Translater

13 جولائی 2024

ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ ا سمبلی چناو ¿!

جھارکھند کے سابق وزیراعلیٰ ایک بار پھر سے وزیراعلیٰ بن گئے ہیں ہیمنت سورین 148 دن جیل میں رہنے کے بعد باہر آئے تھے ۔رانچی ہائی کورٹ جج جسٹس موگن مکھ اپادھیائے کی سنگل بنچ نے زمین پر قبضہ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں ہیمنت سورین کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ حقائق سے لگتا ہے کہ سورین کے خلاف ای ڈی کے سبھی الزام بے بنیاد ہیں ۔بڑگائی شانتی نگر کی جس 8.86 ایکڑ زمین کے معاملے میں ای ڈی نے سورین کو گرفتار کیا تھا اس پر قبضہ میں ان کا کوئی رول نہیں ہے۔ہائی کورٹ نے صاف کہا کہ ہیمنت سورین درپردہ طور سے اس میں کوئی رول دکھائی نہیں پڑتا ۔نا ہی زمین کے بارے میں معلومات چھپا کر رکھنے کے معاملے میں نظیر ملی ۔اور نا ہی کوئی کرائم بنتا اور نا ہی محصو ل ریکار ڈ مین سیدھے طور پر ان کا کوئی رول نظر نہیں ا ٓتا ۔جیل سے باہر آنے کے بعد ہیمنت سورین بولے مجھے جھونٹے الزام میں پھنسایا گیا ۔پانچ مہینے جیل میں کاٹنے پڑے ۔پورے دیش کو پتہ ہے کہ میں جیل کس لئے گیا تھا۔آخر کار کورٹ نے انصاف کیا ہے ۔کورٹ نے کہا مرکزی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے والے نیتاو¿ں سماج سیوی اور د انشوروں اور صحافیوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے ۔میں نے جو کام شروع کیا ہے جو جنگ میں نے چھیڑی ہے اسے پورا کروں گا ۔ہیمنت سورین کو جھارکھنڈ کے تیرہویں وزیراعلی کے طور پر حلف دلائی گئی تھی ۔پانچ مہینے پہلے اسی راج بھون میں اپنا استعفیٰ سونپنے کے بعد انہیں ای ڈی نے گرفتار کیا تھا ہیمنت سورین نے پیر کو اسمبلی کے اسپیشل اجلاس کے دوران اعتماد کا ووٹ حاصل کر اکثریت ثابت کر دی ان کی حمایت میں 45 ممبران اسمبلی کے ووٹ پڑے جبکہ اکثریت کے لئے 39 ووٹ درکار تھے ۔جھارکھنڈ اسمبلی چناو¿ اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں ممکن ہے ۔دس ستمبر کے بعد کبھی بھی چناو¿ کی تاریخوں کا ا علان ہوسکتا ہے ۔انڈین الیکشن کمیشن نے ریاستی الیکشن آفس کو یہ اشارہ دے دیا ہے کہ ہریانہ ،مہاراشٹر جموں کشمیر کے ساتھ جھارکھنڈ کے بھی اسمبلی چناو¿ کرائے جائیں گے ۔چناو¿ جیت کر ایم پی بننے کے بعد جے ایم این کے جوبھا جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے جوبھا مانجھی نلن سورین بھاجپا کے منیش جیسوال اور ببلو مہتو نے ممبر اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور جی ایم این کی ممبر اسمبلی رہی سیتا سورین نے بھی بھاجپا میں شامل ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا ۔ایسے میں اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی موجودہ تعداد 76 ہے ہیمنت سورین کے جیل میں رہتے ہوئے لوک سبھا چنا و¿ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی شاندار کارکردگی رہی اس نے آدی واسی ساری سیٹیں جیتی اب جب ہیمنت سورین باہر آکر میدان میں آگئے ہیں تو ان کے اتحاد اور مضبوطی سے لوگ اب تو ہیمنت کیساتھ پورا انڈیا کھڑا ہے ۔ہمدردی کا بھی سیکٹر ان کے حق میں جاتا ہے جیسے بھاجپا بھی جھارکھنڈ میں مضبوط ہے اور مقابلہ کانٹے کا ہونے کے امکان ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ ہیمنت سورین کے میدان میں آنے سے چناو¿ میں کیا فرق پڑتا ہے ان کے پیچھے بیوی کلپنا نے بھی میدان خوب ا چھے سے سنبھالا تھا ۔ (انل نریندر)

بند ہو اگنی پتھ یوجنا!

اپوزیشن اگنی ویر یعنی اگنی پتھ یوجنا کی مخالفت کر رہی ہے ۔کانگریس ایم پی و نیتا اپوزیشن راہل گاندھی نے لوک سبھا میں بھی اس برننگ اشو پر بحث کی اور صاف کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اس یوجنا کو بند کر دیں گے ۔چناو¿ ختم ہو چکے ہیں مرکز میں ایک بار پھر مودی حکومت بر سر اقتدار آچکی ہے ۔موصولہ اشاروں سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ مرکزی سرکار اس یوجنا کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے ساتھ ہی صاف ہے اور ممکن ہے کہ اس میں کچھ ترمیم کی جائے ۔راہل گاندھی نے اپنی تقریروں میں صاف کہا ہے کہ ہندوستان کے جوانوں کو مزدوروں میں بدلا جارہا ہے ۔راہل گاندھی نے کہا تھا کہ یہ مودی سرکار کی یوجنا ہے فوج کی یوجنا نہیں ہے ۔سینا بھی اس یوجنا کے موجودہ خاکہ میں نہیں چاہتی ہے ۔میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق فوج نے سفارش کی ہے کہ اگنی ویر اگر مرجاتا ہے تو اس کے پریوار کو تاعمر پینشن جیسی مدد کی جائے ۔فوج نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ اگنی ویروں کو مستقل کیا جائے ۔ابھی اگنی پتھ یوجنا کے تحت زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اگنی ویروں کو مستقل کرنے کی سہولت ہے ۔فوج نے قریب 4 مہینے تک اپنی سبھی یونٹوں سے اگنی پتھ اسکیم اور اگنی ویروں کو لیکر فیڈ بیک لیا ہے ۔اور پورا سروے کرایا ہے اس کی بنیاد پر اپنی سفارشیں ڈپارٹمنٹ آف ملیٹری امور یعنی ڈی ایم اے کو بھیجی ہیں ۔ڈی ایم اے چیف آف ڈیفنس اسٹاف ہیں ذرائع کے مطابق سفارشوں میں کہا گیاہے اگر اگنی ویر کی موت ہوجاتی ہے تو اس کے خاندان کو تاحیات بھتہ دیا جانا چاہیے ۔ایک افسر کے مطابق یہ ایک طرح سے پنشن ہے ۔یہ بھی کہا گیا ہے ڈیفنس کے لئے کام کرتے ہوئے اگنی ویر معذور ہوتے ہیں تو بھی ایکسگریشیا دیا جانا چاہیے ۔فوج نے سفارش کی ہے کہ ہر بیچ میں کم سے کم 50 فیصد اگنی ویروں کو مستقل کیا جانا چاہیے اس کے ساتھ ہی ٹیکنیکل آرم میں اگنی ویروں کی زیادہ عمر بڑھانے کی سفارش کی ہے ۔ذرائع کے مطابق فوج کی طرف سے اگنی ویروں کی ورکنگ چار سال سے بڑھا نے جیسی کوئی سفارش نہیں کی گئی ہے ۔جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی منگلوار کو اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی پہونچے تو انہوں نے کیرتی میڈل یافتہ شہید کیپٹن انشومان سنگھ کے گھر والوں سے ملاقات کی ۔شہید کیپٹن کی ماں انجو سنگھ نے راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم دکھی ہیں ہمارا بیٹا ہم سب کو چھوڑ کر منجھدھار میں چلا گیا ہے ۔پریوار کو اس کی ضرورت تھی میں یہ درد پوری زندگی لیکر جینا چاہتی ہوں میں چاہتی ہوں کہ کچھ مسئلے اور در د ہوں تاکہ میں اپنے بیٹے کو یاد کر سکوں ۔شہید انشومان کی ماں نے کہا راہل گاندھی سے ملاقات میں اگنی ویر کو لیکر بات ہوئی ہے ۔دو طرح کی فوج نہیں ہونی چاہیے سرکار میں امید کرتی ہوں کہ وہ راہل گاندھی کی بات سنیں اور اس پر غور کریں ۔غور طلب ہے کہ انشومان سنگھ کی شادی پانچ ماہ پہلے دس فروری کو ہوئی تھی۔کیپٹن 15 دن پہلے سیاہ چن گئے تھے ۔کیپٹن انشومان سنگھ بعد ازمرگ راشٹر پتی بھون میں کیرتی چکرمیڈل سے نوازہ گیا تھا جسے ان کی بیوی اسپرتی اور ماں منجو نے یہ میڈل حاصل کیا تھا ۔ (انل نریندر)

11 جولائی 2024

جس انگلی کو پکڑ کر چلے اسی کو کاٹ رہے ہیں !

جیسے جیسے 2024 لو ک سبھا چناو¿ کے نتائج کا اثر ہورہا ہے ویسے ویسے اب بھاجپا کے اندر بغاوتی آوازیں بھی سنائی پڑنے لگی ہیں ۔جیسے ہی نتیجے آئے بھاجپا 240 پر اٹک گئی ۔کئی باغی نیتا کھل کر سامنے آگئے شاید وہ اس موقع کے انتظار میں تھے کہ مرکزی میں مودی شاہ جوڑی تھوڑی کمزور ہو تو وہ ہلا بول سکیں ۔راجستھا ن میں ادھم پور پہونچی سابق وزیراعلیٰ اور بھاجپا کی قومی نائب صدر وسندھرا راجے سندھیا نے ایک ایسا بیان دے دیا جس کی سیاسی گلیاروں میں بحث چھڑ گئی ہے ۔سندر سنگھ بھنڈاری چیریٹبل ٹرسٹ کی جانب سے منعقد ایک مخصوص پبلک سمان سمارہ اور سمپوزیم پروگرام میں وسندھرا راجے بول رہی تھیں اس دوران انہوں نے کہا کہ سندھر سنگھ بھنڈاری نے چن چن کر لوگوں کو بھاجپا سے جوڑا اور ایک پودے کو پیڑ بنایا ۔انہوں نے تنظیم کو مضبوط کرنے کا کام کیا ورکروں کو اونچا اٹھانے کا کام کیا ۔انہون نے کہا بھنڈاری جی نے راجستھان میں بھیرو سنگھ سیکھاوت سمیت کتنے ہی لیڈروں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ۔لیکن وہ وفا نا بنا یہ دور الگ تھا تب لوگ کسی کے لئے کئے ہوئے کام کو مانتے تھے لیکن آج تو لوگ اسی انگلی کو پہلے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں جس کو پکڑ کر وہ چلنا سیکھتے ہیں اب وسندھرا کے اس بیان کے بعد تمام طرح کے سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں ۔چرچا ہے کہ راجستھان اسمبلی اور لوک سبھا چناو¿ کے دوران جس طرح سے وسندھرا راجے اور پارٹی لیڈرشپ کے درمیان تلخی دیکھنے کو ملی تھی اس کی گانٹھ کھلنے لگی ہے ۔چناو¿ کے دوران من میں جو کسک تھی وہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی ہے ۔پروگرام میں آسام کے گورنر گلاب چندکٹاریہ بھی موجود تھے ۔راجے نے کہا گلاب چند کٹاریہ نے چن چن کر لوگوں کو بھاجپا سے جوڑا کٹاریہ اب آسام کے پارٹی جنرل سیکریٹری ہیں لیکن وہ دو رہ کر بھی ہم لوگوں کے قریب ہیں اور خیال رکھتے ہیں دراصل راجستھان اسمبلی چناو¿ کے دوران ٹکٹ کر لیکر وسندھرا راجے اور گلاب چند کٹاریہ کے درمیان تلخی کی خبریں سامنے آئی تھیں ۔اس کے علاوہ چناو¿ نتائج کے بعد پارٹی اعلیٰ کمان نے وسندھرا راجے کو نظر انداز کرکے پردے کے پیچھے سے بھجن لال شرما کو ریاست کے وزیراعلیٰ کی کرسی سونپ دی تھی ایسے میں دبے الفاظ میں ہی سہی بھاجپا لیڈر شپ اور وسندھرا راجے کے درمیان تلخی کی خبریں گاہے بگاہے سرخیوں میں بنتی رہی ہیں ۔ابھی تو یہ شروعات ہے آگے دیکھتے رہیے کیا ہوتا ہے اور کیا کیا ۔پوری پارٹی کے اندر بہت سے لیڈر اور ورکروں کو لیڈرشپ کو لیکر ناراضگی ہے لیکن خوف کے ماحول سے وہ چپ بیٹھے ہیں موقع ملتے ہیں کئی اور لیڈروں کی مخالف آوازیں سننے کو مل سکتی ہیں ۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر میں ہوگا این ڈی اے کا امتحان !

لوک سبھا چناو¿ میں مہاراشٹر میں این ڈی اے کو 24 سیٹوں کانقصان ہوا ہے جس سے بھاجپا اور وزیراعلیٰ ایکناتھ شندھے کی شیو سینا اور اجیت پوار کی این سی پی میں بے چینی ہونا فطری ہے ۔اتحاد کو ڈر ہے کہ اگر لوک سبھا چناو¿ کا ٹرینڈ جاری رہا تو سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناو¿ میں انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے اسی درمیان خبر تو یہ بھی ہے کہ شندھے اور اجیت پوار گروپ کے 15020 اسمبلی گھر واپسی کی راہ تلاش رہے ہیں ۔این سی پی کے وزیرچھگن بجھول اور شندھے کے وزیر عبدالستار نے اشارے دئیے ہیں مودی کیبنیٹ میں این سی پی کو جگہ نا ملنے سے اجیت پوار گروپ میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے ۔مہاراشٹر میں اسی سال اکتوبر میں اسمبلی چناو¿ ہیں 2019 میں بھاجپا شیو سینا اتحاد تھا تب 288 میں بھاجپا کے 105 شیو سینا56 سیٹوں پر چناو¿ لڑی تھی ۔بھاجپا نے شیو سینا کو توڑ کر سرکار بھی بنا لی ۔شیو سینا کے 56 میں سے 42 ممبر اسمبلی اور 14 ٹھاکرے کیساتھ ہیں ۔این سی پی نے 54 میں سے 40 اجیت اور 14 شردپوار کیساتھ ہیں ۔این ڈی اے کے اندر زبردست کھٹ پٹ ہے اور چناو¿ نتیجوں میں یہ بڑھا دی ہے ۔بھاجپا اعلیٰ کمان پر پارٹی اور آر ایس ایس کے اندر سے دباو¿ ہے کہ اجیت پوار بوجھ بن گئے ہیں ۔بھاجپا کو اس سے جلد سے جلد پیچھا چھڑا لینا چاہیے ۔این سی پی توڑ کر بھاجپا کیساتھ آئے اجیت پوار کو لوک سبھا چناو¿ میں ملی ہار اور 4 سیٹوں میں سے وہ صرف 1 ہی سیٹ جیت پائے ۔بارامتی کے اپنے آبائی گھر میں ان کی اہلیہ سمترا پوار اپنی نند اور شردپوار کی بیٹی شپریہ سلح سے بری طرح ہار گئی ۔ادھر پرفل پٹیل نے الگ بھاجپا کی کرکری کرا دی ۔ریاست میں اسمبلی چناو¿ قریب ہیں اور جنتا کا موڈ بھانپ کر کئی ممبر اسمبلی پالا بدل سکتے ہیں ۔سینئر پوار کے خیمے میں لوٹنے کی امید جتائی جا رہی ہے ۔اجیت پوار کے کچھ نیتاو¿ں کا خیال ہے کہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں لیکن اجیت پوار کی خواہشات کو دیکھتے ہوئے سب کچھ آسان نہیں لگتا ۔چناو¿ سے پہلے ایکناتھ شندھے سرکار نے اپنا اثر اور دم خم دکھانے کی کوشش کریں گے جس سے اسمبلی چناو¿ میں اپنی بڑی ساجھیداری کو لیکر دباو¿ بنا سکیں ۔ریاست میں جس طرح تجزیہ سامنے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ادھر ٹھاکرے گروپ کو لیکر ایک متوازن نظریہ بھی بھاجپا لیڈر شپ اپنا سکتی ہے ۔اس سے ضرورت پڑنے پر بات چیت کا راستہ کھلا رہے ۔کل ملا کر کئی طرح کے واقعات حالات کا امکان مہاراشٹر کی سیاست کو لیکر لگائے جا رہے ہیں ۔ادھر شردپوار بھی پوری طرح سرگرم ہو چکے ہیں ۔مہاراشٹر میں لوک سبھا کی دس سیٹ پر چناو¿ لڑا تھا اور 8 پر جیتے ۔بارامتی کے شرسپل گاو¿ں میں ورکروں اور جنتا سے خطاب کرتے ہوئے سینئر پوار نے کہا کہ آپ متحد رہیں ۔پوار نے کہا اگلے تین یا چار مہینے میں مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ ہونے والے ہیں میری کوشش ریاست کی کمان سنبھالنے کی ہوگی اسے حاصل کرنے کیلئے ہمیں اسمبلی چناو¿ جیتنا ہوگا ۔لوک سبھا چناو¿ کے نتیجہ کو دیکھیں تو 288 اسمبلی حلقوں میں سے 150 پر انڈیا اتحادکا ووٹ زیادہ رہا اس لئے بھاجپا کے سامنے مہاراشٹر چناو¿ جیتنے کی بڑی چنوتی ہے ۔ (انل نریندر)

09 جولائی 2024

ہوئی وہی جو رام رچی راکھے!

صدر جمہوریہ کے ایڈریس پر بحث میں سماج وادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نے لوک سبھا چناو¿ کے نتیجہ کو لیکر سرکار کے غرور کی ہار اور اپوزیشن کی اخلاقی جیت بتایا ہے انہوں نے فیض آباد (ایودھیا) کی ہار پر کہا کہ یہ بھارت کی سب سے بڑی جیت ہے ۔رام چرت مانس میں کہا ہے ”ہوئی ہے وہیں جو رام رچی راکھے“ ۔نتیجہ نے اس کی تشریح کی ہے ۔یہ ان کا فیصلہ ہے جس کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی ۔اکھلیش نے سرکار پر حملے کےلئے شاعری کا سہارا لیا انہوں نے کہا حضور والا آج تک خاموش بیٹھے اس غم میں ٭ کوئی اور لوٹ لے گیاجبکہ محفل سجائی ہم نے،انہوںنے جملے باز سرکار سے جنتا کا بھروسہ اٹھ گیا ہے ۔پیپر لیک اگنی پتھ یوجنا سے سرکار نے نوجوانوں کا بھروسہ توڑا ہے ۔اقتدار میں آنے وہ اس اسکیم کو بند کریں گے۔اکھلیش نے کہا جنتا نے 400 پار کا نعرہ لگانے والوں کا غرور توڑ ڈالا ۔ایسا لگ رہا ہے کہ یہ چلنے والی نہیں گرنے والی سرکار ہے ۔بی جے پی کو زور دار طریقہ سے گھیرا۔یوپی میں اتحاد کو بھاجپا پر بڑھت بنانے کو اکھلیش یادو نے اپنی جیت کی شکل میں پیش کیا ۔انہوں نے کہا یوپی نے مثبت نتیجہ دیا ہے ۔بھاجپا کی ہار کو لیکر انہوں نے شاعری انداز میں حملہ کرتے ہوئے کہا عوام نے توڑ دیا حکومت کا غرور ،دربار تو لگا ہے لیکن بڑا غمگین بے نور ہے ۔کیوں کہ اوپر سے جڑا کوئی تار نیچے سے کوئی بنیاد نہیں ہے ۔اندر سے جو اٹکی ہوئی یہ کوئی سروکار نہیں ۔ی محفل پھر لوٹ لے گیا کوئی ،اکھلیش نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنقید کی انہوں نے کہا کہ ای وی ایم پر مجھے کل بھی بھروسہ نہیں تھا اور آج بھی نہیں کہا کہ اگر میں 80 میں سے 80 سیٹیں بھی جیت جاو¿ں گا تب بھی نہیں ۔ای وی ایم کا شو ختم نہیں ہوا ہے پرچہ لیک معاملے میں کہا کہ پیپر لیک کیا ہو رہے ہیں؟ سچائی تو یہ ہے سرکار ایسا اس لئے کررہی ہے تاکہ اسے نوجوانوں کو نوکریاں نا دینی پڑیں انہوں نے کہا کہ آئین ہی سنجیونی ہے اس کی جیت ہوئی ہے ۔آئین کے محافظوں کی جیت ہوئی ہے یہ چلنے والی نہیں گرنے والی سرکار ہے ۔اکھلیش نے کہا کہ 4 جون کو لوک سبھا چناو¿ نتیجہ والا دن تھا دیش کے لئے ایک فرقہ وارانہ سیاست سے آزادی کا دن تھا ۔فرقہ وارانہ سیاست کے خاتمہ کا انت ہوا اور اجتماعی سیاست کی شروعات ہوئی ہے ۔اس چناو¿ میں فرقہ وارانہ سیاست کی ہمیشہ کے لئے ہار ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا فیصلہ کن سیاست کی جیت ہوئی ہے ۔سپا ایم پی نے کہا کہ دیش کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ عوامی امید سے توقعات سے چلے گا ۔اور اب من مرضی نہیں بلکہ جن مرضی چلے گی ۔انہوں نے ووٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ جمہوریت کو ایک مشینری بنانے سے روکا ۔یادو نے دعویٰ کیا کہ جنتا نے حکومت کا غرور توڑ دیا اور اب اس ہار ہوئی ہے ۔سرکار بیٹھی ہے انہوں نے الزام لگایا کہ وکاس کے نام پر خربوں روپے کا کرپشن ہوا ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ وکاس کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اس وناش کی ذمہ داری لیں گے ؟ اب پردیش کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر ناو¿ چل رہی ہے اور یہ سب وکاس کے نام پر ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

بھاجپا میں ہارکو لیکر سر پھٹول !

بھاجپا کے اندر لوک سبھا چناو¿ میں ہار کو لیکر پارٹی کے اندر سر پھٹول و جوابدہی کو لیکر ایک طرح سے گھماسان چھڑا ہوا ہے ۔جو ابدہی کو لیکر تازہ کیس راجستھان کے وزیرزراعت کروڑ یلال مینا کے استعفیٰ کا ہے ۔انہوں نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے وچن دیا تھا کہ اگر پارٹی لوک سبھا چناو¿ نہیں جیتتی تو میں کیبنیٹ سے استعفیٰ دے دوں گا ۔انہوں نے لوک سبھاچناو¿ سے پہلے اعلان کر دیا تھا کہ دوسا سیٹ پر بھاجپا امیدوار کنہیا لال مینا کی ہار ہوئی تو وہ وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے ۔اپنے اسی وعدے کو نبھایا ہے ۔۔لیکن اصل وجہ بھاجپا کے اندر اندرونی گروپ بندی مانی جارہی ہے ۔پچھلے سال دسمبرمیں بھاجپا اعلیٰ کمان نے ایک نئے چہرے بھجن لال رانچی کو صوبہ کی اقتدار سونپی تھی اس کے بعد 2 بار وزیراعلیٰ رہ چکی وسندھرا راجے کا ناراض ہونا فطری تھا ۔لوک سبھا چناو¿ میں راجستھان میں بھاجپا کو اپنا اقتدار ہونے کے باوجود جھٹکا لگا ہے ۔25 سیٹوں سے گھٹ کر پارٹی 14 سیٹوں پر سمٹ گئی ۔رہی کروڑی لال مینا کی بات وہ تو لگاتار ناراض دکھائی دے رہے تھے ۔بھجن لال شرما وزارت میں ان کے قد اور تجربہ کے مطابق محکمہ نہیں ملا ۔چھ بار اسمبلی دوبار لوک سبھا ایک بار راجیہ سبھا ممبر رہے ۔کروڑ ی لال مینا انہون نے ہار کی ذمہ داری لینے کی بات سے بھاجپا کے اندر جھگڑے کو تیز کر دیا ہے ۔اتر پردیش میں بہت دنوں سے ہار کی ذمہ داری کو لیکر بھاجپا کے اندر جنگ چھڑی ہوئی ہے مرکزی قیادت چاہتی ہے کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش میں ہار کی ذمہ داری لیں لوک سبھا چناو¿ کے بعد اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ حریفوں کے بجائے اپنوں کے ہی نشانہ پر آگئے ہیں ۔ہارے ہوئے بھاجپا امیدوار کبھی تو اپنی پارٹی کے نیتاو¿ں کو ہار کا سبب بتا رہے ہیں لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کی ہار کا سبب جہاں مرکز یوگی جی پر سونپنا چاہتا ہے وہیں یوگی کے حمایتی کہہ رے ہیں کہ نہ صرف ٹکٹیں مرکزی لیڈروں نے بانٹی بلکہ سات چناو¿ مہم مرکزی وزیر امت شاہ نے چلائی ۔اس لئے اگر اترپردیش میں توقع کے حساب سے نتیجے نہیں آئے تو اس کے لئے یوگی ذمہ دارنہیں بلکہ امت شاہ ذمہ دار ہیں یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ یوگی کو مرکزی لیڈرشپ عہدے سے ہٹانا چاہتی ہے لیکن ابھی تک یوگی جی ٹکے ہوئے ہیں ۔جو ممبر اسمبلی ہار گئے وہ اپنی پارٹی کے نیتاو¿ں پر ا لزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ہرایا ۔امیدواروں اور علاقائی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور تنظیم کے مقامی عہدیداران کے درمیان سرد جنگ کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔سبھی ایک دوسرے کے سر پر ہار کا ٹھیکرا پھوڑ رہے ہیں ذڑائع کا کہنا ہے کہ مقامی تنظیم اور عہدیداران نے جہاں ایم پی ،ایم ایل کی آپسی جنگ اور جنتا میں ایم پی مخالف لہر کو اہم وجہ بتا رہے ہیں ۔وہین آئین اور ریزرویشن کے مسئلے پر زمینی ورکروں کی ڈھیلا پن جیسی وجہ سامنے آئی ہیں ۔ہار کے لئے عہدیداران کے سر پر ٹھیکرا پھوڑا جارہا ہے ۔اور کہا جارہا ہے کہ عہدیداران نے جان بوجھ کر گڑبڑی کی اور عدم تعاون کیا اور اپوزیشن کا ساتھ دیا ۔تمام حلقوں میں تو لوگوں نے کہا کہ عہدیداران کی من مانی اور مقامی پارٹی عہدیداران کو نظرانداز کے چلتے جنتا کے درمیان ان کا اثر کم ہوا ہے ۔اس وجہ سے بھی جنتا نے اسے مسترد کر دیا ۔کروڑی لال مینا نے تو ہار کی ذمہ داری لے لی لیکن باقی ریاستوں میں ہار کے لئے ذمہ دار کون ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...