Translater
28 ستمبر 2023
برج بھوشن کے خلاف کافی ثبوت !
لیڈی پہلوان جنسی اذیت معاملے میں ملزم ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے موجودہ صدر و بھاجپا کے ایم پی برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف الزام طے کرنے کو لیکر سنیچر کو راو¿ز اونیو کورٹ میں سماعت ہوئی ۔سماعت کے دوران دہلی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف کیس چلانے کیلئے کافی ثبوت ہیں ۔ جانچ میں ملے ثبوتوں کی بنیاد پر دہلی پولیس نے سنیچر کو کورٹ میں سماعت کے دوران کہا کہ معاملے میں ملزم پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے ۔ کورٹ میں دہلی پولیس نے کہا کہ برج بھوشن شرن سنگھ کو جب بھی موقع ملتا تھا وہ لیڈی پہلوانوں کے ساتھ حرکت کرتا تھا۔ ایسے میں ان پر مقدمہ چلنا چاہئے اور اس پر مقدمہ چلانے کیلئے کافی ثبوت نے لیڈی پہلوان اذیت معاملے کی جانچ میں پایا کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور جب بھی اسے موقع ملتا وہ لیڈی پہلوان کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ متاثر لڑکی نے کوئی رد عمل ظاہر کیا ۔ سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ غلط کیا گیا ۔ جو ثبوت اور دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ الزام طے کرنے کیلئے کافی ہیں۔ معاملے کی سماعت کے دوران شکایت کنندگان کے ساتھ ورلڈ کشتی فیڈریشن کے دفتر میں ہوئے واقعے کا ذکر کیا اور ان شکایتوں کا دائرہ اختیار دہلی بنتا ہے ۔ایک خاتون پہلوان کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں ہوئے ایک ایونٹ کے دوران برج بھوشن نے شکایت کنندہ کو بلایا اور اس کو زبردستی گلے لگایا جب اس کی مخالفت کی تو برج بھوشن نے کہا کہ وہ ٹیچر کی طرح اسے گلے لگارہا تھا۔ اس سے صا ف پتا چلتا ہے کہ برج بھوشن کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔ ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریت ہردیپ سنگھ جسپال نے تفصیل سے پولیس کی دلیلیں سنیں اور آگے کی کاروائی کیلئے 7اکتوبر تاریخ طے کردی ۔ پولیس نے اپنی دلیل کی حمایت میں تین فیصلوں کی کاپی رکھی ۔ جنوری 2023جب برج بھوشن شرن سنگھ پر پہلی بار جنسی استحصال کا الزام لگا تو ان کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ ویڈیومیں وہ کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ سے ایک قتل ہوا تھا۔ لوگ کچھ بھی کہیں میں نے ایک قتل کیا ہے۔ اتوار کو جس آدمی نے مارا ہے میں نے ہاتھ چھڑا کر اس کو فوراً رائفل سے اس کی پیٹھ پر رکھ پر مار ڈالا تھا اور وہ مارا گیا۔ سورج سنگھ سپا نیتا ہیں اس کے چاچا پنڈت سنگھ اکھلیش یادو سرکارمیں منتری رہ چکے ہیں۔ جس آدمی کو قتل کرنے کی بات برج بھوشن شرن سنگھ کیمرے پر کہہ رہے ہیں کہ وہ رویندر سورج سنگھ کے پیتا ہیں ۔برج بھوشن سنگھ پر 1997میں داو¿د ابراہیم کے چار ساتھیوں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگا تھا۔ 1997میں بر ج بھوشن شرن سنگھ چھ مہینے دہلی کے تہاڑ جیل میں بھی گئے تھے ان پر ٹاڈا کے تحت مقدمہ چلاتھا۔
(انل نریندر)
بیرون ملک میں ٹارگیٹ کلنگ کا سوال!
پچھلے دنوںکینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا کہ خالصتانی جنگجوں ہر دیپ سنگھ نجر کے قتل میں ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔اس سنگین الزام کے بعد بھارت اور کینیڈا کے رشتوںمیں دراڑ پڑ گئی ہے ۔ بھارت نے ٹروڈو کے اس دعوے کو سرے سے خارج کردیا ہے ۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے 18ستمبر کو کینیڈا کی پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ زمین پر کینیڈا ئی شہری کے قتل میں کسی بھی غیر ملکی حکومت کی کسی بھی طرح کا کردار ہماری سرداری کی ایسی خلاف ورزی ہے جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ پچھلے دوہفتے پہلے دہلی میں میں نے خود وزیراعظم مودی کو اس بارے میں شخصی طور پر سیدھے الفاظ میں معلومات دی تھی۔ خالصتانی علیحدی پسند لیڈر کوئی دھارمک اور سماجی شخص نہیں تھا۔ بلکہ وہ ایک آتنک وادی تھا۔ وہ آتنکی کیمپ چلانے اور آتنکی سرگرمیوںکی فنڈ نگ میں شامل تھا۔ ہتھیاروں اور گولہ بارود بنانے میں مہارت حاسل کرنے کیلئے نجر 2012میں پاکستا ن بھی گیا تھا۔ اس پر 10لاکھ روپے کا نقد انعام رکھا گیا تھا۔ نجر بھارت میں پولیس کے ذریعے گرفتاری کے ڈر سے 1996 کینیڈا بھاگ گیا تھا۔ اس لئے یہ تو ثابٹ جو چکا ہے کہ ہر دیپ سنگھ نجر ایک دہشت گرد تھا جو بھارت کے خلاف جنگ میں شامل تھا۔ رہی بات بیرن ملک میں دہشت گروں کے قتل کاتو امریکہ انگلینڈ اور اسرائل میں ایسی درجنوں مثالیں ہیں جہاں انہوںنے دیش کے دشمنوں اوردہشت گردوں کو مارا ہے ۔ امریکہ کی بدنام زمانہ خفیہ ایجسی سی آئی اے اس کام میں ماہر ہے ۔ پوری دنیامیں اس ایجنسی نے درجنوں قتل کرائے ہیں اور وہ بھی دوسرے ملکوںمیں امریکہ ،اسرائل ،روس ،انگلینڈ کی جا نب سے اپنے مبینہ دشمنوں کو غیر ملکی زمین پر مار گرانے کے واقعات کے بعد سوال پوچھا جا رہا ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں،کیا وہ جائز ہے ؟ بین الاقوامی قانون کیا ایسے قتلوںمیں اجازت دیتا ہے؟ ان قوانین کے حساب سے کسی دیش میں غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب سے جان لینے کیلئے ٹارگیٹ کلینگ اس ملک کی سالمیت کے خلاف ہے ہی مانی جا ئے گی۔ 2011میں امریکہ نے پاکستا ن القاعدہ کے چیف اسامہ بن لادین پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مار گرایا تھا۔ اس کے دس بعد امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار گرایا تھا۔ اسرائل کا بھی خیا ل ہے کہ اس نے ٹارگیٹ کلنگ کے تحت کئی فلسطینیوں کو مار گرایا ہے ۔اسرائل ایران کے کچھ نیو کلیائی سائنسدانوں کو مارنے کا بھی الزام ہے ۔ کیا ایسے قتلوں کو یہ کہہ کر حمایت کی جاسکتی ہے کہ کسی دیش کو اپنے دشمنوں یا شدت پسند حملہ آوروں کو مارنے کا حق ہے ؟ امریکہ نے اسامہ بن لادین سلیمانی دونوں کو قتل کے وقت یہ دلیل دی گئی تھی کہ یہ اس کیلئے خطرہ تھا۔ انہوںنے اپنی حفاظت میں ان کا قتل کیا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔امریکہ نے پاکستان ،سومالیہ ،یمن ،کیوبا اور دوسری جگہوں پر اس طرح کی ٹارگیٹ کلنگ کو انجام دیا ہے۔
(انل نریندر)
26 ستمبر 2023
نئی دہلی پارلیمنٹ کی پوترتا بھنگ کر دی !
دیش کی سڑکیں جب گونگی یا سنسان ہو جاتی ہیں تو اس دیش کی پارلیمنٹ آوارہ اور بے اثر ہو جاتی ہیں ۔ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے سڑک اور پارلیمنٹ کے مسلسل رشتوں پر یہ بات اس دور میں کہی تھی جب دیش کی سڑکوں پر سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے جھنڈے تلے ہونے والے کانگریس مخالف آندولن کی چہل پہل بنی رہتی تھی ۔اور دیش کی پارلیمنٹ میں بھی عوام کے توقعات گونجتی تھیں ۔چھ دہائی پہلے دی گئی لوہیا کی یہ آگاہی پچھلے کچھ برسوں سے مسلسل تعبیر ہوتی نظر آرہی ہے ۔پارلیمانی جمہوریت کے امرت کال میں 21د سمبر کوپارلیمنٹ کے اسپیشل سیشن کے دوران تو یہ بات نئے وسیع شکل میں ظاہر ہوئی ۔پارلیمانی کاروائی کے دوران ممبران کے درمیان تلخ لہجے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی ہونا عام بات ہے ۔اور کبھی کبھی بے ہودہ زبان کا استعمال بھی ہوتا ہے جس پر اسپیکر وارننگ دیتے ہیں،قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے نکلوا دیتے ہیں تو کبھی کبھی متعلقہ ممبر کو ایوان سے معطل بھی کردیتے ہیں ۔لیکن 21 ستمبرکو لوک سبھامیں جو کچھ ہوا وہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے اور دیش نے پہلی بار دیکھا ۔مون مشن 3- کی کامیابی پر بحث کے دوران جنوبی دہلی سے چنے گئے بھاجپا ایم پی رمیش بدھوڑی نے امروہہ کے بہوجن سماج وادی پارٹی سے چن کر ایم پی کنور دانش علی کے لئے جیسے بے ہودہ اور دیش کے سب سے بڑے اقلیتی فرقہ کے تئیں فرقہ وارنہ نفرت سے بھرے الفاظ کا استعمال کیا ۔انہیں ایوان سے باہر نکل کر دیکھ لینے تک کی دھمکی بھی دی ۔ایوان میں موجود وزیر دفاع راجناتھ سنگھ بدھوڑی کے قابل اعتراض پر الفاظ ایوان سے معافی تو مانگی لیکن سوال یہ ہے کہ بدھوڑی کی اتنی ہمت کیسے ہوئی؟ بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو بے ہودہ الفاظ پورے دیش نے سنے اور اب اس کا ویڈیو پوری دنیا میں وائرل ہو گیا اس کے بارے میں راجناتھ سنگھ نے کہا بدھوڑی کے منھ سے نکلے جو الفاظ انہیں میں ٹھیک سے نہیں سن پایا، پھر بھی اگر اپوزیشن ان کی باتوں سے اپنے آپ کو ٹھیس محسوس کرتی ہے تو میں افسوس ظاہر کرتاہوں ۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے ایک عام ایم پی نہیں ہیں بلکہ وہ دہلی کے سب سے پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ والے اور دبدبہ والے علاقے ساو¿تھ دہلی پارلیمانی حلقہ سے مسلسل دوبار چنے گئے ہیں اور تین بار دلی اسمبلی کے ممبر بھی رہے ہیں ۔مودی جی جب غیر ملکی دورہ سے لوٹتے ہیں تو دہلی ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کیلئے رمیش بدھوڑی ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔اس کے علاوہ دہلی میں مودی کی کوئی ریلی اور روڈ شو کیلئے بھیڑ کا انتظام کا ذمہ بدھوڑی اٹھاتے ہیں اس ناطے وہ وزیراعظم کے چہیتے ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک ہیں ۔حالانکہ بدھوڑی کے بے ہودہ الفاظ پر ابھی تک نا تو وزیراعظم اور نہ ہی آر ایس ایس کا کوئی رد عمل سامنے آیا ہے ۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھوڑی کے قابل اعتراض الفاظ کو ایوان کی کاروائی سے ہٹانے کا حکم دیا ہے ۔حالانکہ پارلیمنٹ کی کاروائی کا سیدھا ٹیلی کاشٹ کے دور میں ایسی کاروائی کا اب کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے ۔بدھوڑی نے ایم پی دانش علی کے خلاف جس قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ پورے دیش میں چھایہ ہوا ہے ۔اور یہ تاریخ میں درج ہو کر پارلیمانی تاریخ کا حصہ ہو گئے ہیں ۔ویڈیو کلپ کے ذریعے پوری دنیا میں یہ بے ہودہ الفاظ پھیل چلے ہیں ۔چھوٹی موٹی باتوں پر اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کو پورے اجلاس کے لئے معطل کر دینے والے اسپیکر اوم برلا اس معاملے میں بدھوڑی کو صرف وارننگ دی ہے ۔اگر انہوں نے ایوان میں ایسا برتاو¿ کیا تو ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔غور طلب ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری اور اجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ جب منی پور کے معاملے میں وزیراعظم سے بیان دینے کی مانگ کرتے ہوئے اپنی شیٹ سے اٹھ کر اسپیکر کے پاس بنی ویل میں پہونچ گئے تھے تو دونوں ممبران کو پورے سیشن کے لئے معطل کر دیا گیا تھا ۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے ایسے کئی معاملے راجیہ سبھا اور اس 17 ویں لوک سبھا میںدیکھے گئے ہیں جبکہ بدھوڑی کا معاملہ ان سب معاملے کے سامنے بے حد سنگین ہے۔یہ صحیح ہے کہ آئین کے سیکشن 105 (2 ) کے مطابق ایوان میں کہی بات یا کسی برتاو¿ کیلئے کوئی بھی ایم پی کسی بھی عدالت کے تئیں جواب دہ نہیں ہوتا ۔اس کے خلاف کوئی کیس درج نہیں ہو سکتا ہے ۔اور نا ہی کسی طرح کی کاروائی ہوسکتی ہے ایسے معاملوں لوک سبھا کی ردعمل اور کام چلانے کیلئے قواعد کے تحت اسپیکر کو ہی کاروائی کرنے کا اختیار ہے ۔ایسے میں سوال ہے کہ کیا کوئی ایم پی اپنے استحقاق حق کے تحت کسی دیگر ایم پی کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال یا گالی گلوج بھی کر سکتا ہے ؟ اس بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر اور سابق لوک سبھا اسپیکر کا رد عمل بھی کم حیران کرنے والا نہیں ہے جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اسپیکر کو کیا کرنا چاہیے ۔اگر ان کے وقت میں یہ معاملہ ہوا ہوتا تو کیا کرتی ۔تو انہوںنے اول تو اس پورے معاملے میں ہی بولنے میں معذوری ظاہر کی یہی نہیں انہوںنے رمیش بدھوڑی اور دانش علی کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں۔جب کہ بدھوڑی تو ان کے لوک سبھا اسپیکر رہتے ہوئے پانچ سال تک لوک سبھا کے ایم پی رہے ہیں ۔بہر حال بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھوڑی کو وجہ بتاو¿ نوٹس دے کر ان سے 15 دنوں میں جواب دینے کو کہا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسے نوٹس کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بدھوڑی نوٹس کے جواب میں محض معذرت ہی ظاہر کردیں گے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے گا۔دراصل بدھوڑی بھاجپا کے پہلے ایسے نیتا نہیں ہیں ۔جنہوں نے اقلیتی فرقہ کو نشانہ بنایا ہے اور ایسے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی لیڈرشپ اپنے ایم پی رمیش بدھوڑی کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھا پائے گی جس سے پارٹی لائن کراس کرنے والے دوسرے لیڈروں کو سبق ملے ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...