Translater

10 فروری 2017

کیا کانپور ریل حادثہ میں آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا

پچھلے سال نومبر میں کانپور میں ہوئے ریل حادثہ کا اہم مشتبہ و آئی ایس آئی ایجنٹ شمس الہدیٰ کو نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسے دوبئی سے ڈیپورٹ کیا گیا تھا۔ نیپال پولیس کی ایک اسپیشل ٹیم نے 48 سالہ ہدیٰ کو تین دیگر لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ پچھلے ماہ بہارمیں گرفتار تین لوگوں نے کانپور ریل حادثہ میں ہدیٰ کا ہاتھ ہونے کے اشارے دئے تھے۔ دوبئی میں بیٹھا ہدیٰ وہیں سے ان سازشوں کو انجام دے رہا تھا۔ دوبئی میں آتنکی تنظیموں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد ہدیٰ نے انڈین ریلوے اسٹیشنوں پر دھماکہ کے پلان پر کام شروع کردیا تھا۔ اس کے لئے رکسول کے پاس دھوڑا سہن اور آدا پور اسٹیشن کو چنا گیا۔ پلان پر کام کرنے کو نیپال آکر ہدیٰ نے برج کشور گری بابا سے رابطہ قائم کیا۔ یہاں ایک دوسرے ہندوستانی شہری کے سہارے ارون رام اور دیپک رام کو 8 لاکھ روپئے ایڈوانس دے کر ریلوے اسٹیشنوں پر آئی ای ڈی رکھنے کا پلان بنایا۔دونوں اس میں کامیاب نہیں ہوپائے لہٰذا ان کا بعد میں قتل کردیا گیا۔ ہندوستان میں بڑی تعداد میں ٹرین حادثوں کی سازش کو انجام دینے کیلئے پیسے کا پکا انتظام کیا گیا تھا۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں جاری سازش کے لئے لین دین میں آئی لاکھوں کی رقم کے تار دوبئی ،دھاکہ، سنگاپور اور ہانگ کانگ سے جڑے ہیں۔ اس میں نیپال کی راجدھانی کاٹھمنڈو اور پوکھرا میں تجارت کررہے کچھ کشمیری لڑکوں کی پہچان بھی کی گئی ہے۔ کانپور، بہار کے پکھریا مالسا اسٹیشن کے درمیان پچھلے سال اندور راجندر نگر ایکسپریس کے پٹری سے اترجانے کے بعد 152 مسافروں کی موت ہوگئی تھی اور200 سے زیادہ مسافر زخمی ہوگئے تھے۔ جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ ٹرین کے پلٹنے کی سازش رچی گئی۔ تبھی سے جانچ ایجنسیاں ماسٹر مائنڈ کی تلاش میں لگی ہوئی تھیں۔ حادثے کے اہم سازشی شمس الہدیٰ کو دوبئی سے نیپال آنے پر کاٹھمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا۔ شمس الہدیٰ آئی ایس آئی کا نیپال کا انچارج ہے۔ جانچ ایجنسیوں کو پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ ہدیٰ کئی برسوں سے نیپال میں رہ کر اپنا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے کہنے پر ہی 8 لاکھ روپے دے کر ریل حادثے کو انجام دینے کو کہا گیا اب این آئی اے ٹرین حادثات کے پیچھے سازش کے ہر پہلو کی جانچ کررہی ہے تب یہ ضروری ہے کہ خود ریلوے بھی یہ دیکھے کہیں حالیہ ریل حادثات ریل پٹریوں کے رکھ رکھاؤ میں لاپروائی کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ہدیٰ سے جب گہری پوچھ تاچھ ہوگی تبھی ساری سازش کا پتہ چلے گا۔ پکھرایا ٹرین حادثہ کے معاملے میں گرفتار بدمعاشوں کی طرف سے یہ تسلیم کیا جانا سنسنی خیز ہے کہ انہیں ریل ٹریک پر دھماکہ کرنے کے لئے پیسے دئے گئے تھے۔ یہ دعوی جتنا سنسنی خیز ہے اتنا ہی عجب بھی کیونکہ عام طور پر جرائم پیشہ واردات کرنے کے بعد اپنے جرائم کو اتنی آسانی سے قبول نہیں کرتے؟ کیونکہ بہار میں پکڑے گئے جرائم پیشہ حادثے کی جگہ کے جغرافیہ سے بھی ناواقف دکھائی دے رہے ہیں اس لئے ان کے دعوے پر پورے طور پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ باوجود اس کے ان کے دعوے کی گہری چھان بین کی جانی چاہئے کیونکہ اس سے ہی پتہ چلے گا کہ ان کا پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے یا اس کے کسی ایجنٹ سے تعلق تھا یا نہیں؟ یہ بھی فیصلہ کن طور سے طے ہوگا کہ ٹرین حادثہ کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہی ہاتھ تھا۔
(انل نریندر)

ایچ 1 بی ویزا پر نکیل کسنے کی تیاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔ امریکی صدر 7 مسلم ملکوں کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے پر 90 دن کی پابندی لگانے کے بعد اب ایچ۔1 بی ویزا پالیسی کو پہلے سے زیادہ سخت کرنے کی کارروائی میں لگ گئے ہیں۔ اسے قانونی شکل دینے کے لئے امریکی پارلیمنٹ میں جو بھی بل پیش کیا گیا ہے اس کے تقاضوں کے مطابق یہ ویزا حاصل کرنے کے لئے کم از کم تنخواہ اور حد60 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 1لاکھ30 ہزار امریکی ڈالر کرنے کی تجویز ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر یہ بل پاس ہوگیا تو بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں سافٹ ویئر صنعت پر اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں قریب 2 لاکھ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور انجینئر ایچ۔1 بی ویزا پر کام کررہے ہیں اور ہندوستانی نژاد قریب 30 لاکھ امریکی شہری ہیں ۔ اس کا اثر کتنا پڑ سکتا ہے اسے صرف اسی بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ترمیمی بل پیش ہوتے ہی انڈین شیئر بازاروں میں آئی ٹی کمپنیوں کے شیئر منہ کے بل جا گرے۔ امریکہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کا سب سے بڑا بازار ہے۔ وہاں کام کرنے والی زیادہ تر ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں ہیں۔ ایچ1 بی ویزا کے تحت ہی ہندوستانی آئی ٹی پیشہ وروں کو وہاں کچھ سال کے لئے لے جاتی ہے۔ دراصل یہ اس لئے ہورہا ہے کیونکہ امریکی آئی ٹی پیشہ وروں کو نوکری پر رکھنے کے مقابلے کافی سستا پڑتا ہے لیکن کچھ حدتک یہ بھی صحیح ہے کہ امریکہ آئی ٹی بازاراس لئے بھی ہندوستانیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنل اپنے امریکی ہم منصب سے زیادہ محنتی ہوتے ہیں اور کام کے تئیں زیادہ وفادار ہوتے ہیں اگر ہم ٹرمپ کے چناؤ ابھیان کے دوران کئے گئے اعلانات اور وعدوں پر غور کریں تو انہوں نے ہندوستانیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریفوں کے پل باندھے تھے۔ اس لئے یہ موقعہ پرستی جھلکتی ہے کہ مودی اور ٹرمپ کے درمیان خاص طور پر ایچ ویزا کے سلسلے میں کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے جس میں ایسی خاص رعایتوں کی سہولت ہو کہ ہندوستانی کمپنیوں کے سامنے کسی طرح کی اڑچن نہ آ پائے۔ دراصل ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان کے دی میں کمپنیاں زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو نوکری پر رکھیں۔ بل پاس ہونے پر ایچ1 بی ویزا والوں کو زیادہ تنخواہ دینی ہوگی۔ ہندوستانی وہاں امریکیوں کے مقابلے کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں ایسے میں بڑی تنخواہ آئی ٹی کمپنیاں امریکیوں کو ترجیح دے سکتی ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ ایچ1 بی ویزا ہولڈر ہندوستانی امریکہ میں کام کرتے ہیں۔ بل پاس ہونے پر انہیں واپس بھارت لوٹنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی نئے پیشہ وروں کے لئے موقعہ کم ہونے کے امکانات ہیں۔ ابھی تک ہندوستانی پروفیشنل کا کم تنخواہ پر کام کرنا ان کے حق میں جاتا ہے۔یہ سہولت ان کے ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ دراصل امریکہ کی سیاہ فام آبادی مسلم دہشت گردی سے پریشان ہے۔ ان کے دماغ سے 9/11 کے خطرناک دہشت گردی کا ڈر کم نہیں ہوا۔ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی چناؤ میں اسی ذہنیت والے لوگوں کی نمائندگی کررہے ہیں پھر ایچ1 بی ویزا پر غیرملکی ورکروں سے کام کرانے والی کمپنیوں کو جو فائدہ امریکہ کی بڑی کمپنیوں کو اپنے سامان اور خدمات سستی رکھنے میں ملتا رہا ہے وہ نہیں ملے گا۔ جنہیں یہ ویزا دیا جاتا ہے انہیں کئی طرح کے حق ملتے ہیں لیکن انہی امریکی پرواسی والے حق نہیں ملتے۔یہ ویزا صرف آئی ٹی سیکٹر کیلئے نہیں ہے اس میں بایو ٹکنالوجی اور فیشن جیسے کئی طرح کے کاروبار شامل ہیں۔ امریکی صنعتی دنیا نے ٹرمپ کی اس پہل کا خیر مقدم نہیں کیا ہے۔ بہرحال ! ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے آئی ٹی سیکٹر کو اس سے زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
(انل نریندر)

09 فروری 2017

اترپردیش اسمبلی چناؤ کا مہادنگل سنیچروار سے شروع ہوگا

اترپردیش اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلہ میں 73 سیٹوں پر11 فروری یعنی سنیچر کو ووٹ پڑنے ہیں۔ اب کل 840 امیدوار میدان میں ہیں ان میں سب سے زیادہ 26 امیدوار آگرہ ساؤتھ اسمبلی سیٹ پر ہیں۔ اس اسمبلی سیٹ کے ہر پولنگ بوتھ پر پولنگ کے لئے دو دو الیکٹرانک مشینیں لگائی گئی ہیں۔ سب سے کم میرٹھ اور ہستناپور محفوظ کے لئے6-6 امیدوار جبکہ غازی آباد کی لونی، علیگڑھ کی ایلاس سیٹ محفوظ ہے۔ عام طور پر یوپی کے اس علاقہ کو جاٹ لین بھی کہا جاتا ہے۔ اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوکدل اترپردیش چناؤ میں اپنے بوتے پر لمبے عرصے کے بعد چناؤ لڑ رہی ہے۔ حالانکہ اتحاد کی سیاست کی اہمیت اجیت سنگھ اور ان کے جانشین جینت چودھری اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ منشا تو ان کی بھاجپا کے ساتھ تال میل کی تھی لیکن بعد میں وہ سپا اور کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کے خواہشمند دکھائی دئے جہاں لگتا ہے کہ انہیں مطالبے کے حساب سے سیٹیں نہیں ملیں تو انہوں نے اتحاد کرنے کے بجائے تنہا چناؤ لڑنے کی راہ اختیار کرنا بہتر سمجھی۔کانگریس۔ سپا اتحاد میں شامل نہ کئے جانے کے ساتھ بھاجپا کا چناوی تجزیہ بگاڑنے میں دونوں چودھری لگے ہوئے ہیں۔ چودھری اجیت سنگھ نے بھاری تعداد میں اپنے امیدواراتار کر سپا اور بھاجپا کے سامنے سخت چیلنج پیش کر دیا ہے۔ اجیت سنگھ ابھی تک 100 سے زیادہ امیدواروں کو میدان میں اتار چکے ہیں جبکہ پچھلے اسمبلی چناؤ میں کانگریس سے اتحاد کے تحت لوکدل نے صرف46 امیدواروں کو پارٹی کا ٹکٹ دیا تھا۔ ان سیٹوں پر لوکدل کے امیدوار بیشک جیت حاصل نہ کرسکیں ہوں لیکن وہیں سپا تو کہیں بھاجپا کا کھیل بگاڑ سکتے ہیں۔ مغربی یوپی میں دلتوں پرسبھی پارٹیوں کی نظر ہے، لیکن دلتوں کے دل میں کون ہے یہ بڑا سوال ہے؟ اسمبلی چناؤ میں زیادہ تر پارٹیوں میں ر یزرو سیٹوں پر ہی امیدوار اتارے ہیں۔ یوپی میں 86 ریزرو سیٹیں ہیں حالانکہ بی ایس پی نے ضرور 87 افراد کو ٹکٹ دئے ہیں لیکن وہ بھی ایک ہی زیادہ ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی حکمت عملی ہے کہ پہلے اور دوسرے مرحلے میں دلتوں کا ساتھ ملنے کا پیغام باقی مرحلوں کے چناؤ میں بھی جائے۔ دلت کبھی کانگریس کا ووٹ بینک ہوا کرتا تھا۔ بی ایس پی کے وجود میں آنے کے بعد ان کا جھکاؤ بسپا کی طرف ہوگیا۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کا بھی رول اہم ہے۔ بھاجپا اسی امید میں ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ بٹ جائے گا۔ مظفر نگر بیلٹ میں بڑی جاتیوں کا بھی اشتراک اہم ہے۔ دنگوں کے بعد ان کا جھکاؤ بھاجپا کی طرف ہوگیا ہے۔ کل ملاکر پہلے مرحلہ کی پولنگ دلچسپ ہوگی اور اس پرسبھی پارٹیوں کی نظریں رہیں گی۔ تو اترپردیش کے چناؤ دنگل کی سنیچروار کو شروعات ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

ووٹ نہیں ڈالتے تو سرکار پر الزام مڑھنے کا حق نہیں

اگر آپ ووٹ نہیں دیتے تو آپ کو کسی کام کے لئے سرکار پر الزام مڑھنے کا حق بھی نہیں ہے۔ یہ بات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے۔ ایس۔ کھیر نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران مدعی سے کہی۔ مدعی نے دیش بھر کے قبضوں کو ہٹائے جانے کے لئے حکم دینے کی اپیل کی تھی۔ یہ بھی بتایا کہ سرکاری سسٹم سے ناراض ہوکر وہ چناؤ میں ووٹ نہیں ڈالتے۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی اس بنچ میں جسٹس این وی رمنا اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ بھی ہیں۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے دیش بھر میں قبضوں کو ہٹائے جانے کا کوئی حکم دینے سے صاف منع کردیا۔ اس نے کہا کہ دہلی میں بیٹھ کر یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ کس شہر میں کہاں قبضہ ہے اس لئے عرضی گزار سڑکوں کے کنارے اور دیگر پبلک مقامات پر قبضوں کو دیکھ کر انہیں ہٹائے جانے کی مانگ والی عرضی متعلقہ ہائی کورٹ میں دائرکرے اور ان سے حکم پاس کرنے کی مانگ کرے۔ سماجی کارکن دھنیش ارادھن نے دہلی کی غیر سرکاری تنظیم ’وائس آف انڈیا‘ کی طرف سے عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا سرکار قبضے ہٹانے کے لئے کچھ بھی نہیں کررہی ہے اس لئے سپریم کورٹ پورے دیش میں نافذ ہونے والا حکم جاری کرکے مرکز اور ریاستی حکومتوں سے ناجائز قبضے ہٹانے کے لئے کہے۔ سماعت کے دوران بنچ نے دھنیش سے پوچھا کہ چناؤ میں وہ ووٹ ڈالتا ہے یا نہیں؟ جواب میں عرضی گزار نے کہا اس نے اپنی زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈالا۔ اس پر بنچ نے اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا جب تم نے سرکار کو چننے کے لئے ووٹ نہیں ڈالا تو تمہیں سرکار سے سوال پوچھنے یا اس پر کام نہ کرنے کا الزام مڑھنے کا کیا اختیار ہے؟ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری دیش بھارت میں ایک تہائی ووٹر پولنگ میں حصہ نہیں لیتے۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے جاری سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2014 ء کے عام چناؤ میں کل66 فیصدی پولنگ ہوئی۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں صرف 58 فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں 81.5 کروڑ مجاز ووٹروں میں سے صرف55 کروڑ 38 لاکھ 1 ہزار 801 ایک ووٹر نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ وہیں 2009ء میں 71.7 کروڑ حقدار ووٹر میں سے 41کروڑ 71 لاکھ 51 ہزار 969 لوگوں نے پولنگ میں حصہ لیا تھا۔ عام طور پر اونچے طبقے کے لوگ اپنے گھروں میں ہی پولنگ کے دن ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں اور ووٹ ڈالنا ضروری نہیں سمجھتے اور یہی طبقہ ہے جو سب سے زیادہ نکتہ چینی کرتا ہے۔
(انل نریندر)

08 فروری 2017

پنجاب اور گووا کے بعد اب یوپی۔ اترا کھنڈ پر فوکس

پانچ ریاستوں میں جاری اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں پنجاب اور گووا میں سنیچر کو پولنگ ختم ہوگئی۔ پنجاب کی 117 سیٹوں پر 1145 امیدواروں کی قسمت الیکٹرانک مشین میں بندہوگئی جبکہ گووا کی 40 سیٹوں پر 251 امیدوار میدان میں ہیں۔ چناؤ ختم ہونے کے بعد سے ہی سبھی پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنی اپنی جیت کے دعوے کرنے شروع کر دئے ہیں۔ پنجاب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و وزیر اعلی عہدے کے دعویدار کیپٹن امریندر سنگھ نے ریاستی چناؤ کو مضبوطی بنام فرقہ وارانہ اور کٹر پسندی کے لئے ووٹ قرار دیتے ہوئے مالوہ علاقہ سمیت پوری ریاست میں پارٹی کو بڑی جیت ملنے کا یقین دلایا ہے۔ حال ہی میں کانگریس میں آئے نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ وہ کانگریس کو پھر سے زندہ کر راہل گاندھی کو تحفہ دیں گے۔ ان کا کہنا ہے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اور امریندر سنگھ ہمارے لیڈرہیں اور ان کی آخری پاری شاندار ہوگی۔ وہیں پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل نے اکالی ۔بھاجپا سرکار کے اکثریت میں آنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا سرکار کے وکاس کاموں پر مینڈیٹ ملے گا۔ عاپ نیتااور دہلی کے مکھیہ منتری اروند کیجریوال نے بھی پنجاب اور گووا میں تاریخ رقم کرے کا دعوی کیا اور کہا کہ گووا اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بنے گی۔ پنجاب اور گووا میں چناؤ ختم ہونے کے بعد اب بڑے لیڈروں کا سارا فوکس یوپی اور اتراکھنڈ کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ یوپی میں بڑے نیتاؤں کی قریب درجن بھر ریلیاں ہیں۔ اتراکھنڈ میں ہلچل بڑھ رہی ہے۔ یوپی میں لکھنؤ اور آگرہ میں اکھٹے روڈ شو کرچکے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور سماجوادی پارٹی چیف و وزیر اعلی اکھلیش یادو کی جگل بندی پی ایم مودی پر جم کرنکتہ چینی کررہی ہے۔ مودی کا فوکس یوپی میں سپا اور بسپا کے کرپشن اور ریاست میں ترقی پر ہے۔ ریاست میں 11 فروری کو پہلے مرحلہ میں 73 ،15 فروری کو دوسرے مرحلہ میں 67 سیٹوں پر پولنگ ہونی ہے۔ ادھر اتراکھنڈ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دہرہ دون میں اپنی پارٹی کا چناؤ منشورجاری کر بی جے پی کی کمپین میں تیزی لانے کی کوشش کی ہے۔کانگریس اور بی جے پی کے بڑے نیتا بھی اتراکھنڈ کی طرف رخ کررہے ہیں۔ دونوں پارٹیاں اپنے باغیوں سے پریشان ہیں۔ بی جے پی کے17 اور کانگریس کے23 باغی میدان میں ہیں۔ باغیوں کے نقصان سے بچنے کے لئے دونوں ہی پارٹیاں حکمت عملی کو آخری شکل دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ 15 فروری کو ہونے والے چناؤ میں وزیر اعلی ہریش راوت کی ساکھ اور مستقبل دونوں ہی داؤ پر ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کی ویزا پابندی کو عدالتی جھٹکا

کسی بھی سربراہ مملکت کے لئے نہ صرف تھوڑا سیاسی تجربہ ضروری ہوتا ہے بلکہ اگر اس کے مشیر کار بھی تجربہ کار ہوں تو غلطیوں کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ہم نے اپنے دیش میں ہی دیکھا ہے کہ سیاست کے پرانے کھلاڑی بھی کبھی کبھی غلطی کرجاتے ہیں جس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑ جاتی ہے۔ جب امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا چناؤ ہوا تھا تو بہت سے ماہرین کا خیال تھا کہ وہ سیاست نہیں جانتے اور انہیں سیاسی تجربہ نہیں ہے۔یہی ہوا بھی۔وہ اپنے پہلے فیصلے میں ہی مات کھا گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے ٹرمپ کے سات ملکوں کے شہریوں پر اپنے مل میں آنے پر پابندی لگانے کے فیصلے پر فوری طور پر روک لگادی اور ان سات ملکوں کے شہریوں کو سفر کرنے کی اجازت دے دی۔ جمعہ کو امریکہ میں سی ایٹل کی فیڈرل جج جیمس روبرٹ نے ٹرمپ کے اس ایگزیکٹیو حکم پر روک لگادی تھی جس کے بعد سے جائز ویزا یافتہ افراد کے امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی اور 60 ہزار لوگوں کا ویزا بحال کردیا۔ وہیں سفر پر پابندی کولیکر ٹرمپ کے خلاف امریکہ اور یوروپ میں لوگوں نے سڑکوں پر اترکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ معلوم ہو کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عراق، ایران، شام، سوڈان، صومالیہ، لیبیا، یمن کے شہریوں کے امریکہ میں اینٹری پر پابندی لگادی تھی۔ آناً فاناً میں ادھوری تیاری کے ساتھ امریکی محکمہ قانون نے سیم فرنیسکو میں واقع سرکٹ کورٹ آف اپیل میں سی ایٹل عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے۔ جمعہ کو فیڈرل جج کی جانب سے ٹرمپ کے حکم پر عارضی طور پر روک لگادی گئی تھی۔ معاملے میں عدالت نے دونوں فریقوں سے جواب داخل کرنے کو کہا۔ عدالت نے کہا کہ پیر تک ٹرمپ کے ایگزیکٹیو حکم کو چیلنج دینے والا جواب داخل کریں اور محکمہ قانون جوابی دعوی داخل کرے۔ عدالت کے انکار کرنے سے صاف ہوگیا ہے کہ اب متعلقہ مسلم ملکوں کے جائز ویزا یافتہ شہری امریکہ جا سکیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حکم کے خلاف عدالت کے فیصلے کو مضحکہ خیز قراردیا اور اس کے فیصلے کو بھی پلٹنے کا عہد کیا۔ ٹرمپ نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ عدالت کے نظریات مضحکہ خیز اور ان کے حکم کو پلٹ دیا جائے گا۔ اس دوران وہ مسلم ملکوں اور مہاجرین پر پابندی لگانے والے سرکاری فرمان کی مخالفت کرنے والے لوگوں پر بھی جم کر ناراض ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا دلچسپ بات یہ ہے کہ وسطی مشرقی دیش ان کی اس پابندی سے متفق ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر کچھ خاص لوگوں کو دیش میں گھسنے کی اجازت دی گئی تو وہ قتل اور تباہی کریں گے۔کئی ایئر لائنس نے سنیچر کومسافروں کو امریکہ کے لئے اڑان بھرنے کی اجازت دے دی۔
(انل نریندر)

07 فروری 2017

ویزا پر کویت کا ٹرمپ کارڈ

دہشت گردی کو روکنے کے لئے امریکہ کے ذریعے 7 مسلم ملکوں پر پابندی اور پاکستانی شہریوں پر سختی کا معاملہ ابھی پوری دنیا میں چھایا ہوا ہے۔ اسی درمیان ایک اور دیش کویت نے بھی (جو خود مسلم ملک ہے) 5 مسلم ملکوں کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگادی ہے۔ کویت نے پاکستان، شام ،عراق، افغانستان اور ایران کے باشندوں کیلئے ویزا جاری کرنے کی کارروائی کو منسوخ کردیا ہے۔ کویت کے اس فیصلے نے بھارت سرکار کے ذریعے اٹھائے جانے والے اس اشو پر مہر لگادی ہے کہ پاک دہشت گردی کی محفوظ پناہگاہ بن گیاہے۔ مقامی اخبار ’اسپوتنک نیوز‘ کے مطابق کویت نے اپنے دیش میں دہشت گردی کو روکنے کے لئے یہ بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اب پاکستان سمیت شام ،عراق، افغانستان اور ایران کے شہری کویت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ کویت نے ان پانچوں ملکوں کے ساتھ ہونے والی ٹورازم ،تجارت اور ٹورسٹ ویزا پرروک لگادی ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعے مسلم ملکوں پر پابندی لگانے سے پہلے کویت ایک واحد ایسا ملک تھا جس نے شام کے شہریوں کے داخلے پر پہلے ہی سے پابندی لگائی ہوئی تھی۔ سال2011ء میں کویت نے سبھی شام کے شہریوں کے ویزا کو منسوخ کرنے کا قدم اٹھایاتھا یعنی ٹرمپ انتظامیہ نے جو پہل کی ہے اس سے پہلے کویت ایسی پابندی لگا چکا تھا۔ بہرحال پاکستان کے خلاف کویت کی کارروائی سے ضروری تھوڑی حیرت ہوئی کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے رشتے رہے ہیں ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کیاکویت نے امریکی دباؤ میں یہ قدم اٹھایا تھا یا پھر جو مانگ بھارت عرصے سے کرتا آرہا ہے اس کی حمایت کی ہے؟ اس سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ کویت کافی عرصے سے اسلامی دہشت گردی کا شکار ہے۔ کویت کی تازہ کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی دہشت گردی نے مسلم ملکوں میں بھی اندرونی پریشانیاں کھڑی کردی ہیں۔ اسی بات کے اشارے گذشتہ26 جنوری کو ہندوستانی یوم جمہوریہ کے موقعہ پر نئی دہلی آئے ابوظہبی کے شہزادے اننہیان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مشترکہ اعلامیہ میں دیکھنے کو ملا۔ کیا یہ سبھی واقعات آنے والے دنوں میں دہشت گردی کو ہوا دینے والے مسلم ملکوں کے خلاف عالمی سطح پر کسی طرح کے نئے پولارائزیشن کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے بھارت کے خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ جموں و کشمیر سمیت دیش کے دیگر حصوں میں جو دہشت گردانہ واقعات ہورہے ہیں ان کے پیچھے پاکستان کا ہی ہاتھ ہے۔ پاکستان کے خلاف کویت کی پابندی اس کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دیگر اصلاح پسند دیش بھی کویت کی طرح دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والے دیشوں کے خلاف قدم اٹھا سکیں گے۔
(انل نریندر)

سیاسی چندے پر لگام صحیح قدم لیکن ادھورہ

کالی کمائی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے ان سیاسی پارٹیوں کو ملنے والا نقد چندہ۔ اس پر لگام کسنے کے لئے مرکزی حکومت نے اس سال عام بجٹ میں پہل کی ہے۔ بجٹ میں وزیر خزانہ کے سیاسی پارٹیوں کیلئے نقد چندہ کی حد 2 ہزار روپئے تک طے کرنے کا فیصلہ صحیح سمت میں اچھا قدم ہے۔ عام بجٹ میں نقد چندے کی حد 20 ہزار سے گھٹا کر 2 ہزار روپئے کرنے کا خیر مقدم ہے ساتھ ہی سرکار سیاسی پارٹیوں کے لئے آمد و خرچ کا حساب کتاب رکھنے کو ضروری کرنے والی ہے۔ اس سلسلے میں مجوزہ قانون کے مطابق پارٹیوں کو دسمبر تک اپنے بہی کھاتوں کی پوری تفصیل محکمہ انکم ٹیکس میں جمع کرنی ہوگی ورنہ انہیں انکم ٹیکس میں ملنے والی چھوٹ ختم کی جاسکتی ہے۔ ویسے اس پہل سے بھی پتہ نہیں چل پائے گا کہ کس عطیہ دہندہ نے چیک یا آن لائن کتنا پیسہ سیاسی پارٹیوں کو دیا ہے، کیونکہ پارٹیاں ان عطیہ دہندہ کو یہ بتانے کیلئے مجبور نہیں ہیں جو انہیں 20 ہزار روپئے سے کم چندہ دیتے ہیں تو اب پتہ نہیں چل پائے گا کہ کس سیاسی پارٹی کو کس نے کتنا چندہ دیا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ چناؤ کمیشن سے سیاسی پارٹیوں کو چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ عطیہ دہندہ کے20 ہزار روپے سے کم چندہ دینے والے کا نام بتانے کے لئے مجبور نہیں ہیں۔ یہ قاعدہ اب بھی لاگو ہے۔ حال ہی میں چناؤ کمیشن نے بھارت میں 1900 رجسٹرڈ سیاسی پارٹیاں ہونے کی بات کہی تھی۔ ان میں سے400 سے بھی زیادہ ایسی پارٹیاں ہیں جنہوں نے کبھی بھی کوئی چناؤ نہیں لڑاہے۔ اس ناطے کمیشن کا یہ اندیشہ صحیح ہے کہ یہ پارٹیاں ممکن ہے کالے دھن کو سفید میں بدلنے کا ذریعہ بنتی ہوں؟ چناؤ کمیشن نے اب ایسی پارٹیوں کی پہچان کرکے ان کو اپنی فہرست سے ہٹانے و ان کا چناؤ نشان ضبط کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ چناؤ کمیشن نے محکمہ انکم ٹیکس سے بھی کہا ہے کہ ایسی نام نہاد پارٹیوں کی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کردی جائے۔ بجٹ میں سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے خفیہ چندے کی دفعہ کو اے ڈی آر (ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم) نے ادھورہ بتایا ۔ اے ڈی آر کے مطابق چندے کے آڈٹ سسٹم بنانے کے ساتھ ہی اس میں پوری شفافیت نہیں لائی جائے گی جب تک یہ جواب دہی نہیں طے ہوسکتی کے اے ڈی آر ماہرین کا ایک گروپ ہے جو چناؤ اور سیاست اور اس سے وابستہ اشو پر گہری نظر رکھتا ہے۔ مرکزی سرکار کے بجٹ کے ایک دن بعد ہی اے ڈی آر نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے چندے کے معاملے میں ابھی پوری طرح شفافیت نہیں لائی جاسکتی۔ ایک عطیہ کنندہ سے دو ہزار روپے تک کے چندے کی حد لاگو کرنے کے باوجود وزیر خزانہ یہ نہیں بتا سکے کہ اس پر عمل کیسے ہوگا؟ یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ پارٹیوں کا خرچہ ہزار دو ہزار کے نقد چندے سے نہیں چلتا۔ تمام کاروباریوں ، صنعتکاروں کی مدد سے اور کرپشن سے اور کس پیسے سے چناؤ لڑے جاتے ہیں۔ صنعتکاروں سے ملنے والے پیسوں پر لگام لگانے کے مقصد سے ہی چناؤ کمیشن نے بھی امیدواروں کے چناؤ خرچ کی حدطے کی تھی مگر کیونکہ اس میں پارٹیوں کا خرچ شامل نہیں ہوتا اس لئے بہت سارے امیدوار چناؤ میں کھل کر دھن بل کا استعمال کرتے ہیں۔ پارٹیوں کی طرف سے امیدواروں کو ملنے والے یا پھر امیدواروں کو پارٹی کے نام سے ہونے والے خرچ پرکھینچی چلانے کے مقصد سے سرکار نے پارٹیوں کی آمد و خرچ کی بیلنس شیٹ پیش کرنا ضروری بنانے کا من بنایا ہے۔ یہ کہاں تک ممکن ہوگا یہ دیکھنے کی بات ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کے چیف پبلک اسٹیجس سے اپنے ورکروں کو سادگی بھری زندگی اور چناؤ اصلاحات کی بات تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں اسے عمل میں لانا نہیں چاہتے۔ صنعتکار چوری چھپے چندے کی شکل میں بڑی رقم دینے سے باز آئیں گے یہ دعوی نہیں کیا جاسکتا اس لئے سرکار کو کالے دھن کے ذرائع کی پہچان کیلئے اور مشقت کرنے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

06 فروری 2017

گنگا جمنی تہذیب کا ملن تو ٹھیک لیکن چیلنج بھی کم نہیں

وہ سنگ سنگ تیزی سے آئے، ہاتھ ملیا، گلے ملے نئی دوستی کا رنگ اور گاڑھا کرنے کے لئے پھر گلے ملے۔۔۔ اب وہ نئے سیاسی اوتار میں دکھائی دینے لگے ہیں یہ ہیں راہل گاندھی و اکھلیش یادو۔ گنگا جمنی کی نئی تہذیب کا عروج جو نئے زمانے میں سیاسی ہواؤں کا رخ اپنی طرف موڑنے کیلئے ساتھ ساتھ نکل پڑیں ہیں، نوجوانوں کو خوابوں و امیدوں کو پنکھ لگانے کیلئے نکلتے ہیں۔ کانگریس کو یوپی میں جمانے کی چاہ جہاں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی میں ہے تو اکھلیش اپنی سرکار دوبارہ بنانے و اپنے خاندان کو پوائنٹ دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔ وقت کی ضرورتوں نے دونوں کو سیاسی سفر میں ایسے موڑ پر لا کھڑا کردیا ہے جہاں سے مشن2017ء ہی نہیں مشن2019ء کو بھی کامیاب بنانے کا اشارہ ملتا ہے۔ دونوں میں اس بات کی سمجھ بنی ہوئی ہے کہ کون کہاں کس کا سپورٹ کرے گا۔ لکھنؤ میں ویروار کے دن انہی امکانات اور وعدوں کا گواہ بنا۔ ان دونوں کی جوڑی اتحاد کے ساتھیوں کے لئے فائدے مند بھلے ہی نظر آرہی ہو لیکن دونوں کے لئے چیلنج بھی کم نہیں ہیں۔ سپا۔ کانگریس نے گٹھ جوڑ کرکے حریف پارٹیوں پر سائیکلوجیکل بڑھت بنانے کی سمت میں قدم تو بڑھایا ہے لیکن دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ چناؤ میں دونوں کتنا قدم تال ساتھ کرپاتے ہیں۔ اتنا توطے ہے کہ اس بار یوپی کے اقتدار کی دوڑ میں مقابلہ بیحد دلچسپ ہوگا۔ سپا اور کانگریس اگر اپنا اپنا ووٹ بینک ایک دوسرے کو ٹرانسفر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہیں اتحاد سانجھے میں رہے گا۔ حالانکہ یہ بہت آسان نہیں ہوگا۔ سپا میں کچھ مہینوں سے چلے آرہے واقعات اور ملائم سنگھ یادوا ور شیو پال سنگھ کی چنوتی سیاسی نقشے سے غائب ہونا کوئی نہ کوئی گل کھلا سکتی ہے۔ راہل اور اکھلیش نئی پیڑھی کے نیتا ہیں اور دونوں کی عمر میں زیادہ فرق بھی نہیں ہے۔ اکھلیش43 سال کے ہیں تو راہل 46 سال کے۔ وہ ہندوستانی تہذیبوں کے ساتھ ہی کارپوریٹ کلچر سے بخوبی واقف ہیں۔ پارٹی اور سرکار چلانے میں روایتی طریقوں کے ساتھ نئے تجربے بھی کرتے رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور اکھلیش نے نہ صرف اپنی تقریروں میں بار بار خود کے لئے نوجوان لفظ کا استعمال کیا بلکہ نوجوان دکھائی دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عموماً چناؤ کے دوران بڑھی داڑھی کے ساتھ لوگوں کے بیچ آنے والے راہل عام طور پر کلین شیو میں چمکتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اترپردیش کی 403 میں سے 170 سیٹوں پر ووٹوں میں 3 فیصدی کا رجحان امیدواروں کی قسمت بدل دے گا۔ کانگریس ۔ سماجوادی پارٹی کے درمیان اتحاد ہونے کے سبب ان سیٹوں پر تجزیئے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ مشرقی اور مغرقی اترپردیش میں دونوں پارٹیوں کے نیتا اپنے امیدواروں کو تبھی جتا سکیں گے جب ووٹ ٹرانسفر کرا پائیں گے۔ یہاں پر کئی سیٹیں ایسی ہیں جہاں ہار جیت کا فرق ہزاروں میں سے کم ہوتا رہا ہے۔
(انل نریندر)

ووٹر کو پٹانے کیلئے رشوت ، وہ بھی سرکاری خزانے سے

اس وقت دیش میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ چل رہے ہیں۔ چناؤ کمپین اور ووٹروں کو راغب کرنے کا کام شباب پر ہے۔ ایسے وقت میں ان پارٹیوں و نیتاؤں کو جنتا کی یاد آنا فطری ہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں ووٹر کی تقدیر بدلنے کا وعدہ کررہی ہیں۔ چناؤ منشوروں میں طرح طرح کی رعایتیں دینے کا وعدہ کررہی ہیں۔ اپنے چناؤ منشور میں مفت پیٹرول، چینی ، گھی، لیپ ٹاپ، پریشر کوکر دینے تک کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ سرکار بننے کے بعدیہ پارٹیاں اپنا وعدہ کتنا پورا کریں گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فری میں کھانا، کلر ٹی وی و سلائی مشین بانٹنے کا ٹرینڈ ساؤتھ انڈیا کی سیاست سے شروع ہوا ہے۔ آئیے ان چناؤ میں کئے گئے وعدوں کو دیکھتے ہیں۔۔۔ یوپی میں سماجوادی پارٹی نے چناؤ جیتنے پر لوگوں کو فری اسمارٹ فون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ بطور وزیر اعلی اکھلیش یادو کے مطابق اس کے لئے قریب ڈیڑھ کروڑ لوگ رجسٹریشن بھی کرا چکے ہیں۔ پچھلے چناؤ میں سپا سرکار نے طلبا کو فری لیپ ٹاپ کا وعدہ کیا تھا اور سرکار بننے کے ایک سال کے اندر بانٹا بھی گیا پھر ہاتھ کھینچ لئے۔ اترپردیش میں اپنا 15 سال کا بنواس ختم کرنے کے لئے بھاجپا نے بھی وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی تو جہاں اسمال اور سرحدی کسانوں کی سبھی فصل قرض معاف ہوں گے وہیں 0 فیصد کے سود پر قرضہ دستیاب کرایا جائے گا۔ نوجوانوں کو لبھانے کی خاطر لیپ ٹاپ کے ساتھ ہی ایک جی بی ڈاٹا سال بھر تک مفت دے گی۔ گووا میں طلبا کو ہر ماہ پانچ لیٹر پیٹرول مفت دے گی کانگریس۔ بجلی پانی مفت دئے جانے کے بعد اب باری پیٹرول کی ہے۔ اس کے علاوہ طلبا کو فری کوچنگ دینے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ گووا میں کانگریس اور عاپ دونوں نے کیسینو (جوا گھر) بند کرنے کی بات کہی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں وعدہ کیا کہ دیہات اور شہروں میں فری وائی فائی کی سہولت دے گی۔ ایسا ہی وعدہ عام آدمی پارٹی نے دہلی میں بھی کیا تھا۔ اب اس نے پنجاب کی جنتا سے ایسے قانون کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت ڈرگ مافیہ کے لئے مرتے دم تک جیل یقینی کی جاسکے۔ اکالی دل اور بھاجپا نے پنجاب کے غریب طبقے کو 25 روپے کلو کے حساب سے 2 کلو گھی اور 10 روپے کلو کے حساب سے 5 کلو شکر کا وعدہ کیا ہے۔ اکالی دل نے 10 ویں پاس لڑکیوں کو سلائی مشین دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ساؤتھ انڈیا میں سیاسی پارٹی گائے بکری تک دینے کا وعدہ کرتی آئی ہیں۔ تاملناڈو کاقریب پانچ فیصد بجٹ ایسی اسکیموں پر ہی خرچ ہوتا ہے بھلے ہی وہ کامیاب ہو نہ ہو لیکن چناؤ کمیشن پچھلے کافی عرصے سے کوشش کررہا ہے کہ چناؤ اصلاحات ہوں اس کے باوجود ووٹ حاصل کرنے کے لئے نئے نئے طریقے سے ووٹروں کو رشوت دینے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ اب سیاسی پارٹیوں نے طریقہ بدل لیا ہے وہ اب چناؤ منشور میں اس طرح کے وعدے کرتے ہیں اور یہ رشوت بھی اپنی جیب سے نہیں بلکہ سرکاری خزانے سے دی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

05 فروری 2017

سنیل جوشی قتل کانڈ میں سادھوی پرگیہ بری

2007ء میں راشٹریہ لوک سیوک سنگھ کے پرچارک سنیل جوشی کے قتل کے معاملے میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت 8 ملزمان کو دیواس کی عدالت نے سبھی الزامات سے بری کردیا ہے۔ سنیل جوشی کا قتل 29 دسمبر2007 ء میں دیواس کی چونا کان میں ہواتھا۔ سادھوی پرگیہ کو بدھوار کوبری کرتے ہوئے جو ریمارکس دئے ہیں انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ قتل جیسے حساس ترین معاملے میں دیواس پولیس اور این آئی اے دونوں ہی ایجنسیوں نے پہلے سے اور نامعلوم اسباب کی سنجیدگی سے جانچ نہیں کی ہے۔ جس طرح سے بہت ہی بے توجہی کے ساتھ اور معمولی خانہ پوری کے ساتھ مناسب ثبوت اکھٹے کئے گئے ہیں وہ الزامات کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ ایسے تضاد خاکہ کے ثبوت سے وکیل صفائی کے بیان پر ہی سنگین شبہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ کہنا تھا کہ پہلی نظر میں اپرسیشن جسٹس راجندر ایم آپاٹے کا تبصرہ غور طلب ہے کہ 29 دسمبر 2007ء کو سنگ کے سابق پرچارک سنیل جوشی کوبالگڑھ کی چونا کان علاقہ میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ مدھیہ پردیش پولیس کو ثبوت نہیں ملے تو اس نے کیس بند کردیا۔ راجستھان اے ٹی ایس نے ہرشد سولنکی نامی شخص کی گرفتاری کر اس قتل کانڈ کا پردہ فاش کیا۔ پھر بھی مدھیہ پردیش پولیس نے دیواس کے باشندے رامائن پٹیل اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو ملزم بنایا۔ پرواسودیو پرمار ،آنند راج کٹاریہ کو بھی ملزم بنایا گیا ۔ تبھی ہائی کورٹ نے این آئی اے کو جانچ کرنے کی ہدایت دی جس نے تین ملزم راجندر چودھری، جتندر شرما، لوکیش شرما کو ملزم بنایا۔ 2014ء میں اسپیشل کورٹ نے این آئی اے کے ذریعے دفعات نہ لگانے پر کیس کو واپس ضلع عدالت دیواس کو ٹرانسفر کردیا گیا۔ یہاں پولیس اور این آئی اے کی کہانی الگ الگ ہونے سے کیس کمزور ہوگیا۔ وکیل صفائی آج تک یہ کھلے طور پر صاف نہیں کرپایا کہ سنیل جوشی کا قتل کس لئے کیا گیا؟ ان کا بڑھتا قد،سیاسی رنجش، راز دار یا کوئی اور وجہ تھی؟ فیصلے کے وقت ملزمہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر بیماری کے چلتے کورٹ نہیں آئیں اور وہ جوڈیشیل حراست میں بھوپال کے ہسپتال میں علاج کروا رہی ہے حالانکہ اس کیس میں تو سادھوی بری ہوگئی ہے لیکن مالیگاؤں بلاسٹ میں اسے ابھی تک ضمانت نہیں ملی اس لئے جب تک کیس میں بھی ان کی ضمانت نہ ہو انہیں حراست میں رہنا پڑے گا۔ سبھی ملزم بری ہوگئے ہیں۔ ایسے میں سرکار کیا فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی؟ این آئی اے جیسی ایجنسی بھی جانچ کے بعد ملزمہ کے خلاف ثبوت نہیں اکٹھا کرپائی اس سے تو لگتا ہے کہ معاملہ سیاسی اغراز پر مبنی ہے۔
(انل نریندر)

اب بی سی سی آئی ایڈمنسٹریٹر چلائیں گے

صاف ہوگیا ہے کہ بی سی سی آئی چاہے جتنی ٹال مٹول کرے کرکٹ بورڈ میں لوڈھا کمیٹی کی اصلاح کی سفارشیں لاگو ہوکر رہیں گی۔ سپریم کورٹ نے کوئلہ گھوٹالہ کے اجاگر کرنے والے سابق سی اے جی چیف ونود رائے کی سربراہی والی چار نفری ایڈمنسٹریشن کمیٹی کو سونپ دی ہے۔ کمیٹی میں مشہور تاریخ داں رام چندر گوہا، انڈیا وومن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ڈائنا ایڈولجی اور مالیاتی کمپنی آئی ڈی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او وکرم لمے شامل ہیں۔ بی سی سی آئی کے چیئرمین انوراگ ٹھاکر اور سکریٹری اجے شرکے کو عہدے سے ہٹائے جانے کے ایک ماہ کے اندر یہ تقرریاں ہوئی ہیں۔ کورٹ پہلے ہی صاف کرچکی تھی کہ لوڈھا کمیٹی کی سفارشیں ہر حال میں لاگو کرنی پڑیں گی۔ حالانکہ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دیش کا کرکٹ مستقبل طے کرنے کی ذمہ داری ان لوگوں کے پاس ہونی چاہئے جنہیں کرکٹ کھیل کی سمجھ ہونے کے ساتھ کھیل انتظام کی بھی جانکاری ہو۔ بدقسمتی سے کہا جائے گا کہ اس میں شبہ نہیں کہ بی سی سی آئی نے بھارت میں کرکٹ کو بڑھانے میں قابل قدر تعاون دیا ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے بی سی سی آئی کی حالت جو ہوگئی ہے اس کے عملے کے لوگ ہی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسے منمانے ڈھنگ سے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح چلایا۔ یہاں تک کہ قاعدے قانون سے بھی خود کو اوپر سمجھنے لگے تھے۔ آئی پی ایل کے میچوں میں سٹہ بازی ، اسپارٹ فکسنگ کے سبب ہی سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور اس کے نتیجے میں لوڈھا کمیٹی بنائی گئی۔ 
اب منتظمین کی تقرری کے بعد یہ تو صاف ہوگیا ہے کہ لوڈھا کمیٹی کی سفارشیں لاگو کرکے بی سی سی آئی کی صفائی ہونا طے ہے۔ سپریم کورٹ میں اس فیصلے میں سختی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ بی سی سی آئی کے بعد مرکزی سرکار نے سفارشوں میں رکاوٹ بنے کھیل سکریٹری کو ایڈمنسٹریٹر بنانے کی تجویز ایک دم سے مسترد کردی ہے۔ اصل میں سفارشوں کے مطابق کوئی بھی افسر بورڈ میں عہدیدار نہیں بن سکتا اس لئے کورٹ نے کھیل سکریٹری کو انتظامیہ کے پینل میں لینے سے پرہیز کیا۔ ماننا پڑے گا کہ بی سی سی آئی نے دیش میں کرکٹ کو بڑھاوا دینے کا کام بخوبی کیا اور کرکٹ کو گھر گھر کا کھیل بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اگر بھارت اس میدان میں دنیا میں اپنا دبدبہ بنانے میں کامیاب رہا تو اس کا سہرہ کافی حدتک بی سی سی آئی کو جاتا ہے۔ نئے منتظمین کے لئے جہاں بی سی سی آئی برائیوں پر روک لگانا ہے وہیں انہیں خاص مقصد کرکٹ کی تقری کو نظر انداز نہیں کرنا ہوگا۔ یہ صحیح ہے کہ ڈائنا کو چھوڑ کر کوئی اور بھی منتظم کرکٹر نہیں ہے لیکن چاہے ونود ہوں یا لمے یا گوہان کرکٹ سے انجان بھی نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...