Translater

07 اکتوبر 2017

اڑی جیسا حملہ : سرینگر ہوائی اڈہ نشانہ پر تھا

سرینگر میں سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے کیمپ پر منگلوار کی صبح اندھیرے میں ہوئے آتنکی حملہ کو بیشک ہمارے جوانوں کی چوکسی سے بڑا نقصان تو ٹل گیا لیکن اس حملہ پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ یہ حملہ اڑی اسٹائل حملہ جیسا تھا۔ پچھلے سال 18 ستمبر کو صبح سویرے 5 بجے سرحد پار سے آئے چاردہشت گردوں نے جموں کشمیر کے اڑی سیکٹر میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ کیا تھا اس میں 18 جوان شہید ہوئے تھے۔ پچھلے 20 برسوں میں ہندوستانی فوج پر یہ سب سے بڑا حملہ تھا۔ خبر ہے کہ سرینگر میں بی ایس ایف کے کیمپ پر حملہ کرنے والے جیش محمد کے فدائین حملہ آور اگست کے آخری ہفتے میں جموں وکشمیر میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ کشمیر میں ہندوستانی سیکورٹی فورس کی سختی سے بوکھلائی پاک فوج نے ان دہشت گردوں کو اڑی کی طرز پرحملہ کے لئے خاص طور پر بھیجا تھا۔ 10 سے12 کی تعداد میں داخل آتنکی قریب سوا مہینے تک جموں و کشمیر میں موجود سیکورٹی مشینری کو چکمہ دیتے رہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے سوال کھڑے کئے کہ خفیہ معلومات کے باوجود آتنکی سرینگر میں ایسا حملہ کرنے میں کامیاب کیسے ہوگئے؟ منگلوار صبح ہوئے اس آتنکی حملہ نے فوجی نظریئے سے انتہائی اہم ترین سرینگر ہوائی اڈے کی سیکورٹی حفاظت پرسوالیہ نشان لگادیا۔ یہ حملہ غیرمتوقعہ نہیں تھا کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو کچھ مہینوں سے ایئرپورٹ اور اس سے لگی سیکورٹی اداروں پر آتنکیو ں کے ذریعے حملہ کرنے کی سازش کی اطلاع مل رہی تھیں۔ سرینگر ایئر پورٹ پر جنوری 2001 میں لشکر طیبہ کے فدائی دستے نے حملہ کیا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے اندرونی تجزیئے میں اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آتنکی خوفناک ارادے سے گھسے تھے۔ وہ سیکورٹی فورس کو بڑا نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔آتنکی اگر کیمپ کی دوسری باؤنڈری پار کرلیتے تو ایئر پورٹ کے نزدیک پہنچ سکتے تھے۔ 182 بٹالین سرینگر ایئرپورٹ کے رن وے کی حفاظت دیکھتی ہے۔ اسے گوگولینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقہ میں واقع یہ کیمپ پرانی ایئرفیلڈ کے نزدیک ہے۔ اس ایئرفیلڈ کو ایئرفورس کنٹرول کرتی ہے۔ اس علاقہ میں بی ایس ایف اور سی آر پی ایف کا ایک ٹریننگ سینٹر بھی ہے۔ آتنکی سیکورٹی گھیرا توڑتے تو ایئرپورٹ کے ریزیڈینشل ایریا میں گھس گئے۔ یہاں بڑے افسران رہتے ہیں۔ یہ کیمپ ہمیشہ سے پاکستانیوں کے نشانے پر رہا ہے۔ اس بات کی اعلی سطحی جانچ ہونی چاہئے کہ انتہائی حساس ترین اور کئی سطح کے سیکورٹی کوچ سے گھرے ہوائی اڈے کے علاقہ میں پہنچ کر بی ایس ایف کیمپ پر حملہ کرنے میں آتنکی کیسے کامیاب ہوگئے؟ 
(انل نریندر)

لال درگ میں بھگوا کی دہاڑ

کیرل کی مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنا بگل پھونک دیا ہے۔ کیرل میں ہو رہے سیاسی تشدد کے احتجاج میں جن یاترا کا آغاز کرتے ہوئے بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ نے کہا کہ لال آتنک کے خاتمے تک بھاجپا کا سنگھرش جاری رہے گا۔ 15 دنوں تک جاری اس یاترا کی قیادت کرتے ہوئے پہلے دن امت شاہ نے خود 9 کلو میٹر پیدل یاترا کی۔ بھاجپا کا کیرل میں تشدد کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ ایک مقصد 2019 کے لوک سبھا چاؤ میں کیرل میں اچھی پرفارمینس بھی دینا ہے۔ شاہ نے الزام لگایا کہ مارکسوادی پارٹی حکمراں ریاست میں بھاجپا اور آر ایس ایس کے ورکروں کا سیاسی قتل ہورہا ہے۔بھاجپا پردھان نے کہا ، اکیلے کننور ضلع میں بھاجپا اور آر ایس ایس کے 83 ورکروں کا قتل کیا گیا ہے۔ بھاجپا کے3 ورکروں پر شاہ کی یاترا سے ایک دن پہلے کرسرگوڈ ضلع کے ایک قصبے میں مبینہ طور پر مارکسوادی پارٹی ورکروں نے حملہ کیا۔ یہ حملہ رات 9 بجے اس وقت ہوا جب بھاجپا ورکر قومی شاہراہ 66 کے ایک حصے کی 15 دن کے مارچ کی سجاوٹ میں لگے تھے۔ یاترا سنگھ کی حکمت عملی کا حصہ لگتی ہے۔لیفٹ پارٹیوں کے سب سے مضبوط قلعہ کیرل میں جھنڈا لہرانے کے لئے وہاں بھاجپا یونٹ اور پارٹی صدر امت شاہ کی پہلی پسند اترپردیش کے وزیر اعلی آتیہ ناتھ یوگی ہیں۔ نظریاتی لڑائی میں بی جے پی اپنا سب سے بڑا دشمن لیفٹ پسندوں کو مانتی ہے۔ لیفٹ کے سب سے مضبوط قلعہ کے طور پر ابھی بس کیرل ہی بچا ہے۔ یہاں ورکروں کے لگاتار ہورہے قتل کو پارٹی اور سنگھ نے پچھلے ایک سال سے جارحانہ طور پر لال آتنک کی شکل میں پیش کرنا شروع کیا ہے۔ اسی کڑی میں امت شاہ نے جن یاترا کا بھی آغاز کیا ہے۔ بی جے پی کے ایک پردیش عہدے دار کا کہنا ہے کہ یاترا کے لئے یوگی آدتیہ ناتھ تنظیم اور ورکروں کی پہلی پسند ہیں۔ اس کے پیچھے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ جن اشو پر پارٹی کے لوگ لڑ رہے ہیں، یوگی آدتیہ ناتھ پہلے سے ہی ان اشوز پر کام کررہے ہیں۔ دوسرے ہندوتو کے چہرے کے طور پر ان کی یہاں بی جے پی کے حمایتی اور ورکروں میں کافی مقبولیت ہے۔ شاہ نے یاترا کی شروعات پیچنورسے کرکے ریاست کے وزیر اعلی پی ۔وجین کو اصل معنی میں سیدھی چنوتی دے دی ہے۔ پیچنوروجین کا آبائی حلقہ ہے اور کیرل میں مارکسوادی پارٹی کا سب سے مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے مارکسوادی پارٹی یا بھاجپا اور سنگھ پریوار کو روکنے کیلئے سارا زور لگا رہی ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس ورکروں کے بڑے پیمانے پر سیاسی قتل ہورہے ہیں۔ یاترا کی شروعات کرتے ہوئے شاہ نے ان قتلوں کے لئے سیدھے طور پر وزیر اعلی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کہا ،وجین جی جتنا تشدد کا کیچڑ پھیلاؤ گے اتنا ہی کمل کھل کر سامنے آئے گا۔ یاترا کی پوری تیاریوں سے صاف ہے کہ بھاجپا کا مقصد بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے گڑھ میں اپنے ورکروں اور عام جنتا کے درمیان لیفٹ تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا بھروسہ پیدا کرنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دوسری ریاستوں سے بھی بھاجپایوتھ مورچہ کے ورکروں کو اس میں شامل ہونے کے لئے بلایاگیا ہے۔ یاترا کے دوران ہر دن سبھی بھاجپا حکمراں وزیر اعلی بھی حصہ لیں گے۔ بھاجپا ورکر لیفٹ تشدد کو پورے دیش میں پھیلانے کی تیاری میں ہیں۔ کیرل میں بھاجپا کی سیاسی توقعات کو دیکھتے ہوئے اس یاترا کو اہم مانا جارہا ہے۔ یاترا میں شامل بھاجپا کے ایک سینئر لیڈر نے اگلے لوک سبھا چناؤ میں کیرل میں 8-10 سیٹیں جیتنے کا دعوی بھی کیا ہے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2017

حافظ سعید پاکستان کیلئے بوجھ ہے :خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوی کے بانی حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لئے بوجھ ہیں لیکن پاکستان کو ان سے پیچھا چھڑانے کیلئے وقت چاہئے۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے ایک پروگرام میں آصف نے کہا کہ پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو پاکستان اور خطے کے لئے ایک بحران بن سکتے ہیں۔ امریکی ٹی وی رپورٹر اسٹیف کول کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو کٹر پسندی سے نجات دلانے کی کوششیں جاری رکھنا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوی کے بانی حافظ سعید کی تنظیم پر پابندی لگائی گئی ہے اور انہیں درکنارکردیا گیا ہے لیکن اس بات سے میں متفق ہوں کہ پاکستان کو اس سمت میں مزید قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اسی سال کی شروعات میں حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا تھا۔ وہیں پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ نے بھی پاکستان پر حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک پر کارروائی کیلئے دباؤ بنایا ہے۔ آصف نے کہا یہ کہنا بہت آسان ہے پاکستان حقانی نیٹ ورک، حافظ سعید اور لشکر طیبہ کی مدد کررہا ہے ۔ یہ سب بوجھ ہیں ان سے چھٹکارا پانے کیلئے پاکستان کو وقت لگے گا کیونکہ انہیں ختم کرنے کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ خواجہ آصف نے چلو یہ تو اعتراف کرلیا کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو پاکستان سے مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی مانا کہ وہ فی الحال اس کو ختم کرنے میں اہل نہیں ہیں۔ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو لیکر بار بار پاکستان پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے امریکہ پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 70-80 کی دہائی میں یہ لوگ امریکہ کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ وائٹ ہاؤس میں بھی انہیں کھلایا پلایاگیا۔ اب جب وہ دشمن بن گئے تو امریکہ کے لئے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے لئے بھی بوجھ بن گئے ہیں۔ پاکستان حافظ سعید جیسے خطرناک لوگوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن وقت چاہئے۔ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید پر کارروائی اور امریکہ سے ملنے والی اربوں ڈالر کی مدد بند کرنے پر پاکستان پردباؤ بڑھا ہے۔ اس پر خواجہ نے کہا کہ امریکہ جو پاکستان کو اربوں ڈالر دے رہا ہے وہ امریکہ کو دی جانے والی مدد کے عوض میں ملتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے چار سال سے کوئی وزیرخارجہ نہیں تھا اور خراب خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج پوری دنیا میں پاکستان کی تھو تھو ہورہی ہے۔ اب جب وزیر خارجہ آیا ہے تو اسے لگتا ہے کہ پاکستانی خارجہ پالیسی پر کھل کر اپنا موقف رکھے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اب لگ رہا ہے کہ پاکستان کو پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا اور ایسا کرنے کے لئے خارجہ پالیسی میں اصلاح ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم بدلنے کے بعد حکومت کی سطح پر نظرثانی میں اس کی کمزور خارجہ پالیسی کے بارے میں غور و خوض کیا گیا۔ نواز شریف کے جانے کے بعد نئی کیبنٹ میں وزارت خارجہ کی ذمہ داری خواجہ آصف کو دے دی گئی۔ وہ پہلے بھی بیان دے چکے ہیں کہ پہلے پاکستان کو اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا اور اس کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر کافی تبدیلیاں آئی ہیں کیونکہ پچھلے 15-16 برسوں میں پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ طالبان اور القاعدہ کے معاملے کے بعد اب دائرہ (نام نہاد اسلامک اسٹیٹ) کے مسئلے نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ تو اگر اپنے پر اور خطہ پر نظر نہیں رکھی گئی تو شاید پاکستان کیلئے اٹھنا مشکل ہوجائے گا یا اس کی پالیسیوں میں تبدیلی کے لئے بہت دیر ہوجائے گی۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی نئی سرکار نئے انداز میں سامنے آنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔
(انل نریندر)

آبے کا سیاسی جوا: ایک سال پہلے ہی پارلیمنٹ بھنگ

دنیا کے سبھی سیاستداں موقعہ کا فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ پھر اقتدار پانے کا یہی صحیح وقت ہے۔ اپوزیشن بھکراؤ میں ہے وہ کوئی بھی خطرہ مول لینے سے پیچھے نہیں رہتے اور جوا کھیل جاتے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم شینجو آبے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم شنجو آبے نے دیش میں طے میعاد سے ایک سال پہلے عام چناؤ کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے نچلے ایوان (ہاؤس آف ری پرزنٹیٹیو) کو بھنگ کردیا ہے۔ اسپیکر ٹاڈا موری اوریشیما نے اس کا اعلان کیا ہے۔ جاپان میں 22 اکتوبر کو چناؤ کرایا جاسکتا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا موقعہ ہے جب آبے نے وقت سے پہلے چناؤ کا اعلان کیا ہے۔ 2014 میں وہ دیش میں اقتصادی مندی کا حوالہ دے کر دو سال پہلے عام چناؤ کروا چکے ہیں۔ اس بات انہوں نے نارتھ کوریا کے نیوکلیائی پروگرام اور آئے دن دھمکیوں اور حرکتوں کی وجہ سے وقت سے پہلے چناؤ کرانے کی وجہ بتائی۔ نارتھ کوریا نے مسلسل دو مزائلوں کا تجربہ جاپان کے اوپر سے کیا ہے۔ جاپان نے اسے اپنی قومی سیکورٹی کے لئے خطرہ بتایا ہے۔ وہیں جاپان کی جنتا میں نارتھ کوریا کے تاناشاہ کنگ جونگ کے تئیں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ایسے میں آبے نے لوگوں کا بھروسہ جیتنے کے لئے عام چناؤ کرانے کا فیصلہ بہتر سمجھا تاکہ لوگ دیگر اشوز کو بھول کر ان کی پارٹی کو ووٹ دیں۔ جاپان میں اس وقت اپوزیشن پارٹیاں بری طرح سے بکھری ہوئی ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر سرکار کے خلاف کوئی مضبوط اتحاد نہیں بنا سکیں۔ وزیر اعظم کے طور پر آبے کی مقبولیت بڑھی ہے۔ ایک سروے کے مطابق آبے کی قومیت پرست پالیسیوں کو جاپان کے قریب 50 فیصد لوگوں نے پسند کیا ہے۔ اس بار چناؤ میں دو اشو ہیں پہلا نارتھ کوریا کے نیوکلیائی پروگرام سے دیش کی سلامتی کو خطرہ،دوسرا عمر دراز لوگوں کی بڑھتی آبادی۔ جاپان کی قریب 40 فیصد آبادی 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ہے۔ 20 لاکھ لوگ 90 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ آبے نے حال ہی میں کہا تھا کہ دیش کے دو مسئلے ہیں نارتھ کوریا اور عمر دراز شہریوں کی بڑھتی آبادی۔ میٹھی زبان بولنے والے کے نام سے مشہور آبے کی پارٹی اگر چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو ایل ڈی پی چوتھی بار جیتے گی۔ آبے چوتھی بار جاپان کے وزیر اعظم بنیں گے۔ آبے 2014 میں جاپان کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم چنے گئے تھے۔ شنجو آبے اپنی پالیسیوں کو بہتر بتاتے ہیں۔ آبے کے دادا بھی جاپان کے وزیر اعظم تھے۔ جاپان کی پارلیمنٹ یعنی ایوان بالا اور ایوان زیریں جسے ہاؤس آف کانسلر(ایوان بالا ) میں 242 سیٹیں ہیں جبکہ ایوان زیریں میں (ہاؤس آف ری پرزینٹیٹو) میں 475 سیٹیں ہیں۔ دیکھیں آبے کا جوا کامیاب رہتا ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

05 اکتوبر 2017

امریکہ آج اپنی ہی گولی کا شکار

دنیا میں اپنی دھاک جمانے کیلئے خودساختہ ٹھیکیدار بنے امریکہ نے جم کر ہتھیار بنائے۔ یہ ہتھیار انہوں نے کیرل اور غیر ملکی بازار میں خوب بیچے بھی۔ لچر قانون اور سامنت واد لوگوں کے چلتے امریکہ میں گن کلچر خوب پھلا پھولا۔ کبھی از خود حفاظت تو کبھی رسوخ دکھانے کے نام پر امریکیوں نے بندوقوں کا انبار کھڑا کردیا۔ اب یہ ہی گن کلچر اسے لہو لہان کررہا ہے۔ صرف2017 میں ہی اگست تک وہاں بڑے پیمانے پر بندوق سے حملے کے 244 واقعات ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر امریکی بندوق رکھنے کو اپنی شان مانتے ہیں وہ اسے طرز زندگی کا حصہ و طاقت مانتے ہیں۔ لاس ویگاس کے تازہ حملہ میں حملہ آور اسٹیفن پیڈروک کے ہوٹل کمرے میں 10 سے زیادہ رائفلیں ملی ہیں۔ اس تشدد کے بعد امریکہ میں گن کلچر پر پھرسے بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق امریکہ میں بندوقوں سے ہر سال اوسطاً 12 ہزار اموات ہورہی ہیں۔ پچھلے 50 برسوں میں امریکہ میں بندوقوں نے 15 لاکھ سے زیادہ جانیں لی ہیں۔ اس میں وسیع گولہ باری اور قتل سمیت پانچ لاکھ اموات ہوئی ہیں۔ دراصل امریکہ میں ہتھیار رکھنا بنیادی حقوق میں آتا ہے۔ بندوقیں آسانی سے لوگ اسٹور سے خرید لیتے ہیں لہٰذا لوگ گن پالیسی بنانے کی مانگ کررہے ہیں لیکن امریکہ میں خاص کر امریکی پارلیمنٹ میں گن لابی اتنی مضبوط ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بننے نہیں دیتی جس سے بندوقوں کی فروخت پر لگام لگ سکے۔ مجھے یاد ہے جب براک اوبامہ صدر ہوا کرتے تھے تو دو سال پہلے ایک کالج میں 9 لوگوں کے قتل کے بعد وہ رو پڑے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آج ہم نے قدم نہیں اٹھایا تو ایسے واقعات نہیں رکیں گے۔ جب بھی میں ان بچوں کے بارے میں سوچتا ہوں ، پاگل ہوجاتا ہوں۔ ہم سب کو پارلیمنٹ میں گن پالیسی لانی چاہئے۔ لیکن امریکی کانگریس کے 70 فیصدی ایم پی ہتھیاروں کے حمایتی تھے لہٰذا اوبامہ بے بس رہے۔ امریکی گن صنعت سالانہ 91 ہزار کروڑ روپے کا ریوینیو کماتی ہے۔ لہٰذا امریکہ کی طاقتور ہتھیار لابی بھی ہتھیاروں پر کنٹرول کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ یہ لابنگ چناؤ میں سیاسی پارٹیوں کو موٹا پیسہ دیتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہتھیار حمایتی رخ دکھاتے رہے ہیں۔گزرے سال اورلینڈو کے نائٹ کلب کے واقعہ کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ اگر کلب کے پاس ہتھیار ہوتے تو بہت سے لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔ دنیا بھر کی کل سویلین گن میں 48 فیصدی صرف امریکیوں کے پاس ہیں۔ امریکیوں کے پاس 31 کروڑ ہتھیار ہیں یعنی 89 فیصد امریکی لوگ اپنے پاس بندوق رکھتے ہیں۔ ان میں سے66 فیصدی لوگ ایک سے زیادہ بندوق رکھتے ہیں۔ امریکہ میں گن صنعت میں 2.65 لاکھ لوگ اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ امریکی معیشت میں ہتھیار کی فروخت سے 90 ہزار کروڑ روپے آتے ہیں لیکن سال میں 1 کروڑ سے زیادہ ریوالور، پستول جیسی بندوقیں یہاں بنتی ہیں۔ ہتھیاروں سے ہونے والے تشدد اور اموات سے 20 ہزار کروڑ روپے کا 2012 میں نقصان ہوا۔ یہ جی ڈی پی کا 1.4 فیصدی حصہ ہے۔ جان بوجھ کر بندوق سے کئے گئے قتل کی شرح امریکہ میں سب سے زیادہ اونچی آمدنی والے دیشوں کے مقابلے میں 25.2 گنا زیادہ ہے۔ یہاں ہر سال 10 لاکھ لوگوں میں غلطی سے گولی چلنے یا خودکشی کرکے مرنے والوں کی تعداد 66 ہے جبکہ جان بوجھ کر خود کو گولی مارنے والے لوگوں کی تعداد 36 ہے۔دوسرے نمبر پر فن لینڈ ہے جہاں یہ تعداد بسلسلہ 33 اور 3 ہے۔ گولی باری میں مارے جانے کے معاملے میں کسی برطانوی کے مقابلے میں امریکہ کا اندیشہ 50 گنا زیادہ ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنی ہی گولی کا شکار آج امریکہ خود ہی بن رہا ہے۔
(انل نریندر)

پارکنگ مسئلہ تو دہلی کی ہر گلی، محلہ اور روڈ پر ہے

کیا دہلی میں ٹریفک جام، پارکنگ کا مسئلہ ختم کرنے کے لئے جو نئی پارکنگ پالیسی گراف تیار کیا گیا ہے وہ ان مسائل کو ختم کردے گا؟ بنیادی مسئلہ جس پر سرکاریں توجہ نہیں دے رہی ہیں وہ ہے سڑکوں پر بڑھتی گاڑیوں کی تعداد ۔ ہر سال 30 لاکھ کے قریب دو پہیہ، تین پہیہ اور چات پہئے والی گاڑیاں دہلی کی سڑکوں پر اترتی ہیں۔ نہ صرف ہمارے پاس ان کے لئے چوڑی سڑکیں ہیں، نہ پارکنگ کی جگہ ہے اور نہ ہی درکار ٹریفک پولیس جوان ہیں۔ ایسے میں ہمیں تو شبہ ہے کہ جو نئی پالیسی گراف تیار ہوا ہے وہ ان میں سے کسی بھی مسئلہ کا حل کرسکے گا۔ ہاں سرکار کی جیب ضرور بھاری ہوجائے گی اور صارفین جو پہلے سے ہی بھاری ٹیکسوں سے دبے ہوئے ہیں اس پر اور زیادہ بوجھ پڑجائے گا۔ سنگا پور میں تو عام لوگ اپنی مرضی سے گاڑیاں خرید نہیں سکتے ، وہاں کی حکومت نے اس کے لئے باقاعدہ کوٹہ اور پرمٹ سسٹم بنایا ہوا ہے۔ وہاں روٹری پارکنگ سسٹم ہے یعنی ایک کے اوپر ایک گاڑی کھڑا کرنا۔ ملٹی لیول پارکنگ بنی ہوئی ہے۔ پارکنگ کی جگہ ملنے پر ہی کار خرید سکتے ہیں۔ریٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت ماسکو ( روس) کے تحت پارکنگ قواعد میں تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے کھڑی سڑکوں پر 2.9 میٹر تک ورٹیکل پارکنگ کی اجازت تھی۔ قواعد کے مطابق روڈ پر خالی جگہ کم سے کم 5.9 میٹر ہونی چاہئے۔ اب گاڑیوں کو سڑک کے برابر پارک کرناہوتا ہے جس سے سڑک پر خالی جگہ 6 میٹر تک ہوگئی ہے۔فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لئے دستیاب ہے۔ بیجنگ میں کاروں سے سڑکیں ٹھسا ٹھس بھری رہتی ہیں۔ 2010ء میں یہاں 7 لاکھ کاروں کا رجسٹریشن ہوا تھا اس کے بعد حکام نے نئی گاڑیوں کی خرید پر روک لگادی تھی۔ 2011 میں محض 2 لاکھ 40 ہزار نئی کاروں کا رجسٹریشن ہوا تھا وہ بھی لاٹری سسٹم کے تحت۔ دہلی کی کالونیوں میں پارکنگ کو لیکر روز جھگڑے ہوتے ہیں۔ دہلی کے ہر علاقہ، گلی اور کالونی میں پارکنگ کی پریشانی ہے۔ مارکیٹ سے لیکر رہائشی علاقے میں گاڑی کھڑا کرنے کے لئے جگہ حاصل کرنا کوئی جنگ جیتنے کی طرح ہے۔ پرانی بسی کالونیوں میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ یہ کالونیاں تب کی بسی ہوئی ہیں ، جب پارکنگ کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ڈراف پالیسی میں رہائشی علاقوں میں آن اسٹریٹ پیڈ پارکنگ پر لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے سرکار انہیں گاڑیاں کھڑی کرنے کے لئے درکار جگہ دے اس کے بعد بھی اگر لوگ ادھر ادھر گاڑی کھڑی کریں تب ان سے پیسے وصولے جائیں۔ بغیر سہولت دئے رہائشی کالونی میں پارکنگ کے لئے پیسے لینا صحیح نہیں ہے۔ پھر جب آدمی نئی گاڑی لیتا ہے تو اسے روڈ ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ روڈ ٹیکس کس لئے دیتے ہیں جب پارکنگ تک کی سہولت نہیں دے سکتے؟ دہلی میں اس وقت کل 318 پارکنگ سائٹ ہیں۔سرفیس پارکنگ 264، انڈر گراؤنڈ ،ملٹی لیول 54 ، کل گاڑیاں کھڑی ہوسکتی ہیں 72434 اور دہلی میں کل گاڑیاں ہیں 10093470 ۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2017

دہشت گرد ی کسی ایک دیش کا مسئلہ نہیں یہ عالمی چنوتی بن گئی ہے

پچھلے دو گھنٹے میں تین ملکوں میں دہشت گردانہ حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دنیا کا کوئی کونا دہشت گردی سے نہیں بچ سکا ہے۔ فرانس کے وسطی ساحلی شہر ماؤسرت کے مین ریلوے اسٹیشن پر ایتوارکو ایک حملہ آور نے دو لوگوں کو چاقو مار کر ہلاک کردیا۔ جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی مارا گیا۔ اس آتنکی حملہ کو لون ولف نے انجام دیا۔ حملہ آور نے اللہ اکبر چلاتے ہوئے یہ حملہ کیا۔ دوپہر 1:45 بجے 30 سالہ حملہ آور نے ریلوے اسٹیشن کے اندر ایک خاتون کو چاقو سے گلا کاٹ کر مار ڈالا اور دوسری خاتون کے پیٹ میں چاقو گھونپ کرقتل کردیا۔ پچھلے دو سالوں میں فرانس میں کئی آتنکی حملے ہوچکے ہیں اور دیش پہلے سے ہی الرٹ کے موڈ میں ہے۔ ادھر کینیڈا کے مونٹریال میں ایک کار سوار نے پولیس افسر کو ٹکر مارنے کے بعد چاقو سے مار ڈالا۔ اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد ایک وین نے پیدل مسافروں کو روند ڈالا جس میں چار لوگ زخمی ہوگئے۔ ایڈمنٹن پولیس چیف کا کہنا ہے یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم آتنکی حملے کے پہلو سے بھی معاملے کی جانچ کررہے ہیں۔ سب سے خطرناک حملہ امریکی شہر لاس ویگس میں تب ہوا جب ایک موسیقی پروگرام میں ایک شخص نے اندھادھند فائرننگ کرکے 58 لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا اور 515 لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ جدید امریکی تاریخ کی سب سے بڑی فائرننگ کی واردات مانی جارہی ہے۔ ایتوار کو ہوئے اس حملہ میں کسی ہندوستانی شہری کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔ حملہ آور کی پہچان 64 سالہ اسٹیفن فیڈروک کی شکل میں ہوئی ہے۔ وہ مقامی باشندہ ہے۔ بین الاقوامی وقت کے مطابق پیر کی صبح 5 بجے حملہ آور موسیقی پروگرام کے لئے بنے ہال میڈلیوے کیسینو میں گھس گیا اور 32 ویں منزل سے تابڑ توڑ فائرننگ شروع کردی۔ جس وقت گولی باری کی گئی سنگر جانسن ایلڈن کی پرفارمینس چل رہی تھی اور 22 ہزار لوگ موجود تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور 10 منٹ تک مسلسل فائرننگ کرتا رہا۔ اس کے پاس 7-8 رائفلیں تھیں اور 32 ویں منزل میں ایک کمرے کی کھڑکی سے وہ نیچے چل رہے کنسرٹ پر فائرنگ کرتا رہا۔ اونچائی سے فائرنگ کے سبب نیچے موسیقی پروگرام دیکھ رہے لوگ اتنی تعداد میں مارے گئے و زخمی ہوئے۔ حملہ کی ذمہ داری آئی ایس نے لی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے کچھ وقت پہلے ہی اسلام مذہب اپنایا تھا لیکن ایس بی آئی نے آئی ایس کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ ایس بی آئی کا کہنا ہے لاس ویگس اٹیک کا کسی بین الاقوامی تنظیم سے تعلق نہیں ہے۔حملہ آور اسٹیفن فیڈروک نے واردات کو اکیلے ہی انجام دیا۔ وہ امریکہ کا ہی باشندہ ہے حالانکہ اس خون خرابے کو اکیلے شخص نے انجام دیا، لیکن اس کی فائرننگ میں 500 سے اوپر لوگ زخمی ہونے سے واردات کی حیوانیت کا پتا چلتا ہے۔ امریکی پولیس فوری کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اور ثبوتوں کی کمی نے اس کے لئے آتنکی تنظیم آئی ایس کے اس دعوے پر یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ لاس ویگس میں بے قصور لوگوں پر قہر ڈھانے کا کام اس کے اپنے ہی آدمی نے کیا ہے کیونکہ آئی ایس کہیں نہ کہیں واردات میں شامل شخص کو اپنا حمایتی بتا کر دہشت پھیلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے اس لئے فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ لاس ویگس قتل عام پر اس نے جو دعوی کیا ہے اس میں کتنا دم ہے یہ ہمارے لئے سمجھنا مشکل ہے کہ آخر لاس ویگس جیسے شہر میں کوئی شخص 8-8 رائفلیں ، گولہ بارود کے ذخیرے کے ساتھ سیاحوں سے گلزار رہے والے ہوٹل میں ٹھہرنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ اتنے لوگوں کے مرنے و زخمی ہونے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے پاس کتنی زیادہ مارنے کی صلاحیت والے ہتھیار رہے ہوں گے؟ پولیس کارروائی اور راحت رسانی کو متاثر کرنے کے مقصد سے آس پاس کی کئی جگہوں پر ایسی ہی واردات کی افواہ پھیلانے کی کوششیں بھی ہوئی ہے۔ مانچسٹر کو شروعات مانا جائے تو لاس ویگس کی واردات کو دہشت گردی کے نئے چہرے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس نے ایک بار پھر عالمی برادری کو آگاہ کیا ہے کہ آتنک واد کہیں بھی اور کبھی بھی اور کسی بھی شکل میں آ سکتا ہے۔ جس طرح پچھلے کچھ عرصے میں کبھی پیرس کے فٹبال میچ، فرانس کے بین الاقوامی حصوں اورفلوریڈا کے نائٹ کلب میں جڑے جماوڑے کونشانہ بنانے والی واردات سامنے آئیں ہیں اس نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ اب عالمی ہوچکا ہے ۔ سوچنا ہوگا کہ دہشت گردی جب ہر دن اپنا چہرہ بدل رہی ہے تب ہم نے اپنے اوزار کتنے بدلے ہیں؟ بھارت جو بات بار بار کہتا رہا ہے آتنک واد کسی ایک دیش کا مسئلہ نہیں رہا ہے اس نے عالمی صورت اختیار کرلی ہے ان وارداتوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا مقابلہ تبھی کیا جاسکتا ہے جب تمام دیش مل کر ان دہشت گردوں کے مقابلوں کے لئے دور رس موثر حکمت عملی بنائیں۔
(انل نریندر)

آخرہنی پریت نے سرنڈرکرہی دیا

ڈیرہ سچا سودا چیف رام رحیم کی منہ بولی بیٹی ہنی پریت سنگھ انڈیاز موسٹ وانٹڈ فہرست میں اونچے مقام پر تھی۔ حال ہی میں اس کے نئے دہلی میں موجود ہونے کی خبر ملی تھی۔ ہنی پریت انسا کی تلاش میں ساؤتھ دہلی کے گریٹر کیلاش پر ہریانہ پولیس نے حال ہی میں چھاپہ ماری کی اور دہلی و پنچکولہ پولیس کی ٹیم نے گریٹر کیلاش پارٹ 2 انکلیو میں واقع عالیشان کوٹھی اے۔9 پر دبش ڈالی۔ دو گھنٹے تک ہر کمرے کی گہری چھان بین کی گئی لیکن ہنی پریت وہاں نہیں ملی۔ پولیس نے مین گیٹ سے اینٹری کی تھی۔ ایسے میں اندیشہ جتایا جارہا ہے ہنی پریت کو چھاپے ماری کی پہلے سے ہی خبر مل گئی تھی اور وہ پچھلے گیٹ سے نکل بھاگی۔ دہلی ہائی کورٹ نے ہنی پریت کو ٹرانزٹ پیشگی ضمانت دینے سے منگلوار کو انکارکردیاتھا۔ اس پر ملک کی بغاوت اور پنچکولہ میں تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔ عدالت نے اسے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر نے کو کہا اس سے پہلے سماعت کے دوران عدالت نے ہنی پریت کے وکیل سے کہا کہ اس کے موکل کے لئے سرنڈرکرنا ہی آسان راستہ ہے۔ صبح 10:30 بجے ہنی پریت کے وکیل پردیپ آریہ نے نگراں چیف جسٹس گیتا متل کی بنچ سے سماعت کرنے کی درخواست کی۔ کہا کہ ہنی پریت کو خطرہ ہے اسے تین ہفتے کی ٹرانزٹ پیشگی ضمانت دے دی جائے۔ جج صاحبہ نے کہا کہ بنچ دو بجے سماعت کرے گی۔12:45 بجے جسٹس سنگیتا ڈھینگرا کی سنگل بنچ نے سماعت شروع کی ۔ کیا بحث ہوئی اس کے اہم حصے کچھ یوں ہیں۔ جسٹس سہگل : یہ کیس دہلی کے دائرہ اختیار میں کیسے ہے؟ وکیل آریہ: ہنی پریت باقاعدہ طور سے گریٹر کیلاش آتی ہیں۔اسے دہلی سے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس سہگل : چنڈی گڑھ کا راستہ کچھ گھنٹے کا ہے وہاں سرنڈر کیوں نہیں کرتیں؟ وکیل آریہ: ڈرہے کہ ہریانہ پولیس اذیتیں دے گی۔ ہنی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کے بیانوں سے وہ جرائم پیشہ نہیں بن جاتی۔ وہ صرف اپنے والدکے ساتھ کورٹ کے اندر آئی تھی اور انہیں جیل تک چھوڑنے گئی تھی۔ راہل مہرہ(دہلی پولیس کے وکیل): ہنی پریت نے گریٹر کیلاش 2 کا جو پتہ دیا ہے، وہ غلط ہے، اس کا پتہ گریٹر کیلاش انکلیو ہے۔ کسی مجرم کی مدد نہیں کرنی چاہئے۔ اس کی وجہ سے ہریانہ میں دنگا ہوا۔ جب وہ کہتی ہے کہ اس کے والد بھگوان کے سمان ہیں تو انہیں کس بات کا خطرہ ہے؟ انل گروور (ہریانہ سرکار کے وکیل): خبروں کی بنیاد پر ہی ہنی پریت جان کو خطرہ بتا رہی ہے۔ پولیس نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ جسٹس سہگل: آپ کو جانچ میں تو شامل ہونا ہی ہوگا ،سرنڈر کیوں نہیں کرتے؟ دہلی ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی خارج ہونے کے بعد ہنی پریت کے سامنے بس ایک سرنڈر کا ہی راستہ رہ گیا۔ دہلی ہائی کورٹ میں ہنی پریت کی ٹرانزٹ ضمانت کو خارج کرتے ہوئے جو ریمارکس دئے ہیں انہیں دیکھ کر قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ ہنی پریت نے جیل جانے سے بچنے کے چکر میں اپنی مصیبتیں بڑھا لی ہیں۔ اس کے لئے قانونی راستہ بھی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ ہنی پریت کے سامنے اب سرنڈر کرے یا پھر پنجاب ہائی کورٹ میں جانے کے ہی محدود متبادل بچے ہیں۔ ہریانہ پولیس الگ سے گرفتاری وارنٹ لے کر اس کی تلاش میں لگی ہے۔ پچھلے ایک مہینے کے دوران پولیس نے اس کی تلاش میں پنجاب، راجستھان اور یہاں تک کہ نیپال تک کی خاک چھانی تھی۔ حالیہ واقعہ کے بعد ہریانہ پولیس کا اب بھی فوکس این سی آر ایریا میں ہی ہے۔ ہریانہ پولیس کا اندازہ ہے کے ہنی پریت کے ساتھ آدتیہ انسا اور پون انسا بھی ہوسکتے ہیں۔ ہنی پریت کے ساتھ ساتھ ان دونوں کے خلاف بھی ملک کی بغاوت کے سنگین الزام ہیں۔ تینوں کے خلاف حال ہی میں لک آؤٹ نوٹس بھی جاری کیاتھا۔ 73 لوگوں کی لسٹ میں ہنی پریت کا نام ٹاپ پرتھا۔ ہنی پریت کے رشتے دار بھی چاہتے تھے کہ وہ سامنے آئے اور سرنڈر کرے اب پتہ چلا ہے کہ ہنی پریت نے پنچکولہ پولیس کے سامنے سرنڈر کردیا ہے۔
(انل نریندر)

03 اکتوبر 2017

ہندو مخالف ساکھ کوتوڑنے میں لگے راہل گاندھی

گجرات میں راجیہ سبھا میں ملی جیت سے خوش کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آنے والے چناؤ کے پیش نظر مشن گجرات ابھیان کی شروعات کردی ہے۔ کانگریس نے راہل کے اس ابھیان کو نو وسرجن یاترا کا نام دیا ہے۔اس کا مقصد آنے والے دنوں میں گجرات میں نئی شروعات کرنا ہے۔ جہاں تک ایک طرف راہل عوامی رابطہ مہم کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچ بنا رہے ہیں وہیں کانگریس نے سوشل میڈیا پر پی ایم مودی اور امت شاہ کے گجرات میں ان کے ہی انداز میں جوابی کمپین شروع کردی ہے جس کا اثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ راہل گاندھی گجرات میں 12 دن کے جن سمپرک ابھیان پر ہیں، جن میں وہ تین تین دن کے چار مرحلہ میں جن سمپرک کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی اب کی بار گجرات میں اپنی پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ گجرات کانگریس کے لئے کتنا اہم ہوگیا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں پچھلے 20 برسوں میں کانگریس کا کوئی بڑا نیتا مسلسل دو دن گجرات میں نہیں رہا وہیں راہل 12 دن لگا رہے ہیں۔ مودی کی سیاسی زمین پر راہل انہی کے انداز میں نہ صرف داؤ کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ کچھ حد تک کامیاب ہوتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ سال2012ء کے گجرات چناؤ کو مودی نے راجیہ کا چناؤ نہ بننے دے کر اسے یوپی اے سرکار کی خامیوں کو گھیرتے ہوئے مرکزی بنا دیا تھا۔ اب راہل و کانگریس بھی اسی پالیسی پر چل کر مودی سرکار کو گھیر رہی ہے۔ حالانکہ کانگریس جہاں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اشوز کو لیکر سرکار کو گھیر رہی ہے وہیں اس نے سب سے پختہ نشانہ بنایا ہے مودی کے گجرات وکاس کے ماڈل کو۔ وکاس گاڈوتھوچھے(وکاس پاگل ہوا) اور ہارا چھتر گیا (ارے بیوقوف بنا رہا ہے) جیسے نعروں کو لیکر کانگریس نے گجرات ماڈل کی ہوا نکالنے کی کافی کوشش کی ہے۔ اتنا ہی نہیں اب کانگریس نیا نعرہ اتارنے کی تیاری میں ہے۔ پرگتی بین کھوایا (پرگتی بہن کھو گئی) کانگریس کے ایک اہم حکمت عملی ساز کے مطابق کانگریس گجرات میں وکاس کے نام پر لوگوں کو چھلاوے میں رکھنے کی بی جے پی کی پول کھول رہی ہے۔ اسی کے ساتھ وہاں پارٹی نوجوانوں و خواتین پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ راہل گاندھی اپنے گجرات دورہ پر سماج کے مختلف طبقوں تک پہنچنے کے ساتھ ہی مندروں میں بھی جا رہے ہیں۔ ان کے دورہ کی شروعات دوارکا دھیش مندر میں پوجا کے ساتھ ہوئی۔ راہل کے مندروں میں جانے کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کیونکہ کانگریس پر بی جے پی ۔ آر ایس ایس کی طرف سے ہندو مخالف ہونے اور اقلیتوں کو خوش کرنے والی پارٹی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ گجرات میں 2012 میں ہوئے پچھلے اسمبلی چناؤ میں نریندر مودی کی رہنمائی میں بی جے پی نے کانگریس کو اقلیتوں کی ہمدرد والی پارٹی کے طور پر پیش کرنے میں کوئی کثر ہیں چھوڑی تھی۔ بہت سے واقف کار راہل کے مندروں میں جانے کو اسی الزام کے توڑ کی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ کانگریس کے لئے یہ سب کھیل گجرات تک ہی محدود نہیں ہے پارٹی پورے دیش میں بی جے پی آر ایس ایس کے الزامات کا توڑ کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس کی لیڈر شپ پچھلے کچھ عرصے سے پارٹی پر ہندو مخالف ہونے کا ٹھپہ لگانے کی بی جے پی ۔ آر ایس ایس کی کوشش کو لیکر فکر مند ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ یہ سمجھنا اہم ہے کہ مذہبی اورسیکولر ہونا ایک چیز ہے اور مذہبی طور پر سیاسی ووٹ بینک کی بنیاد پر فرقہ واریت ہونا اس سے پوری طرح الگ ہے۔ اسی وجہ سے ایک طرف پارٹی مودی سرکار کی خراب اقتصادی پالیسیوں کو لیکر سرکار کو گھیر رہی ہے تو دوسری طرف بی جے پی۔ آر ایس ایس کے ہندو اشو کو لیکر ہوشیاری سے قدم بڑھا رہی ہے۔
(انل نریندر)

میٹرو کی مہنگائی بڑھائے گی سڑکوں پر جام کی سمسیا

دہلی میٹرو کے ذریعے کرایہ میں اضافے کی چوطرفہ مخالفت ہورہی ہے۔ دہلی میٹرو میں 10 اکتوبر سے بڑھا کرایہ نافذ ہونے والا ہے۔ سنیچر کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی سرکار کو خط لکھ کر کرایہ میں اضافے کو روکنے کی درخواست کی ہے۔ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو لکھے خط میں وزیر اعلی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عام آدمی کے مفاد میں مرکزی حکومت اس بڑھے کرایہ کو روکنے میں مدد کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کرایہ کمیٹی کی سفارشوں کے مطابق سال میں دو بار ہی کرایہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس سفارش کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ طے قاعدے چھ ماہ کے بعد ہی کرایہ بڑھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ مہنگائی کو ذہن میں رکھ کر ہی کرایہ طے ہوسکتا ہے۔ اضافہ 7 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا، اس کی تعمیل بھی نہیں کی گئی۔ایک برس میں اگر اضافے کا جائزہ لیا جائے گاتو یہ قریب 80 فیصد ہوگا۔ دہلی میٹرو کے ذریعے کرایہ میں کئے جارہے اضافے کا اثر آنے والے دنوں میں دہلی میں دکھائی دے گا۔ قریب تین ماہ پہلے دہلی میٹرو نے66 فیصدی تک کرایہ میں اضافہ کردیا تھا۔ اکتوبر میں پھر سے میٹرو کا کرایہ بڑھنے جارہا ہے ایسے میں امکان ہے قریب 1 لاکھ تک اور یومیہ میٹرو مسافر دیگر متبادل ٹرانسپورٹ کا انتظام کریں اس سے پہلے بھی میٹرو کو یومیہ 1 لاکھ مسافروں کا نقصان ہوا تھا۔ میٹرو کو چھوڑنے کے بعد ا ن مسافروں نے بسوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں سے سفر شروع کردیا۔ اس میں بائیک پہلی پسند رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ محکمے کے مطابق دسمبر 2016 تک دہلی میں 63 لاکھ دوپہیہ گاڑیاں تھیں جو اب بڑھ کر 68 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ دہلی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے جام کی صورتحال بھی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں ایک کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ گاڑیاں دہلی کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی خستہ حالت ہونے کے بعد اس میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ بتادیں دہلی میں ڈی ٹی سی کے قریب 4 ہزار بسیں ہیں ان میں 400 سے500 بسیں سڑکوں پر نہیں اتر پاتیں۔ اس کے علاوہ مرمت کا کام وقت پر پورا نہ ہونے کے سبب زیادہ تر بسیں سڑکوں پر ہی بریک ڈاؤن ہوجاتی ہیں۔ وہیں دہلی میں کلسٹر کی 1600 بسیں ہیں۔ ا ن میں بھی مرمت کی کمی کے سبب بسیں سڑکوں پر خراب ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کی سہولیت دینے کے لئے میٹرو کرایہ میں اضافہ ضروری ہے۔ دلیل دی گئی ہے کہ 8 سال بعد کرایہ بڑھایا ہے جس کا اوسطاً سالانہ 7-8 فیصد ہی آئے گا۔ ڈی ای ایم آر سی کی طرف سے میڈیا میں جاری اس بیان کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے خط کا جواب مانا جارہا ہے کہ مہنگائی کے بوجھ سے دبے دہلی کے شہریوں کو میٹرو کا جھٹکا بھی سہنا پڑے گا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...