04 جون 2016

رفتار پکڑتی ترقی شرح اور مہنگائی

مرکز میں برسر اقتدار نریندر مودی سرکار کے لئے یہ اچھی خبر ہے کہ جتنا اندازہ لگایا گیا تھا اس سے کہیں زیادہ ترقی شرح حاصل کرنے میں وہ کامیاب رہی۔پچھلے مالی سال کی آخری سہ ماہی میں پانچ برسوں کا ریکارڈ توڑ کر 5.9 فیصدی پہنچی اقتصادی ترقی شرح نے معیشت کی بہتری کی امید کوپنکھ دے دئے ہیں۔ مودی سرکار کو پچھلے دو برسوں میں کچے تیل کی قیمت میں بھاری گراوٹ کا فائدہ تو ملا ہی، کرپشن اور غیر ضروری سبسڈی پر روک لگاتے ہوئے اس نے معاشی مضبوطی کی سمت میں کئی قدم اٹھائے۔ اب جنوری مارچ کی اقتصادی ترقی شرح کا تازہ اعدادو شمار دکھاتا ہے کہ بھارت کی معیشت صحیح سمت میں چل رہی ہے۔ایسے وقت میں جب عالمی مندی ہو بھارت کی یہ ترقی شرح لائق تحسین ہے۔ یعنی کل ملا کر یہ ترقی شرح کا ڈاٹا دو سال پورے کرنے والی مودی سرکار کیلئے نہ صرف حوصلہ بڑھانے والا ہے بلکہ اس سے جنتا کے درمیان ڈھول پیٹنے کا اس سرکار کو ایک بنیاد بھی مل گئی ہے۔ اس کامیابی پر مودی حکومت اپنی پیٹھ تھپتھپا سکتی ہے اور اپنے حریفوں کو بھی کرارا جواب دے سکتی ہے کہ اس کے ’’اچھے دن‘‘ لانے کا جو وعدہ تھا اس کی شروعات ہوچکی ہے۔ حالانکہ یہ دیکھنے کی بات ہوگی کہ زمینی حقیقت میں اس طرح کی رپورٹ کا عام جنتا کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے؟ سی ایس او کی رپورٹ سے ایک اور اہم بات کا پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین پر اپنی بڑھت بنائے رکھی ہے۔ چین میں اس سال جنوری ۔مارچ کے دوران جی ڈی پی شرح پچھلے برس کی نچلی سطح پر کھسک کر6.7 فیصدی تک رہ گئی جبکہ بھارت نے دسمبر سہ ماہی میں 7.3 فیصدی کے مقابلے مارچ سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح بڑھی ہے۔ ہاں تو ہم بات کررہے تھے عام جنتا کے لئے اس بڑھی شرح کا کیا فائدہ ہے؟ زمینی سطح پر تو بڑھے سروس ٹیکس اور ایندھن کا خرچ بڑھنے سے عام جنتا کے لئے مہنگائی کی مار الٹے تیز ہوگئی ہے۔ ایک جون سے زرعی بہبود سیس لگنے سے سروس ٹیکس کی شرح 14.5 فیصدی سے بڑھ کر15 فیصدی ہونے سے کئی خدمات متاثر ہوں گی۔ پیٹرول جو گزشتہ مارچ میں 56.11 روپے فی لیٹر بک رہا تھا وہ تقریباً9 روپے بڑھ کر 65.60 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وہیں ڈیزل 46.43 روپے فی لیٹر سے 7.50 بڑھ کر 53.93 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام اب بڑھنے لگے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرو مصنوعات کی قیمتوں میں اور اضافہ ہوسکتا ہے۔ جہاز ایندھن مہنگا ہونے سے ہوائی سفر مہنگا ہوگیا ہے۔ جون سے نیگیٹو لسٹ میں شامل ایئر کنڈیشن بسوں کے سفر سروس ٹیکس، زرعی سیس لگنے سے ریل گاڑیاں یابس میں ایئر کنڈیشن کیٹیگری کا سفر، ہوائی جہاز میں سفر، ریستوراں میں کھانہ، بینک اور بیمہ کمپنیوں سے ملنے والی سیوائیں ،شادی بیاہ اور بیمہ کمپنیوں سے ملنے والی سیوائیں اور دیگر سامان مہنگے ہوگئے ہیں۔ جون کی گرمی کا اثر جنتا کی جیب پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ غیر سبسڈی والے رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت بھی اس مہینے21 روپے بڑھ گئی ہے۔ پیٹرو مصنوعات پر خاص کر ڈیزل کے دام بڑھنے سے کسانوں سے لیکر عام آدمی تک پریشان ہوتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے ایک طرف جہاں کسانوں پر سینچائی و ٹریکٹر چلانے کا خرچ بڑھتا ہے وہیں دوسری طرف ٹرکوں کو کرایہ بڑھنے کی وجہ سے آلو، پیاز و سبزیوں سے لیکر تمام غذائی مصنوعات کی ٹرانسپورٹ لاگت بڑھ جاتی ہے اس سے اشیاء ضروریہ کے دام تو بڑھیں گے ہی افراط زر بھی اوپر جائے گی جس کا معیشت کی صحت پر سیدھا اثر پڑے گا۔ یعنی کل ملا کر جہاں ترقی شرح بڑھ رہی ہے وہیں مہنگائی بھی بڑھتی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

کیا انہیں پریوار واد کیخلاف بولنے کا حق ہے

راجیہ سبھا کی 57 سیٹوں کے لئے 11 جون کو ہونے والے چناؤ میں دلچسپ نظارے سامنے آنے والے ہیں۔ ایک طرف جہاں اپنے سگے رشتے داروں کو راجیہ سبھا میں پہنچانے کی تیاری ہورہی ہے وہیں دوسری طرف سیاسی پارٹیاں اسمبلی چناؤ کو بھی سامنے رکھنے میں لگی ہوئی ہیں۔سب سے دلچسپ نظارہ بہار اتراکھنڈ میں ہونے والا ہے۔ بہار میں راجیہ سبھا کی 5 سیٹیں ہیں اس کے لئے جنتا دل (یو) کے لئے10 سیٹوں کیلئے جے ڈی یو کے سابق قومی صدر شر دیادو اور آرتی سنگھ،اور آر جے ڈی کی طرف سے پارٹی چیف لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی میسا بھارتی اور سپریم کورٹ کے مشہور وکیل رام جیٹھ ملانی نے اپنا اپنا پرچہ بھرا ہے۔ نمبروں کے حساب سے میسا کے راجیہ سبھا کا ممبر بننے کی پوری امید ہے۔ اگر میسا کامیاب ہو جاتی ہیں تو لالو خاندان کے چوتھے ممبر سیاست کے میدان میں دم بھریں گے۔ لالو یادو کے دونوں لڑکے تیجسوی اور تیج پرتاپ یادو نتیش کمار کی کیبنٹ کے ممبر ہیں۔ بیوی رابڑی دیوی بہار کی وزیر اعلی رہ چکی ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ سیاسی اکھاڑے میں لالو خاندان کہ اگلے ممبرکون ہوتے ہیں؟ جارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر اور ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے شیبو سورین اپنے چھوٹے بیٹے بسنت سورین کو راجیہ سبھا میں بھیجنے کی تیاری کررہے ہیں۔ شیبو سورین کے بڑے بیٹے ہیمنت سورین سیاست میں پہلے ہی اپنا سکہ جما چکے ہیں اور جھارکھنڈ کے وزیراعلی بھی بن چکے ہیں۔ شیبو سورین کے بھائی لالو سورین بھی سیاست کے میدان میں اپنا داؤ کئی بار آزماچکے ہیں لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ معلوم ہوکہ جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا کی دو سیٹیں خالی ہوئی ہیں ایک سیٹ کانگریس کے دھیرج ساہو اور ایک سیٹ بھاجپا کے این جے اکبر کی خالی ہوئی ہے۔ بھاجپا نے جہاں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کو امید وار بنایا ہے وہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے بسنت سورین کے نام کا اعلان کیا ہے۔ فی الحال لالو یادو پریوار اپنے سمدھی ملائم سنگھ یادو پریوار سے کافی پیچھے ہیں۔ اترپردیش میں ملائم سنگھ یادو پریوار کے 18 ممبر اسمبلی سے لیکر راجیہ سبھا میں پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔ بہار میں اسمبلی کی طرز پر راجیہ سبھا چناؤ میں بھی مہاگٹھ بندھ نے دبدبہ بنائے رکھنے کی بنیاد تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنیاد بھی ایسی جس کا جواز مفاد پرستی والا ہو۔ آرجے ڈی امیدوار رام جیٹھ ملانی نے انگریزی میں حلف لیا۔پرچہ داخل کرنے کے بعد انہوں نے حلف لینے کے لئے انگریزی کی کاپی مانگی جو دستیاب نہیں تھی۔ فوراً انگریزی میں حلف نامہ کی کاپی منگائی گئی ۔ کون کہتا ہے کہ بھارت میں پریوار واد کو بڑھاوا نہیں دیا جاتا۔ جہاں ایک ایک خاندان کے 18 ممبر سرگرم سیاست میں ہوں کم سے کم ان لوگوں کو تو پریوار واد کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ کیا پریوار واد پر ریزرویشن نہیں ہونا چاہئے؟
(انل نریندر)

03 جون 2016

فوجی سازو سامان ڈپو میں آگ کا سلسلہ تھمتا نظر نہیں آرہا

7 ہزارایکڑ میں پھیلے دیش کے سب سے بڑے فوجی سازو سامان ذخیرہ میں لگی خطرناک آگ نے سب کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ یہ فوج کے بیش قیمت بھنڈاروں میں آگ لگنے کی اب تک کی سب سے بڑی واردات ہے۔ مہاراشٹر کے وردھا ضلع کے پل گاؤں بھنڈار میں پیر کو آدھی رات لگی اس خوفناک آگ پر قابو تو ضرور پالیا گیا ہے لیکن اس حادثہ سے ایک بار پھر فوجی سازو سامان کے گوداموں کی سلامتی کو لیکر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ جنگی سازو سامان ذخائر گودام میں موجود فوری ایکشن ٹیم اور فائر ٹیموں نے تیزی دکھائی جس کی وجہ سے آگ ڈپو کے ایک حصے تک ہی محدود رہی۔ مگر اس حادثے میں ہوئی 19 جوانوں و افسروں کی موت یہ بتاتی ہے کہ انہیں امن کے دور میں بھی کس طرح خطروں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ حادثہ میں لیفٹیننٹ کرنل آر ایس پوار، میجر کے ۔منوج، فوج کے ایک جوان اور ڈپو میں تعینات فائر محکمہ کے ملازمینوں کی موت ہوگئی۔ حادثہ میں 130 ٹن گولہ بارود تباہ ہوگیا۔ پاس کے 7 دیہات کو خالی کرانا پڑا۔ 7 ہزار ایکڑ میں پھیلا فوجی سازو سامان ڈپو دیش میں سب سے بڑا اور ایشیا کا دوسرا ڈپو مانا جاتا ہے۔ دیش میں ایسے15 ڈپو ہیں۔ فیکٹریوں سے گولہ بارود، ہتھیار، میزائلیں تک سیدھے اس ڈپو میں آتی ہیں اور یہاں سے ضرورت کے مطابق فوج کے دوسرے سینٹرز میں انہیں بھیجا جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے یہاں گولہ بارود اور ہتھیار دیش کی سلامتی کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے مگر ان سے اپنے ہی لوگوں کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا۔ دراصل دیش کے جنگی سازو سامان کے بیش قیمت بھنڈاروں میں سیکورٹی معیارات کو لیکر پہلے بھی سوالات اٹھے ہیں۔ پچھلی ڈھائی دہائی کے اعدادو شمار دیکھیں تو پل گاؤں، جبلپور، کولکتہ اور بھرت پور کے فوجی سازوں سامان ڈپو میں بھی اسی طرح کی آگ زنی کے واقعات ہو چکے ہیں جن میں گولہ بارود تباہ ہونے کے ساتھ ہی کئی جوانوں کی موت بھی ہوئی۔ یہ آگ کن حالات میں لگی اس کے لئے کون ذمہ دار ہے اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ماہرین سازش کے اندیشے سے بھی انکار نہیں کررہے ہیں۔ پورے معاملے کی جانچ کیلئے اسپیشل تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) بنا دی گئی ہے۔ اس کی رپورٹ کا انتظار کرنے کے علاوہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بیش قیمت فوجی سازو سامان کے ڈپو میں آگ لگنے کی دیش میں یہ کوئی اکلوتی واردات نہیں ہے۔ ابھی کوئی چھ مہینے پہلے 8 دسمبر2015 کو وشاکھاپٹنم میں واقع بحریہ ہتھیار ڈپو میں آگ لگی تھی۔ اس صدی کی ڈیڑھ دہائیوں میں اب تک ہتھیار ڈپو میں آگ لگنے کی یہ پانچویں واردات ہے۔ہم دنیا کے شکتی مان بننے کی دوڑ میں تو شامل ہیں لیکن کیا ایسی کوئی بڑی طاقت بھی دنیا میں ہے ، جہاں ہتھیار ڈپو میں آگ لگنے کے اتنے واقعات ہوتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ پچھلے حادثوں سے ہم نے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ سال2000ء میں بھرت پور فوجی سازو سامان ڈپو میں ہوئی آگ زنی کے بعد کا تجزیہ تھا کہ اس میں قریب پونے چارسو کروڑ روپے کا گولہ بارود ضائع ہوگیا تھا اور وہ کارگل جنگ کے دوران خرچ ہوئے گولہ بارود کے برابر تھا جب بھی ایسی کوئی واردات ہوتی ہے تو تبھی متعلقہ فریق پھرتی دکھانے میں پیچھے نہیں رہتے۔ نہ صرف متوفین کو شردھانجلی دینے میں بلکہ واقعات پر تشویش اور دکھ جتانے اور اس کی جانچ کرانے کے حکم میں کوئی ڈھلائی نہیں برتی جاتی لیکن کچھ وقت گزر جانے کے بعد جب حالات ٹھیک ہوجاتے ہیں تو ان جانچ رپورٹوں کا پتہ نہیں کیا ہوتا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے کوئی کارگر اور مستقل انتظام نہیں کیا جاتا۔اس بار بھی لاپرواہی سے لیکر سازش تک ہر ممکنہ زاویئے سے جانچ کی بات کی جارہی ہے۔ جانچ بالکل ہونی چاہئے لیکن اس کا فائدہ تبھی ہے کہ اس جانچ کی بنیاد پر ٹھوس قدم اٹھائے جائیں تاکہ مستقبل میں دیش کے جان و مال کو بچایا جاسکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔
(انل نریندر)

ڈی ایس پی کا بیٹا، ممتا کلکرنی کا شوہر ڈرگس کا بادشاہ

ڈرگس کا کاروبار اتنا بڑھ گیا ہے کہ آئے دن ڈرگس کے پکڑے جانے کی خبریں عام طور پر آتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے افیم کی اسمگلنگ کرنے والے گوروہ کا پردہ فاش کرکے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا۔پانچوں ملزمان بریلی یوپی کے رہنے والے ہیں۔ان کے قبضے سے 105 کلو افیم برآمد کی گئی ہے جس کی مالیت بین الاقوامی بازار میں 20 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔اسے اب تک کی سب سے بڑی برآمدگی بتایا جارہا ہے۔ پولیس ٹیم کو پتہ چلا کہ گروہ کے ممبر منی پور سے بریلی ، یوپی سے افیم لاتے ہیں۔ یہاں سے دہلی، پنجاب و یوپی کے دیگر حصوں میں سپلائی کرتے ہیں۔ پولیس پوچھ تاچھ میں پتہ چلا کہ پانچوں ملزمان نے بولیرو گاڑی خریدی تھی اور انہوں نے جیپ کی پچھلی سیٹ کے پاس چھت میں افیم چھپانے کی جگہ خاص طور سے بنا رکھی تھی۔ منی پور سے آتے ہوئے جیپ کی کئی جگہ چیکنگ ہوتی ہے مگر ملزم پکڑے نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے افیم کو ایک ایک کلو کے پیکٹ میں رکھا ہوا تھا۔ ڈرگس میں اتنا پیسہ ہوگیا ہے کہ اب کئی بڑی ہستیاں بھی اس میں شامل پائی جارہی ہیں۔ بات پچھلے سال مارچ کی ہے کینیا سے ممباسا میں افریقہ کے نامی گرامی وکیل کلف اومبیٹا رو پڑے۔ وجہ تھی کہ عدالت نے ان کے موکل بختاش عکس اور اس کے ساتھی وکی گوسوامی کو نشیلی دوا کی اسمگلنگ کے الزام میں مچلکہ پر رہا کردیا تھا۔جس کی امید نہیں تھی۔اس کے ساتھ دو لوگ اور تھے۔ ان چاروں کو 21 دن سے گرفتار کیا ہوا تھا۔ چاروں پر امریکہ میں بھی نشیلی دواؤں کی اسمگلنگ کے الزامات تھے اور انہیں ڈیپوٹ کیا جاتا تھا۔ یہ وکی گوسوامی اور کوئی نہیں گزرے زمانے کی ہیروئن ممتا کلکرنی کی شوہر ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر میں پکڑی گئی ایفیڈرین وکی گوسوامی کی بتائی جارہی ہے اور ممتا کلکرنی کو بھی اس میں ساتھی ملزم بنانے کی خبر ہے۔ دیش میں اب تک پکڑی گئی نشیلی دواؤں کی سب سے بڑی کھیپ بتائی جارہی ہے۔20 ٹن کی ایفیڈرین کی مالیت 2 ہزار کروڑ روپے بتائی جارہی ہے۔
وکی گوسوامی بنیادی طور سے احمد آباد کا رہنے والا ہے۔ اس کی کہانی احمد آباد میں غیر قانونی طور سے شراب بیچنے سے شروع ہوکر بین الاقوامی ڈرگس مافیہ بننے کی ہے۔ اس کے پاس خود کا جیٹ طیارہ ہے۔ہوٹل وغیرہ ہیں۔ گجرات اے ٹی ایس کے مطابق وکی گوسوامی گجرات کے ریٹائرڈ ڈی ایس پی آنند گیری گوسوامی کا بیٹا ہے جو15 بھائی بہنوں کے بیچ پلا بڑھا ہے۔ والد آنند گیری کو گجرات میں غیر قانونی طریقے سے شراب بیچنے کے معاملے میں معطل کیا گیا تھا۔ بھارت میں جہاں میڈریکس کی سب سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے وہیں افریقی ملکوں میں اس کی سب سے زیادہ کھپت ہوتی ہے اس لئے وکی نے افریقی دیشوں کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور طاقتور دوستوں کی بدولت وکی نے ساؤتھ افریقہ میں اپنی اسٹیٹ قائم کرلی ہے۔
(انل نریندر)

02 جون 2016

افریقی شہریوں پر بڑھتے حملے

دہلی میں افریقی شہریوں پر بڑھتے حملے تشویش کا باعث ہیں۔ کچھ دن پہلے دہلی کے وسنت کنج علاقہ میں کانگو کے ایک لڑکے کو تین لوگوں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ پچھلے ہی ہفتے ساؤتھ دہلی کے چھترپور علاقہ میں پھر کچھ افریقیوں پر حملے ہوئے، جن میں زخمی ایک افریقی کی حالت نازک ہے۔ ان حملوں کو ایک جرائم کی واردات کی شکل میں دیکھا جائے یا ایک ٹرینڈ یا نسلی تعصب کے طور پر؟ ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر نے بے جھجھک اسے نسل پرستی کی وارداتیں قرار دیا ہے حالانکہ انہوں نے ساتھ ہی یہ ضرور جوڑا کہ نسل پرستی حکومت ہند کی پالیسی نہیں ہے، اور امید کی جانی چاہئے کہ وہ ایسے واقعات سے سختی سے نمٹے گی۔ صدر محترم پرنب مکھرجی نے کہا کہ یہ بیحد افسوسناک ہوگا کہ بھارت کے لوگ افریقہ سے ہماری دوستی کی بیحد پرانی روایت کو نقصان پہنچائیں۔افریقی شہریوں کا بھارت میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری طرف گوا کے وزیر سیاحت دلیپ پارو لیکر نے کہا کہ نائیجریا کے شہری نہ صرف گوا میں بلکہ پورے دیش میں پریشانیاں کھڑی کررہے ہیں۔ وہ نشیلی چیزیں بیچنے اور دوسری حرکتوں کے لئے واردات کرتے ہیں۔ گوا میں 31 سالہ ایک خاتون کو اغوا کر اس کی آبروریزی کرنے کے ملزم نائیجریا کے ایک شخص کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق اسے مہاراشٹر سے پکڑا گیا ہے۔ متاثرہ کا دعوی ہے کہ دو افریقی شہریوں نے چاقوکی نوک پر اسے اغوا کر اس سے بدفعلی کی۔ ساؤتھ دہلی کے راجپور خورد علاقہ میں افریقی شہریوں کے ایک گروپ پر الزام ہے کہ انہوں نے پیر کو صبح سویرے چار بجے ایک کیب ڈرائیور کی پٹائی کردی۔ پولیس کے مطابق ان میں سے 4 مرد اور 2 عورتیں تھیں۔ سبھی مسافروں کو کیب میں بیٹھنے سے منع کرنے پر ڈرائیور سے ان کی بحث ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے ڈرائیور پر حملہ کردیا۔ 5 لوگ تو بھاگ گئے لیکن ڈرائیور نے ایک خاتون کو پکڑلیا۔ یہ روانڈا کی باشندہ بتائی جارہی ہے۔ اس خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارت میں رہ رہے افریقیوں کا عام تجربہ یہ ہے کہ ان پر حملوں یااذیت کے معاملوں میں پولیس تماشائی بنی رہتی ہے۔ یہاں ان کا سماجی تجربہ بھی کم تکلیف دہ نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے ان پر اکثر چھینٹا کشی کی جاتی ہے۔ قابل اعتراض فقرے کسے جاتے ہیں۔ نسل پرستی پر مبنی گالیاں دی جاتی ہیں۔ دوکاندار، ٹیکسی ، آٹو ڈرائیور ان سے خوشگواری سے پیش نہیں آتے۔ان شکایتوں کو سرے سے مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ان الزامات اور حملوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے دہلی پولیس کو ایسے واقعات سے سختی سے نمٹنے کے احکامات دئے ہیں۔بھارت ہمیشہ نسل پرستی کے خلاف ہے۔ یہ گاندھی کی بھی وراثت ہے اور نسل پرستی کے خلاف ہماری جدوجہد کی بھی۔
(انل نریندر)

اکناتھ کھڑسے کاداؤد کے گھر فون کرنے کا معاملہ

مہاراشٹر کی دیویندر فڑنویس حکومت میں وزیر ذراعت اکناتھ کھڑسے بری طرح مشکل میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ مافیہ ڈان ڈاؤد ابراہیم کا فون ہیک کرنے والے بھنیش منگالے نے بھی بمبئی ہائی کورٹ میں کھڑسے کے خلاف عرضی دائر کردی ہے۔ منگالے نے اس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ بتادیں معاملہ کیا ہے؟ گجرات کے باشندے ہیکر بھنیش منگالے کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم ہیک کر یہ جانکاری حاصل کی ہے کہ داؤد کی بیوی مہہ جبیں شیخ کے جام سے لگے لینڈ لائن سے کھڑسے کے نام رجسٹرڈ نمبر پر کئی بار فون گئے۔ کھڑسے کا کہنا ہے کہ جس نمبر سے بات چیت کا دعوی کیا جارہا ہے وہ ان کے نام پر ہے لیکن ایک سال سے بند ہے۔وزیر اعلی فڑنویس نے معاملے کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں۔ شروعات جانچ میں ممبئی پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر کھڑسے کو کلین چٹ دے دی تھی۔ بعد میں ممبئی پولیس کمشنر دتہ متھے پرسل گیکرنے معاملے کی جانچ جاری ہونے کی بات کہی ہے۔ دوسری طرف منگالے نے کھڑسے کو کلین چٹ دینے میں پولیس کے ذریعے دکھائی گئی جلد بازی پر بھی سوال اٹھائے ہیں ساتھ ہی اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے سکیورٹی کی مانگ کی ہے۔ عرضی میں منگالے نے کہا کہ ممبئی پولیس کے پاس کھڑسے کے خلاف الیکٹرانک ثبوت ہیں اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کھڑسے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے ان کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کر جانکاریاں و ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ منگالے نے معاملے کی جلد سماعت کو لیکر پیر کو کوئی فیصلہ ہونے کی امید جتائی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ میں نے داؤد کے کراچی میں گھر پر لگے لینڈ لائن نمبر کی جو کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کی ہیں وہ5 ستمبر2015 سے5 اپریل 2016ء تک ہی ہیں۔ کھڑسے کے جس موبائل نمبر سے داؤد کے ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی ہے وہ نمبر اب بھی سروس میں ہے۔ اس نمبر کے بل لگاتارکھڑسے کے پتے پر بھیجے جارہے ہیں۔ اگر سرکار اجازت دے تو میں 10 منٹ میں داؤد کے نمبر اور سی ڈی آر حاصل کرسکتا ہوں۔ باقی کے چار بھارتیہ موبائل نمبر سیاست سے وابستہ لوگوں کے ہیں۔ کراچی کے جس ٹیلیفون نمبروں سے ان نمبروں پر ٹیلی فون آئے ہیں، وہ نمبر داؤد کے ہی ہیں۔ ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں وزیر محصول نے اپنی طرف سے پاکستان سے اکھٹے کئے گئے ثبوت ممبئی پولیس کو سونپ دئے ہیں۔ کھڑسے نے کہا کہ میں اس معاملے کی جڑ تک جاؤں گا اور بتایا کہ پاکستان سے میں نے کافی جانکاری اکھٹی کی ہے۔ کھڑسے نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، اے ٹی ایس ، سائبر سیل اور ممبئی پولیس کے سطح پر شروع ہے۔ پولیس جانچ میں سچائی سامنے آ جائے گی۔ اگر کسی کے پاس کچھ ثبوت ہے تو وہ پولیس میں شکایت درج کرا سکتا ہے لیکن سستی مقبولیت کے لئے الزام لگانا صحیح نہیں ہے۔
(انل نریندر)

01 جون 2016

ڈونلڈ ٹرمپ اگر صدر بنے تو 28 فیصد امریکی ملک چھوڑدیں گے

امریکی صدر کے عہدے کے چناؤ کیلئے ریپبلکن پارٹی کے امکانی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز واشنگٹن پرائمری چناؤ آسانی سے جیت لیا ہے۔ اب وہ صدر کے عہدے کے چناؤ میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے سے محض ایک قدم دور ہیں۔امریکہ میں صدراتی چناؤ نومبر میں ہوگا جس میں ٹرمپ کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کی سابق صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن سے ہونے کا امکان ہے۔ اپنی متنازع بیان بازی کے لئے مشہور ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کی مضبوط دعویداری سے یہاں کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ ایک سروے کی مانیں تو ٹرمپ کے صدر بننے پر امریکہ کے 28 فیصدی لوگ امریکہ چھوڑ کر کینیڈا ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ مارچ میں 7 صوبوں میں ہوئی پرائمری میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیت حاصل ہونے کے بعد یہ سروے کیا گیا۔سروے کا دعوی کتنا صحیح ثابت ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ تب ہے جب ٹرمپ سے لوگ خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے اپنے چناوی وعدے میں کہا کہ وہ امریکہ کی کھوئی چمک کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ ٹرمپ کی چناؤ کمپین میں اور ان کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں یہ بات خاص طور سے رہی ہے کہ وہ غیر قانونی مہاجرین پر شکنجہ کسنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو نکالنے یا ’’دیوار‘‘ کے اس طرف دھکیلنے کے لئے طاقت کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔’’دیوار‘‘ میکسیکو سے لگی سرحد پر بنائی جانی ہے۔ امریکہ میں غیر قانونی طور سے رہ رہے 1.1 کروڑ لوگوں کو کم کرنے کیلئے ٹرمپ کی سیدھی سچی اسکیم ہے معزوری۔ صدر جارج بش کے عہد میں ہوم لینڈ سکیورٹی محکمے کے چیف رہے مائیکل چرٹوف کہتے ہیں کہ میں یہ تصور نہیں کرسکتا کہ وہ کیسے1.1 کروڑ لوگوں کو کچھ ہی سال میں ملک سے باہر کردیں گے۔ وہ بھی ایسی جگہ جہاں پولیس بغیر کسی وارنٹ کے کسی کے گھر میں دستک نہیں دے سکتی۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 1609 کلو میٹر لمبی میکسیکو سرحد (ساؤتھ بارڈر) پر دیوار بنائیں گے ، جو بڑی خوبصورت اور اونچی، مضبوط ہوگی۔ ادھر امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنا یا انہیں نیچا دکھانا امریکی اقدار کے خلاف ہے اور اس سے ہم کٹر پسندی کے خلاف لڑائی میں اپنا ایک اہم ترین تعاون کھو سکتے ہیں۔ مسٹر اوبامہ جنہوں نے اب تک صدر کے عہدے کے چناؤ کمپین سے اپنی دوری بنا رکھی تھی ، نے مسلمانوں کے بارے میں نامناسب تبصرے پر ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لئے بغیر جواب دیا ہے۔ ٹرمپ نے اوبامہ پر یہ کہہ کر سیدھا حملہ کیا تھا کہ چاہے سیاست ہو یا شخصی زندگی ’’ناواقفیت‘‘ کوئی خوبی نہیں ہوا کرتی۔ انہوں نے منگلوار کو ٹوئٹ کر کے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مسٹر اوبامہ سب سے خراب صدر ثابت ہوئے ہیں۔ ٹرمپ امریکہ میں مسلمانوں کی اینٹری پر عارضی پابندی کی بات کررہے ہیں جس پر امریکہ و باقی دنیا میں بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ٹرمپ پر سیدھا حملہ بولتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی مضبوط دعویدار ہلیری کلنٹن نے انہیں بے لگام بتاتے ہوئے کہا کہ دیش ان کے ساتھ خطرہ نہیں لے سکتا۔ ایک بڑے ٹی وی انٹرویو میں ہلیری نے سی این ای کو بتایا کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بے لگام شخص کے ہاتھ میں دیش کی کمان سونپنے کا خطرہ کیسے لے سکتے ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو ابھی امریکی صدارتی امیدوار بنے ہیں اور نہ چناؤ جیتے ہیں۔ اس کے پہلے ہی ان کے ان وعدوں پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ وہ امریکہ میں غیر قانونی طور سے رہ رہے 1.1 کروڑ لوگوں کو کیسے نکالیں گے؟ میکسیکو کی 1609 کلو میٹر لمبی سرحد پر دیوار کیسے بنوائیں گے اور مسلمانوں کی اینٹری پر پابندی کیسے لگوائیں گے؟ چناؤ نومبر میں ہونا ہے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

دیش کی چناوی تاریخ میں الیکشن کمیشن نے پہلی بار ایسا فیصلہ لیا ہے

ہندوستان کی چناوی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس کی تعریف ہونی چاہئے۔ کمیشن نے ووٹروں کو متاثرکرنے کے لئے پیسے کا استعمال کیجئے جانے کے ثبوت ملنے کے بعد سنیچر کو تاملناڈو کے گورنر کے روسیا کو پردیش کی دو اسمبلی سیٹوں کے چناؤ منسوخ کرنے کی سفارش کی تھی۔کمیشن نے گورنر سے نوٹیفکیشن میں ترمیم کر تاملناڈو اسمبلی کی دو سیٹوں کے لئے مناسب وقت پر نئے چناؤ کرانے کو کہا ہے۔ اس سے پہلے چناؤ کمیشن نے اوراؤکروچی، تھنجابر اسمبلی سیٹوں کے لئے چناؤ میں دو موقعوں پر امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعے ووٹروں کو وسیع پیمانے پر پیسہ اور تحفے بانٹنے کی اطلاع پر ملتوی کیا تھا۔ شروع میں پولنگ 13سے23 مئی کے لئے ملتوی کی گئی تھی۔ 21 مئی کو چناؤ کمیشن نے پولنگ ایک بار پھر13 دن کے لئے ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا۔ ان دونوں اسمبلی سیٹوں پر 8 کروڑ روپے سے زیادہ نقد رقم ضبط کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ تلاشی کے دوران 2500 لیٹر شراب، چاندی کے زیورات اور دھوتی اور ساڑی وغیرہ برآمد کئے گئے تھے۔ ایک افسر نے بتایا چناؤ کمیشن کی ہدایت کے مطابق چناؤ کمیشن اس سے مطمئن ہے کہ دو اسمبلی حلقوں میں چناؤ عمل اور امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعے ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے پیسہ اور دیگر تحائف پیش کئے جانے کے چلتے یہ متنازع ہوگئے ہیں اس کارروائی کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اسے منسوخ ہونا چاہئے۔ چناؤ منسوخ کرنے کا چناؤ کمیشن کا فیصلہ پیسے کے بل پر چناؤ جیتنے کی کوشش کرنے والے کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ اس جھٹکے کی سخت ضرورت بھی تھی۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی کیا گارنٹی کے آگے ماحول بہتر ہوجائے گا؟ ایسا پہلی بار نہیں جب نقد رقم ضبط کی گئی ہو لیکن چپ چاپ طریقے سے پیسہ بانٹنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ ووٹروں کو پیسے کا لالچ دے کر چناؤ جیتنے کے مسئلہ نے ایک سنگین شکل اختیار کرلی ہے۔ پیسے کا کھیل ٹکٹ بانٹنے سے لیکر شرو ع ہوجاتا ہے اور نتیجے آنے تک چلتا رہتا ہے۔ اس بات کے بھی آثار کم ہیں کہ ہماری سیاسی پارٹیاں سدھریں گے۔ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔ جہاں چناؤ کمیشن کے ذریعے ان دو اسمبلی حلقوں میں دوبارہ چناؤ کرانے کا فیصلہ لائق تحسین ہے وہیں ہم سمجھتے ہیں کہ چناؤ کمیشن کو کرپٹ طریقے اپنانے والے امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو چناؤ لڑنے کے نا اہل قرار دینے کا اختیار ملنا چاہئے۔ اگر چناؤ کمیشن اصلاحات سے متعلق اور زیادہ حقوق سے مضبوط نہیں ہوتا تو اس میں شبہ ہے کہ یہ غیر جمہوری رواج رکنے والا نہیں ہے۔ خیر پھر بھی اس سمت میں چناؤ کمیشن کا یہ پہلا قدم ہے۔
(انل نریندر)

31 مئی 2016

دہلی پولیس کی سرگرمی سے دوسرا نربھیہ کانڈ ہونے سے بچا

آئے دن دہلی پولیس کی تنقید ہوتی رہتی ہے لیکن جب وہ اچھا کام کرتی ہے تو دہلی پولیس کی تعریف کرنے میں اتنی کنجوسی کیوں؟ دہلی پولیس کتنے مشکل حالات میں کام کرتی ہے اس کی بھی تو بات ہونی چاہئے۔ حال ہی میں پولیس کی سرگرمی سے دوسرا نربھیہ کانڈ ہوتے ہوتے بچا۔ معاملہ نارتھ دہلی کے سول لائنس علاقے کا ہے۔ یہاں سفید رنگ کی سینٹرو کار میں سوار تین لڑکوں نے ایک لڑکی اور اس کی دوست کو اپنی کار میں لفٹ دے دی۔ راستے میں لڑکے کو کارسے باہر پھینک دیا اور تینوں لڑکے لڑکی کو لیکر فرار ہوگئے۔لڑکے کی اطلاع پر پی سی آر وین میں سوار دو پولیس کانسٹیبلوں نے قریب 6 کلو میٹر تک سینٹرو کار کا پیچھا کرنے کے بعد لڑکی کو تینوں لڑکوں کے چنگل سے آزاد کرالیا۔ تینوں ملزمان کو سول لائنس تھانہ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ملزان کی پہچان شیو وہار کے باشندے شیو کمار عمر32 سال، نہرو وہار کے باشندے سورو کمار 35 سال، جوہری پور کے باشندے سچن 34 سال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان تینوں ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ365/366 اور 392 کے تحت اغوا ، لوٹ مار کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جمعہ کو دیر شام لڑکی اپنے دوست کے ساتھ بڑاڑی چوک پر آٹو کا انتظار کررہی تھی تبھی سفیدرنگ کی سینٹرو کار میں سوار تین لڑکے وہاں پہنچے۔ تینوں نے لڑکے و لڑکی کو بس اسٹینڈ تک چھوڑنے کی بات کہہ کر اپنی کار میں لفٹ دے دی۔ کار میں بیٹھتے ہی لڑکے کو کار میں شراب کی بوتلیں نظر آئیں جس کے بعد اس نے تینوں ملزمان سے کار روکنے کی بات کہی اور اترنے کے لئے درخواست کی۔ تینوں لڑکوں نے لڑکے سے اس کا موبائل چھیننے کے بعد اسے چندگی رام اکھاڑہ کے پاس کار سے باہر پھینک دیا اور لڑکی کو لے کر فرار ہوگئے۔
اسی دوسران موقعہ سے گزر رہی ایک پی سی آر وین موجود اے ایس آئی مہندرسنگھ اورہیڈ کانسٹیبل جگدیش کو لڑکے نے آپ بیتی بتائی۔ دونوں پولیس ملازمین نے بغیر کسی دیری کے لڑکے کو اپنے ساتھ لیا اور قریب 6 کلو میٹر تک کار کا پیچھا کرنے کے بعد کشمیری گیٹ فلائی اوور سے شاہدرہ کی طرف جانے والے لوپ پرپی سی آر وین کار کو روکنے میں کامیاب ہوگئی۔ پولیس سے بچنے کے لئے ملزمان نے کار سے پی سی آر وین میں ٹکر بھی ماری لیکن تمام کوششوں کے باوجود تینوں ملزم خود کو پولیس کی گرفت سے نہیں بچا سکے۔ ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس نے کار سے شراب کی پوتلیں ،کھانے کے دوسرے سامان برآمد کئے۔ جانچ سے پتہ چلا تینوں نے قریب ڈیڑھ بوتل وسکی پی تھی اور شراب پینے کے بعد ایک ملزم نے ڈرگس کا انجکشن بھی لیا تھا۔ شاباش اے ایس آئی مہندر سنگھ اور ہیڈ کانسٹیبل جگدیش ۔تمام دہلی پولیس کو بدھائی۔
(انل نریندر)

دیدی کی دوسری پاری چنوتیوں سی بھری ہے

مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں تاریخی جیت درج کرگورنر ہاؤس کے بجائے ریڈ روڈ پر شاندار طریقے سے حلف برداری تقریب منعقد کر ممتا بنرجی ایک بار پھر سے وزیر اعلی بن گئی ہیں۔ اپنے حمایتیوں میں پیار سے کہلائی جانے والی 61 سالہ دیدی نے ثابت کردیا ہے کہ سڑکوں پر تحریک چھیڑنے کے ساتھ انہیں حکمت عملی بنانے میں بھی مہارت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممتا نے اپنے خلاف دھنواں دھار کمپین کے باوجود بھی لیفٹ ۔ کانگریس اتحاد اور بھاجپا کے چیلنجوں کو کامیابی سے درکنار کردیا۔ بہرحال اپنے دوسرے عہد میں ریاست کی معیشت کو پٹری پر لانا سرمایہ کاری کے لائق ماحول بنانا اور صنعتی ترقی کو رفتار دینے جیسی چنوتیوں سے ضرور انہیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ریاست پر بھاری بھرکم قرض بھی ہے اور دوسری اور پہلی بار سے بڑی جیت کی اہمیت کو نشاندہی کی ہے وہیں اس حلف برداری تقریب کے موقع پر زیادہ تر بھاجپا مخالف پارٹی نیتاؤں نے ایک نئی گٹھ جوڑ کی آہٹ بھی تیز ہوگئی ہے۔ 2014 ء کے لوک سبھا چناؤ سے پہلے ترنمول کانگریس نے ہی سب سے پہلے فیڈرل فرنٹ تشکیل کرنے کی پہل کی تھی لیکن یہ خواب تعبیر نہیں ہوسکا۔ وہیں ممتا کی حلف برداری میں حصہ لینے پہنچے آرجے ڈی چیف لالو پرساد یادو ، نیشنل کانفرنس کے چیف فاروق عبداللہ و دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے فیڈرل فرنٹ کی بحث چھیڑ کر نئے سیاسی تجزیئے کے جنم لینے کا اشارے دے دئے ہیں۔ 
بیشک دوسری پاری میں صنعتی دھندے اور روزگار کے مورچے پر کچھ بہتر کرنے کے لئے دی دی کو مرکز سے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔ پردیش بھاجپا کے بائیکاٹ کے باوجود حلف برداری تقریب میں مرکزی وزیر ارون جیٹلی کی موجودگی بتاتی ہے کہ دونوں ہی تعاون کرنے کے حق میں ہیں۔
اپنی دوسری پاری میں تمام اپوزیشن کو چت کر چکی دیدی ہے 200 سے زیادہ جیتے ہوئے ممبران میں سے41 کو بطور وزیر منتخب کرتے ہوئے انہوں نے تجربے ، خطے اور فرقہ جات کا خیال رکھا ہے۔ کیبنٹ میں مارکسوادی پارٹی سے آئے تیز طرار عبدالرزاق ملا بھی ہیں اور بنگال کے سابق کرکٹر لکشمی رتن شکلا بھی ہیں۔نارد اسٹنگ میں پھنسے دووزرا کو دیدی نے دوبارہ وزیر تو بنایا ہی، اس میں پھنسے دو ممبران اسمبلی کو بھی کیبنٹ میں لیکر انہوں نے جتادیا کہ وہ اخلاقیات کی پرواہ نہیں کرتیں۔ چونکہ پچھلی سرکار میں کئی وزرا کے کرپشن کے معاملے سامنے آئے تھے۔ ایسے میں کرپشن کے معاملے میں دیدی کا یہ رخ واضح نہیں کرتا مغربی بنگال کو اقتصادی ترقی کی مکھیہ دھارا میں لانے کیلئے انہیں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا امید کریں کہ اپنی دوسری پاری میں ممتا بنرجی اس سمت میں ضروری سنجیدگی کا ثبوت دیں گی؟ حلف برداری تقریب میں کانگریس یا لیفٹ مورچہ کا کوئی بھی سینئر لیڈر موجود نہیں تھا۔ دیدی کو بدھائی۔
(انل نریندر)

29 مئی 2016

جرنلسٹ راجدیو رنجن قتل کانڈ کے پیچھے کون اور کیوں

بدھوار کو بہار پولیس نے نامور روزنامہ ہندوستان کے جرنلسٹ راجدیو رنجن قتل کانڈ کا پردہ فاش کرنے کا دعوی کیا ہے۔ خیال رہے کہ13 مئی کو شام ساڑھے سات بجے بدمعاشوں نے سیوان میں معمور رونازہ ’’ہندوستان‘‘ کے سینئر جرنلسٹ راجدیو رنجن کو ٹاؤن تھانہ علاقہ کے تحت اوور برج کے پاس گولی مار دی تھی۔ راجدیو رنجن کو مار ڈالنے والے پانچ شوٹروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کو اب لڈن میاں کی تلاش ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ آر جے ڈی کے سابق ایم پی محمد شہاب الدین کے قریبی مانے جانے والے لڈن سے قتل کانڈ کے راز کھل سکتے ہیں۔ پولیس ابھی لڈن کو گرفتار نہیں کرپائی ہے۔ شوٹر سمیت پانچ لوگوں کی گرفتاری کے باوجود قتل کے پیچھے اسباب کا پتہ نہیں چل سکا۔ اے ڈی جی سنیل کمار نے بھی مانا کہ لڈن جانچ میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ واردات کے فوراً بعد پولیس نے اس کے سیوان میں واقع گھر پر دبش ڈالی تھی، لیکن وہ بیوی بچوں کو لیکر فرار ہوگیا۔ پانچ جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ روہت کو قتل کے لئے سپاری ملی تھی۔ یہ سپاری لڈن میاں نے دی تھی۔ قتل کے تار سیوان جیل سے جڑے ہوئے ہیں یا نہیں فی الحال پولیس اس کو لیکر کچھ بھی واضح کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اے ڈی جی نے کہا کہ روہت نے سازش کے نکتہ پر ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔ان کے پاس سے پولیس نے ایک کٹا، دو کارتوس اور قتل میں استعمال کی گئیں تین موٹر سائیکلیں برآمد کی ہیں۔ گرفتار شوٹر روہت کمار، وجے کمار، راجیش کمار، اشو کماراور سونو کمار گپتا شامل ہیں۔ ان سبھی کی عمر 24سے26 سال کے درمیان ہے۔ روہت نے راجدیو رنجن پر گولیاں برسانے کی بات قبول کرلی ہے۔ اس نے ان راستو ں کی بھی اطلاع دی جہاں سے ان سبھی پانچ شوٹروں نے راجدیو کا پیچھا کیا تھا۔ اس نے سیوان کے اندر ڈھالا میں واقع پھول منڈی کی اس جگہ کی بھی پہچان کروائی، جہاں راجدیو کو گولی ماری گئی تھی۔ اے ڈی جی نے کہا کہ جن تین موٹر سائیکلوں کو برآمد کیا ان میں ایک پر خون کے نشان بھی ملے ہیں۔ وہیں جرنلسٹ راجدیو رنجن کے قتل کی سپاری دینے والے لڈن میاں کا پرانی مجرمانہ تاریخ ہے۔ جرنلسٹ کو مارنے والے پانچ شوٹر گرفتار ہوئے تو پوری کہانی سنادی۔ کیسے پیچھا کیا، کہاں مارا، کس نے مارا اور پھر کیا ہوا۔ حالانکہ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ جرنلسٹ کو کیوں مارا گیا؟ پانچ نوجوان میں سے تین بائیک پر راجدیو رنجن کا پیچھا کرنے میں لگے تھے۔ اخبارکے دفتر سے نکلنے کے ساتھ ہی انہوں نے راجدیو کا پیچھا کرنا شروع کردیا تھا۔ راجدیو رنجن کی بیوی آشا دیوی نے بتایا کہ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے اور قتل کی وجوہات کا انکشاف کرنے کی بھی مانگ کی ہے ۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا ہم نے شروع سے کہا ہے کہ لوگوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ پولیس اس معاملے کی تہہ تک پہنچ رہی ہے جو بھی ذمہ دار ہوگا اس پر کارروائی ہوگی۔
(انل نریندر)

مغربی بنگال میں کھسکتا لیفٹ پارٹیوں کا جن آدھار

لال گرہ کہے جانے والے مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی چناؤ میں مارکسوادی پارٹی کی قیادت والا لیفٹ مورچہ بری طرح ہار کے بعد مارکسوادی پارٹی کے ایک پولٹ بیورو ممبرنے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس کے ساتھ چناوی اتحاد پارٹی کے خلاف گیا ہے اگر وہ اپنے ووٹ بینک میں ٹوٹ پھوٹ روکنے میں ناکام رہی تو اس کے سیاسی وجود پر بھی سوال کھڑے ہوجائیں گے۔ مغربی بنگال میں اقتدار سے ترنمول کانگریس کو ہلانے کے لئے لیفٹ مورچہ نے اپنی آئیڈیالوجی کو ایک کنارے کرتے ہوئے سیاسی دشمن مانے جانے والی کانگریس سے ہاتھ ملایا، لیکن اس پر بھی اسے چناؤ میں سب سے زیادہ کھونا پڑا۔ اس کی 2011ء میں 62 سیٹوں میں سے کھسک کر اس بار یہ محض32 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ مارکسوادی پولٹ بیورو کے ممبر و سابق ممبر پارلیمنٹ حنان ملا نے کہا کہ اگر ہم اپنے ووٹ بینک اور مینڈیٹ کو روک نہیں پائے تو ہم بنگال میں مارکسوادی پارٹی اور لیفٹ پارٹیوں کے وجود پر سنگین سوال کا سامنا کریں گے۔ ہم نہ صرف لوگوں کا مزاج اور نبض پہچاننے میں ناکام رہے بلکہ پچھلے پانچ سال میں اپنی کھوئی طاقت کو واپس پانے میں بھی ناکام رہے۔ ملا نے کہا کہ لوگوں نے کانگریس کے ساتھ لیفٹ کا اتحاد قبول نہیں کیا۔ ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ لوگوں نے بے روزگاری ،کرپشن اور صنعتی کرن کے اشوز کے باوجود بڑی تعداد میں ممتا بنرجی اور ترنمول کو ووٹ دیا۔ اس کے مقابلے بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے بعد کچھ حد تک اپنا اثر کھو چکی مغربی بنگال اسمبلی چناؤ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بار اس نے 70 سے زائد سیٹوں پر اپوزیشن لیفٹ فرنٹ اور کانگریس کے اتحاد کا کھیل بگاڑنے کا کام کیا ہے
۔ مغربی بنگال میں بھاجپا کو 2014ء کے لوک سبھا چناؤمیں 17.5 فیصدی ووٹ کے مقابلے میں ان اسمبلی چناؤ میں10.2 فیصدی ووٹ ملے لیکن پہلی بار پارٹی نے اس ریاست میں اپنے دم خم پر چناؤ لڑکر تین سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اس سے پہلے بھاجپا 2011ء میں ضمنی چناؤ میں دو بار جیت چکی ہے۔ اس کا ووٹ فیصد 4.06فیصد رہاتھا۔ مغربی بنگال میں ایسا لگتا ہے کہ لیفٹ کی قیادت والا مینڈیٹ بحال کر پانے میں ناکام رہا۔ برندا کرات نے بتایا کہ پارٹی لیڈرشپ مارکسوادی پارٹی کی خراب کارکردگی اور مغربی بنگال یونٹ کی چناوی حالت کا تجزیہ کرے گا جس سے صحیح پوزیشن کا پتہ چل سکے اور پارٹی کا مینڈیٹ بحال کرنے کی حکمت عملی بنائی جاسکے۔ مارکسوادی پارٹی کی مغربی بنگال ریاست کمیٹی کے ایک سینئر ممبر نے کہا کہ نتیجے اشارہ کرتے ہیں کہ لیڈر شپ تبدیلی سے لیکر مختلف سطحوں پر جو نئے چہرے لانے کے قدم اٹھائے وہ عام آدمی تک پہنچنے میں ہمیں مدد دینے میں ناکام رہے ہیں۔
(انل نریندر)