21 اپریل 2018

سواتی مالیوال کی جان اب خطرہ میں ہے

بصد احترام صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے بدھوار کو کٹھوا آبروریزی اور قتل کے معاملہ کو نفرت اورشرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیسا سماج بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد انسانیت کے لئے بہت تشویش پیدا کرنے والی بات ہے اور بچوں کو حفاظت مہیا کرانے کے لئے پختہ عزم کی ضرورت ہے۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے لندن میں کہا کہ بدفعلی تو بدفعلی ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ حالیہ وارداتوں پر ان کا کہنا تھا کہ بدفعلی دیش کے لئے شرم کی بات ہے۔ بھارت میں بچیوں سے بدفعلی معاملہ میں بدھ کو دن میں لندن کی سڑکوں پر ہوئے مظاہرے کے بعد شام کو ویسٹ منسٹر کے سینٹرل ہال میں’ بھارت کی بات سب کے ساتھ‘ پروگرام میں مودی نے کہا کہ ننھی بچی سے بدفعلی ہونا بہت ہی تکلیف دہ ہے جب سبھی مان رہے ہیں کہ بچیوں کے ساتھ بدفعلی ہونا ناقابل برداشت ہے اور اس مسئلہ پر ہمیں سیاست نہیں کرنی چاہئے، تو انشن پر بیٹھی دہلی مہلا کمیشن کی چیئرمین سواتی مالیوال بھی تو یہی کہہ رہی ہیں۔ انشن کے ساتویں دن مالیوال کی طبیعت بگڑ رہی تھی۔ سواتی پچھلے سات دنوں سے پانی کے سہارے انشن پر بیٹھی ہیں۔ ان سے ملنے دہلی سرکار کے وزیر اعلی اور دیگر وزراء کے علاوہ مختلف پارٹیوں کے ایم پی بھی راج گھاٹ پہنچے ہیں لیکن مرکزی سرکار کی طرف سے کوئی ابھی تک نہیں پہنچا۔ سواتی بیشک حکمراں پارٹی سے الگ نظریات والی پارٹی کی ہوں لیکن جو بات یا مانگ وہ کررہی ہیں اس پرتو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ خود وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ پر ہمیں سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ سواتی انشن پر اس لئے بیٹھی ہیں کہ عورتوں کے ساتھ ہورہے آبروریزی کے معاملوں میں سخت سے سخت قانون بنیں۔ ان کی صحت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ لمبے وقت تک انشن جان لے سکتا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے اگر جلد سواتی کا انشن نہیں ٹوٹتا تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ سواتی نے بھی اپنی ضد پکڑ رکھی ہے وہ کہتی ہیں کہ وزیر اعظم ضدی ہیں تو میں بھی ان سے زیادہ ضدی ہوں۔ جب تک میری مانگ نہیں مانیں گے تب تک میں اپنا انشن نہیں توڑوں گی۔ ہم سواتی جی سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اسے وقار کار سوال نہ بنائیں۔ شاید ہی پورے دیش میں کوئی ایسا شخص کو جو آپ کی مانگ کی حمایت نہ کرتا ہو لیکن آپ یہ ضد چھوڑ دیں کہ پی ایم ہی آپ کی بات پر رد عمل ظاہر کریں۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ اگر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر یا کوئی مرکزی وزیر انہیں یقین دلا دے کہ ان کی مانگوں پر غور کیا جائے گا تو یہ انشن ختم ہوسکتا ہے۔ سواتی مالیوال کا انشن خطرناک اسٹیج پر پہنچ رہا ہے اگر اس کا جلد اس کا حل نہیں نکلا تو برا اند ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

آئی پی ایل کا کریز

آج کل آئی پی ایل اپنے پورے شباب پر ہے۔ دنیا کی سب سے مہنگی کرکٹ لیگ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) ٹی وی کا سب سے بڑا شو بنتی جارہی ہے۔ یہ نہ صرف ٹی وی کے دوسرے چینلوں کے لئے چیلنج بن رہی ہے بلکہ سنیما میں فلموں کا بھی اس نے بھٹا بٹھا دیا ہے۔ سنیما ہال آئی پی ایل سے بری طرح متاثر ہیں اور کئی سنیماؤں میں تو 20 فیصد ناظرین میں کمی آگئی ہے۔ اسٹار انڈیا کے مطابق پچھلے برس55 کروڑلوگوں نے آئی پی ایل میچ دیکھے تھے جبکہ اس بار چینل اور آن لائن ٹیلی کاسٹ سے یہ تعداد70 کروڑ پار کرجائے گی۔ آئی پی ایل کے اس سیزن کے پہلے میچ میں شہری نوجوانوں کی دیکھنے کی شرح 62.35 لاکھ امپریشنز (ایک منٹ یا اس سے زیادہ دیکھنے والے ناظرین) رہی جو پچھلے سال سے 37 فیصدی زیادہ ہے۔ ٹی وی ناظرین کا تجزیہ کرنے والی براڈ کاسٹ آڈینس ریسرچ کونسل بارک کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2017 میں آئی پی ایل سیزن 10 کے دوران ہندی منورنجن چینل کے ناظرین کی تعداد میں 64 فیصد گراوٹ آئی تھی وہیں مووی چینل کے ناظرین کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ سونی میکس کی ناظرین شپ کو ہٹا دیں تو مووی چینل کی ناظرین تعداد میں گرواٹ درج کی گئی۔ انڈین ٹیلی ویژن ڈاٹ کام کے سی ای او و تجزیہ نگار انل بنواری نے بتایا کہ آئی پی ایل کے سیزن میں ٹی وی چینل پر اشتہارات کی شرحیں ضرور بدلتی ہیں، خاص طور پر آئی پی ایل میچ میں دکھائے جانے والے چینل پر۔ ذرائع کے مطابق آئی پی ایل کے پچھلے میچوں کے ٹیلی کاسٹ کرنے والی کمپنی سونی پکچرس نیٹ ورک کے مطابق اس مرتبہ اسٹار انڈیا نے اشتہار شرحیں 50 فیصد سے زیادہ بڑھا دی ہیں۔ بنواری کہتے ہیں کہ یہ رقم 2000 کروڑ سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ آئی پی ایل۔10 سیزن میں سونی پکچرس نیٹ ورک نے ٹیلی کاسٹ سے 1200 کروڑ روپے کمائے تھے۔ آئی پی ایل 10 کے مقابلے میں سیزن 11 میں اشتہاری شرحیں 50 فیصدی سے زیادہ ہیں ۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ اسٹار ایڈ دینے والوں کو ہندی ، انگریزی کے ساتھ بنگالی، تمل، تیلگو اور کنڑ زبان میں اشتہاروں کے لئے 10 چینل کی سہولت دے رہا ہے۔ اسٹار انڈیاسے وابستہ افسر نے بتایا کہ آئی پی ایل شروع ہونے سے پہلے ہی قریب90 فیصد سے زیادہ آن ایئر کمنٹری سے بچ چکا تھا۔اور 70 فیصدی اسپانسر شپ کا ہے جس میں100 سے زیادہ برانڈ کے اشتہار آئے۔ غور طلب ہے کہ اسٹار انڈیا نے آئی پی ایل میچوں کے پانچ سال کے لئے ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا کے گلوبل میڈیا حقوق بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ سے 16357.5 کروڑ روپے میں خریدے ہیں جبکہ چینی موبائل بنانے والی کمپنی ویوو الیٹرانکس کام نے 2199 کروڑ روپے پانچ برس کے لئے ٹائٹل اسپانسر شپ کا اختیارخریدہ ہے۔
(انل نریندر)

20 اپریل 2018

اے ٹی ایم خالی: ایک بار پھر نوٹ بندی جیسے حالات

نوٹ بندی کے قریب سوا سال بعد ایک بار پھر نوٹ بندی کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔جب ایک بار پھر اے ٹی ایم میں ’نو کیش‘ کے بورڈ نظر آئے۔ دیش کی راجدھانی سمیت 10 ریاستوں میں اے ٹی ایم سے نقدی نہ ملنے کی خبریں آرہی ہیں۔ ان میں دہلی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار، جھارکھنڈ،آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، گجرات اور مہاراشٹر شامل ہیں۔ باقی ریاستوں میں یہ دقت سامنے آنے لگی ہے۔ نومبر 2016 کی تکلیفوں کو لوگ بڑی مشکل سے بھولنے لگے تھے لیکن اے ٹی ایم و بینک میں جو لمبی لائنیں لگی تھیں، عام لوگوں کو جو تکلیفیں ہوئی تھیں وہ سب پھر سے یاد آنے لگی ہیں۔ بیشک اے ٹی ایم کا سنکٹ ابھی بھی دور نہیں ہوا لیکن مانا جارہا ہے کہ کیش کے بحران سے افواہوں کا پھیلنا فطری ہے۔ دیش کے کئی حصوں میں اے ٹی ایم پوری طرح سے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ جن میں کچھ پیسہ ہے بھی ان کے باہر لمبی لائنیں لگی دکھائی دیں۔ 2016 کے آخر میں جو ہوا اسے آسانی سے سمجھا جاسکتا تھا تب سرکار نے بازارسے زیادہ تر نقدی اٹھا لی تھیں اور اس سے کرنسی کا بحران کھرا ہوا جو کچھ ہفتوں تک چلا۔ جیسے ہی نوٹ چھپ کر بازار میں آئے تو بحران ختم ہوگیا۔ اب جو ہورہا ہے وہ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ وجہ پتہ نہیں چل پارہی ہے۔ سرکار اور ریزرو بینک کی طرف سے جو صفائی دی جارہی ہے وہ شاید ہی آسانی سے کسی کے گلے اترے۔ نومبر2016 میں جو ہوا وہ تو ایک پالیسی ساز فیصلہ کا نتیجہ تھا لیکن اپریل 2018 میں جو ہورہا ہے وہ لوگوں کے لئے پہیلی بنا ہوا ہے۔ سرکار اور ریزرو بینک کی جانب سے جو صفائی دی گئی اس کی اہمیت تبھی ہے جب اس بحران کوجلدی سے دور کردیا جائے۔ اگر ریزرو بینک اور سرکار اپنے وعدے پر کھری نہیں اتری تو یہ بحران اور گہرا ہوسکتا ہے اور دیش کے ان حصوں کو بھی اپنی زد میں لے سکتا ہے جہاں ابھی اتنا بحران نہیں ہے جتنا بہار ، مدھیہ پردیش وغیرہ اور دیش کے کچھ حصوں میں دکھائی دے رہا ہے۔ آر بی آئی صفائی دے رہا ہے کہ اس کے پاس درکار نقدی نہیں ہے۔ لاجسٹک اسباب سے کچھ ریاستوں میں اے ٹی ایم میں نقدی بھرنے اور کیلیبریشن کی کارروائی جاری رہنے سے دقت ہے۔ پھر بھی سبھی چار نوٹ پریسوں میں چھپائی تیز کردی گئی ہے۔ شبہ ہے کہ 2 ہزار کے نوٹوں کی جمع خوری ہورہی ہے اس سے نمٹنے کے لئے 500 کے نوٹوں کی چھپائی بڑھائی جائے گی۔ وزارت مالیات کا کہنا ہے تین مہینے کے دوران نقدی کی مانگ غیر متوقع طورپر بڑھی ہے۔ ارون جیٹلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت معیشت میں درکار سے بھی زیادہ نقدی چل رہی ہے اوراس کی کمی نہیں ہے۔ کچھ علاقوں میں اچانک اور غیر ضروری طریقے سے مانگ ہوئی ہے۔ اضافے کے سبب تنگی بنی ہوئی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ دیش پھر نوٹ بندی کے خوف کی گرفت میں ہے۔ مودی جی نے دیش کے بینکنگ سسٹم کو بربادک کردیا ہے۔ انہوں نے ہر ہندوستانی کی جیب سے 500-1000 کے نوٹ چھین لئے اور نیرو مودی کو دے دئے لیکن اس کے بارے میں نہ تو ایک لفظ بول رہے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں آرہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ بحران کسی بینکنگ بد انتظامی کا نتیجہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو یہ اور بھی خطرناک بات ہے۔ ہمیں یہ سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم کیش لیس معیشت کی باتیں بھلے کتنی ہی کریں لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ آج بھی چھوٹے دوکانداروں ،مزدوروں ،کسانوں کے لئے اور خاص کر غیر منظم سیکٹر کے لئے نقدی ہی سب کچھ ہے۔ اگر اس کا جلد حل نہیں نکالا گیا تو یہ اس چناوی ماحول میں حکمراں پارٹی کے خلاف جا سکتا ہے۔
(انل نریندر)

نواز شریف کا سیاسی کیریئر ختم

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کی عدلیہ ، قانون و انتظام و جانچ ایجنسیاں بھارت سے بہتر ہیں۔ آپ پنامہ پیپرس کا معاملہ ہی لے لیں ہمارے دیش میں تو ابھی جانچ ہی چل رہی ہے ، وہ بھی آدھی ادھوری ، پاکستان میں نہ صرف جانچ پوری ہوگئی ہے بلکہ وہاں کی عدالتوں نے سیاستدانوں کوسزا بھی دینا شروع کردی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو 28 جولائی 2017 کو پنامہ پیپرس معاملہ میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ پھر پاک سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل قراردے دیا۔ نواز شریف کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اب معزول نواز شریف پر تاحیات چناؤ لڑنے پر جمعہ کو روک لگ گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے دوررس اور تاریخی فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت کسی عوامی نمائندے کی نا اہلی مستقل ہے۔ اس کے ساتھ ہی تین بار دیش کے وزیراعظم رہے نواز شریف کا سیاسی کیریئر ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ہے۔ پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے آئین کے تحت کسی عوامی نمائندے کی نا اہلی کی میعاد تعین کرنے والی عدلیہ پر سماعت کرتے ہوئے اتفاق رائے سے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت آئین کی دفعہ 62(1) ایف پر غور کررہی تھی جس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ کسی عوامی نمائندے کو خاص حالات میں نا اہل ٹھہرایا جاسکتا ہے لیکن نا اہلی کی میعاد نہیں بتائی گئی ہے۔ دفعہ62 میں کسی پارلیمنٹ کے ممبر کے لئے صادق اور ایمانداری و انصاف پر مبنی ہونے کی صاف شرط رکھی گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ اسی دفعہ کے تحت 68 سالہ نواز شریف کو 28 جولائی 2017 میں پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں نا اہل ٹھہرایاتھا۔ شریف کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا نااہل ٹھہرایا گیا کوئی بھی شخص کسی سیاسی پارٹی کا چیف نہیں رہ سکتا۔اس کے بعد انہیں حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت کی کرسی بھی گنوانی پڑی تھی۔ جمعہ کو سبھی ججوں نے ایک رائے سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا جو لوگ دیش کے آئین کے تئیں ایماندار اور سچے نہیں ہیں انہیں زندگی بھر کے لئے پارلیمنٹ سے ممنوع رکھنا چاہئے۔ حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز نے اس فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آتنک واد کا صفایا اور ترقیاتی اسکیموں کو شروع کرنے کی سزا ملی ہے۔ یہ فیصلہ ایک مذاق ہے اور پچھلے وزرائے اعظم کے ساتھ بھی ہوچکا ہے۔ وزیر اعظم شاہدخان عباسی نے کہا کہ صرف جنتا کا فیصلہ ان کے لئے معنی رکھتا ہے۔ جیو ٹی وی کے مطابق عباسی نے مظفر آباد میں کہا کہ دیش کام کرنے والے کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔جس کے آخر کا جنتا کے ذریعے فیصلہ ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

19 اپریل 2018

مکہ مسجد دھماکہ کا ذمہ دار کون ہے

حیدر آباد میں واقع مکہ مسجد میں 18 مئی2007 کو ہوئے خوفناک دھماکہ کے معاملہ میں 11 سال بعد این آئی اے نے پیر کو سوامی اسیما نند سمیت پانچ ملزمان کو ثبوتوں کی کمی میں بری کردیا ہے جو کہ عدلیہ کارروائی میں تاخیر کی ایک مثال تو ہے ہی ساتھ ہی چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ فیصلہ کے کچھ گھنٹے میں ہی این آئی اے اسپیشل آتنک واد انسداد عدالت کے جج ریڈی نے استعفیٰ دے دیا۔ حالانکہ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی اسباب سے استعفیٰ دیا ہے اور اس کا فیصلہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ کچھ عرصے سے استعفیٰ دینے پر غور کررہے تھے۔ جج رویندر ریڈی استعفیٰ دینے کے بعد ہی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق وہ دو ماہ میں ریٹائر ہونے والے تھے۔ تقرری کے معاملہ میں راج بھون کے سامنے دھرنا دینے کے لئے انہیں دو سال پہلے معطل بھی کیا گیا تھا۔ وہیں ایک معاملہ میں قواعد کے الٹ ضمانت دینے کو لیکر کرپشن کے الزام میں سی بی آئی ان کے خلاف جانچ بھی کررہی ہے۔ سوامی اسیما نند سمیت پانچ ملزمان کو بری کئے جانے کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر اس مسجد میں دھماکہ کس نے کیا ہے؟ کیونکہ عدالت نے یہ پایا اسیما نند کے مخالف فریق الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اس لئے ایسے سوال بھی اٹھیں گے کیا این آئی اے نے اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہیں کیا ہے؟ ایسے سوالوں کے درمیان اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 11برس پرانے اس معاملے کی جانچ کے شروعات میں مقامی پولیس نے حرکت الجہاد نامی آتنکی تنظیم کو دھماکوں کے لئے ذمہ دار مانا اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا لیکن اس کے بعد جب معاملہ سی بی آئی کے پاس آیا تو اس نے کچھ ہندو تنظیموں کے کچھ ممبران کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت کی یوپی اے سرکار کی طرف سے بھگوا اور ہندو آتنک واد کا جملہ اچھال دیا گیا۔ اس فیصلہ سے سوامی اسیما نند اور ان کے ساتھیوں کو راحت تو ملی ہے بھاجپا اور سنگھ پریوار کو کانگریس اور یوپی اے پر حملہ کرنے کا موقعہ ضرور دے دیا ہے جس کے عہد میں مکہ مسجد ،اجمیر درگاہ اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ہوئے آتنکی حملوں کے بعد آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں پر الزام لگائے گئے تھے۔ بھولنا نہیں چاہئے کہ یوپی اے سرکار کے وقت ان معاملوں میں ملزم بنائے گئے سنگھ پریوار سے جڑے اسیما نند، کرنل پروہت، سادھوی پرگیہ جیسے بہت سے لوگوں کو ایک ایک کرکے راحت ملتی جارہی ہے۔ کیا سی بی آئی اور این آئی اے یوپی اے سرکار کے دباؤ میں کام کررہی تھی؟ این آئی اے نے سیاسی دباؤ میں اسیما نند اور دیگر لوگوں کے خلاف معاملہ بنایا تھا؟ ان لوگوں کے خلاف ثبوت کیوں نہیں اکٹھا کرپائی؟ اسیما نند اور دیگر لوگوں کو 11 برس تک اذیتیں اور بے عزتی جھیلنی پڑی اس کی بھرپائی کیسے ہوگی اور بھرپائی کون کرے گا؟ دوسری طرف کانگریس کا الزام ہے کہ این آئی اے کی جانچ جانبدارانہ ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ سبھی جانچ ایجنسی مرکز کی کٹھ پتلی بن گئی ہیں۔ سلمان خورشید نے کہا کہ درجنوں گواہ مکر گئے ہیں اس پر سوال تو کھڑے ہوتے ہی ہیں۔ بھاجپا ترجمان سندیپ پاترا نے کہا کہ پی چدمبرم اور سشیل شندے جیسے نیتاؤں نے بھگوا آتنک واد جیسے لفظ کا استعمال کر ہندوؤں کو بے عزت کیا ہے اس کے لئے سونیا اور راہل گاندھی معافی مانگیں۔ لیکن بنیادی سوال تو اب بھی وہی ہے کہ مکہ مسجد میں بم دھماکہ کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ اس دھماکہ میں 9 لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 58 زخمی ہوئے تھے۔ تب تک معاملہ شانت نہیں ہوگا جب تک قصورواروں کی پہچان نہیں ہوگی اور انہیں اپنے کئے کی سزا نہیں ملتی۔
(انل نریندر)

داؤد ابراہیم نے وسیم رضوی کے قتل کی سفارش کی

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے اترپردیش کے شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو مارنے کی سازش کا پردہ فاش کیا ہے۔ جمعہ کو اسپیشل سیل نے رضوی کے قتل کی سازش میں لگی ڈی کمپنی کے تین گرگوں کو گرفتار کیا ہے۔ تینوں ملزمان کو پولیس نے یوپی کے بلند شہر علاقہ میں گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق پاکستان میں بیٹھے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم نے چھوٹا شکیل کے ذریعے وسیم رضوی کو مارنے کے لئے ان بدمعاشوں کو ذمہ داری دی تھی۔ یہ انکشاف دہلی پولیس کے اسپیشل ڈی سی پی پرمود کشواہا نے کیا ۔ گزشتہ مارچ کو تینوں نے رضوی کو لکھنؤ میں واقع دفتر کی ٹھو لی تھی۔ کشواہا نے بتایا کہ پولیس کو جانکاری مل رہی تھی کہ بھگوڑا داؤد ابراہیم بھارت میں بڑی واردات کرنے کے فراق میں ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اس کے گرگوں پر نظر رکھنی شروع کردی۔ اسی دوران فون پر ہوئی بات چیت کی بنیادپر پتہ چلا کہ بلند شہر کے کچھ بدمعاشوں نے وسیم رضوی کے قتل کی سازش شروع کردی ہے۔ اس پر پولیس نے 12 اپریل کو بلند شہر علاقہ میں سلیم احمد انصاری، ابرار ،عارف کو گرفتار کرلیا۔ ان کا ایک اور ساتھی فی الحال فرار ہے۔ گزشتہ دسمبر میں سلیم دبئی گیا تھا جہاں اس کی ملاقات داؤد کے داہنے ہاتھ چھوٹا شکیل کے ساتھی سے ہوئی تھی۔ اس نے وسیم رضوی کو مارنے کے لئے تین ہزار درہم (53000 ) پیشگی کے طور پر پیسے دئے تھے۔ یہ رقم حوالہ کے ذریعے سلیم کو ملی تھی۔ شکیل کے ساتھی نے سلیم سے کہا تھا پہلا وکٹ گراؤ تمہیں مالا مال کردیں گے۔ اس کے بعد بھارت لوٹ کر اس نے اس سازش کو انجام دینے کا کام شروع کردیا۔ سلیم احمد نے وسیم رضوی کے لکھنؤ میں واقع دفتر کی 10سے12 بار ٹھو لی تھی۔ اس نے دفتر کا پورا نقشہ بنا رکھا تھا۔ وہ اپنے سازشیوں کے ساتھ شکایتی بن کر رضوی کے پاس جاتا اور موقعہ ملتے ہی انہیں گولی مار دیتا۔ واردات کے بعد اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ داؤد کے ایک رشتے دار کے یہاں جاتا جہاں انہیں سپاری کی بقایا رقم ملنی تھی۔ دراصل وسیم رضوی داؤد ابراہیم اور ان کے گرگوں کی آنکھ کی کرکری تبھی سے بنے ہوئے تھے جب کچھ دن پہلے وسیم رضوی نے رام مندر بنانے کو لیکر چل رہے تنازع پربیان دیا تھا۔ ان کا یہ بیان رام مندر کے حق میں تھا جس کے چلتے ڈان داؤد ابراہیم انہیں سبق سکھانا چاہتا تھا۔ اسپیشل سیل کے ڈی سی پی نے بتایا کہ ہماری ٹیم کو مارچ میں اطلاع ملی تھی کہ کچھ بدمعاش انڈر ورلڈ کے اشارہ پر رضوی کو قتل کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔ واردات سے پتہ چلتا ہے کہ بیشک داؤد پاکستان میں بیٹھا ہو لیکن وہ بھارت میں کیا ہورہا ہے اس پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ سازش تو ناکام کردی گئی ہے۔ اسپیشل سیل نے کہا کہ خطرہ برقرار ہے۔
(انل نریندر)

18 اپریل 2018

مہلا طاقت سے ہی برسا ہے سونا

ہندوستانی کھیل مسلسل نیا ٹیلنٹ اور خود اعتمادی حاصل کررہا ہے اور گولڈ کوسٹ میں ختم ہوئے کامن ویلتھ گیمس میں بھارت نے کمال کر دکھایا۔ ان کھیلوں میں بھارت 66 میڈل کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔ نوجواں کھلاڑیوں اور عورتوں کی پرفارمینس بھی خاص طور پر بہت قابل ذکر رہی۔ ہندوستانی کھیل میں اعتمادی اور اسپورٹس اونچائی پر نئے ٹیلنٹس کا عروج ہورہا ہے۔ اس بات کو قومی کھیلوں میں بھارت کی خاتون کھلاڑیوں کے دمدار مظاہرے کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ وہ گھریلو کھینچ تان اور جنسی نابرابری کی رکاوٹیں توڑ کر بھارت کا نام روشن کررہی ہیں۔ ان کھیلوں میں ٹیبل ٹینس مقابلہ میں سنگاپور جیسی مضبوط ٹیم کا ہارنا ویسے ہی ہے جیسا اولمپک میں چین کو شکست دینا۔نشانہ بازی میں 7 گولڈ سمیت 16 میڈل ، کشتی میں 5 گولڈ سمیت 12 میڈل اور ایک دوسرے کھیل میں 5 گولڈ سمیت 9 میڈل ، مکے بازی میں 3 گولڈ سمیت 9 میڈل، ٹیبل ٹینس میں 3 گولڈ سمیت 8 میڈل ، بیڈمنٹن میں 2 گولڈ سمیت 6 میڈل، ایتھلیٹکس میں 1 گولڈ سمیت 3 میڈل وغیرہ ہندوستانی کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ صلاحیت کا ہی ثبوت ہے۔نشانہ بازی میں 15 سال کے انیرا مانوال نے نوجوان ٹیلنٹس کی دھماکہ دار موجودگی درج کرائی تو منیکابترا سب سے کامیاب ہندوستانی کھلاڑی کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی ہیں جنہوں نے ٹیبل ٹینس میں مہلا سنگل اور ٹیم مقابلہ میں میڈل جیتا۔ مہلا یوتھ اور مین سنگل مقابلہ میں تانبہ کا میڈل جیت کر سبھی مقابلوں میں جیتنے کا نایاب ریکارڈ بنایا ہے۔ ایسے ہی میرا بائی یانو ، سنگیتا یانو، پونم یادو، حنا سدھو، تیجسونی ساونت، شریانی سنگھ، دنیش دھوگر وغیرہ نے ہندوستانی کھیلوں میں مہلا طاقت کی بالادستی کی نشاندہی کی ہے تو سشیل کمار ، میریکام اور سائنہ نہوال کے گولڈ میڈلوں نے دکھایا کہ ان کے تجربوں کا اب بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے گولڈ کوسٹ میں اختتام پذیر کامن ویلتھ کھیل سالوں تک کھیل شائقین کا سینا فخرسے چوڑا کرتے رہے ہیں۔ زیادہ تر سونا بیٹیوں پر برسا ہے۔ یہ دیش کی آدھی آبادی کی مضبوطی اور دنیا کو ہندوستانی لڑکیوں کی ناقابل بیاں صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حالانکہ لڑکیوں کی لمبی چھلانگ میں ان کی جدوجہد اور خاندان کا جذبہ زیادہ معنی رکھتا ہے جہاں کسی کھلاڑی کو بنیادی سہولیات کے بغیر پریکٹس کرنی پڑی تو بہتوں کے خاندان کو آدھے پیٹ یا بھوکے پیٹ رہ کر گزارہ کرنا پڑا۔ یہی زندگی ہے۔ بھارت کو آگے بڑھنے کی تلقین کرتی ہے۔ گولڈ کوسٹ میں 66 میڈل کے ساتھ بھارت تیسرے مقام پر رہا۔ 2002 ء میں گیمس میں 79 میڈل جیت کر بھی بھارت 4 مقام پرتھا۔ گیمس بھارت کے لئے تیسرے سب سے کامیاب کھیل رہے۔ پہلا دہلی (101)، دوسرا مین چیسٹر (79) ، تیسرا گولڈ کوسٹ (66)۔ یہ حقیقت ہر کسی کے نوٹس میں ہے کہ بھارت میں کھیل کی سہولیات کس سطح کی ہیں؟ نہ تو قاعدے کے ٹرینر ہیں اور نہ ہی اسپورٹس اسٹاف اور نہ ہی کھیلوں کے لئے بنیادی ڈھانچہ؟ پھربھی حالیہ برسوں میں کھیل کو لیکر سرکار اور کھیل شائقین دونوں کے نظریئے میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ سرکار نے بھی بجٹ میں کھیل کی رقم بڑھائی ہے وہیں کھلاڑیوں میں بھی عمدہ کھیل دکھانے کا حوصلہ پروان چڑھا ہے۔ حالانکہ اب بھی ہم کمزوری کی حالت میں ہیں مگر اتنا صاف ہے کہ اگر اسی طرح سازو سامان اور سہولیت مہیا کرائی جائیں تو ہم کھیل کی دنیا میں بھی ایک بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ سبھی کھلاڑیوں اور ان کے کوچ ، اسپورٹس اسٹاف کو اس شاندار پرفارمینس کے لئے بہت بہت بدھائی۔ الوداع گولڈ کوسٹ۔ اب برمنگھم میں پھر ملیں گے۔
(انل نریندر)

آبروریزی متاثرہ کی تصویر نہ دکھائیں

ہم دہلی ہائی کورٹ کی اس ہدایت سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں کہ میڈیا میں چاہے وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ہو ہمیں آبروریزکی تصویریں نہیں دکھانی چاہئیں۔ آئے دن پرنٹ میڈیا میں متاثرین کی تصویریں چھپتی رہتی ہیں۔ ابھی کل ہی دہلی کے امن وہار علاقہ میں 11 ویں کلاس کی طالبہ سے بدفعلی کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ تصویر میں اس کے بندھے پیروں پر مارنے کے نشان دکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح کٹھوا کی بدقسمت بچلی آصفہ کی تصویر دکھائی جارہی ہے۔ ہمیں متاثرین کی جگہ ان جانوروں کی تصویر دکھانی چاہئے جنہوں نے یہ بدفعلی کی ہے۔ اس کے علاوہ بدفعلی کی پوری تفصیل دی جاتی ہیں کیا ان سب کی ضرورت ہے؟ دہلی ہائی کورٹ نے کٹھوا میں اجتماعی آبروریزی کے بعد ماری گئی 8 سالہ بچی کی پہچان ظاہر کرنے کے معاملے میں کئی میڈیا گھرانوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آگے سے ان کی پہچان نہ ظاہر کی جائے۔ میڈیا میں آئی خبروں پر خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے اور بہت تکلیف دہ ہے کہ متاثرہ کی تصویر بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آرہی ہے۔ نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس مورتی سی ہری شنکر نے میڈیا ہاؤسوں سے جواب مانگا ہے کہ اس معاملہ میں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ بنچ نے کہا پورا کاپورا میڈیا ٹرائل چلا رہا ہے۔ عدالتنیمیڈیا ہاؤس کو ہدایت دی ہے کہ وہ آگے سے متاثرہ کا نام یا اس کی تصویر ، اسکول کا نام یا اس کی پہچان ظاہرکرنے والے کسی بھی اطلاع کو شائع کرنے یا ٹیلی کاسٹ کرنے سے بچیں۔ عدالت ہذا نے کہا کہ خبروں نے متاثرہ کی پرائیویسی کی توہین کی ہے اور خلاف ورزی کی ہے جس کی کسی بھی حالت میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بنچ نے کہا کہ آئی پی سی اور پاسکو قانون میں ایسی سہولیات ہیں جو ایسی اطلاعات کے اشاعت یا ٹیلی کاسٹ کو ممنوع کرتی ہیں جو بچوں سمیت جنسی جرائم سے متاثرہ شخص کی ساکھ اور پرائیویسی متاثر کرتی ہیں۔ ہم ہائی کورٹ کی ہدایت کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں متاثرہ کی تصویر یا ذاتی معلومات کو دینے سے بچنا ہوگا لیکن سوشل میڈیا کا کیا ہوگا؟ سوشل میڈیا میں تو سب کچھ آجاتا ہے ، اس پر کیسے کنٹرول ہوگا اس پر بھی تو غور کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

17 اپریل 2018

زور آزمائش کا اکھاڑا بن رہا ہے سیریا

شام میں مشتبہ کیمیکل حملوں کے جواب میں امریکہ کی قیادت میں برطانیہ ، فرانس نے ایتوار کی صبح چار بجے شام پر حملہ کردیا۔ قریب ایک گھنٹے کے اندر 120 میزائلیں داغی گئیں۔ سیریا کی راجدھانی دمشق اور حمس صوبہ کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ کے وزیر دفاع جیمس میٹز نے کہا کہ حملہ میں ہوئے نقصان کا ابھی جائزہ نہیں لیا گیا ہے آگے اور حملہ کرنے کا امکان ہے لیکن کہا یہ محض ایک حملہ ہے اور اس حملہ کے احتجاج میں اور صدر اسد کی حمایت میں سینکڑوں لوگ صبح راجدھانی دمشق کی سڑکوں پر نکل آئے اور ایک چوک پر اکٹھے ہوکر شام ،روسی اور ایرانی جھنڈے لہرائے گئے۔ شام حکومت نے تین لوگوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کسی کی موت سے انکار کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ان حملوں سے شام کے صدر بشرالاسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے 20 فیصد ذخیرے کو تباہ کردیا ہے۔ ادھر شام کی فوج اور روس نے دعوی کیا دو تہائی میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردیا گیا۔ ان میں ہوائی ٹھکانوں کی طرف آرہی 14 میزائلیں بھی ہیں، حملہ نا کام رہا۔ یہ امریکہ کا شام پر ایک سال میں دوسرا بڑا حملہ ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق اس مشترکہ حملہ میں قریب 1700 کروڑ روپے کی میزائلیں داغی گئیں۔ شام کے صر بشرالاسد کے خلاف سات سال پہلے شروع ہوئی پرامن بغاوت خانہ جنگی میں بدل گئی ہے۔ سات سال پہلے شامی شہری بیروزگی، کرپشن اور سیاسی آزادی پر لگام کسنے کی شکایت کے ساتھ سڑکوں پر اترے تھے۔ کیمیکل حملہ اور میزائلوں کے حملہ سے دنیا کے کئی دیش دو گروپوں میں بنٹ گئے ہیں ۔ ایک گروپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے تو دوسرا اسد گروپ کی حمایت میں روس کے ساتھ سر ملا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، ترکی، جارڈن، سعودی عرب، اٹلی، جاپان، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، اسرائیل ، اسپین سمیت کئی دیش ساتھ ہیں۔ دوسری طرف صدر اسد کی حمایت کررہے روس کے ساتھ ایران اور چین ہیں ان دیشوں نے حملہ کی مخالفت کی ہے۔ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے شام میں سنیچرکی صبح حملوں کا ویسے تو ایک ہفتے پہلے ہوئے کیمیائی حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائی بتایا جارہا ہے لیکن خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا شام اب امریکہ سمیت مغربی ملکوں روس اور اس کے ساتھیوں کے لئے زورآزمائش کا میدان بنتا جارہا ہے۔ سبھی ملکوں کو اپنے اپنے ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔ امریکہ اور روس دونوں ہی اپنے اپنے جدید ہتھیاروں کو استعمال کررہے ہیں اور یہ سب شام کی جنتا کوتباہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمنول میکرو نے کہا کہ شام حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں کی پیداوار اور ان کے استعمال کی صلاحیت کو ٹارگیٹ بنا کریہ حملے کئے گئے ہیں۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کرسکتے۔ برطانوی وزیر اعظم تھریسامیا نے کہا کہ شام میں فوجی طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی متبادل یا دوسری طرف روس کے صدر ولادیمیرپوتن نے حملہ کو جارحانہ حرکت قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ شام میں انسانی بحران اور بڑھائے گا۔ ایران کے سینئرلیڈر آیت اللہ علی خمینی نے امریکی صدر ٹرمپ اور فرانس کے مائیکرو اور برطانیہ کی تھیریسا میں کی شام میں حملوں کو لیکر مذمت کرتے ہوئے انہیں مجرم قراردیا۔ایران کے وزارت خارجہ نے کہا امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ شام کے صدر بشرالاسد نے کہا کہ اس حملہ نے حریفوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لئے اور زیادہ خواہشمند بنایا ہے اور یہ جارحیت شام اور اس کے لوگوں کو دیش میں دہشت گردی کو کچلنے کے لئے اور پرعزم بنائے گی۔
(انل نریندر)

چندا کوچر کے مستقبل پراٹھنے لگیں آوازیں

اپنے شوہر و دیور کی کمپنی کو قرض دینے کے معاملہ میں پھنسی آئی سی آئی سی آئی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر چندرا کوچر کے عہدے پر بنے رہنے کو لیکر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ایک طرف جہاں دیش کے اس دوسرے سب سے بڑے بینک کے کچھ شیئر ہولڈروں نے کوچر کے رول پر سوال اٹھایا ہے تو دوسری طرف مرکز بھی اس بینکنگ ادارہ کی ساکھ کو لیکر فکر مند ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آئی سی آئی سی آئی بینک کی حالیہ میٹنگ میں کوچر کو سی او کے عہدہ سے ہٹانے کو لیک اختلافات ابھرنے کے بعد فیصلہ ٹال دیاگیا۔ وولمرگ کی رپورٹ کے مطابق بورڈ کی میٹنگ میں باہری سرمایہ کاروں نے چندرا کوچر کے عہدہ پر بنے رہنے کو لیکر سوال اٹھائے حالانکہ فی الحال کوئی عام رائے نہیں بن سکی ہے۔ رہی سہی کسر ریٹنگ ایجنسی نے پوری کردی۔ پیر کو فئے نے آئی سی آئی سی آئی بینک پر رپورٹ میں کہا ہے کہ بینک میں گورننس کو لیکر شش وپنچ پیدا ہوچکا ہے۔ پہلی بار ہے کہ جب کسی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی نے تنازعہ پیدا ہونے پر اس بینک کے بارے میں رائے دی ہے۔ چندرا کوچر کے شوہر دیپک کوچر و ان کے دیور راجیو کوچر کی کمپنی کی ویڈیو کان صنعت اورگروپ کے ساتھ رشتے اور اس گروپ کو بینک کی طرف سے قرضہ دینے کا معاملہ اب بیحد الجھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بینک کے ڈائریکٹر س بورڈ کی اگلی میٹنگ میں چندرا کوچر کے مستقبل پر کوئی فیصلہ ہوسکتا ہے۔بینک میں حصہ لینے والے کچھ اہم شیئر ہولڈروں میں اپنی طرف سے بینک کی گرتی ساکھ کو لیکر تشویش جتا دی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ کوچرکا ایم ڈی و سی او کے عہدہ پر بنے رہنے سے بینک کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں دقت آئے گی۔ ادھر وزارت مالیات آئی سی آئی سی آئی میں پیدا اس تنازع کو لیکر چل رہی جانچ پرنظررکھے ہوئے ہیں۔ ویسے وزارت مالیات کے ذرائع نے بتایا ہے آئی سی آئی سی آئی بینک کی سی ایم ڈی اور سی ای او چندا کوچر کی میعاد کو لیکر کوئی بھی فیصلہ ریزرو بینک یا آئی سی آئی سی آئی بینک کے ڈائریکٹرمنڈل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزارت داخلہ کا خیال ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے بینک آئی سی آئی سی آئی کے امور کو دیکھنا اور اس کے بارے میں کوئی فیصلہ لینا ان کا کام نہیں ہے۔ دیش چاہتا ہے کہ پورے معاملہ کی منصفانہ جانچ ہو اور قصوروار کو نہ صرف سزا ملے بلکہ جنتا کا پیسہ انہی کی ملی بھگت سے غارت کیا ہے اور اس کی پوری ریکوری کی جائے۔ یہی حال پنجاب نیشنل بینک سے بھی نیرو مہتہ کیس میں ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

15 اپریل 2018

بربریت کی ساری حدیں توڑتی واردات

جموں وکشمیر کے کٹھوا ضلع میں ایک 8 سال بچی کے ساتھ مبینہ اجتماعی آبروریزی اور پھر اس کا بے رحمانہ قتل کرنے کی شرمسار واردات نہ صرف حیرت زدہ کر دینے والی ہے بلکہ انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے نربھیا کے ساتھ ہوئی بربریت کے بعد عورتوں کی سلامتی کو لیکر جتائی گئی ساری تشویشات اور کوششیں بے معنی ثابت ہوئی ہیں۔ 10 جنوری کو جموں وکشمیر کے رسانا گاؤں سے بچی لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس کے 7 دن بعد اس کی لاش برآمدہوئی تھی۔ 8 سالہ بچی کے ساتھ درندگی اور پھر قتل معاملہ میں جو چارج شیٹ داخل ہوئی ہے وہ بہت ہی شرمناک اور ہیجان پر مبنی ہے جس میں چونکانے والے خلاصے ہیں۔ اس سے بھی تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس معاملہ کو پوری طرح سے فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ حالانکہ پہلی نظر میں یہ معاملہ سیدھا سیدھا منظم جرائم کا ہے۔ سب سے چونکانے والی بات تو یہ ہے کہ اس پوری واردات کو انجام دینے میں پولیس نہ صرف جرائم پیشہ کے ساتھ ملی رہی بلکہ مجرمانہ کرتوت میں بھی سانجھے دار بنی۔ عدالت میں داخل چارج شیٹ میں بچی کے ساتھ ہوئی زیادتی کی جو تفصیل درج ہوئی وہ رونگٹے کھڑی کرنے والی ہے۔ اسے نہ صرف8 دن تک یرغمال بنائے رکھا بلکہ بیہوشی کی حالت میں اس کے ساتھ کئی لوگوں نے درندگی کی جن میں کچھ پولیس والے بھی شامل تھے۔ اس بچی کا صرف یہی قصور تھا کہ وہ اس بکروال فرقہ سے تعلق رکھتی تھی جسے وہاں سے مبینہ طور پر بے دخل کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ واردات 10 جنوری اس سال کی ہے۔ جب اس بچی کو کچھ لوگوں نے اغوا کر ایک مندر میں چھپا لیا تھا اور مندر میں ہی اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی گئی اس کے بعد قتل کردیا گیا۔ لاش کو جنگل میں پھینک دیا گیا۔اس کا سرپتھر سے کچل دیا گیا۔ یہ سب فورنسک جانچ میں ثابت ہوچکا ہے۔ چارج شیٹ میں پولیس نے کہا واردات کا اصلی سازشی مندر کا پجاری تھا جس نے اپنے بیٹے، بھتیجے، پولیس کے ایک ایس پی او اور اس کے دوستوں کے ساتھ ہفتے بھر اس گھناؤنی حرکت کو انجام دیا۔ اس کے علاوہ دو پولیس والوں نے پجاری سے واردات کے ثبوت مٹانے کے لئے 4 لاکھ روپے لئے۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ اس واردات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر جموں بنام کشمیر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس میں مقامی وکیل تک شامل ہیں جنہوں نے پہلے تو کرائم برانچ کو چارج شیٹ داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی پھر ناکام رہنے کے بعد مقدمہ کر ڈالا۔ حد تو یہ ہے کہ ملزمان کا بچاؤ کرنے والوں میں ریاست کی محبوبہ سرکار نے بھاجپا کوٹے کے دو وزیرشامل ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ وہ اس واردات کی سی بی آئی جانچ تو چاہتے ہیں کیا ان منتریوں کو اپنی سرکار کے ماتحت کام کرنے والی پولیس پر بھروسہ نہیں رہا؟ واردات انجام دینے والے ڈوگرا فرقہ سے ہیں اور ہندو وای تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بکروال مسلم فرقہ کی درج فہرست ذات ہے یہ جانور پالتی ہے اور اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ اس کانڈ کو لیکر جس طرح کے رد عمل آ رہے ہیں اس سے ریاست کی سیاست میں فرقہ واریت کو بڑھاوا ملے گا۔ ایسے میں وزیر اعلی کیسے ان حالات سے نمٹتی ہیں، متاثرہ فریق کو انصاف یقینی دلاپاتی ہیں یہ بڑی چنوتی ہے۔ انہوں نے وعدہ تو کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا، دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

جاؤپہلے شاہجہاں کے دستخط لاؤ

سپریم کورٹ میں ایک عجب کیس کی سماعت ہوئی ہے۔ سنی وقف بورڈ نے تاج محل کی ملکیت کے حق کو لیکر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس دیپک مشرا ، اے ۔ ایم خان ولکر اور ڈی ۔ وائی چندرچوڑ کی تین نفری بنچ نے وقف بورڈ کے وکیل سے کہا کہ اس دعوے کی حمایت میں دستاویز دکھائے کے بیگم ممتاج محل کی یاد میں 1631 میں تاج محل تعمیر کرانے والے شاہجہاں نے بورڈ کے حق میں وقف نامہ کردیا تھا۔ وقف نامہ ایک دستاویز ہے جس کے ذریعے سے کوئی شخص اپنی پراپرٹی یا زمین دھارمک کاموں یا وقف کے لئے عطیہ میں دینے کی منشا ظاہر کرتا ہے۔ بنچ نے کہا بھارت میں کون یقین کرے گا یہ (تاج محل) وقف بورڈ کا ہے۔ بنچ نے کہا اس طرح کے معاملوں کو لیکر بڑی عدالت کا وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔وقف بورڈ کے وکیل نے جب یہ کہا کہ شاہجہاں نے خود اسے وقف کی پراپرٹی اعلان کیا تھا تو بنچ نے بورڈ سے کہا کہ مغل بادشاہ کے ذریعے تصدیق شدہ یا تحریر شدہ وصیت دکھائی جائے۔ اس پر وقف بورڈ کے وکیل نے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کے لئے کچھ وقت دینے کی درخواست کی۔ عدالت عظمیٰ تاریخی یادگار تاج محل کو وقف پراپرٹی اعلان کرنے کے بورڈ کے فیصلہ کے خلاف ہندوستانی آثار قدیمہ کے ذریعے 2010 ء میں دائر اپیل کی سماعت کررہی تھی۔ بنچ نے سوال کیا شاہجہاں خود کیسے دستاویزات پر دستخط کرسکتا تھا۔ جانشینی کو لیکر ہوئی لڑائی میں اسے اس کے بیٹے اورنگزیب نے آگرہ کے قلعہ میں1658 میں قید کرلیا تھا۔ اس قلعہ میں ہی شاہجہاں کی 1666 میں موت ہوگئی تھی۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت17 اپریل کو ہوگی۔ بتادیں جانشینی کی لڑائی کے چلتے شاہجہاں کے بیٹے اورنگزیب نے جولائی 1658 میں انہیں آگرہ کے قلعہ میں نظر بند کرلیا تھا۔ اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں تاج محل بنوانے کے قریب 16 سال بعد 1666 میں شاہجہاں کا انتقال آگرہ کے قلعہ میں ہی ہوا تھا۔ عدالت نے کہا مغل دور کے خاتمہ ہونے کے ساتھ ہی تاج محل سمیت دیگر تاریخی عمارتیں انگریزوں کو منتقل ہوگئیں تھیں۔ آزادی کے بعد سے یہ یادگار حکومت ہند کے پاس ہے اور ای ایس آئی اس کی دیکھ بھال کررہی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بھارت میں کون یقین کرے گا کہ تاج محل وقف بورڈ کا ہے؟ ایسے معاملوں پر سپریم کورٹ کا وقت برباد نہیں کرنا چاہئے۔ ای ایس آئی کی جانب سے پیش وکیل اے ڈی این راؤ نے کہا کہ وقف بورڈ نے جیسا دعوی کیا ہے ویسا کوئی وقف نامہ نہیں ہے۔ 1948 کے قانون کے تحت یہ عمارتیں اب حکومت ہند کے پاس آگئی ہیں۔
(انل نریندر)