Translater

22 دسمبر 2012

بھاجپا ہاری نریندر مودی جیتے۔۔۔1

لوک سبھا چناؤ کا سیمی فائنل مانا جارہاگجرات کا اسمبلی چناؤ کے مقابلے میں نریندر مودی ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ بیشک گجرات اسمبلی چناؤ میں 2007 کے مقابلے بھاجپا کو دو سیٹیں کم ملی ہوں، لیکن اس سے نریندر مودی کی ساکھ کو کوئی نقصان ہونے والا نہیں۔ شری نریندر مودی کی سیاسی زندگی میں یہ سب سے سخت مقابلہ تھا۔ وہ ساری دنیا کے سوڈو سیکولرسٹ سے تو لڑ رہے تھے لیکن اس مرتبہ ان کی لڑائی پارٹی کے اندر سے بھی تھی۔ کیشو بھائی پٹیل ، آر ایس ایس، کانگریس سبھی نے مل کر مودی کو ٹھکانے لگانے کا جو پلان بنایا وہ اوندھے منہ گرا اور مودی نے سب کو پچھاڑ کر ثابت کردیا ہے کہ ہندوتو اور ترقی یہ دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ مودی پر سب سے بڑا الزام ہندو کٹروادی ہونے کا لگتا تھا اور اقلیت مخالفت بھی۔ اس چناؤ نے اسے بھی غلط ثابت کردیا ہے۔ عالم یہ رہا کہ سیکولرزم کی پیروکار کانگریس کو زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر ہی مات کھانی پڑی۔ گجرات اسمبلی چناؤ کی تقریباً ڈیڑھ درجن سیٹیں مسلم اکثریتی علاقوں میں ہیں جہاں مسلم آبادی 12 سے 24 فیصد تک ہے۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈر احمد پٹیل کو اپنے آبائی شہر بھروچ کی 5 سیٹیں بھاجپا نے جیت لی ہیں۔ اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے کے لئے مودی نے ریاست میں سدبھاؤنا اپواس کے ساتھ کئی یاترائیں کی تھیں۔ ترقی کو اشو بناتے ہوئے انہوں نے انہیں ساتھ چلنے کی بھی دعوت دی تھی۔ حالانکہ انہوں نے کسی مسلم کو چناؤ میں ٹکٹ نہیں دیا۔ کانگریس نے صرف چار اقلیتی ممبروں کو ٹکٹ دیا تھا جس میں سے دو جیتے۔گجرات کے مسلمانوں نے مودی کا ٹریک ریکارڈ بھی دیکھا ہے۔ گودھرا کانڈ کو چھوڑ دیں تو گجرات میں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور نہ ہی کسی طالبہ کے ساتھ اس طرح سے آبروریزی ہوئی جیسی دیش کی راجدھانی دہلی میں ہوئی۔ گجرات کے مسلمان دیش کی دیگر ریاستوں کے مقابلے سب سے زیادہ اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہیں انہوں نے سوچا ہوگا کہ ٹھیک ہے نریندر مودی بیشک ہٹلر ہوں ،تاناشاہ ہوں لیکن ہم اس کی چھتر چھایا میں محفوظ تو ہیں۔ ہم نے اپنے خاندان کو پال پوسنا ہے اور اچھی طرح سے رہ سکتے ہیں۔ مودی کی جیت میں عورتوں کا خاص کر اشتراک رہا ہے۔ مودی کے عہد میں13 فیصدی عورتوں کی پولنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کو مودی اس لئے بھا گئے کیونکہ انہیں ایسا حکمراں چاہئے جو دبنگ ہو دبو نہیں۔ کانگریس کو لگا تھا کہ کیشو بھائی پٹیل کے چناؤ میں کودنے سے لڑائی سہ پارٹی ہوجائے گی اور بھاجپا کا ووٹ کٹے گا۔ ووٹ شیئر تو گھٹا ہے لیکن لڑائی سے مودی کا کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ انہیں دو سیٹیں کم ملی ہیں۔ مودی نے دیگر پچھڑی ذاتوں پر خاص توجہ دی۔ جنوبی گجرات کی قبائلی برادریوں کے لئے اثر دار افسران کے ذریعے سے ترقیاتی پروجیکٹوں کو نافذ کراکر پہلے سے ہی ان میں جگہ بنا لی تھی۔ کانگریس نے اپنے پچھلے چناؤ سے سبق سیکھا ہے۔ مثال کے طور پر اس بار راہل گاندھی کوآگے نہیں لایا گیا۔ بہار۔ اترپردیش کے تلخ تجربے سے اس نے سبق لیا ہے اور لڑائی مودی بنام راہل نہ ہونے دی لیکن ٹکٹ کا بٹوارہ دہلی سے راہل کی منڈلی نے ہی کیا تھا اور نرہری امین، راول اور ساگر جیسے سرکردہ لیڈروں کو ٹکٹ نہ دیکر ناراض کرلیا اور یہ اپنے حمایتیوں کے ساتھ مل کر کانگریس کے امیدواروں کو ہی ہروانے میں لگ گئے۔ ایک غلطی دوہرائی جارہی ہے۔ اس بار بھی کانگریس نے اپنی پارٹی کے کسی ایسے لیڈر کو بطور وزیر اعلی پروجیکٹ نہیں کیا جو بھروسے مند اور عوام کے لئے قابل قبول ہو۔ دوسری طرف بھاجپا کے اعلان امیدوار نہ صرف طاقتور تھے بلکہ وزیر اعظم کی شکل میں پروجیکٹ کئے گئے تھے۔ کانگریس نے نہ تو سکیورٹی معاملے میں اور نہ ہی اقتصادی ترقی پر ووٹروں میں مودی کے خلاف ماحول بنانے میں جارحانہ رخ اختیار کیا۔ لگتا ہے کہ گجرات میں تمام حکمت عملی بنانے کے باوجود کانگریس ہار مان کر چل رہی تھی۔ وہ اس کہاوت پر زیادہ توجہ دے رہی تھی کہ ’ہارا ہوا ووٹ فیصد گنتا ہے ،جیتا ہوا کامیاب سیٹیں گنتا ہے‘ ہماری رائے میں اگر ایک لائن میں اس چناؤ کا نتیجہ نکالا جائے تو ہم کہیں گے کہ بھاجپا ہاری ، نریندر مودی جیتا۔
(انل نریندر)

جاپان میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی اقتدار میں واپسی

جاپان کے امکانی وزیر اعظم شنجو اوبے نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ متنازعہ سینکاکو جزیرے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ایتوار کو ہوئے چناؤ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ چین نے بھی اوبے کی جیت کو لے کر اپنے لئے وارننگ بتایا ہے۔ پریس کانفرنس میں مسٹر اوبے نے کہا کہ سینکاکو جزیرہ جاپان کا قدرتی خطہ ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق جزیرے پر جاپان کا کنٹرول ہے اسے لیکر سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس جزیرے کو چین میں دیاؤں کہا جاتا ہے۔ ادھر چین کی وزارت خارجہ کے ترجمہ ہواچنچنگ نے کہا ہم اس بات کو لیکر کافی فکرمند ہیں کہ جاپان کس سمت میں جائے گا۔ اس وقت علاقائی واد کے ٹھیک طرح سے نپٹارے کی ضرورت ہے۔ چین سے جاپانی کشیدگی کے درمیان قریب پانچ دہائی تک مسلسل جاپان میں راج کر چکی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی تین سال بعد پھر اقتدار میں لوٹ آئی ہے۔ عام چناؤ میں اسے پارلیمنٹ کے نچلے ایوان کی 480 نشستوں میں سے294 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی اتحادی یوکومیتاتو پارٹی کو جوڑلیں تو یہ نمبر دو تہائی اکثریت تک پہنچ جاتا ہے۔ ایل ڈی پی کو ملی کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہی رہی کے لوگ یوریہیکونوڈا حکومت اور ان کی ڈیموکریٹ پارٹی آف جاپان سے مایوس ہوچکے تھے۔ ڈی جی پی نے تین سال پہلے اقتدار سنبھالا تو اس نے دو بڑے وعدے کئے تھے۔ ایک یہ کے وہ سیاسی اور کارپوریٹ کو کرپشن کی گٹھ جوڑ کو ختم کرے گی، دوسرے مندی سے لڑ رہے دیش کی معیشت کو پٹری پر لے آئے گی۔ لیکن یہ وعدے ہوا ہی ثابت ہوئے ہیں۔ حکمراں پارٹی کے اندر رسہ کشی اور کئی اس کے لیڈروں پر لگے کرپشن کے الزامات نے پارٹی کی ساکھ کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ پھر معیشت میں بھی کوئی قابل قدر بہتری نہیں دیکھنے کو ملی۔لوگوں کا اس سے بھروسہ اٹھتا گیا اور ایل ڈی پی کو اس کا فائدہ ملا۔ ڈی پی جے محض57 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ بہرحال سابق وزیر اعظم شنگجو اوبے کو ایک بار پھر اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ جاپان کے سب سے منہ پھٹ راشٹروادیوں میں گنے جانے والے شنگجو اوبے نے چناؤ مہم کے دوران ساری توجہ معیشت میں بہتری لانے اور شنکاکو جزیرے پر جاپان کی بالادستی کو برقرار رکھنے پررکھا۔ اس جزیرے کو لیکر چین سے جاپان کی تکرار چل رہی ہے اور دونوں دیشوں کے رشتوں میں اتنی کھٹاس آچکی ہے کہ جتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔ معیشت کو مندی سے نکالنے کیلئے اوبے کو کچھ سخت فیصلے لینے پڑ سکتے ہیں جیسے درآمدات کو سنبھالنے کے لئے جاپانی کرنسی کو کچھ توازن میں لانا۔ لیکن اقتصادی چیلنجوں سے پار ہوپانا اس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ جاپانی آبادی میں بزرگوں کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔ اسی کے ساتھ پنشن کی مار بھی پڑ رہی ہے۔ چین سے جاپان میں آئے کشیدہ ماحول سے اوبے کیسے نمٹتے ہیں یہ بھی ایک چیلنج ہوگا۔ پچھلے عہد میں شنجو کا رویہ بھارت کے ساتھ قربت بڑھانے کا تھا اس لئے ان کی جیت پر بھارت میں قابل اطمینان ردعمل ہوا ہے۔ اگرچین اور جاپان کے رشتوں میں گراوٹ آتی ہے تو بھارت کس طرف جھکے گا؟ یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2012

جنتا کاغصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے عارضی اورغیرموثر سرکاری قدم

دیش کو ہلاکررکھ دینے والی آبروریزی کی وار دات کے بعد جاگی حکومت نے راجدھانی میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کچھ اقدامات کو اٹھانے کااعلان کیا ہے لیکن ان کے پیچھے قلیل المدتی فکر کے بجائے عام جنتا کی ناراضگی کو خاموش کرنے کی جلد بازی زیادہ دکھائی پڑتی ہے اس میں پرائیویٹ بسوں میں ڈرائیونگ کو شفاف بنانے سے لے کر دہلی میں پی سی آر کی تعداد بڑھانے اور انہیں جی پی ایس سے آراستہ کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ طویل غوروخوض کے بعد وزیرداخلہ سشیل کمار شنڈے نے پارلیمنٹ میں ان اقدامات کااعلان کیا ہے سرکار فائر فائٹنگ زیادہ دکھائی دے رہی ہے بہ نسبت سنجیدگی سے احساس ترین اشو کو لے کر کارگر ڈھنگ سے سلجھانے میں ۔ چونکہ اس واردات میں استعمال بس میں کالے شیشے اور پردے لگے تھے اس لئے دہلی میں پرائیویٹ بسوں اور کمرشیل گاڑیوں میں کالے شیشے اور پردے لگانے پر روک لگادی گئی ہے۔قاعدے کے مطابق واردات کے وقت اس بس کو مالک کے پاس ہونا چاہئے تھا۔ لیکن یہ ڈرائیور کے پاس تھی اس لئے یہ تمام بسوں کااستعمال روکنے کی ذمہ داری اب بس مالکان پر ڈال دی گئی ہے۔ چلتی بس میں ہورہے جرائم کو روکنے میں پی سی آر وین کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے رات میں ایسی بسوں میں لائٹ جلائے رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے فوری اقدامات سے ذرا آگے بڑھتے ہوئے وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کاکہناہے کہ راجدھانی میں چل رہی سبھی بسوں کے ڈرائیور اورہیلپروں کا دہلی پولیس ویری فکیشن کرے گی۔ اس کے بغیر چلنے والی بسوں کو ضبط کرلیا جائے گا۔ سڑکوں پر دہلی پولیس کی موجودگی بڑھانے کے لئے اس کے بیڑے میں پی سی آر وین کی گاڑیاں بڑھائی جائے گی ۔اس اقدامات سے غیرمطمئن بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیا نائڈو نے کہاہے کہ سرکار نے بے ہودہ کرتوتیوں کو موت کی سزا دلانے کے لئے کیا قدم اٹھائے ہے؟ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قصور واروں کو موت کی سزا دینے کامطالبہ کیا گیا تھا اس کے جواب میں شندے نے گزشتہ 4 دسمبر کو لوک سبھا میں پیش ہوئے جرائم قانون ترمیم بل کااحوالہ دیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ لوک سبھا میں پیش مجرمانہ قانون ترمیم بل2012 میں بھی آبروریزی کرنیوالوں کو موت کی سزا دینے کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے اس میں زیادہ تر عمر قید کی سزا ہے اب وہ بھی تیزابی حملہ کیا گیا ہو یا اتوار کی رات والی متاثرہ کی طرح مار مار کر ادھ مرا کردیاگیا ہو اجب جب آبروریزی کاواقعہ ہوتا ہے تو تب تب آبروریزی کرنے والے کو موت کی سزا کی مانگ ہوتی ہے اور سرکار کی طرف سے بیان آتے ہیں کہ حکومت سخت سے سخت قدم اٹھائے گی پیچھے کئی مرتبہ جب بھی مجرمانہ قانون میں ترمیم ہوئی ہے اس کے نٹ بولڈ ہی کسے گئے لیکن انگریزوں کے زمانے کے انڈین بینل کورٹ 1860میں کچھ خاص تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ 4دسمبر کو لوک سبھا میں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ذریعہ کرمنل لاء ترمیمی بل 2012میں جرائم پیشہ کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی تو بات کہی گئیں ہے لیکن موت کی سزا کی ہمت شندے بھی پیدا کرپائے ہمیں دکھ سے کہناپڑتا ہے کہ سرکار فائر فائٹنگ زیادہ کررہی ہے بہ نسبت اس اہم ترین سنگین مسئلہ کا کارگر ڈھنگ سے نپٹانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں دکھارہی ہے۔
(انل نریندر)

یہاں موت کے بعد بھی نعش نصیب نہیں ہوتی

ہمالیہ کے مشرقی کاٹ کوٹم رینج میں حالات سیاچن دنیا کے سب بڑے ان کی مقامات میں سے ہے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برفیلا گلیشئر ہے بھارت پاکستان کے درمیان فوجی نوعیت سے اہم ہے لیکن سیاچین میں تعینات فوجیوں کی زندگی کافی دقتوں بھری ہے۔ کب موت آجائے کوئی نہیں بتا سکتا کہ دشمن کی گلیوں سے کئی زیادہ موسم کی کروٹ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اتوار کو بھی ایسا ہی ہوا ۔ برفیلی چٹانیں گرنے کی زد میں آکر ہمارے بہادر چھ جوانوں کی برف میں ڈب کر موت ہوگئی۔ایک نوجوان لا پتہ ہے مرے فوجی فرسٹ آسام ریجیمنٹ کے تعلق رکھتے تھے وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جے ایس برار نے بتایا کہ یہ برفیلی چٹانیں صبح سوا چھ بجے کے قریب سیاچین کے جنوبی خطے میں رنیف سب سیکٹر میں گری صبح سویرے اسی علاقے میں برفیلا طوفان بھی آگیا تھا۔ اور طوفان رکنے کے کچھ دیر بعد ہی یہ برفیلی چٹانیں گرناشروع ہوگئی یہ فوجی اسی وقت ا پنی چوکی سے دوسری چوکی کی طرف جارہے تھے۔ اوراس کی زد میں آگئے ۔ خراب موسم کے سبب راحت رسانی میں رکاوٹ آئی اور دوپہر بعد تک برف کے نیچے ڈبے 6جوانوں کی موت ہوچکی تھی۔ ان کو مردہ شکل میں نکالا گیا ہے سیاچین میں اگر موت آجائے تو نعش نصیب نہیں ہوتی۔ ڈیفنس کے ماہر مانتے ہیں کہ سیاچین کے فوجی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہاں بھارتیہ فوج کارہناضروری ہے۔ یہاں سے لداخ لہہ اور چین کے کچھ حصوں پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے 21ہزار فٹ سے زیادہ سمندری سطح سے سیاچین کی اونچائی ہے 70کلو میٹر لمبی سرحد میں 0 صفر سے 40 ڈگری سیلس درجہ حرارت رہتا ہے۔ بھارت ہرسال تقریبا 1500کروڑ روپے خرچ کرتا ہے وہی پاکستان میں سیاچین کے دوسرے محاذ تھوڑا نیچا ہے لیکن وہ بھی 500کروڑ روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے پچھلے 28سال سے بھارت پاک سیاچین میں جنگ لڑرہے ہیں اور دونوں میں سیاچین سے فوج ہٹانے کے لئے کم سے کم بات چیت کے بارہ دور ہوچکے ہیں لیکن پاکستان کے اڑیل رویہ اور موقوف کی وجہ سے بھارت اپنافوجی فائدہ کھونا نہیں چاہتا ہے پاکستان کو بھی سیاچین میں اپنے فوجوں کو قربانی دینی پڑرہی ہے۔7اپریل 2012 (اسی برس) برفیلی چٹان کی زد میں 135پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے سیاچین تنازعہ کو لے کر بھارت پاکستان ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ 1989میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ رضا مندی ہوئی تھی کہ بھارت اپنی پرانی پوزیشن پرواپس لوٹ جائے لیکن پاکستان میں موجودہ پوزیشن کی نشاندہی کرنے سے منع کرتا آرہا ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت اپنافوجی فائدہ اور قبضہ ختم کرلے ۔ سیاچین کانارتھ حصہ کراکوٹم بھارت کے پاس ہے مغرب کاکچھ حصہ پاکستان کے پاس ہے اور کچھ حصہ پرچین کاقبضہ ہے لیفٹیننٹ جرنل شنکر پرشاد کاکہنا ہے کہ اس مسئلے پر سمجھوتہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ یہاں پر فوجی کارروائیاں بند کرنا دونوں کے مفاد میں ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ دونوں دیشوں میں آپسی بھروسے کی کمی ہے دونوں کو ڈر لگتا ہے کہ کوئی چوکی چھوڑی جائے گی تو دوسرا قبضہ کرلے گا۔ دونوں دیشوں میں سیاچین کی برف کتنی پگھلتی ہے اس کے لئے وقت کاانتظار کرناہوگا۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2012

الزام درالزام نہیں، ایسے واقعات کو کیسے روکا جائے؟

دیش کی راجدھانی دہلی میں ایک مرتبہ پھر وحشی پن کی سبھی حدیں پارکردی گئی ہیں کیونکہ قریب پانچ درندوں نے چلتی بس میں ایک فیزیوتھیریپسٹ ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی۔ لڑکی اور اس کے دوست کو لوہے کی چھڑوں سے بے رحمی سے پیٹا گیا۔ واردات ایتوار کی رات کی ہے اس دن دہلی کی سڑکوں پر دوڑتی بس میں دو گھنٹے تک یہ درندگی کا تماشہ چلتا رہا۔ نشے میں دھت یہ لوگ بعد میں لڑکی اور لڑکے کو چلتی بس سے پھینک کر فرار ہوگئے۔ لڑکی اس وقت صفدرجنگ ہسپتال میں زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے۔ اس وحشی پن کی واردات نے سبھی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ آخر یہ سلسلہ کبھی رکے گا یا نہیں؟ اس سال 8 واقعات اسی طرح کے سامنے آچکے ہیں۔ زندگی اور موت سے لڑ رہی متاثرہ لڑکی ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد پانچ بار بیہوش ہوچکی ہے۔ اسے وقفے وقفے سے ہوش تو آرہا ہے لیکن اس کے سر میں گہری چوٹ آئی ہے جس وجہ سے اس کو23 ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں آنے کے بعد اس کی تین بار زندگی بچانے سے متعلق سرجری ہوچکی ہے۔ حالت ابھی بھی نازک بنی ہوئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس واردات کے سلسلے میں چار لوگوں کو گرفتار کر گتھے سلجھا لینے کا دعوی کیا ہے۔ واردات کے دو ملزم ابھی بھی فرار ہیں۔ سفید رنگ کی بس میں پیلے پردے اور لال سیٹ اور بس پر یادو لکھا ہوا تھا۔لڑکی کے دوست کے ذریعے دی گئی جانکاری ہی وحشی درندوں کو پکڑوانے میں مددگار بنی۔ پولیس نے ٹرانسپورٹ آفس سے ایسی بس کے بارے میں پتہ لگانے کو کہا لیکن بس کے مالک تک ابھی پولیس پہنچ نہیں پائی۔ بس ڈرائیور سے فون کروایا گیا۔ مالک نے ڈرائیور سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے ،بتانے پر پولیس وہیں پہنچ گئی اور اسے پکڑ لیا۔ ڈرائیور کا نام رام سنگھ ہے۔ سیکٹر تین آر کے پورم میں روی داس جھگی کیمپ میں رہتا ہے۔ ڈرائیور نے پولیس کو بتایا وہ اور اس کے ساتھی شراب کے نشے میں بس کھڑی کرنے جارہے تھے تبھی بس اسٹاپ پر لڑکے لڑکی کو دیکھ کر ان کی نیت بگڑ گئی۔ اب پولیس کو یہ پتہ چلا ہے آبروریزی کرنے والے ملزم شاطر بدمعاش بھی ہیں اور اجتماعی آبروریزی کے واقعے کو انجام دینے سے پہلے ان لوگوں نے ایک کار پینٹر کو بس میں بٹھایا اور پھر اس سے ہزاروں روپے نقدی لوٹ لئے اور اسے آئی آئی ٹی فلائی اوور پر باہر پھینک دیا۔ اب سب سے اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ دہلی کی وزیر اعلی و دہلی پولیس کمشنر اعلی افسران سے استعفیٰ مانگنے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ آخر یہ پولیس کے لئے ممکن نہیں کے وہ ہر بس میں اور ہر سڑک پر موجود رہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ اگر میری بات کو برا نہ مانا جائے تو میں کہوں گا آج جو حالات بنے ہیں اس کے لئے سماج اور عدلیہ وکیل رشتے دار سبھی ذمہ دار ہیں۔ ہر طبقے نے کسی نہ کسی طریقے سے حالات کو بگاڑا ہے۔ جرائم کرکے اگر زیادہ تر جرائم پیشہ افراد بچ نکلتے ہیں تو اس کے لئے صرف پولیس ہی نہیں بلکہ جج اور سرکاری وکیل بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کے کام کاج کے طریقے کی وجہ سے ہی آج بہت کم لوگوں کو سزا مل پاتی ہے۔ اس کے علاوہ عدالتوں سے گواہوں کا بھروسہ بھی اٹھ جانا اور نچلی عدالتوں کے احکامات میں پولیس و کورٹ و ہائی کورٹ کے ذریعے نکتہ چینی کرنے بھی ایک خاص وجہ ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ذریعے مخصوص اختیارات کا استعمال کر چھوٹے چھوٹے احکاما ت میں دخل اندازی سے آج نچلی عدالتیں اپنا بھروسہ کھوتی جارہی ہیں ، اسے جلد روکنے کی ضرورت ہے۔ عدالتوں میں گواہوں کو تکلیف ہوتی ہے ، ان کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جاتا،گواہوں کو بار بار عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے اور اگر مقدمے پر کسی وجہ سے کوئی گواہ پیش نہیں ہو تو جج ان کے خلاف وارنٹ جاری کرتے ہیں لیکن ملزم پیش نہیں ہوتا تو وہی جج کچھ نہیں کرپاتے۔ اتنا ہی نہیں جرح کے دوران ملزم یاان کے وکیل گواہ کے کردار کشی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سزا کم ہونے کے پیچھے جانچ کا غلط طریقہ ، انتہائی لاپروائی سے ثبوت اکٹھا نہ ہونے اور فورنسک لیب کے نمونے کی جانچ میں دیری۔ کئی بار چھ مہینے تک جانچ رپورٹ تک نہیں آتی۔ اس کا ایک صحیح طریقہ ہے فاسٹ ٹریک عدالت شروع کی جائے تاکہ ساری کارروائی چھ مہینے کے اندر پوری ہوجائے۔ عدالت میں محض عورت وکیل پیش ہوں۔ سزا ہونے کے بعد اپیلوں پر بھی پابندی لگنی چاہئے۔ سزاہونے کے بعد اپیلوں میں معاملہ سالوں لٹک جاتا ہے یہ سلسلہ روکنا ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ملزمان میں قانون کا ڈر پیدا کیا جائے۔ اس طرح کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ اگر یہاں قانون کا ڈر لوگوں میں ہو تو شاید ایسے واقعات پر تھوڑی لگام لگ سکے گی۔ آبروریزی کے معاملے میں زیادہ تر ملزمان دیر سویر بری ہوجاتے ہیں اور سزا بھی کافی کم ہوتی ہے۔سرکار کو ایسے لوگوں کو سزا دلانے اور سبق سکھانے کے لئے قانون میں تبدیلی لانی ہوگی۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ خوف کے سبب عورتیں دیر شام یا رات میں گھر سے باہر ضروری کام ہونے پر بھی نکلنے سے کترانے لگی ہیں۔ عورتوں کی سلامتی کا معاملہ کافی حساس ہے۔ اس میں پولیس کے ساتھ ساتھ سماج کو بھی بیدار ہونا پڑے گا۔ تکنیک کا استعمال کرنا چاہئے۔ سبھی گاڑیوں خاص کر بسوں میں جی پی ایس لگوا سکتے ہیں۔ اس سے گاڑیوں کی لوکیشن کا پتہ لگ سکے گا۔ میٹرو کی طرز پر گاڑیوں میں سی سی ٹی وی اور الارم کا سسٹم ہونا چاہئے تاکہ بٹن دبانے پر سیدھے پی سی آر کو خبر لگ جائے۔ راجدھانی کے سبھی بس اسٹاپ بڑی سڑکوں، بازاوں اور عمارتوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ سبھی عمارتوں پر ہائی ریزولیوشن کیمرے بھی لگے ہیں۔ دہلی کے سبھی علاقوں میں لڑکوں اور شہریوں کی سول ڈیفنس فوج تیار کی جائے۔ سرکار کی بھاگیداری یوجنا کے تحت ہزاروں کی تعداد میں ان لڑکوں کو رات میں سڑکو ں پر بسوں اور ٹرانسپورٹ کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ عورتوں کے لئے تجاویز بھی ہیں۔ اپنے موبائل فون سے پولیس ہیلپ لائن کا نمبر سیو کرکے رکھیں، اپنے ساتھ لال مرچ پاؤڈر وغیرہ رکھیں۔کسی طرح کا شبہ ہونے پر فوراً پولیس کو خبر کردیں۔ رات میں آٹو یا ٹیکسی لیتے وقت طے کرلیں کے اس میں پہلے سے کوئی سواری نہ بیٹھی ہو یا اندھیری جگہ سے گزرنے سے پرہیز کریں۔ اجنبی کے ساتھ زیادہ گھلیں ملے نہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے دی گئی کھانے پینے کی چیزیں کھائیں۔ ممکن ہو تو رات میں گھر سے اکیلے نکلنے سے بچیں۔ ہو سکتے تو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس کا نمبر نوٹ کر لیں۔ نمبر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے رشتے دار کو بھیج دیں۔
(انل نریندر)


19 دسمبر 2012

ایودھیا کے 95فیصدی لوگ شری رام مندر بنانے کے حامی


ایودھیاکے95فیصدی لوگوں کا خیال ہے کہ مندر مسجد تنازعے کا سیاسی کرن ہوا ہے اور42 فیصد لوگوں نے اس کے لئے کانگریس اور26 فیصد لوگوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ 42فیصدی ایودھیا کے باشندے مندر ۔مسجدتنازعے کا حل قانون کے ذریعے نکلوانا چاہتے ہیں جبکہ40فیصد لوگ بات چیت کے ذریعے اس تنازعے کو سلجھانے کے حامی ہیں۔ 18 فیصد لوگ کسی بھی طرح کا حل نہیں چاہتے۔ سب سے اہم حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایودھیا میں 95فیصد لوگ رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے حق میں ہیں۔لیکن ساتھ ہی 93فیصد باشندے مندر۔ مسجد اغل بغل بنائے جانے کے خلاف ہیں۔ دلی پترکار سنگھ ،اترپردیش جنرلسٹ ایسوسی ایشن کی (ایودھیا یونٹ) اور میڈیا ایسوسی این فار سوشل سروس اور ایودھیا فاؤنڈیشن نے مل کر دو مرحلوں میں ایودھیا کے باشندوں کی رائے جاننے کے لئے پانچ ہزار لوگوں سے بات کی اور فارم بھروا کر یہ سروے کیا۔ پہلے مرحلے کا سروے پچھلے برس اسمبلی چناؤ کے دوران کیا گیا تھا جبکہ دوسرا مرحلہ پچھلے ماہ نومبر میں منعقد کیا گیا۔ 
دلی پترکار سنگھ کی جانب سے جاری ریلیز کے مطابق مندر۔ مسجد تنازعے کا سیاسی کرن کئے جانے کے لئے 42 فیصدی لوگ کانگریس کو اور26فیصدی لوگ بھاجپا کو 16 فیصدی لوگ سماج وادی پارٹی کو اور8فیصدی لوگ مسلم تنظیموں کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ 5فیصد نے وشوہندو پریشد سمیت ہندوتنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سروے میں 95 فیصد لوگ چاہتے ہیں جہاں رام للا کی مورتی ہے وہیں رام مندر بنایا جائے جبکہ4فیصد لوگ وہاں سرو دھرم یادگار بنانے کے حق میں ہیں۔ 1فیصدی لوگوں نے اس مقام کو لیکرکوئی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔ 98فیصدی لوگ متنازعہ جگہ کو رام جنم بھومی استھل مانتے ہیں اور اتنے ہی اس کو عقیدت کا موضوع مانتے ہیں جبکہ 2فیصدی اسے سیاسی اشو مانتے ہیں۔
ہم ایودھیا کے باشندوں کی خواہش کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں ایک عظیم الشان مندر بنے لیکن اس کے لئے اب اور خون نہ بہایا جائے۔ بہت ہوچکا ہے سیاست بھی بہت ہوچکی ہے۔ بہتر ہے کہ سیاسی پارٹیاں چاہے وہ کانگریس ہو یا بھاجپا یا سپا سبھی اس سے دور رہیں۔ شری رام ہندوستانیوں کے دلوں دماغ میں بسے ہوئے ہیں ۔ یہ نہیں کہ ہمارے مسلم سکھ بھائی بھی شری رام کو نہیں مانتے سبھی مانتے ہیں۔ ہم تمام مسلم پیشواؤں اور تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سب ہندو سادھو سنتوں اور ایودھیا کے باشندوں کے ساتھ مل کر ایک بڑا شری رام مندر بنوائیں۔ رہی بات مسجد کی وہ بھی بنے اور اس میں سبھی ہندو دھرم گورو و تنظیم اور ایودھیا کے باشندے مدد کریں۔ مسجد تھوڑا ہٹ کر بن سکتی ہے کیونکہ مندر کی تعمیر تو اسی مقام پر ہونی چاہئے جو رامن للا کا جنم استھان ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر عدالتیں بھی جلد فیصلہ کریں گی اور یہ اشو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ جے شری رام۔

(انل نریندر)

ہاکی انڈیا کیلئے نئے دور کا آغاز

ایتوار کا دن ہاکی انڈیا کے لئے نئے دور کا آغاز بنا اور بھارتیہ ہاکی کھلاڑیوں کے لئے نئی امیدیں لے کر آیا۔ نئی دہلی کے بارہ کھمبا روڈ پر واقع للت ہوٹل میں ایتوارکو دیش کی ہاکی کی نئی عبارت لکھی گئی۔ مشکل دور سے گذر رہی بھارتیہ ہاکی کے لئے ایک امید کی کرن جاگی ہے۔ آئی پی ایل کی طرز پر ہاکی انڈیا لیگ ٹیم کے سلیکشن کے لئے کھلاڑیوں کی نیلامی ہوئی ہے۔ بھارتیہ ہاکی کا برا حال ہے۔ بین الاقوامی میچ کھیلنے کے لئے کوئی فیس نہیں دی جاتی صرف اسپانسر فیس کے ہی کچھ ہزار ملتے ہیں۔ اب ہاکی انڈیا نے بھی بنائی ہے یکمشت رقم دینے کی اسکیم۔ اس اسکیم کے تحت اب کھلاڑیوں کو 15 لاکھ روپے سالانہ معاہدے کے تحت ملیں گے۔ ہاکی کے مقابلے کرکٹ میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کو ہر ٹیسٹ میچ کے لئے7 لاکھ روپے ملتے ہیں اور ونڈے کے لئے بطور فیس4 لاکھ روپے ہے۔ ہر ٹی ٹوئنٹی میچ کے لئے 2 لاکھ روپے کی رقم طے ہے۔ کرکٹ لاکھوں روپے معاہدے میں کما لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے پڑھا تھا کہ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی سب سے زیادہ رئیس کھلاڑی بن گئے ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی کروڑوں میں ہے۔ سچن تندولکر جو آج کل سرخیوں میں ہیں، کے خلاف ایک الزام لگ رہا ہے کہ وہ کمائی کی وجہ سے کرکٹ سے رٹائرمنٹ نہیں لینا چاہتے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کرکٹ میں بہت پیسہ ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اب لوگوں کا پلان کرکٹ سے ہٹ کر دوسرے کھیلوں کی طرف بھی مڑا ہے۔ کشتی، باکسنگ، شوٹنگ، ٹینس، بیڈ منٹن اور ایتھلیٹ جیسے کئی کھیل ہیں جہاں بھارتیوں نے نام کمایا ہے لیکن ان میں بھی ایسی دھن ورشا نہیں ہوئی جیسی کرکٹ پر ہوئی ہے۔ خیر ! ہم بات کررہے تھے ہاکی انڈیا کی۔ لندن اولمپک میں آخری مقام پررہنے سے ہاکی کھلاڑیوں کی حالت کافی پتلی ہوگئی لیکن اب ان میں سے کچھ ہی قسمت ضرور جاگنے والی ہے۔ کھلاڑیوں کی قسمت پلٹنے کا آغاز ہوگیا ہے۔
دیش میں پہلی بار ہاکی کھلاڑیوں کو جو رقم دی جارہی ہے اس کی انہوں نے امید تک نہیں کی ہوگی۔ پچھلے دنوں چیمپئن ٹرافی میں بھارت کو وقار دلانے والے کپتان سردار سنگھ کو اس کا انعام 78 ہزار ڈالر کی سب سے اونچی بولی میں ملا ہے لیکن سب سے زیادہ رقم پانے والے کھلاڑی ہا لینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور اترپردیش ویزٹس کے ذریعے خریدے گئے ٹین ڈی نوجر رہے۔ انہیں 83 ہزار ڈالر ملیں گے۔ ٹین ڈی نوجر کو سب سے زیادہ رقم دلانے میں سب سے اہم کردار ہندوستانی ڈریگ چلکر وی آر رگھوناتھ کا رہا۔ رگھوناتھ کو لینے کے لئے 76 ہزار ڈالر لگا دئے گئے۔ نوجر اچھے کھلاڑی ہونے کی وجہ سے ان سے15فیصد زیادہ پاکر 87 ہزار 400 ڈالر پر پہنچ گئے۔ اس نیلامی میں سبھی ٹیموں کو 14 بھارتیہ ،10 غیر ملکی کھلاڑیوں کے طور پر 24 کھلاڑی لینے تھے۔ ہاکی انڈیا کے کپتان سردار سنگھ کی نیلامی پر رد عمل یوں رہا، میں جب تک پہنچا میری بولی لگ چکی تھی۔ سارا دن چلی ہاکی انڈیا لیگ کی بولی کو دیکھ کر بہت مزہ آیا۔ مجھے جو پیسے ملے میں اس سے بہت خوش ہوں۔ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو خاص طور پر اس لیگ سے اپنے کھیل کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2012

امریکہ میں کیوں ہوتا ہے بار بار شوٹ آؤٹ؟

دنیا بھر میں جب بھی باپ اپنے بچوں کواسکول بھیجتے ہیں تو اس بھروسے کے ساتھ کے اسکول میں تو بچہ کم سے کم پوری طرح محفوظ ہے۔ لیکن جب اسکول میں ہی کوئی بڑا حادثہ ہوجائے تو ان کے دکھ کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب امریکہ کے مشرقی صوبے کنیکٹیکر کے ایک پرائمری اسکول میں والدین نے اپنے بچوں کو بھیجا ہوگاتو شاید ہی انہوں نے کبھی سوچا ہوگا کہ اس دن ان کے اوپر قہر ٹوٹ پڑے گا۔ وہ بچے کبھی اسکول سے گھر نہیں لوٹیں گے۔ یہ سوچ کر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بد نصیب دن کنیکٹیکر کے نیو ٹاؤن میں واقع سینڈی کک ایلمنٹری اسکول کے نرسری میں زیر تعلیم بچے صبح 9 بجے ایک نامعلوم حملہ آور نے گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس میں 27 لوگ مارے تئے جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔ امریکہ کی تاریخ میں اسے اب تک کا سب سے بڑا قتل عام مانا جارہا ہے۔ اس واردات سے پورا امریکہ سہما ہوا ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ مارے گئے لوگوں کے غم میں امریکی قومی جھنڈا آدھا سرنگوں ہے۔ حملہ آور کے پاس 9 ایم ایم کی دو بندوقیں تھیں۔ اسکول میں اس وقت قریب700 بچے تھے۔ حملہ آور لڑکے کی ماں اسکول میں ٹیچر تھی۔ اس دن سر پھرے نے کلاس روم میں گھس کر پہلے اپنی ماں کو مارا اور پھر18 بچوں کو بھون دیا۔ بعد میں اس نے دیگر7 لوگوں کو مار ڈالا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔ لڑکا کسی بات سے ماں پرناراض تھا۔ حملہ آور24 سال کا تھا۔ مرنے والوں میں اسکول کی پرنسپل بھی شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوبامہ بھی رو پڑے۔ اس واقعہ سے دیش کو کافی دھکا لگا ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کے لئے قدم اٹھانے ہوں گے۔ ہمارا دل مارے گئے بچوں کے والدین اور ان کے بھائی بہنوں کے لئے پسیج گیا ہے۔ ہم افسوس کا اظہارکرتے ہیں۔ وقت سے پہلے ان کا بچپن چھن گیا ، ان لوگوں کا درد کچھ بھی کہنے سے کم نہیں ہوسکتا۔ بڑا دکھ اور تشویش کا باعث یہ ہے کہ امریکہ میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حملہ آور کا نام ایڈم لانجا بتایا گیا ہے۔ فائرنگ کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر طلبا اور اساتذہ سمیت اسٹاف کی سکیورٹی کے لئے امریکی اسکول کئی طرح کے سخت سکیورٹی پیمانے اپنا رہے ہیں۔ باوجود اس کے اسکولوں کو ایسے واقعات کو روکنے میں ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔ پرائمری تعلیم دینے والے قریب 94 فیصد امریکی اسکول پڑھائی کے دنوں میں بڑے دروازے پر تالا لگا دیتے ہیں تاکہ کوئی بغیر اجازت کمپلیکس میں نہ گھس سکے۔ اسکولوں میں نگرانی کے لئے سکیورٹی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ پبلک اسکولوں میں سکیورٹی گارڈوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ یہ ہی نہیں ہتھیاروں کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر دیش میں میٹل ڈٹیکٹر لگادئے گئے ہیں۔ تمام سکیورٹی پیمانے اپنانے کے بعد بھی امریکی اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔10 فروری2012 کو نیو ہیمپشائر کے 14 سالہ لڑکے ہنٹر میک نے بال پول پرائمری اسکول کے کیفٹیریا کی چھت سے کود کر گولی مار لی تھی۔ اس کے دو ہفتے بعد17 سالہ میلین نے بے سہارا لوگوں کے ہائی اسکول میں تابڑ توڑ گولیاں چلائیں جس میں دو کی موت ہوئی۔ 16 اپریل 2007ء کو22 سال کے ایک سر پھرے نے اسٹوڈنٹس جیٹری میں 32 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم متاثرہ والدین کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے دکھ میں ہم بھی برابر کے شریک ہیں۔
(انل نریندر)

ہندو تیرتھ استھلوں میں بنیادی سہولیات کی کمی

ہم سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ہندو دھارمک استھلوں کی درشا پر نوٹس لیا ہے۔ عدالت کی جسٹس بی ایس چوہان ، جسٹس سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جموں و کشمیر سرکار سے کہا ہے کہ وہ پنچترنی میں واقع امرناتھ کی پوتر گپھا تک سیمنٹ کی بنی ہوئی ٹائل بچھائی جائے تاکہ راستے میں تیرتھ یاتری پھسل نہ سکیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ تیرتھ یاتریوں کو پہاڑوں سے نیچے گرنے سے بچانے کے لئے لوہے کی چین پر مبنی کھمبے لگائے جائیں۔ ججوں نے کہا آپ کو ایسا کچھ کرنا ہوگا جس سے لوگ پھسلیں نہیں۔ پنچترنی سے گپھا تک کے راستے کو محفوظ کیا جائے۔ امرناتھ یاتراکے دوران سہولیات کی کمی میں تیرتھ یاتریوں کی موت کی خبروں کا عدالت نے خود ہی نوٹس لیا ہے۔ اس سال امرناتھ یاترا پر قریب 621145 تیرتھ یاتری گئے تھے ۔ اس دوران 93 تیرتھ یاتریوں کی موت ہوگئی تھی۔ امرناتھ بابا کی یاترا میں دوہرا خطرہ ہوتا ہے۔ آتنک وادی حملے کا خطرہ اور دوسرے موسم کی مار لیکن اگر بنیادی سہولیت کی بھی کمی ہوتو یہ انتہائی افسوسناک ہی مانا جائے گا۔ ہر سال امرناتھ یاترا کے دوران کئی لوگوں کے مارے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ حالانکہ سکیورٹی وغیرہ کے پیش نظر اس یاترا میں شامل ہونے والوں کا پہلے ہی رجسٹریشن کرلیا جاتا ہے۔پھر مرحلے وار جتھے روانہ کئے جاتے ہیں۔ شردھالوؤں کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے جموں و کشمیر سرکار اور امرناتھ شرائن بورڈ پورے راستے میں قیام و طعام و طبی سہولت کا انتظام کرتا ہے لیکن پھر بھی ہر سال کچھ تکلیف دہ واقعات ہو ہی جاتے ہیں۔ بلکہ ہر سال مرنے والوں کی تعداد کچھ بڑھ بھی جاتی ہے۔ امرناتھ یاترا پر جانے سے پہلے مقرر ہسپتال سے ہیلتھ سرٹیفکیٹ لینا ضروری ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس کے لئے اترپردیش ، راجستھان، ہریانہ، پنجاب، چنڈی گڑھ ، ہماچل حکومتوں سے مدد مہیا کرانے کو کہا ہے۔ یہ ریاستیں امرناتھ یاترا کے دوران اپنے ڈاکٹر بھیجیں گی اور مسافروں کو سرٹیفکیٹ مہیا کرانے کے لئے ہسپتال کی نشاندہی کریں گے۔ اس سسٹم سے امرناتھ یاترا کے دوران ہونے والے حادثوں پر لگام لگنے کی امید بندھی ہے۔ دراصل یہ یاترا مشکل اور پیچیدہ راستوں سے ہوکر گزرتی ہے ایسے میں برفیلی آندھی، تیز بارش یا کسی افراتفری کی حالت میں لوگوں کے پھسل کر گہری کھائی میں گھر کر دم توڑ دینے کے واقعات عام ہیں۔ میں اکثر دھارمک یاتراؤں پر جاتا رہتا ہوں۔ ماتا وشنو دیوی میں انتظام اچھا ہے۔ دوسا میں چنڈی پور کے بالا جی مندر میں اس کے سامنے سڑک برسوں سے ٹھیک نہیں بن سکی۔ بارشوں میں یہاں گھٹنوں تک پانی بھر جاتا ہے میں نے وزیر اعلی سے لیکر دونوں متعلقہ ممبران سے بھی رابطہ قائم کیا لیکن آج تک یہ سڑک نہیں بن پائی۔ دو برس پہلے میں گنگوتری گیا تھا۔ وہاں نہ تو بجلی کا صحیح انتظام تھا اور نہ ہی پانی کا۔ کڑاکے کی سردی میں ہمیں لال ٹین تھمادی گئی۔ آج تک وہاں جرنیٹر تک کا انتظام نہیں ہوسکا۔ تین مہینے پہلے میں کدارناتھ یاترا پر گیا تھا حالانکہ یہ راستہ مشکل اور خطروں بھرا ہے لیکن یہاں راستے میں سہولیات ٹھیک ٹھاک ہیں۔ پہاڑوں میں ایک مشکل ضرور پیش آتی کہ وہاں کافی بارش اور برف پڑتی ہے اور کوئی بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہم کوشش ہی نہ کریں۔ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...