Translater

26 مئی 2012

سبھی پارٹیوں نے وسط مدتی چناؤ کی تیاری شروع کردی


بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اس حکومت سے نہ تو اپوزیشن خوش ہے اور نہ ہی سرکار کی اتحادی پارٹیاں۔ بھاجپا نے دعوی کیا ہے کہ یہ سرکار کبھی گر سکتی ہے۔ کبھی ممتا بنرجی ناراض ہوجاتی ہیں تو کبھی شرد پوار۔ کانگریس سرکار اپنی ساری ناکامیوں کو اپنے اتحادی ساتھیوں پر تھونپنے کی کوشش شاید ہی جنتا میں ان کی ساکھ کو بہتر بنانئے۔ اگر کچھ رپورٹوں پر یقین کیا جائے تو کانگریس کے حکمت عملی سازوں نے امکانی وسط مدتی چناؤ کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔ کہنے کو تو یہ کثرت 2014ء لوک سبھا چناؤ کے لئے کی جارہی ہے لیکن وقت کا کچھ پتہ نہیں۔ اگر بھاجپا کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی تو دیش میں کسی بھی وقت عام چناؤ ہوسکتے ہیں۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز وقت سے پہلے چناؤ کی خفیہ بڑی یوجنا کی تیاری میں لگ گئے ہیں۔ پارٹی کا کور گروپ کانگریس کی یوپی اے سرکار کے گرتے گراف سے خوفزدہ ہوکر لوک سبھا چناؤ کو آخری متبادل مانتا ہے۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر نے انکشاف کیا ہے کہ 2012ء کے آخر میں یا 2013ء کے بجٹ سے پہلے فروری یا مارچ میں عام چناؤ میں پارٹی کم از کم 125 سے130 سیٹیں جیت سکتی ہے جبکہ 22 سے 24 ماہ بعد لوک سبھا چناؤ میں کانگریس 100 سیٹ بھی نہیں جیت پائے گی۔ یوپی اے سرکار کی اتحادی پارٹی ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی، سماجوادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو، بسپا کے مایاوتی سبھی نے اپنے ورکروں کو کہہ دیا ہے کہ وہ چناؤ کیلئے کمر کس لیں۔ دراصل ملائم سنگھ اور ممتا دونوں کی سیاست یہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح 50-50 ایم پی اگلے چناؤ میں لے آئیں اور اگر وہ ایسا کرسکتے ہیں تو وہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش میں تیلگودیشم پارٹی صدر چندرابابو نائیڈو آسام گن پریشد کے پرفل مہینت بہار میں جنتا دل یو کے وزیر اعلی نتیش کمار سبھی لوک سبھا چناؤ کے اچانک اعلان کو ذہن میں رکھ کر اپنی فورس کو منظم کرنے میں لگے ہیں۔ پنجاب میں اکالی دل، ہریانہ میں چودھری اوم پرکاش چوٹالہ نے بھی تال ٹھونکی ہے۔ ویسے انا ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل ، ترنمول کانگریس، اکالی دل، سپا، بسپا، آر جے ڈی، ٹی ڈی پی ، انلو، بی ایس پی و بھاجپا سبھی لوک سبھا چناؤ کو فائدے کا سودہ مانتی ہیں۔ ماکسوادی کمیونسٹ پارٹی، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی، فارورڈ بلاک وغیرہ بھی عام چناؤ کے لئے تھال ٹھونک رہی ہیں۔ شیو سینا چیف بالا صاحب ٹھاکرے ممبئی مہا نگر نگم کے چناؤ میں کامیابی کے بعد لوک سبھا کے مہاکنبھ کے چانکیہ بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے مجوزہ لوک سبھا امیدواروں کی فہرست بھی تیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ یہ فہرست سونیا گاندھی کو بھی دکھائی جاچکی ہے۔ اس کانگریسی نیتا کی اگر بات کو صحیح مانیں تو کانگریس پارٹی آج 30 دن کے نوٹس پر لوک سبھا چناؤ مہا کنبھ میں کود سکتی ہے۔ اس لئے دیش میں وسط مدتی چناؤ کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

پیٹرول کی قیمتیں:سمجھیں اس سرکار کے بہانے،چھلاوے اور چالاکی... (1)


میں نے کئی بار اسی کالم میں لکھا ہے کہ دیش اس سرکار اور مٹھی بھر تیل کمپنیوں کی دھاندلی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سرکار ہر مرتبہ پیٹرول کے دام بڑھا کر اپنا پلہ یہ کہہ کر نہیں جھاڑ سکتی کہ ہم کیا کریں یہ فیصلہ تو تیل کمپنیوں کا ہے۔ دیش چاہتا ہے کہ ان تیل کمپنیوں کی جھوٹی دلیلوں اور سرکار کی بدنیتی کا پردہ فاش ہو لیکن اس سے پہلے کہ میں تیل کمپنیوں کی بے بنیاد دلیلوں کی بات کروں میں چاہتا ہوں ہم اس حکومت کے سوچنے کے ڈھنگ کو سمجھیں۔ ماہر اقتصادیات اور وکیلوں سے بھری پڑی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار پیٹرول کو امیروں کا ایندھن مان بیٹھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دیش کے60 فیصدی سے زائد اسکوٹر، آٹو رکشہ کی بکری چھوٹے شہروں اور دیہاتی علاقوں میں ہوتی ہے۔ میٹرو شہروں میں مختلف درمیانے طبقے ہی پیٹرول کا سب سے بڑا گراہک ہیں۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اثر ہر اس طبقے پر پڑتا ہے۔ ان کی آمدنی تو اتنی بڑھی نہیں اور خرچ بے شمار بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ اپنا گھر بار کیسے چلائیں، کیا کام پر جانا چھوڑدیں؟ کیا کریں۔ جہاں تک ان تیل کمپنیوں کی بات ہے تو بھارت کی یہ بدقسمتی ہے کہ 90 فیصدی تیل تجارت پر سرکاری کمپنیوں کا کنٹرول ہے اور سرکار کی مانیں تو یہ کمپنیاں عوام کو سستا تیل بیچنے کے سبب بھاری خسارے میں ہیں۔ دوسری طرف نامور میگزین فارچون کے مطابق دنیاکی بڑی500 کمپنیوں میں بھارت کی تینوں سرکاری کمپنیاں انڈین آئل(98)، بھارت پیٹرولیم (271) اور ہندوستان پیٹرولیم (355) شامل ہیں۔ تیل اور گیس کی تلاش سے وابستہ دوسری سرکاری کمپنی او این جی سی بھی فارچون کی 500 کی فہرست میں 360 ویں درجے پر ہے۔ پھر ہر سال یہ وزیر اعظم کو موٹے موٹے حقیقی منافع کے چیک بھی دیتی ہیں۔ آخر یہ کیا اتفاق ہے کہ سرکار خسارے کا دعوی کررہی ہے لیکن تیل کمپنیوں کی بیلنس شیٹ ٹھیک ٹھاک ہے؟ 2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن کی 7445 ایچ پی سی ایل کو 1539 اور بی پی سی ایل کو 1547 کروڑ کا فائدہ ہوا، وہ بھی ٹیکس چکانے کے بعد۔ اس حقیقت کے بعد بھی سرکار مسلسل ان کمپنیوں کے خسارے کی جھوٹی دلیلوں سے باز نہیں آرہی ہے۔ ہمیں اس سرکار کے بہانوں ،چھلاوے اور چالاکی کو سمجھنا ہوگا۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ کی دلیل دی جارہی ہے۔ تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ 80 فیصد تیل بیرون ملک سے منگانا پڑتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر میں کرنا پڑتی ہے۔ کیونکہ ڈالر اس وقت56 روپے کا ہوچکا ہے اس لئے زیادہ قیمت دینی پڑ رہی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ15 مئی 2011ء کو جب پیٹرول پانچ روپے مہنگا ہوا تب بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمت 114 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت 46 روپے ۔ اس حساب سے ہمیں کچے تیل کے لئے 5244 روپے چکانے پڑتے تھے۔ آج کچا تیل 91.47 روپے بیرل ہے اور ایک ڈالر 56 روپے کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے بھاؤ سے ایک بیرل تیل 5056 روپے کا ہے یعنی کچا تیل148 روپے بیرل تب سے سستا ہے۔اب بات کرتے ہیں کچے تیل کے نام پر چھلاوے کی۔ کیونکہ تیل کمپنیوں نے 26 جون2010ء (جب پیٹرول کنٹرول سے آزاد ہوا تھا) تو کہا تھا کہ کچے تیل کی بین الاقوامی بازار میں قیمتوں کو ذہن میں رکھ کر دیش میں پیٹرول کے دام طے ہوں گے۔ سرکار اور کمپنیوں نے مل کر پچھلے دو سال میں14 مرتبہ کچے تیل کے نام پر پیٹرول کے دام بڑھائے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ پہلے جب عالمی منڈی میں کچے تیل کا دام 114 ڈالر فی بیرل تھا تب بھی تیل کمپنیاں خسارہ بتا رہی تھیں آج کچے تیل کا بھاؤ91.47 ڈالر ہے تو ابھی بھی گھاٹا ہورہا ہے۔ روپے کی قیمتیں گرنا بھی ایک طرح سے چھلاوا ہے کیونکہ15 مئی 2011ء سے اب تک ڈالر10 روپے مہنگا ہوا ہے اور کچا تیل 22 ڈالر سستا ہوچکا ہے لیکن اس دوران پیٹرول کی قیمتوں میں صرف تین بار معمولی کمی آئی ہے۔ خسارے کے نام پر چالاکی۔ کیونکہ سرکاری تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کے علاوہ سرکار کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کی قیمتیں نہیں بڑھنے سے بھی ان کا خسارہ بڑھا ہے۔ ڈیزل کی قیمت آخری بار 26 جون2011ء کو بڑھی تھی۔ تینوں کمپنیوں کا دعوی ہے انہیں اس سال 1.86 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا۔ سچ کیا ہے؟ سچ یہ ہے کہ تیل کمپنیاں بھاری منافع کما رہی ہیں۔2011ء کی سالانہ رپورٹ کے مطابق او این جی سی کو 7445 کروڑ روپے ، ایچ پی سی ایل کو 1539 کروڑ روپے، بی پی سی ایل کو1547 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے۔ ویسے بھی ٹیکس دینے کے بعدڈیزل گیس اور مٹی کے تیل پر خسارے کی بات بھی جھوٹی ہے کیونکہ سرکار اس پر سبسڈی دے رہی ہے۔(جاری)
(انل نریندر)

25 مئی 2012

گھٹتے کسان اور اس سے زیادہ گھٹتی کسانی


ہندوستانی معیشت کی بنیاد زراعت ہے۔ بھارت کے جی ڈی پی میں زراعت کا اشتراک 17 فیصد سے زیادہ ہے۔ کسان دیش کی آبادی کو نہ صرف کھانا فراہم کرتے ہیں بلکہ زراعت میں ایک بڑی آبادی کو روزی روٹی بھی مہیا کراتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کافی حد تک دیش کی صحت کسانوں کی صحت پر منحصرکرتی ہے۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ آج بھارت کا کسان بہت دکھی ہے اور مشکل دور سے گذر رہا ہے۔ ایک بڑا سوال ہے جو ہم سب کو بے چین کررہا ہے کہ کھیتی کے معاملے میں کسانوں کا رجحان گھٹ رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 98.2 فیصد کسانوں کی نئی نسل میں کسانی کے تئیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے درمیانے و چھوٹے کسانوں نے کھیت بیچ کر اپنے بچوں کو زندگی میں کام آنے والی تعلیم دینا بہتر سمجھا ہے۔ تاملناڈو کے ایک کسان کے بیٹے نے انجینئرنگ کی پانچ لاکھ فیس اپنے کھیتوں کو بیچ کر اور کچھ ادھاری میں رقم جٹائی ہے۔ دراصل چھوٹے اور درمیانے کسانوں کے لئے اپنے یہاں کھیتی فائدہ کا سودا نہیں رہا۔ آج چھوٹا کسان نریگا کی مزدوری کرکے زیادہ خوش ہے۔ کسان پہلے کھیت جوتا کرتے تھے پھر اس کے بیج کیلئے جتائی بوائی سے لیکر روز مرہ کی بھاگ دوڑ اور آخر کار بچولیوں کی بالادستی کے چلتے لاگت بھی ہاتھ آجائے تو یہ خوش قسمتی ہے اس لئے نئی پیڑھی کا سیدہ فنڈا ہے کے زمین بیچوں کوئی کاروبار کمرشل کورس کرلو اور نوکری ڈھونڈو۔ اب بڑے کسانوں کے پڑھے لکھے بچوں کو بھی کھیتوں میں کام کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کسان سے شادی کرنے میں بھی اب لوگ کترانے لگے ہیں۔ کئی موقعوں پر شادی کے لئے کسانوں کو نوکری کا دکھاوا تک کرنا پڑتا ہے۔ ترقی کی اندھی دوڑ میں کسانوں کو سب سے زیادہ نقصان جھیلنا پڑا ہے۔ ہماری ترقی کا نیا ماڈل مغربی ممالک جیسا ہے جہاں ایسی صنعتوں کو فروغ ملا ہے جس کا زراعت اور کسانوں سے سیدھا لین دین نہیں ہوتا۔ وہیں یہ ٹھیک ہوسکتا ہے کیونکہ سرد گرم موسم کے سبب سال بھر کھیتی ممکن نہیں لیکن ایشیائی جیسے جغرافیائی حصے کے موسم میں سال بھر کھیتی ممکن ہے۔ یہ محض زراعت پر مبنی صنعت ہی صحیح ماڈل ثابت ہوسکتی ہیں۔ ویسے بھی زراعت کفیل ممالک کی ترقی کے سبھی وسائل کھیتی سے جڑے ہونے چاہئیں۔ بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری سرکاروں نے کھیتی کو پیچھے کر باقی صنعتوں پر زیادہ توجہ دی ہے۔ نتیجہ اپنے یہاں ریئل اسٹیٹ کاروبار ،آئی ٹی جیسی صنعتیں، جی ڈی پی کا بڑا حصہ بن گئے ہیں لیکن 64 برسوں میں اس کا فائدہ مٹھی بھر لوگوں کو ہی ملا ہے اور کسانوں کا بڑا طبقہ جو کھیتی سے ترقی کے خواب دیکھ رہا ہے محرومی کے زمرے میں پہنچ چکا ہے۔ جس حساب سے زراعت سے وابستہ زمین کا مختلف کاموں جیسے قومی شاہراہ ، ہوائی اڈے، اسپیشل اکنامک زون وغیرہ کی تحویل ہونا اس سے یہ تشویش پیدا ہوگئی ہے کھیتی کے لئے زمین بچے گی بھی یا نہیں۔ گھٹتی کھیتی صرف بھارت کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ آنے والے دنوں میں غذائیت سب سے بڑا عالمی اشو ہوگا۔ ایسے میں مرکزی سرکار کو پہل کر ریاست میں ایک یقینی فیصد زمین کو خاص طور پر (اپجاؤ) کھیتی کے لئے بچا کر رکھنی پڑی گے اور ریاستوں کو اپنی غذائی ضرورت کے مطابق پیداکرنے کیلئے بھی بندھنا پڑے گا۔ ریاستیں اپنے آپ کو صنعت ہی نہیں کھیتی پر مبنی ترقی پر بھی مرکوز کریں۔ زرعی اجناس کی کسانوں کو صحیح قیمت ملے اور پیدا وار خرچ میں کٹوتی ہو اس پر سب سے زیادہ توجہ دینا ضروری ہے۔ اسی سے دیہات سے بڑھتی ہجرت کو روک لگ سکتی ہے۔ کسانوں کی غربت دور ہوسکتی ہے اور سماج میں ان کے سنمان کو صحیح جگہ مل سکے گی۔
(انل نریندر)

منموہن حکومت کی تین سالہ کارکردگی: مایوسی اور لاچاری


یوپی اے نے اپنی تیسری سالگرہ پر دیش کو زبردست تحفہ دیا ہے۔اس نے راتوں رات 7 روپے50 پیسے فی لیٹر پیٹرول کے دام بڑھا دئے ہیں۔روپے کی قیمت اتنی گر گئی کے پرانے سارے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت 53.39 پر نیچے آگئی ہے۔ افراط زر میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔سب سے مزیدار بات یہ ہے کہ سرکار کہتی ہے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے وہ بین الاقوامی حالات پر مجبور ہے اور لگتا ہے کہ اس سرکار کو اب یقین ہوچکا ہے کہ اس کی اب آخری پاری ہے اس لئے جو کرنا ہے کرڈالو، اقتدار میں پھر تو آنا نہیں،جتنا ہو سکے کرلو۔ دیش کی جنتا مجبور ہے ، وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی۔ انہیں اقتدار میں لانا اتنا بھاری پڑے گا اس کا شاید عوام نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ مرکزی اقتدار کی دوسری پاری کے تین سال پورے کرنے والی کانگریس قیادت والی یوپی اے سرکار کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ اگر مستقبل قریب میں چناؤ کرادئے جائیں تو وہ کبھی جیت کر واپس نہیں آسکتی۔ نیوز چینل آئی بی این 7 کے ذریعے کرائے گئے سروے کی مانیں تو جنتا یوپی اے سرکار سے بری طرح ناراض ہے۔ سروے میں جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا یوپی اے کو ایک اور موقعہ ملنا چاہئے تو 49 فیصدی لوگوں نے نہیں میں جواب دیا۔ یہ ہی نہیں 55 فیصدی لوگوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہئے۔33 فیصدی کا کہنا تھا کہ منموہن سنگھ کی جگہ راہل گاندھی کو پردھان منتری بناناچاہئے جبکہ20 فیصدی نے پرنب دادا کو اور7 فیصدی نے سونیا گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی رائے دی۔ سرکار کی گرتی مقبولیت کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مہنگائی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر دوسری پاری میں منموہن سنگھ کی سب سے بڑی ناکامی کیا ہے 31 فیصدی لوگوں نے بے قابو قیمتوں کو خاص وجہ بتایا ہے۔ 17 فیصدی لوگوں نے کرپشن کو سب سے بڑی ناکامی بتایا ہے جبکہ13 فیصدی لوگوں نے ترقی کی رفتار پر بریک کو بڑی وجہ مانا ہے۔ 10 فیصدی لوگوں نے کہا کہ منموہن سنگھ سنکٹ کے وقت فیصلے لینے میں ناکام رہے۔ کل ملا کر 59 فیصدی لوگوں نے کہا کہ وہ اس سرکار سے مطمئن نہیں۔ اگلے چناؤ میں اگر این ڈی اے جیت جائے تو کسے وزیر اعظم بننا چاہئے اس سوال پر سب سے زیادہ39 فیصدی لوگوں کی پسند نریندر مودی تھے۔ 17 فیصدی لوگوں نے ایل کے اڈوانی کو پسند کیا ۔ یوپی اے II- سرکار کے تین سال پورے ہونے پر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی ایک رپورٹ کارڈ جاری کی اس میں وزیر اعظم نے مہنگائی کا ذکر تک کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ تین سال میں اس سرکارکے پاس جنتا کو بتانے کے لئے ایک بھی کارنامہ نہیں تھا۔ سرکار نے دیش کو مہنگائی، کرپشن اور مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ اس سرکار نے بد انتظامی کے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔حکومت کی غلط اقتصادی پالیسیوں کے سبب آج دیش سے غیر ملکی سرمایہ کاری واپس ہونے لگی ہے۔ مالی خسارے کو ختم کرنے کے لئے نہ تو کوئی اسکیم ہے اور نہ ہی کوئی گارنٹی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ روپے کی قیمت میں ریکارڈ گراوٹ آئی ہے اور پوری معیشت تباہ ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ گھوٹالو ں سے دیش کی نیند حرام ہے۔ لوکپال اور لوک آیکت جیسے قدم جس سے کرپشن پر قابو پایا جاسکے کو بہانے بنا کر ٹالا جارہا ہے۔ منریگا جیسی انقلابی اسکیموں میں گھوٹالے نہیں رک سکے اس سرکار کے بارے میں عام یہ رائے بن گئی ہے کہ کرپشن روکنے میں دلچسپ نہیں رکھتی۔ ریکارڈ پیدا وار کے باوجود اناج کے ذخیرے کو محفوظ رکھنے کیلئے گودام نہیں، نتیجتاً اناج سڑ رہا ہے اور اس کی بربادی ہورہی ہے۔ کسان خودکشی پر مجبور ہیں۔ نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہی ہیں۔ اس سرکار کے پاس ہرمرض کی بس ایک ہی دوا ہے اتحادی دھرم کی مجبوری بتانا۔ نکسلواد پنپ رہا ہے کیونکہ اس سرکار کے پاس اس کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ تو کوئی ٹھوس پالیسی ہے اور نہ ہی قوت ارادی ہے۔ آج پورے دیش میں مایوسی کا ماحول ہے ،جنتا کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے۔ جنتا کے پاس اگر یہ ہتھیار ہوتا وہ اس سرکار کو چلتا کردیتی تو شایددس سیکنڈ بھی نہ لگتے۔

(انل نریندر)

24 مئی 2012

اوبامہ نے زرداری سے ملنے سے انکار کیا

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ایتوار کی شام شروع ہوئی شکاگو میں نیٹو کانفرنس میں شرکت کرنے اس مقصد سے گئے تھے کہ شاید پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے رشتوں میں تھوڑی بہتری آسکے اور دونوں کے آپسی رشتوں کو نئی راہ مل سکے لیکن زرداری صاحب کو کوئی خاطر خواہ کامیابی فی الحال ملتی نظر نہیں آئی۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے جناب زرداری صاحب سے ملنے سے انکارکردیا اور صاف کہہ دیا نیٹو سپلائی راستہ کھولنے پر معاہدے کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان جو کڑواہٹ ختم ہونے کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ بھی اب تاریک ہوگئیں۔ دوسری جانب افغانستان میں موجودہ نیٹو فورسز تک سپلائی کے لئے پاکستانی زمین کے استعمال کا معاملہ بھی پھنس گیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوبامہ نے زرداری سے ملنے کا وقت نہیں نکالا۔ زخم پر نمک چھڑکنے کی نیت سے اوبامہ نے جن ملکوں کا افغانستان میں فوج کو سامان کی سپلائی کے لئے شکریہ کیا ان میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔ اسے صاف طور پر پاکستان کو نظر انداز کیا جانا مانا جاسکتا ہے۔ پیر کے روز شکاگو میں ہوئی نیٹو کانفرنس کے دوسرے اور آخری دن براک اوبامہ نے کہا کہ میں صدر حامد کرزئی کے علاقہ مشرقی وسطیٰ اور روس کے حکام کو افغانستان میں بین الاقوامی سکیورٹی اور فورسز کو اہم راہ داری مہیا کروانے کے لئے خیر مقدم کرتا ہوں۔ امریکہ اور پاکستان میں تازہ کشیدگی پچھلے سال ایک پاکستانی سلالہ چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجی مارے جانے کی وجہ سے بنی ہوئی ہے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے اپنے ملک کے اندر نیٹو کے لئے سامان ڈھونے والے امریکی ٹرکوں کی آمدورفت پر روک لگا رکھی ہے۔ امریکہ نے اس امید سے زرداری کو نیٹو کانفرنس میں بلایا تھا کہ وہ پاکستان ۔افغانستان سرحد کو نیٹو کی سپلائی لائن کے طور پر کھولنے کے لئے راضی ہوجائے گا لیکن پاکستان نے اس سپلائی روٹ کو کھولنے اور اپنی سڑکوں کے استعمال کے بدلے تین شرطیں رکھیں۔ یہ ہیں پاکستانی فوجیوں کی موت کے لئے شارے عام طور پر معافی، پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظرثانی اور پاکستانی سڑکوں کے استعمال کرنے کیلئے موجودہ فیس کو ڈھائی سو ڈالر سے بڑھا کر پانچ ہزار ڈالر کیا جائے۔ امریکہ پاکستان کی ان شرطوں کو ماننے کے موڈ میں نہیں لگتا اور دو روزہ اس نیٹو کانفرنس میں 28 ممبران سمیت50 ملکوں کے سربراہ مملکت اور نمائندوں سے حصہ لیا۔ نیٹو سپلائی کے اشو پر اوبامہ نے کانفرنس کے بعد کہا کہ ہمیں امید نہیں تھی کہ اس کانفرنس کے دوران نیٹو سپلائی کا تعطل دور ہوجائے گا لیکن ہم پاکستان کے ساتھ اس کو سلجھانے کیلئے حتی الامکان کوشش کررہے ہیں۔ براک اوبامہ نے کہا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان رشتوں میں تلخی آرہی ہے لیکن یہ ہمارے اور پاکستان دونوں کے حق میں ہے کے ہم مل کر کٹر پسندی کے خلاف کام کریں۔ حالانکہ اوبامہ نے یہ مانا کے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے سبب افغانستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آخری وقت میں شکاگو کانفرنس میں زرداری کو دعوت ملنے کے بعد لگنے لگا تھا کہ شاید اب دونوں ملکوں میں دوریا ں کم ہوجائیں گی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ زرداری اس امید سے اوبامہ کے آبائی شہر شکاگو پہنچے تھے کہ شاید انہیں امریکی صدر سے سیدھے بات چیت کرنے کا موقعہ ملے۔ افغان صدر حامد کرزئی کو تو موقعہ مل گیا لیکن آصف زرداری کو نہیں ملا۔ جس تھوڑے سے وقفے کے لئے اوبامہ نے زرداری سے بات کی اس کے بارے میں کرزئی نے سی این این کو بتایا کہ یہ محض ایک فوٹو گراف کھنچوانے کا موقعہ تھا لیکن کشیدگی جاری ہے۔ امریکہ کو 2014ء تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا ہے اور ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر وہ ایسا کرسکے گا۔ اس لئے یہ نوراکشتی کچھ اور وقت تک جاری رہے گی اور سودے بازی ہوتی رہے گی اور آخر میں امریکہ کو ہی جھکنا پڑے گا۔

جاوید اختر کی مہم رنگ لائی کاپی رائٹ بل پاس


فلموں میں موسیقی سازوں اور نغمہ نگاروں سمیت مختلف عوامی بہبود سے جڑے لوگوں کے کاپی رائٹ حقوق کی حفاظرت کرنے کی مانگ بہت دنوں سے اٹھ رہی تھی۔ آخر کار راجیہ سبھا میں کاپی رائٹ سے متعلق بل کو منظوری مل گئی ہے۔ اس بل پر مفصل بحث بھی ہوئی۔ موجودہ ایکٹ میں کاپی رائٹ سے متعلق قواعد اتنے دھندلے ہیں کے فلم پروڈیوسر موسیقی کا کاروبار کرنے والی کمپنی یا ٹی وی چینل آسانی سے ان کی خلاف ورزی کرلیتے ہیں۔ کیسے نغمہ نگار یا موسیقار یا کہانی کے مصنف کا شروع میں جس کمپنی سے معاہدہ ہوگیا اور ا س کے لئے پیمانے جو طے ہوئے اسی پر تسلی کرنی پڑتی ہے جبکہ اس کے لکھے گیت و مکالمے اور موسیقی کا استعمال ریڈیو ، ٹی وی جیسے مختلف ذرائع ابلاغ میں بار بار ہوتا ہے۔ فلموں کے معاملے میں کاپی رائٹ ایکٹ کے مطابق ٹی وی چینلوں کو متعلقہ پروڈیوسر کو ہر نشریہ پر ادائیگی کرنی پڑتی ہے جبکہ موسیقار مکالمہ اور کہانی کے مصنف کو اس میں سے حصہ نہیں ملتا۔ اس لئے اس ایکٹ میں ترمیم کی مانگ طویل عرصے سے جاری تھی۔ تازہ ترمیم میں نغمہ نگار ، موسیقار، مکالمہ نگار اور کہانی کے مصنف کے کاپی رائٹ کی حفاظت کی گئی ہے۔ اگر کوئی ذرائع ابلاغ ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سزا کی سہولت ہے۔ بل میں یہ بھی سہولت ہے کہ نغمہ نگاروں ،گلوکاروں، موسیقاروں اور فلم سازوں کو ان کی تخلیق کے ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کے دوران رائلٹی ملے گی حالانکہ اس میں ان کمپنیوں کے بارے میں صاف طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے جو نقلی موسیقی کا کاروبار کرتی ہیں۔ پرانے گیتوں کو ایک دوسرے کی آواز میں گوا کر یا اسکی موسیقی میں معمولی تبدیلی کرکے بیچنے کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے گیتوں کی سی ڈی کھلے بازار میں دستیاب ہے۔ ٹی وی اور ریڈیو چینلوں پر ان کا نشریہ ہوتا رہتا ہے۔مکس ، ریمکس کا بازار بھی زوروں پر ہے جبکہ موسیقار ،نغمہ نگار یہاں تک کے فلم پروڈیوسر سے ان گیتوں کی نقل تیار کرانے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی اجازت نہیں لی گئی ہوتی۔ سرکار نے کہا ہے کہ ان نئے قوانین سے دیش میں کلچرل اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملے گا۔ تخلیق کاروں اور آرٹسٹوں کو ان کی محنت کامناسب پھل ملے گا۔ کاپی رائٹ بل لانے سے موسیقی گھرانوں کو کاپی رائٹ لابی کو بڑا نقصان تھا اس لئے بڑی کمپنیاں اس بل کو رکوانے میں لگی تھیں۔ اگر یہ بل بنا ہے تو اس میں سب سے بڑا اشتراک مصنف و کہانی نگار شاعر جاوید اختر کا ہے۔ انہی کی کڑی محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا میں پاس ہوسکا ہے۔ شبانہ اعظمی سمیت کیلاش کھیر، سونو نگم، روہت رائے وغیرہ نے سرکار کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ شبانہ نے کہا نغمہ نگاروں اور موسیقی پروڈیوسروں کی کمائی کا 12 فیصد حصہ دلانے کیلئے جاوید کی مہم اس سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ بہرحال جاوید صاحب کی مہم رنگ لائی ہے۔
(انل نریندر)

23 مئی 2012

جاوید اختر کی مہم رنگ لائی کاپی رائٹ بل پاس


فلموں میں موسیقی سازوں اور نغمہ نگاروں سمیت مختلف عوامی بہبود سے جڑے لوگوں کے کاپی رائٹ حقوق کی حفاظرت کرنے کی مانگ بہت دنوں سے اٹھ رہی تھی۔ آخر کار راجیہ سبھا میں کاپی رائٹ سے متعلق بل کو منظوری مل گئی ہے۔ اس بل پر مفصل بحث بھی ہوئی۔ موجودہ ایکٹ میں کاپی رائٹ سے متعلق قواعد اتنے دھندلے ہیں کے فلم پروڈیوسر موسیقی کا کاروبار کرنے والی کمپنی یا ٹی وی چینل آسانی سے ان کی خلاف ورزی کرلیتے ہیں۔ کیسے نغمہ نگار یا موسیقار یا کہانی کے مصنف کا شروع میں جس کمپنی سے معاہدہ ہوگیا اور ا س کے لئے پیمانے جو طے ہوئے اسی پر تسلی کرنی پڑتی ہے جبکہ اس کے لکھے گیت و مکالمے اور موسیقی کا استعمال ریڈیو ، ٹی وی جیسے مختلف ذرائع ابلاغ میں بار بار ہوتا ہے۔ فلموں کے معاملے میں کاپی رائٹ ایکٹ کے مطابق ٹی وی چینلوں کو متعلقہ پروڈیوسر کو ہر نشریہ پر ادائیگی کرنی پڑتی ہے جبکہ موسیقار مکالمہ اور کہانی کے مصنف کو اس میں سے حصہ نہیں ملتا۔ اس لئے اس ایکٹ میں ترمیم کی مانگ طویل عرصے سے جاری تھی۔ تازہ ترمیم میں نغمہ نگار ، موسیقار، مکالمہ نگار اور کہانی کے مصنف کے کاپی رائٹ کی حفاظت کی گئی ہے۔ اگر کوئی ذرائع ابلاغ ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف سزا کی سہولت ہے۔ بل میں یہ بھی سہولت ہے کہ نغمہ نگاروں ،گلوکاروں، موسیقاروں اور فلم سازوں کو ان کی تخلیق کے ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کے دوران رائلٹی ملے گی حالانکہ اس میں ان کمپنیوں کے بارے میں صاف طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے جو نقلی موسیقی کا کاروبار کرتی ہیں۔ پرانے گیتوں کو ایک دوسرے کی آواز میں گوا کر یا اسکی موسیقی میں معمولی تبدیلی کرکے بیچنے کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے گیتوں کی سی ڈی کھلے بازار میں دستیاب ہے۔ ٹی وی اور ریڈیو چینلوں پر ان کا نشریہ ہوتا رہتا ہے۔مکس ، ریمکس کا بازار بھی زوروں پر ہے جبکہ موسیقار ،نغمہ نگار یہاں تک کے فلم پروڈیوسر سے ان گیتوں کی نقل تیار کرانے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی اجازت نہیں لی گئی ہوتی۔ سرکار نے کہا ہے کہ ان نئے قوانین سے دیش میں کلچرل اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملے گا۔ تخلیق کاروں اور آرٹسٹوں کو ان کی محنت کامناسب پھل ملے گا۔ کاپی رائٹ بل لانے سے موسیقی گھرانوں کو کاپی رائٹ لابی کو بڑا نقصان تھا اس لئے بڑی کمپنیاں اس بل کو رکوانے میں لگی تھیں۔ اگر یہ بل بنا ہے تو اس میں سب سے بڑا اشتراک مصنف و کہانی نگار شاعر جاوید اختر کا ہے۔ انہی کی کڑی محنت کا نتیجہ ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا میں پاس ہوسکا ہے۔ شبانہ اعظمی سمیت کیلاش کھیر، سونو نگم، روہت رائے وغیرہ نے سرکار کے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ شبانہ نے کہا نغمہ نگاروں اور موسیقی پروڈیوسروں کی کمائی کا 12 فیصد حصہ دلانے کیلئے جاوید کی مہم اس سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔ بہرحال جاوید صاحب کی مہم رنگ لائی ہے۔
(انل نریندر)

22 مئی 2012

ججوں پر حملہ روڈ ریج کا معاملہ نہیں اقدام قتل کا ہے

ساکیت عدالت کے تین جج صاحبان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے چاروں ملزمان کو سنیچر کے روز عدالت میں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ ملزمان کے نام دکشن پوری کے باشندے انل راج، سنیل راج و سنگم وہار کے باشندے روہت اور پرشانت عرف ہنی بتائے جاتے ہیں۔ انل راج اور سنیل راج سگے بھائی ہیں۔ گرفتار کئے گئے ملزم انل راج کے خلاف امبیڈکر نگر تھانے میں پہلے ہی سے دو معاملے درج ہیں۔ پولیس کے اسپیشل کمشنر (لا اینڈ آرڈر) دھرمیندر کمار کے مطابق جج صاحبان کے کار ڈرائیور چمن لال اور بائیک سوار ملزمان کے درمیان بیچ روڈ پر کہا سنی ہوگئی تھی۔ پہلے تو انہوں نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی سوچی لیکن جب اس نے دیکھا کہ کار پر جج کا سٹیکر لگا ہوا ہے تو اس نے وہاں اپنے ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔ اسپیشل کمشنر دھرمیندر کے مطابق انل راج سے پوچھ تاچھ جو بات پتہ چلی وہ بیحد چونکانے والی ہے۔ حملے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انل راج کو ایک معاملے میں انہی ججوں نے سزا سنائی تھی۔ایڈیشنل پولیس کمشنر ساؤتھ ایسٹ اجے چودھری کے مطابق پوچھ تاچھ میں چاروں ملزمان انل راج ، سنیل راج، روہت و پرشانت نے اقبال کیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ججوں پر حملہ کیا تھا۔ سنیچر کو چاروں کی ٹی آئی پی (شناختی پریڈ) کرائی گئی جن میں ان کی پہچان کرلی گئی۔ خیال رہے کہ ساکیت کورٹ میں تعینات ایڈیشنل جج ایم کے ناگپال، اندر جیت سنگھ مہتہ اور میٹرو فائن افسر اجے گرگ کار سے شام پانچ بجے فرید آباد اپنے گھر جا رہے تھے ۔ کار ڈرائیور چمن لال چلا رہا تھا۔ سبھی مدن گیر کی طرف سے گذر رہے تھے ۔ ان کی کار دکشن پوری بلاک کالی بلڈنگ کے پاس پہنچی سامنے سے غلط سمت سے آرہی موٹر سائیکل کار سے ٹکرا گئی۔ اس سے بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل سوار تین لڑکے نیچے گر پڑے۔ ججوں کے ذریعے انہیں اٹھانے کے بعد دونوں فریقین میں کہا سنی ہو گئی۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے پر جب جج کار میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہونے لگے تبھی تینوں نے اپنے ایک دوسرے ساتھی کو بھی موقعہ پر بلا لیا اور چمن لال کار چلا ہی رہا تھا کہ چاروں نے اس کی کار رکوا کر ججوں و ڈرائیور پر حملہ بول دیا اور اینٹ اور پتھر باری سے کار کو نقصان پہنچایا۔ واردات میں جج اندر جیت سنگھ کے ہاتھ اور سر پر اور جج منوج کمار ناگپال کے سر پر چوٹ آئی۔ واردات کے فوراً بعد ایک ملزم انل راج نے خود ہی اپنا سر پھوڑ کر ایمس کے ٹراما سینٹر جا پہنچا۔ اس نے پولیس کو دئے بیان میں ججوں پر مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا تاکہ کراس کیس ہونے پر وہ سزا سے بچ سکیں لیکن ٹراما سینٹر میں ڈرائیور چمن لال نے اس کی پہچان کرلی اور اسے گرفتار کروادیا۔ اس کے بیان کے بعددیر رات ہی دیگر تینوں کو بھی دبوچ لیا گیا۔ لگتا ہے کہ معاملہ روڈ ریج کا نہیں ججوں کے اقدام قتل کا تھا۔ ان تینوں ملزمان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے تاکہ دوسروں کے لئے یہ سبق اور وارننگ بن سکے۔ ججوں پر یوں حملہ کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

بابا رام دیو کے ٹرسٹوں کو 58 کروڑ کے نوٹس کا سوال

یوگ گورو بابا رام دیو آج کل پھر سرخیوں میں ہیں۔ پچھلے کئی دنوں سے بابا رام دیو نے بیرونی ممالک میں جمع دیش کی کالی کمائی کو قومی اثاثہ اعلان کرنے کا ابھیان چلا رکھا ہے۔ عوامی نمائندوں کے خلاف خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے تئیں سخت زبان کا استعمال کرنا اس کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ بابا رام دیو اس حکومت کی آنکھوں کی کرکری بن چکے ہیں ۔ حکومت نے بھی بابا رام دیو پر جوابی حملہ کرنا شروع کردیا ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ یوگ گورو بابا رام دیو کو انکم ٹیکس چکانے کیلئے ملی چھوٹ ختم ہوگئی ہے۔ ان کے ٹرسٹوں کو 58 کروڑ روپے چکانے کا نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔آیورویدک دوائیں بیچنے سے شروع ہوئی کمائی پر انکم ٹیکس چکانے کے لئے رام دیو کے ٹرسٹوں کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ برس 2009-10 کے دوران ہوئی 100 کروڑ کی کمائی پر ٹیکس چکانے کے لئے ہریدوار میں واقع پتنجلی یوگ پیٹھ ٹرسٹ دویہ یوگ ٹرسٹ اور بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کو یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔انکم ٹیکس محکمے نے انہیں کاروباری ادارے مان کر نوٹس دئے ہیں۔بیرونی ممالک میں جمع ہندوستانی شہریوں کی کالی کمائی کو ملک میں واپس لانے کی مہم چلا رہے رام دیو ایک ایسی تنظیم کے سربراہ ہیں جو بھارت اور دوسرے ممالک میں آیورویدک دواؤں کی تیاری اور بکری مینجمنٹ کرنے والے ٹرسٹ چلاتے ہیں۔فلاحی کام کرنے والی تنظیموں سے وابستہ تقاضوں کے تحت پچھلے کچھ برسوں سے ان کے ٹرسٹوں کو انکم ٹیکس چکانے سے چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ اب انکم ٹیکس محکمہ کہتا ہے کہ جانچ کے بعد انہوں نے پایا کہ آیورویدک ادویہ اور اس سے وابستہ دوسری چیزوں کی فروخت ایک کمرشل سرگرمی ہے اور انہیں انکم ٹیکس چکانے سے چھوٹ نہیں مل سکتی۔ بابا رام دیو نے اس نوٹس پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف میں نے جو مہم چلائی ہوئی ہے اس سے سرکار گھبرا چکی ہے اور آناً فاناً میں مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش جاری ہے مگر وہ جس مقصد کو لیکر آگے بڑھے ہیں اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بابا رام دیو نے کہا انکم ٹیکس محکمے نے 58 کروڑ کا ٹیکس تھونپنے کا جو نوٹس دیا ہے وہ ایک منظم چال ہے۔ انکم ٹیکس محکمے کے فیصلے کے خلاف انکم ٹیکس کمشنر کے یہاں اپیل دائر کردی گئی ہے۔ ٹرسٹ پہلے بھی صحیح سمت میں کام کررہا تھا اور آگے بھی ٹھیک ٹھاک کام کرے گا۔ یوگ گورو نے کہا سرکار مجھے پھانسی دینا چاہتی ہے اور سیوا کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ آخر مجھے کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ میں نے کوئی چوری یا دیش سے غداری نہیں کی ہے۔ دیش سے غداری کرنے والے اور ان کی تنظیمیں تو دیش میں راج کررہی ہیں وہ تو کالی کمائی واپس لانے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں لیکن اس سے سرکار کی راج گدی ہلتی ہے کیونکہ سسٹم پر کرپٹ لوگوں کا قبضہ ہے۔ کالی کمائی اور کرپشن کے اشو کو لیکر سرکار میں لگاتار نشانہ لگا رہے بابا کی مشکلیں صرف انکم ٹیکس نوٹس سے ہی ختم نہیں ہوں گی۔ انفورسمنٹ ان کے تمام ٹرسٹوں کے خلاف غیر ملکی قانون کی خلاف ورزی یعنی فیما کے الزامات کی بھی جانچ کررہی ہے کیونکہ ان ٹرسٹوں کی کمرشل سرگرمیاں بیرونی ممالک میں بھی جاری ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب بابا رام دیو کی سرگرمیوں پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ان کی دواؤں کی کوالٹی اور بھروسے مندی پر ماہرین سوال اٹھا چکے ہیں۔ بابا کے سب سے قریبی ساتھی بال کرشن کی شہریت پر بھی تنازعہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ بابا کو سرکار کو چنوتی دینے کا پورا حق ہے اور یہ بھی صحیح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بابا کی مہم کے خلاف سرکار بدلے کی کارروائی پر اتر آئی ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ بابا اپنی دواؤں کو کمرشل بنیاد پر بیچ رہے ہیں۔ ان کی گلوبل مارکٹنگ کررہے ہیں اور اگر وہ انہیں جدید کمرشل کاروبار کی طرح چلا رہے ہیں تو اس پر ٹیکس کا مطالبہ غلط نہیں ہوسکتا۔

20 مئی 2012

راجدھانی کی سڑکوں پر عام آدمی تو کیا جج بھی محفوظ نہیں

دہلی کی سڑکیں اتنی غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں کہ اب تو سڑک پر چلنے سے ڈر لگنے لگا ہے۔ عام آدمی تو اب دور کی بات ہے راجدھانی میں جج صاحبان تک محفوظ نہیں ہیں۔ حال ہی میں لاجپت نگر علاقے میں ایک سڑک پر ہوئے غنڈہ گردی کے واقعہ میں ایک جج کے ساتھ مار پیٹ ہوئی تھی۔ اب جمعرات کی شام ایک بار پھر ایک کار سوار نے تین ججوں پر حملہ کردیا۔ یہ واردات دکشن پوری کے علاقے میں ہوئی جہاں اسٹیم کار میں سوار تین ججوں کی گاڑی معمولی طور سے ایک بائیک سوار سے ٹچ ہوگئی تھی۔ اس بات کو لیکر ہوئی کہا سنی کو لیکر جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ بائیک سوار لڑکوں نے جج کی گاڑی پر اینٹوں سے حملہ کردیا۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ اچاریہ گرگ اور دو اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج منوج کمار ناگپال اور اندر جیت سنگھ شام کو ساکیت عدالت سے ایک ہی کار میں فرید آباد اپنے گھر جارہے تھے۔ دکشن پوری کے جے بلاک میں ان کی گاڑی ایک پلیٹینا بائیک سے ٹکرا گئی۔ اس سے بائیک سوار دو لڑکے بھڑک گئے اور انہوں نے کار کے ڈرائیور چمن لال کو باہر کھینچ لیا۔ لڑکوں نے پہلے تو کار میں بیٹھے ججوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور پھر ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ تھوڑی دیر بعد بائیک دو اور لڑکے وہاں پہنچ گئے انہوں نے بھی مار پیٹ شروع کردی۔ حملہ آوروں نے آس پاس پڑے اینٹ اور پتھروں سے کار میں توڑ پھوڑ کی۔ چشم دید گواہوں کے مطابق پیچھے کی سیٹ پربیٹھے دونوں جج منوج کمار ناگپال اور اندر جیت سنگھ پاس میں واقع ایک مکان کی طرف دوڑے۔ دونوں ججوں کو معمولی چوٹ آئیں جبکہ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ اجے گرگ اور ڈرائیور چمن لال کے سر میں چوٹیں آئی ہیں۔ حملہ آور چاروں لڑکے اپنی بائیک موقعہ ورادات پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ یہ دونوں بائیک دہلی کے نمبر کی ہیں۔ پولیس نے واردات میں شامل انل نامی لڑکے کو امبیڈکر نگر سے پکڑا اور اس کی نشاندہی پر دوسرے لڑکوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ اس میں سے انل نے خود کو پتھر سے زخمی کرلیا۔ وہ ابھی ہسپتال میں ہی داخل ہے۔ دہلی میں روڈریج کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ سال2011 ء میں کل قتل میں 17 فیصدی روڈ ریج کے معاملے میں ہوئے۔ 2010ء میں یہ تعداد15 فیصدی تھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے چوکس ہوجانا چاہئے۔ صرف پولیس کو کوسنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ بیشک جرائم کنٹرول کی ذمہ داری پولیس کی ہے لیکن روڈ ریج میں پولیس کیا کرسکتی ہے؟ دہلی کی سڑکوں پر چلنے والے لوگوں کا صبر اتنا کم ہوتا جارہا ہے کہ وہ معمولی سی واردات میں الجھ جاتے ہیں۔ سائڈ نہ ملنے پر تو وہ اپنا آپا کھودیتے ہیں۔ انہیں اب اس کی پرواہ بھی نہیں کہ جس پر وہ حملہ کررہے ہیں وہ شخص کون ہے اور کتنی عمر کا ہے؟ حال ہی میں ایمس کے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی میں تقریباً 20 فیصدی سے زیادہ لڑکے بلڈ پریشر سے متاثر ہیں۔ جدید زندگی کی دوڑ دھوپ میں اور بلیڈ حملے نے نوجوانوں کو دماغی اور جسمانی طور پر متاثر کیا ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ گھر کے اندر باہر جرائم بڑھ رہے ہیں۔ راجدھانی میں موسم کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر لڑکوں کا بھی پارہ بڑھ رہا ہے۔ سڑکیں تنگ ہوتی جارہی ہیں ،گاڑیاں بڑھتی جارہی ہیں، ججوں پر حملہ کرنے والے لڑکوں پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اس کو تو سڑک پر چلنے ہی نہیں دینا چاہئے۔ ان کے لائسنس ہی منسوخ کردئے جانے چاہئیں۔ تبھی روڈ ریج کے یہ بڑھتے واقعات رک سکیں گے۔

قصاب کی مہمان نوازی پر ہورہے 20 کروڑ کا خرچ کون برداشت کرے؟

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رحم کی اپیلوں کے معاملے میں اس کے سامنے دو معاملے التوا میں ہیں۔ ان معاملوں میں وہ کچھ ایسی ہدایت دے سکتی ہے جو صدر کے پاس التوا میں پڑی رحم کی اپیلوں کو لائن میں لگا سکتی ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ رحم کی اپیلوں کے نپٹارے کے لئے کوئی وقت یا میعاد مقرر کرے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی، ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ مرکز وقت اور میعاد مقرر کرنے پر غور کرے۔ حالانکہ معافی دینے کے صدر کے مخصوص اختیارات پر وہ کوئی ہدایت نہیں دینا چاہتے۔ عدالت نے کہا ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ سرکار جلد بازی میں فیصلہ کرے کیونکہ اس سے اس کے سامنے التوا معاملوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت نے بھلر کے معاملے میں سرگرمی تبھی دکھائی جب اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ اس کی عرضی کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے اسے خارج کردیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے مقدمے کے نفع نقصان کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے۔ صدر کے سامنے رحم کی عرضیوں کے برسوں تک لٹکے رہنے کے خلاف موت کی سزا یافتہ دو قصورواروں دیویندر سنگھ بھلر اور مہندر ناتھ داس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انہیں آئین کی دفعہ 21 کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اس لئے ان کی سزاؤں کو اب عمر قید میں بدل دیا جائے۔ دونوں عرضیوں پر صدر کے یہاں تقریباً 7 برسوں سے زیادہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ادھر سکھا راحت کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے خالی ہاتھ لوٹے مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے کہا ہے کہ آرتھر روڈ جیل میں بند اجمل قصاب کی سکیورٹی کا خرچ مہاراشٹر سرکار کے سر ڈالنا سراسر غلط ہے۔ چوہان نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کر مانگ کی ہے کہ قصاب کی سلامتی پر خرچ ہوئے قریب20 کروڑ روپے کو مرکزی سرکار برداشت کرے۔ چوہان نے یہ خط این سی پی نیتا اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے اس بیان کے بعد لکھا ہے جس میں انہوں نے قصاب کی اتنی لمبی دیکھ بھال کو غلط بتایا تھا۔ اجمل قصاب کی سلامتی میں لگی انڈو تبت پولیس نے مہاراشٹر سرکار کے پاس 28 مارچ 2009 سے لیکر 30 ستمبر 2011 تک کے قریب20 کروڑ روپے کا بل بھیج دیا ہے۔ یہ بل آئی ٹی بی پی کے ان ملازمین کی تنخواہ اور بھتوں پر خرچ ہوا ہے جو قصاب کی سلامتی میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے ہی سے اقتصادی بحران کا شکار مہاراشٹر سرکار پر 20 کروڑ روپے کا خرچ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلی چوہان نے چدمبرم کو خط بھیجا ہے۔ مرکزی سرکا ر اور ریاستی سرکار کے درمیان رسہ کشی کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں طول پکڑ سکتا ہے۔ قصاب کو مبینہ طور سے سرکاری مہمان کے طور پررکھے جانے کو لیکر شیو سینا کئی بار مرکز اور ریاستی سرکار پر حملہ کرچکی ہے۔ این سی پی کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ مراٹھی مانش کے اشو سے دور ہوجانے کی وجہ سے حال کے بلدیاتی انتخابات میں ممبئی کے ووٹروں نے اسے پوری طرح سے نامنظور کردیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کب تک اجمل قصاب کی دیش یوں ہی خاطر داری کرتا رہے گا؟ آخر کوئی وقت ،میعاد تو طے کرنی ہی ہوگی؟

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...