Translater

17 اگست 2019

دیش کی حفاظت کے اہم حکمت عملی ساز اجیت ڈوبھال

چانکیہ جیسا دماغ اور بازی واﺅجیسا حوصلہ رکھنے والے ہندوستان کے حفاظت کے حکمت عملی ساز ماسٹر اجیت ڈوبھال کا نام بچہ بچہ جانتا ہے ،اہم حکمت عملی اور سفارتی امور میںان کی رائے اہم رہی ہے ۔1945میں اتراکھنڈ کے برہمن گڑوالی خاندان میں پیدا ہوئے اجیت ڈوبھال ۔ان کے والد فوج میں برگیڈیر تھے 1968میں آئی ٹی ایس امتحان میں ٹاپ کر کے کیرل بیچ کے آئی پی ایس افسر بنے 17سال کی ملازمت کے بعد ہی ملنے والا میڈل انہیں 6سال کی ملازمت میں ہی مل گیا۔ڈوبھال 33سال سے زیادہ وقت تک خفیہ افسر رہے انہیں را کے انڈر کور ایجنٹ کے طور پر سات سال مسلمان بن کر پاکستان میں رہے ۔آپریشن بلو اسٹار میں کامیابی کے ہیرو بنے ڈوبھال رکشہ والا بن کرسورن مندر میں گئے اور وہاں دہشت گر دوں کی جان کاری فوج کو دی ۔1987میں خارستانی دہشت گر دی کے وقت پاکستانی ایجنٹ بن کر دربار صاحب میں گئے اور 3دن دہشت گردوں کے ساتھ رہے اور دہشت گردوں کی ساری جانکاری لیکر آپریشن بلیک ٹھنڈر کو کامیابی سے انجام دیا ۔اور1988میں کیرتی جکر ملا آر ایس ایس کے قریب ہونے کی وجہ سے مودی سرکار نے انہیں قومی سلامتی مشیر بنا یا ۔بلوچستان میں را کو پھر سے سرگرم کیا اور بلوچستان کا اشو عالمی بنا یا جب کیرل کی 45نر سوں کا آئی ایس ایس نے اغوا کیا تو ڈوبھال خود عراق گئے ااور نرسوں کو بحفاظت لیکر آئے ۔انہیں راشٹر پتی میڈل بھی مل چکا ہے ۔2015مئی میں پہلا سرجیکل اسٹرائک آپریشن انہیں کی نگرانی میں انجام دیا گیا ۔2016ستمبر آزاد بھارت کی تاریخ میں 1971کے بعد یہ تاریخی دن تھا جس میں پچاس آتنکوادی مارے گئے تھے ۔پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں 3کلومیٹر اندر ہندوستانی فوج کھسی اور 40آتنکی مارے گئے ۔لیکن ان دو نوں سرجیکل اسٹرائک میں ہندوستان کا کوئی فوجی نہیں مرا ۔ڈوبھال کو ایک تو بازی راﺅ کہا جا تا ہے کہ میں دہلی جیت سکتا ہوں ۔دفعہ 370کے ہٹنے کے بعد سے ڈوبھال وادی کشمیر مودی جی کے مین آن دی اسپاٹ بنے ہوئے ہیں جو وہاں کے حالات پر پل پل کی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور سرکار کو جانکاری دے رہے ہیں اور ساتھ ہی مقامی لوگوں سے مل رہے ہیں اور ان کی پریشانیوں کا جائزہ لیکر افسران کو ہدایت دے رہے ہیں ۔انہوں نے وادی کی حفاظت کا جائزہ لےنے کے لئے شہر اور جنوبی کشمیر کے علاقوںکا ہوائی سروے کیا ہے ۔قومی سلامتی سے وابستہ زیادہ تر کاروائیوں کا سہرا اجیت ڈوبھال کو جا تا ہے ۔
(انل نریندر)

ہانگ کانگ کے حالات دھماکہ خیزکبھی بھی بم پھٹ سکتا ہے

ہانگ کانگ میں پچھلے 2ماہ سے مظاہروں کا دور جاری ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔انتظامیہ اور چین کے لئے مشکلیںبڑھ رہی ہیں ۔واضح ہو جمہوریت نواز ہزاروں مظاہرین نے ہوائی اڈے پر دھرنا دیا ہوا ہے ۔جس وجہ سے پروازیں بند کرنی پڑی۔اس سے نہیں لگتا کہ تنازعہ کا کوئی حل نکلے گا ۔بلکہ معاملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔وہاں ہنگامہ کی جڑ حوالگی کا بل ہے ۔جس میں یہ سہولت ہے کہ اگر کوئی شخص چین میں جرم کر کے ہانگ کانگ میں پناہ لیتا ہے تو اسے جانچ میں شامل ہونے کے لئے چین بھیج دیا جائیگا۔اگر یہ بل پاس ہوا تو چین کو ان علاقوں میں بھی مشتبہ افراد کو حوالہ کرنے کی اجازت مل جائیگی ،جن کے ساتھ ہانگ کانگ کے سمجھوتہ نہیں ہے ۔جیسے ملزم شخص کو تائیوان اور مکاﺅمیں بھی حوالہ کیا جا سکے گا ۔مظاہروکے دوران لوگوں کے ہاتھوں میں تختیوں پر لکھا تھا ہانگ کانگ ہمارا قتل کر رہا ہے اور وہ محفوظ نہیں رہ گیا ہے ۔لیکن اس کے بر عکس چین نے اس مظاہرے کے دوران وہاں کے پولیس حکام پر پیٹرول بم پھینکنے کے واقعات کو دہشت گر دی بتایا ہے ۔حالات کی پیچیدگی سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ وہاں حالات کتنے خراب ہیں۔تشدد پر مظاہرین پر قابوپانے کےلئے چین کی طرف سے دخل دیا جاسکتا ہے ۔سی سی ٹیوی چینل کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے میںکوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔غور طلب ہے کہ ہانگ کانگ ابھی بھی چین کا حصہ ہے وہاں ایک دیش 2نظام کے تحت حکمرانی کرنی ہوتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہانگ کانگ کے پاس آزادی ہے اور چین کے باقی شہریوں کے مقابلے اس کے شہریوں کے پاس کچھ مخصوص اختیارات ہیں ۔لیکن وہاں کے حوالگی بل میں کی گئی تبدیلی کے اعلان کے بعد چین کو ہانگ کانگ میں کسی بھی شخص کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کر نے اور اسے واپس بھیجنے کو لیکر کئی اختیا ر حاصل ہو جائیںگے ۔باقی معاملوں پر چین کا جو رویہ رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے تازہ کوشش نے فطری طور پر وہاں کے لوگو ں کی پریشانی کو بڑھا دیا ہے ۔ہانگ کانگ کے باشندوںکا کہنا ہے کہ نئے بل کے لاگو ہونے کے بعد صرف یہاں کے لوگو ں پر چین کا قانون نافذ ہو گا بلکہ سیدھے طور پر ہانگ کانگ کی سرداری کو بھی متاثر کریگا ۔جون میں اس بل کو پاس کرانے کی کوشش کی گئی تو زبردت احتجاج شروع ہو گیا ۔چیف ایگزیٹکیٹوکےری لیم نے عوام کی بھاری مخالفت کو دیکھ تے ہوئے 15جون کا بل عارضی طور پر معطل رکھنے کا اعلان کردیا ۔لیکن مظاہرین ا سکو منسوخ کر نے کی مانگ کر رہے ہیں ۔کیری لیم کی ساخ ہانگ کانگ کی سیاست میں چین حمایتی نیتا کی ہے ۔1997میں برطانیہ اور چین کے درمیان ہوئے معاہدے سے چین کو اپنا یہ پرانہ جزیرہ واپس ملا۔سمجھوتہ میں ایک دیش اور دو نظام کے قیام کے بعد ہانگ کانگ کو اگلے 50برسوں کے لئے اپنی آزادی کے علاوہ ،بالادستی،قانون اور سیاست نظام کو بنائے رکھنے کی گارنٹی دی گئی ہے ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حوالگی بل پاس ہونے کے بعد نہ صرف یہاں کے لوگوں پر چین کا قانون نافذ ہوگا بلکہ یہ سیدھے طور پر ہانگ کانگ کی آزادی کو بھی متاثر کریگا۔چین کا ایسے معاملوں میں جو ریکارڈرہا ہے اسے دکھتے ہوئے اس اندیشہ سے انکا رنہیں کیا جا سکتا کہ اس قانون کے وجود میں آنے کے بعد شبہ کے دائرے میں آئے لوگوں کو منمانے الزامات کے تحت گرفتار اور اذیت دیجائے گی ۔ہانگ کانگ میں حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں چین اس طرف کی تحریکوں کو طاقت سے کچلتا ہے ۔کہیں ہانگ کانگ میں بھی ایسا نہ ہوں ؟
(انل نریندر)

14 اگست 2019

کراچی میں ادا کار میکا کی پرفارمنس پر تنازع

بالی ووڈ گلوکار میکا سنگھ کا تنازع سے پرانہ رشتہ ہے وہ اکثر کسی نہ کسی تنازع میں پھنستے نظر آتے ہیں تازہ تنازع کشمیر سے 370 ختم ہونے کے مسئلہ پر بھارت اور پاکستان کے میکا سنگھ کے کراچی میں ایک ارب پتی کی بیٹی کی شادی کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے اور میکا سنگھ جس پاکستانی کی بیٹی کی شادی میں گئے اسے سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا قریبی مانا جاتا ہے۔ ارب پتی کی بیٹی میکا کی بہت بڑی پرستار ہیں اور وہ اپنی شادی کے موقع پر میکا کو لائیو پرفارم کرتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی خبروں کے مطابق 8 اگست جمعرات کو میکا نے کراچی میں اس شادی پر پرفارم کیا تھا۔ اور اتفاق سے بھارت نے آئین 370 کو پیر کے روز ختم کردیا تھا اور اس کے تین دن بعد میکا کا کراچی میں یہ شو ہوا اور ذرائع کے مطابق اس پرفارمس کے لئے موٹی رقم لی تھی ان کی موجودگی کی خبر اس وقت سامنے آئی جب کچھ مہمانوں نے ان کی فوٹو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا اور اب شوشل میڈیا پر جم کر نکتہ چینی ہورہی ہے اور پاکستان میں بھی اس ایشو پر سیاست شروع ہوگئی ہے اور بلول بھٹو کی پارٹی پی پی نے دونوں ملکوں میں کشیدگی کے درمیان ہندوستانی گلوکار میکا سنگھ کے کراچی میں موسیکی پروگرام پر سوال اٹھاتے ہوئے عمران خاں سرکار کو اڑے ہاتھوں لےنے کی کوشش کی ہے اور پارٹی کے نیتا سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ ہونی چاہئے اور کہا کہ میکا کو سیکورٹی کس نے دی اور انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کو پاکستان کا ویزا کیسے جاری کیا گیا؟ میکا کو اس پروگرام کو پیش کرنے کے لئے کہا گیا تھا جس کے لئے ک ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر دیئے گئے پنجابی گلوکار کے اس پروگرام سے ان کے ہندوستانی پرستار ناراض ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور ایک ٹوئیٹر پر لکھا ہے ۔ ملک دشمن تمہیں شرم آنی چاہئے، ایک دوسرے نے لکھا ہے کہ میکا سنگھ پا جی ہم ہندوستانیوں کو تم کو بہت پیار دیا ہے اور جب پاکستان نے ہم سے سارے رشتہ توڑ لئے ہیں تو سرحد پار سے پاکستان سے آتنکوادی کو بھیج رہا ہے اور ہماری پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ایسے حالات میں ایک پروگرام کےلئے پاکستان کیوں گئے کیا آپ گلوکار کی شکل میں آپ بھارت سے بڑے ہیں؟
(انل نریندر)

کیا سونیا کانگریس کی ڈوبتی نیّا کو پار لگا پائیں گی؟

ایک بار پھر مشکل دور سے گذر رہی کانگریس کا سونیا گاندھی نے دامن تھام لیا ہے اور 1998 میں جب وہ کانگریس کی صدر بنی تھیں اس وقت بھی کانگریس مسلسل ہار رہی تھی اور کانگریس کے کاریکرتاو ¿ں کی حوصلہ گرا ہوا تھا۔ آج کی طرح اس وقت بھی اپوزیشن بکھری ہوئی تھی اور اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی بھاجپا سے مقابلہ کرنا مشکل تھا تو آج نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی سے اس وقت سے زیادہ مشکل ہے ۔ لوک سبھا کی چناو ¿ میں بری طرح ہار کے سبب راہل گاندھی کے استعفی کے بعد کانگریس لیڈر شپ کے بحران سے لڑ رہی تھی حالانکہ کوئی دوسرا چہرہ لانے سے پہلے راہل کو آخیر تک منانے کی کوشش ہو رہی تھی اور وہ اپنے موقف پر قائم رہے اور کانگریس نے کسی دوسرے لیڈر پر عام رائے نہیں بنی تو مجبوراً سونیا گاندھی کو ہی پارٹی بچانے کے لئے انترم صدر کی ذمہ داری قبول کرنی پڑی اور حالانکہ یہ متبادل انتظام تک ہے جب تک کہ مستقل صدر نہیں چنا جاتا اس وقت تک سونےا گاندھی کام کرتی رہیں گی اور سونیا گاندھی کے سامنے چنوتیا کا پہاڑ کھڑا ہے اور ایک طرف پارٹی کو ڈسپلین میں لانے اور اوپر سے نیچے تک اس کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے پارٹی کے ہار کے بعد بڑے لیڈروں میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بند نہیں ہورہی تھی ۔ آنے والے ریاستوں کے اسمبلی چناو ¿ جیسے ہریانہ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، دہلی ہیں ۔ وہاں اور بھی برا حال ہیں جھار کھنڈ کے صدر نے تین دن پہلے استعفی دیا اور بڑے نیتاو ¿ں نے اپنی اوچھی حرکتیں جاری رکھیں جس کی وجہ سے انہیں کام کرنے نہیں دیا۔ ایسے ہریانہ میں بھوپیندر سنگھ ہڈا نے پردیش صدر اشوک تور کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کردیا ایسے ہی دہلی میں شیلا دکشت کے جانے کے بعد لیڈر شپ صفر ہوگئی ہے اور یوپی مہاراشٹر، گوا، کرناٹک، تلنگانہ، آسام میں بڑے نیتا اور ایم پی اور ایم ایل اے بھی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور انترم صدر کی کمان سنبھالنے کے بعد سونیا گاندھی کے سامنے ایک بڑی چنوتی لیڈر شپ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اتحاد کو بھی مبضوط کرنا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ سونیا کو آگے لاکر کانگریس نے ایک اچھا کام کیا ہے ان کی وجہ سے سیکولر طاقتیں متحد ہوں گی اور انہیں کی قیادت میں اسمبلی چناﺅ کو لے کر کافی امید بڑھی ہے۔غور طلب ہے کہ ہریانہ مہاراشٹر اور جھار کھنڈ کی اسمبلیوں کی معیاد پوری ہو رہی ہے ان تین ریاستوں میں انتہائی مضبوطی سے بھاجپا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔کیا سونیا گاندھی کانگرےس کی ڈوبتی نیا کو پار لگا پائیں گی؟
(انل نریندر)

پاک مقبوضہ کشمیر اور اقصائی چن بھارت کے بنیادی حصے

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں دفعہ 370 کے متعلق سنکلپ و ریاست تشکیل نو بل پر کہا تھا کہ پاکستان کے قبضہ والامقبوضہ کشمیر اور اقصائی چن سمیت جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ جب جب میں نے جموں و کشمیر بولا ہے تب تک اس میں پاکستانی اقصائی چن بھی شامل ہیں اور اس بیان کے بعد پاکستان اور چین کے سامنے بھارت نے جموں کشمیر کو لے کر اپنی سیاست اور اپنی حکمت عملی صاف کر دی ہے اور آئیے جانتے ہیں کہ کشمیر کے ان حصوں کے بارے میں کہ کیا ہے مقبوضہ کشمیر یہ جموں کشمیر کے مغرب میں واقع ہے اور ریاست کا حصہ ہے اور جسے پاکستان نے 1947 میں حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا اور اب وہ پاکستان اسے آزاد کشمیر کہتا ہے اور وہ اسے پاکستان نے دو حصوں میں بانٹا ہوا ہے ایک حصہ کشمیر میں ہے اور ایک حصہ گلگت بلتستان ہے۔ کشمیر کا رقبہ 13300 مربع کلو میٹر یعنی ہندوستانی کشمیر کا تین گنا ہے اس کی آبادی 45 لاکھ ہے اور پی او کے کی سرحدیں پاکستان ، پنجاب اور واک کھانے گلیارے ، چین کے شنگ زیان علاقے اور ہندوستانی کشمیر سے مشرق میں لگتی ہےں اور اس کی راجدھانی مظفر آباد ہے اس میں آٹھ ضلع اور 19 تحصیلیں اور 182 وفاقی کونسلیں ہیں اور پاکستان کی مقبوضہ کشمیر کی حالت بہت خراب ہے اس حصہ میں حکومت جان بوجھ کر ترقی نہیں دی ہے کہ یہاں پر آباد لوگ جان بوجھ کر دہشت گردی کرسکیں اور ہندوستان کو نقصان پہنچا سکیں۔ممبئی دہشتگردانہ حملہ میں زندہ پکڑے گئے اجمل قصاب کو پی او کے کی راجدھانی مظفر آباد میں ہی ٹریننگ دی گئی تھی۔ گلگت کو کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے برطانوی حکومت کو پٹہ پر دے دیا تھا۔ بلتستان مغربی لداخ کا علاقہ تھا ایک حصہ سکسم وادی رقسم اور بلتستان کا علاقہ 1963 میں پاکستان نے چین کو سونپ دیا تھا اس علاقہ کو ٹرانس کاکورم ٹریک بھی کہا جاتا ہے وہیں اقصائی چن جموں کشمیر کا شمال مشرقی حصہ ہے اور ہندوستان اس پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے اور چین اس کو اپنے سنگ زیان ریاست کا علاقہ بتایا ہے جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ 1962 کی لڑائی میں یہاں کی 38 ہزار مربہ کلو میٹر پر قبضہ کر لیا تھا اقصائی چن کا یہ علاقہ ویران اور برفیلا ہے اور یہ اروناچل کی سرداری کے تنازع کی جڑ تھے اس دوران دلائی لامہ کو پناہ دینا چین کو ناگوار گزرا فارورٹ پالیسی کے تحت چیک مور نے کنٹرول پر ہندوستانی چوکیاں بنائی اور اقصائی سڑک تعمیر میں دونوں ملک کو جنگ کی طرف دھکیل دیا تھا۔چین نے اکتوبر 1962 میں ہندوستان پر حملہ کر دیا تھا ۔20 نومبر 1962 کو جنگ بندی کر کے متنازع علاقوں میں فوج ہٹا لی تھی لداخ کا علاقہ ٹرانس کاکورم ٹریک پر بھی چین قبضہ کر رکھا ہے لیکن وزیر داخلہ نے صاف کیا ہے کہ مرکزی حکمراں لداخ میں اور ٹرانک کاکورم میں شامل ہوگا ۔
(انل نریندر )

13 اگست 2019

بدلا بدلا لگتا ہے اروندکیجریوال کا مزاج!

راجدھانی میں پھر سے غیر منظور کالونیوں میں مقیم لوگوں کو دہلی سرکار نے چناﺅسے پہلے پکا کرنے کا اعلان کرکے اخبارات میں سرخیاں بٹورلیں ہیں اور ان کے مطابق سبھی 1797غیر منظور کالونیوں کا پکا کیا جائیگا۔اس سے قریب ساٹھ لاکھ لوگوں کو فائدہ ہونے والا ہے ۔اب تو فری وائی فائی دینے کا بھی اعلان ہو چکا ہے 25سال سے ان کالونیوں کو پکا کرنے اور وہاں رہنے والوں مالکانہ حق دینے کی بات ہو رہی ہے ۔آج تک ایک بھی کالونی پکی نہیں ہوئی اور ناہی رجسٹری کھلی۔کالونیوں کو پکا کرنے میں کافی دقتیں ہیں اور ان کو لیکر مختلف محکموں نے بنیادی رپورٹ تک تیار نہیں کی ہے ،خاص بات تو یہ ہے کہ پکی کالونیوں میں جس کا م یا سہولت کی بات ہوتی ہے ان میں سے زیاتر کالونیوں کو سالوں سے مل رہی ہیں ۔دراصل پہلے بھی کیجریوال نے اعلان کیا تھا کہ2017تک کی سبھی کالونیاں پکی کر دی جائیں گی ۔سوال یہ ہے کہ ان کالونیوں کی آئینی حیثیت کیا ہے ؟اس مسئلہ کو لیکر کیا کوئی سروے کرایا گیا ہے؟سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر کالونیوںکا مکمل نقشہ دستیاب نہیں ہے اور وہاں پبلک سہولیات دستیا ب کرانے کے لئے درکار زمین نہیں ہے ایسے میں قوائد کے مطابق یہ کالونیاں کیسے پکی ہو پائیں گی ؟کیجریوال نے ان سب پریشانیوں کا ضرور خیا ل رکھا ہوگا؟حقیقت تو یہ کہ دہلی اسمبلی چناﺅ سے پہلے وزیر اعلی انوند کیجریوال کا سیاسی مزاج بولا ہوا نظر آرہا ہے ۔اب وہ نریندرمودی سرکارکے ساتھ بغیر کسی جھگڑے کے مل کر کام کرنے کو تیا ر ہیں ۔اتنا ہی نہیں انہوں حال میں کئی موقوع پر مرکزی سرکار کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ،فلحال ساگر پور گاﺅں میں جمنا کنارے تالاب بنانے کے پائلٹ پروجیکٹ شروع ہونے پر بھی انہوں نے مرکزی وزیر پانی گجندر سنگھ شیکھاوت کا شکریہ ادا کیا ،اس سے پہلے بھی پروجیکٹوں کی منظوری کے لئے مودی سرکار اور این جی ٹی کا شکریہ ادا کر چکے ہیں ۔سیاسی واقف کا رکہتے ہیں کہ ساسی طور پر بدلے رویہ کے ذریعہ اروندکیجریوال جنتا کو یہ پیغام دینا چانتے ہیں کہ جس سے لگے کہ دہلی سرکار کے رشتہ مرکزی سرکار کے ساتھ بہتر ہوئے ہیں ۔دراصل بدلے رخ سے پہلے 4سال تک عام آدمی پارٹی کے نیتا مرکزی سرکارپر کوموں میں روڑا اٹکا نے کا الزام لگاتے رہے ہیں ۔عام چناﺅ کے بعد دہلی اسمبلی کے آخری سال میں عاپ نے اپنی حکمت عملی بدلی ہے ۔وجہ کچھ بھی ہو ،دیر آئے درست آئے ۔
(انل نریندر)

دفعہ 370کے بعداب عوام کا دل جیتنا ہوگا!

 جموں کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے دفعہ 370کو ہٹانے کے بعد جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں آئین کے دفعہ370اور35Aاپنی سرکارکے فیصلہ کے بارے میں وضاحت کی اور بتایا کہ اس سے نئے کشمیر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لداخ کی ترقی بھی ممکن ہو سکے گی ۔ویسے بہتر یہ ہو تا کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب 370ہٹانے کے پہلے آتا بہر حال ان کے خطاب میں اس بات کا اندیشہ صاف جھلکتا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ امتیاز کے دن لدگئے ہیں ۔مودی سے کشمیر یابھارت ہی نہیں پوری دنیا جاننا چاہتی کہ اب 370ہٹنے سے اب آگے کیا ہوگا؟ کشمیریوں کو ان ساری مشکلات اور درد سے نجات ملی گی جو دہائیوں سے انہیں جھیل نی پڑ رہی ہے ۔ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار کا سارا زور اب وادی کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے اور ترقی پر ہوگا۔اس کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ کشمیریوں کا دل جیتنا ۔در اصل370کاغذوں پر تو ہٹ گئی ہے کیا کشمیر یوں کے دلوں سے اس کو ہٹا یا جاسکتاہے۔اس کے لئے کشمیریوں کادل جیتنا ہوگا۔تب حکومت کی پالیسیوں کی تئیںعوام میں بھروسہ پیداہوگا اور ریاست میں ترقی اور نوجوانوں کو روزگار اور بچوں کو اچھی تعلیم اور ہیلتھ سیولیات کا فائدہ ملنے لگے گا۔ اب دیکھنا ہوگاکہ سرکارکشمیریوں کے لئے کھڑی اتر تی ہے اور کشمیریوں کا دل جیتنا یقینی طور پر کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔عوام کے دل میں کئی سوال پیدا ہوئے ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کی ضرورت کیوں پڑی ۔اور اس کے لئے جو طریقہ اپنا گیا کیا وہ بہتر تھا؟بہرحال وزیر اعظم نریندر مودی اس با ت کو مسترد کر نا مشکل ہے کہ دفعہ 370کے سبب علیحدگی پسندی اور دہشت گر دی اور کنبہ پرستی و کرپشن کو تقویت ملی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ دفعہ 370کو ڈھال بنا کر جس طرح جموں کشمیر میں مرکزی قوانین اور اسکیموںکو نافذ نہیں کیا اس سے وہاں زمینی سطح پر سیاسی فروغ کو بڑھاوا نہیں ملا ۔وزیر اعظم نے بتایا کہ جموں کشمیر کو ملے خصوصی درجہ سے وہاں تعلیم کا حق اور کم از کم مزدوری قانون نے صفائی ملازمین اور اقلیتوں کی سلامتی سے متعلق قانون لاگو نہیں کیا ۔بیٹیا ں خقوق سے محروم رہیں اور دلیتوں اور دہگر طبقات کو ریزرویشن کا فائدہ نہیں مل اور پاکستان سے آئے پناہ گذینوں کو ووٹ کا حق نہیں ملا ۔لداخ کو مرکزی ریاست بنانے کی مانگ بہت پورانی تھی اب لداخ کے سرکاری ملازمین پولیس ملازمین کو جلدی مرکزی ریاستوں کی طرح سہولیات ملیں گی ۔انہوں نے بتایاکہ ریاست میں پرائیویٹ کمپنیوں کے آنے سے نوجوانوں کی سب سے بڑی ضرورت پوری ہو گی اور انہیں روزگار ملے گا تو شاید ان کے ہاتھوں سے پتھر چھوٹ جائیں ۔پوری دنیا کو بھی صاف پیغام کہ بھارت پوری شدت سے کشمیر میں دہشت گردی اورتشدد ختم کر کے کشمیریوں کو قومی دھارا میں جوڑنے میں لگا ہے اس لئے دہشت گردوں اور علیحد گی پسندوں کی قمر توڑنی ہوگی ۔اورریاست کو تیزی سے ترقی کے راستہ پر لےجانے کے لئے طاقت کا استعمال کی پالیسی چھوڑکر کشمیری عوام کا دل جیتنے کی پالیسی پر چلنا ہوگا ،تبھی صحیح معنوں میں دل جیت سکیںگے اور وزیر اعظم کے پیغام کا بنیادی مقصد یہی ہے ۔
(انل نریندی)

11 اگست 2019

راجدھانی میں روڈ پر جھگڑوں کے بڑھتے واقعات تشویس کا موضوع ہیں

راجدھانی دہلی میں روڈ ریج کے معاملہ مسلسل بڑھ رہے ہیں معمولی طور پر کار لگ جانے ،گاڑی کو سائڈ نہ دینے پر کچھ لوگ مار پٹائی اور قاتلانہ حملہ سے نہیں ڈرتے ۔تازہ واقعہ بدھ کی رات کا ہے حوض خاص علاقہ میں ایک کار سوار بدمعاشوں نے روڈ ریج کے دوران اسپات کمپنی اسٹیل اتھارٹی اوف انڈیا کے چیئر مین پر جا ن لیوا حملہ کردیا ،موقع پر پہنچی پولیس نے چیئر مین چودھری کو بجا لیا ۔اور بدمعاشوں کو گرفتار کر لیا ۔پولیس نے ان پر اقدام قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا ہے ۔واردات کے وقت چودھرے اپنے دفتر سے گھر جا رہے تھے تبھی کچھ دوری پر ان کی کار کو دوسری کار نے ٹکر مار دی چودھری اپنے ڈرائیور کے ساتھ کا ر سے باہر نکلے تو دوسری کا میں بیٹھے چار لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا ۔جس وجہ سے سر اور پیر وغیرہ می چوٹ آئی وار دات کے وقت اچانک پولیس کی گاڑی موقع سے گزر رہی تھی تب اس نے دیکھا کہ یہ بد معاش لوہے کی چھڑ سے کسی پر حملہ کر رہیں تو فورن پولیس پہنچی اور حالا ت کو سنبھالا ۔دو پولیس والے موقع پر پینچے اور دو بدمعاشوں کو دبوچ لیا اور دیگر دو فرار ہوگئے۔واردات کے وقت سڑک پر کافی گاڑیوں کی بھیڑ ہوتی ہے ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ حملہ کرنے والے بدمعاش ایک باقاعدہ مجرم تھے اور ان کو پولیس کا ذرا بھی خوف نہیں تھا دہلی میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی گاڑی ذرا سی بھی ٹچ ہو جائے تو لوگ ناراض ہو کر گالیوں پر اتر آتے ہیں اور نوبت مار پیٹ تک آجا تی ہے ۔میٹرو سٹی میں بھاگ دوڑ کے درمیان ذہنی کشیدگی پیدا ہونالازمی ہے لیکن ہر حالت میں برداشت ہونا چاہئے ۔تالپ جھگڑے کی وجہ سے جسمانی نقصان نہ پہنچے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے روڈ ریج کے واقعات پر لگام لگے چیئر مین کے ساتھ ہوئے واقعہ مین ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا ملے تاکہ یہ دوسرے قصور واروں کے لئے مثال بنے۔اور روڈ ریج میں قتل جیسے واردات کو انجا م دینے سے پہلے بدمعاش سو بار سوچے۔
(انل نریندر)

بوکھلاہٹ میں پاکستان نے اٹھائے مایوسی کے قدم

اس بات کا پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ کشمیر کو ملے خصوصی درجہ کی دفعہ 370کو ہندوستان کی جانب سے ہٹانے پر پاکستان کی طرف سے رد عمل ضرور ہوگا اور ویسا ہی ہوا۔پاکستان نے ہندوستانی ہائی کمشنر کو دیش سے نکال دیا اور باہمی تجارت کو ملتوی کردیا اور سمجھوتہ ایکسپریس کو کھڑا کر دیا اور کہا کہ اپنا ڈرائیور بھیجو جو یہ ٹرین کو لے جائے۔ہندوستانی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو واپس جانے کو کہہ دیا اور کشمیر مسئلے کو اقوام متحدہ میں لےجا نے کا فیصلہ لیا اور اس کے علاوہ بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیا ہ کے طور پر منانے کا بھی فیصلہ لیا ۔البتہ اس نے صاف کیا کہ وہ اپنا ہوائی زون ہندوستانی جہازوں کے لئے بند نہیںکر رہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو بنیادی حقیقت کا احساس ہے اورناہی اس نے ماضی گزشتہ سے کو ئی سبق لیا ۔پاکستان کے حکمراں اپنے اندرونی مشکلات سے نکلنے کے لئے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ کشمیر مسئلے کو بین الا قوامی ستح پر اچھال نے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ اس کاپرانہ راگ ہے پاکستان بھی جانتا ہے کہ اسکے ان قدموں سے بھارت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑیگا ۔اس کے لئے بھارت کو نہیں زیادہ نقصان پاکستان کو ہی ہونے والا ہے ۔جب ہندوستان نے کچھ دنوں پہلے پاکستان کا ترجیحی ملک کا درجہ ختم کردیا تھا تو وہ بہت مایوس ہوا تھا ۔اس کے ردے عمل میں اس نے بھارت سے آنے والی ٹیکس سے مستثنی چیزوں پر بھاری ٹیکس لگا دیا تھا ۔لیکن اتنے بھر سے اس کو تسلی نہیں ہوئی تو اس نے بھارت کے فیصلے کو بین الا قوامی عدالت میں چیلینج کر نے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ اب اسی نے باہمی تجارت کو ختم کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔حقیقت میں بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت اتنی نہیں ہے کہ اسے بند کرنے سے بھارت کو نقصان پہنچے۔پاکستان نے دفعہ 370کو اقوم متحدہ اور بین الا قوامی عدالت میںلے جانے کی دھمکی دی ہے ۔لیکن وہ بھول رہا ہے بھارت نے اپنے آئین کے سسٹم میں ہی تبدیلی کی ہے جس سے پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے دیش کا کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے ۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں صاف کہا کہ جموں کشمیر کو خصوصی درجہ ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کےلئے ختم کیا گیا ہے اور یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔پاکستان اپنی جوابی کارروائی کے تحت دو محاذوں پر کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پہلا سفارتی ذرایع پر بھارت کی ساکھ خراب کر نا اور دوسرا بھارت میں دہشت گر دی کو کشمیری شہریوں ذریعہ سے اس کو برہاوا دینا ۔پہلی کوشش میں وہ امریکہ سے امید کریگا کہ وہ اس کی افغانستان سے فوج کی واپسی کو لیکر دباﺅ ڈالے اور وہ کشمیر میں ثالیثی کے لئے بھارت پر دباﺅ بنائے لیکن امریکہ نے یہ کہہ کر پاکستان کو جھٹکا دیا کہ وہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے یہی حال پاکستان کا اقوام متحدہ میں بھی ہوگا کہ 370کے مسئلے پر پاکستان کی سنی جاتی ہے یا نہیں۔کشمیر کو ملی مختاری آئین کے ایک عارضی سہولت کے تحت تھی اب اسے ختم کر بھارت میں اسے وفاقی دھانچے میں شامل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس پر اقوام متحدہ کو بھی کوئی اعتراض ہو سکتا ہے ؟ پاکستان کی عمران خان حکومت جو ایک طرفہ قدم اٹھایا ہے اس سے اس کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا ہے ۔بہر حال اس کے باوجود اقتصادی بہران سے لڑ رہے پاکستان کے جو حالات ہیں اس سے بھارت کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کوئی ایسی ویسی ہمت نہ کرے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...