Translater
18 نومبر 2022
رام سیتو پر پیچھے ہٹتے سرکار کے قدم !
سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر جواب داخل کر تے ہوئے مرکزی حکومت کو چا ر ہفتے کا وقت دیا ہے جس میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کیلئے ہدایت دینے کی دوخواست کی گئی ہے ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس ہیماکوہلی اور جسٹس جے وی پاردیوال کی بنچ کو سبرامنیم سوامیں نے بتایا کہ یہ ایک چھوٹا سا معاملہ کا جہاں مرکز کو اس معاملے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہئے تھی ۔ مرکز کے وکیل جواب داخل کر تے ہوئے کہا کہ جواب حلف نامہ تیار ہے اور ہمیں سرکار سے ہدایت لینی ہے ۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے (مرکزی حکومت ) پیر کیوں کھینچ رہے ہیں ۔بنچ نے چار ہفتے کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کئے جانے پر اس کی ایک کاپی عرضی گزار سبرامنیم سوامی کو دی جائے اس کے بعد اگر کوئی جواب دینا ہو تو اس کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے اس سے پہلے سابق چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی ایک بنچ نے 3اگست کو کہا تھا کہ سوامی کی عرضی کی سماعت کیلئے پینل کر دیا جائے گا ۔ رام سیتو کو ایٹمس برج کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔جو تامل ناڈو کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع پمبن جزیرے اور سری لنکا کے بیچ مغربی ساحل بھنجر جزیرے کے بیچ چونے پتھر کی ایک پل ہے ۔ہندوو¿ ں کا خیال ہے کہ یہ سیتو ہنومان جی نے شری رام کی سینا کو سری لنکا جانے کیلئے بنایا تھا۔بھاجپا نیتا سوامی کہا کہ وہ مقدمے کا پہلا مرحلہ جیت چکے ہیں جس میں مرکز نے رام سیتو کے وجود کو مانا ہے ۔اور مرکزی وزیر نے سال2017میں ان کی مانگ پر غور کرنے کیلئے ایک میٹنگ بلائی تھی لیکن اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ یوپی اے کی سرکار کی طرف سے شروع کی گئی متنازعہ سیتو سمندرم چیف چینل پروجیکٹ کے خلاف اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں رام سیتو کو قومی وراثت ڈکلیئر کرنے کا اشو اٹھایا تھا ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا جہاں 2007میں بھی رام سیتو پر پروجیکٹ کے کام پر روک لگا دی گئی تھی۔بعد میں مرکزی سرکا رنے کہا تھا کہ اس نے پروجیکٹ کے سماجی و اقتصادی نقصان پر غور کیا تھا اور رام سیتو کو نقصان پہنچائے بغیر پروجیکٹ کیلئے ایک راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد عدالت نے سرکار سے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا تھا۔
(انل نریندر)
بڑھتی چینی طاقت سے امریکہ پریشان!
چینی صدر شی جن پنگ کی جاریحانہ خارجہ پالیسی کا سب سے زیادہ اثر وسط مشر ق ایشیا میں صاف دکھائی پڑ رہا ہے لیکن جیسے جیسے بیجنگ کی طاقت بڑھ رہی ہے امریکہ کی بے چینی بھی صاف جھلک رہی ہے ۔کئی برسوں کی ٹال مٹول کے بعد اب امریکہ اس خطے کی طرف آخر توجہ دے رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن سال 2017کے بعد جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم یعنی آسیان کی کسی بھی سالانہ میٹنگ میں حصہ لینے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں۔حالاںکہ پچھلے سال بھی وہ آسیان کا حصہ تھے،لیکن ویڈیو لنک کے ذریعے انہوںنے شرکت کی تھی آسیان کی میٹنگ میں حصہ لینے کے بعد بائیڈن اس خطے کے ایک اہم ملک انڈونیشیا ،بھارت ہے جہاں وہ چین کے صدر شی جن پنگ سے ملیںگے ۔اس کے بعد دونوں نیتا جی 20میں شامل ہوئے لیکن امریکہ اب پہلے سے کہیں وشواس گھاتی ڈپلومیٹک ماحول میں چلا رہا ہے ۔ایک زمانے میں آسیان گروپ کو ایشیائی بحرالکاہل خطے میں ڈپلومیسی کیلئے ایک اہم جگہ مانا جاتا تھا لیکن اب وہ گروپ بندی میں بٹتی جا رہی ہے ۔ دنیا میں اس کا اثر کم ہوا ہے آسیان گروپ اپنی ساکھ امن اور غیر جانبداری والا گروپ بنانا چاہتا ہے ۔گروپ اپنے دس ممبر ملکوں میںایک رائے پر رزور دیتا ہے تاکہ ایک دوسرے کی نکتہ چینی نہ کی جائے اور سبھی ممبر گروپ سے باہر کسی بھی ملک سے اپنے ڈپلومیسی جاری رکھ پائیں ۔چین کے صدر شی جن پنگ سال 2017میں آسیان اور ایشیائی پیسفک ایکانومک کوآپریشن کی میٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے آسیان میں اپنے فیصلے لاگوں کر نے کی کسی مخصوص کاروائی کی کمی اس نظریہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔یہ رویہ تب تک تو صحیح تھا جب تک دنیا میں امریکہ کا بو ل بالا تھا لیکن سال 2000کے بعد عالمی منڈی میں چین کی بڑھتی دھاک سے اس خطے میں امریکی اثر گھٹا ہے کیوں کہ اس کی اقتصادی کمان وسط مشرق ایشیا کی طرف رہی ہے ۔اس دوران چین اس خطے میں اپنے سابق لیڈر ڈینگ زیاو¿پنگ کے منتر اپنی طاقت چھپا و¿ وقت کاٹتے رہو لیکن کام کر تا رہا ہے ۔شی کے عہد کے دس برسوں میں چین کی طاقت اور اثر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔گزشتہ ایک دہائی میں جنوبی مشرق ایشیا میں مصنوعی جزیروں پر چین کا قبضہ اور فوجی اڈے بنانے کی کوشش نے اسے ویتنام اور فلپائن کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔آسیان نے چین کے اس خطے میں قواعد کی تعمیل کرنے گزارش کی تھی۔لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں چین نے ساو¿تھ چین سمندر میں ایسے کئی مصنوعی ٹاپو بنائے ہیں جن میں چین کے فوجی اڈے ہیں۔چین اقتصادی طور سے کافی اہم ہے ،اور فوجی طور پر بھی اتنا طاقتور ہے کہ کوئی اسے کھلے عام چنوتی نہیں دے سکتا ۔چین نے آسیان گروپ کی اتحاد کی دھجیا ں اڑا دی ہے ۔اس کی ڈپلومیسی کی چالوں کی وجہ سے چھوٹے آسیان ممبر اب پوری طرح سے اس منحصر ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ یہ خطے میں اب امریکہ کے ساتھ رشتوں کولیکر مایو س ہوتا جا رہاہے ۔ اب یہ دیش امریکہ کو بھروسے کا پاٹنر نہیں مانتے انہیں لگتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق اور جمہوریتی کی جنگوں میں الجھا رہتا ہے ۔سال1943میں ایشیا میں آئے مالی بحران کے دوران امریکہ نے اس خطے کو سخت اقتصادی قدم اٹھانے کیلئے مجبور کیا تھا اس کے بعد جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جنوب مشرقی ایشیا کی امریکہ میں دلچسپی تقریباً ختم کردی تھی۔
(انل نریندر)
15 نومبر 2022
کیا آئی پی ایل نے ٹی انڈیا کو نقصا ن پہنچایاہے ؟
کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جس طرح سے پوری ٹیم انڈیا ہاری اس سے کروڑوں ان کے فینز کو گہرا صدمہ لگا ہے اور بنا فائٹ کے ہی ہار گئے ۔مسلسل دوسرے سال ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹیم انڈیا دس وکٹ سے ہاری ۔یہاں تک کہ پوری دنیا کی سب سے مہنگی کرکٹ لیگ آئی پی ایل بھی بھارت کو اب تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ونر نہیں بنا پائی ۔آئی پی ایل کی شروعا ت 2008میں ہوئی تھی حیرانی کی بات یہ ہے کہ 20ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی برانڈ ویلیو اور جدید ترین سہولیات کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ چیمپیئن نہیں بنی ٹی ٹوئنٹی ور لڈ کپ بھارت نے ضرور جیتا لیکن آئی پی ایل کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ 2007آئی پی ایل شروع ہونے سے پہلے ایم ایس دھونی کی کپتانی میں چیمپئن بن چکی ہے ۔وہیں کئی دیش اپنے یہاں لیگ شروع کرنے کے بعد ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی پی ایل کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اس لیگ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کے کھیل کی دھار کند پڑ جاتی ہے جبکہ آئی پی ایل میں کروڑ پتی پلیئر خوب جلوہ بکھیرتے ہیں ۔پاکستان کے نامور گیند باز وسیم اکرم بطور کوچ آئی پی ایل کا حصہ رہ چکے ہیں وہ خود بھی حیران ہیں کہ اتنی بڑی لیگ ہونے کے باوجود ٹیم انڈیا 14برسوں میں ایک بار بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چیمپیئن نہیں بن سکی ؟ آئی پی ایل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ ہوا ہے وہ ٹیم انڈیا کے پلیئر س کے انڈیا کے کھلاڑیوں کے اسٹائل و تکنیک سے واقف ہو گئے ہیں ۔ انہیں یہ پتا لگ گیا ہے کہ ٹیم انڈیا کا اسٹرونگ پوائنٹ کیا ہے اور کونسا کمزور پوائنٹ ہے اور نتیجہ صاف ہے ۔سیمی فائنل کی شرمناک ہار بھولائی نہیں جا سکتی جیسے شرمشار پرفارمنس کی قطعی امید نہیں تھی اور کروڑ وں ہندوستانی پرستاروں کا دل ٹوٹ گیا ۔یہاں قسمت نے بھی کام کیا بنگلہ دیش کے خلاف بارش نے ساتھ دیا اور ہم جیت گئے ۔پاکستان باہر ہوکر بھی فائنل میں پہنچ گیا ۔سیمی فائنل سے بہت مایوسی ہوئی۔
(انل نریندر)
سنجے راوت کی ناجائز گرفتاری!
شیو سینا لیڈر و ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت کو ممبئی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دے دی ہے ۔لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) نے ان ضمانت کی مخالفت کی ۔شیو سینا لیڈر کو راحت دیتے ہوئے ممبئی کی سیشن عدالت نے ای ڈی پر کچھ سخت ریمارکس دئے ہیں۔ اور جانچ ایجنسی کے ارادے پر بھی سوال کھڑے کئے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے کہا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں کسی سے ناراض نہیں ہوں ، میں نے 100سے زیادہ دن جیل میں گزارے ہیں میرا آخر گناہ کیاتھا؟ انہوںنے کہا جمہوریت میں الگ الگ لوگوں کی الگ الگ رائے ہو سکتی ہے ۔ جیل سے باہر آنے کے بعد سنجے راوت نے شیو سینا لیڈ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی انہوں نے سنجے راوت تعریف کی اور کہا کہ ،دوست مصیبت کے وقت نہ صر ف ساتھ کھڑا ہوتا ہے بلکہ لڑتا بھی ہے ۔سنجے راوت ایسے ہی لڑ رہے ہیں انہوںنے کہا کہ آج تک مرکزی ایجنسیوں کا بےجا استعمال کر انہیں توڑا جا چکاہے ۔اور کئی پارٹیوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،عدالت کی پھٹکار کے بعد بھی سنجے راوت کو دوسرے جھوٹے مقدموں میں پھنسانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ وہیں سنجے راوت نے کہا کہ وہ این سی پی نیتا شرد پوار سے بھی ملیںگے ۔ اورکچھ لوگوں کے کاموں کیلئے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے بھی ملاقات کریںگے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ صاف ہے کہ دونوں ملزمان کو ناجائز طریقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ ضروری ہونے پر گرفتاری کی کاروائی کی جا سکتی ہے۔لیکن ای ڈی کی جانب سے پی ایم ایل اے ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت کی گئی کاروائی ناجائز ہے ۔ سول معاملوں کو منی لانڈرنگ یا معاشی جرم کا نام دینے سے اسے وہ اسٹیٹس نہیں ملتا ۔گرفتاری سے بے قصور لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے کورٹ کے سامنے کوئی بھی ہو اس کا کام اسے مناسب انصاف دینا ہے ۔کورٹ کے سامنے موجود ریکارڈ اور دلائل سے صاف ہے کہ پروین راوت شیوانی معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اور سنجے راوت کو بے وجہ گرفتار کیا گیا ۔یہ حقیقت حیران کرنے والی ہے اس معاملے میں مہاراشٹر ہاوسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کا رول مشتبہ تھا۔ ای ڈی بھی ان کے متفق ہو گئی لیکن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام پر کوئی الزام نہیں لگا یا گیا ۔ سارن اور راکیش وادھاون اہم ملزم تھے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن اسی وقت پروین راوت کو دیوانی معاملے میں گرفتار کر لیا گیا اور سنجے راوت کو بنا وجہ گرفتار کیا گیا ۔ یہ دکھاتا ہے کہ ای ڈی نے اپنی سہولت کے حساب سے برتاو کیا ۔ پی ایم ایل اے کورٹ کے جج ایم جی دیش پانڈے نے اپنے حکم میں ای ڈی پر سخت ریمارکس دئے اور پھر سوال بھی اٹھائے ۔پی ایم ایل اے کورٹ کی تشکیل کے بعد سے اب تک کسی بھی معاملے میں ای ڈی ٹھوس ثبوت پیش کر سکی ۔ یہاں تک کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھی کورٹ نے کسی بھی معاملے میں فیصلہ سنایا ہے ۔ کیا معاملے کو شروع کرنے اور ختم کرنے کیلئے ای ڈی کا کوئی فرض نہیں ہے؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...