Translater
14 ستمبر 2024
رام رحیم کو چھ بار جیل سے نکالنے والا!
ہریانہ اسمبلی چناو¿ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق جیلر سنیل سانگوان کو چرخی دادر ی سے ٹکٹ دیا ہے ۔سنیل سانگوان اس وقت سرخیوں میں ہیں کیوں کہ ان کے جیل سپرنٹنڈنٹ کے عہد میں گرمیت رام رحیم ڈیرا سچا سودہ کو چھ بار پیرول ملی تھی۔گرمیت رام رحیم ریپ اور قتل کے قصوروار ہیں او رروہتک کی سناریہ جیل میں قید ہیں ۔جیل سپرنٹنڈنٹ عہدے سے وی آر ایس یعنی مرضی سے ریٹائرمنٹ لینے والے سنیل سانگوان گزشتہ دنوں بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ۔بی جے پی نے انہیں چرخی دادری سے چناو¿ میدان میںاتارا ہے ۔وی آر ایس سے پہلے سنیل سانگوان گروگرام کے بھونڈسی جیل میں بطور جیلر کام کررہے تھے اس سے پہلے سنیل پانچ سال تک روہتک جیل کے سپرنٹنڈنٹ رہ چکے ہیں ۔سال 2017 میں ڈیرا سچا سودہ چیف گرمیت رام رحیم کو آبروریزی اور قتل کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔سزا کاٹنے کے لئے روہتک کی سناریہ جیل بھیجا گیا تھا ۔اس وقت سنیل سانگوان روہتک جیل کے جیلر تھے ۔اس کے بعد ان کا ٹرانسفر گروگرام کی بھونڈسی جیل میں ہوگیا ہے ۔سنیل سانگوان کو بی جے پی میں شامل کرانے میں اتنی جلدی دکھائی گئی کہ ہریانہ سرکار نے اتوار یعنی ستمبر کو ہی گروگرام ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے وی آر ایس لینے کے لئے ان کی درخواست کو منظور کرنے کی کھانا پوری کر لی اور جیل کے ڈائرکٹر جنرل نے 01 ستمبر کو ریاست کے سبھی ایس پی صاحبان کو ایک ای میل بھیجا جس میں انہوں نے اسی دن 09 ڈیوز سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا ۔ڈی جی پی کی طرف سے جاری لیٹر میں کہا گیا ، سنیل سانگوان ایس پی جیل ، ضلع جیل ، گروگرام نے اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ لینے کے لئے درخواست کی ہے اس ل ئے اپیل ہے کہ سنیل سانگوان کے حق میں نوڈیوز سرٹیفکیٹ شام 4 بجے تک جاری کر دیا جائے ۔گرمیت رام رحیم کو کل دس مرتبہ پیرول پر جیل سے باہر نکالا جاچکا ہے ان میں چھ بار ایسا سنیل سانگوان نے بطور جیل ایس پی کیا ۔روہتک سناریہ جیل میں انہوں نے پانچ سال تک نوکری دی اور یہ وہی جیل ہے جہاں رام رحیم جیل کاٹ رہے ہیں ۔بی جے پی سے ٹکٹ ملنے کے بعد سنیل سانگوان کی شوشل میڈیا پر سخت نکتہ چینی جاری ہے ۔کانگریس نیتا سپریہ شرینیت نے ایکس پر لکھا کون اتنا نادان ہے جو اس خبر سے حیران ہے اس کے علاوہ شوشل میڈیا یوزرس گرمیت رام رحیم کو کئی بار ملی پیرول اور سانگوان کی امیدواری اور بی جے پی کے ساتھ ان کے رشتوں پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں ۔سنیل سانگوان نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرمیت رام رحیم کو ان کی وجہ سے چھ بار پیرول نہیں ملی ۔وہ کہتے ہیں مجھے ٹرول کیا جارہا ہے کہ میرے عہد میں بابا کو چھ بار پیرول ملی اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ پیرول جیل اسی پی کے دستخط سے نہیں ملتی بلکہ اس کی منظوری ڈویژنل کمشنر کے دستخط سے ہوتی ہے ۔ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق سنیل سانگوان جیل ایس پی کے عہدے سے ہٹنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کے والد ستپال سانگوان کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بی جے پی کی وجہ سے بی جے پی کو دادری میں ایک پاپولر نوجان چہرہ چاہیے تھا جو جاٹ فرقہ کا ووٹ حاصل کر سکے ۔سال 2019 کے اسمبلی چناو¿ میں چرخی دادری سے ببیتا پاکور ، ستپال سانگوان جی میدان میں تھے لیکن یہ دوسرے نمبر پر رہے ۔یہاں سے آزاد امیدوار سومویر نے بازی مار لی تھی
(انل نریندر)
دہلی میں صدر راج !
بھاجپا کیا چور دروازے سے دہلی کی چنی ہوئی سرکار کو برخواست کرنا چاہتی ہے یہ بات عآپ کی سینئر لیڈراور دہلی کی کیبنٹ وزیر آتشی نے منگلوارکو دہلی میں صدرراج نفاذ کی خبروں پر تنقید کرتے ہوئے کہی ہے ۔آتشی کا کہنا ہے بھاجپا کا ایک واحد کام چنی ہوئی اپوزیشن حکومتوں کو گرانا ہے اور بھاجپا دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ودھائک نہیں خرید سکی اس لئے اب و ہ دہلی کی چنی ہوئی دو تہائی اکثریت پانے والی سرکار کو گرانے کے لئے سازش شروع کردی ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر بھاجپا سازش رچ کر اروند کیجریوال کی سرکار گرائے گی تو آنے والے چناو¿ میں دہلی کی جنتا بھاجپا کو منھ توڑ جواب دے گی ۔وہیں بی جے پی نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کر کیجریوال سرکار کو برخواست کرنے کی مانگ کی ہے ۔بی جے پی کا کہنا ہے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے جیل جانے سے دہلی میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے اب سپریم کورٹ سے وہ رہا ہو گئے ہیں ۔30 اگست کو دہلی کے بی جے پی کے ممبر اسمبلی وجندر گپتا کی قیادت میں وفد راشٹر پتی سے ملا اور انہیں میمورنڈم دیا تھا ۔راشٹرپتی سچیوالے نے بھاجپا کے میمورنڈم کو داخلہ سکریٹری کے پاس بھیج دیا ہے سچیوالے کا کہنا ہے دہلی میں چل رہے آئینی بحران پر مناسب بیان دینے کی ضرورت ہے ۔بھاجپا ممبران اسمبلی نے دہلی سرکار کے بدنظمی اور مالی بے ضابطگیوں اور لوگوں کے حالات پر صدر سے شکایت کی تھی ۔صدر جمہوریہ نے اس شکایت پر نوٹس لیا تھا ۔اور کہا کہ اس پر غور کیا جائے ۔بھاجپا کے اس قدم کے بعد دہلی کے سیاسی حلقوں میں اس بات کا تذکرہ شروع ہو گیا ہے کہ کیا آئینی بحران کو لے کر کیجریوال سرکار کو برخواست کیا جاسکتا ہے ؟ عآپ سرکار کی وزیرآتشی نے دعویٰ کیا اگر بھاجپا سازش رچ کر اروند کیجریوال کی سرکار گرائے گی تو آنے والے چناو¿ میں دہلی کی جنتا کرارا جواب دے گی اور موجودہ دہلی اسمبلی میں 8 ممبر اسمبلی ہیں اور اگر صدر راج لگا تو اگلی بار بھاجپا کا بالکل صفایا ہو جائے گا اور بھاجپا کی زیرو سیٹ آئے گی ۔کیونکہ دہلی کے لوگ اروند کیجریوال کے اقدامات سے خوش ہیں اور وہ کیجریوال جی سے پیار کرتے ہیں ۔پردیش کانگریس صدر دیوندریادو نے کہا کیجریوال سرکار کو برخواست کرنے کی نوبت کے پیچھے عآپ سرکار کا کرپشن میں پوری طرح ڈوبنا ہے ۔وہیں انہوں نے الزام لگایا کہ بھاجپا او رعآپ کے درمیان دہلی میں اقتدار کے لئے گھماسان چھڑ گیا ہے ۔اس وجہ سے بھاجپا نے کیجریوال سرکار کو برخواست کرنے کی مانگ کی ہے ۔دونوں پارٹیوں کے نیتا جنتا کے تئیں کسی ذمہ داری کو نہیں نبھا رہے ہیں انہوںنے الزام لگایا کہ دس برسوں کی حکومت میں عام آدمی پارٹی کے پاس پارٹی کوئی ٹھوس کارنامہ نہیں انجام دے پائی ۔ہمیں لگتا ہے بھاجپا لیڈرشپ دہلی اسمبلی میں مسلسل ہار سے بوکھلائی ہوئی ہے ۔پچھلے 25 برسوں سے زیادہ بھاجپا دہلی ودھان سبھا میں نہیں پہونچ پائی ۔ان کی جبکہ تقریباً پورے دیش میں پارٹی راج کررہی ہے ۔ایسا بھی لگتا ہے بھاجپا لیڈرشپ کو سب سے زیادہ غصہ عام آدمی پارٹی اور کیجریوال سے ہے ۔دیکھا جائے توآج بھی دہلی میں بھاجپا ہی کی سرکار ہے اور دہلی کے اصل مالک تو لیفٹننٹ گورنر ونے سکسینہ ہیں ۔پھر کیا مجبوری ہے راشٹر پتی راج لگانے کی ؟
(انل نریندر)
12 ستمبر 2024
ونیش کے داو ¿سے ہریانہ کی سیاست گرمائی
ہریانہ میں چناو¿ سے عین پہلے پہلوانوں کے کانگریس میں شامل ہونے کے بعد سیاست گرما گئی ہے ۔سب سے زیادہ تکلیف بھاجپا کے سابق ایم پی اور کشتی فیڈریسن کے سابق صدر برج بھوشن شرن کو ہوئی ہے ۔انہوں نے ونیش اور بجرنگ پونیا پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ونیش نے ٹرائلز کو ہائی جیک کرکے، فیڈریشن کے قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے اور ایک ہی دن دو مختلف وزن کے زمروں میں ان کا وزن ناپ کر جونیئر ریسلرز کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔قواعدکی اس خلاف ورزی کا نتیجہ اولمپک میں پورے دیش دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ جب جتنار منتر پر خواتین پہلوانوں کی تحریک شروع ہوئی تو ہم نے واضح کر دیا تھا کہ دیپیندر اور بھوپیندر ہڈا کے علاوہ کانگریس بھی اس احتجاج کے پیچھے ہے۔ برج بھوشن سنگھ کے اس بیان سے پوری جاٹ برادری ناراض ہوگئی۔ وہ کہنے لگا کہ ہم اپنی بیٹی کی اس قسم کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اگر برج بھوشن میں ہمت ہے تو وہ ہریانہ آئیں اور ونیش کے خلاف مہم چلائیں۔ نہ صرف ہریانہ کانگریس بلکہ این ڈی اے کے اتحادی آر ایل ڈی نے بھی تشویش ظاہر کی۔ ریاست کی جولانہ سیٹ سے انتخاب لڑ رہی ونیش کے خلاف برج بھوشن شرن کے قابل اعتراض اور شرمناک بیان کے بعد، این ڈی اے کی رکن راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) نے ونیش پھوگاٹ کی حمایت کرکے بی جے پی لیڈروں کو بے چین کردیا ہے۔ برج بھوشن کے بیان کی چوطرفہ تنقید سے بی جے پی ہائی کمان گھبرا گئی اور بی جے پی قیادت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ونیش اور بجرنگ کے خلاف بیان دینے سے گریز کریں۔ پارٹی قیادت کو خدشہ ہے کہ اس کا اثر ہریانہ اسمبلی انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی لیڈر برج بھوشن کے بیان پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا اور سپریہ سرینیت نے بھی تبصرہ کیا ہے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس غلط کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور مستقبل میں بھی کرے گی۔ سوپریہ شرینیت نے بی جے پی لیڈر برج بھوشن سنگھ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات والے شخص کو ایوان میں بیٹھنے کا موقع دیا گیا۔ برج بھوشن سنگھ شاید دنگل گرل ببیتا پھوگٹ کو بھول گئے جب انہوں نے دادری سے 2019 میں بی جے پی کی طرف سے الیکشن لڑا تھا لیکن وہ جیت نہیں پائے تھے۔ ادھر پہلوان یوگیشور دت نے ریسلنگ کا اکھاڑا چھوڑ کر سیاسی میدان میں کود پڑے۔ 2019 میں بی جے پی نے انہیں بڑودہ اسمبلی انتخابات میں کھڑا کیا لیکن وہ کانگریس کے شری کرشنا ہڈا سے ہار گئے۔ دوسری طرف کانگریس امیدوار ونیش پھوگاٹانتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کے آشیرواد سے ہر جنگ جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔ پھوگٹ (30) کو آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے جولانہ اسمبلی حلقہ سے میدان میں اتارا گیا ہے۔ ہریانہ میں 90 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 5 اکتوبر کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 8 اکتوبر کو ہوگی۔ جونہی ونیش جولانہ پہنچی، ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور بزرگوں، خواتین اور مختلف کھاپوں کے اراکین نے ان کا خیرمقدم کیا۔ ونیش کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو گئے۔ ڈھول کی تھاپ کے درمیان ان کے حامیوں نے ونیش پھوگٹ زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ونیش نے کہا کہ برج بھوشن کوئی ملک نہیں ہے، میرا ملک میرے ساتھ کھڑا ہے۔
(انل نریندر)
ہار نہ ماننے کا جذبہ
ہندوستانی پیرا کھلاڑیوں کا غیر معمولی جذبہ پیرس پیرا اولمپکس میں بہترین کارکردگی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جہاں ان گیمز میں قائم نام توقعات پر پورا اترے وہیں کئی نئے باصلاحیت کھلاڑیوں نے اپنے ہی ریکارڈ توڑ کر بڑے اسٹیج پر اپنی جگہ بنائی۔ ہندوستان نے سات سونے سمیت 29 تمغے جیتے۔ ہندوستان نے 2016 کے ریو پیرالمپکس میں صرف 4 تمغے جیتے تھے۔ ٹوکیو میں 19 تمغے جیتے۔ اس بار بھی ٹوکیو پیچھے رہ گیا۔ صرف ٹریک اینڈ فیلڈ میں 17 تمغے جیتے تھے۔ اس کارکردگی نے پیرا اولمپکس میں ہندوستان کو ایک نئی طاقت بنا دیا ہے۔ اتر پردیش کی پریتی پال، جو بھارت کی 84 پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں، نے ٹریک ایونٹ میں اپنا پہلا تمغہ جیتا۔ ہرویندر سنگھ نے تیر اندازی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ خواتین کی اسی T35، 200 اور 200 میٹر میں پریتی پال نے کانسے کا تمغہ جیتا۔ پیرا اولمپک گیمز میں یہ ملک کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ یہ ہر ہندوستانی کھیل کے شائقین کے لیے خوشی اور فخر کی بات ہے، لیکن ساتھ ہی اس کامیابی سے بہت سے لوگ حیران بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیرا اولمپک گیمز سے چند روز قبل منعقدہ اولمپک گیمز میں ہندوستان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی تھی۔ ہندوستان نے اولمپکس میں 110 کھلاڑیوں کی ٹیم بھیجی تھی، لیکن ہندوستان صرف ایک چاندی اور 5 کانسی کے تمغے یعنی تقریباً چھ تمغے جیتنے میں کامیاب رہا۔ ایسے میں بہت سے لوگ حیران ہیں کہ ہم نے پیرالمپکس میں اولمپکس سے بہتر کارکردگی کیسے دکھائی؟ اگرچہ دونوں کھیلوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، ایک طرف اولمپکس ایک کھلاڑی کی جسمانی سطح کا امتحان ہوتا ہے تو دوسری طرف پیرا اولمپکس کھلاڑی کے عزم اور ہمت کا امتحان ہوتا ہے۔ پیرالمپکس میں اولمپکس سے زیادہ تمغے دیے جاتے ہیں اور بہت کم ممالک اس میں حصہ لیتے ہیں۔ پیرس اولمپکس میں 204 ٹیموں نے کل 32 کھیلوں میں 329 طلائی تمغوں کے لیے حصہ لیا۔ جبکہ پیرا اولمپکس میں 170 ٹیمیں 22 کھیلوں میں 549 طلائی تمغوں کے لیے مدمقابل ہیں۔ ایسے میں قدرتی طور پر پیرا اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور ملک پیرالمپکس اور اولمپکس دونوں میں حصہ لیتا ہے۔ بہت سے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اولمپک کارکردگی کا براہ راست تعلق کسی ملک کی آبادی اور جی ڈی پی سے ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اولمپک ٹیبل میں ٹاپ 10 ممالک نسبتاً امیر ہیں۔ پیرا اولمپکس کے معاملے میں دو چیزیں جو پیسے سے زیادہ فیصلہ کن ہوتی ہیں وہ ہیں ملک کی صحت کی سہولیات اور معذوری کے بارے میں اس کا رویہ۔ بہت سے ممالک میں معذور افراد کی تذلیل کی جاتی ہے یا ان کے ساتھ ترس کھایا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں کھیلوں کے حوالے سے سماجی سطح اور رویے میں بڑی تبدیلی آئی ہے، جسمانی معذوری کا سامنا کرنے والے کھلاڑی اس سے نکل کر اپنی آزاد شناخت بنانے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اگر انہیں پورا موقع دیا جائے تو وہ سچ ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس نے پیرس پیرالمپکس میں ثابت کیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہمارا ملک پیرا فرینڈلی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس وہیل چیئر فرینڈلی عوامی مقامات ہیں۔ پیرا اولمپکس میں کامیابی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں ان کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور مکمل سہولیات دینا ہوں گی۔ ہم تمام جیتنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دینا چاہیں گے۔
(انل نریندر)
10 ستمبر 2024
ریپ کے 10 میں سے 7 کیس میں نہیں ملتی ہے سزا
مغربی بنگال کے آرجیکر میڈیکل کالج ہسپتال میں ایک ٹرینی ڈاکٹر لیڈی کیساتھ آبروریزی اور ہلکے معاملے میں ایک ماہ کے اندر ترنمول کانگریس کی ممتا سرکار نیا بل لے آئیں ہیں اسمبلی میں اتفاق رائے سے اپراجیتا مہلا اور اطفال مغربی بنگال جرائم قانون ترمیم بل 2024 بھی پاس کر دیا گیا ہے ۔اس بل میں عورتوں پر ہونے والے جرائم کو لے کر آئی پی سی انصاف ایکٹ 2023 (بی این ایس ) انڈین سول سیکورٹی دفعہ 2020 اور بچوں میں جنسی جرائم سے ب چانے کے لئے بنے پاسکو قانون 2012 میں ترمیم کیا گیا ۔ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ مزوجہ قانون ایک تاریخی ایکٹ ہے جس سے جلد سے جلد انصاف ملے گا ۔حالانکہ قانون کے ماہرین کا کہناہے یہ جلد بازی میں لایاگیا بل ہے جس میں انصاف ہونے کے ساتھ ساتھ نا انصافی بھی ہونے کا ڈر ہے ۔بل میں ایف آئی آر کے 21 دن میں جانچ پوری کرنے ،قصوروار ثابت ہونے پر دس دن میں پھانسی دئیے جانے کی سہولت ہے ۔ابھی جانچ کی رائج وقت میعاد دو مہینے ہے ۔ممتا کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ مرکزی سرکار بڑا قانون لائیں جو نہیں کیا گیا ۔بھاجپا نیتا اور اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے بل میں ترمیم کی تجویز رکھی جسے قبول نہیں کیا گیا ۔ممتا نے وزیراعظم نریندر مودی ،مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور ان وزرائے اعلیٰ کی مذمت کی جو عورتوں کی سلامتی کے لئے مو¿ثر ڈھنگ سے قانون نافذ نہیں کر پائے ۔دیش میں بتا دیں ریپ کیخلاف سخت قانون پہلے سے ہی ہیں ۔ 2012 میں دہلی میں بھی ایک کیس سامن آیا تھا جس کے تحت ریپ کیلئے موت کی سزا تک کی سہولت تھی باوجود اس کے ریپ کے اعداد شمار میں تو کبھی کمی نہیں آئی الٹا دیش میں ریپ کے واقعات مسلسل بڑھتے گئے ہیں ۔درآصل آبروریز کے لئے موت کی سزا کی مانگ عوامی جذبات کے فوری شورش کو ٹھنڈا کرنے میں بھلے ہی معاون ہوں لیکن ماہرین قانون پہلے سے کہتے رہے ہیں کہ اس سے جرائم میں قابو پانے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی ۔الٹے ڈررہتا ہے کہیں آبروریز کو مارناڈالیں کیوں کہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ ریپ کی سزا ہو سکتی ہے ۔لیکن قتل کے بعد متاثرہ کے ذریعے پہچانے جانے کے امکان ختم ہو جاتے ہیں ۔ویسے بھی دیش میں آبروریزی کے معاملوں میں سزا ملنے کا ریکارڈ بہت خراب ہے ۔ہر کوئی ملزمان کے لئے سخت سزا کی مانگ تو کررہا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ ریپ کے معاملوں میں ملزمان کو سزا ملتے ہی کافی لمبا عرصہ گزر جاتا ہے اور انصاف میں دیری کے چلتے برسوں تک مقدمہ چلتا رہتا ہے دیش میں خواتین کے خلاف جرائم کی جانچ کرنا بڑی چنوتی ہے ۔2022 میں تقریبا2لاکھ 15ہزار ریپ کے معاملوں کی جانچ پولیس کو سونپی گئی تھی ۔صرف 26 ہزار معاملوں کی ہی پولیس کی طرف سے چارج شیٹ داخل کی گئی ۔ریپ کے 10 میں سے 7 کیس میں قصوروار کو سزا مل پائی ۔دیش میں بدفعلی سے جڑے معاملوں میں قصور ثابت کرنے کی شرع کوبڑھانے کی چنوتی بنی ہوئی ہے ۔حکام کا کہنا ہے پولیسنگ کا ہر پہلو ایسے واقعات کو روکنے اور تیز جانچ کے لئے کافی اہم ہیں ۔حکام مانتے ہیں کہ لگاتار بڑھتے جرائم کے باوجود قصوروار ثابت شرح کم ہے جہاں جانچ میں دیری ضروری ثبوتوں کو اکٹھا کرنا ۔فارنسک ودیگر قانونی جانچ کے لئے ڈھانچہ بندی کو مضبوط بنانا بھی بڑا اشو ہے۔حقیقت یہ ہے صرف قانون سے ہی ان قصورواروں پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔سیکورٹی سسٹم میں لاپرواہی کے ذمہ دار لوگوں پر بھی لگام کسنی ضروری ہے یہ قانون سے نہیں سماجی بیداری سے زیادہ ضروری ہے اس کے لئے سماج بھی کم قصوروار نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
آئی سی 814: قندھار اغوا
قندھار اغوا کی خوفناک واردات 24 سال پہلے ہوئی تھی لیکن ا یک بار پھریہ واقعہ سرخیوں میں آگیا ہے وجہ ہے نیٹ فلکس کی ویب سریزآئی سی 814 ،فلم میکر ا نوبھوسنہا کے ذریعے بنائی گئی ہے اس فلم ویب سریزحال ہی میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی یہ قندھار پلین ہائی جیک پر بنی ہے ۔شوشل میڈیا پر یوزرس خاص کر بھاجپا میڈیا سیل کا الزام ہے کہ انوبھوسنہا نے جان بوجھ کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سریز کا استعمال ایک پروپیگنڈہ کے طور پر کیا گیا ہے ۔چونکہ اس سریز میں ہائی جیکرس کے نام چیف ،ڈاکٹر ، برگر بھولا اور شنکر لئے گئے ہیں۔الزام لگایا گیا ہے کہ ویب سریز میں چاروں ہائی جیکرس کے نام جان بوجھ کر بدلے گئے ہیں ۔اس تنازعہ کو زیادہ ہوا بی جے پی کے شوشل میڈیا ہیڈ امت مالویہ نے دی ہے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی 814 کے اغواکار دہشت گرد تھے انہوں نے اپنی مسلم پہچان کو چھپایا تھا ۔انوبھو سنہا نے ان کوغیر مسلم نام دے کر ان کے جرم کو چھپانے کی کوشش کی ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ دہائیوں بعد لوگ سوچیں گے کہ آئی سی 814 کو ہندوو¿ں نے اغوا کیا تھا اس معاملے میں انوبھو سنہا نے اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے لیکن انہوں نے کانگریس ترجمان ڈاکٹر ارونیش کمار یادو کی ایک پوسٹ کو رپورٹ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سرکار نے خود ہائی جیکرس کے نام بتائے تھے ان کے نام کر لے کر کچھ لوگ ہنگامہ کھڑا کررہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں ان کا اصلی نام کیوں نہیں استعمال کیا گیا ۔بھول ا ور شنکر کہہ کر بلانا ہندو مذہب کی توہین کرنے جیسا ہے سچ تو یہ ہے کہ اغواکار اسی نام سے پلین میں داخل ہوئے تھے ان کا اصلی نام اب تنازعہ کے بعد سریز کے شرو ع میں ہی دے دیا گیا ہے جو پہلی سریزکے آخر میں آتا ہے ۔پی ٹی آئی کو ویب سریز کے کاشٹنگ ڈائرکٹر مکیش چوپڑا نے بتایا کہ شو کے لئے پوری ریسرچ کی گئی تھی اغو کنندہ ایک دوسرے کو انہیں ناموں سے پکاررہے تھے ۔دراصل چھ جنوری سن 2000 کو وزارت داخلہ کے ذریعے جاری بیان کے مطابق اغواکاروں کو صحیح نام ابراہیم اتھر (بحال پور)، شاہد اختر سید (گلشن اقبال کراچی)سمیع احمد قاضی (ڈیفنس ایریا کراچی) مستری زبورابراہیم (اختر کالونی کراچی) اور شاکر (سکل سٹی ) سے تھے ۔اسی بیان میں بتایا گیا تھا کہ مسافروں کے سامنے اغواکار ایک دوسرے کو چیف ،برگر ڈاکٹر ،بھولا اور شنکر کہہ کر مخاطب کررہے تھے۔وزارت داخلہ کا یہ بیان بھارت کے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر آج بھی موجود ہے ۔ہائی جیک کی واردات کے بعد خفیہ ایجنسیوںنے ممبئی سے چار چشم دید گواہوں کو گرفتار کیا تھا جن سے پتہ چلا تھا کہ اغوا کا پورا پلان پاکستان کی خفیہ ایجنسی ا ٓئی ایس آئی کی ایک کاروائی تھی جسے انتہا پسند تنظیم حرکت الانصار نے انجام دیا تھا ۔24 ستمبر 1999 کونیپال کی راجدھانی کاٹھمانڈو سے دہلی آرہی پرواز کو حرکت الانصار کے پانچ دہشت گردوں نے اغوا کر لیا تھا ۔اس دوران جہاز میں مسافر اور عملے کے ممبران کو ملا کر کل 180 لوگ سوار تھے ۔اغوا کے کچھ ہی گھنٹوں بعد د ہشت گردوں نے اس یاترا روپن کاڈمال کو مار دیا تھا ۔رات 2 بجے یہ جہاز دوبئی پہنچا جہاں شیخ نے ایندھن بھرے جانے کے عوض میں کچھ مسافروں کو رہا کرا لیا تھا۔27 مسافر رہا ہوئے تھے بعد میں یہ جہاز امرتسر ہوتے ہوئے قندھار پہونچ گیا تھا۔وہاں کیا ہوا سب کو معلوم ہے ۔واجپائی سرکار کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ خود مولانا مسعود اظہر سید زرگر اور شیخ عمر کو لے کر قندھار گئے اور مسافروں کو چھڑوایا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...