17 نومبر 2012

فلاپ 2جی نیلامی کے دور رس اقتصادی نتائج متوقع


2 جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے بڑی امیدیں لگائے بیٹھی سرکار کو زور کا جھٹکا لگا ہے۔ نیلامی تقریباً فلاپ رہی ہے۔ سرکار کو اس سے قریب9400 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ وہ امیدلگائے بیٹھی تھی کہ اسے40 ہزار کروڑ روپے آمدنی ہوگی دہلی اور ممبئی کے لئے تو دوسرے دن بھی کوئی خریدار نہیں ملا۔ صرف بہار کے لئے کمپنیوں نے دلچسپی دکھائی اور اس سرکل کا لائسنس پانے کے لئے زبردست مقابلہ رہا۔ پین انڈیا لائسنس حاصل کرنے کے لئے کوئی بھی سامنے نہیں آیا۔ دو دنوں کی نیلامی کے دوران آدھے سے بھی کم اسپیکٹرم کے لئے بولی لگائی گئی ۔ٹیلی کام کمپنیاں شروع سے ہی نیلامی کے لئے بنائے گئے سسٹم بیس پرائس کی مخالفت کررہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی قیمت پر نیلامی میں حصہ لینا ممکن نہیں تھا۔ کمپنیوں کی مخالفت کی وجہ سے سرکار نے کم سے کم قیمت کو18ہزار کروڑ سے گھٹا کر14 ہزار کروڑ کردیا لیکن اس پر بھی کمپنیوں نے نا خوشی ظاہر کی تھی۔ دراصل ٹوجی اسپیکٹرم نیلامی سے 67 ہزار کروڑ روپے ملنے کے بعد سرکار امیدکررہی تھی کہ اس بار بھی وہی جادو دہرایا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا ٹو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو لیکر کمپنیوں کا جذبہ ٹھنڈا پڑنے سے سرکار کو خسارہ کنٹرول کرنے میں دقت ہوسکتی ہے۔ مالی سال 2012-13 میں سرکاری خسارے کا ترمیم نشانہ جی ڈی پی کا 5.3 فیصد رکھا گیا۔ ٹوجی اسپیکٹرم کی نیلامی سے 40 ہزار کروڑ روپے حاصل کرنے کا نشانہ تھا لیکن اس سے صرف9407 کروڑ روپے ملیں گے۔ یہ ٹیلی کمیونی کیشن وزارت کے ذریعے مقرر28 ہزار کروڑ روپے کی مختص قیمت سے کہیں کم ہے۔ اتنا ہی نہیں پوری رقم چالو سال میں ملنے کا امکان ہے۔کیونکہ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے پاس سال میں تین قسطوں میں ادائیگی کا متبادل ہے۔ سرکار کو جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں۔ حکومت نے پبلک سیکٹر کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے 30 ہزار کروڑ روپے کے محصول کا نشانہ رکھا ہے لیکن چالو مالی سال کے7مہینے میں کسی بھی پبلک سیکٹر کی کمپنی میں حصہ داری نہیں بیچی جاسکتی۔ ریزرو قیمت سے بھی کم پر ٹوجی اسپیکٹرم کی نیلامی ختم ہونے پر ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے سابق چیئرمین نرپیندر مشر نے ٹرائی کو ہی قصوروار قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا اتنا کم رقم حاصل ہونے کی خاص وجہ اتھارٹی کا غیر ذمہ دارانہ نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم نیلامی سے کم رقم حاصل ہونے کی بہ نسبت سال2010 کے تھری جی نیلامی سے حاصل رقم سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ ہی اس کے لئے 2008 کی پوزیشن کو واضح کیا جانا چاہئے۔ اس وقت بازار بہتر حالت میں تھا۔ بازار میں نئے آپریٹروں کو لئے موزوں جگہ تھی۔ فی گراہک کمپنی کی آمدنی زیادہ تھی اگر کم رقم حاصل ہوئی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ غیر واجب قیمت مقرر کرنا ۔ پھر ایک سچویشن پوائنٹ بھی آتا ہے جب بازار میں اور گنجائش نہیں ہوتی۔ دہلی اور ممبئی سرکل میں یہ سچویشن پوائنٹ آچکا ہے۔ سرکار کو اس فلاپ نیلامی کے مضر نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)
2 لاکھ لوگوں 

2 لاکھ لوگوں کو500 کروڑ روپے کا چونا لگانے والے بنٹی ببلی


بنٹی ببلی نام کی ایک فلم آئی تھی جس میں ایک مرد ایک عورت مل کر مختلف طریقوں سے جنتا کو لوٹتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کے اسٹاک گورو کے نام سے اس نئی جوڑی نے اس فلم سے کتنا سبق لیا لیکن الہاس کھرے اور 30 سالہ عورت رکھشا جے عرس نے تو راجدھانی سمیت دیش کی کئی ریاستوں میں دفتر کھول کر 2 لاکھ لوگوں سے قریب500 کروڑ روپے اکٹھے کرکے جعلسازی کے سارے ریکارڈ توڑدئے۔ 33 سالہ الہاس پربھاکر کھرے اور30 سالہ رکھشا جے عرس نے الگ الگ جگہوں پر اپنے نام اور شکل بدل کر ٹھگی کی۔ دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر سندیپ گوئل نے بتایا کہ سال2010ء میں اسٹاک گورو کے نام سے شروع ہوئی کمپنی نے متاثرین کو 20 فیصدی ماہانہ سوددینے کا لالچ دیکر رقم جمع کروائی ۔ پولیس کے پاس جب ہزاروں متاثرین پہنچنے لگے تو موتی نگر تھانے میں معاملہ درج کیا گیا اس کی جانچ جولائی2011 میں اقتصادی برانچ کو سونپی گئی۔ پولیس کے پاس اب تک14300 شکایتیں آچکی ہیں۔ معاملے کی جانچ سے پتہ چلا کہ میاں بیوی نے دہلی کے علاوہ راجستھان، مدھیہ پردیش ، دہرہ دون، سکم ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر میں تقریباً2 لاکھ لوگوں سے500 کروڑ روپے ٹھگ لئے ہیں۔ الہاس اور رکھشا کے پاس منقولہ اور غیرمنقولہ پراپرٹی ہے۔ 20 بینکوں میں13 ناموں سے94 کھاتے سیل بن کئے ہیں۔ ملزمان کے پاس سے25 کروڑ روپے سے زیادہ کے ڈرافٹ برآمد ہوئے ہیں۔ بینک کھاتوں میں تقریباً23 کروڑ روپے جمع پائے گئے۔ دہلی کے دوارکا سمیت مختلف کالونیوں میں8 فلیٹ ہیں۔ بھیواڑی، مراد آباد، الور میں بھی ایک ایک فلیٹ ہے۔ گوا میں ایک بنگلہ بھی ہے۔ 6 کروڑ روپے شیئر مارکیٹ میں بھی لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس قیمتی 12 گاڑیاں ملی ہیں۔ 
یہ دونوں تقریباً الگ الگ شہروں میں الگ الگ ناموں سے اپنا دھندہ کرتے تھے۔ الہاس بینگلورو میں روہت کھتری، ممبئی میں سدھارتھ مراٹھے، دہلی میں لوکیشور دت، گوا میں دیو صاحب کے نام سے دھندہ کرتے تھے۔ جب رکھشا عرس دہلی میں پرینکا سرساوت اور بینگلورو میں رکھشا بن جاتی تھی۔ موجودہ شکل اور نام سدھارتھ مراٹھے (رتنا گری ) اور مایا مراٹھے الہاس نے تو اپنی ماں تک کو نہیں بخشا۔ اس نے اپنی بیوی کے ذریعے سے خود کو مرا ہوا قرار دے دیا تھا۔ ماں کے لئے الہاس کی موت تقریباً ایک سال پہلے ہوچکی تھی۔ اسے جب پولیس نے بیٹے کے زندہ ہونے کی بات بتائی تو وہ حیران رہ گئی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ان کی ٹیم معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے ناگپور میں الہاس کے گھر پہنچی ۔ وہاں اس کی ماں سے پولیس ٹیم کی ملاقات ہوئی۔ جب اس بزرگ عورت سے پوچھ تاچھ کی تو بتایا کہ کچھ ماہ پہلے اس کے بیٹے کا دیہانت ہوگیا ہے۔ یہ سن کر پولیس حیرانی میں پڑ گئی۔ کیونکہ پولیس کے ہاتھ لگنے سے وہ کئی بار بچ چکا تھا۔ پولیس کو عورت نے بتایا کہ اس کی بہو رکھشا نے فون کر کے بتایا تھا کہ الہاس کی موت ہوچکی ہے لیکن اب الہاس کے زندہ ہونے کی خبر سے بیچارے ماں چونک گئی ہے۔
(انل نریندر)

16 نومبر 2012

سنگھ اپنی بالادستی اور ساکھ کی لڑائی لڑ رہا ہے


میں نے اسی کالم میں پچھلے آرٹیکل میں نتن گڈکری تنازعے پر لکھا تھا لیکن اب لڑائی بھاجپا بنام آر ایس ایس ہے۔ یہ لڑائی اب کھل کر سامنے آچکی ہے۔ بھاجپا قومی ایگزیکٹو کے ایک ممبر جگدیش شیٹر نے مطالبہ کیا ہے پورتی گروپ کو مشتبہ مالی گھوٹالے کے الزامات کے پیش نظر نتن گڈکری کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ شیٹر کا کہنا تھاگڈکری آر ایس ایس کے ورکر بھی ہیں جس کا دھرم سب سے پہلے ملکی مفاد ہے پھر پارٹی مفاد کی حفاظت کرنا ہے۔ اس لئے ضمیر کی آواز سے آر ایس ایس کے ورکر ہونے کے ناطے مجھے یقین ہے کہ وہ پورے دیش اور تنظیم کے مفاد میں سب سے پہلے قدم اٹھائیں گے۔ آر ایس ایس نے شیٹر کی بات کا جواب تو نہیں دیا لیکن الٹا معاملے کو الجھانے کی کوشش کی ہے۔ آر ایس ایس کے سابق ترجمان اور آئیڈیا لوجسٹ ایم جی وید نے اپنے بلاگ میں لکھ دیا کہ بھاجپا صدر نتن گڈکری کو بدنام کرنے کے پیچھے نریندر مودی کا ہاتھ ہے۔ گڈکری اگر عہدے پر بنے رہے تو شاید نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ ویدکا کہنا ہے لال کرشن اڈوانی اور گڈکری نے پبلک طور پر کہا کہ ان کی وزیر اعظم بننے کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ ہم نے کہیں نہیں پڑھا کہ نریندر مودی ان خبروں سے انکار کرتے ہوں کہ ان کی وزیر اعظم بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ وید نے اپنے تبصرے پر قائم رہتے ہوئے کہا میرا نظریہ ہے اس لئے کیونکہ جیٹھ ملانی نے گڈکری کے استعفے اور نریندر مودی کو وزیر اعظم بنائے جانے کے معاملے کو ایک ساتھ اٹھایا اس لئے شک کی سوئی گجرات کی طرف گھومتی ہے۔ نتن گڈکری کو لیکر آر ایس ایس کو ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کا دوہرا کردار بے نقاب ہورہا ہے۔ سنگھ میں اندرونی رسہ کشی ہے ۔ ایک دن ایک بیان آتا ہے تو دوسرے دن دوسرا۔جو پہلے سے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ مثال نتن گڈکری کو کلین چٹ دینے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ایس گورو مورتی کا تازہ بیان ہے۔ اب گورو مورتی کہتے ہیں کہ کسی کی سیاسی بھی سیاسی پارٹی کے پردھان کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے۔ پیر کو ہی گورو مورتی نے ایک کے بعد ایک کئی ٹوئٹ کرتے ہوئے اس معاملے میں اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی کہ وہ کسی ایسے آدمی کو کلین چٹ نہیں دے سکتے جنہیں وہ اچھی طرح نہیں جانتے۔ گڈکری کو میں بالکل نہیں جانتا۔ گورو مورتی کا کہنا تھا گڈکری کا مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے اور اس سے بی جے پی جیسے نمٹتی ہے اس کا اپنا معاملہ ہے۔ خاص غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ بڑی بیان بازی آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کو اچانک دہلی پہنچنے کے بعد تیز ہوئی ہے۔ ہم اس کا کیا مطلب نکالیں؟ آج سنگھ کی ساکھ داؤ پر ہے۔ سنگھ کی بالا دستی کو بھاجپا کے اندر سے چنوتی مل رہی ہے اور اس سے وہ بوکھلا گیا ہے۔ بھاجپا نے پہلے بھی کئی بار سنگھ کی بالادستی ختم کرنے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ بس جب اٹل جی پردھان منتری تھے تب کہا جاسکتا ہے کہ ان کے عہد میں آس ایس ایس ڈرائیور سیٹ پر نہیں تھی۔ اب جب ایک بار پھر سنگھ کو چیلنج مل رہا ہے تووہ اپنی بالادستی اور ساکھ کی لڑائی لڑنے پر تلی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

کونسلر ستیم یادو کا قتل کیا گیا یا معاملہ خودکشی کا تھا


میونسپل کونسلرآتما رام گپتا کے قتل میں ایک عورت کونسلر شامل تھی۔اس معاملے کے 10 سال بعد ایک بار پھر سیاسی دباؤ میں دہلی میونسپل کارپوریشن کی ایک خاتون کونسلر ستیم یادو کی جان چلی گئی۔ اسکول میں ٹیچر کی نوکری سے استعفیٰ دے کر کونسلر بننے اور پھر سیاسی پروگراموں اور دباؤ کے چلتے ستیم کو جان دینی پڑی۔ کانگریس کی خاتون کونسلر ستیم یادو 26 سال کی تھی۔ گذشتہ دنوں اس کی اپنے گھر میں مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔ اس کی ایک ڈیڑھ سال کی بیٹی کا بھی قتل کردیا گیا۔ کونسلر کے مائکے والوں کے بیان پر اس کے شوہر، ساس، سسر اور دو نندوں کے خلاف جہیز و قتل کا مقدمہ درج کر، اس کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حالانکہ ستیم کے سسرالیوں کا کہنا ہے کہ ستیم نے بیٹی کا قتل کیا اور خودکشی کرلی۔ستیم یادو کانگریس کے ٹکٹ پر اسی برس نانگلوئی مشرق ،وارڈ نمبر43 سے چناؤ جیتی تھی۔ موت کے اگلے ہی دن ان کا جنم دن تھا۔صبح 7:20 پر ستیم کے شوہر پون یادو نے پولیس کو فون کرکے واردات کی اطلاع دی۔ پولیس جب تک اس کے گھر پہنچی ستیم کے کمرے کے گیٹ کی چٹخنی باہر سے دھکا دے کر توڑی جاچکی تھی۔ پولیس کے آنے سے پہلے بے سدھ پڑی اپنی بیٹی تاریکا کو ہسپتال لے جا چکا تھا جہاں اسے مردہ قراردے دیا گیا۔ اس کا قتل گلا دبا کر کیا گیا۔ پولیس کو کمرے سے کوئی خودکشی نامہ نہیں ملا۔ جنم دن سے ایک دن پہلے ستیم یادو نے اپنی زندگی ختم کرلی اس کے پیچھے کیا وجہ تھی یہ تو جانچ کے بعد پتہ چل جائے گا۔ بھائی نشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ پورا پریوار اس بار ستیم کا جنم دن بلند شہر میں منانے کا پلان بنا رہا تھا۔ ستیم کو لے جانے کے لئے بھائی نشانت 6 نومبر کو اس کی سسرال آیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ اس دن اس کی سسرال میں جس طرح سے برتاؤ کیا گیا اس کے دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سسرال والوں نے نشانت کو بے عزت کر اسے واپس چلے جانے پر مجبور کردیا۔ نشانت نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے جہیز کے لئے اس کی بہن کو مار ڈالا ہے۔ ستیم کی شادی 16 فروری2010ء کو پون کے ساتھ ہوئی تھی۔ شادی کے وقت پون بے روزگار تھا۔ شادی ہونے کے بعد اسے ایم سی ڈی کے اسکول میں ٹیچر کی نوکری مل گئی۔ اس کے بعد سے ہی ان لوگوں نے جہیزکے لئے پریشان کرنا شروع کردیا۔ اس نے بتایا کہ ستیم کے سسرال والے50لاکھ روپے اور ہونڈا سٹی کار مانگتے تھے۔ یہاں تک کہ چناؤ کے وقت ستیم کے سسر نے 50 ہزار روپے مانگے تب ان کی ماں نے 20 ہزار روپے دئے تھے۔ ستیم کے سسر لالہ رام نے نشانت کے لگائے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے پولیس کو بیان دیا کہ رات ان کی بیوی ستے وتی کی طبیعت خرا ب ہوگئی تھی۔ بیٹا پون بھی ماں کی دیکھ بھال کررہا تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے دوسری منزل پر واقع کمرے میں گیا تو اس نے دیکھا ستیم نے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا ہوا ہے اس کے بعد وہ ماں کے کمرے میں آکرسوگیا۔ صبح وہ اپنے کمرے میں گیالیکن دروازہ بند تھا۔ پون کی بہن سنگیتا دروازہ کھلوانے گئی، کئی بار آواز لگانے کے باوجود دروازہ نہیں کھلا تو دروازہ کو توڑدیا گیا۔ اندر ستیم پنکھے سے لٹکی ملی۔ ستیم کے قتل کی گتھی ابھی ان سلجھی ہے۔ اب یہ پتہ لگانا ہے کہ اس کو قتل کیا گیا یا اس نے خودکشی کی؟
(انل نریندر)

15 نومبر 2012

امریکی کانگریس کی 223 برسوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گیتا پر حلف

امریکی چناؤ میں جہاں ایک طرف سبھی پانچ ہندوستانی امریکی امیدوار کانگریس میں چنے جانے سے رہ گئے وہیں تلسی گوارڈ نے تاریخ رقم کردی۔ پہلی ہندو امریکن ہیں جنہیں امریکہ کے نچلے ہاؤس ہاؤس آف نمائندگان کا ممبر بننے کا موقعہ ملا ہے۔ عراق جنگ میں شامل رہ چکی 31 سالہ گوارڈ نے ریپبلکن پارٹی کے کے کرائسلی کو ہوا ئی صوبے میں بھاری فرق سے ہرایا۔ ان کی کامیابی سے دیش بھر میں ہندو امریکی فرقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹس کو سپورٹ کرنے والے اس ضلع سے ایک بودھ امیدوار بھی جیت کر ایوان بالا سینیٹ کے لئے چنی گئی ہیںیہ ہے ماجی ہیرونی، جو 2006 ء میں بھی کانگریس کے لئے چنی گئی تھیں۔ یہ پہلی بودھ ممبر بنی تھیں اور اس بار سینیٹ میں پہنچی ہیں۔ امریکی شہر سماؤ میں کیتھولک والد اور ہندو ماں کے گھر پیدا تلسی جب محض دو سال کی تھیں ہوائی لائی گئی تھیں۔ بیشک ہوائی میں ہندوؤں کی تعداد زیادہ نہیں ہے لیکن تلسی کا کہنا ہے میں نے کبھی بھی امتیاز محسوس نہیں کیا ۔ ہوائی میں مجھے ایک شخص ملے جنہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی اپنے مذہب کے بارے میں شرم محسوس کرتی تھی لیکن مجھ سے ملنے کے بعد اسے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ شخص میری جیت سے خوش تھا کہ اب امریکہ میں رہ رہے سینکڑوں اور ہزاروں نوجوان ہندو اپنے مذہب کے بارے میں کھل کر سامنے آسکیں گے۔ تلسی اکثر بھاگوت گیتا کے شلوکوں کا حوالہ دیتی ہیں۔ جنوری میں وہ جب حلف لیں گی تو پہلی بار کوئی ہاؤس آف نمائندگان کا ممبر بھاگوت گیتا پر ہاتھ رکھ کر حلف لے گا۔ اس ایوان کے 223 سال کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ جب کوئی ممبر بھاگوت گیتا پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے والا ہے۔ براک اوبامہ کی جیت میں ہندوستانی امریکیوں کا بھی کافی تعاون رہا ہے۔ فیصلہ کن نبھانے والے پرپل اسٹیٹنس یعنی جنگی ریاستوں میں قریب تین چوتھائی ہندوستانی امریکیوں نے براک اوبامہ کے حق میں ووٹ کیا۔ امریکی آبادی میں قریب آدھا فیصد حصے داری رکھنے والے ہندو فرقے کے لئے اس سال کی دیوالی خاص رہی ہے کیونکہ پہلی بار ان کے مذہب کا کوئی شخص امریکی کانگریس میں منتخب ہوا ہے۔ تلسی گوارڈ نے دیش کے ہندو فرقے کے لئے ایک دیوالی ویڈیو سندیش میں کہا ’واہ واہ گذشتہ منگل کو امریکی کانگریس کے لئے پہلے ہندو کے طور پر منتخب ہوئی ہوں۔ اس کارنامے سے میں بہت خوش ہوں۔‘ ہوائی صدر اوبامہ کا پیدائشی مقام ہے۔ قریب دو منٹ کے اپنے پیغام میں تلسی نے کہا ’آج دیوالی کی شبھ کامنائیں آپ کو اور آپ کے خاندان کو دیتے ہوئے میں فخر محسوس کررہی ہوں۔ آپ جانتے ہیں دیوالی محض تفریح کا تہوار نہیں ہے بلکہ یہ برائی پر اچھائی کی جیت کا پروو ہے۔ جشن منانے کے لئے دیوالی سے بہتر کوئی وقت نہیں ہوسکتا۔ ‘ انہوں نے کہا چناؤ اور پرچار سب پورے ہوچکے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے اختلافات بھلائیں اور مل جل کر کام کریں۔ وائٹ ہاؤس میں بھی آج دیوالی منائی جارہی ہے۔ ہم سارے دیش کی طرف سے تلسی گوارڈ کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

پدمنابھ سوامی مندر کا خزانہ پبلک اثاثہ نہیں!


کیرل کے وزیر اعلی اومن چانڈی نے جمعہ کو بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کی اس دلیل کو مسترد کردیا ہے کہ دنیا کے مشہور پدمنابھ سوامی مندر کے تہہ خانے سے ملا خزانہ پبلک پراپرٹی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ برآمد ہوا خزانہ مندر کا ہے اور اسے مندر میں ہی رکھا جانا چاہئے۔ چانڈی نے ترواننت پورم میں اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ سرکار مندر کے معاملوں سے جڑے انتظامیہ کے معاملوں میں دخل نہیں دے گی اور یہ مندر اور اس کے شردھالوؤں پر منحصر رہتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ املاک کا استعمال کس طرح سے کرنا ہے۔ چانڈی کا کہنا ہے حکومت نے پہلے ہی اپنے فیصلے سے سپریم کورٹ کو واقف کرادیا تھا اور مندر کے اثاثوں کو ضروری سکیورٹی دینے کے لئے تیار ہے۔چانڈی نے کہا مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے ریاستی سکریٹری پی وجین کی اس دلیل سے متفق نہیں ہیں کہ پراپرٹیوں کا کنٹرول بھگوان کور شاہی گھرانے کو نہیں سونپا جانا چاہئے۔ دہائیوں تک اتنی بڑی پراپرٹیوں کو جوں کا توں رکھنا اپنے آپ میں شاہی گھرانے کی ایمانداری کی واضح مثال ہے۔ انصاف کے رکھوالوں کی طرف سے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے بارے میں چانڈی نے کہا کے اس پر قطعی فیصلہ کرنے کا کام عدالت کا ہے۔ بتاتے چلیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر نیائے متر (وکیل) گوپال سبرامنیم نے اپنی تجاویز میں کہا کہ اثاثے شاہی گھرانے کے حوالے کردئے جائیں۔ پدمنابھ سوامی مندر کے خزانے کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نیائے متر کی تقرری کرنے کی مخالفت کرنے پر ہندو تنظیموں نے بھی کمیونسٹ پارٹی کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ کمیونسٹ نیتاؤں نے کہا تھا کہ نیائے متر گوپال سبرامنیم کی صلاح پر منتر پر کنٹرول کے لئے تراونڈ کور راجیہ پریوار کی مدد کرنے کے لئے ہے۔ اس پر آر ایس ایس اور کچھ دیگر تنظیموں نے کہا بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو مندر کے معاملے میں مداخلت کرنے کا حق نہیں ہے۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے پردیش سیکریٹری پنرئی وجین اور پارٹی کے سرکردہ لیڈر اپوزیشن لیڈر وی ایس اچھوتانند سرکار سے سبرامنیم کی تجویزوں کو مستردکرنے کی مانگ کی تھی۔ ان دونوں نے الزام لگایا تھا کہ ان میں ریاستی خاندان کی مندر اور اس کے وسیع خزانے پر پھر سے کنٹرول مل جائے گا۔ 
انہوں نے سپریم کورٹ میں زیر التوا معاملے میں ٹھوس موقف نہ اپنانے کے لئے کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکار کی تنقید کی تھی۔ واقعات پر رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بھاجپا کے پردیش صدر وی مرلی دھرن نے کہا کہ کیا بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے نیتا دوسرے مذہبوں کے پراپرٹی کے معاملے میں بھی یہ ہی موقف اپنائیں گے؟ آر ایس ایس نواز ہندو سماجوادی لیڈر کمانند راج شیکھرن نے الزام لگایا کہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کا قدم مندروں کو تباہ کرنے کے لئے اس کی دلیل غیر آئینی ہے کہ مندرپر مکمل کنٹرول سرکار کے پاسہونا چاہئے۔ ہم کیرل کے وزیر اعلی اومن چانڈی کو ان کے حوصلہ افزاء موقف کے لئے مبارکباد دیتے ہیں اور ان کی دلیل سے متفق ہیں کہ دہائیوں تک جب تک تراوڑکور راج گھرانے نے مندر کی پراپرٹی کی حفاظت کی ہے تو ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ سسٹم میں کوئی تبدیلی کی ضرورت پیش آئے۔
(انل نریندر)

14 نومبر 2012

درگاہ حاجی علی پر عورتوں کے داخلے پر پابندی کا فتوی


وقتاً فوقتاً کچھ دقیانوسی مذہبی پیشوا ایسا فرمان جاری کردیتے ہیں جو سمجھ سے باہر ہوتا ہے۔ ممبئی کی حاجی علی درگاہ کی انتظامیہ نے درگاہ میں خواتین کے داخلے پر پابندی لگانے کا فرمان جاری کیا ہے۔ ممبئی کے ورلی ساحل کے سمندر سے تقریباً500 میٹر سمندر کے اندر واقع پندرھویں صدی کے صوفی سنت پیر قاضی علی شاہ بخاری کی درگاہ ہے۔ یہاں دہائیوں سے غیر ملکی سیلانی و زائرین بے روک ٹوک آتے رہے ہیں۔ حاجی علی کے مزار پر جاکر اپنا سر جھکاتے رہے ہیں۔ عقیدت اور جذبات کے مطابق یہاں ہر مذہب ،فرقے اور ہرنسل کے لوگوں کے ذریعے مانگی جانے والی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ دیدار کرنے والوں کو لیکر کسی بھی طرح کا کوئی امتیاز اس درگاہ اور اس کے منتظمین کی جانب سے سننے میں نہیں آیا۔ حاجی علی کی درگاہ کے کچھ مولویوں نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ عورتیں درگاہ میں جاکر محض گھوم پھر سکتی ہیں یا دعاء مانگ سکتی ہیں لیکن ان کا مزار شریف کے قریب جانا اور وہاں لگی مقدس جالی کو پکڑ کر دعا کرنے ممنوع قراردیا ہے۔ یہ فیصلہ حاجی علی کی مشہور درگاہ کے علاوہ ممبئی کی سات دیگر درگاہوں پر بھی نافذ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ بات صاف کردی ہے کہ یہ کافی مقصد درگاہ ہے اور اسلام میں خواتین کا ان میں داخلہ ممنوع ہے اس لئے درگاہ کے انتظامیہ نے فرمان جاری کئے ہیں کے عورتیں صرف دروازے کے باہر کھڑی ہوسکتی ہیں لیکن اندر جہاں صوفی حاجی علی شاہ بخاری کی قبر ہے وہاں نہیں جاسکتیں۔ جانے مانے وکیل اور درگاہ کے ایک ٹرسٹی رضوان مرچنٹ نے کہا ہے کہ عورتیں باہر سے پھول نظر کرکے دعا کرسکتی ہیں لیکن انہیں اندر جانے سے بالکل منع کیا گیا ہے۔ مرچنٹ نے بتایا کہ شریعت کے مطابق یہ فتوی جاری کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ فتوی چھ مہینے پہلے جاری ہوا تھا جس کو لیکر کافی احتجاج اور مخالفت ہوئی تھی لیکن اب اس میں کچھ اصلاحت کرکے اسے سختی سے لاگو کیا جائے گا۔ اب بھارتیہ مسلم مہلا آندولن نے اس فیصلے پر نہ صرف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ایسے دقیانوسی فتوؤں کے خلاف وسیع حمایت حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ عورتوں کی اس تنظیم کو جہاں زیادہ تر عورتوں کی حمایت حاصل ہے وہیں اصلاح پسند اور روشن خیال مرد سماج بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔ دیش میں چاروں طرف ایسے ہٹلر شاہی فتوؤں کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ دھرم کے ٹھیکیدار اور شریعت قانون کے رکھوالوں سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ صوفی سنت پیر علی شاہ کی درگاہ پر شرعی قانون نافذ کئے جانے کی آج ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے؟دوسری بات یہ کہ اگر عورتوں کی عدم پاکیزگی یا ان کے قابل اعتراض لباس درگاہ کے اندرونی حصے میں ممانعت کی وجہ ہیں تو پاک صاف رہنے والی عورتیں پورے کپڑے پہن کر درگاہ احاطے میں آنے والی عورتیں ایسی پابندی کا شکار کیوں؟ اس سے ایک سوال یہاں پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا درگاہ کے اندر کا حصہ یا مزار تک جانے والا ہر ایک شخص پاک صاف ہوتا ہے؟ پاکیزگی یا غیر پاکیزگی کی حدود کا تعین کرنے یا اس کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار یا طریقہ آخر کس کے پاس ہے؟کوئی شرابی بھی نا پاک ہوسکتا ہے؟ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ پابندی آج کے اس دور میں دیکھنے کو مل رہی ہے جب ہم انتہائی جدیدسماج اور ماحول میں جی رہے ہیں۔ اب ہمارے دیش کی درگا یا دیوی کہی جانے والی عورتیں مردوں کی برابری میں کھڑی ہیں۔ دیش میں تین اہم عہدوں پر آج بھارت میں عورتیں فائز ہیں جس میں حکمراں یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار، اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج خاص نظیر ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ درگاہ حاجی علی کے منتظمین اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں گے اور اس فیصلے کو واپس لیں گے۔
(انل نریندر)

کس قانون کے تحت واپس لئے جارہے ہیں آتنکیوں کے مقدمے؟


اترپردیش کی اکھلیش یادو حکومت نے آتنک واد کے الزام میں ریاست کی مختلف جیلوں میں بند مسلم قیدیوں کی رہائی کے احکامات دئے ہیں۔ سپا کے ریاستی ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ یہ آدیش دے کر اکھلیش سرکار نے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے چناوی وعدے کو نبھایا ہے۔ ان میں زیادہ تر ملزمان کی 2007ء میں وارانسی، گورکھپور میں ہوئے بم دھماکوں اور رامپور میں واقع سی آر پی ایف کیمپ اور لکھنؤ، بارہ بنکی، فیز آباد میں دہشت گردانہ حملے کی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے کئی نے اپنی گرفتاری کے جواز اور احکام کو عدالت میں چنوتی بھی دے رکھی ہے۔ اکھلیش یادو نے اپنے چناوی وعدوں کو پورا کرنے کی کڑی کے طور پر افسروں کو ان معاملوں کو واپس لینے کا جائزہ لینے کے احکامات دئے ہیں۔ کیونکہ اس سلسلے میں ایک یقینی عدالتی عمل کی تعمیل کرنی ہوتی ہے۔ اکھلیش سرکار کے اس فیصلے پر ردعمل ہونا فطری ہے۔ سیاسی و عدلیہ کے نکتہ نظر سے بھی ۔ بھاجپا نے دہشت گردی کے ملزمان کی رہائی کے احکامات کو ووٹ بینک اور خوش آمدی کی سیاست کی مثال قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم قانون و نظام کا گلا گھونٹنے جیسا ہے۔ بھاجپا کے ترجمان راجندر تیواری نے ریاستی حکومت پر قانون و نظام کو تہس نہس کرنے اور قانون کے راج کو درکنار کر ریاست میں بدامنی کا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ ادھر الہ آباد ہائی کورٹ نے رامپور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کرنے والے آتنک وادیوں سے مقدمے اٹھائے جانے پر ریاستی سرکار سے پوچھا ہے کہ وہ کس قانون کے تحت یہ مقدمے واپس لے رہی ہے؟ جمعہ کو جسٹس آر کے اگروال ، جسٹس آر ایس آر موریا کی ڈویژن بنچ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سرکار سے جواب طلب کیا ہے۔ وارانسی کے نتیا نند چوبے کے ذریعے داخل عرضی میں کہاگیا ہے کہ 31 دسمبر 2007ء کو کچھ آتنکیوں نے رامپور میں سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کردیا تھا۔ جس میں سی آر پی ایف کے 7 جوانوں اور ایک رکشا چالک کی موت ہوگئی تھی۔ واقعی کے40 دن بعد سکیورٹی فورس نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے باشندے عمران ،شہزاد، ابو اسامہ، گل راولا، پاکستان کے محمد فاروق عرف ابو ذوالفقار ،صباح الدین عرف بابا باشندہ مدھو بنی بہار، فہیم ،اسد انصاری باشندہ ایم جی روڈ گورے گاؤں ممبئی، محمد شریف عرف سہیل باشندہ کھجوریہ ،رامپور، جنگ بہادر خان عرف بابا ملک باشندہ موٹھا پانڈے،مراد آباد،غلام خاں، بریلی، محمد کوثرپرتاپ گڑھ کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے پاس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔ ان آتنک وادیوں کے خلاف کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس درمیان سپا حکومت نے ان آتنکیوں وادیوں سے مقدمہ واپس لینے کی تیاری کرلی ہے۔ مفاد عامہ کی عرضی میں اخباروں میں شائع خبروں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اکھلیش سرکار کے اس فیصلے سے سکیورٹی فورس کے حوصلے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

13 نومبر 2012

دیوالی پر نئے سنکلپوں کے دیپ جلائیں


کراتک مہینے کی اماوس کو نہایت دھوم دھام کے ساتھ ہر سال منایا جانے والا پانچ روزہ دیپ پرو دیپاولی قدیم ہوتے ہوئے بھی نو سریجن و کرم مے جیون کا پرتیک ہے۔ ہم سبھی کی زندگی میں ہر سال نئی ارجا،نئی چیتنا، ایک نیا بھاؤ ،نئی الاس و نئے اتساہ کا بڑا سنگار کرنے آتا ہے۔ دیپاولی کا مقصد ہے جھوٹ پر سچائی کی جیت اور اندھکار پر پرکاش کی کرن والی وجے۔مہنگائی کے رونے، مصیبت کے قصے، آندولن، بحث ،دھرنا پردرشن اور کچھ دنوں کے لئے کہیں پرچلے جاتے ہیں۔ دہلی اور یا لدھیانہ یا بھوپال ہویا لکھنؤ، الہ آبادہو یا بنارس ہر جگہ تہواری رونق نظر آتی ہے۔ دیوالی کا سواگت کرنے کے لئے دہلی کے بازار تیار ہیں۔ اس تہوار پر گراہکوں کو دکھانے کے لئے مارکیٹ میں نئے نئے انداز میں نئے نئے پروڈکٹس پیش کئے جارہے ہیں۔ آنکڑوں کے مطابق دیپاولی اور اس کے ساتھ لگے دیگر تہواروں اور موقعوں پر 50 ہزار کروڑ سے زیادہ کی بکری ہوتی ہے۔ اس طرح اس موقعہ پر خرچ کرنے کے لئے اپ بھگتاؤں کے پاس سامنیہ موقعوں کے مقابلے 15 سے18 گنا پیسہ ہوتا ہے۔2012 کا تہواری سیزن وقت کے ساتھ بدل رہا ہے۔ عام طور پر اس بڑھتی مہنگائی کی بات کرتے ہیں پر اگر ہم بازاروں میں بکتے سامان کو دیکھیں تو لگتا نہیں کے مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی خریداری میں کوئی کمی آئی ہے۔ گفٹوں کے بازار بھرے پڑے ہیں۔ اب لوگ دیوں کے آفر سے بچ کر بجلی کے بلبوں کی لڑیوں کو زیادہ پسند کررہے ہیں۔ مٹھائیوں میں ملاوٹ کی رپورٹوں کے چلتے لوگوں نے اب گفٹوں پر زیادہ دھیان دینا شرو ع کردیا۔درائی فورٹ ، کرارکری اور کولڈ ڈرنکس و جوس کے گفٹ پیک ،کپڑوں وغیرہ کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ایسا نہیں کہ مٹھائیوں کی بکری ختم ہوگئی ہے پر گھٹ ضرور گئی ہے۔ مٹھائیوں میں بھی ان مٹھائیوں کو اہمیت دی جارہی ہے جو کئی دنوں تک چل سکتی ہیں۔ بسکٹ کے گفٹ آئٹم بھی ہٹ ہورہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دیپاولی میں اسٹیشنری گفٹ کا چلن کافی زیادہ تھا۔ لوگ اپنے بچوں کو اسکول اور کالج و دوست اپنے دوستوں کو پین، ڈائری، پروگرام کلینڈر یا اس طرح کی دیگر چیزیں گفٹ کرتے تھے لیکن یہ کتابوں اور اسٹیشنری بازار انٹر نیٹ اس پراثر انداز ہوا ہے۔ لکھنے پڑنے کا کام کم ہوتا جارہا ہے۔ تہوار محض ایک شخص کا نہیں ہوتا بلکہ کسی کے دیش کی ریت کو درشاتا ہے۔ اس دیش کی پرمپرا کو پہچاننے کے لئے ساہک ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے دیپاولی کیا درشاتا ہے۔ دیپاولی یعنی دیپ کا تہوار۔ دیپاولی اجلے من کا تہوار ہے کیونکہ دیپاولی میں خوشیاں جگمگاتی نظر آتی ہیں۔ چاروں طرف روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے اس لئے دیپاولی کو سنکلپ ورت کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔اگر ہم کوئی قسم یا سنکلپ اس دوران لیتے ہیں تو اس کے پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔ سنکلپ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایسی چیز کرنے کا من بنالیں جو اسمبھو ہو۔ دیوالی کی بات کریں تو پٹاخوں اور آتشبازی کی بات کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ پہلے لوگ آتشبازی کا خوب مزہ لیتے تھے۔ پھر گاڑیوں میں بڑھتی آلودگی کی وجہ سے آتشبازی کا شور کم ہوا ہے۔ میں یہ تو دعوے سے نہیں کہہ سکتا کہ پٹاخوں کی بکری میں کتنی کمی آئی ہے پر یہ مہنگے ضرور ہوگئے ہیں۔ایکو فرینڈلی پٹاخوں کا بھی رواج شروع ہوگیا ہے۔2005ء میں جہاں محض کچھ لاکھ روپے کے ہی ایکوفرینڈلی پٹاخے دہلی میں بکے تھے وہیں آج دہلی میں ہی ان کی بکری30-40 کروڑ روپے پہنچ گئی ہے۔ آپ سب کو دیوالی مبارک۔ذرا دھیان رہے بموں اور لڑیوں جیسے آلودگی بڑھانے والے پٹاخوں پر زور کم رہے اورا یسے پٹاخے جلائے جائیں جو ہوا کو اور آلودہ نہ کریں۔ پہلے سے ہی دہلی میں (سماگ) کی چادر چھٹی نہیں ہے۔اس کو اور نہ بڑھائیں۔ سیف دیوالی منائی۔ ہر سال دیوالی کے دن 200 سے زیادہ لوگ جل جاتے ہیں احتیاط برتیں اور سیف دیوالی منائیں۔
(انل نریندر)

سورج کنڈ منتھن سے کیاامرت نکلے گا؟


شکروار کو سورج کنڈ ہریانہ میں قریب ساڑھے چھ گھنٹے تک سرکار اور سنگٹھن کے نیتاؤں میں لمبا تبادلہ خیال ہوا۔ اس لمبے منتھن سے میں سمجھتا ہوں کہ کچھ اچھی باتیں بھی نکلیں۔ سرکار اور کانگریس سنگٹھن کو اس بات کا احساس ہوا کہ جنتا میں اس کی ساکھ بہت خراب ہوگئی ہے۔آنے والے ڈیڑھ سال میں کئی راجیوں میں ودھان سبھا چناؤ اور 2014 ء میں ہونے والے عام چناؤ کے مد نظر کانگریس پارٹی اور سنگٹھن دونوں کو ہی اپنی اپنی ساکھ بدلنے ہوگی۔ آرتھک سدھاروں کے نام پر کڑے فیصلے اب بہت ہوچکے۔ اگلے ڈیڑھ سال میں سرکار کو کانگریس کی سماجک سرکشا یوجناؤں کا ایجنڈا پورا کرنا ہوگا۔ سورج کنڈ میں کانگریس کی سمواد بیٹھک سے سرکار کے لئے یہ سندیش ابھرکر نکلتا ہے سمواد بیٹھک میں کانگریس نے یہ صاف کردیا کہ عام آدمی کے نعرے سے پیچھا نہیں چھڑایا جاسکتاہے۔کئی آرتھک فیصلوں کے لئے منموہن سرکار کو ہری جھنڈی اسی بات پر ملی تھی کہ ساماجک یوجناؤں کے لئے ضروری پیسے کا انتظام ہوسکے۔ منموہن سنگھ کی آرتھک نیتیوں کی ایک طرح سے سیدھی آلوچنا کہا گیا کہ ایف ڈی آئی سمیت ڈیزل، ایل پی جی کے دام اس لئے بڑھائے گئے تاکہ عام آدمی کو تھوڑی راحت ملے۔ الٹا مہنگائی نے عام آدمی کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس بات کا اظہار کانگریس ادھیکش کے سب سے قریبی اور رکشا منتری اے کے انٹونی نے ایک طرح سے منموہن سرکار کی آرتھک نیتیوں کو سمواد کے دوران کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ انہوں نے جب عام آدمی کے تئیں سرکار کو زیادہ جوابدہ ہونے اور کانگریس کی وچار دھارا کا سوال اٹھایا تو اس کا مطلب یہ ہی تھا ۔ یہاں تک کہ خود کانگریس ادھیکش سونیا گاندھی بھی منموہن سرکار کی آرتھک نیتیوں کا سمرتھن کرتی نہیں دکھیں۔ 
سونیا کا صاف کہنا تھا کہ پارٹی جس طرح سے سرکار کے ساتھ ہر وقت کھڑی رہی اسی طرح اب منتریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنگٹھن کو چنیں۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے تمام فیصلوں کے وقت پر بھی سوال اٹھا دئے۔ ہماچل چناؤ کے پہلے گیس سلنڈر کے دام 25روپے بڑھانے کی طرف ان کا اشارہ تھا۔ پارٹی مان رہی ہے کہ رول بیک کے باوجود اس کا تمام نقصان ہوا۔ جنتا کو منموہن سنگھ کی نہ تو آرتھک نیتیاں سمجھ میںآرہی ہیں اور نہ ہی انہیں سمجھایا جاسکتا ہے۔ مہا سچو راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ پروگرام اور نیتیوں میں بدلاؤ ضروری ہے۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نے ایسی نیتی اپنے پر زور دیا جس میں جلد فیصلے ہوسکیں۔ اسی کانگریس نے سابق پردھان منتری اندرا گاندھی کے وقت بینکوں کا راشٹریہ کرن کیا۔ اسی کانگریس نے آرتھک کاری کرن شروع کیا اس لئے وقت کے ساتھ بدلاؤ ضروری ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جسم میں اگر کوئی بیماری آجائے تو سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے اس بیماری کا ڈائگنوز ہونا۔ کیا بیماری ہے اس کا پتہ کرنا۔ یہ پتہ چلنے کے بعد ہی علاج ہوسکتا ہے۔ سورج کنڈ میں کانگریس کو بیماری کا تو پتہ چل گیا ہے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس بیماری کا علاج کیا کیا جاتا ہے۔ وقت کم ہے اور جنتا کو راحت کے فیصلے اگر فوراً نہیں ہوئے تو کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔
(انل نریندر)

11 نومبر 2012

کرپشن ہلادے گا چین اور پارٹی کی چولیں:جنتاؤ


چین، بھارت اور امریکہ جیسا ملک نہیں جہاں ایک کھلا سماج ہے، آزاد پریس ہے،موثر انسانی حقوق تنظیمیں موجود ہیں۔ چین میں کمیونسٹ حکومت ہے اور چین کے اندر کیا ہورہا ہے یہ کم ہی پتہ چلتا ہے۔ جمعرات سے چین کی راجدھانی بیجنگ میں حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18 ویں کانفرنس شروع ہوئی۔ بیجنگ کے ’دی گریٹ ہال آف پیپلز ‘ میں چل رہی اس کانفرنس میں دیش بھر سے چنے گئے 2270 نمائندے پارٹی کانگریس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اجلاس میں موجودہ صدر ہوجنتاؤ اور وزیر اعظم بین جیاباؤ کے جانشین چنے جائیں گے۔ بیجنگ میں اس کانگریس کے لئے اتنی بڑی سکیورٹی ہے کہ پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا۔ پھیری والے بھی کھلے عام نہیں گھوم سکتے۔ شہر کے 60 ہزار ٹیکسی ڈرائیوروں کو شیشے چڑھا کر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ سواریاں لے جانی ہوں گی۔ یہ کانفرنس کل7 دن کی ہے۔ سی پی سی کی اس اہم میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ صدر ہوجنتاؤ نے اپنی تقریر سے چونکادیا کہ انہوں نے سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا بھرشٹاچار دیش اور پارٹی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ ہی نہیں اگر موثر ڈھنگ سے قدم نہیں اٹھائے گئے۔پارٹی کی چولیں بھی ہل سکتی ہیں۔ اپنی قیادت میں پارٹی کی ایک دہائی سے زیادہ کارناموں کو رکھتے ہوئے ہو نے کہا پارٹی کو کرپشن سے لڑنے اور ایمانداری کو بڑھاوا دینے اور زوال کے خلاف متحد رہنے کے لئے فوراً قدم اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا ان مسئلوں سے نمٹنے کے لئے پارٹی کو طویل المدت اور واضح سیاسی عزم دکھانا ہوگا۔ قوم جب خود کرپشن کے مسئلے کے اتنی بڑی سطح پر پھیلنے کی بات کرے تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چین میں کتنا کرپشن ہوگا جو انہوں نے ایسی بات کہی۔ پچھلے دنوں امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے عام لوگوں کے گئیں ہمدردی رکھنے کے لئے مشہور چین کے وزیر اعظم بین جیاباؤ کے اقتدار کا یہ سنسنی خیز انکشاف کیا۔ جیا باؤ کے اقتدار میں رہنے کے دوران ان کے خاندان نے 2.7 ارب ڈالر (قریب 144 ارب روپے) کی پراپرٹی اکھٹی کی۔ چینی حکومت نے اس رپورٹ کو روکنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن نیویارک ٹائمس نے اسے اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا۔ اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بین کی بیٹے ، بیٹی اور چھوٹے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے مل کر خوب پراپرٹی کمائی۔ چین میں دراصل کرپشن نے ماہ ماری کا روپ لے لیا ہے اور کئی اعلی افسران کو سخت سزا بھی ہوئی ہے۔ دیش اور پارٹی کے ہار کے دور میں سینئر لیڈروں کے بڑے بڑے گھوٹالوں سے ہل گئی ہے۔ بدنام لیڈر اورسابق ریلوے وزیر لیوفیوزن کو کرپشن کے سنگین الزامات میں برخاست کردیا۔ کانگریس سے ٹھیک پہلے پارٹی نیویارک ٹائمس کی اس تفتیشی رپورٹ سے ہل گئی کے وزیر اعظم بین جیاباؤ کے خاندان نے خوب جم کر دیش کو لوٹا ہے۔ پارٹی نے بین کی درخواست پر جانچ کمیٹی بنائی ہے ۔ اس سے پہلے بلوبرگ خبر رساں ایجنسی نے نائب صدر شین پنگ کے خاندان پر بھی اسی طرح پراپرٹی جمع کرنے کا الزام لگایا جو بطور صدر اور پارٹی کے چیف ہیں، سے کمان سنبھالنے جارہے ہیں۔ چین میں کرپشن اتنا بڑھ گیا ہے کے آہستہ آہستہ دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ وہاں کرپشن سے نمٹنے کی چنوتی نئی چینی لیڈر شپ کو ضرور ہوگی۔ اگر چین جیسے ڈسپلن دیش میں کرپشن کا یہ حال ہے تو جمہوری ملکوں میں کرپشن کا کیا حال ہوگا تصور کرنا مشکل نہیں لگتا۔ کرپشن اب دہشت گردی کی طرح پھیلتا جارہا ہے اور یہ ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

حکمراں فریق کو ناگوار گذری سی اے جی ونود رائے کی رائے

کول بلاک اور ٹو جی اسپکٹرم الاٹمنٹ کو لے کر اپنی رپورٹ ہی کئی بار منموہن سنگھ کی سرکار کی مصیبت بڑھا چکے کمپٹرولر ایڈیٹر جنرل (کیگ) ونود رائے نے ایک بار پھر سرکار پر سیدھا حملہ بول دیا ہے۔ بدھوار کے روز گوڑ گاؤں میں ورلڈ ٹریڈ فورم کے ایک سیشن کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سرکار جس طرح دلیری سے فیصلے لے رہی ہے وہ حیرت زدہ کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کرپشن پر موثر ڈھنگ سے کنٹرول کرنا ہے تو سینٹرل ویجی لنس کمیشن (سی وی سی) سی بی آئی اور مجوزہ لوک پال کو آئینی درجہ دیا جانا چاہئے۔ سی اے جی کی صاف رائے کیونکہ سی بی آئی اور سی وی سی آزار ایجنسیاں نہیں ہیں اس لئے لوگ انہیں سرکار کی کٹھ پتلی بتاتے رہتے ہیں۔ ہم ان کی مانگ سے متفق ہیں۔ اگر ان دونوں اداروں کو کرپشن کے خلاف موثر اوزار بنانا ہے تو انہیں سرکاری کنٹرول و دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ جب سے کرپشن کے خلاف کئی تحریکیں سامنے آئی ہیں تب سے یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اس کے پیروکاروں کی دلیل ہے کہ انتظامیہ اور مالی معاملوں میں سرکار پر انحصار ان دونوں مسئلوں کو سرکار کی کٹھ پتلی بنا دیتا ہے اور ان کے ہاتھ باندھ دئے جاتے ہیں۔ سی بی آئی کی مختاری کی مانگ سیاسی پارٹیاں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو ضرور کرتی ہیں لیکن جب اقتدار میں آجاتی ہیں تو اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیتی ہیں۔ دراصل کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں چاہتی کہ سی وی سی اور سی بی آئی آزادانہ طور سے کام کرے اور سرکار کو جوابدہ نہ ہو۔ قاعدے کے مطابق انتظامیہ کے پاس بڑی جوابدہی ہونی چاہئے۔ اسے ہر شہری کے مفادات کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور کئی بار ایسے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں جو دوسروں کو اچھے لگیں۔ دیش کو چلانے کے لئے ان کے پاس کئی ایسی قومی ایجنسیوں کا ہونا ضروری ہے جو ان کی ہدایت پر کام کریں۔ اگر بہت سی ایجنسیاں کسی کی طرف سے ہدایت پر چلیں گی تو ایک طرح سے انتظامیہ کے ہاتھ بندھ جائیں گے جس سے ان کے کئی ضروری کام متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ کہنا ہے حکمراں فریق کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری کا۔ تیواری نے سی اے جی کے بیان پر کہا ہے کہ ونود رائے جس سرکار پر دلیری بھرے فیصلے لینے جیسی تنقید کررہے ہیں خود رائے اسی سرکار کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس لئے یہ تبصرہ ان پر زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا اگر وہ (رائے) فیصلہ لینے میں ڈھیٹ پن کی بات کرتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ انہیں یاد کرانا مناسب ہوگا کہ 2004 سے2008 تک اسی سرکار کا حصہ رہے تھے۔ ٹو جی معاملے سے لیکر کوئلہ بلاک الاٹمنٹ تک جب بھی سرکار سی اے جی رپورٹ کے چلتے پریشان ہوئی تو حکمراں فریق کے ذریعے ونود رائے کو اقتدار کا مہرہ تک بتانے کی کوشش کی گئی۔ بہتر ہوگا کہ اب ہمارا سیاسی طبقہ ان وارننگ کو دھیان سے سنے جو جمہوریت پر کرپشن کے منفی اثرات کو لیکر سماج کو کھائے جارہا ہے۔ جانچ اور انصاف دونوں موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ جنتا کا اب دونوں پر سے ہی بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)