Translater

21 ستمبر 2023

40فیصد ممبران پارلیمنٹ پر مجرمانہ مقدمے !

جمہوریت میں پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر کہا جاتا ہے جہاں سے پورے دیش کیلئے قانون بنانا ہوتا ہے ۔اور اگر پارلیمنٹ میں ایسے ایم پی بیٹھے ہوں جن کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہوں تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری جمہوریت کتنی مضبوط ہوگی؟ دیش قریب 40فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہیں ۔ان میں 25فیصدی پر قتل ،اقدام قتل ،اغوا اور خواتین پر زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں ۔چناو¿ حق نکام (اے ڈی آر ) نے اس کی جانکاری دی ہے ۔ اے ڈی آر کہا کہ لوک سبھا اورراجیہ سبھا کے ہر ایم پی کی پروپرٹی اوسطاً 38.33کروڑ روپے ہے جبکہ 53ارب پتی ہیں۔ ایوسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم ( اے ڈی آر ) اور نیشنل الیکشن واچ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی 776سیٹوںمیں سے 763موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ۔ اور یہ اعداد وشمار ممبران پارلیمنٹ سے اپنے پچھلے چناو¿ یا اس کے بعد کا کوئی بھی ضمنی چناو¿ لڑنے سے پہلے دائر کئے گئے حلف ناموں سے نکالے گئے ہیں۔ لوک سبھا کی چارسیٹوں اور راجیہ سبھا کی ایک سیٹ خالی ہے ۔ جبکہ جموں وکشمیر یا راجیہ سبھا سیٹیںابھی عمل نہیں ہیں۔ ایک لوک سبھا ایم پی اور تین راجیہ سبھا ایم پی کے حلف ناموں کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ دستاویز دستیاب نہیں ہیں ۔ تجزیہ کے مطابق 763موجودہ ایم پی میں سے 316( 40فیصد) پر مجرمانہ معاملے جبکہ 194( 25فیصد) موجودہ ایم پی نے اپنے خلاف سنگین مجرمانہ کیسیز کی جانکاری دی ہے ۔ ان میں قتل ،قدام قتل اور خواتین کے خلاف مجرمانہ معاملے ہیں ۔ بھاجپا کے 385ممبران پارلیمنٹ میں سے 139( 36فیصد) کانگریس 85ممبران میں سے 43(53فیصد) ترنمول کانگریس 36ممبران پارلیمنٹ میں سے 14( 39فیصد) آر جے ڈی کے 6ممبران پارلیمنٹ میں سے 5( 85فیصد) بھاجپا کے 8ایم پی میں سے 6(75فیصد ) عام آدمی پارٹی کے 11 ممبران پارلیمنٹ میں سے 3( 27فیصد) وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 31ممبران میں سے 13(42فیصد) اور این سی پی کے 8ایم پی میں سے 3( 38فیصد) ممبران پارلیمنٹ نے حلف ناموںمیں ان کے خلاف مجرمانہ معاملے درج ہونے کی جانکاری دی ہے ۔ تلنگانا کے ایم پی سب سے امیر ہیں ۔ ہر ایم پی کافی اوسطاً پروپرٹی والا راجیہ تلنگانا ( 24ایم پی ) جن اوسطاً پروپرٹی 262.26کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد آندھرا پردیش ( 36ایم پی ) ہیں۔جن کی اوسطاً پروپرٹی 150.76کروڑ روپے ہے ۔ اس کے بعد پنجاب (20ایم پی ) آتا ہے جہاں اوسط پروپرٹی 28.94کروڑ روپے ہے۔ (انل نریندر)

چھ گارنٹی پر داو ¿ لگایا !

کرناٹک کی چناوی کامیابی سے گد گد کانگریس پارٹی نے اتوار کو تلنگانا میں ایک بڑی ریلی کی اس کا ویڈیودیکھا ۔ اس ریلی میں ناقابل یقین عوامی سیلاب امڑا ،ایک اندازے کے مطابق 10لاکھ لوگ اس ریلی میں آئے ۔ جہاں تک نظر جاتی تھی بھیڑ ہی بھیڑ دکھائی دیتی ہے ۔ چاروں طرف یہ نظارہ تھا کہ راہل گاندھی تقریرشروع کی اتنے نعرے لگے انہیں دو تین مرتبہ اپنی تقریر روکنی پڑی ۔پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی دو روزہ میٹنگ کے اختتام کے بعد حید ر آبا دکے قریب تنکو گوڑا میں منعقدہ کانگریس کی ریلی میں کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے ،سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کا ذکر کیا ۔اور کہا کہ پارٹی کی سرکار بننے کے بعد انہیں پورا کیا جائےگا ۔ راہل گاندھی نے ان چھ گارنٹیوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگا نا میں کانگریس کی سرکار بنتے ہی کیبنیٹ کی پہلی میٹنگ میں اس پر مہر لگے گی ۔ تلنگا نا میں اس سال کے آخر میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں۔ تلنگا ناکی حکمراں بھارت راشٹر کمیٹی (بی آر ایس) کو بی جے پی رشتہ دار کمیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو¿ واور اے آئی ایم آر کے لیڈروں کے خلاف ای ڈی ،سی بی آئی اور انکم ٹیکس کی کاروائی نہیں ہوتی۔ چوںکہ وزیراعظم مودی انہیں اپنا مانتے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر نے بھاجپا ،بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان ساجھےداری ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ کانگریس تلنگا نا میں ان تینوںپارٹیوں سے لڑ رہی ہے ۔ ریلی کے دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور پارٹی کے حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے ۔ سونیا گاندھی نے یہاں گاندھی نالج اینڈ ٹریننگ سینٹر کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔ انہوںنے ریلی سے خطاب میں کہا کہ ان کا خواب ہے کہ تلنگا نا میں ان کی پارٹی کی سرکار بنے جو سماج کے سبھی طبقوں کیلئے کام کرے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہر گارنٹی کو پورا کرنے کیلئے پابند ہیں۔ کانگریس کی پہلی گارنٹی ہے مہا لکشمی یوجنا ؛جس کے تحت خواتین کو ہر ماہ ڈھائی ڈھائی ہزار روپے دینے ،پانچ سو روپے میں گیس سلینڈر دینے اور ریاستی بسوںمیںمفت سفر دوسرا؛ کسانوں کو 15ہزار روپے فی ایکڑ معاوضہ ،کھیتی مزدوروں کو12ہزارروپے سالانہ ،دھان کیلئے 15سو روپے بونس ،تیسرے ؛ ہر گھر کو 200یونٹ بجلی مفت ،اور بے گھر لوگوں کو گھر بنانے کیلئے 5ہزار روپے کی مدد ملے گی،بزرگوں کو 4ہزارروپے ماہانہ پینشن اور 10لاکھ روپے کا راجیو آروکیہ شیر بیمہ کا وعدہ ۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ جتنی بھیڑ ریلی میں اکٹھا ہوئی اس میں سے زیادہ تر ووٹ میں بدلے گی۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ کانگریس کی ریلی اتنی بھیڑ پارٹی کی طاقت کا مظاہر ہ تھا۔ (انل نریندر)

19 ستمبر 2023

بہادری کی مثال جے ہند پاپا!

کرنل من پریت سنگھ کے چھ سالہ بچے کبیر نے فوج کی وردی پہن کر والد کو آخری ودائی دی اور کہا کہ جے ہند پاپا !کشمیر وادی میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں اہم قربانی دینے والے کرنل من پریت سنگھ کا جمعہ کے روز پنجاب کے موہالی ضلع کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں انتم سنسکار کر دیا گیا ۔ ان کے ساتھ ہی دہشت گردوں سے لوہا لیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہید میجر آشیش ڈھوچک کو مکمل فوجی احترام کے ساتھ ہر یانہ ،پانی پت کے ان کے آبائی گاو¿ںمیں ہزاروں لوگوںنے نم آنکھوں کے ساتھ آخری ودائی دی۔ کرنل من پریت سنگھ بہادری کی ایک مثال تھے ۔ 2021میں بھی اندھادھندھ فائرنگ کے دوران دہشت گردوں کو مار گرانے والے اس بہارد کوملٹری میڈل سے نوازا گیا تھا۔ کئی موقعوں پر قابل قدر ہمت نے دشمنوں کے چھکے چھڑائے تھے۔ موہالی کے ہلہ پور کے گاو¿ں کے من پریت سندھ 2003میں فوج کے لیفٹیننٹ کرنل بنے 2005میں انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی ۔ وہ پریوا ر کی تیسری پیڑھی سے تھے جنہیں فوج میں رہ کر ملک کی خدمت کو اپنا خواب بنایا ۔ کرنل من پریت سال2019سے 2021تک سیکنڈ ان کمان کے طور پر تعینات ہوئے بعد میں انہوںنے کمانڈنگ افسر کی شکل میں کام کیا ان کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے ۔ خاندان والوں نے بتایا کہ اگلے ماہ ان کے بیٹے کا جنم دن تھا اور وہ اگلے ماہ چھٹی لیکر گھر آنے والے تھے ۔لیکن اس سے پہلے ہی ان کی شہادت کی خبر آ گئی۔شہید ڈی ایس پی مایوبھٹ کی ترنگے میں لپٹے جسد خاکی کو دیکھ کر پورا گاو¿ں رو پڑا ۔ دہشت گردوں کیلئے دل میں غصہ ہے لوگوں کا کہنا تھا کہ جانبازوں کی قربانی زائع نہیں جائے گی۔ ہمایوں بھٹ 2019بیچ کے افسر تھے ان کے والد غلام حسن بھٹ ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں ۔ ہمایوں کی شادی ایک سال پہلے ہی ہوئی تھی۔ 29دن پہلے وہ پیتا بنے تھے ۔ٹھیک سے وہ اپنے بچے کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائے ۔ دیش سیوا کرتے ہوئے وہ شہید ہو گئے ۔ اننت ناگ میں شہید ہوئے پانی پت کے باشندے میجرآشیش بچپن سے ہی ہمت والے تھے ۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ اسی ہمت سے آتنک وادیوں سے سیدھے بھڑ گئے ۔ انہوںنے اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی ۔ گھر والوں کو جہاں ان کی موت کا غم ہے وہیں ان کی شہادت پر فخر بھی ہے ۔ چاچارمیش کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ دشمنوں کو مٹانا ہی اصلی زندگی ہے اسی سال ان کو قابل قدم بہادری کیلئے سروس میڈل سے نوازا گیا تھا۔ اکتوبر کو جنم دن پر گھر کے لوگ نئے گھر میں جانے کی تیاری میں تھے انہیں تبھی چھٹی پر گھر آنا تھا۔ اور سبھی کو نئے گھر میں پرویش کرنا تھا۔ لیکن خواب ادھورا رہ گیا۔ہم تینوں شہیدوں کواپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریواروں کو اس بھاری مشکل کا سامنا کرنے کی ہمت دے ،جے ہند!!! (انل نریندر)

14ٹی وی اینکروں کا بائیکاٹ !

اپوزیشن اتحاد انڈیانے 14ٹی وی اینکروں کے پروگراموں کا مختلف اسٹیجیز ڈیبیٹ پر بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ۔اتحاد کی میڈیا کمیٹی نے ان صحافیوں کے پروگراموں کو بائیکاٹ کرنے اور ایسے ٹی وی چینلوں یا پلیٹ فارموں پر ان کی بحث میں اپنے نمائندوں کو بھی نہ بھیجنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ نفرت بھرے مباحثے سماج کو کمزور کر رہے ہیں۔ انڈیا اتحاد کے اس فیصلے پر بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ نیوز اینکروں کی اس طرح لسٹ جاری کرنا نازیوں کے کام کرنے کا طریقہ ہے جس میں یہ طے کیا جا تا ہے کہ کس کو نشانہ بنانا ہے ۔ اب بھی ان پارٹیوں کے اندر ایمرجنسی کے وقت کی ذہنیت بنی ہوئی ہے ۔ نیوز چینل آج تک اور انڈیا ٹوڈے اور جی این ٹی کے نیوز ڈائریکٹر سپریا پرساد نے ایکس پر اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے: میں اس بندشی قدم کی سخت مذمت کرتا ہوں اس ایک طرفہ قدم کو فوراً واپس لیا جانا چاہئے ۔ وہیں این ڈی ٹی وی کے سابق اینکر رویش کمار نے بھی ایکس (ٹویٹر ) پر لکھا ہے کہ سات سال سے میں بائیکاٹ جھیلتا رہا ہوں ،ساتھ گھنٹے بھی نہیں ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ پہلی بار نوسال میں وزیر اعظم پہلی بار پریس کانگریس کر ہی دیںگے ۔ پریس کی آزادی کی حفاظت کیلئے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کاروائی کو مناسب بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ چینلوںنے پچھلے نو برسوں سے نفرت کا بازار لگا رکھا ہے ۔ اتحاد نے اس نفرت سے بھری کہانی کو جائز نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے سماج کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ بڑے بے دلی سے لیا ہے ۔ اگر آگے چل کر یہ اینکر سدھر جاتے ہیں تو ہم پھر سے ان کے پروگراموں میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ہم نے ان کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ عدم تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگر کوئی اینکر نفرت پھیلانے والی بات کرتا ہے جیساکہ آئی این ڈی اے کا الزام ہے تو ان کے شو میں اپوزیشن کے لیڈروں کے شامل نہ ہونے سے کیا حاصل ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں سینئر صحافی این کے سنگھ کہتے ہیں کہ اینکر کے بائیکاٹ سے چینلوں کی ساکھ پر ایک طرح کا حملہ کیا گیا ہے ۔کہا گیا ہے کہ تم طرف داری ہو اور جو کچھ نو سال سے ہو رہا تھا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ اینکر کا بائیکاٹ کرنا احتجاج جتانے کا ایک طریقہ ہے ۔وہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ جو کررہے ہیں وہ صحیح نہیں ہو رہا ہے ۔ بہت سے اینکر کسی ایک نیت یا سابقہ رنجش کو لیکر چل رہے ہیں اور ڈیبیٹ کر رہے ہیں ۔ وہ اس میں ایک فریق کی کھال ادھیڑ رہے ہیں اور دوسرے فریق کے ساتھ کھڑے ہیں یا انہیں کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ اینکر کا کام ڈیبیٹ کو چلانا ہوتا ہے کسی فریق کی طرف داری کرنا نہیں ہوتا ۔ ادھر کرناٹک کے ہائی کورٹ نے نیوز چینل آج تک کے مشیر ،مدیر و اینکر سدھیر چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کہا کہ پہلی نظرمیں معاملہ بنتا ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے ۔ حالاںکہ عدالت نے پولیس کو فوری کاروائی نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے اگلی کاروائی 20ستمبر کو ہوگی۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...