو گورکھپور۔ لکھنؤ ریل راستے پر آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے۔ گنگا جہاں خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی ہے وہیں گھاگرا نے اپنی دائرہ ساحلوں سے آگے بڑھا دیا ہے۔ بلیا، مؤ ، اعظم گڑھ میں گھاگرا ندی میں پانی کا قہر جاری ہے۔ ریاست میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے سبب کل16 لوگوں کی موت کی خبر ہے ان میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے جس سال مانسون آدھا گزرجانے کے بعد بھی دیش کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے میں کم بارش ہوئی ہے ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق دیش بھر میں ہوئی بارش کو ملا کر پانچ فیصد کم بارش ہوئی ہے لیکن دیش کے 26 فیصد جغرافیائی حصہ میں یہ کمی زیادہ ہے۔ محکمہ کے مطابق بارش کی یہ کمی مدھیہ پردیش، کیرل، مہاراشٹر، کرناٹک اور مغربی اترپردیش کے حصوں میں زیادہ ہے۔محکمہ موسمیات نے سال 2017ء کے لئے عام طور پر ساؤتھ اور ویسٹ میں مانسون کا اندازہ ظاہرکیا تھاجو جون سے ستمبر تک رہتا ہے۔ کم بارش والی ریاستوں میں خریف کی فصلوں کی بوائی متاثر ہوئی ہے۔ مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ پردیش کے مشرقی علاقہ میں بارش کی کمی رہی ہے۔ کیرل کے کچھ حصوں میں لگاتار دوسرے سال کم بارش ہوئی ہے۔ وہیں کچھ ریاستیں خاص کر اترپردیش ، بہار، آسام اور گجرات کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور ودربھ علاقوں میں 32 فیصدی کم بارش درج کی گئی۔ ان علاقوں میں خشک سالی کی وجہ سے پچھلے کچھ برسوں میں کئی کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ ہریانہ میں 27 فیصدی ، دہلی میں 39 فیصدی، گووا میں 25فیصدی، ناگالینڈ میں 30 فیصدی اور منی پور میں 57 فیصدی کم بارش ہوئی ہے۔ یہ بدقسمتی ہی کہئے کہ کہیں سیلاب سے تباہی تو کہیں خشک سالی سے پریشانی پیداہوئی ہے۔
(انل نریندر)

انفوسس میں سی ای او سکہ کے استعفیٰ سے آیا زبردست زلزلہ

دیش کی دوسر سب سے بڑی انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنی انفوسس میں جاری اتھل پتھل نے صرف کمپنی کے اندر ہی زلزلہ لا دیا ہے بلکہ دیش کے شیئربازار میں بھی بھاری ہلچل مچادی ہے۔ این آر نارائن مورتی کی رہنمائی میں انفوسس کے پرموٹروں اور کمپنی کے سی ای او وشال سکہ کی قیادت میں ڈائریکٹربورڈ کے درمیان ٹکراؤ پچھلے ایک سال سے جاری تھا لیکن حال ہی میں مورتی کے ایک ای ۔میل نے اس کشیدگی کو انتہا پر پہنچادیا۔ جس کو میڈیا میں بھی لیک کردیا گیا۔ جس سے حالات اور خراب ہوتے چلے گئے۔ آخر کار وشال سکہ نے جمعہ کے روز استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے چلتے کمپنی کے شیئروں میں تیزی سے گراوٹ آئی اور ایک دن میں سرمایہ کاروں کے 30 ہزار کروڑ روپے ڈوب گئے۔ کمپنی میں3.44 فیصدی کی حصہ داری رکھنے والے نارائن مورتی پریوار کو بھی 1 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ استعفیٰ کے پیچھے تین چار وجہ بتائی جاتی ہیں۔ سکہ کے پیکیج پر نارائن مورتی کو شروع سے ہی اعتراض تھا۔ 1 اگست 2014ء کو وشال سکہ نے سی ای او کا عہدہ سنبھالا تھا۔2016ء میں سکہ کا مالی پیکیج 70 ہزار کرور کرنے پر مورتی کو اعتراض تھا۔کمپنی نے بتایا یہ پیکیج پرفارمینس سے جڑا ہے۔ اس دوران کمپنی کا ریوینیو15 ہزار کروڑ روپے تک بڑھا۔ سابق سی ای او راجیو بنسل کو سروس پیکیج 17.38 کروڑ روپے یعنی وشال سکہ کی سیلری جتنا تھا۔ الزام لگا اسرائیلی کمپنی پنامہ زیادہ قیمت پر لی۔ اس میں کمپنی کے حکام کے مفادات ہیں۔ وزیر جے انت سنہا کی بیوی کو ڈائریکٹر بنانے پر بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ یورو سکہ تنازعہ ٹاٹا۔ مستری جیسا ہی ہے۔ رتن ٹاٹا سے جھگڑا کر گروپ نے 2016ء میں پہلے غیر ٹاٹا چیئرمین سائرس مستری کو ہٹا دیا تھا۔ انفوسس کے بانی سی ای او سکہ کو بھی مورتی سے جھگڑے میں استعفیٰ دینا پڑا۔ وشال سکہ کا 2014-15ء میں 4.56 کروڑ روپے کا سالانہ تنخواہ کا پیکیج تھا جو 2015-16ء میں 48.73 کروڑ روپے تک کردیا گیا تھا۔ 2016-17ء میں کم بونس کی وجہ سے سکہ کا پیکیج گھٹ گیا تھا۔ کیش کمپونینٹ 2015-16 کے 42.73 کروڑ روپے سے 66 فیصد گھٹا کر 16.01 کروڑ روپے رہ گیا۔ بونس اور اسٹاف ملا کر انہیں 45.11 کروڑ روپے ملے جو پچھلے سال کے مقابلہ میں 7 فیصد کم ہیں۔ تین سال پہلے کمپنی کا کام سنبھالنے والے وشال سکہ دیش کے سب سے زیادہ تنخواہ سالانہ48 کروڑ سے زیادہ پانے والے سی ای او تھے۔ وہ کمپنی کے پہلے ایسے سی ای او تھے جو بانیوں کے گروپ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی 50 سالہ سکہ نے ڈائریکٹر بورڈ کو اپنے خط میں کہا کہ کچھ عرصے سے میں خود پر لگائے جا رہے جھوٹے ، بے بنیاد اور بدقسمتی پر مبنی الزامات سے دکھی ہوں۔ حالانکہ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اشارہ نارائن مورتی کی طرف ہے۔ سکہ نے کہا میرے خلاف لگائے گئے سبھی الزامات کئی بار عدالت میں غلط پائے گئے۔اس کے باجود شخصی حملے بند نہیں ہوئے ہیں۔مجبور ہوکر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ادھر کمپنی کو فاؤنڈر این آر نارائن مورتی نے کہا کہ وہ کمپنی کے ڈائریکٹر بورڈ کے ذریعے ان پر لگائے گئے الزامات سے دکھی ہیں لیکن وہ صحیح وقت پر جواب دیں گے۔ انفوسس کمپنی اب آئے دن اس بھونچال کا ڈیمیج کنٹرول کرنے میں لگ گئی ہے۔ کمپنی کے ڈائریکٹر منڈل نے سنیچر کو 13 ہزار کروڑ روپے تک کے شیئروں کو پھر خریدنے کے پلان کو منظوری دے دی ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا دوبارہ خرید کے لئے فی شیئر1150 روپے کا بھاؤ طے کیا گیا ہے۔ یہ بھاؤ کمپنی کے جمعہ کو بازار بند ہونے کے 923.10 روپے کے بھاؤ سے قریب 25 فیصدی زیادہ ہے ۔ ادھر امریکہ کی چار قانونی کمپنیوں نے انفوسس کے خلاف جانچ شروع کردی ہے۔ انہوں نے انفوسس کے سرمایہ کاروں کی طرف سے ان امکانی دعوؤں کی بھی جانچ شروع کی ہے کہ کیا کمپنی یا اس کے حکام یا ڈائریکٹروں نے فیڈریشن سکیورٹی قواعد کی خلاف ورزی کی ہے؟
(انل نریندر)

22 اگست 2017

چین جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن کیا وہ حملہ کرے گا

پچھلے دو مہینے سے بھوٹان کی ڈوکلام سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال جاری ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ اس پورے پس منظر میں بھوٹان کا کیا موقف ہے؟ آخر کیا ہے ڈوکلام کی فوجی اہمیت؟ بھوٹان اور بھارت کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہے جس کے تحت اقتصادی اور فوجی سطح پر دونوں دیش ساتھ ہیں۔ ڈوکلام سرحد پر چین کے ذریعے سڑک بنانے کو لیکر بھوٹان نے اپنا اعتراض جتایا ہے۔ بھوٹان اور چین کے مابین سفارتی رشتے نہیں ہیں۔ وہیں بھارت اور بھوٹان کے درمیان کافی گہرے تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان 1949ء میں’ فرینڈ شپ ٹریٹی‘ ہوئی تھی اس کے تحت بھوٹان کو اپنے خارجی رشتوں کے معاملے میں بھارت کو بھی شامل کرنا ہوتا تھا۔ 2007ء میں اس معاہدے میں ترمیم ہوئی تھی۔ کیا بھوٹان اور بھارت کی قریبی چین کو کھٹکتی ہے؟ چین نے بھوٹان کے ساتھ سرحدی تنازعہ سلجھانے کی کوشش کی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس میں بھارت شامل نہ ہو۔ حالانکہ اس معاملہ میں بھوٹان نے صاف کہا کہ جو بھی بات ہوگی وہ بھارت کی موجودگی میں ہوگی۔ 1949ء میں بھارت اوربھوٹان کے مابین جو فرینڈشپ سمجھوتہ ہوا تھا اس میں 2007 میں ترمیم کی گئی تھی۔ ترمیم سے پہلے اس سمجھوتے میں تھا کہ بھوٹان سبھی طرح کے خارجی تعلقات کے معاملے میں بھارت کو مطلع کرے گا۔ ترمیم کے بعد اس میں جوڑا گیا کہ جن خارجی امور میں بھارت سیدھے طور پر وابستہ ہوگا انہی میں سے اسے مطلع کیا جائے گا۔ چین کو یہ معاہدہ کھٹکتا ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بھوٹان اور بھارت کے درمیان کی دوستی کو اور قریب لانے میں اس معاہدے کا بڑا اہم اشتراک رہا ہے۔ بھارت اور بھوٹان کے درمیان یہ معاہدہ چین کو ہمیشہ چبھتا رہا ہے۔ بھوٹان اور چین کے مابین جو بات چیت ہے اس میں بھارت کا کوئی لیگل رول تو نہیں ہے حالانکہ بھارت کا مفاد متاثر ہوگا اور اس میں بھوٹان کو بھارت کو مطلع کرنا ہوگا۔ چین اور بھوٹان کے درمیان مغرب اور شمال میں قریب 470 کلو میٹر لمبی سرحد واقع ہے۔ دوسری طرف بھارت اور بھوٹان کی سرحد مشرق، مغرب اور جنوب میں 605 کلو میٹر ہے۔ ڈوکلام ٹرائی جنکشن پر چینی فوج کی موجودگی کو ہندوستانی فوج نے تین طرف سے گھیر رکھا ہے۔ تینوں سمتوں میں ہندوستانی فوج چینی فوج کے مقابلہ اونچائی پر ہے۔ اس فوجی اضافے نے ڈوکلام میں چین کو الجھا دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین بھلے ہی بار بار جنگ کی دھمکی دے رہا ہے، لیکن اس کے لئے کسی بھی فوجی کارروائی کی راہ آسان نہیں ہے۔ فوجی امور پر حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ ڈوکلام میں ہی نہیں پوری کنٹرول لائن (ایل او سی) پر چین کو کسی کارروائی کے لئے بڑی تیاری کرنی ہوگی۔ اروناچل کے بھی کچھ علاقوں کو چھوڑ پوری ایل او سی پر ہندوستانی فوج کی فوجی پوزیشن مضبوط ہے چین اس سے بھی پڑیشا ہے۔بڑے وسائل والا دیش ہونے کے باوجود اسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت نہیں مل رہی ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا کے بعد جاپان میں بھارت کے موقف میں کھڑ ے ہوکر چین کے لئے پریشانی بڑھا دی ہے۔ حکمت عملی سازوں کے مطابق اگر چین بھارت پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے ہر ہندوستانی فوجی کے لئے اپنے کم سے کم 9 فوجی جوان لگانے ہوں گے۔ روایتی جنگ قواعد کی مانیں تو حملہ آور فوج کو دشمن کے مقابلہ 9سے12 گنا زیادہ وسائل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ چین کے پاس وسائل کی بیشک کمی نہ ہو لیکن اس کی تیاری میں اسے لمبا وقت لگے گا۔ جب تک چین 100 فیصدی جیت باآور نہیں ہوگا، حملہ نہیں کرے گا۔ پاکستان اور نارتھ کوریا کے علاوہ کوئی بھی دیش چین کے ساتھ کھڑا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین طرح طرح کی دھمکیاں دے کر دباؤ بنانے کی کوشش میں ہے۔
(انل نریندر)

نجی اسکولوں کی فیس بڑھانے کی نہ تو مجبوری ہے اور نہ ہی کوئی تُک

راجدھانی دہلی میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کے اشو پر اسکول انتظامیہ اور دہلی سرکار آمنے سامنے ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں فیس اضافہ کے معاملے میں دہلی حکومت نے اسٹینڈ لے لیا ہے۔ وزیراعلی اروند کیجریوال نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ حکومت کا نجی اسکولوں کا زبردستی ایکوائر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ لیکن انہیں زیادہ وصولی گئی فیس والدین کو واپس کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے حکومت راجدھانی کے سبھی پرائیویٹ اسکولوں کا کھاتہ چیک کرے گی۔ سرکار کی کوشش یہ پتہ کرنے کی ہوگی کہ عدالت کے حکم پر اسکولوں نے والدین کو فیس لوٹائی ہے یا نہیں۔ جمعہ کے روز نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ اسکولوں کے خلاف آنے والی شکایتوں کو سرکار سنجیدگی سے لے رہی ہے۔جلد ہی اسکولوں کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔ وزیر اعلی کیجریوال نے کہا کہ ان اسکولوں نے چھٹے پے کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کے لئے فیس بڑھائی ہے۔ بعد میں یہ مانا گیا تھا کہ یہ اضافہ جائز نہیں تھا اور ان اسکولوں کو فیس واپس کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے فیس نہیں لوٹائی۔ کیجریوال نے کہا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ بتادیں دہلی ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کے کھاتوں کی جانچ کے لئے دگل کمیٹی بنائی تھی۔ سال2009ء میں فیس اضافے کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی اس پر 12 اگست 2011 کو ہائی کورٹ نے جسٹس انل دیو کمیٹی بنا کر سبھی پرائیویٹ اسکولوں کی فیس صحیح ہے یا غلط اس کی جانچ کرنے کو کہا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2004ء میں ماڈرن اسکول بنام حکومت ہند کے معاملے میں دہلی سرکار کے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کو سبھی سرکاری و غیر سرکاری زمین پر بنے پرائیویٹ اسکولوں کے کھاتوں کی ہر سال جانچ کرانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اسکولوں کے خلاف منمانی کرنے کی قانونی لڑائی 20 سال پہلے شروع ہوئی تھی۔ دہلی پرینٹس فیڈریشن نے 8 ستمبر1997 ء کو ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ ان کی عرضی پر ہائی کورٹ نے اکتوبر 1998 میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسکولوں کے کھاتوں کی جانچ کرنا نہ صرف سرکار کا حق ہے بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بتایا کہ انل دیو کمیٹی نے 1108 نجی اسکولوں کا اکاؤنٹ چیک کیا تھا ان میں سے 544 اسکولوں نے طے قواعد کی خلاف ورزی کر زیادہ فیس لی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے فیس لوٹانے کا حکم دیا تھا۔ 544 اسکولوں میں سے 95 الگ الگ کیٹگری کے ہونے کی وجہ سے باہر ہوگئے۔ اس کے بعد بچے449 اسکولوں کو وجہ بتاؤ نوٹس دیا گیا۔ وہیں اروند کیجریوال نے کہا کہ ایک اسکول ایسا ملا جس کے پاس 19 کروڑ روپیہ کا فاضل سرمایہ ہے۔ ایک دوسرے اسکول کے پاس 5 کروڑ روپے کا ملا۔ ایسے میں فیس بڑھانے کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ ہی تُک۔
(انل نریندر)

20 اگست 2017

ٹرینوں میں بڑھتاعدم تحفظ: آئے دن مسافروں سے لوٹ مار

میرا بھارت مہان میں ریل گاڑی سے سفر کرنے والے مسافر کہیں بھی محفوظ اب نہیں رہے۔ نہ اسٹیشن کے اندر اور نہ ہی ٹرینوں کے اندر۔ راجدھانی کے اہم ترین نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھی پچھلے مہینے چھینا جھپٹی اور بچہ کے اغوا جیسی وارداتوں کو انجام دیا گیا۔ بیحد محفوظ مانے جانے والی ٹرین راجدھانی کے ایئر کنڈیشن ڈبوں میں اب تک کی سب سے بڑی چوری کی خبر آئی ہے۔ ممبئی سے دہلی آرہی اگست کرانتی راجدھانی ایکسپریس میں بدمعاشوں نے7 ایئر کنڈیشن کوچ کے مسافروں کو بے ہوش کرکے لاکھوں روپئے کی نقدی اور زیور ،گھڑیاں اور موبائل پر ہاتھ صاف کردیا۔ یہ واردات مدھیہ پردیش کے رتلام کے پاس ہوئی۔ بدمعاشوں نے راجدھانی کے اے سی۔2 اور اے سی ۔3 ٹیئر کوچ کو نشانہ بنایا۔ واردات کو دیررات 2سے3 بجے کے درمیان انجام دیاگیا۔ قریب 25 مسافروں نے پرس ،زیور اور دیگر بیش قیمتی سامان لوٹے جانے کی بات کہی ہے۔ڈی سی پی (ریلوے) پرویز احمد کے مطابق منگلوار۔ بدھوار کی رات واردات کو انجام دیاگیا۔ کچھ مسافروں کی مطابق اسی ٹرین میں ایک دو دن پہلے بھی چوری ہوئی تھی لیکن واردات کو دبا دیا گیا۔ ایک سینئرافسر سے بھی اس معاملہ میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ اگر کوئی ریلوے ملازم اس میں شامل پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ نظام الدین ریلوے اسٹیشن پر 11 مسافروں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ان کے مطابق ٹرین کے کوٹہ پہنچنے پر جاگنے پر کچھ مسافروں نے پایا کہ ان کے پرس ، سامان اور دوسری چیزیں غائب ہیں۔ڈھونڈنے پر خالی پرس ٹائلٹ کے پاس پڑے ملے اور کچھ کا کہنا ہے کہ ان کے آئی فون ،دوسرے الیکٹرانک سامان بھی غائب ہیں۔ بہتوں کے آدھار کارڈ اور دوسرے اہم ترین دستاویز بھی چوری ہونے کی شکایت کی گئی۔ درج ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ انہیں بے ہوش کردیا گیا تھا۔ بہت سوں نے اس واردات میں ریلوے اسٹاف کے شامل ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ راجدھانی جیسی پریمیم ٹرینوں کو بھی بدمعاش لگاتار نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگست کرانتی ایکسپریس سے پہلے اپریل میں واردات راجدھانی ایکسپریس ٹرین میں بھی بہار کے بکسر کے پاس ہوئی تھی۔ اس واردات میں 3 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ابھی حال میں ہی اندور انٹر سٹی ایکسپریس میں ایک خاتون سمیت چار بچیوں سے چھینا جھپٹی کی واردات کو انجام دیا گیا۔ دہلی ریل منڈل میں ہی اس سال جون تک چوری کی تعداد 1225 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کی کل وارداتیں 2878 ہوئیں تھیں۔ جون کے مہینے تک بدمعاشوں نے ایک درجن ٹرینوں میں لوٹ مار کی ہے۔ اس سال تین ٹرینوں میں ڈکیتی بھی پڑی ہے اور چار مسافروں کے قتل کا بھی معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ریل مسافروں کی سلامتی کے مقصد سے ایک سینٹرل فورس فوراً بنانے کی ضرورت ہے جس کے پاس چوروں اور لٹیروں سے نمٹنے کے لئے زیادہ اختیارات ہوں۔ عرصے سے ایسی مانگ ہوتی رہی ہے لیکن اپنی لاپرواہی پر لیپا پوتی کرکے ریل وزارت اور جی آر پی جیسی مشینری اس کی تشکیل میں روڑا اٹکاتی رہی ہیں۔ ہندوستانی ریل کو دھیان رکھنا ہوگا کہ اس کی خوبی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی وسیع ترین ریل نیٹ ورک کو ٹھیک ٹھاک طریقے سے چلاتی ہے بلکہ یہ بھی ہونی چاہئے اس کی ٹرینوں میں سفر ہر طرح سے محفوظ ہو۔ ریل وزارت کرایہ بڑھاتی جارہی ہے اور سہولیت بڑھانا تو دور مسافروں کے سفر میں سکیورٹی تک دینے میں نا کام ہورہی ہے۔ وزیر ریل سریش پربھو ایک سنجیدہ شخص ہیں امید کی جاتی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کرکے فوری کوئی پائیدار حل نکالیں گے۔
(انل نریندر)

اب تک اچھوتا رہا اسپین دہشت گردی کا شکار بنا

یہ سبھی کو معلوم ہے کہ خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے نشانے پر یوروپ ہے پچھلے کچھ عرصہ سے یوروپ کے مختلف ملکوں میں آئی ایس حملے کررہا ہے۔ تازہ معاملہ اسپین کا ہے۔ اسپین میں کچھ ہی گھنٹے کے فرق میں مسلسل دو آتنکی حملہ ہوئے۔ جمعرات کو شام 4:50 منٹ پر ایک سفید وین نے تیزی سے گاڑی چلاتے ہوئے سڑک کے کنارے کھڑے لوگوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ اس حملہ کی زد میں 18 دیشوں کے شہری آگئے۔ ان میں جرمنی، رومانیہ، اٹلی، الجزائر اور چین جیسے دیش شامل ہیں۔ یہ حملہ بارسلونا کے مشہور ٹورسٹ مقام لاس انبلاس میں ہوا۔ جو بارسلونا شہر کے سینٹر میں واقع ہے۔ 1.2 کلو میٹر لمبا راستہ ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مراکش میں پیدا ہوئے ایک شخص اور نارتھ افریقہ میں جنم لئے شخص کو گرفتار کیا ہے۔ نام نہاد اسلامک اسٹیٹ نے اس حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ پچھلے ایک سال میں یوروپ میں کئی شہروں میں بھیڑ کے دوران گاڑی چڑھانے یا دوڑانے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ پیرس میں بھی 9 اگست 2017 ء کو ایک شخص نے کچھ فوجیوں پر ڈی ایم ڈبلیو گاڑی دوڑادی۔ اس میں 6 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ لندن میں 3 جون2017 کو تین جہادیوں نے لندن پل پر لوگوں پر وین چڑھادی اور کئی لوگوں پر چاقوسے حملہ کیا۔ ماہ جون میں بھی فن سبری پارک میں مسلمانوں پر ایک وین چڑھانے کے واقعہ میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی۔ 22 مارچ 2017 کو ویسٹ مسیسر برج پر لوگوں پر ایک گاڑی چڑھادی گئی اور کار ڈرائیور نے ایک پولیس والے کو چاقو سے وار کرکے مار ڈالا تھا۔ برلن کے کرسمس بازار میں بھیڑ کو نشانہ بنایا گیا۔ فرانس کے شہر نیس میں 14 جولائی 2016 کو تیونس نژاد محمد لائبیز نے ایک تقریب کے دن آتش بازی دیکھنے کیلئے پہنچی بھیڑ میں ایک لاری کو گھسادیا جس میں 86 لوگوں کی کچل کر موت ہوگئی۔ بھیڑ پر گاڑی چڑھانے کے واقعات کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسپین کے ساحلی شہر کیمبلس میں کچھ دیگر مشتبہ نے اسی طرح کے واقعہ کو انجام دینے کی کوشش کی لیکن پولیس نے حملہ ناکام کرتے ہوئے مڈ بھیڑ کرکے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو مار گرایا۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ یہ حملہ بارسلونا میں ہوئے حملے کا ہی حصہ تھا۔ ادھر اسپین کے وزیراعظم نے تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسے جہادی حملہ قرار دیا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ نے یوروپ کے شہروں میں تین حملہ کئے ہیں لیکن پچھلی دہائی میں یوروپ میں ہوئے آتنکی حملوں سے اسپین اب تک اچھوتا رہا تھا۔ اسپین کی راجدھانی میڈرڈ میں آخری حملہ مارچ 2004 میں ہوا تھا۔ اس وقت ٹرین میں ہوئے دھماکوں میں 194 لوگ مارے گئے تھے اور 180 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اب اسپین بھی نشانے پر آگیا ہے۔ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...