Translater
09 دسمبر 2023
کڈنی (گردے )بیچنے کا ریکٹ!
ایک بار پھر ناجائز طریقہ سے کڈنی کی خرید فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے اور ایک بار پھر اس معاملے سے اپولو اسپتال تنازعات میں گھر گیا ہے۔حلانکہ کڈنی ٹرانس پلانٹ سسٹم کو فول پروف بنانے کے لئے سخت قانون بنائے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ جال سازی کا سلسلہ جاری ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے غلط کاغز پیش کر جانچ کمیٹی کو چکمہ دیا جا سکتا ہے کیوں کہ غلط کاغزات کو ویری فائی کرنے کا طریقہ سبھی جگہ نہیں اپنایا جاتا اور آج کل یہ اور بھی آسان ہو گیا ہے کیوں کہ فوٹو شاپ کے ذریعہ فرضی دستاویز تیار کرنا آسان ہو گیا ہے ۔صفدرجنگ اسپتال کے کڈنی ٹرانس پلانٹ سرجن ڈاکٹر انوپ کمار کہتے ہیں کے قانون تو بہت سخت ہیں لیکن ایک جگہ جہا پر جال سزی کی جا سکتی ہے وہ ہے فرضی دستاویزارات یہ صحیح ہیں یا نہیں ویری فائی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ہم لوگ بہت سخت طریقہ اپناتے ہیں جو بھی کاغزات پیش کئے جاتے ہیں انہیں آن لائن چیک کرتے ہیں اور ان کی 2-3 مرتبہ جانچ کراتے ہیں آدھار کارڈ سے لیکر بلڈ تک کی جانچ رپورٹ چیک کرتے ہیں ۔اگر مریض ملک سے باہر کا ہے تو اسی سے پوچھتے ہیں اور کراس چیک کرتے ہیں ۔اب اگر امبیسی ہی غلط پیپر دے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔وہیں فوٹیز اسپتال شالی مار باغ کے ےورولوجی اور کڈنی ٹرانس پلانٹ ےونٹ کے ہیڈ ڈاکٹر وکاس جین نے کہا کے غلط دستاویزارات پیش کرتے ہی جھانسہ دیا جاتا ہے اگر کسی مریض کی بہنیں ڈونر ہیں تو پہلے یہ لوگ فرضی بہن کا آدھار کارڈ ووٹر کارڈ پاسپورٹ تیار کرا لیتے ہیں ۔ایچ ایل اے نمونہ ملان کی رپورٹ کی جانچ ہوتی ہے ۔اس لئے رپورٹ مریض کی اسلی بہن کی لگا دی جاتی ہے جس سے لگتا ہے کے ڈونر پہن ہی ہے ۔اب کمیٹی کے پاس کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے جسے وہ ویری فائی کرے ۔حلانکہ انہوںنے کہا کے یہاں تھرڈ پارٹی ایجنسی ہائر کی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ ان کاغزوں کو ویری فائی کروایا جاتا ہے ۔یہ مہنگا ہے لیکن ضروری ہے ہر اسپتال یہ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جین کاکہنا تھا ڈمانڈ اور سپلائی میں بڑا فرک ہے اگر 100 مریض ہے تو کڈنی ڈونر صرف 10% ہیں کوئی بھی سینٹر ایک ضابتے سے کہیں زیادہ ٹرانس پلانٹ کرتا ہے تو اس پر دھیان دےنا چاہئے اور جانچ ہونی چاہئے تاکہ اس طرح کی جال سازیوں پر لگام لگ سکیں بتا دیں لندن کے اخبار دا ٹیلی گراف نے اپولو اسپتال پر انٹر نیشنل کڈنی راکٹ میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے اس نے دعویٰ کیا ہے کے میامار کے غریب لوگوں سے کڈنی خرید کر مریضوں میں لگائی جا رہی ہے اس کا دعویٰ ہے کے اس کے رپوٹر کو میامار کے دلال نے ہیلٹھ کے ساتھ کڈنی اور انسانی عضاءکے ناجائز طور سے خریدکئے جانے کی جان کاری دی ہے فرضی کاغزات اور فوٹو وغیرہ کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کے عضاءڈونیٹ کرنے والا مریض کا رشتہ دار ہے ۔قانون کے مطابق بھارت میں عام حالات میں مریض ناواقف سے کوئی عضاءنہیں لے سکتا ہے دہلی سرکار نے پوری معاملے کی جانچ کرانے کی بات کہی ہے ۔
(انل نریندر)
کانگریس کو اپنوں نے ہی ڈبایا !
ٹھیک لوک سبھا چناﺅ سے پہلے کانگریس کو 4 میں سے 3 ریاستوں میں ہار کا منھ دیکھنا پڑا 2024 کے اہم چناﺅ سے پہلے یہ نتیجے معنٰی رکھتے ہیں ۔ہندی بیلٹ کی ریاستوں مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں بھاجپا نے کانگریس کو کراری شکست دی ہے کانگریس کو ایک بار پھر محاسبہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ہار کے اسباب پر غور کرنے کے لئے پارٹی جلد ریاستی سطح پر جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ہار کو لیکر پارٹی کے کے اندر الگ الگ رائے ہے لیکن زیادہ تر لیڈر اس بات پر متفق ہیں کے پارٹی ہندی زبان بولنے والے ووٹروں کی نبض پکڑنے میں نکام رہی ہے اب اس ہار سے اس ہندی بیلٹ میں کانگریس تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔شمالی ہندوستان میں پارٹی کی صرف ہماچل پردیش میں سرکار ہے ،ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے ۔سال 1998 میں جب کانگریس صدر کے طور پر سونیا گاندھی نے ذمہ داری سنبھالی تھی تب پارٹی صرف ایک یندی ریاست سمیت 3 ریاستوں میں اختدار میں تھی ۔مدھیہ پردیش اڈیسہ اور میزورم میں اس کی حکومت تھی کانگریس کی ہار کی ایک اہم وجہ سینئر لیڈروں میں گروپ بندی اور تالمیل میں کمی مانی جا رہی ہے ۔ساتھ ہی بھاجپا نے مضبوط تنظیم کے ذریعہ بھی کانگریس کی حکمت عملی کو بے اثر کر دیا ٹکٹ بٹوارے کے بعد کانگریس کے باغیوں نے جو جنوتی پیش کی پارٹی لیڈر شپ اس سے مقابلہ نہیں کر پائی ۔کانگریس ہائی کمان نے مدھیہ پردیش میں پارٹی صدر کمل ناتھ ،چھتیس گڑھ میں وزیراعلیٰ پھوپیش بگھیل اور راجستھا ن میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کو کھلی چھوٹ دینے پر منمانی کرنے دی ان تینوں ریاستوں میں نتیجوں کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔چھتیس گڑھ کی ہار کی وجہ کانگریس کے ہاتھ سے وہ ریاست نکل گئی ہے جو پارٹی کو وسائل دستیاب کرانے میں سب سے آگے رہتی تھی اور اس کو بھی زیادہ چھوٹ دے دی گئی ۔مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی جس کچن کبینیٹ کی وجہ سے وہ پارٹی نیتاﺅ سے دور رہے ہیں یہی ایک وجہ سے ریاست میں پارٹی کو چلا رہی تھی اسی نے امیدواروں کے انتخاب میں بھی دخل اندازی کی اور اپنے ٹھنگ سے تنظیم چلائی جب مرضی ہوئی انچارج بدل دیا ۔کمل ناتھ نے از خود وزیراعلیٰ اعلان کر دیا ۔ہائی کمان چپ رہ کر تماشائی بنا رہا ۔مدھیہ پردیش میں کئی مہینوںسے اختدار مخالف لہر چل رہی تھی لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی ۔کمل ناتھ نے کانگریس کو تو ہر وایا ہے ساتھ ہی راہل گاندھی کو بھی چت کر وا دیا ۔راجستھان میں مفت علاج جیسی راغب کرنے والی اسکیموں کی وجہ سے ہی وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے چناﺅ میں واپسی کی تھی ۔حالانکہ وزیروں اورممبرانے اسمبلی کے خلاف اختدار مخالف شروع سے کانگریس پر بھاری پڑ رہی تھی پھر بھی گہلوت نے اپنے حمایتیوں کو دباﺅ ڈال کر کے ٹکٹ دل وائے ۔جب سونیا گاندھی کانگریس صدر تھی تب ان کی ہدایت پر ڈسیپلن توڑنے والے وزیر شانتی دھاریوال کو پارٹی ٹکٹ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن گہلوت نے ذبر دستی دلوایا گہلوت سے راجستھان میں کانگریس کو اپنے ڈھنگ سے چلائے جانے کا الزام ہے انہوںنے باغی لیڈر سچن پائلٹ سے کبھی سلح نہیں کی ۔سچن اور گہلوت میں سمجھوتہ کرواکر راہل نے بہت کوشش کی لیکن یہ دوستی ظاہر ہی تھی لیکن اندر خانے لڑائی جاری رہی ان کے حمائتی کہتے تھے اگر کانگریس چناﺅ میں کامیاب ہو جاتی تو گہلوت کو فائدہ ہوگا اور ہاری تو پائلٹ کو ۔اب دیکھنا یہ ہے کیا کانگریس ہائی کمان ان حالات پر سنجیدگی سے غور کرتا ہے یا لپا پوتی؟پکی پکائی فسل کو کاٹنے میں ایک بار پھر کانگریس ناکام رہی ۔راہل گاندھی کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔
(انل نریندر)
07 دسمبر 2023
کانگریس کی ہار انڈیا اتحاد کے لئے جھٹکا !
مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان اسمبلی انتخابات کے نتیجے سے اپوزیشن پارٹیاں کے انڈین الائنس اتحاد کے وجود پر سوال اٹھنے لگا ہے ان انتخابات کو 2024 میں لوک سبھا چناﺅں کا سیمی فائنل مانا جا رہا تھا ۔جس میں کامیابی حاصل کرنے اور بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کے ارادے سے 28 پارٹیوں نے اتحاد انڈیا بنایا کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے انڈیا میں شامل پارٹیوں کی میٹنگ 6 دسمبر کو بلائی تھی اور اس میں چناﺅ ں نتائج پر غور ہونا تھا اب اس میٹنگ کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ سوال کھڑے ہو رہے ہیں کے ان نتیجوں کا اس اتحاد اور اس کے مستقبل پر کیا اثر پڑیگا؟ ایسا اس لئے بھی کیوں کہ نتیجوں کے بعد انڈیا کی اتحادی پارٹیوں نے کانگریس کے رویہ پر سوال اٹھائے ہیں ۔نیشنل کانگریس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے کانگریس پر تنقید کی ہے اور کہا کانگریس نے چناﺅ کے دوران دو باتیں کی تھی وہ کھوکلی ثابت ہوئی اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا کانگریس صدر نے کہا چلئے 3 مہینے بعد انہیں ہم یاد تو آئے اسی طرح جے ڈی ےو نے بھی کانگریس پر تنز کیا پارٹی کے ترجمان کے سی تیاگی نے کہا ان انتخابات میں اپوزیشن کے طور پر انڈیا کہی بھی نہیں تھا اور نا ہے اور تاریخی طور پر سوشلسٹ پارٹیاں ان ریاستوں میں تھی لیکن کانگریس نے کبھی انڈیا اتحاد کے اپنے دوسرے ساتھیوں سے نا صلح لی اور نا ان سے رائے لی ترنمول کانگریس کے ترجمان کنال گھوش نے کہا ان ریاستوں کے نتیجے بھاجپا کی جیت سے زیادہ بھاجپا کی کامیابی کو کانگریس کی ناکامی کو زیادہ دکھاتی ہیں انہوںنے کہا کے پارٹی صدر ممتا بنرجی کو اپوزیشن اتحاد کا چہرا بنایا جا چاہئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں گھوش کا کہنا تھا کے ٹی ایم سی ہی ایسی پارٹی جو بھاجپا کو ہرا سکتی ہے کچھ ماہرین کی رائے ہے یہ اچھا ہوا کے کانگریس یہ چناﺅ ہاری اس کا اس سے غرور ٹوٹے گا 2024کے لوک سبھا چناﺅ میں سیٹوں کے بٹوارے میں اب کانگریس حاوی ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اسے سیٹوں کا تال میل کرنا ہوگا وہیں جترویدی کا کہنا تھا کے کانگریس کو اس پر غور کرنا چاہئے کے بھاجپا سے سیدھے مقابلے میں سے کمی کہا رہ گئی یہ انڈیا اتحاد کی نہیں بلکہ کانگریس کی ہار ہے کیرل کے وزیراعلیٰ پی وجین کانگریس کے تئیں کچھ زیادہ ہی سخت نظریہ رکھتے ہیں انہوںنے کہا کے کانگریس نے پہلے ہی سوچ لیا وہ جیت چکی ہے اور اسے ہرایا نہیں جا سکتا یہی خیال اس کے زوال کا سبب بنا ۔کانگریس نے ان چناﺅ میں ایک موقع غوایا ہے ان انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کا ساتھ لینے اور ایک سیاسی تبدیلی کی پہل کی جا سکتی تھی ۔جس سے انڈیا کے مشن کو مضبوطی ملتی ۔اتحاد بننے سے جو سیاسی شکل سامنے آتی وہ نہیں آ پائی ۔مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ اور راجستھان میں اگر کانگریس چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لیکر اور سیٹوں کا تامل میل کرتی تو اسے یہ دن نا دیکھان پڑتا ۔سوال یہ ہے کیا کانگریس اس ہار سے کوئی سبق لیں گی ۔اور دوسری پارٹیوں کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کرے گی ؟(انل نریندر)
الٹا پڑا داﺅں .....نا خدا ملا نا ویصالے صنم !
رےاست کے اقتدار کی ہیڈ ٹرک لگانے ،قومی سیاست کی خواہشات میں اقلتوں کے ووٹ پانے کے لئے خوش آمدی والی اسکیموں کی بھرمار لگانے اور اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی اے کو ساتھ لینے کے با وجود چندر شیکھر راﺅ کے سی آر کی داﺅ الٹا پڑ گیا یہاں تک کی پارٹی کی نام تلنگانہ راشٹر سمیتی سے بھارت راشٹر سمیتی کرنے کا بھی فائدہ نہیں ملا اور سیٹیں پچھلے چناﺅ کے مقابلے آدھی سے بھی کم رہہ گئی نتیجوں سے صاف ہے کے مسلم خوشامدی کی پالیسی نے کے سی آر کو دوہرا چھٹکا دیا ہے الگ سے آئی ٹی پارک شادی مبارک جےسی اسکیموں کے با وجود مسلم ووٹروں نے قومی سیاست میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لئے بی آر ایس کو اسی طرح کنارے کر دیا جس طرح کرناٹک میں اس نے جے ڈی ایس کو کیا تھا دوسرے خوشامدی کے چلتے اکثریتی ووٹوں میں برابری پولورائزیشن ہوا اور مسلمانوں کے قریب قریب ایک طرفہ حمایت اور بی آر ایس کے مقابلے سب سے مضبوط پارٹی ہونے کا سیدھا فائدہ کانگریس کو ملا ۔کسی بھی چناﺅ میں عوامی بہبود اور ترقی کے اشو اہم اجنڈے کے شکل میں سامنے آتا ہے اکثر اس بات کو لیکر بھی الجھن رہتی ہے کے بہبودی اور ترقی پسندی میں سے کس پر زےادہ توجہ دی جانی چاہئے ۔مگر بدقسمتی یہ ہے کے اس سال ایک شخص ،ان کا خاندان اور ان کے کام کرنے طریقہ 2014 میں بنے بھارت کے 29 وے اسٹیٹ اور سب سے نوجوان ریاست تلنگانہ کا ایک لوتا چناﺅی اشو بن گیا تلنگانہ کا ایک اور عجب پہلو یہ ہے کے یہاں پچھلے کچھ ورشوں میں بی جے پی جو ووٹ بینک بنانے میں کامیاب رہی تھی اب وہ کمزور ہوئی ہے۔ کمل کے بجائے اب کانگریس مضبوط ہو گئی ہے ایم ٹی رامہ راﺅ جنہیں کے ٹی آر بھی کہا جاتا ہے تاکہ ان کے نام کی آواز ان کے وزیراعلیٰ والد کے سی آر کے نام سے میل کھائے نے حال ہی میں جب قومی چینلوں سے بات کی وہ ترقی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہیں اور اعداد شمار کا حوالہ دیتے نظر آئے اور ان میں کچھ علاقہ میں ہوئی طرقی کو دکھاتے ہیں لیکن انہوںنے انسانی ترقی کے اشاروں اور خواندگی کا ذکر کرتے ہیں لیکن انہوںنے تلنگانہ میں اقتصادی طور پر مضبوط بنایا ہے لیکن انسانی بہبود کے معاملے میں اس کا رکارٹ خراب ہے تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق ،سیاست میں 3.08 لاکھ سالانہ فی کس آمدنی کے ساتھ دیش میں سب سے اوپر ہے ،پہلی بات جو صاف ہے وہ یہ ہے کے بی آر ایس کو ووٹروں کی دیر پا تھکان کی مار چھیلنی پڑی بہت سے ووٹر کچھ نیا چاہتے ہیں دوسری طرف سب سے اہم بات یہ رہی کے کے سی آر ان کے خاندان کے رویہ۔اپوزیشن نے اسے کے سی آر خاندان کے حکمرانی کے مغرور رویہ کی شکل میں پیش کیا ۔تیسری وجہ بے روزگاری کے سبب نوجوانوں میں بی آر ایس سے مایوسی رہی اس بات کو لیکر سب سے زیادہ نقطہ چینی ہو رہی ہے وہ یہ ہے کے بی آر ایس نے روگار کے موقع پیدا کرنے میں بہت کم توجہ دی ہے ریاست کے سیاسی حالات ایسے تھے جو ووٹر کبھی بی جے پی کی طرف چھکے تھے اب انہوںنے کانگریس کا رخ کر لیا ہے ۔کانگریس نے بار بار الزام لگایا کے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ملی بھگت ہے یہ پیغام میں ریاست میں تےزی سے بڑے پیمانے پر پھےل گیا جس سے بی جے پی کی مضبوطی ختم ہو گئی ۔(انل نریندر)
05 دسمبر 2023
موت کی سزا پانے والے سابق ہندوستانی فوجیوں کو راحت !
قطر کی ایک عدالت میں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق بحری حکام کو جس طرح موت کی سزا سنائی گئی تھی وہ پہلے ہی سوالوں کے گھیرے میں تھی ۔اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ بھارت سرکار کی طرف سے کوئی ٹھوس پہل قدمی کی جائے ۔یا ڈپلومیٹک قدم اٹھائے جائیں گے اسی سلسلے میں بھارت نے قطر کی عدالت میں فیصلے کے خلاف باقاعدہ طور سے اپیل کی تھی اور اس سلسلے میں آئی خبر کے مطابق اب قطر کی عدالت نے بھارت کی اس عرضی کو منظور کر لیا ہے اور اس پر جائزہ لے کر جلد سماعت شروع کی جائے گی ۔جمعرات کو ہوئی سماعت کے دوران قطر کی عدالت میں معاملے میں غور کرنے کیلئے جلد ہی سماعت شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔وزارت خارجہ نے ۹نومبر کو بتایا تھا کہ فیصلہ راز میں بنا ہوا ہے اور اس معاملے میں اپیل دائر کی گئی ہے ۔وزارت خارجہ نے معاملے کی حساسی نوعیت کے سبب سبھی سے قیاس آرائیوں سے بچنے کی درخواست کی تھی ۔وزارت خارجہ کے ترجمان اروندم باغچی نے پہلے کہا تھا کہ قطر کی عدالت نے الدارة کمپنی کے ۸ملازمین سے وابسطہ معاملے میں ۶۲اکتوبر کو فیصلہ سنایا تھا اس کے اگلے ہی دن بھارت نے اپیل دائر کر دی تھی ۔محکمہ خارجہ کے ترجمان باغچی کا کہنا ہے کہ سابق بحری حکام کو قطر کی ایک عدالت نے ان الزاموں میں موت کی سزا سنائی تھی جنہیں ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں لایا جا سکا ۔فیصلہ راز میں ہے اور اسے صرف قانونی ٹیم کے ساتھ ہی شیئر کیا گیا ہے ۔ہم اس معاملے میں قطر کے سینئر حکام سے بات چیت کررہے ہیں ۔قطر حکومت نے ابھی تک ۸ہندوستانیوں پر لگے الزامات کو افشاءنہیں کیا ہے ۔حالانکہ ایسا اندیشہ سیکورٹی سے متعلق الزام میں یہ گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔بتا دیں ہندوستانی بحریہ کے ۸سابق افسر قطر میں دہرہ گلوبل ٹیکنالوجی اینڈ کنسلٹینسی سروسز نامی کمپنی کے لئے کام کررہے تھے ۔اگست ۲۲۰۲میں ان سبھی کو گرفتار کیا گیا ۔قطر کی حکومت نے بحریہ کی سابق افسروں پر لگائے گئے الزامات کی جانکاری نہیں دی ہے ۔گزشتہ ۶۲اکتوبر ۳۲۰۲کو قطر کی عدالت نے ان سابق افسروں کو موت کی سزا سنائی تھی ۔ادھر ہندوستانی بحریہ کے چیف ایڈمرل آر ہری کمار نے جمعہ کو بتایا کہ حکومت ہند قطر سے ان ۸سابق بحری افسروںکو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے جنہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے ۔ایڈمرل آر ہری کمار نے اخبار نویشوں سے کہا کہ بھارت سرکار ان کی صحیح سلامت واپسی یقینی کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے اس بیچ ۸سابق ہندوستانی بحری فوجیوں کے خاندان جلد راحت کی امید کررہے ہیں ۔قطر میں مقدمہ پر کسی ٹھوس جانکاری میں کمی ہے ۔پریوار والوں کو لگتا ہے کہ اس مسئلے پر مغربی ایشیائی میڈیا میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا آٹھوں ریٹائرڈ بحری فوجیوں نے اعلیٰ ترین ایمانداری اور احترام کے ساتھ دیش کی خدمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس بات نے انہیں زیادہ ٹھیس پہونچائی ہے کہ حراست کے حالات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔
(انل نریندر)
گرفتاری کا ڈر یا سیاسی چال؟
کیا دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتاری کے بعد استعفیٰ دے دینا چاہیے یا جیل سے ہی سرکار چلانی چاہیے ؟ یہ وہ اہم سوال ہے جس کا جواب جاننے اور اروند کیجریوال کی حمایت میں لوگوں کو متحد کرنے کیلئے عام آدمی پارٹی نے دہلی میں گھر گھر دستک دینے کا فیصلہ کیا اور باقاعدہ دستخطی مہم چلائی جا رہی ہے کیا اس پر بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کیجریوال گرفتاری سے بچنا چاہیتے ہیں اس لئے عام آدمی پارٹی اس طرح کی مہم چلا رہی ہے ۔پارٹی نے ایک دسمبر سے مے وی کیجریوال سگنیچر کمپین کی شروعات کی ہے ۔پہلے مرحلے میں یہ مہم 20 دسمبر تک چلائی جائے گی ۔اس مہم میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی وزراء،کونسلر اور سبھی عہدیداران دہلی کے سبھی ۰۰۶۲ پولنگ اسٹیشن کو کور کریں گے ۔مہم کا دوسر ا مرحلہ ۱۲ سے ۴۲ دسمبر تک چلے گا جس میں جنتا سے بات چیت پروگرام ہوں گے اور اس طرح کے سوالوں کو اس میں اٹھایا جائے گا۔فی الحال پارٹی کے کئی بڑے نیتاو¿ں کیخلاف ای ڈی اور سی بی آئی کی کاروائی چل رہی ہے ۔دہلی میں مبینہ شراب گھوٹالے میں کیجریوال سرکار کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا ،ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ جیل میں ہیں ۔پارٹی کے سینئر لیڈر ستیندرجین بھی ابھی تک جیل سے آزاد نہیں ہوئے لیکن بیماری کے سبب وہ ضمانت پر چل رہے ہیں ۔جو وقتاً فوقتاً سپریم کورٹ سے بڑھائی جا رہی ہے ۔اب پارٹی چیف اور وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی ای ڈی نوٹس دے چکے ہیں ایسے میں پارٹی کی اس مہم کے کیا معنی ہیں ؟ سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ کیا سچ میں گرفتاری کے ڈر سے اس طرح کی تیاری کررہی ہے ؟ ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ یہ مہم اس کے لئے کتنی کارگر ثابت ہو سکتی ہے ۔دہلی سرکار میں وزیراور پردیش کنوینر گوپال رائے کا کہنا ہے کہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ایسے میں دیکھتے ہوئے میں بھی کیجریوال سگنیچر کمپین شروع کی گئی ہے ۔وہ کہتے ہیں،بھاجپا سازش کررہی ہے اور اب کیجریوال کو گرفتار کر دہلی کو ٹھپ کرنا چاہتی ہے ایسی حالت میں دہلی کے لوگوں کی رائے جاننے کے لئے پارٹی کے ورکر ،نیتا گھر گھر جا رہے ہیں انہیں پرچہ دیا جائے اور اس میں ان کی رائے لی جائے گی ۔اس مہم میں مرکز کے ایک صفحہ کی پرچی ہے جس کا عنوان ہے ۔اروند کیجریوال کو کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہیں نریندر مودی؟ اروند کیجریوال کی ایک تصویر کے ساتھ ایک پرچہ میں چار سوال اور ان کے جواب لکھے ہوئے ہیں یہ سوال ہے شراب گھوٹالہ فرضی کیسے ہے ؟ مودی جی کیجریوال جی کام کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں ؟کیا مودی جی کرپشن کے خلاف ہیں؟ کیا کیجریوال جی کی گرفتاری کے بعد ان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا جیل سے سرکار چلانی چاہیے ۔اس پورے پرچہ میں عام آدمی پارٹی نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اروند کیجریوال پوری طرح بے قصورہیں۔مرکز کی مودی سرکار انہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے لوک پال آندولن سے دہلی کے اقتدار کی چوٹی پر پہونچنے والے اروند کیجریوال ایک بار پھر جنتا کے بیچ میں ہیں ۔اور اپنے انوکھے انداز میں ایک طرح سے ریفرنڈم یعنی رائے عامہ مانگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
03 دسمبر 2023
دشمن بنے آئی ایس آئی اور طالبان !
ہمیشہ ہی آتنکی حکومت کی حمایت کرنے والے اور دنیا میں اپنی فیکٹری سے تیار آتنکی پروڈکٹ کی سپلائی کرنے والا پاکستان آج کھود ہی دہشت گردی سے متاثر ہے اور اس سے لڑ رہا ہے آتنکی سرکار کو پڑھاوا دینے کے لئے جس پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پاک حکومت نے افغانستان میں آتنکی طالبان حکومت بنانے کے لئے طالبان کو دوست بتاکر ہر طرح سے مدد کی تھی آج اسی دوست کے دیش سے خون کے آنسو بہا رہا ہے طالبان سرکار بننے کے بعد جس پاک حکومت نے جشن بنایا تھا اور مٹھائیا بانٹی تھی آج اسی دوست کے سبب پاکستان میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جی ہاں اس بات کا انکشاف پاک خفیہ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے بعد وہا کے حکمراہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہے ہیں طالبا کے سبب پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 60 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے یاد کیا جائے 15 اگست 2021 کا وہ دن جب طالبان نے پاک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مدد سے افغانستان کی راجدھانی کابل پر قبضہ کیا تھا تب سے پہلے افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان نے کابل پر طالبان کے قبضے کا جشن بنا کر سرکار کا استقبال کیا تھا اس وقت کی عمران حکومت نے تو طالبان کے لڑاکوں کو پاکستان کا دوست بتایا تھا لیکن اب پاکستان اپنے انہیں دوستوں کو اپنا دشمن بتا رہا ہے ،پاک میں ہو رہی دیشت گردی کی وارداتوں کو لیکر آئی ایس آئی نے پاک حکمرانوں کو اپنی رپورٹ دیکر سب کو چونکہ دیا ہے آئی ایس آئی نے حال ہی میں دہشت گردانہ واقعات کے لئے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا آئی ایس آئی کی رپورٹ کے بعد پاکستان کے حکمران نے کہا کے پڑوسی افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں 60 فیصد اضافہ اور فدائی دھماکوں میں 500 فیصدی اضافہ ہوا ہے کبھی بھارت کے خلاف دہشت پھیلانے والی آئی ایس آئی اب کہہ رہی ہے کے اپنی سر زمین کا استعمال دہشت گردی کے لئے نئی کرنے دیں گے ۔اتنا ہی نگرا وزیراعظم نے دعوا کیا امریکی فوجیوں کے افغانستان چھوڑنے کے بعد اب آتنکی ان کے ہی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں خاص بات یہ ہے کے آئی ایس آئی اور طالبان کے ملی بھگت کے سبب پاک آتنکی تنظیم لشکر طبیہ و جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی خطرناک آتنکی تنظیموں کے پاس امریکی ہتھیار پہنچ چکے ہیں غور طلب ہے کہ افغانستان کی سر زمین سے آتنکی حملوں میں 2 سال میں 2267 لوگوں موت ہوئی ہے ان حملوں میں 15 افغانی شہری بھی مارے گئے ہیں اس کے علاوہ آتنک واد مخالف کارروائی کے دوران پاکستان کی ایجنسیوں سے لڑتے ہوئے اب تک 10 افغانی شہری بھی مارے گئے ہیں ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے دہشت گرد ان کے دیش کے خلاف امریکی ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں ۔
(انل نریندر )
جانباز ریٹ مائنیرس ٹیم کو سلام!
اتراکھنڈ کی سلکیارا سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے والے ریٹ مائنیرس کا کہنا ہے کی مزدوروں کو ان کے مزدور بھائیوں نے ہی آخر کار نکالا 17 دن تک پھنسے ان مزدوروں کو نکالنے کے لئے جب مشینی کوششیں ناکام ہوئی تو آخر میں دہلی جل بورڈ کے ریٹ مائنیرس کو ہی لگایا گیا جن انہوںںے ہاتھ سے کھدائی کرکے سرنگ میں پھنسے مزدوروں کو نکالا ایک اخبار سے بات چیت میں 7 ویں کلاس کے طالم یافتہ اور باغپت کے باشندے 35 سالہ محمد رشید نے یہ بتایا مزدوروں کو مزدور بھائیوں نے ہی نکالا 12 ریٹ مائنیرس کی ٹیم نے 26 گھنٹوں تک بے حد مشکل حالات میں سرنگ میں گھس کر ہاتھ سے کھدائی کی زیادہ تر ریٹ مائنیرس دلت اور مسلم فرقہ سے ہیں اس ٹیم نے 18 میٹر کے ملوے کو ہاتھ سے نکالا اس ٹیم نے 800 ملی میٹر چوڑے پائم میں ہتھوڑی اور چھینی سے کھدائی کی اور اس نے ایک چھوٹی ٹرالی سے ملبے کو پائپ کے ذرےعہ باہر نکالا اور جو کام ان کھدائی ملازمین نے کیا اسے کرنے میں ہائی ٹیک مشینےں بھی فیل ہو گئی ۔ریٹ مائنیرس کا یہ گروپ جان بچانے کے لئے کی گئی اپنی اس محنت کے بدلے کوئی پیسہ نہیں چاہتے تھے حالانکہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ہر ایک ریٹ مائنیر کو 50 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔45 سالہ ریٹ مائینر محمد ارشاد کا کہنا تھا کے میں صرف اترا چاہتا ہوں کے ہر انسان کو انسا ن کا درد سمجھنا چاہئے اور دیش میں پیار بنا رہے میرٹھ کے باشندے ارشاد 2001 سے ریٹ مائینر ہیں کچھ سال پہلے وہ دہلی آئے اور اب ایک پرائیویٹ کمپنی کے لئے کام کرتے ہیں ارشاد ابھی تک اپنے گھر نہیں گئے بھارت میں ریٹ ہال مائیننگ کو خطرناک اور ایک سائنٹیفک تکنیک مانتے ہوئے اس سے لگاﺅ ہے لیکن کوئیلا کھدائی کرنے والے علاقوں میں یہ بھی رائج ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہے۔35 سالہ ایک اور ریٹ مائینر منا قریشی کہتے ہیں مجھے جب بھی تھکان محسوس ہوئی تب مجھے اپنے 10 سالہ بیٹے فیض کے الفاظ یاد آئے اس نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو باہر نکالکر ہی واپس لوٹنا ہے پاپا۔یہ بات یاد کرتے ہوئے منا قریشی کی آنکھیں نم ہو گئیں ایسے ہی ایک اور شخص 24 سالہ جتن کشپ اور ان کے بھائی 21 سالہ سوروو اس ٹیم کے سب سے ینگ ممبر ہیں انہوںنے 13-14 سال کی عمر سے ہی ریٹ مائیننگ کھدائی کا کام شروع کر دیا تھا بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاﺅں سے آنے والے ان لڑکوں نے بھی راحت رسانی و بچاﺅ کام میں حصہ لیا چھوٹے بھائی سورو کا کہنا تھا کیا ہمیں وزیراعظم رہائی اسکیم کے تحت پکہ گھر مل سکتا ہے وہ اپنی بات پوری ہی کر رہے تھے بڑے بھائی نے سرکار سے مدد مانگنے کے لئے ان کی قمر پر ہاتھ مارا 29 سالہ مونو کمار نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کے میرے گاﺅں میں حالاتھ خراب ہے اگر سرکار سڑک بنوا دیں تو اچھا ہوگا ۔جس طرح سے چوہا اپنے بل کے اندر گھس کر مٹی باہر نکالتا ہے اور آگے بڑھتے ہیںاسی طرح سے ریٹ مائینرس نے سرنگ کے اندر کام کیا سی تکنیک کو ریٹ مائیننگ کہتے ہیں ہمیں ناض ہے ان جانباز ریٹ مائینرس پر اور یہیں گنگا جمنی تہذیب ہے۔
(انل نرےندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...