Translater
11 جنوری 2025
ٹرمپ کا اکھنڈ امریکہ کا خواب
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو جغرافیائی طور پر عظیم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس کے عزائم گرین لینڈ کو خریدنے، پانامہ کینال کا کنٹرول واپس لینے، کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ الحاق کرنے، اور خلیج میکسیکو کا نام بدلنے کے لیے فوجیوں کو اتارنے تک پھیلا ہوا تھا۔ ہے ان کے بقول اگر یہ سب ہوا تو امریکہ دنیا کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ ایسے مطالبات اٹھاتے رہے ہیں لیکن اب امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ٹرمپ کے ان الفاظ کو مذاق سے زیادہ سمجھا جا رہا ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور گرین لینڈ کو امریکی ریاستیں بنانے کی بات کی ہے۔ کینیڈا سے متعلق اپنے بیان پر کینیڈا کے وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد جسٹس ٹروڈو نے بدھ کے اوائل میں ایکس پر ایک پوسٹ لکھی کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ کینیڈا امریکہ کا حصہ بن جائے۔ انہوں نے مزید لکھا، ہمارے دونوں ممالک کے کارکنان اور کمیونٹیز ہمارے درمیان سب سے بڑے تجارتی اور سیکورٹی پارٹنر ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم اس پوسٹ کے بہانے انہوں نے ٹروڈو کی قیادت والی NDP-لبرل حکومت کی مذمت بھی کی۔ پیئر نے X پر لکھا، ہم ایک عظیم اور آزاد ملک ہیں۔ ہم امریکہ کے بہترین دوست ہیں۔ ہم نے 9/11 کے حملوں کے بعد القاعدہ کے خلاف کریک ڈاو¿ن میں امریکیوں کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالر اور اربوں ڈالر دیے ہیں۔ ہم امریکہ کو مارکیٹ ویلیو سے کم قیمتوں پر اربوں ڈالر کی اعلیٰ معیار کی اور مکمل طور پر قابل اعتماد توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم اربوں ڈالر کی امریکی اشیا خریدتے ہیں۔ اس کے بعد کینیڈا کے معروف اپوزیشن لیڈر پیئر نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے جسٹس ٹروڈو کی این ڈی پی لبرل حکومت کو کمزور قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری کمزوری یہ ہے کہ این ڈی پی-لبرل حکومت یہ واضح نکات پیش کرنے میں ناکام رہی۔ میں کینیڈا کے لیے لڑوں گا۔ جب میں وزیراعظم بنوں گا تو ہم اپنی فوج کو دوبارہ بنائیں گے اور سرحد واپس لیں گے، تاکہ کینیڈا اور امریکہ محفوظ رہیں۔ ٹروڈو کی حکومت سے حمایت واپس لینے والے این ڈی پی لیڈر جگمیت سنگھ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کی ہے۔ اس نے ایکس پر لکھا، سٹاپ اٹ ڈونلڈ، کوئی کینیڈین آپ کے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتا۔ ہمیں فخر کینیڈین ہیں۔ ایک طرح سے ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہیں، ہمیں اس پر فخر ہے۔ درحقیقت جسٹن ٹروڈو کو اس وقت محتاط رہنا چاہیے تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے آمنے سامنے ملاقات میں کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی تجویز پیش کی۔ شاید اگر ٹروڈو سخت اور دو ٹوک جواب دیتے تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ اب ٹروڈو کی لبرل پارٹی دفاع یا جواب دینے کے لیے سامنے آئی ہے اور نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کون سے علاقے امریکا میں ہیں اور کون سے امریکا کا حصہ نہیں، اب کینیڈا کو اپنے دفاع کے لیے ایک الگ حکمت عملی کے ساتھ سفارت کاری کے میدان میں اترنا ہوگا۔ ہونا اب یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک عظیم تر امریکہ کا خواب دیکھا ہے، جیسا کہ چین کا خواب دیکھ رہا ہے۔ تاہم چین اس وقت اپنی سلطنت کو وسعت دینے میں آگے ہے۔ تاہم، اگر ٹرمپ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھتے ہیں، تو ہمیں دنیا میں ہر جگہ اس کے اثرات دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
-انل نریندر
شیش محل بنام راج محل
دہلی میں اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے درمیان جاری لفظوں کی جنگ میں دہلی انتخابات شیش محل بنام راج محل بن گئے ہیں۔ بی جے پی اور آپ کے لیڈروں کے درمیان لفظی جنگ بدھ کو دن بھر جاری رہی۔ اس دوران جو سب سے قابل ذکر بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ شیش محل بمقابلہ راج محل کو لے کر دہلی کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ایک طرف عام آدمی پارٹی بی جے پی پر دہلی کے وزیر اعلیٰ آتشی کو وزیر اعلیٰ کے لیے الاٹ کیے گئے بنگلے سے بے دخل کرنے کا الزام لگا رہی ہے تو دوسری طرف بی جے پی وزیر اعلیٰ کے لیے الاٹ کیے گئے بنگلے کی مرمت میں مبینہ بدعنوانی کو ایشو بنا رہی ہے۔ وزیر اور اسے شیش محل کہتے ہیں۔ شیشم محل کا معاملہ کیا ہے؟ دراصل دہلی میں اروند کیجریوال نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اپنے لیے سرکاری گھر کی مرمت کروائی تھی۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ سی ایم رہتے ہوئے اروند کیجریوال نے سرکاری رہائش گاہ کا جو نقشہ تیار کیا تھا اسے ہی بدل دیا۔ اسے 7 اسٹار ریزورٹ میں تبدیل کرنے پر تقریباً 80 سے 90 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ تاہم انتخابات سے قبل جاری کی گئی سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دہلی حکومت نے اس بنگلے کی مرمت پر تقریباً 45 کروڑ روپے کا خرچ دکھایا ہے۔ بی جے پی نے کیجریوال کے لیے تیار کیے گئے اس بنگلے کا نام شیش محل رکھا ہے۔ جب بی جے پی نے شیش محل کو لے کر عام آدمی پارٹی پر حملہ کیا تو AAP نے وزیر اعظم کی رہائش کا مسئلہ اٹھایا۔ آپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کو 2700 کروڑ روپے کا محل بتایا ہے۔ بدھ کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی سے لے کر بی جے پی کے سینئر لیڈروں تک دہلی کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کو لے کر ایک ہی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اس میں منی بار ہے۔ اس میں سونے کا بیت الخلا اور ایک سوئمنگ پول ہے جب کہ نئی دہلی میں وزیر اعظم کا محل ہے جو 2700 کروڑ روپے میں بنایا گیا تھا۔ آپ ایم پی سنجے سنگھ نے مزید کہا، پی ایم فیشن ڈیزائنرز کو ناکام کر چکے ہیں۔ دن میں تین بار کپڑے تبدیل کریں۔ ہر ایک کا 10 لاکھ روپے کا PAN رکھیں۔ جوتوں کے 6700 جوڑے، 5000 سوٹ ہیں۔ ان کے گھر میں 300 کروڑ روپے کے قالین بچھائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ سونے کی تاریں جڑی ہوئی ہیں۔ 200 کروڑ روپے کا فانوس لگایا گیا ہے۔ پورے ملک کو دکھایا جائے کہ شاہی محل میں ہیرے کہاں ہیں۔ پی ایم مودی کو اپنا محل اس ملک کے عوام اور میڈیا کو دکھانا چاہیے۔ میں بی جے پی کو چیلنج کرتا ہوں کہ کل تمہارے جھوٹ کا پردہ فاش ہو جاتا۔ بدھ کو سنجے سنگھ اور سوربھ بھردواج وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پہنچے۔ یہاں اس نے میڈیا کے ساتھ اندر جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ بی جے پی نے اے اے پی حکومت کے الزامات کا جواب دیا۔ بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا، کیا دہلی کے پی ڈبلیو ڈی وزیر انتخابی ضابطہ اخلاق کا انتظار کر رہے تھے؟ کل سب کچھ وزیر پی ڈبلیو ڈی کے ہاتھ میں تھا پھر آپ کو سب کچھ نظر کیوں نہیں آیا؟ یہ بے بسی ہے یا جادوگری؟ دوسری جانب بی جے پی صدر وریندر سچدیوا سی ایم آتشی کی رہائش گاہ پہنچے۔ سچدیوا نے کہا، آج جب ضابطہ اخلاق نافذ ہو رہا ہے تو آپ ڈرامہ کر رہے ہیں۔ آتشی کے دو بنگلے ہیں، وہ شیش محل بھی چاہتا ہے۔ بی جے پی لیڈر انل وج نے کہا کہ غریب عام آدمی پارٹی کا بنگلہ شیش محل ہے۔ اس سے عام آدمی پارٹی ڈوب جائے گی۔ کانگریس لیڈر سندیپ ڈکشٹ نے عام آدمی پارٹی سے سوال کیا کہ آج کون خود کو عام آدمی کہتا ہے؟ کیا آپ نے جو گھر بنایا ہے وہ عام آدمی کے گھر جیسا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ کس پارٹی کا ایشو زیادہ غالب آتا ہے یا پرانا ایشو ختم ہو کر نئے ایشوز سامنے آئیں گے۔
انل نریندر
09 جنوری 2025
حلف سے پہلے ٹرمپ مشکل میں پھنس سکتے ہیں؟
حلف برداری سے پہلے امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مشکلیں بڑھنے والی ہیں۔ہشمنی معاملے میں 10 جنوری کو ان کے خلاف سزا سنائی جائے گی اس میں ٹرمپ کو عدالت میں سماعت کے لئے موجود رہنا ہوگا ۔حلانکہ جج نے جیل نہ بھیجنے کے لئے اشارے دئے ہیں ۔عدالت کا یہ حکم صدر کی حیثیت سے حلف لینے سے دو ہفتے پہلے سے کم وقفہ میں آیا ہے ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے صدر کا حلف لیں گے ۔اس سے پہلے انہوںنے پورن اسٹار کو پیسے دینے کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا ۔اور اسے سیاسی سازش بتایا تھا ادھر نیویارک کے جج جوان یر مین نے اشارہ دیا ہے کے وہ ٹرمپ کو جیل کی سزا نہیں یا جرمانہ نہیں لگائےں گے بلکہ مشروت بری کریں گے ۔جج نے اپنے حکم میں لکھا کے نو منتخب صدر سماعت کے لئے شخصی طور سے یا ورچوئل طور سے عدالت میں موجود ہو سکتے ہیں ۔بتا دیں کے امریکہ کی تاریخ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے ان سے پہلے کسی بھی سابق یا موجودہ صدر پر کسی جرم کا الزام نہیں لگا ۔ٹرمپ امریکہ کے 47 وے صدر کے طور پر حلف لیں گے ان کی پارٹی ریپبلکن نے سنٹ میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں ان کے پاس 52 سیٹیں ہیں جبکہ ان کی حریف ڈیموکریٹ کے پاس 47 ہیں ۔ان پر الزام ہے کے پورن اسٹار ڈینیلس کے ساتھ انہوںنے 2006 میں جنسی تعلقات بنائے تھے اور یہ معاملہ 2016 کے صدارتی چناﺅ میں بھی خوب اچھلا تھا پورن اسٹار نے اس واقعہ کو جنتا کے سامنے لانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد انہوںنے چب چاپ منھ بند رکھنے کے لئے پیسے دئے تھے ۔ان پر ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے الزام میں بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے ٹرمپ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا اس معاملے میں کوئی سزا نہیں سنائی جانی چاہئے ۔آئین کا تقاضہ ہے کے اس معاملے کو فوراً خارج کر دیا جانا چاہئے تھا ۔اس پہلے ٹرمپ نے کئی دیلیلیں دی تھی کے وہ صدارتی چناﺅ جیتے ہیں وہیں جسٹس یرمل نے صدارتی چناﺅ میں جیت کے سبب معاملے کو خارج کرنے کے ٹرمپ کے پرستاﺅ کو خارج کر دیا اور سزا کے لئے تاریخ مقرر کر دی ۔یرمن نے لکھا کے جوری کے فیصلے کو درکنار کرنے پہلے حکمرانی کمزار ہو چائےگی ۔ڈونالڈ ٹرمپ کو اب تک تین اور معاملوں میں قصوروار ٹھہرایا گیا ایک کیس دستاویزوں میں گڑ بڑی سے متعلق ہے وہیں دو معاملے سال2020 کے صدارتی چناﺅ میں اپنی ہار کو پلٹنے کی ان کی مبینہ کوششوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔
(انل نریندر)
رمیش بدھوڑی کے بگڑے بول!
پچھلے ایک سال سے سرخیوں میں رہنے والے بی جے پی لیڈر و سابق ایم پی رمیش بدھوڑی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں ۔پہلے انہوںنے پارلیمانی میں ایک مسلم ایم پی پر قابل اعتراض تبصرہ کیا ہو یا 2024 لوک سبھا میں ٹکٹ کٹنا ہو یا پھر دہلی اسمبلی چناﺅ میں ٹکٹ دیا جانا ہو وہ سرخیوں میں بنے رہتے ہیں ۔اب بدھوڑی کانگریس نیتا ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا اور دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی پر متنازعہ تبصرہ کو لیکر سرخیوں میں ہیں ۔ان کے بیان کی کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے مذمت کی ہے ۔کانگریس نے جہاں بی جے پی سے معافی کا مطالبہ کیا ہے وہیں دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کے خاتون وزیراعلیٰ کی بے عزتی کا بدلہ دہلی کی سبھی عورتےں لیں گی ۔سال2014 اور 2019 میں جنوبی دہلی سے ایم پی رہے رمیش بدھوڑی کو بی جے پی نے کالکاجی سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے اسی سیٹ سے دہلی کی وزیراعلیٰ آتشی ممبر اسمبلی ہیں ۔اور وہ پھر اس سیٹ پر چناﺅ لڑ رہی ہیں ۔وہیں کانگریس نے عآپ کی سابق لیڈر الکا لامبا کو اس سیٹ کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔رمیش بدھوڑی کا حال کا ایک ویڈیو وایرل ہو ا۔جس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں میں بہترین سڑک بنانے کا وعدہ کرتا ہوں اپنے مبینہ طور پر بہار کی سڑکوں اور ہیما مالینی کو لیکر دئے گئے بیان کا بھی ذکر کیا اور اسی بیان میں نبدھوڑی نے بہترین سڑک بنانے کا وعدہ کیا ۔اس دوران پرینکا گاندھی کے بارے میں متنازعہ بات کہی جو انتہائی فحش بات کہی میں اسے دوہرانہ نہیں چاہتا اس تبصرہ کو لیکر کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے بدھوڑی کی تقریر کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا اوپر سے نیچے تک آر ایس ایس کے سنسکار آپ کو بھاجپا کے ان اوچھے لیڈروں میں نظر آ جائیں گے ۔کانگریس کی ترجمان سپریہ سرینیت نے اس بیان کو بے حد شرمناک بتایا اس خاتون مخالف زبان اور نظریہ کی خالک بھاجپا کی لیڈر شپ ہے ۔آتشی پر بیان کے لئے عاپ نے ایکس پر لکھا بی جے پی نے اپنا بھاجپا مخالف چہرہ دکھایا بی جے پی کے گالی باز لیڈر رمیش بدھوڑی نے خاتون وزیر اعلیٰ آتشی کے خلاف بھدی اور گندی زبان کا استعمال کیا بی جے پی نیتاﺅ نے بے شرمی کی ساری حدےں پار کر دی ایک خاتون وزیراعلیٰ کی بے عزی دہلی کی عوام برداشت نہیں کریں گی حلانکہ رمیش بدھوڑی نے جب ہائی کمان کا دباﺅ بنا تو اتوار کو عورتوں کے خلاف تبصرہ کرنے پر معافی مانگ لی اور اپنے ایکس پر لکھا میرا مقصد کسی کو بے عزت کرنے کا نہیں تھا کسی سلسلہ میں میرے دئے گئے بیان پر غلط نظریہ سیاسی فائدے کے لئے سوشل میڈیا پر بیان دے رہیں ہیں میرا مقصد کسی کو بے عزت کرنے کا نہیں تھا لیکن پھر بھی کسی شخص کو دکھ ہوا ہے تو میں افسوس ظاہر کرتا ہوں سوال یہ ہے کے تیر تو کمان سے نکل چکا ہے ۔منھ سے لفظ نکل گئے ہیں اب معافی مانگنے کا کیا فائدہ؟ جو نقصان ہونا تھا ہو گیا ۔رمیش بدھوڑی کا بیان دہلی اسمبلی چناﺅ پر کیا اثر ڈالے گا یہ دیکھنے والا ہوگا ۔افواہ تو یہ بھی ہے کے شائد بھاجپا کالکاجی سے اپنا امیدوار ہی بدل دے ۔دیکھےں آنے والے دو چار دن میں بدھوڑی جی کا کیا حشر ہوتا ہے۔
(انل نریندر)
07 جنوری 2025
ایک اورتفتیشی جرنلسٹ شہید ہوا !
چھتیس گڑھ کے ماو¿وادی متاثرہ بیجا پور کے ٹی وی جرنلسٹ مکیش چندراکر کی لاش تین جنوری کو ایک سیپٹک ٹینک سے برآمد کی گئی ۔مکیش کمار چندراکر 1جنوری 2025 کی شام سے ہی گھر سے لاپتہ تھے ۔وہ ایک آزاد صحافت کے طور پر این ڈی ٹی وی کے لئے کام کرتے تھے ۔اس کے علاوہ وہ یوٹیوب پر ایک مقبول چینل بستر جنشنگ بھی چلا رہے تھے جس میں بستر کی اندرونی خبریں نشر ہوتی تھیں ۔بستر میں ماو¿وادیوں کی طرف سے اغوا پولیس ملازمین یا دیہاتیوں کی رہائی میں مکیش نے کئی بار اہم ترین رول نبھایا تھا۔پریس کلب آف اندیا نے ایک بیان جاری کر مکیش چندراکر کے قتل کے مذمت اور مانگ کی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر معاملے کی جانچ پوری کی جائے اور قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔بستر کے آئی جی پولیس سنور راج پی نے کہا کہ صحافی مکیش چندراکر کے بھائی کی شکایت کے بعد پولیس کی اسپیشل ٹیم جانچ کررہی تھی اور شام ہم نے چٹان کے پاس بستی میں ٹھیکیدار شریش چندرا کرکے کمپلیکس میں ایک سیپٹک ٹینک سے مکیش چندرا کر کی لاش برآمد کی ہے ۔اس معاملے سے مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ۔مکیش کے موبائل کی آخری لوکیشن اور فون کال کی بنیاد پر جانچ جاری ہے۔اسی دوران ٹھیکیدار شریش چندراکر کی جانب سے اپنے مزدوروں کے لئے بنائے گئے رہائشی کمپلیکس میں پولیس نے چھان بین شروع کی تو انہیں ایک تازہ کنکریٹ کا ڈھال نظر آیا پتہ چلا کہ یہ پرانہ سیپٹک ٹینک ہے جس کے ڈھکن کو بند کرکے دو دن پہلے ہی کنکریٹ بچھائی گئی ۔پولیس نے شبہ کی بنیاد پر اس سیپٹک ٹینک کو توڑا تو پانی کے اندر مکیش کی لاش ملی ۔اس کی لاش پر گہرے چوٹ کے نشان تھے ۔مکش چندرا کرکے بڑے بھائی اور ٹی وی جرنلسٹ نے بتایا کہ بدھوار 1جنوری 2025 کی شام کو اس کا بھائی چندرا کر گھر سے گیا تھا ۔لیکن گھر والوں کو اگلی صبح پتہ چلا تو شروع میں تو مکیش نے سوچا کہ ان کے بھائی کسی خبر کے لئے آس پاس کے کسی علاقہ میں چلے گئے ہیں لیکن جب وہ آئے تو ان کا گھر اوران کا فون بند ملا تو انہیں پریشانی ہوئی ۔ان کے بھائی مطابق میں اور میں مکیش الگ الگ رہتے ہیں ۔بھائی سکیش نے کہا کہ ٹھیکیدار سریندر چندراکر کی جانب سے بنائی گئی سڑک کی تعمیر میں کرپشن کی ایک خبر این ڈی ٹی وی پر چلائی تھی جس کے بعد سرکار نے اس معاملے کی جانچ کا اعلان کر دیا تھا ۔بتایا جارہا ہے ٹھیکیدار شریش چندراکر اس خبر کے نشر سے بے حد پریشان تھے اور انہوں نے مکیش چندرا کر اپنے گھر ملنے کے لئے بلایا ۔شوشل میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلے تو مکیش ملاقات کرنے سے ٹالتا رہا لیکن آخر پہلی جنوری کی شام کوشریش چندرا کر سے ملنے ان کے گھر گیا وہیں سے وہ غائب ہوگیا اور پھر 3جنوری کو ان کا سریش چندراکر کے ذریعے بنائے گئے مزدوروں کے مکانوں میں بنے ایک سیپٹک ٹینک سے ان کی لاش برآمد ہوئی ۔ایک تفتیشی صحافی اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہوا۔ہم مکیش چندراکر کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور ان کی کھوجی پتریکاریکتا کو سلام کرتے ہیں ۔امید کرتے ہیں پولیس قاتلوں کو جلد سے جلد تلاش کرے گی اور انہیں عدالت سے سخت سے سخت سزا دلوائے گی ۔ریاستی سرکار سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاست سے دور رکھیں اور مکیش چندراکر اور ان کے گھر والوں کو انصاف دلانے میںپوری مدد کریں ۔
(انل نریندر)
نتیش کمار پر قیاس آرائیاں!
کہا جاتا ہے سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے نہ ہی کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے ۔ہوتا ہے تو سیاسی مفاد ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کے سیاست میں کچھ بھی بے وجہ نہیں ہوتا ممکن ہے کے وجہ بعد میں پتہ چلے ۔بہار میں نتیش کمار کچھ بھی کھیل کرنے والے ہوتے ہیں اس کے اشارہ پہلے سے ہی ملنے لگتے ہیں ۔کئی بار لگتا ہے یہ تو ایک عام بات ہے لیکن کچھ وقت بعد غیر ضروری ہو جاتا ہے ۔نتیش کمار کی ایک تصویر پر خوب بحث ہو رہی ہے ۔اس میں وہ ہنستے ہوئے تیجسوی یادو کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور تیجسوی ہاتھ جوڑکر تھوڑا چھگ کر ہنس رہے ہیں ۔حالانکہ یہ ایک پروگرام کی تصویر ہے جہا حکمرا ں اور اپوزیشن فریق کا آنا ایک خانہ پوری رسم ہوتی ہے ۔درا صل عارف محمد خاں بہار کے گورنر کا حلف لے رہے تھے اس موقع پر نتیش کمار بھی موجود تھے اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو بھی تھے تینوں لیڈروں کی یہ تصویر آ ر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انہوںنے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا نتیش کمار کے لئے ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ۔بہار میں اسی برس اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں اور اس ریاست کے سیاسی گلیاروں میں پچھلے کچھ دنوں سے نتیش کمار کو لیکر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ان قیاس آرائیوں کو نتیش کمار کی خاموشی نے بھی ہوا دی ہے ۔در اصل بہار کی سیاسی سیاست کے دو بڑے نیتاﺅ کی پرانی کمیسٹری نے ایک بار بھر سیاسی چے مہ گوئیو ں کی آہٹ پیدا کر دی ہے۔جہاں راشٹریہ جنتا دل اور ابڈیا بلاک کے لیڈر لالو پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار کو اپنے ساتھ آنے کا دعوت نامہ دیا وہیں نتیش نے بھی براہ راست تردید کے بجائے ہنسی میں ٹال دیا اس کے بعد ہی قیاس آرائیوں کا وہ دور شروع ہوا جس میں سیاست کے سبھی گروپوں کے کان کھڑے کر دئے نتیش کمار محض ایسے لیڈر ہیں جو پچھلی ایک دھائی میں 4 بار بالی بدل کر بہار کے اقتدار میں بنے ہیں یہیں نہیں وہ آج بھی اہمیت کا حامل بنے ہوئے ہیں ۔لالو کے اس بیان کے بعد بہار میں کانگریس لیڈر شکیل احمد خاں نے بھی کہا گاندھیائی نظریہ میں یقین رکھنے والے لوگ گوڈ سے واسیوں سے الگ ہو جائیں گے ۔سب ساتھ ہیں نتیش کمار تو گاندھی جی کے 7 اپدیش اپنی ٹیبل پر رکھتے ہیں ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نتیش سیاسی طور پر مضبوط ہیں اس لئے ان کی چرچہ ہوتی ہے ۔الگ بی جے پی نے نتیش کی پارٹی توڑی تو بھی ان کا ووٹ نہیں توڑ پائیں گے ۔نتیش کے بھروسہ ہی مرکزکی سرکار چل رہی ہے ۔یہ بات بی جے پی کو بھی معلوم ہے ۔کہا تو یہاں تک جارہا ہے کہ بی جے پی نے نتیش کمار پلٹی مارتے ہیں تو ان کی جے ڈی یو کو توڑ دیں گے اور ان کے بڑی تعداد میں ایم پی اور ممبر اسمبلی نتیش کا ساتھ چھوڑ دیں گے ۔بہار کے نائب وزیراعلیٰ بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے کہہ کر یہ سنسنی پھیلا دی ہے کہ اٹل جی کو سچی شردھانجلی یہی ہوگی کہ بہار میں بی جے پی کی مکمل اکثریت والی سرکار بنائی جائے ۔حالانکہ جلد ہی انہوں نے اس بیان سے کنارہ کر لیا لیکن تب تک نقصان بھی ہوچکا تھا ۔یہ نظریہ پہلے سے ہی بنا ہوا ہے کہ بی جے پی کی سیاست میں جے ڈی یو اور نتیش کی ضروریت جلد سے جلد خاتمہ چاہتی ہے ۔نتیش کی بے چینی تب سے بڑھ گئی ہے جب ایک چینل میں وزیرداخلہ امت شاہ نے اس سوال کیا کہ بہار میں پارٹی کا مکھیہ منتری کون ہوگا کے جواب میں کہہ دیا کہ یہ تو چناو¿ بعد ہی پارلیمانی بورڈ طے کرے گا اسی بیان سے نتیش بے چین ہوگئے اور انہوں نے سب طرف ہاتھ پاو¿ں مارنے شروع کر دئیے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نتیش مرکز سے سودے بازی کررہے ہیں یا پھر ایک بار پھر پلٹی مارنے جارہے ہیں ؟
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...