مودی سرکار میں ریل منتری سریش پربھو کے ذریعہ پیش بجٹ میں مسافر کرایہ نہ بڑھنے کے بارے میں مختلف ذرائع سے پہلے ہی سے پیشن گوئیاں چل رہی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی سرکار نے پہلے ہی مسافر ٹکٹ میں 7 فیصد کرایہ بڑھادیا تھا۔ اور تتکال ٹکٹ سیوا بھی مہنگی کردی تھی اس لئے منتری جی نے مسافر کرایہ پر توجہ نہ دے کر 10 فیصد مال بھاڑہ بڑھانے اور ریلوے میں مختلف ذرائع سے پیسہ آنے کے بارے میں بجٹ میں تدابیر رکھی ہیں۔ مال بھاڑہ یعنی سامان کی ڈھلائی بڑھنے سے خوردنی اجناس کوئلہ، پیٹرول ، ڈیزل کی دھلائی چارج بڑھنے سے ان سب چیزوں کے مہنگا ہونے سے عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھنے والا ہے۔ اس بجٹ پر سابق ریل منتریوں محترمہ ممتا بنرجی نے بجٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے وعدہ کیاتھا کہ ڈیزل کے داموں میں اگر کٹوتی ہوگی تواس کااثر ریل بھاڑے میں کٹوتی کی شکل میں نظر آئے گا لیکن ڈیزل کے داموں میں کئی بار کمی کے باوجود ایسا کچھ نہیں کیاگیا اس بجٹ میں ویژن کی کمی ہے۔ وہیں سابق وزیر ریل اور موجودہ وزیراعلی نتیش کمار نے کہا کہ ریل بجٹ میں کوئی فلاحی اسکیم نہیں ہے۔کرایہ میں اضافہ نہ کیا جانا سننے میں تواچھالگتا ہے لیکن عالمی بازار میں کچے تیل کے داموں میں کمی کے چلتے پیٹرول، ڈیزل کے سستا ہونے کے بعد ریل کرایہ میں اور کمی ہونی چاہئے تھی۔ریلوے کو دیش کی لائف لائن کہاجاتا ہے ، لیکن پچھلی دہائیوں میں ریل بجٹ سیاست اورلوک لبھاؤنے وعدوں کا ذریعہ بن گیاتھا۔ سریش پربھو نے این ڈی اے سرکار کے پہلے مکمل بجٹ میں لیک سے باہر نکلنے کی ہمت دکھائی۔بہرحال ریل منتری سریش پربھو جی نے اپنے پہلے ریل بجٹ 2015-16 میں مسافر کرایہ نہ بڑھا کر مسافروں کو یقینی طور پر راحت دی ہے ایسا بھی لگ رہا تھا اس میں کوئی ایسی لبھاؤنی تجویز نہیں رکھی گئی جس سے ریلوے کی حالت پر برا اثر پڑے یا وہ تجویز زمین پر نہ اتر پائے۔ اس کے ساتھ ہی بجٹ کو متوازن اور تشفی بخش مانا جاناچاہئے ۔ اس میں پرانے اعلانات کوعام نظریہ سے عمل میں لانے کے علاوہ تحفظ، صفائی اور دیگر چھوٹی ضروریات کو پورا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ بجٹ بہت سے اعلانات کاپلندہ ہی ثابت ہوتا ہے اور کچھ پروجیکٹوں پر عمل کے علاوہ ریلوے میں کچھ نہیں ہوپاتا۔ آج ریلوے کی جس مالی دشواریوں کی وجہ سے قصبات، اضلاع میں ڈبل لائنیں بچھانے یا لائنوں پر بجلی کرن نہیں ہوپانے اورمسافروں کو کراسنگ کی وجہ سے گھنٹوں سفر میں دیری سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔ریل منتری جی کواس طرف دھیان دینا ہوگا سیمی ہائی اسپیڈ ٹرین کاخواب جب ہی تعبیر ہوگا۔ جب دولائنوں کے بیچ میں غیراستعمال ریل لائن کو مرمت کرکے ان کو ہائی اسپیڈ لائن کے لائق بنایا جائے گا۔جہاں تک سریش پربھو جی کاسوال ہے انہوں نے اس کااعتراف کیا ہے کہ دراصل یہ ریل بجٹ دیگر لبھاوے بجٹ کی طرح نہیں ہے جن میں عوام کو سنہرے خواب دکھائے جاتے تھے لیکن ان پر عمل ’’زیرو‘‘ ہوتاتھا۔ ان کی یہ بات اچھی ہے۔ یہ بھی نہیں بھولناچاہئے پچھلے ریل بجٹ میں جو اسکیمیں۔ پروجیکٹ شامل کئے گئے تھے ان پر ابھی بہت کام باقی ہے جو ریلوے میں سہولیات میسر کرانے کے لئے بہت ضروری ہیں اس لئے انہوں نے کچھ اہم اسکیموں کواس لئے نہیں شامل کیا کیونکہ ریلوے کی حالت اچھی نہیں ہے ریلوے میں سرمایہ اس حساب سے نہیں آپایا۔ جس کی امید کی جارہی تھی ۔ ریل منتری نے ٹکٹوں کی بکنگ میں دلالوں کے بول بالے کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر ریزرویشن کی میعاد 2 ماہ کے بجائے 4 ماہ کرنے کی تجویز رکھی ہے لیکن دلالوں کا ریلوے میں نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ پچھلی سرکاروں کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہ ٹوٹ نہیں سکا ۔ سرکار بھلے ہی جو بھی قدم اٹھالے مگر مسافر اپنی ضرورت کے چلتے دلالوں کے شکنجے سے بچ نہیں پاتے۔ سرکار کے سخت قدموں کی وجہ سے تھوڑے وقفہ کے لئے یہ دلال دبک جاتے ہیں لیکن وقت گزرتے گزرتے آہستہ آہستہ افسران بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ضرورت اب اس بات کی ہے حکومت کوکیسے نئی سہولیات دینے کے ساتھ ریلوے کی خدمات میں بہتری کے لئے پرانے سسٹم کو بھی ٹھیک کرناہوگا۔ اور اسی نظریہ کی اس بجٹ میں جھلک ملتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسافروں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے اور خدمات میں بہتری کے لئے زمینی سطح پر کتنا اور کس رفتار سے کام ہوپاتا ہے کل ملا کر ریل منتری کی طرف سے پیش ریل بجٹ کو ریلوے میں بہتری لانے کی جدوجہد مانا جاسکتا ہے۔ اس کی کامیابی سے عوام کو راحت مل سکتی ہے۔ البتہ پہلی بار لگا کہ ریلوے مسافروں کو اپناگراہک مانتا ہے اور اس کی خدمت کے لئے تیار ہے بشرطیکہ وہ اس کی قیمت دینے کو تیار ہوں۔ ریل منتری اپنے بجٹ کو ریل کا نیا جنم بتارہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ریلوے کواس کی خستہ حالی سے نکال کر کیسے نئی روح پھونک سکیں گے۔
Translater
28 فروری 2015
27 فروری 2015
سبروتو رائے کی بڑھتی مشکلیں!
اپنے چیف سبروتو رائے کی رہائی کے لئے پیسوں کے انتظام میں لگے سہارا گروپ کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہے۔ لگ بھگ ایک سال سے دہلی تہاڑ جیل میں بند سبروتو رائے کے باہرنکلنے کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں۔ منگلوار کوملک کی عدالتیں عظمیٰ سپریم کورٹ نے نہ صرف ریزرو بینک کو سہارا کے خلاف کاررو ائی کرنے کی چھوٹ دی بلکہ جائیداد بیچ کر حاصل کی گئی رقم کو سیبی کے کھاتے میں جمع کرانے کے بجائے سرمایہ کاروں کو لوٹائے جانے پر سہارا سے جواب طلب کیا ہے۔ سبروتورائے اور کمپنی کے دو دیگر ڈائریکٹر قریب ایک سال سے جیل میں ہے۔ سپریم کورٹ نے ریزروبینک سے کہا ہے کہ وہ 484.67 کروڑ روپے کی سیکورٹی، ایف ڈی اور بانڈ منی کو کیش کرنے کے لئے توڑے گئے ضوابط کی جانچ کر کارروائی کرے۔ کورٹ نے انہیں جیل میں آگے اور کانفرنسنگ کی سہولت دینے سے بھی انکار کردیا۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی تین ججوں کی خصوصی بینچ نے یہ حکم منگلوار کو تب دیا جب ریزرو بینک نے کورٹ کو اطلاع دی کہ سہارا نے سیکوریٹی، ایف ڈی اور بانڈ منی کو توڑ کر اسے اپنی دوسری کمپنی کو ادھار دے دیا ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ سہارا اپنی مصیبت خود اپنی کرنی سے بڑھا رہا ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ ا یسا کرنے سے پہلے اسے کورٹ سے اجازت لینی چاہئے تھی۔ پیسہ سرمایہ کاروں کو واپس کرنے کے لئے سیبی کے ریفنڈ کھاتے میں جمع کرنا تھا۔ لیکن سہارا کے وکیل گنیشہ نے کہا کہ یہ پیسہ سرمایہ کاروں کو لوٹا دیا گیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کوئی سرمایہ کار سامنے نہیں آرہا ہے۔ پھر یہ کیسے ادا کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ نقد کے ذریعہ پیسہ لوٹایا گیا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ سہارا اس کے بارے میں پوری تفصیل کورٹ کو دے جس میں سرمایہ کاروں کی پہچان اور انہیں دیا گیا پیسہ شامل ہو۔ کورٹ نے ریزرو بینک میں رکھے اور دھن کو کیش کرانے پر روک لگا دی ہے۔ ریزرو بینک کی جانب سے پراگ ترپاٹھی نے یہ بھی کہا کہ سہارا نے 1080 کروڑ روپے کی اپنے استعمال میں لے لئے ہیں یہ ا یف ڈی کی رقم ہے جو میچور ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کے ذریعے کلیم نہیں کی گئی تھی۔ سہارا نے یہ کام ایک سال بعد ہی کرلیا جب کہ ضابطے کے مطابق اس کے لئے 7 سال تک انتظار کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بنا دعویٰ رہ جانے پر پیسہ بھارت سرکار کے کھاتے میں جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یہ حقائق سہارا کے آڈیٹرس نے خود اپنے دستاویزوں میں واضح کیا ہے۔ سہارا کے وکیلوں نے کہا کہ میراک سے سودا ناکام ہونے کے بعد اب سہارا کی بات ایک ڈچ بینک سے چل رہی ہے۔ اس کے لئے سبروتو رائے کو کانفرنس کی سہولیت چاہئے۔ کم سے کم لا محدود ٹیلی فون کال کی سہولیت فوراً دی جائے۔سبروتو رائے کو جیل میں ابھی روزانہ دن میں چار گھنٹے فون کی سہولیت دی جاتی ہے۔ معاملے کی اگلی سنوائی 13مارچ کو ہوگی۔
انل نریندر
ویا پم گھوٹالے میں ایکشن شروع: گورنر نے استعفیٰ دیا
مدھیہ پردیش کے مشہور زمانہ کروڑوں روپے کے پروفیشنل امتحان ڈویژن گھوٹالے( ویا پم ) میں راجیہ کے گورنر رام نریش یادو نے اسپیشل ٹاسک فورس( ایس ٹی ایف) کے ذریعے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بدھوار کو اپنااستعفی دے دیا ہے۔ ایف ٹی ایف ایک اعلی افسر نے بتایا کہ گورنر کے خلاف ایف آئی آر ویا پم کے ذریعہ سال 2013میں منعقد فوریسٹ گارڈ امتحان کے معاملے میں درج کی گئی ہے۔ یادو کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے فوریسٹ گارڈ امتحان میں پانچ امیدواروں کی ویا پم افسران سے سفارش کی تھی۔ افسر نے بتایا کہ گورنر کے خلاف دفعہ 420 اور بدعنوانی مخالف ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ اس معاملے میں برآمد کئے گئے دستاویزوں کی انتہائی چھان بین کے بعد ہی گورنر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ میڈیا میں اس بات کی اٹکلیں صحیح ثابت ہوئی ہیں۔ گورنر کے خلاف معاملہ درج ہوتے ہی انہیں استعفی دینا پڑا ہے۔ حالانکہ ایف آئی آر راجیہ کی ودھان سبھا میں گورنر کا خطاب ختم ہونے کے فورا ًبعدہی درج کی گئی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ذریعہ ایس ٹی ایف کی جانچ پر نگرانی کے لئے قائم ایس آئی ٹی نے عدالت کے حکم کے بعدایس ٹی ایف کو اس معاملے میں نہایت ہی اہم اشخاص کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا۔ سوموار کو مدھیہ پردیش اسمبلی میں حسب مخالف دلوں نے ویا پم گھوٹالوں پر وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان کے استعفی ٰکی مانگ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا تھا۔وقفہ سوالات کے بعد حسب مخالف کے لیڈرستیہ دیوکٹارے، رام نواس راوت اور سندر لال تیواری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اخباروں میں اصل ایکسل شیٹ کی نقل چھپ رہی ہے۔ اس معاملے میں وزیراعلی کو ایوان میں اپنی صفائی دینی چاہئے۔ کانگریس ممبران نے کہا کہ ہائی کورٹ اس معاملے میں بہت ہی اہم شخص کا نام لے چکی ہیں۔ ادھر ویا پم مسئلے کو لے کر مدھیہ پردیش میں مچی سیاسی ہلچل کے درمیان وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان نے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے قبل مرکزی سرکار اور بھاجپا کے اعلی لیڈروں سے ملاقات کر پورے معاملے پر صفائی دیتے ہوئے کانگریس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ پارلیمنٹ اور ٹی وی چینلوں پر ویا پم معاملے میں کانگریس کے تیکھے حملوں کا جواب دیتے ہوئے سرکار کے ترجمان اور مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر کے گھر پر ایتوار کوایک خصوصی میٹنگ ہوئی ۔ اس میں وزیر اعلی، راجیہ کے سنگٹھن منتری، سشما سوراج، روی شنکر پرساد اور کئی دیگر لیڈروں نے شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ اگر کسی ٹی وی چینل اس مدعے پر بحث ہوتی ہے تو پارٹی ترجمان حقائق کی بنیاد پر شیو راج سرکار کا زبردست طور پر بچائو کریں گے۔ ساتھ ہی کانگریس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جائے گا۔ بیٹھک کے بعد وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ویا پم مدعے پر کچھ نہیں بولوں گا۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا میں کئی مرتبہ بھوپال میں کہہ چکا ہوں۔ جہاں تک کانگریس کے الزامات کا سوال ہے وہ میڈیا میں جانے کے بجائے جانچ ایجنسی کے سامنے ثبوت پیش کرے۔ شیو راج نے ایتوار کو بزرگ نیتا لال کرشن اڈوانی کی رہائش گاہ پر اڈوانی جی کی شادی کی 50 ویں سالگرہ کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔ آئین میں گورنر کو کئی معاملوں میںامونیٹی( خصوصی چھوٹ) دی گئی ہے لیکن کسی معاملے میں اگر ہائی کورٹ ان کے خلاف کارروائی کا حکم دے تو ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔ یعنی انہیں آئین کی دفعہ 361 کی چھوٹ کا فائدہ نہیں ملے گا۔ ویا پم گھوٹالے میں اب ایکشن شروع ہوچکا ہے۔ دیکھتے ہیں اب کتنی بڑی مچھلیاں کس میں پھنستی ہے۔
انل نریندر
26 فروری 2015
سونیا کے وفاداروں سے ناراض راہل چھٹی پر گئے
کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی آزادی کے بعد اب تک کے سب سے برے دور سے گزررہی کانگریس پارٹی کو منجھدار میں چھوڑ کر کچھ ہفتوں کی چھٹی پر چلے گئے ہیں اس کے چلتے پارلیمنٹ کے سب سے اہم بجٹ اجلاس میں راہل بابا غیرحاضر رہے ہیں۔ راہل کے یوں چلے جانے سے نہ صرف کانگریسی ورکروں میں ایک غلط پیغام گیا ہے بلکہ بھاجپا کو کانگریس پارٹی پر حملہ کرنے کا ایک بہانہ بھی مل گیا ہے۔ بجٹ سیشن کے وقت ان کے لوک سبھا میں موجود نہ رہنے کی خبر پر جہاں پارٹی صدر سونیاگاندھی تک کو کہناپڑا کہ راہل کو کچھ وقت چاہئے۔ کچھ ہفتے میں پھر واپس آئیں گے۔ وہیں بھاجپا نے طنز کستے ہوئے کہا کہ پچھلی ایک دہائی میں پارلیمنٹ میں اس کے نیتائوں کے اس طرح کے رویہ کی وجہ سے ہی پارٹی 44سیٹوں پر سمٹ گئی ہے ۔ زمینی سطح کے کانگریسی ورکروں میں کہاجارہا ہے کہ ہار کے بعد ہار کی وجہ سے پہلے ہی ورکروں کا حوصلہ گرا ہوا ہے اور اس چیلنج بھرے وقت میں خود راہل کے میدان چھوڑ کر بھاگنے سے نہ پارٹی کا بھلا ہوگا اور نہ خودراہل کا۔ کیا راہل گاندھی اپنے ہی لیڈروں سے ناراض ہیں؟ کیا اپنی ہی پارٹی میں انہیں توجہ نہیں مل رہی ہے؟ یا کانگریس کی مسلسل ہار کی وجہ تلاشنے کے لئے وہ کسی تنہا جگہ پر چلے گئے ہیں؟ قیاس آرائی تو یہ بھی لگائی جارہی ہے کہ راہل پارٹی صدر کے قریبی کچھ لیڈروں کی لابی سے نا خوش ہیں اور پارٹی میں جلدی ہونے جارہے ردو بدل میں انہیں ہٹا ناچاہتے تھے۔ کانگریس کے ذرائع کے مطابق پارٹی میں راہل کے اصلاحات کرنے سے کچھ نظریات سے پارٹی کے کچھ پرانے لیڈروں کا ایک قابض حصہ متفق نہیں ہے اور ان دونوں خیموں میں الگ الگ نظریات سے بار بار تلخی ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ بنگلورو میں اپریل میں کانگریس کااجلاس ہونے والا ہے جس میں راہل گاندھی کو پارٹی کاصدر بنانے کی چرچا ہے۔ لیکن پارٹی کے ایک بڑے طبقے نے سونیا گاندھی ایسا نہ کرنے کی صلاح دی ہے۔راہل گاندھی کی ناراضگی کی یہی بڑی وجہ بتائی جارہی ہے۔ راہل گاندھی جمعرات کو ہی بنکاک سے لوٹے تھے۔ انہوں نے سونیاگاندھی سے تب بات کی۔ وہ نہیں مانیں پھر راہل نے اپنی منڈلی سے صلاح ومشورہ کیا اس میں راہل کے کسی خاص کو صدر بنانے کی بات کی گئی۔ لیکن راہل نے منع کردیا۔ اس کے بعد وہ سی پی جوشی، مستری، ماکن سے تبادلہ خیالات کے بعد بیرونی ملک روانہ ہوگئے۔ راہل کے رویہ سے ناراض پارٹی کے کئی نیتا اب سونیا سے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کی مانگ بھی کرسکتے ہیں۔ راہل گاندھی کے رویہ سے پرینکاگاندھی واڈرا کو پارٹی میں لانے کی وکالت کرنے والے نیتا سرگرم ہوگئے ہیں۔ اب یہ’’ پرینکا لائو، کانگریس بچائو‘‘ کی اپنی مہم کو اور تیز کرسکتے ہیں۔ راہل کے رویہ سے یہ لگ رہا ہے کہ وہ سیاست میں اہم کردار نبھانے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کی پارلیمنٹ کے اندر کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ ان کے آن۔ آف ہونے کی خبریں اکثر آتی رہتی ہے۔ مشکل سب سے زیادہ سونیا کی ہے۔ ان کے ایک جانب کنواں ہے تو دوسری جانب کھائی۔
انل نریندر
چوتھی مرتبہ سو شاسن بابو نے تھامی بہار کی کمان!
بہار کے سیاسی ڈرامہ کا پہلا ایکٹ ختم ہوگیا ہے۔ جیتن رام مانجھی کا عہد ختم ہوگیا ہے اورسوشان بابو نتیش کمار نے کمان سنبھال ہے وہ چوتھی مرتبہ بہار کے وزیراعلی بنے ہیں۔ نتیش اپنی پارٹی جنتا دل(یو) کو متحد رکھنے میں کامیاب رہے لیکن اب ان کے سامنے نئی چنوتیاں ہونگی۔ اپنے مہا دلت ووٹ بینک کو سمجھانا ہوگا کہ مانجھی کو ہٹانا کیوں ضروری تھا؟ یہ بھی بتانا ہوگا کہ کس وجہ سے انہیں لالو پرساد یادو سے سمجھوتہ کرناپڑا۔ ریاست کے قانون و نظام وترقیاتی کام کو پھر سے پٹری پر لانا ہوگا۔ ان کے سامنے یہ بھی مشکل ہوگی کہ مانجھی کے ذریعے آناً فاناً میں لئے گئے ان فیصلوں کا کیا کریں؟ دلتوں کے حق میں دیئے گئے ان فیصلوں کو پلٹنے سے انہیں سیاسی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ سوال ہے کہ پچھلے پندرہ دنوں تک چلے اقتدار کے کھیل میں نتیش جیتے تو ہارا کون؟ مانجھی یا بی جے پی یا دونوں؟ سچائی یہ ہے کہ ان دونوں کو پتہ تھا کہ نمبر کے گیم میں وہ نتیش کو نہیں ہرا پائیں گے پھر بھی انہوںنے یہ دائو چلا اس کی کچھ اور ہی وجوہات ہیں۔ مانجھی نے اس معاملے میں اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی۔ کل تک انہیں کوئی جانتا نہیں تھا لیکن آج وہ مہا دلتوں کے لیڈر کی شکل میں اپنے آپ کو پروجیکٹ کررہے ہیں۔ اسمبلی چنائو میں وہ ایک الگ طاقت کی شکل میں دعوے داری کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کی حکمت عملی مہا دلت ووٹ بینک میں توڑ پھوڑ کرنے کی تھی۔ بہار اسمبلی کی موجودہ میعاد 29نومبر کو ختم ہونے والی ہے۔ یعنی اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں بہار میں چنائو ہونگے۔ جس میں پہلی بار بی جے پی پوری ریاست میں اپنے دم پر چنائو لڑے گی۔ نتیش کمار کی حلف برداری تقریب میں جنتا پریوار کے لیڈروں کے علاوہ جس طرح ممتا بنرجی سے لے کر ترن گوگئی تک شامل ہوئے اس سے لگا کی مودی مخالف مورچے کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہار کا جہاں تک سوال ہے کہ وہ پھر ذات پات اور سیاست کے چکر میں گھیرتادکھائی دے رہا ہے پتہ نہیں بہار ذات پات کی راجنیتی سے کب نکلے گا؟ ضرورت اس وقت بہار میں ترقی اور صاف ستھرے انتطامیہ کی ہے۔ جو نتیش کمار شاید ہی دے سکیں۔ اس میں شبہ ہے کہ آنے والے چنائو تک نتیش ریاست کا بھلا کرسکیں۔ لالو پرساد یادو کے ساتھ مل کر بے شک نتیش نے نمبروں کے کھیل میں کامیابی پالی ہو لیکن اس اتحاد کو بہار اور ساتھ ہی باقی دیش میں جنتا اس انتظامیہ کو کرپشن بدانتظامی اور جنگل راج کی شکل میں دیکھتی ہے۔ حالانکہ نتیش نے کہا ہے کہ بہار کی ترقی کے لئے وہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ مل کر کام کریں گے لیکن یہ کہنا آسان نہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ نتیش مودی کے کٹر حریف ہیں اور اینٹی مودی فرنٹ کے کنوینر ہیں۔
انل نریندر
25 فروری 2015
اس جیت کے بعد پھر ورلڈ چمپئن بننے کااحساس جاگ اٹھا ہے!
ٹیم انڈیا کے کھلاڑی شھکر دھون کے کیریئر کی عمدہ پاری کی بدولت بھارت نے پچھلے ایتوا ر کو سائوتھ افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو دھول چٹا دی۔ ورلڈ کپ میں خطاب بچانے کے لئے اتری ٹیم انڈیا کا جیت کا سلسلہ جاری رکھنا نہ صرف ٹیم انڈیا کے لئے بلکہ پورے دیش کے لئے خوش خبری ہے۔ سائوتھ افریقہ جیسی ورلڈ کپ کرکٹ کی بے حد مضبوط ٹیم کے خلاف ٹیم انڈیا نے جس دبدبہ والے انداز میں مقابلہ جیتا ہے وہ خطاب بچانے کے لئے لحاظ سے بہت ہی شبھ سنکیت ہے۔ پاکستان کے خلاف ملی جیت میں نہ صرف آسٹریلیائی دورے کے بھوت کو بھگادیا تھا، بلکہ ورلڈ کپ کی مہم کو پٹری پر لا دیا تھا۔ اور میلبورن میں خطاب کی مضبوط دعوے دار سائوتھ افریقہ پر ملی تاریخی جیت نے ٹیم انڈیا کے اندر پھر سے ورلڈ چمپئن بننے کے احساس کو جگا دیا ہے۔ بھارت کی ورلڈ کپ میں سائوتھ افریقہ پرپہلی جیت ہے۔ اس سے پہلے ورلڈ کپ 1992، 1999 اور 2011میں دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے مقابلوں میں سائوتھ افریقی ٹیم کامیاب رہی تھی۔ بھارت نے 23 سال پرانی ہار کی اس روایت کو تازہ جیت سے ختم کردیا ہے۔ گیند بازی کو ٹورنامنٹ سے پہلے ٹیم انڈیا کی کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجارہا تھا، لیکن سنڈے کے میچ میں اشون کے 3 اور شرما اور موہیت کے 2-2 وکٹوں نے گیند بازوں کا متحدہ مظاہرہ دیکھا۔ پاکستان کے میچ میں امیش یادو اور جڈیجہ نے بھی وکٹ لئے تھے۔ اب لگنے لگا ہے کہ بھارت کی یہ کمزور کڑی اتنی کمزور نہیں ہے۔ حال کے دوروں میں شکھر کی بیٹنگ پرفارمینس کولیکر پریشانیاں بڑھ گئی تھیں لیکن پہلے پاکستان کے خلاف 73 رنوں اور اب سائوتھ افریقہ کے خلاف 137 کے اسکور سے جیت سے ان کا بھروسہ لوٹ چکا ہے اور روہت شرما کے ساتھ اوپننگ اسٹینڈ لے رہے ہیں۔ اس میچ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ٹیم انڈیا غیرملکی پچ پر بڑا اسکور کھڑا کرسکتی ہے۔ دراصل آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف سہ رخی سیریز میں اس معاملے میں سوال کھڑے ہورہے تھے۔ سائوتھ افریقہ کے خلاف ٹیم انڈیا کی فیلڈنگ بھی عمدہ رہی۔ اس جیت سے ٹیم انڈیا نے دھرندروں کے خلاف لڑائی کا امتحان تو پاس کرلیا ہے۔ سائوتھ افریقہ کے خلاف کھیلے میچ میں ہماری ٹیم نے کئی صحیح فیصلے کئے۔ دھونی کا ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنا، ٹیم انڈیا کے ٹاپ آرڈر کا فائر کرنا، رہا نے کو پہلے اترنے کافیصلہ، گیندبازوں کو صحیح وقت پر گیند سونپنا ہو۔ دھونی کا ہر فیصلہ اس میچ میں سپر ہٹ ثابت ہوا۔ کوارٹر فائنل کے لئے اب صرف ایک دم دار ٹیم( ویسٹ انڈیز) کے خلاف کھیلنا ہے۔ باقی میچ آئر لینڈ، زمبابوے اور یو اے ای کے خلاف ہے۔حالانکہ ٹیم کو چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ ناک آئوٹ مقابلوں میں ایک خراب دن امیدوں پر پانی پھیر سکتا ہے۔
انل نریندر
کانٹوں سے بھری ہے کجریوال کی راہ!
دہلی کے شہریوں نے عام آدمی پارٹی( آپ) کو زبردست اکثریت دے کر اپنا کام کردیا ہے۔ اب باری وزیراعلی اروند کجریوال کی ہے۔ کجریوال کے سامنے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی چنوتی ہے اسے لیکر وہ سنجیدہ بھی ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ دہلی کے چیف سکریٹری کو بلا کر پارٹی کا چنائو منشور دے کر دہلی کی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے ایکشن پلان بنانے کی ہدایت دے دی۔افسر اس میں لگ بھی گئے ہیں۔ لیکن مرکز کے زیرانتظام دہلی کی گدی پر بیٹھنا کجریوال کے لئے کانٹوں بھری سیج پر چلنے جیسا ہوگا۔ آپ نے اپنے چنائو منشور میں کئی ایسے وعدے کئے ہیں جن کے لئے اسے یا تو مودی کی قیادت والی مرکزی سرکار یا پھر بھاجپا کی کمان والی دہلی میونسپل کارپوریشنوں پر منحصر رہنا پڑسکتا ہے۔ جن لوک پال بل، مکمل ریاست کا درجہ، رہائشی اسکیم، لاء اینڈآرڈر اشو، پوری دہلی میں سی سی ٹی وی کیمروں اور وائی فائی وغیرہ کے لئے بجٹ یا اس کی منظوری اس کے سب سے بڑی موجودہ سیاسی حریف پارٹی بھاجپا کی مودی سرکار سے ہی ملے گی۔ اتنا ہی نہیں دیگر بڑے چناوی اشو جیسے غیر منظور کالونیوں کو منظور کرنے اور ان کی ترقی کے لئے بھی انہیں مرکز کی طرف دیکھناپڑے گا۔ دہلی سرکار کا محکمہ مالیات کے افسران کا کہنا ہے کہ سستی بجلی و مفت پانی دستیاب کرانے کے لئے فی الحال سبسڈی ہی راستہ ہے۔ اگست2014 میں مرکزی حکومت سے 31مارچ 2015 تک کے لئے 260 کروڑ روپے کی سبسڈی ملی تھی، اس میں 200 یونٹ تک بل 20 فیصد، اور 400 یونٹ کے بجلی بلوں پر 15فیصدی چھوٹ دی جارہی ہے۔ اگر 400 یونٹ تک 50 فیصدی چھوٹ دی جائے گی تو اس کے لئے تقریبا 1400 سو کروڑ روپے کی ضرورت پڑے گی۔ وہیںبجلی تقسیم کمپنیاں خسارہ کا حوالہ دے کر پہلے ہی دہلی الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن سے بجلی کے داموں میں 10 سے 15 فیصدی بڑھانے میں التجا کرچکی ہیں۔ اگر یہ اضافہ ہوا تو سبسڈی کی رقم 1600سوکروڑ روپے تک پہنچ جائے گی اسی طرح ہر ماہ ہر پریوار 20ہزار لیٹر مفت پانی کے لئے 350 سو کروڑ روپے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی طرح اکیلے بجلی پانی کے لئے 1950کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔ یہ رقم دہلی سرکار کے ڈوپلمنٹ بجٹ کی11 فیصدی کے قریب ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی تاریخی جیت کے بعد بھلے ہی وزیراعظم نریندر مودی نے اروند کجریوال کو فون پر جیت کی مبارکباد دیتے ہوئے دہلی کی نئی حکومت کو مرکزی سرکار سے ہرممکن مدد دینے کی بات کہی ہے لیکن تمام ایسے اشو ہیںکہ جن کو لیکر مرکز اور کجریوال سرکار میں تکرائو کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ دہلی اسمبلی میں جو بھی بل پاس کرکے مرکز کو بھیجا جائے گا۔ اس پر مرکز کی ہی مہر لگے گی۔پولیس، زمین، پانی، مکمل ریاست کادرجہ، جن لوک پال بل جیسے تمام ایسے اشو ہے کہ جن پر کجریوال سرکار اور مرکزی حکومت کے درمیان تکرائو کے حالات بن سکتے ہیں۔
انل نریندر
24 فروری 2015
بجٹ سیشن ہنگامے دار رہنے کے آثار!
پیرسے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے کافی ہنگامے دار ہونے کا امکان ہے۔ یہ سیشن تین مہینے تک جاری رہے گا۔ بجٹ سیشن کا پہلا حصہ 20مارچ تک چلے گا اور ایک مہینے کی چھٹی کے بعد 20اپریل سے دوسرا حصہ شروع ہوگا۔ پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن جیسے سیاسی اوراقتصادی ماحول میں شروع ہوا ہے۔ اس کے چلتے اس کے تئیں لوگوں کی دلچسپی اور زیادہ بڑھ جانا فطری ہی ہے۔اس میں نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی سرکار کو ایوان بالا میں آرڈیننس کی جگہ پر 6 بلوں کو پاس کرانا یقینی کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ دہلی اسمبلی چنائو میں بھاجپا کی کراری ہار کے بعد کئی اپوزیشن پارٹیوں نے دراصل آرڈیننس راج کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے اور خصوصی طورپر آراضی قانون میں تبدیلی کے خلاف ان کا موقوف سخت ہے۔ پھر انا ہزارے کادھرنا بھی آگ میں گھی کا کام کرے گا۔ پچھلے کچھ عرصے میں کئی بھاجپا لیڈروں، سنگھ پریوار کے افراد کے متنازعہ بیانات اور افراد زر شرح جیسے کئی اشو اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ہیں جن کی معرفت وہ سرکار پر حملہ کرسکتی ہیں۔ پیٹرولیم وزارت میں جاسوسی کے انکشاف کو دیکھتے ہوئے بھی اجلاس کافی ہنگامے دار رہنے کے ا ٓثار ہیں۔ اپوزیشن اسے لیکر سرکار کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ سرکار پر بھی 6اہم آرڈیننس سے وابستہ بلوں کو پاس کرانے کا چیلنج ہوگا۔ ان میں آراضی ا یکوائرآرڈیننس، کوئلہ بلاک، ای رکشا، شہریت ا ور بیمہ ترمیمی بل شامل ہے۔ راجیہ سبھا میں سرکار کے پاس اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اسے کچھ بلوں کو پاس کرانے میں دقت ہوسکتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں آراضی ایکوائر قانون میں ترمیم کے لئے لائے گئے آرڈیننس کے خلاف ہی سرگرم نہیں ہیں۔ بلکہ وہ کچھ دیگر بلوں کی بھی مخالفت کررہی ہیں۔ تحویل آراضی قانون میں تبدیلی کے خلاف سماجی رضا کار انا ہزارے و کانگریس کی مانے تو یوپی اے سرکار کے وقت تیار کئے گئے تحویل آراضی قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری طرف صنعتی دنیا کا خیال ہے کہ یہ ایک سخت قانون ہے اوراس کے ذریعہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو رفتار نہیں دی جاسکتی۔ پچھلے سیشن کے دوران راجیہ سبھا میں جس طرح یہ دیکھنے کو ملا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے کچھ بلوں پر بحث کے بجائے کئی سوالوں پر سرکار سے جواب مانگنے بہانے کوئی کام کاج نہیں ہونے دیا۔ اس سے ایک نئی روایت قائم ہوتی نظرآئی۔ اندیشہ یہ ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی کیاجائے گا۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ حکمراں فریق اپوزیشن کے حملوں سے نپٹنے کے لئے کیا کرے گا۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ضروری بل قانونی شکل نہیں دے پاتے تو اس سے کل ملا کر دیش کا ہی نقصان ہوگا۔ لیکن دیش کی چنتا کس کو ہے؟یہاں تو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کھیل ہورہا ہے۔
انل نریندر
سماجی رشتے کی تھال سے نکلی سیاسی خوشبو!
یہ انوکھا منظر رہا ہوگا کہ ایک طرف سماج وادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کی موجودگی میں مین پوری کے ممبر پارلیمنٹ پوتے تیج پرتاپ سنگھ یادو کی تلک کی رسموں کے درمیان شہنائی گونج رہی تھی، تو دوسری طرف سیاسی مہارتی ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ شہنائی کی سریلی آواز سے رشتوں میں مٹھاس بھی گھل رہی تھی۔ سڑک سے لے کر ایوان تک ایک دوسرے پر سیاسی تیر چلانے والے گلے ملے تو کھاٹنی سماج وادیوں کے چہرے بھی کھل اٹھے۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو طے وقت سے پہلے ہی تقریب پہنچ چکے تھے۔ دوست رگھونش پرساد اور جنتا دل(یو) صدر شرد یادو کے ساتھ تلک کی رسموں کے درمیان بار بار گھڑی اور موبائل پر وقت دیکھ رہے تھے۔ قریب پونے گیارہ بجے سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور وزیراعلی اکھلیش کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی و گورنر رام نائک تقریب کی جگہ پہنچے تو ایک امنگ سی دوڑ گئی۔ پنڈال میں موجودجن لوگوں کے لئے توجہ کا مرکز تیج تھا وہ بھی مودی کو دیکھنے دوڑ پڑے۔ جب مودی نے ملائم کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیاں چڑھنے میں ان کی مدد کی تو سیفئی اور بھی نہال ہوگئی۔ ملائم سنگھ کے میزبانوں اورمہمانوں میں بھی غضب کا مودی پریم دکھائی دیا۔ پنڈال میںموجودبھیڑمودی کی ایک جھلک پانے کو بے تاب رہی۔ جیسے ہی وہ اسٹیج پر پہنچے پنڈال میں بیٹھے لوگ اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر مودی کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔لیکن اسٹیج پر موجود ملائم سنگھ یادو و لالو کے کنبے کا لوگوں کے بھی مودی کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کا کریز رہا۔ ملائم سنگھ یادو و آرجے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے درمیان ہورہی رشتے داری کے گواہ بنے وزیراعظم نریندر مودی نے اسٹیج پر پہنچتے کی مودی نے ملائم و لالو پرساد یادو دونوں سے ہاتھ ملایا۔
دونوں کو ساتھ لیکر موجود لوگوں کا استقبال کیا۔ قریب 22منٹ میں وزیراعظم دونوں پریواروں کے افراد سے بڑی فراخ دلی کے ساتھ ملے۔ انہوں نے تیج پرتاپ سنگھ کو آشیر واد دیا تو اکھلیش یادو کی بیٹی کو گود میں لے کر دولارا، ملائم سنگھ یادو کے بھتیجے سورگیہ رویند سنگھ یادو کے بیٹے و مین پوری کے ایم پی تیج پرتاپ سنگھ یادو و لالو پرساد یادو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی 26 فروری کو دہلی میں ہوگی۔ سنیچر کو سیفئی میں تلک اتسو میں ہوا۔ تلک تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی شامل کیا ہوئے کہ سیاسی ماہرین اس کے مفادات تلاشنے میں لگ گئے۔ سوال اٹھنے لگا کیا اس کے پیچھے مودی او رملائم کی کوئی نئی سیاسی حکمت عملی ہے؟ کیا بھاجپا راجیہ سبھا میں سپا کا براہ راست یا درپردہ حمایت چاہتی ہے؟ کیا این سی پی کے چیف شرد پروار کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے پیچھے بھی مودی کی ہی مودی کی یہی منشا تھی؟ جب کانگریس اور انا نے بھاجپا کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کردیاہو اور دہلی کے بعد بہار کے سیاسی سنگرام میں وہ غچہ کھا چکی ہو۔ تب کیا مودی کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کو سادھنا ضروری ہوگیا ہے؟ کہتے ہیں سیاست میں کوئی کسی کا نہ تو مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی دوست۔ اندر خانے کئی جگہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔
دونوں کو ساتھ لیکر موجود لوگوں کا استقبال کیا۔ قریب 22منٹ میں وزیراعظم دونوں پریواروں کے افراد سے بڑی فراخ دلی کے ساتھ ملے۔ انہوں نے تیج پرتاپ سنگھ کو آشیر واد دیا تو اکھلیش یادو کی بیٹی کو گود میں لے کر دولارا، ملائم سنگھ یادو کے بھتیجے سورگیہ رویند سنگھ یادو کے بیٹے و مین پوری کے ایم پی تیج پرتاپ سنگھ یادو و لالو پرساد یادو کی بیٹی راج لکشمی کی شادی 26 فروری کو دہلی میں ہوگی۔ سنیچر کو سیفئی میں تلک اتسو میں ہوا۔ تلک تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی شامل کیا ہوئے کہ سیاسی ماہرین اس کے مفادات تلاشنے میں لگ گئے۔ سوال اٹھنے لگا کیا اس کے پیچھے مودی او رملائم کی کوئی نئی سیاسی حکمت عملی ہے؟ کیا بھاجپا راجیہ سبھا میں سپا کا براہ راست یا درپردہ حمایت چاہتی ہے؟ کیا این سی پی کے چیف شرد پروار کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے پیچھے بھی مودی کی ہی مودی کی یہی منشا تھی؟ جب کانگریس اور انا نے بھاجپا کے خلاف جنگ چھیڑنے کا اعلان کردیاہو اور دہلی کے بعد بہار کے سیاسی سنگرام میں وہ غچہ کھا چکی ہو۔ تب کیا مودی کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کو سادھنا ضروری ہوگیا ہے؟ کہتے ہیں سیاست میں کوئی کسی کا نہ تو مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی دوست۔ اندر خانے کئی جگہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں۔
انل نریندر
22 فروری 2015
مڈ بھیڑ نہیں کرتا تو کشمیر بن جاتا گجرات!
2860 دن بعد سہراب الدین و عشرت جہاں مڈ بھیڑ معاملہ میں گرفتار ہوئے پولیس کے سابق ڈی آئی جی، ڈی جی بنجارہ ضمانت پر جیل سے باہر آگئے ہیں۔ اس موقعہ پر تقریبا آٹھ سال (سات سال 10ماہ) بعد بدھ کے روز سابرمتی جیل کے باہر بیوی اور بیٹے سمیت ان کے پرستاروں کی بھاری بھیڑ جمع تھی لوگوں نے ایک ہیرو ں طرح ان کا استقبال کیا اور پھول مالائوں سے لاد دیا۔ آل انڈیا دہشت گردی انسداد مورچے کے چیئرمین منیندر جیت سنگھ بٹا نے جیل کے باہر ان کا استقبال کیا۔ بنجارہ نے باہر نکلتے ہی کہا کہ انکائونٹر صحیح ہے۔ جانچ کرنے والی دونوں ایجنسیوں کی جانچ ہی بوگس ہے۔ اس وجہ سے تینوں انکائونٹر میں تیس پولیس والوں کو جیل جانا پڑا۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ مڈ بھیڑ نہیں کرتا تو یہ دیش کا دوسرا کشمیر بن جاتا۔ یقینی طور سے میرے لئے اور گجرات پولیس کے لئے اچھے دن آگئے ہیں۔ خود کو دیش کی سیاسی سازش کا شکار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے اشارے پر سی بی آئی وگجرات پولیس کو کام کرنا پڑا۔ مڈ بھیڑ کو صحیح بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کے حالات کو معمولی شخص بھی سمجھ سکتا ہے۔ گودھرا کانڈ۔ اکشر دھام حملے، سابق وزیر ہرین پانڈیا کاقتل، بس میں ٹفن بم یہ ایسے واقعات تھے۔ جن کا جواب دینا ضروری تھا۔ بنجارہ نے جیل سے باہر آنے کے بعدشاعرانہ انداز میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔ انہوں نے ایک شعر گنگنایا’’ فانوس بن کے جس کی حفاظت ہواکرے۔ وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے‘‘ قابل ذکر ہے کہ سہراب الدین و عشرت جہاں مڈبھیڑ معاملوں میں 24اپریل 2007 کو بنجارہ و گرفتار کیا گیا تھا۔ ستمبر 2013کو انہوں نے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ لیکن سرکار نے اسے منظور نہیں کیا۔ پچھلے سال جون میں جیل سے ہی وہ ریٹائر ہوگئے تھے۔ گزشتہ4 فروری کو ہی سی بی آئی کورٹ نے انہیں مشروط ضمانت دی تھی۔ ایم ایس بٹا نے موقع پر کہا بنجارہ سیاسی رقابت کے شکار ہوئے۔ سی بی آئی اور جانچ ایجنسیوں کا بے جا استعمال کیا گیا۔ دہشت گردوں کو صرف گجرات میں صحیح جواب دیا گیا۔ احمد آباد کے باہر باہری علاقے میں 15جون2004میں گجرات پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں بھوندرہ میں رہنے والی کالج کی طالبہ عشرت ، جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی، احمد علی اکبر،(لی رانا) اور ذیشان جوہر کے مارے جانے کے واقعہ کے وقت بنجارہ کرائم برانچ کے پولیس کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ کرائم برانچ نے اس وقت دعوی کیا تھا کہ مڈبھیڑ میں مارے گئے لوگ لشکر طیبہ کے دہشت گرد تھے اور اس وقت کے وزیراعلی نریندر مودی کو قتل کرنے کے لئے گجرات آئے تھے۔ بنجارہ نے پچھلے سال ضمانت عرضی دائر کی تھی۔ اور اس میں دلیل دی تھی وہ جیل میں سات سال گزار چکے ہیں۔ اور چونکہ چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔ ایسے میں انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
انل نریندر
جیتن رام مانجھی کی ڈوب گئی کشتی!
جمعہ کی صبح کچھ منٹ کے واقعہ نے بہار کی سیاست میں مہینوں سے چل رہے حملوں وجوابی حملوں کے کھیل کا ڈراپ سین ہوگیا۔ جنتا دل(یو) سے بغاوت کروزیراعلی کی کرسی پر جمے جتین رام مانجھی نے اسمبلی میں شکتی پریکشن سے عین پہلے 10 بجے اپنااستعفی گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو سونپ دیا۔ جتین رام مانجھی کے اعتماد کے ووٹ کے دوران جیسے اتھل پتھل اور وفا داری میں تبدیلی کے دلچسپ مناظر کا تصور کیا گیا تھا۔ وہ تعبیر نہیں ہوا۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی راج بھون پہنچ کر مانجھی کے ذریعے استعفی دیئے جانے سے مئی کے بعد بہار میں ہورہی ڈرامائی سیاست کا ایک باب ختم ہوگیا ہے۔ یہ تو کوئی نہیں سوچ رہا تھا کہ مانجھی کو اسمبلی میں اکثریت مل پائے گی، لیکن مانجھی نہ اٹل بہاری باجپئی ہے نہ اروندکیجریوال ہے جو اقلیت کی وجہ سے استعفی دینے کو یادگار بناپائیں ان کااقتدار میں بنے رہنا ناممکن تھا چونکہ جنتا دل(یو) اسمبلی پارٹی نے نتیش کمار کے پیچھے متحد رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگر مانجھی کچھ ممبران اسمبلی کو توڑ پاتے تو شاید معاملہ زیادہ ڈرامائی بنتا حالانکہ ان کی سرکار بنے رہنے کاامکان تب بھی نہیں ہوتا۔ بھاجپا نے انہیں حمایت دینے کافیصلہ بھی اس لئے کیا تھا کیونکہ اسے بھروسہ تھا کہ مانجھی اکثریت نہیں جٹا پائیں گے۔ بھاجپا کی کوشش مانجھی کے سہارے صرف نتیش کمار ۔ لالو پرساد یادو اتحاد کی فضیحت کرانے کی تھی اس میں وہ کچھ حد تک کامیاب رہی، لیکن جنتا دل(یو) آر جے ڈی اتحاد اپنے نقصان کو کم سے کم رکھنے میں کامیاب رہا۔ بے شک نتیش کمار پھر سے وزیراعلی کا عہدہ ایتوار کو سنبھال لیں گے۔ لیکن اصل امتحان تو نومبر میں اسمبلی چنائو میں ہوگا۔ جب انہیں نیا مینڈیٹ لینا ہوگا۔ ایسے میں فی الحال جو سین ہے ا س میں نتیش کمار۔ لالو خیمہ ونر دکھائی دے رہا ہے اور مانجھی وہ ان کی حمایت میں اتری بھاجپا اپنے منصوبوں میں ناکام نظر آرہی ہے۔ لیکن ایسا ماننا حالات کا تتکالک اور سطحی تجزیہ ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ نتیش کمار کا ایک اورمشکل امتحان وزیراعلی بنتے ہی شروع ہونے والا ہے اور وہ ہوگا۔ لالو یادو کی آر جے ڈی سرکار میں ساجھے دار بنانا۔ کہنے کو تو ابھی اسمبلی میں آر جے ڈی کے دودرجن ممبر اسمبلی بھی نہیں ہے لیکن سچ یہ بھی ہے کہ لوک سبھا چنائو کے بعد سے جنتا دل(یو) کی سرکار لالو اور ان کی اتحادی کانگریس کی مہربانی سے ہی چل رہی تھی اور آگے بھی ان کی ضرورت بنی رہے گی۔ بھاجپا نے لوک سبھا چنائو میں زبردست کامیابی پائی تھی۔ جو اپوزیشن کی بکھرائو کی وجہ سے بھی تھی۔ اور اچھے دنوں کی امید میں بھی کافی ووٹ بینکس میںداڑیں آگئی تھی۔ اب اپوزیشن متحد ہے اور اچھے دنوں کے بارے میں لوگوں کی رائے ملی جلی ہے۔ مانجھی معاملے سے بھاجپا کو کچھ فائدہ تو ہوا ہے، لیکن یہ کہنا ہے مشکل ہے کہ لوگوں نے اسے مہا دلتوں کے ساتھ نتیش کمار کی ناانصافی کی طرح دیکھا۔ مانجھی کے نتیش کے ساتھ بھروسہ توڑنے کی طرح۔ اب اسمبلی چنائو تک بہار کی سیاست میں اسی طرح کی اتھل پتھل جاری رہنے کا امکان ہے۔
انل نریندر
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...