Translater
08 اگست 2020
دیہاڑی مزدور آج سب سے زیادہ پریشان ہیں !
دہلی این سی آر میں عام آدمی کی زندگی پر لاک ڈاو¿ن اور ان لاک کا گہرا اثر پڑا ہے ۔ایک سروے کے مطابق 85فیصد کنبوں نے اپنی کمائی کم ہونے کی بات کہی ہے ۔پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے لوگ اس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں نیشنل کونسل آف اپلائی اکنامک ریسرچ میں جون 15سے 25جون کے درمیان ایک سروے کیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔آج بھی کم وبیش یہی حالات ہیں سروے کے مطابق دیہاڑی مزدور اس دوران سب سے زیادہ پریشان رہے ۔قریب د وتہائی یعنی 66فیصد مزدوروں کو اس دوران کوئی کا م نہیں ملا باقی 34فیصدی مزدورون کو روزگار ملا لیکن بہت کم دنوں کیلئے ۔اس طرح سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق کی وجہ سے چھوٹے کاروبارپر بھی برا اثر پڑا کورونا بحران کی وجہ سے 12فیصدی چھوٹے کاروبار ہمیشہ کیلئے بند ہوگئے ۔رپورٹ کے مطابق شہری کنبوں کی آمدنی پر دیہاتی کنبوں کے مقابلے میں زیادہ اثر پڑا ہے 50فیصدی دیہی خاندانوں نے مانا ہے کہ ان کی کمائی کم ہوئی جبکہ 59فیصدی شہری کنبوں نے کہا کہ ان کی انکم میں کافی کمی آئی ہے سرکاری مدد جیسے مفت اناج ملنے کی بات ہے تو شہر سے زیادہ دیہاتی کنبوں کو مدد زیادہ پہونچی لاک ڈاو¿ن کے دوران پرائیویٹ سیکٹر کے 76فیصد ملازمین نے مانا کہ ان کی تنخواہ میں کٹوتی ہوئی ہے حالانکہ اپریل مئی کے مقابلے جون میں حالات تھوڑے سدھرے ہیں وہیں 79فیصدی سرکار ی ملازمین نے مانا کہ اپریل اور مئی میں ان کی تنخواہ میں کوئی کٹوتی نہیں ہوئی ہے ان لاک کے بعد حالات تھوڑے بہتر ضرورہوئے ہیں لیکن ابھی بھی خراب ہی ہیں ۔
(انل نریندر)
بوکھلائے پاکستان بھی نیپال کے نقش قدم پر !
نیپال اور بھار ت کے درمیان سرحدی تنازعہ ہونے کے بعد جس طرح سے نیپال حکومت نے بغیر بات چیت کر اپنے دیش کا سیاسی نقشہ جاری کر متنازعہ علاقوں کو اپنا بتا ڈالا ایسے ہی پاکستان نے بھی اب اس سے سیکھنا شروع کر دیا ہے ۔کشمیرپر بازی پوری طرح سے ہاتھ سے نکلنے سے بوکھلائے پاکستان نے ایک اور حرکت کی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی کیب نیٹ نے نیا سیاسی نقشہ جاری کر دیا ہے ۔اس نقشہ میں ناصرف پورے جموں کشمیر لے ۔لداخ کو پاکستان کا حصہ بتا ڈالابلکہ گجرات کے جونا گڑھ سرکریت لائن کو بھی پاکستان میں شامل کر دکھایا گیا ہے کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹانے کے بھارت کے فیصلہ کی پہلی سالگرہ پر یہ نیا نقشہ جاری کیا گیا ہے اس کے پیچھے عمران خان کا گھریلو سیاست میں کشمیر کے ذریعے اپنے جواز کو بنائے رکھنا ہے ۔پاکستان میں جہاں نئے نقشہ میں جہاں ہندوستانی علاقوں میں اپنا دعویٰ ٹھونکاہ ے وہیں جن حصوں کو لیکر چین اور ہندوستا ن کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے ،رپورٹ کے مطابق اب پاکستان یہ نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کرنے کی تیاری میں ہے ۔کئی دن پہلے کنٹرول لائن پر دیش کے وزیر دفاع پہونچے تھے کشمیر کے لوگوں کو آزادی کا حق دینے کے بعد بھی سرکار نے خود ہی پورے کشمیر پر اپنا دعویٰ ٹھونک دیا تھا غور طلب ہے کہ بھار ت کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے بعد نیپال نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔لیپو لیک جھیل اور کالا پانی لپیا پٹا کو اپنا بتاتے ہوئے نیپال حکومت نے اپنے دیش کا نیا نقشہ جاری کردیا بھارت نے ان ناٹکوں کو اتنی توجہ دی ہے جتنی ضرورت ہے ۔وزارت خارجہ نے بتایا کہ ہم نے پاکستان کے پی ایم عمران خان کیطرف سے جاری نا م نہاد سیاسی نقشہ دیکھا ہے اور یہ سیاسی بے وقوفی والا ایسا قدم ہے جس میں گجرات اور جموں کشمیر اور لداخ پر دباو¿ پیش کیا گیا ہے ۔اس مضحکہ خیز دعوے کا نا تو قانونی کوئی بنیاد ہے اور ناہی بین الاقوامی ہمدردی اصل میں یہ وہی کوشش دوسروں کی زمین ہڑپنے کے پاکستان کے رویہ کو بتاتی ہے ۔اس کیلئے وہ سرحدپر دہشت گردی کی ہمایت کرتا ہے یہ اتنا بے ہودہ دعویٰ ہے کہ اس پر بھارت کو رد عمل کرنا غیر ضروری ہے ۔
(انل نریندر)
نیوکلیائی بم دھماکہ میں بیروت تباہ!
لبنان کی راجدھانی بیروت میں منگل کے روز نیوکلیائی بم جیسی تیز رفتار والے دھماکہ ہوا جس کی آواز اتنی تیز تھی کہ اسے 125میل دور تک سائپرس تک سنی گئی ۔راجدھانی کے مشرقی ساحل کے پاس ہی یہ دھماکہ ہوا جو اتنا خطرناک تھا کہ اس سے دس کلومیٹر علاقے میں واقع گھر اور عمارتیں پوری طرح تباہ ہو گئیں اور اس دھماکہ میں 100سے زیادہ افراد کے مرنے اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔اور جس نوعیت کا یہ خطرناک دھماکہ تھا اس سے مرنے والوں کی تعداد یقینا زیادہ ہوگی ۔بندرگاہ سے دھنواں نکلتا دیکھا گیا اور تباہ گاڑیاں اور عمارتوں کا ملبا سڑک پر پھیلا ہوا ہے اسپتالوں کے باہر لوگ اپنے کنبے والوں کے بارے میںمعلومات کے لئے جمع ہو گئے ۔جرمنی کی جیو سائنس سینٹر کے دعوے کے مطابق دھماکہ سے 3.5رفتار سے زلزلہ بھی آیا جو اتنا خطرناک تھا کہ سارے شہر میں لگا کہ کوئی نیوکلیائی حملہ ہو گیا ہے ۔کورونا وائرس اور مالی بحران سے لڑ رہے لبنان میں دھماکہ کے بعد ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے ۔لبنا ن کے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بندرگاہ میں بھاری مقدار میں رکھے امونیم نائٹریٹ میں ہوئے دھماکہ سے یہ حادثہ ہوا ۔دیش کے وزیر داخلہ محمد فہمی نے مقامی ریڈیو اسٹیشن و ٹی وی پر قوم کے نام ایڈریس پر کہا کہ بندرگاہ میں 27سو ٹن رکھے المونیم نائٹریٹ میں دھماکہ سے یہ حادثہ ہوا ۔لبنان کے وزیراعظم حسن حبیب نے عہد کیا کہ اس دھماکہ کے ذمہ دار لوگوں کو اس کی قیمت چکانی ہوگی ۔وہیں اسرائیل حکومت کے ایک افسر نے گمنام انداز میں بتایا کہ اسرائیل کا اس دھماکہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ دھماکہ ایک حملہ ہو سکتا ہے میں نے کچھ جرنلوں سے ملاقات کی ان کا خیال ہے کہ یہ کسی غیر قانونی سرگرمی کا م کی وجہ سے یہ دھماکہ نہیں تھا مجھے لگتا ہے یہ حملہ ہو سکتا ہے ۔امریکہ کے وزیرخارجہ نے بیروت کے لوگوں کے تئیں گہری ہمدردی ظاہر کی اور کہا امریکہ حالات پر نظر بنائے ہوئے ہے ۔لبنان کو ایک وقت میں پیرس آف دی ایسٹ کہاجاتا تھا یہاں سونے کا کاروبار دنیا میں سب سے بڑے سینٹروں میں ایک تھا ۔یہ اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ لبنان اور بیروت خاص طور پر جانا چاہتے تھے لیکن آپسی لڑائی کے سبب پڑوسی ملکوں کی دخل اندازی کے چلتے تباہ ہو گیا ہے اس دھماکہ کی تصوریریں دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کتنی تباہی ہوئی ہے ۔ہزاروں لوگوں کو نئے سرے سے زندگی پھر سے شروع کرنی ہوگی ۔وزیراعظم نریندر مودی نے بھی پیغام بھیج کر اپنا اظہار ہمدردی کیا ہے ۔
(انل نریندر)
07 اگست 2020
آئی پی ایل 20-20پر لگ گئی مہر !
آخر کار بھارت سرکار نے انڈین پریمئر لیگ (IPL)کو منظوری دے دی ہے ۔کورونا کی وجہ سے قریب 5مہینے سے کرکٹ سے دور رہے کھلاڑیوں کرکٹ شائقین اور اسپونسروں کو بڑی راحت ملی ہوگی آئی پی ایل کے 13ہویں ایڈیشن کو حکومت ہند نے متحدہ عرب امارات میں کرانے کی منظوری دی ہے ۔ایسا پہلی بار ہوگا جب میگا ایونٹ کا فائنل ویکنڈ پر نہیں کھیلا جائیگا ۔ 19ستمبر سے شروع ہونے والا یہ ٹورنامنٹ 11نومبر کو ختم ہوگا اس دن منگلوار ہے رات 8بجے کے بجائے آدھا گھنٹا پہلے میچ شرو ع کئے جائیں گے یعنی رات ساڑے سات بجے سے شروع ہوںگے ویسے تو انگلینڈ اورویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سریز کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کی تقریباً واپسی ہوگئی ہے ۔لیکن آئی پی ایل سے صحیح معنوں میں کرکٹ پٹری پر لوٹتا نظر آئیگا ۔چونکہ اس میں زیادہ تر کھیلنے والے کھلاڑی مختلف دیسوں کی نمائندگی کرتے ہیں کورونا کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کے ساتھ کھلاڑیوں کی بھی مالی حالت خستہ ہوئی ہے ۔بھارت میں کورناکے معاملے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں اور ساری مشینری اس وبا سے مقابلے میں لگی ہوئی ہے اس سال جنوری میں جب کورنا وائرس کا انفیکشن بڑھنے لگا اس کا اثر کھیل شائقین پر بھی پڑا ہے ۔جس کی وجہ سے اولمپک ویملڈن ٹینس جیسے ایونٹ کو منسوخ کرنا پڑا اور بین الاقوامی کرکٹ بھی اس سے اچھوتی نہیں رہے پچھلے مہینے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ میچ ہو سکے وہ بھی انفیکشن سے بچاو¿ کے سخت قواعد اور کھالی اسٹیڈیموں میں ممکن ہوئے حالانکہ میچ دیکھنا بڑا عجیب لگا نا کوئی بونڈری پر بال اٹھانے والا اور ناکوئی اچھا آو¿ٹ ہونے پر تالی بجانے والے لیکن کیا کریں کورونا سے بچاو¿ کیلئے یہ ضروری تھا حالانکہ یو اے ای میں امید ہے کہ کچھ ناضرین کو میچ دیکھنے کا موقع ملے گا اب مالی تنگی سے گزر رہے کھلاڑیوں کو اپنی مالی حالت سدھارنے میں مدد ملے گی بی سی سی آئی کو دنیا کا سب سے بڑا امیر کرکٹ بورڈ مانا جاتا ہے اور اس میں آئی پی ایل سے ہونے والی کمائی اہم ہے ۔اصل میں اس کرکٹ لیگ سے بی سی سی آئی کو 4ہزار کروڑ روپئے کی کمائی ہوتی ہے ۔بیشک آئی پی ایل منعقد کرنے والوںکو ایونٹ کرانے کی اجازت تو مل گئی ہے لیکن اس کے انعقاد کو کامیاب بنانے کے لئے انہیں سخت محنت کی ضرورت پڑیگی یقینی کرکٹ دیش میں سب سے مقبول کھیل ہے اور ہندوستانی کرکٹروں نے دیش کو بہت سے موقعوں پر قابل فخر ہونے کے موقعے بھی دئیے ہیں اگر ایسے مشکل دور میں جب دیش کورونا سے لڑ رہا ہے تو کسی دوسرے دیش میں آئی پی ایل کرانے کا مقصد مالی مفادات کی تکمیل زیادہ لگتی ہے اور آئی پی ایل میں اسپونسر کی شکل میں چینی موبائل کمپنی وی وو کی موجودگی دوہرے رخ کو دکھاتی ہے ۔
(انل نریندر)
جے شری رام !
492برس بعد آخر کار شبھ گھڑی آہی گئی ۔1528میں بابر کی شہہ پر آیودھیا میں جس مندرکو توڑ دیا گیا تھا وہاں بھویہ شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیر 5صدی سے ہو رہا انتظار ختم ہو گیا اور تاریخی لمحہ اس وقت آگیا جب بدھوار کو شبھ مہورت 12بج کر 15منٹ 15سکنڈ پر پی ایم مودی کے ہاتھوں شری رام جنم بھومی استھل پر مندر کی تعمیر کیلئے علامتی بھومی پوجن کے ساتھ باقاعدہ مندر تعمیر کا کام کا آغاز ہو گیا ہے اس کے ساتھ ہی کروڑوں رام بھکتوں کا انتظار کے ساتھ ہی ان کے سارے اندیشے اور شش وپنج بھی ختم ہو گیا ان ہزاروں سورگیہ آتماو¿ں کو شانتی ملے گی جو اس جگہ پر بھویہ رام مندر تعمیر کا عزم اور خواب تعبیر ہونے کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے اب لوگوں کو انتظار رہے گا تو صرف اس گھڑی کا کہ مندر تعمیر پوری ہونے کے بعد رام للا اپنے اصلی جگہ پر ورجیں گے لیکن یہ انتظار پہلے جیسا نہیں ہوگا ۔مندر تعمیر کی شروعات صرف رام بھگتوں کی ہی نہیں ان شیلاو¿ں اور پتھروں کا بھی انتظار ختم کریگی جو کئی دہائیوں سے رام مندر میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔ہندوستانی عوام میں رام گہرے اور بہت گہرے سمائے ہوئے ہیں ۔اور ہر شکل میں سامنے آنے والے مثالی شخص بھی ہیں وہ جنگ جنگ کے ایسے راہ عمل کے انسان ہیں جنہوں نے فرض کی ادائیگی کی ایک ایسی مثال پیشسش کی جو بھارت میں ہی نہیں پوری دنیا اور پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے ۔مریادا پرشوتم رام نے فرض کی ادائیگی کی جو تلقین کی وہ آج بھی راہ دکھاتی ہے اس تلقین سے یہ قوم ہر دن ہر لمحہ ترغیب لیتی ہے اور اس لئے ان کے نام کا مندر بنانے کو لیکر بہت ہی امید افزا ہے رام مندر تعمیر کا صدیوں پرانا انتظار پوراہونا تریتھا یگ کے رام کی کلیوگ میں ایک اور وجے ہے اسی کے ساتھ وجے صبر کی تھی بھروسہ کی اور اصولوں پر چلنے کی اور چونکہ دھرم ہی ادھر م پر دھرم کی جیت بھی ہے اس لئے شری رام جنم بھومی مندر کا بھومی پوجن جن جن کو خوش کرنے والا ایک اتسوہے ایودھیا میں رام کے نام کا مندر بننا اس کی مہیما کا گان بھی ہے اور دیش کی کلچر وراثت کو تقویت دینے والے راہ عمل کا پر تعمیل ہونا بھی یہ موقع ہندوستانیت کے قول کے ساتھ ہی اس عزم کی تکمیل بھی ہے کہ ہم بھارت کے لوگ رام کی جے کرتے اور ان کی گاتھا گاتے اور فرض کے راستے پر چلتے رہیں گے بغیر اس کے بنا تھکے اور بنا رکے شوراج کے کتنے ہی مطلب بیان کئے گئے تو بھی میرے قریب اس کا ترنکال ستیہ ایک ہی ارتھ ہے اور وہ ہے رام راجیہ ۔رام راجیہ لفظ کی تشریع یہ ہے کہ اس میں غریبوں کی مکمل حفاظت ہوگی اور سب کام مذہبی دائرے میں کئے جائین گے اور عوام کا ہمیشہ احترام کیا جائیگا ۔یہ یاد رہے رام راجیہ قائم کرنے کے لئے ہمیں جس گن کی ضرورت ہے وہ تو سبھی طبقوں کے لوگوں میں آج بھی موجود ہے ۔(بابائے قوم مہاتما گاندھی 20مارچ 1950کو انگلش میگزین میں سوراج اور رام راجیہ کے لکھے حصے )۔
(انل نریندر)
06 اگست 2020
ڈریگن کے جھونٹ کی پول کھلی!
مشرقی لداخ میں سرحد پر کشیدگی کرنے کی کوششوں کے باوجود چین اپنی پینترہ بازی سے باز نہیں آرہا ہے بھارت میں چین کے سفیر سنگ وینڈنگ نے دعویٰ کیا کہ ایل اے سی پر آمنے سامنے علاقوں سے فوجیں پیچھے ہٹ گئی ہیں حالانکہ بھارت نے اس کی پول کھولتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ ایل اے سی پر علاقوں سے فوجیوں کی واپسی اور پیچھے ہٹنے کی کاروائی ابھی پوری نہیں ہو پائی اس سے پہلے چین میں دونوں فوجوں کے پوری طرح کے ہٹنے کی بات کہی تھی سرحد پر حالات بحال ہونے کے بارے میں وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی سمت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن فوجوں کے پیچھے ہٹنے کی کاروائی پوری نہیںہوئی ہے ۔حال ہی میں بھارت اور چین کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر کئی مرحلوں میں تبادلہ خیالات ہوئے اور اس کے تحت کمانڈر سطح کے افسروں کے درمیان پانچ مرحلوں میں بات چیت ہوئی ۔جس میں سرحدی تنازعہ سلجھانے پر ایک مستقل مخصوص سسٹم کے تحت میٹنگیں ہوئی ہیں دونوں فریقین کی فوجیں فرنٹ لائن سے واپس ہو چکی ہیں ۔واقف کاروں کا کہنا ہے چین کی طرف سے پینگونگ جھیل گوگرا ،ہارٹ اسپرنگ ،گلوان وادی اور دوس پنگ میں نئی ایل اے سی بنانے کی چین کی طرف سے کوشش ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ 4مئی 2020کو اس نے جتنا قبضہ کیا ہے اس سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا ہے لیکن ابھی بھی وہ ایل اے سی کے کافی اندر ہے۔ایل اے سی پر پیدا تاتل کو لمبا کچھتا دیکھ سردیوں کے آنے سے پہلے ہندوستانی فوج نے چین پر بڑھت لیتے ہوئے 35ہزار فوجیوں کی تعیناتی کر دی ہے ٹھنڈ سے بچنے کے لئے انہیں پورٹیبل دینے کی تیاری ہے ان فوجیوں کو موسم اور علاقے سے نمٹنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے وہیں چین کے فوجی شدید سردی کے موسم کو نہیں جھیل پاتے انہوں نے کہا ہمارے جو فوجی تعینات ہیں وہ پہلے شیاچن اور مشرقی لداخ میں ایسے میں تعینات رہ چکے ہیں اور وہ ذہنی طور پر تیار ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مورچے پر تعینات چین کی پیپلس سلیبریشن آرمی پی ایل اے فوجیوں میں خاص طور سے ایسے لوگ شامل ہیں جو دو تین سال کیلئے پی ایس اے میں شامل ہوتے ہیں اور پھر اپنے عام زندگی میں لوٹ آتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سوشانت معاملے میں مہاراشٹر اور بہار پولیس آمنے سامنے!
اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ الجھتا جارہا ہے یہ اب مہاراشٹر بنا م بہار رنگ لیتا جارہا ہے ۔بالی ووڈ کے ابھرے پہلوو¿ں اور انڈسٹری کے طور طریقوں اور گروپ بندی کو لیکر سوال پیدا کئے گئے تویہ فطری بھی تھا لیکن اب تنازعہ کا دائرہ حیرت انگیز طریقے سے بڑھتے ہوئے دو ریاستوں کی حکومتوں اورپولیس انتظامیہ کو اپنی ضبط میں لے چکا ہے اس بے حد مقبول معاملے میں دونوں ریاستیں جانچ میں لگی ہوئی ہیں ۔اوردونوں نے ایف آئی آر درج کر لی ہے ۔اتوار کی رات دونوں ریاستوں کی ٹیمیں جانچ کر رہی ہیں ۔پٹنا سٹی کے ایس پی ونے تیواری کو بی ایم سی میں پندرہ اگست تک کے لئے کوارنٹائن میں بھیج دیا ہے ۔مہاراشٹر سرکار نے قواعد کے تحت مہر بھی لگا دی ہے ۔ممبئی پولیس کے کمشنر پرم ویر سنگھ نے بتایا کہ اس معاملے میں جانچ کرنے کا بہار پولیس کو کوئی حق نہیں ہے بہار پولیس کے اعلیٰ افسر کو زبردستی کوارنٹائن کئے جانے پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ناراضگی ظاہر کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ممبئی گئے ہمار ے اعلیٰ افسر کے ساتھ جو ہوا وہ صحیح نہیں ہے ۔وہ اپنی ڈیوٹی کررہے ہیں ۔بہار کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے منگلوار کو سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے جسے اداکارہ ریا چکرورتی کے وکیل نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی اس طرح کی سفارش کا اختیار نہیں ہے ادھر کانگریس نیتا سنجے راوت نے کہا کہ نتیش کمار کو سوشانت معاملے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے میں نتیش کمار کو سمجھدار لیڈر مانتا تھا لیکن وہ اتنے حساس معاملے میں سیاست کررہے ہیں ادھر سورگیہ اداکار کے پتا کے وکیل وکاس سنگھ نے ممبئی پولیس پر کئی الزام لگائے ہیں ۔بہار کے آئی پی ایس افسر ونے تیواری کو بی ایم سی کے ذریعے کچھ دنوں کیلئے کوارنٹائن کے بارے میں وکاس سنگھ کہتے ہیں کہ مہاراشٹر سرکار نے ہمارے افسر کو جان بوجھ کر کوارنٹائن کیا ہوا ہے جس سے بہار پولیس ایکٹر کیس معاملے کی چھان بین میں شامل نا ہو سکے ۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی ریاستی حکومت نے ابھی تک کسی بھی دوسری ریاست کے افسر کو اس طرح سے کوارنٹائن کیا ہے ۔ممبئی پولیس جانچ میں وقت لگا رہی ہے جس سے ثبوت مٹایا جائے ممبئی پولیس یہ سب صرف اس لئے کررہی ہے کہ سی بی آئی کو دیکھ لیا جائے ۔نتیش نے یہ بھی کہا کہ بہار پولیس کے ساتھ ممبئی میں بالکل غلط ہوا ۔جہاں بھی ایف آئی آر درج قانونی طور سے ہماری ریاست کی پولیس کی ذمہ داری تھی اور اس کے حساب سے جانچ کیلئے ریاستی پولیس ممبئی گئی وہاں تو مہاراشٹر سرکار اور پولیس افسروں سے تعاون کرنا چاہیے ناکہ کوارنٹائن کرنا۔
(انل نریندر)
05 اگست 2020
عدالتی توہین قانون کے جواز کو چنوتی!
سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے توہین عدالت کے معاملے میں اپنے خلاف سپرم کورٹ میں سماعت سے پہلے ایک عرضی دائر کر توہین قانون کی دفعہ(2سی )(1)کی آئینی جواز کو چنوتی دی ہے انہوں نے سینئر وکیل این رام اور سابق مرکزی وزیر ارون شوری کے ساتھ مسترکہ طور سے یہ عرضی دائر کی ہے جس میں توہین عدالت قانون کی اس دفعہ کو آئین کے سیکشن 14اور 19کی خلاف ورزی بتایا سپرم کورٹ نے ٹیوٹر پر کئے گئے ان کے دو تبصروں کو لیکر توہین عدالت کی کاروائی کا نوٹس دے رکھا ہے ۔انہوں نے عدلیہ کے خلاف نازیب تبصرہ کیا اور اسکے وقار کو نقصان پہونچایا ۔عرضی میں عدالت سے کہا کہ عدالتی توہین قانون1971کی دفعہ (2سی )(1) آئین کے سیکشن 14اور 19کے خلاف ورزی کرنے والے پرودھان اعلان کرنے کی ہدایت دی جائے عرضی کے مطابق مندرجہ بالاہ سہولت نے قابل سزا نتیجے تو تشریح ہیں لیکن یہ پوری طرح سے غیر واضح ہیں اس میں غیر واضح الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ جن کی حدود اور دائرے کو نشان دہی کرنا نا ممکن ہے دیکھیں سپرم کورٹ اس عرضی پر کیا فیصلہ کرتا ہے
(انل نریندر )
قیادت کو لیکر کانگریس میں گھمسان !
قیادت کو لیکر مشکل دور سے گزر رہی پارٹی میں ایک بار پھر نو جوان اور تجربے کار نیتاو¿ں کے درمیان تلوریں کھینچ گئیں ہیں عالم یہ ہے جہاں راہل حمایتی یو ا برگیڈکانگریس کی موجودہ بری حالت کے لئے یو پی اے دور کے لئے اگلی لائن کے نیتاو¿ں پر انگلی اٹھا رہے ہیں تو جوابی حملے میں پرانے نیتا بھی 2019میں راہل گاندھی کی قیادت میں ہوئی شرمناک ہار پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے اور پارٹی میں گھمسان نازک موڑ اس وقت لے لئے جب راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ کی کی ہوئی میٹنگ میں کانگریس نگراں صدر سونیا گاندھی کی موجودگی میں دونوں گروپوں میں گرمہ گرمہ بہث چھڑ گئی سینئر لیڈروں نے راہل کے خلاف دستختی مہم چلاتے ہوئے سونیا گاندھی کو خط لکھا اور اس میں مستقل صدر کی تقرری اور مرکزی عہدے داران کے چناو¿ کی مانگ کی گئی دوسری طرف راہل کے حمایتی مانے جانے والے پارٹی جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال اور پی ایل پنیا اور راجیو وغیرہ نے میٹنگ میں راہل کو دوبارہ پارٹی کا صدر بنا نے کی مانگ کی انکا کہنا تھا کی آج کے سیاسی پس منظر میں راہل ہی ایک بھروسے مند اپوزیشن کا رول ادا کر رہے ہیں اور ضروری مسئلوں پر سرکار سے تلخ سوال کرکے اسے پریشان کررہے ہیں ۔ ان کے علاوہ پی چدمبرم ،کپل سبل ،آنندشرما ،نے پوچھا کی وینو گوپال اور ساتو وکو راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ راہل نے کس کی صلاح پرکیا اور کس حیثت سے ؟کپل سبل نے راہل کے ذریعہ ٹویٹ کرکے سرکار سے سوال پوچھنے پر نقطہ چینی کی انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں راہل کو یہ سوال پوچھنے کی صلاح کون دیتا ہے اور اسے خارجہ اور دفع پالیسی کی کتنی معلومات ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ان کے ان سوالوں سے پارٹی کی ساکھ گھٹ رہی ہے ۔ایسے میں رہل گاندھی کو اگر پھر پارٹی صدر بنا دیا تو پارٹی کیسے چلے گی ۔راہل گروپ کے ممبران نے پرانے نیتاو¿ں پر خراب انتظامیہ کے چلتے سرکار گنوانے کا الزام لگا دیا ان ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے پارٹی کو جو نقصان اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔ پیڑھیوں میں تال میل نا بیٹھنے کی وجہ سے تباہ حال کانگریس میں اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں کی کیا اقتدار یو پی اے سے این ڈی اے میں منتقلی کے پیچھے کسی اپنے کی ہی سازش تھی ۔کانگریس کے ایم پی منیش تیواری کے سوالوں سے پارٹی میں جھگڑا بڑھنا طے ہے ویسے یہ بد قسمتی کی بات ہے کی اتنی پرانی پارٹی کی اب اتنی دور دشا ہو رہی ہے
(انل نریندر )
امت شاہ سمیت کئی وی آئی پی کورونا کے شکار! وزیر کی موت
دیش میں کورونا کے بڑھ رہے معاملوں کے درمیان اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی وی آئی پی کورونا انفیکشن سے متاثر ہو گئے جب کی یوپی کی وزیر تعلیم کمل رانی کی کورونا سے موت ہوگئی ساتھ ہی تمل ناڈو کے گورنر بنواری لا ل پروہت او ر یوپی کیبنٹ وزیر ڈاکٹر مہندر سنگھ پردیش بھاجپا صدر سوتنتر دیو سنگھ کی کورونا رپورٹ پو جیٹیو آئی ہے امت شاہ نے اپنے اندر کورونا انفیکشن اثرات دکھائی دینے پر جو رپورٹ پو جیٹیو آئی اور ان کو دلی کے میدانتا اسپتال میں بھرتی ہوگئے اسپتال میں انٹرل میڈیسن شعبہ کے ڈائرکٹر سوشیلا کٹاریہ کی نگرانی میں رکھا گیا ہے ۔ایمس میں ڈاکٹر گلیریا کی ٹیم بھی میدانتا کے ڈاکٹروں کے ساتھ امت شاہ کا علاج کر رہی ہے امت شاہ نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا ہے جو ان سے ملے ہیں وہ خود کو آئسولیشن کرکے جانچ کروائیں ۔حالانکہ کیبنٹ کی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے جس میں انہوں نے دو گز کی دورکھا تھا ابھی تک یہ پتا نہیں چل پایا کی امت شاہ نے پی ایم مودی سے ملاقات کی تھی یا نہیں ؟اسی طرح ایک اگست کو شاہ پارٹی نائب صدر وینے بدوکے ساتھ اسٹیج پر تھے اور 22جو لائی کو لال کرشن اڈوانی سے ملے تھے۔ہیلتھ وزارت کی گائیڈ لاینس کے مطابق کم سے کم متاثر شخص کے رابطے میں آئے کسی بھی شخص کو سات دن کورن ٹائم میں رہنا ضروری ہے اور اس کے بعد کورونا ٹیسٹ کرانا ضروری ہے ۔ دلی کی میڈیشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر سوا تی مہیشوری کا کہنا ہے کوئی بھی شخص کسی کے پاس 45منٹ رہتا ہے تو اسے کورونا ہو سکتا ہے ۔کیونکہ کیبنٹ کی میٹنگ بند کمرے میں 1:30گھنٹے چلی تھی اس لئے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ اور کورونا وائرس کے ضرارات ہو ا میں تیرنے لگتے ہیںاور کافی دیر تک رہتے ہیں ڈبلو ایچ او اس بات کو مان چکا ہے ۔ ادھر یوپی کے بھاجپا صدر نے بھی خود کو آئسولیٹ کرنے کی بات بتائی ہے ۔ دیش میں کورونا مریضوں کی تعداد 18لاکھ سے پار ہو گئی ہے اور ایک دن میں 60 ہزار سے اوپر مریض سامنے آئے اور 9سو کے قریب موتیں ہوئیں اس لئے کورونا مرسے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے بھارت دنیا میں پانچویں مقام پر ہے مہاراشٹر میں بیماری کا اثر زیادہ ہے وہاں 4.41لاکھ مریض ہو چکے ہیں ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں سری امت شاہ جلد سے جلد کام پر لوٹیں اس وقت ان کا کام پر ہونا بہت ضروری ہے ۔
(انل نریندر )
04 اگست 2020
الوداع امر سنگھ!
راجیہ سبھا ایم پی اور سابق سپا نیتا امر سنگھ اب ہمارے درمیان نہیں رہے ان کا سنیچر وار کو دوپہر سنگاپورکے اسپتال میں انتقال ہو گیا ۔اس سے پہلے 2013میں امر سنگھ کی کڈنی خراب ہو گئی تھی مرنے والے دن انہوںنے مجاہد آزادی بال گنگا دھر تلک کو شردھانجلی دی تھی اور سبھی چاہنے والوں کو عیدالااضحی کے موقع پر بدھائی بھی دی تھی امر سنگھ کے پروفائل کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ بیمار ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر کافی ایکٹو تھے اور انہوںنے اسپتال میں اپنے بیڈ سے 22مارچ کو ٹوئٹر پر ایک چھوٹا سا ویڈیو پوسٹ کیا تھا ویڈیو میں انہوںنے اپنے چاہنے والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں سب پی ایم نریندر مودی کی حمایت کریں جب انہوںنے آخری سانس لی تو ان کے گھر والے وہیں موجود تھے ۔امر سنگھ بھلے ہی کسی بھی پارٹی میں رہے ہوں مگر دیگر پارٹیوں میں ان کے کافی دوست تھے جتنی پکڑ سیاست میں رکھتے تھے اتنے ہی ان کے تعلقات بڑے صنعتی گھرانوں ااور فلمی دنیا کے ہستیوں سے تھے کانگریس سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والے ایک عرصے تک سپا کے بانی ملائم سنگھ یادو سے کافی قریب تھے وہ سپا میں گلیمر کو لے کر آئے اور انہوںنے صنعتی گھرانوں سے اپنے گہرے تعلقات کا فائدہ پہنچایا ۔حالانکہ ملائم سنگھ یادو کی آنکھ اور کان بننا پارٹی کے کئی نیتاﺅ ں کو راس نہیں آیا ۔ملائم سنگھ کی ایک خوبی ہے جو کسی دیگر لیڈر میں نہیں مل سکتی اگر کوئی اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ رہے وہ اسے کبھی نہیں بھولتے ۔اور وہ اس کے بارے میں جو بھی رائے ہو اس شخص کو خدمت کا موقع ضرور دیتے ہیں ۔امر سنگھ بھی انہیں لوگوں میں سے ایک تھے جو ہمیشہ ملائم سنگھ کے قریبی بنے رہے ۔انہوںنے کہا کہ رام گوپال یادو ،اعظم خاں،شیوپال یادو سمیت ،زیادہ تر لیڈر ملائم سنگھ کے فیصلے سے بہت خوش بھلے نہ رہے ہوں لیکن ایک علاقائی پارٹی اور اس کے صدر کے ارد گرد گھومتی ہے ااور امر سنگھ ملائم سنگھ یادو کی آنکھ کان بن گئے تھے اس سے بہت سے نیتا ان سے خار کھانے لگے ۔ایک زمانے میں اتر پردیش کے اقتدار کے چانکیہ کہے جانے والے اب ہمارے بیچ نہیں ہیں ۔بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے اور خاندان کو اتنا بڑا نقصان سہنے کی ہمت دے ۔ہم شری امر سنگھ کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
پھر آمنے سامنے ایل جی اور سی ایم
راجدھانی دہلی میں کورونا انفیکشن کی بڑھتی رفتار کے درمیان ایک بار پھر دہلی کے ایل جی اور وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سرکار کے درمیان تکرار بڑھے گی اور دونوں طرف سے تلواریں کھنچ گئی ہیں ۔کیونکہ ایل جی نے کجریوال سرکار کے ایک اہم فیصلے کو 24گھنٹے کے اندر مسترد کر دیا ۔جس کے تحت انلاک 3میں ہوٹل اور ہفتہ واری بازار کےلئے تجرباتی طور پر پھر سے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر انہوںنے روک لگا دی ۔اس قدم کے پیچھے دہلی میں بڑھتے کورونا وائرس کے مریضوں کو بتائی جا رہی ہے ۔ایل جی کا کہنا ہے کہ صورتحال نازک ہے اورخطرہ دور نہیں ہوا ہے ۔اسی کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے ۔انلاک 3کے لئے گائڈ لائن جاری کرتے ہوئے کجریوال سرکار نے دہلی میں ہوٹلوں کو کھولنے کا فیصلہ لیا تھا ۔1اگست سے سات دن کے لئے تجرباتی بنیاد پر ہفتہ واری مارکیٹ کو کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور اگر لوگوں نے سماجی دوری بنائے رکھی اور کورونا کی کوئی خبر نہیں آئی تو اس کو لگاتار بنائے رکھنا تھا ۔لیکن 24گھنٹے کے اندر ہی کجریوال کے اس اہم فیصلے کو ایل جی نے خارج کر دیا ۔جس سے دونوں میں ٹکراﺅ بڑھ گیا تھا ۔ایل جی نے دہلی پولیس کے تجویز کردہ وکیلوں کے پینل کو منظوری دی تھی لیکن کجریوال کیبنٹ نے اسے مسترد کر دیا ۔ایل جی پینل نے اپنے مخصوص اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس پینل کو منظوری دینے کا فیصلہ کیا تھا ان دونوں مسئلوں کو لے کر دونوں میں ٹکراﺅ بڑھے گا دیکھتے ہیں کہ کون صحیح ہے ؟ایل جی یا کجریوال سرکار۔
(انل نریندر)
ایجوکیشن پالیسی میں وسیع تبدیلی!
مرکزی کیبنیٹ نے آخرکار 34سال پرانی ایجوکیشن پالیسی میں تبدیلی کر کے ایک نیا باب رقم کر دیا ہے ۔بدلتے پس منظر میں اس میں اسکول سے لے کر ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں ،جو پالیسی ساز پہل ہے ۔وہ آنے والے وقت میں ملک اور سماج کے مختلف پہلوﺅں کو گہرائی سے متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اسکولی سطح پر 10+2سسٹم کو الوادع کر دیا گیا ہے ۔اس کی جگہ 5+3+4لانے کی قواعد ایسی ہے جس سے بچے نو عمری میں ہی باقاعدہ طور پر اسکول کی دہلیز پر کھڑے کر دئیے جائیں گے ۔لیکن یہ سچائی ہے کہ ان کے رویے میں ایسا سماج پنپ رہا ہے اس کے علاوہ اسکولی تعلیمی سطح پر کچھ ایسی پہل کی گئی ہے جس کی تعلیمی ورلڈ میں برسوں سے مانگ کی جا رہی تھی ۔مودی سرکار 2014میں پہلی بار جن وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اس میں نئی تعلیمی پالیسی بھی شامل تھی ۔اور اس کے بعد سے اس پر بدستور کام جاری تھا ۔1986میں لاگو کی گئی موجودہ تعلیمی پالیسی کی جگہ لینے والی نئی ایجوکیشن پالیسی کے تحت وزارت انسانی ترقی کا نام پھر سے بدل کر وزارت تعلیم ہو جائے گا ۔پچھلے ساڑھے تین دہائیوں میں نہ صرف ٹیکنالوجی کا ڈیپلمینٹ ہوا ہے بلکہ عالمی پس منظر میں بھی بڑی تبدلیاں آئی ہیں ۔اس کے علاوہ موجودہ تعلیمی سسٹم کئی اسٹنڈرڈ پر کسوٹی پر کھرا نہیں اترا ۔نئی تعلیمی پالیسی میں وسیع پیمانے پر تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے کم سے کم یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سرکار نے تبدیلیوں کو لے کر کوئی سستی نہیں دکھائی چاہے تعلیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے اس میں تین سال کی فری اسکولنگ معیاد کو شامل کرنے کی بات ہو یا کم سے کم پانچویں کلاس تک کا ذریعہ تعلیم مادری زبان یا مقامی یا علاقائی زبان کو بنانے کی ہو ایسے تمام بڑے بڑے فیصلے نئی تعلیمی پالیسی میں شامل ہیں جن پر سماج میں تلخ بحث جاری ہے ۔موجودہ تعلیمی سسٹم آج کے زمانے میں کئی سطح پر کسوٹی پر کھرا نہیں اُتر پا رہا ہے ۔مثلاتحریکی رپورٹ سال در سال دکھائی آتی ہے کہ کیسے ہائی اسکول کے طالب علم ابتدائی تعلیم کے ریاضی یا زبان سے جڑے عام سوالات کا جوابات نہیں دے پاتے تھے ۔یا پھر کیسے ڈگریاں لے کر کالج چھوڑنے والے لاکھوں نوجوان روزگارکے بازار میں خود کو پست پاتے ہیں ۔لیکن نئی تعلیم پالیسی میں ابتدائی اسکولوں کی تعلیم سے پہلے تین سال سے چھ سال کی عمر کے بچوں کے لئے پہلے پرائمری کا ایک نصابی اور بنیادی شکل سے ایک اہم ہے ۔کیونکہ تعلیم میں شہری و دیہات یا اقتصادی یا سماجی اسباب سے بننے والا عدم توازن امور سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔امتحان اور نمبروں کا سسٹم میں ایسی تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے کہ بچے ذہنی دباﺅ میں نہ رہیں اور ان میں محاسبہ صلاحیت کا فروغ ہو اسی طرح بچے کے بستے کا کتابوں کا بوجھ کم کرنے کی کوشش قابل خیر مقدم ہے ۔دراصل وسیع تبدیلی کی امید جگاتی ہے نئی تعلیمی پالیسی عمل کی کسوٹیوں پر کتنی کھری اترتی ہے یہ دیکھنے کے لئے تھوڑا انتظار کرنا ہی ہوگا ۔تعلیم کے کمرسلازیشن پر سرکار نے کنٹرول نہیں کیا تو یہ برابری کی علامت سماج کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتی ہے ۔ممکن ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اس لئے اس کی مخالفت بھی کریں ۔
(انل نریندر)
03 اگست 2020
خود جیتے اب دوسروں کو پلازمہ دے کر جلا رہے ہیں
کورونا وبا کے دوران متاثرہ مریضوں کے علاج کے طور پر آپ کو ایک لفظ بار بار سننے کو ملتا ہے۔وہ پلازما تھراپی ہے۔ چونکہ کورونا سے بچنے کے لئے ابھی تک کوئی ویکسین مارکیٹ میں نہیں آئی ہے ، لہذا اسے بطور تجربہ استعمال کیا جارہا ہے۔ ویسے ، قومی دارالحکومت میں کوویڈ مریضوں کی تعداد کم ہوگئی ہے ، جن کی حالت سنگین ہے ، انہیں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ، جتنے مریض سنجیدہ ہیں ، اس تھراپی کی مدد سے ، تحقیقات کو محفوظ کیا جارہا ہے۔ اس تھراپی کے ذریعہ ، ایک ایسے شخص کا پلازما جس نے کورونا کے ساتھ جنگ ??جیت لی ہے وہ دوسرے کورونا مریض کی جان بچاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سب نے اس کا نام سنا ہو ، لیکن بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ پلازما یا پلازما تھراپی کیا ہے۔ پلازما خون کا بڑا حصہ ہے۔ خون میں آر بی سی ، ڈبلیو بی سی ، پلیٹلیٹ کے علاوہ دیگر تمام مائع مواد پلازما کہلاتے ہیں۔ انسانی جسم کے خون میں 55 فیصد سے زیادہ پلازما ہوتا ہے۔ پلازما میں پانی کے علاوہ ہارمون ، پروٹین ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گلوکوز معدنیات پائے جاتے ہیں۔ خون میں ہیموگلوبن اور آئرن کی وجہ سے خون سرخ ہوتا ہے۔ تاہم ، اگر پلازما خون سے الگ ہوجاتا ہے تو ، یہ پیلا پیلا مائع بن جاتا ہے۔ پلازما کا بنیادی کام جسم کے مختلف حصوں تک ہارمون ، پروٹین اور غذائی اجزاءلے جانا ہے۔ اب اگر جسم میں کسی بھی قسم کا وائرس یا بیکٹیریا حملہ کرتا ہے تو ہمارا جسم اس سے لڑنا شروع کردیتی ہے ، جس کے بعد جسم میں اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد اینٹی باڈیز اس بیماری سے لڑتے ہیں۔ ایمس کے لیب میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے ایم ڈی ، ڈاکٹر راجیو رنجن نے وضاحت کی ہے کہ انفیکشن کے خلاف اینٹی باڈیز ان لوگوں میں تیار کی جاتی ہیں جو کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔ یہ وائرس کے خلاف لڑنے کے قابل ہے۔ اس صورت میں ، علاج شدہ مریضوں کا پلازما کوفڈ مریض میں منتقل ہوجاتا ہے۔ وائرس میں کمی آنا شروع ہوتی ہے جب پلازما تھراپی کے ذریعے علاج شدہ مریض سے اینٹی باڈیز کوویڈ کے جسم میں انجکشن کی جاتی ہیں۔ اس سارے عمل کو پلازما تھراپی کہا جاتا ہے۔
(انل نریندر)
سوشانت سنگھ خودکشی کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے
ہر دن ، سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے بارے میں نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ ممبئی پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اب سوشانت کے والد کی ایف آئی آر کے بعد ، بہار پولیس نے بھی اپنی سطح پر اس معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ حال ہی میں ، اس سے قبل ایک رات قبل اس کے گھر میں منعقدہ پارٹی میں ایک بڑا نام بھی موجود تھا۔ ادھر ، بہار حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل للت کشور نے کہا کہ انہوں نے بہار پولیس میں ریا چکرورتی کی درخواست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ایک اعتراض درج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک ریاست کی پولیس تفتیش کے لئے دوسری ریاست جاتی ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں ممبئی پولیس اس معاملے کی تحقیقات میں بہار پولیس کی مدد نہیں کررہی ہے۔ سوشانت سنگھ راجپوت کی خود کشی کے بعد جس طرح کی پیشرفت سامنے آ رہی ہے ، اس سے یہ خوف بڑھتا جارہا ہے کہ آیا وہ محض نفسیاتی دباو¿ کا نتیجہ تھا یا اس کے پورے پس منظر کا ، جس کا وہ سامنا نہیں کرسکتا۔ پٹنہ میں سوشانت کے والد کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر میں ، سوشانت کی خاتون دوست ریا چکرورتی نے غیر ذمہ دارانہ کام سے لے کر پیسہ چھیننے اور دباو¿ کی صورتحال پیدا کرنے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں اب تک بہت سارے بالی ووڈ پروڈیوسروں ، ہدایتکاروں ، اداکاروں اور دوستوں اور سوشانت سنگھ کے کنبہ سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اب تک کے الزامات کے مطابق ، سوشانت فلموں کی کمی اور کچھ مخلوط فلموں کے ضیاع کی وجہ سے افسردگی میں چلا گیا تھا اور آخر کار خود کشی کرلی۔ اس کے بعد ، بہت سارے مشہور فنکاروں نے بالی ووڈ میں مروجہ اقربا پروری اور فحاشی کے خلاف آواز اٹھائی ہے ، جس کو سوشانت سنگھ راجپوت جیسے نوواردوں کو بھگتنا پڑا ہے اور جنھوں نے خود ہی ایک جگہ بنائی ہے۔ بی جے پی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر سبرہمنیم سوامی اپنے آتش گیر انداز کے لئے جانے جاتے ہیں۔ بے چین بولنا اس کی فطرت میں ہے۔ سوامی سوشانت خودکشی کیس میں بھی فعال کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں۔ وزیر مودی کو خط لکھنے تک وکیل کی تقرری سے ، سوامی نے سوشانت کیس پر بہت زور دیا ہے اور سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ بھی تیز کردیا ہے۔ اب سبرامنیم سوامی نے سوشل میڈیا پر ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے سوشانت سنگھ راجپوت کے قتل کو خودکشی نہ ہونے کو بتایا ہے۔ اس نے اس کی 26 بڑی وجوہات بتائیں ہیں۔ سوامی کے مطابق ، سوشانت کے کمرے میں پائی جانے والی اینٹی ڈپریشن دوائیں وہاں کے کسی نے لگائی ہو گی۔ اس نے کھانسی بنانے کے لئے استعمال ہونے والے تانے بانے پر بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ سوامی کے مطابق ، سوشانت کی گردن پر پائے گئے نشانات کسی بیلٹ کی طرح ڈھکے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سوشانت 14 جون کی صبح ویڈیو گیمز کھیل رہا تھا۔ سوامی کو لگتا ہے کہ افسردہ شخص ایسا ویڈیو گیم نہیں کھیل سکتا۔ کوئی خودکشی نوٹ نہ ملنا سوامی کو بھی دستک دے رہا ہے۔ اس نے اور بھی بہت سے دعوے کیے ہیں۔ اب وہ کتنے سچ ہیں ، کتنے جھوٹے ہیں وہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں سوامی نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے بھی بات کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں سی بی آئی انکوائری کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بہار پولیس کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنے کی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ اداکار کو اس معاملے میں حقیقت معلوم ہوسکے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...