Translater

12 جولائی 2014

عام بجٹ میں کڑوی دوا سے پرہیز!

وزیر اعظم نریندرمودی کی سرکار کے ایک ماہ کے اندر ان کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے عام بجٹ2014-15 میں چھوٹے ٹیکس دہندگان کیلئے اچھے دن کی جھلک دکھا دی ہے۔ درمیانے طبقہ کو راحت دیتے ہوئے بجٹ میں ڈھائی لاکھ تک کی سالانہ آمدنی والے شخص کو ٹیکس سے نجات دے دی ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگوں نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے لوگ غریبی سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن یہ امید کرنا عقلمندی نہیں ہوگی کہ45 دنوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
دوسری طرف حکومت نے کچھ چیزوں پر پروڈکشن بڑھا دیا ہے جس سے غیر ملکی الیکٹرانکس سامان باکسائٹ، پان مثالہ، زردے کی خوشبو والا تمباکو، سگریٹ، سگار، ریڈی میڈ کپڑے ، کولڈ ڈرنکس، بوتل بند جوس وغیرہ مہنگے ہوجائیں گے۔
دیکھا جائے تو یہ بجٹ محض8 ماہ کیلئے بنایا گیا ہے اس کے ذریعہ مہنگائی کم کرنے کی توقع نہیں ہے پھر بھی سبھی طبقوں کو تھوڑا خوش کرنے کی ضرور کوشش کی گئی ہے۔ اپنی چناوی مہم میں جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے غریب عوام کی اقتصادی ترقی پر سب سے زیادہ زور دیتے ہوئے بہت سے وعدے کئے تھے اس سے مانا جارہا تھا کہ مودی سرکار کے پہلے بجٹ میں ان وعدوں کو پورا کرنے کی کوئی تعمیری شکل دکھائی دے گی لیکن جیٹلی کے بجٹ میں غریب آدمی کے لئے کچھ نہیں کیا وہ تاکتا ہی رہ گیا۔ یہ سمجھنا کافی مشکل ہے دو وقت کی روٹی کیلئے سنگھرش کرنے والا خاندان ان کھاتوں سے کیا فائدہ ہوگا؟ انکم ٹیکس چھوٹ حد میں صرف پچاس ہزار کا اضافہ کی تعریف کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے بھاری بھرکم اکثریت سے آنے والی مودی سرکار کے پہلے بجٹ نے عام آدمی کی امیدوں پہاڑ کوہلاکر رکھ دیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ عام بجٹ میں تجویز اقدام اگلے تین چار سال میں50 سے80 لاکھ لوگوں کیلئے روزگار بڑھیں گے اور بنیادی ڈھانچہ، ٹرانسپورٹ بجلی کی پیداوار بڑھے گی۔ ا س حساب سے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ذریعہ پیش کردہ بجٹ میں ایک روپے کا حساب پچھلے سال کے بجٹ سے الگ ہے ۔ رواں بجٹ میں ایک روپے کا خرچ کا حساب کچھ برسوں میں سب سے زیادہ20 پیسہ سودکی ادائیگی پر خرچ کیا جائے گا۔ پچھلے سال یہ18 پیسہ تھا اس لحاظ سے دیش پر قرض کا بوجھ بڑھا ہے۔ مودی سرکار کی اس قرض کو کم کرنے کی چنوتی ہوگی۔ مگر مضبوط بھارت کی بنیاد رکھنے کے مقصد سے مودی سرکار نے اپنا پہلا بجٹ پیش کردیا ہے غریب اور عام آدمی کی جیب ڈھیلی نہ کرتے ہوئے طویل المدت حکمت عملی کے تحت متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشک مودی حکومت کا یہ پہلا بجٹ سوغاتوں کے ایک گلدستہ کی طرح ہے۔ حالانکہ یہ سوغاتیں کب تک حاصل ہوں گی۔ ہونگی بھی یا نہیں یہ تو وقت آنے پر پتہ چلے گا لیکن بجٹ میں کچھ اعلانات ایسے بھی ہیں جو کچھ برسوں کے بعد رنگ دکھانا شروع کریں گی بشرطیکہ ایمانداری سے عمل ہو جیسا کہ وزیر خزانہ نے خود ذکر کیا ان کی تجاویز کا اثر کچھ برسوں کے بعد دکھائی دے گا۔ اس سے کہا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار کا پہلا عام بجٹ ایک طویل المدت حکمت عملی کا حصہ ہے لہٰذا اس بجٹ سے خوشحالی کی امید کرنا بے معنی ہوگی۔ 
یہ عام بات ہے کہ بجٹ والے دن عام آدمی کی نظریں اس بات پر ٹکی ہوئی ہیں کونسی چیز سستی ہوئی کن چیزوں کے دام بڑھے ہیں ساتھ ہی ٹیکس میں کتنی چھوٹ ملی ہے۔ یہ خوشی کی بات یہ ہے کہ وزیرخزانہ نے دہلی والوں کا خیال رکھا ہے اس کو بجلی پانی میں سبسڈی دلانے کے لئے بجٹ میں700 کروڑ روپے رکھے ہیں۔ اس بجٹ سے صاف اشارہ ہے کہ مودی سرکار کی دہلی میں ضمنی چناؤ پر نظر ہے کیونکہ عام آدمی پارٹی کی سرکار نے بجلی کے دام آدھے کردئے تھے اور 700 لیٹر پانی مفت دیکر لوگوں کی واہ واہی لوٹی تھی اب اس کا فائدہ اسمبلی چناؤ میں اٹھا سکتی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے چناؤ میں مسلمانوں کے لئے ایک ہاتھ میں قرآن کے ساتھ دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر تعلیم کی بات کہی تھی ان کا اشارہ مدرسوں کی طرف تھا بجٹ میں انہوں نے مدرسوں میں جدید تعلیم اور بنکروں کی حالت سدھارنے کیلئے فنڈ رکھ کر ان کے لئے اچھے دنوں کی شروعات کردی ہے لیکن دیش کی مالی حالت بہتر بنانے کے لئے اس کو سخت فیصلے لینے ہوں گے اس لئے پیسہ کہاں سے آئے گا کیسے خرچ ہوگا اس پر کافی منتھن کیا گیا ہے کل ملاکر سوغاتوں کے ساتھ طول المدت حکمت عملی کا بجٹ مانا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2014

سب سے کم عمر کے بھاجپا صدر امت شاہ!

وزیر اعظم نریندر مودی کے سب سے بھروسے مند مشیر مانے جانے والے امت شاہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدربن گئے ہیں۔ پارٹی کی بڑی پالیسی ساز یونٹ بھاجپا پارلیمانی بورڈ کے ذریعے اتفاق رائے سے فیصلہ کئے جانے کے بعد موجودہ پردھان اور اب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے جہاں نریندر مودی کاسرکار اور بھاجپا تنظیم دونوں پر پوری طرح سے کنٹرول ہوگیا ہے کیونکہ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ امت شاہ مودی کے داہنے ہاتھ مانے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی یہ اتفاق ہی ہے کہ وزیر اعظم اور حکمراں پارٹی کے چیف دونوں کی ایک ریاست یعنی ’گجرات‘ سے آتے ہیں۔ حالانکہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے تین سال کی میعاد میں ابھی18 مہینے کا وقت باقی ہے لیکن شاید پارٹی نے ایک شخص ایک عہدے کے اصول پر پارٹی چیف کے اہم عہدے کی ذمہ داری امت شاہ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امت شاہ وہی حکمت عملی ساز ہیں جنہوں نے اترپردیش میں پارٹی کو چناوی انچارج کی شکل میں کامیابی کا نیا ریکارڈ اپنے نام درج کرایا۔ یہاں پر 80 میں سے پارٹی کو71 سیٹیں ملی ہیں جبکہ2 سیٹیں این ڈ ی اے کی ایک اور ساتھی پارٹی کو مل گئی ہیں۔ اس طرح73 سیٹوں کی شاندار کامیابی میں امت شاہ کے چناوی مینجمنٹ کابڑا کردار مانا جاتا ہے۔ بھاجپا یوپی میں پچھلے کئی سالوں سے جس طرح سے پارٹی کی حالت تیسرے اور چوتھے نمبر پر پہنچ گئی تھی ایسے میں اتنی بڑی کامیابی ملنا ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس بڑی کامیابی کے بعد ہی طے ہوگیا تھا کہ امت شاہ کا سیاسی قد بڑھ جائے گا۔ پہلے تذکرہ یہ تھا کہ مودی سرکار میں شاہ کو کوئی بڑی ذمہ داری دی جاسکتی ہے لیکن کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں وزیر نہیں بنایاگیا۔ قابل غور ہے کچھ فرضی مڈ بھیڑوں کے معاملوں میں شاہ کے خلاف مقدمے عدالتوں میں التوی میں ہیں۔ اس تکنیکی رکاوٹ کی وجہ سے انہیں سرکار میں حصے داری نہیں ملی۔ امت شاہ کے پارٹی پردھان بننے سے سرکار اور تنظیم کے درمیان تال میل اچھا رہے گا کیونکہ امت شاہ کو نریند ر مودی کا ہنومان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ امت شاہ کبھی بھی مودی کے قریب ہونے کا دم نہیں بھرتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کوتو مودی کا داہنا ہاتھ مانا جاتاہے تو انہوں نے مسکرا کرکہا آپ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں مودی جی کا نہ تو کوئی داہنا ہاتھ ہے اور نہ ہی بائیاں۔ وہ خود میں اتنے اہل ہیں کہ انہیں ایسی ذمہ داری کے لئے کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔ امت شاہ کے سامنے اگلے تین مہینوں میں تین ریاستوں کے اسمبلی چناؤ پہلی چنوتی ہوگی ریاست میں مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ شامل ہیں۔مہاراشٹر میں بی جے پی پچھلے 15 سال سے اقتدار سے باہر ہے تو ہریانہ میں ایک دہائی سے۔ اس کے علاوہ دہلی کو لیکرانہیں اہم فیصلے لینے ہیں۔ اگلے سال بہار میں ہونے والے شاہ کے سامنے بڑی چنوتی ثابت ہوسکتے ہیں۔ پارٹی میں شاہ کی آمد سے پہلے بھاجپا اور آر ایس ایس دونوں کے درمیان وسیع بحث چھڑی ہوئی تھی کہ کیا پارٹی کی پردھانی ایک گجراتی کودی جانی چاہئے جبکہ ایک دوسرا گجراتی شخص سرکار مکا مکھیا ہے ؟ شاہ کے حق میں فیصلہ آخراس بنیاد پر لیا گیا کہ مودی سے ان کی قربت کے چلتے سرکار اور پارٹی کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے بھگوا لہر کو مضبوطی ملے گی۔ حالانکہ چناؤ کمپین کے دوران اترپردیش میں مبینہ طور پر بھڑکیلی تقریریں کرنے کے لئے ملزم بنائے گئے شاہ کو ان کے نکتہ چینی کرنے اور بھاری پولارائزیشن والا شخص مانتے ہیں۔ سال1964ء میں ممبئی میں پیدا ہوئے امت شاہ نے بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے جڑ گئے اور 1983ء میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور 31 سال میں بھاجپا کے بڑے عہدے پر پہنچ گئے۔ امت شاہ کو ہم مبارکباد دیتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ وہ ان سب توقعات پر کھرا اتریں گے جن کے لئے مودی نے بڑا خطرہ مول لیا ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ امت شاہ کی تقرری پر بھاجپا کے اندر مخالف ضرور حملہ کریں گے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ:شرعی عدالت غیر قانونی

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صاف کردیا ہے کہ قران اور حدیث کی روشنی میں شرعی فیصلے سنانے والی شرعی عدالتیں اور ان کے احکاتما اور توؤں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ہندوستانی آئینی نظام میں ان عدالتوں اور فتوؤں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وکیل وشولوچن مدان نے9 سال پہلے 2005ء میں سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی داخل کرکے شرعی عدالتوں کے جواز کو چنوتی دی تھی۔ مدان نے ایسی عدالتی ختم کرنے وفتوؤں پر روک لگانے کی مانگ کی تھی۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ 25 فروری کو اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔اس کے بعداب پیر کے روز جسٹس چندرمولی کمار پرساد و جسٹس پناکھی چندر گھوش کی ڈویژن بنچ نے وکیل وشو لوچن مدان کی عرضی کا نپٹارہ کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ بنچ نے شرعی عدالت کی طرف سے ایسے شخص کے بارے میں فتوی جاری کرنے کو غلط ٹھہرایا جس نے اس کے پاس اپیل ہی نہ کی ہو۔ عدالت نے صاف کیا کہ بے گناہوں کو سزا دینے کے لئے فتوؤں کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت ہذا نے کہا کہ شرعی عدالتوں کو قانونی منظوری حاصل نہیں ہے ایسے میں ان کا فتوی کسی کے لئے ماننا مجبوری نہیں ہے۔ ایسے زبردستی نافذ کرانے پرسخت کارروائی کی جائے گی۔ فتوی صرف ایک رائے ہے عدالت ہذا نے کہا اس کاکوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ قاضی یا مفتی کو حق نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے نافذکرائے۔ایسا برطانوی عہدمیں ہوا کرتا تھا۔ وکیل وشو لوچن مدان کی عرضی کی سماعت کے دوران آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل نے کہا تھا کہ فتوی پر عمل کے لئے لوگوں کو مجبور نہیں کیا جاتا اور یہ مفتی کی ایک رائے ہوتی ہے۔ ان کے پاس اس فتوے کی تعمیل کروانے کے لئے کوئی حق ،اختیاریا اتھارٹی نہیں ہوتی۔ وہیں یوپی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا فتوی ایک مشورے کی طرح ہے اور اسے ماننا ضروری نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش کی طرف سے کہا گیا تھا کہ دارالاقضاء کے فتوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ عرضی گزار کی طرف سے دلیل دی گئی تھی کہ اس طرح کی عدالت (شرعی عدالتیں) کی قانونی حیثیت نہیں ہے اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو فتوے کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی عدالتیں دیش کے عدلیہ پروسس کے یکساں چلائی جاتی ہیں۔ اس دلیل کو عدالت نے نامنظور کردیا اور کہا کہ عرضی گزار کا یہ کہنا کہ دارالقضاء اور نظام قضاء برابر عدالتیں چلا رہی ہیں غلط تشریح ہے۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد مسلم سماج میں اس کو لیکربحث چھڑ گئی ہے۔مشہور ڈرامہ آرٹسٹ عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ کورٹ یہ پہلے بھی کہہ چکی ہے اس فیصلے سے کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ لوگ فیصلے کی مخالفت کریں گے کچھ حمایت۔ اسے سماج میں تبدیلی آنے تک روکا نہیں جاسکتا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر کمال فاروقی نے فیصلے کو پورے پس منظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ظاہر کی ہے اور کہا کہ اگر فیصلہ کسی کھاپ قانون پر دیا گیاہو تب وہ غلط ہے۔ ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کا آئینی حق ہے۔ یہ سوچنا کہ دارالقضاء اور دارالافتاہ غیر قانونی ہے یہ سوچنا پوری طرح سے غلط ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے وکیل شکیل احمد سید کا کہنا ہے کہ ہم کوئی برابر کی عدالت نہیں چلا رہے ہیں۔ دو لوگوں کے جھگڑے میں اگر کوئی تیسرا آتا ہے تو شرعی عدالت کو اس پر فیصلہ نہیں سنانا چاہئے۔فتحپور مسجدکے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم نے کہا ہمارا آئین سیکولرہے اور مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی شرح کے مطابق زندگی گزر بسر کریں۔ آئین کے مطابق کوئی بھی عدالت یا جماعت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ مسلم پیشوا خالد رشید فرنگی محلی کی رائے تھی کہ آئین انہیں پرسنل لاء بورڈ کے مطابق کام کرنے کا حق دیتا ہے۔ شخص کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ شریعت ایپلی کیشن ایکٹ 1937ء نے صاف طور پر کہا ہے کہ ان معاملوں میں جہاں دونوں فریق مسلمان ہوں معاملہ نکاح، طلاق یا دیگرامور سے وابستہ ہو تو مسلم پرسنل لاء کی دفعات کے مطابق فیصلے لئے جائیں گے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ ہم عدلیہ کے برابر کچھ بھی نہیں کررہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے قاضی کا کوئی بھی فتوی سبھی پر نافذ العمل ہے۔ سپریم کورٹ نے مظفر نگر کی عمرانہ معاملے کا بھی تذکرہ کیا جس میں سسر کے ذریعے عمران سے بدفعلی کرنے کے بعد اس سے شادی کرنے کوصحیح ٹھہرایاگیا تھا۔ کورٹ نے کہا کہ یہ فتوی ایک صحافی کی درخواست پر جاری کیا گیا جو معاملے سے پوری طرح اجنبی تھا۔ اس فتوے میں ایک متاثرہ کو ہی سزا مل گئی اسے برداشت نہیں کریں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بحث چھڑنا فطری ہے۔
(انل نریندر)

10 جولائی 2014

Daily Pratap Urdu Newspaper has invited you to like their Facebook Page

You shared your email with Daily Pratap Urdu Newspaper and they've sent you this invitation to like their page on Facebook Daily Pratap Urdu Newspaper
You shared your email with Daily Pratap Urdu Newspaper and they've sent you this invitation to like their page on Facebook
page_profile_pictureDaily Pratap Urdu Newspaper
 
 
Thanks,
The Facebook Team
This email was sent to advertisement2.urdu@blogger.com. If you do not want to receive these emails from Facebook in the future, please unsubscribe. Facebook, Inc., Attention: Department 415, PO Box 10005, Palo Alto, CA 94303

وزیر ریل کے حسین سپنے

نریندر مودی سرکار میں وزیر ریل سدا نند گوڑا نے لوک سبھا میں ریل بجٹ پیش کرتے ہوئے ریلوے میں نئی جان پھونکنے کا جو روڈ میپ پیش کیا ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلے کچھ برسوں میں کافی کچھ بدل جائے گا۔ دیش کے سب سے بڑے محکمہ ریلوے کے زیادہ تر چھوٹے بڑے کام نجی ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔
وزیر ریلوے سدا نند گوڑا نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ پچھلے ریل وزرا نے عوام سے واہ واہی لوٹنے کیلئے پیشہ ور نہیں بلکہ لوک پریہ فیصلے کئے۔ ریلوے سکیورٹی اور سہولت بڑھانے کے بجائے نئی ریل گاڑیوں کا اعلان کیا گیا لیکن ان گاڑیوں کو چلایا تک نہیں جاسکا۔ 
یہ صحیح ہے کہ جب نئی ریل گاڑیاں نہیں چل پاتیں تو لوگوں کا سرکار سے بھروسہ اٹھنے لگتا ہے اگر اس پس منظر میں دیکھا جائے تو نئی سرکار کا اعلان کچھ امیدیں جگاتا ہے اور امیدوں پر کھرا اترنے کے لئے مودی سرکار کے پاس بہت وقت ہے لیکن جیسے جیسے وقت گذرے گا اگر لوگوں کو سہولت نہیں ملیں گی جن کا اعلان کیا گیا ہے تو عام آدمی خود کو ٹھگاسا محسوس کرے گا عوام کانگریس حکومت کودیکھ چکی ہے اس سے عوام کا بھروسہ اٹھ گیا اس نے اسے سزا دیکر سرکار کی باگ ڈور نئے ہاتھوں میں سونپنے کا فیصلہ کیا ۔ اب ایسے میں ساری امیدیں نئی حکومت پر ٹکی ہیں اس لئے اس کو جلد سے جلد نتیجے سامنے لانے ہوں گے جس سے لگے کہ نئی حکومت اپنے وعدوں اور چیلنجوں سے لڑنے میں اہل ہے۔
نئے ریل بجٹ میں21 ویں صدی کی بنانے کا مودی کا ویژن این ڈی اے سرکار کی طرف سے پیش کردہ ریلوے بجٹ میں صاف نظر آیا۔ وزیر ریل کی طرف سے ریل بھاڑہ ۔ مسافر کرایہ بڑھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئیکہا کہ دوا شروع میں تو کڑوی لگتی ہے لیکن وہ بعد میں راحت دیتی ہے ایسا ہی کچھ کرایہ بڑھنے سے ہونے والی آمدنی کو ریلوے کی جدید کاری اور سہولتوں کو بڑھانے سے عام آدمی کو آرام دہ اور محفوظ سفر ملے گا تو وہ کڑوی سے کڑوی دوا پینے کو تیار ہوسکتے ہیں۔ 
اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ریل بجٹ میں منتری جی نے جو سمت دکھائی ہے لیکن وہ دور کی منزل ہے وہ بلیٹ ٹرین لائیں گے۔ ہائی اسپیڈ ٹرین چلے گی یہ سب کچھ کیسے ہوگا اس کے بارے میں انہوں نے کچھ تفصیل نہیں بتائی ۔ بلیٹ ٹرین لانے کی بات تو ہم پچھلے10 سال سے سن رہے ہیں۔ ریل بجٹ میں پیسہ کہاں سے آئے گا کس کام پر خچ ہوگا اس کا کوئی کھلے پن سے ذکر نہیں ہے۔
اس وقت خستہ حال ریلوے کی مالی حالت ٹھیک کرکے مصروف ترین روٹوں پر زیادہ سے زیادہ ٹرینیں چلائی جائیں تاکہ زیادہ آمدنی ہوسکے۔ اس بجٹ سے عام آدمی میں کوئی مثبت رد عمل سامنے نہیں آیا نام چارے کوریل بجٹ میں مسافر کرایہ نہ بڑھانے کا اعلان کردیا گیا کیونکہ سرکار پہلے ہی کرایوں میں 14.2 فیصد مال بھاڑہ میں6 فیصد اضافہ کرچکی ہے۔ ماہانہ۔ سیزن پاس کے دام ڈبل کردئے گئے۔ اس لئے اب کرایہ نہ بڑھانے کے اعلان بے معنی ہے بلکہ لوگوں کو بیوقوف بنانے والی بات ہوگی۔ اس لحاظ سے ریل بجٹ انقلابی نہیں جو اضافہ کرنا تھا وہ تو ہوگیا ۔ اب ریل بجٹ میں دکھائے گئے سپنے سپنے ہی بچے ہیں۔ سرکار کے سامنے ریلوے کی مالی حالت بہتر کرنے اور عام آدمی کو بہتر سہولیات اور ریلوے میں خامیوں کو دور کرنے کا بھی چیلنج ہے اب دیکھنا ہوگا کہ نئی سرکار لوگوں سے کئے گئے حسین سپنوں کو کیسے اور کتنے وقت میں پورا کرتی ہے۔
(انل نریندر)

بہتر سڑکیں اقتصادی خوشحالی کیلئے ضروری ہیں!

کسی بھی دیش کی اقتصادی خوشحالی کیلئے سڑکوں کا اچھا نیٹورک بہت ضروری ہوتا ہے۔ بہتر سڑکیں معیشت کو رفتار فراہم کرتی ہیں اور خوشحالی کا راستہ بھی ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مودی سرکار نے سڑکوں کی اہمیت سمجھی۔یوپی اے سرکار روزانہ 20 کلو میٹرسڑکیں بنانے کا وعدہ پورا نہیں کرسکی لیکن مودی سرکار روزانہ30 کلو میٹر سڑکیں بنا کر دکھائے گی۔ سڑک ،ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ وزیر نتن گڈکری نے دو سال میں اس دعوے کو حقیقت میں بدلنے کا دعوی کیا ہے۔ اسے پورا کرنے کیلئے تین مہینے کے اندر60 ہزار کروڑ روپے کی اٹکے قومی شاہراہ پروجیکٹوں پر کام شروع کردیا جائے گا۔ نارتھ اور مشرق کی پہاڑی ریاستوں میں سڑک ڈولپمنٹ پر خاص زور رہے گا۔ اس کے لئے پیکیج کے ساتھ وقت حد طے کردی گئی ہے۔ اب تک کا تجربہ اچھا نہیں ہے۔ خراب پلاننگ ، اہم ڈیزائن اور گھٹیا انجینئرنگ کے سبب بھارت میں خراب سڑکوں کی تعمیر ہوتی ہے۔ قومی شاہراہ ترقی پروجیکٹ کے تحت بنی سڑکیں بھی اس سے اچھوتی نہیں ہیں۔ بھلے ہی عام سڑکوں سے بہتر ہوں مگر بین الاقوامی پیمانوں کے حساب سے کہیں نہیں ٹھہرتیں۔ ساری توجہ خانہ پوری کے ذریعے پیسہ بنانے یا بچانے پر مرکوز ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو مفصل پروجیکٹ رپورٹ( ڈی پی آر) ہی ٹھیک سے تیار نہیں کی جاتی۔ اس میں ایسے نقطے چھوڑدئے جاتے ہیں جن کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ٹنڈر بھرتے وقت کمپنیاں بھی اس طرف توجہ نہیں دیتیں۔ وہ آنکھیں بند کرکے سب شرطیں قبول کرلیتی ہیں۔ سب سے کم بولی (ایل ایل ) بھی قصور وار ہے۔ اس میں کوالٹی بڑھانے کے بجائے خرچ گھٹانے پر زور رہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سڑکیں بنانے میں کمتر سامان خاص کر گھٹیا بٹمن کا استعمال عام بات ہے۔ مٹی اور گٹی کے بھراؤ اور پانی کے چھڑکنے میں بھی کوتاہی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یوپی اے سرکار اپنے وعدے پورے کرنے پر کم سنجیدہ نہیں ہوئی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے خود کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کئی بات یہ بات کہتے سنے گئے کہ سڑکوں پرتو امیر لوگوں کی گاڑیاں دوڑتیں ہیں، سڑک پروجیکٹوں کی بہ نسبت دوررس نتائج سامنے آنے ہی تھے اور وہ آئے گی۔ یہ اچھی بات ہے کہ اٹکے پڑے 285 سڑک پروجیکٹوں میں سے50 کے جائزے کے بعد یہ پایا گیا کہ ان پر تین مہینے کے اندر کام شروع ہوسکتا ہے لیکن بات تب بنے گی جب ایسا ہوتے دکھائی دے گا۔ نتن گڈکری نے اٹکے پروجیکٹوں کو رفتار دینے کا بھروسہ دلانے کے بعد یہ بھی صاف کیا ہے کہ اب نہ تو پیڑ کاٹے جائیں گے اور نہ ہی ندیوں کے کنارے سڑکیں بنیں گی۔ یہ بھی ضروری ہے سڑک پروجیکٹوں کے سامنے بھی رکاوٹیں ہیں انہیں آناً فاناً میں دور کرنے کے لئے ریاستوں کو بھی بھروسے میں لیا جائے کیونکہ ایک بڑی تعداد میں پروجیکٹ اس لئے بھی آگے نہیں بڑھ پا رہے ہیں کیونکہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان تال میل نہیں بن پارہا ہے۔ سڑکوں کا رکھ رکھاؤ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا بنانا۔ نتن گڈکری اپنے وعدے پر کتنا کھرا اترتے ہیں وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2014

ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جائے رنگا راجن کمیٹی کی بیہودہ رپورٹ!

سابقہ یوپی اے سرکار کی فضیحت کرانے والا غریبی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ اس مرتبہ رنگا راجن کمیٹی کی رپورٹ میں آیا ہے کہ2011-12ء میں دیش میں 36.3 کروڑ غریب تھے۔ بھارت میں غریبی کے تجزیہ ہمیشہ تنازغے کا موضوع رہا ہے۔ جائزے کا طریقہ اور نتائج پر بہت سے ماہر اقتصادیات بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ خط افلاس کی نئی پہچان کو لیکر آنے والی اس رنگا راجن رپورٹ میں کئی ایسے مسئلے اٹھائے ہیں جن پر فکرمند ہونا فطری ہے۔ غریبی ناپنے کے اس نئے پیمانے پر رنگا راجن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شہروں میں روزانہ 47 روپے اور گاؤں میں 32 روپے سے کم خرچ کرنے والوں کو غریب مانا جائے۔ اس سے پہلے سریش تندولکر کمیٹی نے غریبوں کا پیمانہ شہروں میں 33 روپے اور دیہات میں27 روپے طے کیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد دیش میں غریبوں کی تعداد بڑھ کر36.3 کروڑ یعنی کل آبادی کا 29.3 فیصدی ہوگئی ہے جبکہ سریش تندولکر کمیٹی میںیہ تعداد 26.98 کروڑ روپے یعنی 21.9 فیصدی تھی۔ غور طلب ہے کہ ستمبر 2011ء میں یوپی اے سرکار نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ شہروں میں یومیہ 35 اور دیہات میں 27 روپے سے زیادہ خرچ کرنے والے کو مرکز اور ریاستی سرکار وں کی طرف سے غریبوں کے لئے چلائی جارہی اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر سی رنگا راجن کو خط افلاس کے تعین کی ذمہ داری سابق منموہن سنگھ سرکار کے زمانے میں دی گئی تھی جبکہ ان کی رپورٹ نریندر مودی سرکار کے زمانے میں ٹھیک بجٹ سے پہلے آئی ہے۔ عام بجٹ سے پہلے آئی اس سفارش نے مودی سرکار کے سامنے ایک مشکل چیلنج کھڑا کردیا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ وہ بجٹ میں اس سے کیسے نمٹتی ہے۔ غریبی کے پیمانے طے کرنے کے طریقے کو لیکر کبھی عام رائے نہیں بن پائی اور ہمیشہ بحث چلتی رہی۔ ورلڈ بینک نے 2008ء میں سوا ڈالر کی ایک گلوبل پاورٹی لائن طے کی تھی۔ اس بنیادپر بھارت میں غریبی کا پیمانہ75 روپے کے آس پاس ہونا چاہئے۔کئی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں خوردہ مہنگائی شرح 9 فیصدی کے قریب ہو وہاں ایک مہینے میں 14 روپے سے کچھ زیادہ خرچ کرنے والے کو خوشحال کیسے مانا جاسکتا ہے؟ عام تصور یہ ہے کہ سرکار ہمیشہ خط افلاس کی زندگی سے نیچے رکھنا چاہتی ہے تاکہ رعایتی اسکیموں کے دائرے میں کم لوگ آئیں اور اس پر کم بوجھ پڑے۔ حالانکہ اس رپورٹ کی ایک کڑوی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آزادی کے قریب70 برسوں کے بعد آج بھی ہر تین شہریوں میں سے ایک غریبی کی مار جھیلنے کیلئے مجبور ہے۔ ہمیں پتہ نہیں کہ یہ افسر شاہ کبھی بھی اپنے ایئر کنڈیشن کمروں سے نکل کر عام آدمی کی حالت کو دیکھتے ہوں۔ آج مہنگائی سے سبھی پریشان ہیں روز مرہ کا 100 روپے کمانے والے آدمی کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ جہاں دودھ 50 روپے لیٹر ہو وہاں 47 روپے کانمبر افسوسناک نہیں ہے تو کیا؟ آج کسانوں ،بنکروں، قرض میں دبے دیگر لوگوں کے خودکشی کرنے کی خبریں اور چوطرفہ بے روزگاروں کی بڑھتی قطار سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دیش کے زیادہ تر لوگ کس حالت میں جینے کو مجبور ہیں۔ مسلسل مہنگائی کی مار انہیں اور بھی بے حال کررہی ہے۔ غریبی کے تجزیئے میں اب بھی بہت سے ضروری خرچے نہیں جوڑے جاتے۔ علاج اور تعلیم پر آنے والا خرچ بہت سے لوگوں کو قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر اس طرح کی مد بھی شامل کئے جائیں تو کیسی تصویر ابھرے گی؟ کیونکہ اس رپورٹ کی بنیاد خاص کر شخص کی خرید وسعت پر منحصر ہوتا ہے اس لئے مہنگائی اور افراط شر غریبوں کی تعداد بڑھانے میں سب سے اثردار ہوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مہنگائی کے خلاف جنگی سطح پر کارروائی کا ارادہ بنایا ہے اور جمع خوروں اور خالی بازی پر سخت قانون بنانے کی بات کی ہے۔ لیکن اس کا کتنا اثر پڑتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مانسون کا روٹھنا بھی آخر غریبوں کے پیٹ پر اثر ڈالتا دکھائی دے گا کیونکہ ایک کمزور طبقے کی بڑی آبادی زرعی سیکٹر پر منحصر رہتی ہے۔ رہی بات اس رنگاراجن رپورٹ کی تو مودی سرکار بہتر ہو کہ اسے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈال کر بنیادی اعدادو شمار کا نئے سرے سے تجزیہ کرے۔
(انل نریندر)

عدلیہ اور سرکار کے دائرۂ اختیارات کا مسئلہ!

سابق سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم کی سپریم کورٹ میں بطور جج تقرری کے معاملے میں مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں ایک طرح سے ٹکراؤ کاماحول بنا ہوا ہے اس سے بچنا چاہئے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کے دائرہ اختیار کو لیکر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بیچ میں گوپال سبرامنیم کی بطور سپریم کورٹ جج کی تقرری۔ دراصل سپریم کورٹ کے چار ججوں کی تقرری کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی والی منڈل (کولیجیم)نے کولکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ارون مکشا اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آدرش کمارگوئل ،سینئر وکیل روہنٹن نریمن اور گوپال سبرامنیم کے نام سرکار کے پاس بھیجے تھے۔ سبرامنیم کو چھوڑ کر سرکار نے باقی تین ناموں پر اپنی مہر لگادی ہے۔ لیکن گوپال سبرامنیم کے نام پر مرکزی سرکار نے اعتراض جتایا ہے اور دوبارہ سے نظرثانی کے لئے اسے کولیجیم کے پاس بھیج دیا ہے۔ سرکار کے رسمی فیصلے کے پہلے ہی میڈیا نے اس بارے میں خبریں عام ہوگئی تھیں کہ مودی سرکار نہیں چاہتی ہے کہ سبرامنیم کی تقرری سپریم کورٹ کے جج کی شکل میں ہو اس لئے حکومت نے کولیجیم کے ذریعے بھیجے گئے چار ناموں میں سے تین پر اپنی تصدیق کردی لیکن سبرامنیم کے نام کو روک لیا۔ چیف جسٹس آر ایم لوڈھا اس وقت بیرون ملک تھے وطن لوٹتے ہوئے وکیلوں کے ایک پروگرام میں سابق چیف جسٹس نے اسے اس معاملے میں سرکار کے رویئے کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کردی تھی۔ انہوں نے اس بات پر خاصی حیرانی جتائے کے سرکار نے اس معاملے میں ان سے مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔فیصلہ اتنی جلد بازی میں کیا گیا کہ ان کے وطن لوٹنے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ اس سے وہ بہت خفا ہیں جبکہ طے قواعد کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے چیف جسٹس کی سربراہی والی کولیجیم کا ہی فیصلہ آخری ہوتا ہے لیکن حکومت نے اس کی مریادہ نہیں رکھی انہوں نے سرکار کو آگاہ کیا کہ اگر عدلیہ کی آزادی سے کھلواڑ ہوا تو سب سے پہلے میں کرسی چھوڑوں گا۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد سنگھ نے چیف جسٹس لوڈھا کی رائے زنی پر سیدھے طور پر تو کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن اتنا ضرور کہا کہ سرکار نے صرف آئین کے ذریعے ملے اختیارات کا استعمال کیا ہے اور طے قواعد کے مطابق سرکار کسی مسئلے پر نظرثانی کیلئے کوئی معاملہ صرف ایک بار کولیجیم کے پاس بھیج سکتی ہے۔شری پرساد نے کہا کہ سرکار کے پاس یہ اختیار ہے کہ اس بارے میں اس کی رائے لی جائے۔ سرکار کے من میں عدلیہ،سپریم کورٹ اور بھارت کے چیف جسٹس کے لئے سب سے زیادہ احترام ہے۔ پرساد نے کہا میں دوہرانا چاہتاہوں کہ نریندر مودی سرکار عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور سرکار عدلیہ کی آزادی کی حمایتی ہے۔ صاف ہے سرکار اس معاملے کو اس طرح رکھنے کی کوشش کررہی ہے کہ یہاں کسی کے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی نہ ہو لیکن یہاں سوال کسی دائرہ اختیار کا نہیں بلکہ ضمیر کے استعمال کا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ججوں کی تقرری کے عمل میں سرکار کی بھی رائے اہم ہوتی ہے۔ کسی خاص معاملے میں اس کے اعتراض کے بعد عام طور پر اسے لسٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے لیکن جو مقرر قواعد ہیں کے مطابق سرکار ایسا کرنے سے پہلے عدلیہ کو بھروسے میں لیتی ہے۔ موجودہ معاملے میں تو اس خیر سگالی پر تعمیل نہیں ہوئی۔ دوسرے گوپال سبرامنیم کو لیکر مودی سرکار کا پہلے ہی نظریہ مختلف تھا کہ اس کے فیصلے کوقبل از وقت مانا جاسکتا ہے۔ گوپال سبرامنیم کے تئیں مودی سرکار کی رائے گجرات کے ایک فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں بطورمخالف وکیل ان کے رول کو لیکر بنی تھی۔ ان کی کوششوں سے ہی گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ اور اس وقت کے گجرات سرکارکو ناگزیں حالات سے گزرنا پڑاتھا۔ مودی سرکار کے پاس گوپال سبرامنیم کے خلاف خفیہ جانچ پر مبنی کوئی سنسنی خیز اطلاع تھی تو کم سے کم اسے چیف جسٹس کے ساتھ ضرور شیئرکرنا چاہئے تھا۔ حالانکہ اس معاملے میں گوپال سبرامنیم نے بھی جلد بازی کی۔ انہیں جسٹس لودھا کے وطن لوٹنے کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ میڈیا میں جانے کی اتنی جلدی نہیں دکھانی چاہئے تھی۔ بہرحال سبھی فریقین کی رائے جاننے کے بعد اس معاملے کو ختم مانا جانا چاہئے۔ ہم بس اتنا کہیں گے کہ مودی سرکار کو تھوڑی ذمہ داری سے کام لینا چاہئے تھا۔ ایسے چھوٹے موٹے قصوں سے ہی سرکار کی ساکھ بنتی اور بگرتی ہے اور عدلیہ کی آ زادی اور دائرہ اختیار سے کسی طرح کے تنازعے سے بچنا چاہئے۔
(انل نریندر)

08 جولائی 2014

بجٹ سیشن ٹھیک ٹھاک چلانا سرکار کیلئے بڑی چنوتی!

سارے دیش کی نظریں پیر سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس پر لگی ہوئی ہیں ایک ماہ سے زیادہ چلنے والے اس سیشن میں دونوں ریل بجٹ اور 2014-15 کے لئے عام بجٹ پیش کئے جانا ہے دیش کو اس اجلاس کاانتظار کئی وجہوں سے ہے یہ نریندر مودی کی سرکار کا پہلا بجٹ اور سالانہ عام بجٹ ہوگا ایک ماہ پرانی مودی سرکار کو اپوزیشن مہنگائی اشو سے لے کر اور لیڈر اپوزیشن جیسے اشو کو اٹھنے کاامکان ہے۔ اپوزیشن مودی سرکار کو مہنگائی کے اشو پر جارحانہ تیور اپنانے کی تیاری میں ہے کانگریس بھاجپا کو گھیرنے کے لئے مہنگائی کو سب سے بڑا اشو مان رہی ہے کانگریس میں تو یہاں تک تذکرہ ہے کہ اگر اسے اپوزیشن کے لیڈر کادرجہ لوک سبھا میں نہیں ملتا تو پارٹی مہنگائی کے اشو پر اپنے سخت تیور اپنا سکتی ہے یہ صحیح ہے کہ حال ہی میں کچھ غذائی اجناس کے دام بڑھے ہے لیکن اس کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ اپنی سطحوں پر قیمتوں پر لگام لگانے کے لئے ہرسطح پر ہرممکن کوشش میں لگی ہے۔ اسی طرح یہ بھی کم اہم نہیں کہ پارلیمنٹ ٹھیک ٹھاک چلے۔ اس کو چلانے کے لئے لوک سبھا اسپیکر محترمہ سمترامہاجن نے کل جماعتی میٹنگ بلائی تھی اس میں اپوزیشن پارٹیوں نے جو بھی اشو اٹھائے اس پر خاص طور پر مہنگائی کااشو تھا حکومت اس پر بحث کرانے کے لئے تیار دکھائی پڑتی ہے بدلتے سیاسی ماحول میں پارلیمنٹ میں نئے تجزیہ بھی نظر آئیں گے۔ مثال کے طور پر کانگریس اور لیفٹ پارٹیاں جنتا دل یو اور آر جے ڈی کئی اشو پر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ مہنگائی پر کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں نے مودی سرکار کو گھیرنے کے لئے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں دونوں نے ہاتھ ملایا ہے دونوں نے ایک آواز میں منریگا غذائی سیکورٹی بل اور آراضی تحویل بل پر مودی سرکار کے رویہ پر سخت مذمت کی ہے کانگریس سیکریٹری جنرل شکیل احمد نے کہا ہے کہ لوگوں کو اچھے دن کا خواب دکھانے والی مانتی ہے کہ لوگوں کو کھانے پینے کے بجائے بہتر ہونے کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے ان کا کہناہے کہ منریگا سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملا ہے مگر مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ اس پر زیادہ خرچ ہونے کی وجہ سے دیش میں ضروری اشیاء کے دام بڑھ رہے ہیں۔ مودی سرکار کے سامنے اپنے پہلے بجٹ سیشن کو ٹھیک ٹھاک اور پرامن طریقے سے چلانے کا چیلنج ہے مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں جب اقتدار میں ہوتی ہے تو تب ان کا برتاؤ کچھ اور ہوتا ہے اور جب اپوزیشن میں ہوتی ہے ان کا برتاؤ بالکل بدل جاتا ہے کبھی کبھی الٹا بھی ہوجاتا ہے ریل کرایہ کے اضافے پر بھی سرکار کو گھیرا جائے گا کم تعداد ہونے کے سبب کانگریس پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر سرکار کو چنوتی دے گی۔ دیش کو مودی سرکار کے پہلے بجٹ سے بہت امیدیں ہے انتہائی خراب معیشت نئے سرے سے رفتار دینے کی سخت ضرورت ہے اس لئے بھی تین دہائی بعد اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی حکمراں اور حاشیہ پر لگی اپوزیشن کے درمیان کیسا تال میل دیکھنے کو ملتا ہے اس پر بھی بہت کچھ منحصر کرے گا حکومت نے کہا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلناچاہتی ہے لیکن اپوزیشن کے تیور اور یہ اشارہ دے رہے ہیں دیکھیں یہ پارلیمنٹ سیشن کیسا چلتا ہے؟

 (انل نریندر)

بھارتیہ ریل کا شاندار کارنامہ جے ماتا دی!

پچھلے ہفتے بھارتیہ ریل نے دوکارنامے اپنے نام کئے ہے پہلا برسوں سے فائلوں میں اٹکا اہم ترین بلٹ ٹرین پروجیکٹ کو زمین پر اتارنا وہی دوسری طرف دہائیوں سے یقین دہانیوں اور وعدوں میں چل رہی ہے جموں کٹرہ ریل پروجیکٹ کو پورا کرکے کشمیر کے عوام کے علاوہ دیش دنیا سے آنے والے ماں وشنو دیوی کے کروڑوں بھکتوں کی تمناؤں کو پورا کرکے تحفہ دینا وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کی صبح اہم ترین کٹرہ ادھم پور ریل لائن کاافتتاح کیا وشنو دیوی تیرتھ استھل کی بنیاد شیور کٹرہ سے نئی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے وزیراعظم نے اس ٹرین کا نام شری شکتی ایکسپریس رکھنے کی تجویز بھی رکھی۔ مودی نے ٹرین روانہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ماتا وشنو دیوی کے کروڑوں بھکتوں کو مبارک باد دیتا ہوں وہ لوگ جو دیش بھر سے یہاں تیرتھ یاترا کے لئے آنا چاہتے ہیں۔ اب ان کے لئے یہ سفر آسان ہوجائیگا۔ یہ نیا ریل لنگ جموں کشمیر میں ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا۔ مودی نے اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے شروع کردہ یہ یاترا جاری رہے گی ہماری ترجیح ترقی کے ذریعے اس ریاست کے ہرشہری کا دل جیتنا ہے 132.75 کلو میٹر لمبی ا ودھم پور کٹرہ لائن کا فی طویل انتظار کے بعد شروع ہوئی۔ یہ لائن (25کلومیٹر) میں ساتھ سرنگوں اور تیس سے زیادہ چھوٹے بڑے پل بنے ہے 53کلو میٹر لمبی اودھم پور ریلوے لائن پہلے ہی چالو ہوچکی ہے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کٹرہ سے اودھم پور ہری جھنڈی دکھانے کے ساتھ وشنو دیوی کے بھکتوں کا ماں کے دربار میں ٹرین سے پہنچنے کا برسوں پرانا خواب پورا ہوگیا ہے۔ کروڑوں تیرتھ یاتری اب کسی بھی دیش کے کونے سے اب سیدھے کٹرہ پہنچ سکتے ہیں ۔ کٹرہ ریلوے اسٹیشن میں چار نئے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں جہاں 26بوگیوں کی ٹرین کھڑی ہوسکتی ہے۔ 8 ریٹائرین روم ہے پوری طرح سے ائر کنڈیشن ہوٹل اور شاپنگ لانچ کا انتظام ہے تین جوڑی ٹرینیں جموں توی اور کٹر ہ کے درمیان چلے گی۔1898میں مہارانا پرتاپ سنگھ نے پہلی بار سری نگر کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کا خواب دیکھا تھا 1905میں برطانیہ نے راولپنڈی کے راستے سری نگر کو جوڑنے کی اسکیم بنائی تھی 2002میں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے جموں اودھم پور لائن کو منظوری دی تھی اور قومی پروجیکٹ قرار دیا تھا 2010 تک جموں سری نگر ریل پروجیکٹ کو پورا کرنے کا نشانہ ہے دہلی آگرہ ے درمیان بلٹ ٹرین کا کامیاب تجربہ بھی ٹورزم ترقی کے نکتہ نظر سے قابل قدر ہے تاج محل دنیا میں سیاحوں کے نظریہ سے تیسرا سب سے بڑا پسندیدہ مقام ہے اور اترپردیش جیسی ریاست کی 25% سیاحت سے آمدنی میں صرف تاج کے چلتے آگرہ سے آتی ہے ایسی سہولت سے آراستہ ٹرینوں سے ملکی اور غیرملکی سیاحوں کا اثر بڑھے گا ہم ہندوستانی ریل کو ان دونوں شاندار کارناموں پر مبارک باد دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے افتتاحی تقریب میں کہا ہے کہ ترقی کا مطلب دور سے دور بیٹھے آخری آدمی تک روشنی کافروغ ہے اور یہی مقصد دراصل ریلوے کا بھی ہوناچاہئے۔

 (انل نریندر)

06 جولائی 2014

دہلی میں بھاجپا کا تیزی سے گرتا گراف!

راجدھانی دہلی میں بھاجپا نیتا و کاریہ کرتاجنتا سے آج کل نظریں بچائے گھوم رہے ہیں۔ریل کرائے میں بے موسم کئے گئے اضافے اور غذائی اشیاء کی بڑھی قیمتوں پر جنتا کا جواب کسی بھی بھاجپائی کے پاس نہیں ہے۔ صرف سوا مہینے پہلے جن نیتاؤں سے ملنے کی لوگوں میں دلچسپی تھی مودی سرکار میں بڑھی مہنگائی نے نکتہ چینی کا کردار بنا دیا ہے۔یہ اس دہلی کا حال ہے جہاں پر بھاجپا ساتوں کی سات لوک سبھا سیٹیں جیتی تھی۔ لوک سبھا چناؤپرچار کے دوران بھاجپا کے اسٹار پرچارک نریندر مودی کے ذریعے بار بار یہ دوہرانا کہ ’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ آج کل اس جملے کا مخالف زبردست پرچار کررہے ہیں۔ کل ملاکر یہ جملہ لگاتار بھاجپا پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اگر بھاجپا حکمت عملی سازوں نے اس کی کاٹ نہیں ڈھونڈی تو لوگوں کے اچھے دن آئیں یا نہیں آئیں لیکن آنے والے مہینوں میں اسمبلی چناؤ کے دوران شاید بھاجپا کے اچھے دن پلٹ جائیں۔حال میں سب سے زیادہ ووٹ پانے کے بعد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری بھاجپا کے ممبران اسمبلی کو فوری چناؤ میں اترنا پڑے تو ان کے ہاتھ سے کرسی کھس سکتی ہے۔ کیندر میں سرکار بننے کے بعد بھی دہلی میں سرکار بنانے کے معاملے میں اب تک سیاسی دلوں نے پتتے نہیں کھولے ہیں لیکن حال میں آئے ایک سروے میں بھاجپا کی حالت دہلی میں پتلی ہوئی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ہر اسمبلی کے حساب سے حال ہی میں قریب40 ہزار لوگوں پر سروے کیا گیا ہے اس میں بھاجپا کا گراف ایک دم نیچے گرا ہے۔اس کی بڑی وجہ صارفین کو ملنے والی بجلی چھوٹ کا ختم ہونا، مہنگائی بڑھنا،ڈیزل پیٹرول کی قیمتیں بڑھنا اور ریلوے میں ہوئے اضافے شامل ہیں۔ اگر اس حالت میں بھاجپا کو چناؤ میں جانا پڑتا ہے تو اس کا سیدھا فائدہ عام آدمی پارٹی کو ملے گا کیونکہ کانگریس کو بھی مہنگائی کی وجہ سے ہی اقتدار گنوانا پڑا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھاجپاممبر اسمبلی نہیں چاہتے ہیں کہ جلد اسمبلی چناؤ ہوں۔جنتا میں اس بات کا بھی غصہ پھیل رہا ہے کہ لوک سبھا چناؤ سے پہلے مہنگائی کولیکر یوپی اے سرکارکی دلیلوں کی کھلی اڑانے والی بھاجپا سرکار بھی انہیں دلیلوں کو دوہرا رہی ہے۔ مہنگائی روکنے کے اپائے تلاشنے کے لئے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جارہی۔ جمع خوری، مانسون کی کمی وغیرہ وہی دلیلیں دی جارہی ہیں جو منموہن سرکار دیتی تھی۔ سیاسی حالات کو بھانپتے ہوئے اروند کیجریوال ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔
لوک سبھا چناؤ میں اپنی سیاسی چمک دکھانے میں ناکام ثابت ہوئے ریاست کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال دہلی میں اپنی کھوئی طاقت کو واپس پانے کی کوشش میں مستعدی سے جٹ گئے ہیں۔ وہ راشٹرپتی، لیفٹیننٹ گورنر سے مل کر جلد سے جلد اسمبلی چناؤ کروانے کی مانگ کررہے ہیں۔ راشٹرپتی پرنب مکھرجی سے جمعرات کو کی گئی ملاقات بھی ان کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ پہلے سرکار بنانے کی پہل کرنے والی عام آدمی پارٹی اب چناؤ کیوں کرانا چاہتی ہے؟ سیاسی گلیارے میں چرچا یہ ہورہی ہے کہ اگر بھاجپا شاست مرکزی سرکار نے عام چناؤ کے فوراً بعد دہلی کی ودھان سبھا بھنگ کر چناؤ کرانے کا اعلان کردیا ہوتا تو اس کا زبردست فائدہ ملتا لیکن دہلی کے سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ گرمی کے مہینے میں بجلی، پانی کی زبردست قلت کے بعد اب شہر میں مہنگائی کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پیٹرول ، ڈیزل اور گیس سیلنڈر کی مہنگائی کے علاوہ آلو ،پیاز جیسی کھانے پینے کے سامان کی قیمت بھی سرکار کے لئے مصیبت بن رہی ہے۔ کل ملا کر دھیرے دھیرے ایسا ماحول بن رہا ہے جو بھاجپا کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی پانی کو لیکر کانگریس نے شہر میں بھلے ہی دھرنا پردرشن کر سیاسی ماحول کر گرمایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہلی والوں نے کچھ ہی مہینے پہلے اسی مہنگائی ، بجلی ، پانی کی قلت و گھوٹالوں کولیکر کانگریس کو نکارا ہے۔ پہلے اسمبلی میں اور پھر لوک سبھا چناؤمیں۔ ایسے میں موجودہ سیاسی حالات کا فائدہ کانگریس کو ملنے کی امید نہیں دکھتی۔چرچہ اس بات کی ہورہی ہے کہ اگر مرکزی و دہلی سرکار کہ آئندہ بجٹ سے دہلی کے لوگوں کو کچھ ٹھوس حاصل نہیں ہوا تو کیجریوال اور ان کی ’آپ‘ پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ اروند کیجریوال عام چناؤ کی بات کرنے لگے ہیں۔
(انل نریندر)

جہیزہراسانی قانون کا غلط استعمال روکنے کیلئے حوصلہ افزا پہل!

سپریم کورٹ نے عام شہری کی دکھتی رگ کو پکڑا ہے۔ جہیز جیسی لعنت کو روکنے کے لئے بنایاگیا قانون کیسے کئی بار معصوموں کو ہراساں کرنے کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس پر عدالت کی نظر گئی ہے۔ جہیز مخالف قانون ان چنندہ قانونوں میں سے ایک ہے جس کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیکر اس اہم قانونی کمی کو ہی دورکیا ہے۔ اس میں کئی دورائے نہیں کہ جہیز کا معاملہ بیحد حساس ہے اورجہیز کیلئے ہراساں کرنیاور پریشان کرنے سے متعلق اور غیر ضمانتی قانون کے باوجود ایسے معاملے کم نہیں ہورہے ہیں لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی گمبھیر ہے کہ اس کی آڑ میں اکثر پتی اور سسرال والوں کو جبراً پھنسادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے برسوں برس انہیں جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ حقیقت میں جہیز مخالف اس قانون کے غلط استعمال کا حال یہ ہے کہ پولیس 93 فیصد معاملوں میں توچارج شیٹ کر پاتی ہے لیکن صرف15 فیصد معاملوں میں ہی سزا ہوپاتی ہے اور باقی معاملوں میں ملزم بری ہوجاتے ہیں۔انڈین پینل کورٹ کی دفعہ498A میں درج اس قانون کی گنجائشات اتنی کڑی ہیں کہ ذکر آتے ہی متاثرہ لوگوں کی روح کانپ جاتی ہے۔اس میں رپورٹ درج ہوتے ہی پتی اور اس کے خاندان کی گرفتاری کی گنجائش ہے۔ایسے معاملوں میں ضمانت کا طریقہ بھی بیحد مشکل اورسخت ہے۔ قانون کو اتنا سخت بنانے کا مقصد جہیز جیسی لعنت کو مٹانا اور اس کی خاطر ہونے والے قتل جیسے سنگین جرم پر روک لگانا تھا۔نئی شادی شدہ خواتین کو اس ظلم سے راحت ملنا سوبھاوک تھا لیکن زیادہ تر معاملوں میں یہ دیکھا گیا کہ خودغرض عناصر نے اسے ہی ظلم کا اوزار بنا لیا۔ معمولی گھریلو جھگڑوں سے لیکر دیگر چھوٹی بڑی وجوہات سے اس کے غلط استعمال کے قصے سامنے آنے لگے اور متاثرہ پریوار کی عورتوں اور بچیاں تک اس کا شکار ہوکر جیل میں سالوں رہنے پر مجبور ہوئے۔ سپریم کورٹ کی دو ممبری بینچ نے اس قانون کے غلط استعمال پر فکر کرتے ہوئے سبھی ریاستی سرکاروں کو ہدایت دی ہے کہ ایسے معاملوں میں پولیس انڈین پینل کورٹ کی دفعہ298A کے تحت گرفتاری سے پہلے حقائق اچھی طرح جان لے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جہیز ہتیا کے معاملے میں کسی شخص پر مقدمہ چلانے کے لئے اسے اس وقت تک رشتہ دار نہیں مانا جاسکتا جب تک کہ شوہر سے اس کاخونی ؍شادی یا گود لئے جانے کا رشتہ نہیں ہو۔ بدھوار کو جسٹس چندر مولی کے پرساد و جسٹس پی۔ سی۔ گھوش کی بنچ نے کہا کہ ناراض بیویوں کے ذریعے شوہر اور سسرال کے لوگوں کے خلاف جہیز مخالف قانون کے غلط استعمال پر فکر جتاتے ہوئے کہا کہ پولیس ایسے معاملوں میںیکدم ملزمین کو گرفتار نہیں کرسکتی۔ پولیس کو ایسا کرنے کیلئے وجہ بتانی ہوگی جس کی قانونی جانچ کی جائے گی۔ اس کیلئے سبھی ریاستی سرکاروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جہیز مخالف سمیت 7 سال کی سزا والے سبھی جرم میں گرفتاری کا سہارا نہ لیا جائے۔ جہیز اگر ایک سماجی برائی ہے تو بدلتے سماج کی سچائیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ سماجک دباؤ رہن سہن کے طریقوں میں بدلاؤ اور مالی طور پر بہتر ہونے کی چاہت نے میاں بیوی کے رشتوں کو بھی بدلہ ہے جس کا نتیجہ جہیز کے جھوٹے معاملوں کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہمت والا تو ہے ہی لیکن اس نے ایک بڑی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 8 ہزار اموات ہر سال جہیز ہراسانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہیز کے خلاف لڑائی صرف قانون سے نہیں لڑی جاسکتی اس کے لئے بڑے پیمانے پر سماجی بدلاؤ کی بھی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس سے اچھے قانون کا غلط استعمال رک سکے گا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...