Translater
19 جنوری 2023
پہلے سفر پر نکل پڑا گنگا ولاس کروز!
دنیا کے سب سے لمبے ریور کروز اپنے پہلے سفر پر نکل پڑا ہے اور جمعہ کو وہ ورانسی سے روانہ ہوا ایم وی ولاس شاہکاری ہندوستان غذائیت الکول سے تھے ۔ایپا اور میڈیکلی مدد جیسی کئی سہولیات سے لیث ہے ۔ اس جہاز پر سفر کرنے کیلئے موٹی رقم چکانی پڑے گی۔ایک مسافر کا کرایہ لگ بھگ 50سے 55لاکھ ہوگی ۔اتنی اونچی قیمت کے باوجود اس کروز پر سفر کرنے کا ارادہ رکھنے والے لوگوں کو ایک سال سے زیادہ وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کروز مارچ 2024تک پہلے ہی بک ہو چکا ہے ۔ یعنی ایم وی ولاس گنگا کروز سے ورانسی -ڈبروگڑھ کا سفر طے کرنے کیلئے کسی شخص کو اپریم 2024تک انتظار کرنا ہوگا۔ گنگا ولاس کروز ورانسی کے رویداس گھاٹ پھر آنا ہوگا۔ اور بہار بنگال کے راستے بنگلہ دیش سے ہوتے ہوئے آسام کے ڈبروگڑھ پہنچے گی۔ پوری یاترا کل 50دنوں کی ہوگی۔ لیکن کروز کے شروع ہونے سے پہلے ہی بہار میں اس کی مخالفت شروع ہو گئی ہے ۔ بہار میں جنتا دل یو کے قومی نے الزام لگایا ہے کہ گنگا ولاس کو چلانا جنتا کے پیسے کو لوٹنا ہے ۔ اورکہا کہ ہر سال کروز چلانے کیلئے گنگا ندی میں جمع کیچر کو صاف کیا جائے گا۔اور اس کا کچڑا باڑھ میں اس کی گاد بھرےگا۔ یہ مسافر جہار بنگلہ دیش اور بھارت کے 27ریور سسٹم اور سات ندیوں گنگا،بھگیرتھی،میگھنا ،ڈگلی ،جمنا ،پدما اور برہمپتر سے ہوکر گزرے گی۔ اس یاترا سے 50سیاحتی مقامات آپس میں جڑے گی۔ اس سے 11جنوری کو 56گھنٹے کی یاترا کے بعد اتر پردیش کے بلیا سے یہ جہاز ورانسی پہنچ گیا تھا ۔ کروز جہاز کے ڈائریکٹر راج سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ اکیلا ایسا جہاز ہے جو ملک میںاپنی تکنیک اور فر نیچر سے آراستہ ہے ۔کروز کو بھارت کی ہی ڈیزائنر ڈاکٹر انپرنا گریمالا نے ڈیزائن کیا ہے ۔ یہ خاص جہاز کولکاتا کے ایک یارڈ میں تیار کیا گیا ہے ۔ جہاز تو 2020میں ہی تیار ہو گیا تھا لیکن کورونا وبا کی وجہ سے اس کا آغاز نہیں ہو پایا تھا ۔ اس میں تما م عیش و آرام کی سہولت ہے ساتھ ہی جہاز میں ہر وہ جدید سہولت موجود ہے جس کی سفر میں ضرورت ہو سکتی ہے۔62.5میٹر لمبا21.8میٹر چوڑا 1.35میٹر گہرے اس تین منزلہ جہا ز میں کل 18لگزری کمرے ہیں ۔ان میں سب چیز ہے اے سی بھی ہے سوفا میں بھی اور ٹی وی وغیرہ بھی ہے اور الارم اور باتھروم بھی ہے۔جہاز پر جن اسپا آو¿ٹ ڈور ،آبزرویشن ڈیک اور پرائیویٹ بٹلر سمیت مسافروں کیلئے خاص کلچر پروگرام کا بھی انتظام ہے ۔ کروز کے انٹیریر کو دیش کے تہذیبی وراثت کو ذہن میں رکھ کر کروز کو ڈیزئن کیا گیا ہے ۔13جنوری کو ورانسی سے روانہ ہونے کے 51دنوں کے بعد یہ جہاز 1مارچ کو آسام کے ڈبروگڑ ھ آئے گا۔ اس دوران یہ بھارت اور پانچ ریاستوں اترپردیش،بہار ،جھارکھنڈ ،مغربی بنگال ،آسام ساتھ ہی بنگلہ دیش سے ہوکر گزرے گا۔ یہ جہاز بنگلہ دیش میں15دن تک رک سکے گا۔ اس کے علاوہ اس پورے سفر میں الگ الگ ریاستوں کے کل 50سیاحتی مقامات کا بھی مسافر مزہ لے سکیںگے۔ اس میںورلڈ وراثت نیشنل پارک ،ندیوں کے گھاٹ اور دیگر جگہ کی تصاویروں کو جگہ ملے گی۔ کچھ علاقوںمیں اس جہاز کی مخالفت اس لئے کی جارہی ہے کہ گنگااور ساو¿تھ کی ندیوں کا سیر جائزہ لیا جا سکے گا۔
(انل نریندر)
اسرائیل میں جمہوریت مضبوطی کیلئے ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترے !
اسرئیل میں نئی حکومت کے جوڈیشیری سسٹم میں وسیع اصلاحات کو لیکر اور انہیں نافذ کرنے کی اسکیم کے خلاف ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر گئے ہیں ۔ اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب میں 80ہزار سے زائد لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ اور اس کے علاوہ دیگر شہروںمیں بھی مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں نکالیں گئیں ۔ یروشلم میں وزیر اعظم کے رہائش گاہ باہر اور دیگر علاقوںمیں بھی لوگ سڑکوں پر اتر آئے ۔لوگوں نے حکومت کے خلاف کرمنل گورنمنٹ یور دی اینڈ آف ڈیموکریسی (یعنی پاگل پن بند کرو) کے نعرے لگائے ۔ تل ابیب میں ایک جگہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بی ہوئیں ۔ لوگ سرکار کو کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف ہیں ۔در اصل وزیر اعظم نتن یاہو سرکار میں سپریم کورٹ کو لیکر ایک فرمان جاری کیا ہے اور اس کے پاس ہونے پر اسرئیل کی پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پلٹ دینے کا اختیار مل جائے گا۔ پارلیمنٹ میں جس کے پاس بھی اکثریت ہوگی وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹ ۔ اس نئی تجاویز کے پاس ہونے پر جج صاحبان کو تقرر کرنے والی کمیٹی میں زیادہ تر ممبر حکمراں پارٹی کے ہی ہوں گے اس سے ججوں کی تقرری میںحکومت کا دخل بڑھ جائے گا۔ قانونی مشیروں کی آزادی بھی متاثر ہوگی۔ سرکار کے من سے سپریم کورٹ کا ڈر ختم ہو جائےگا۔ سرکار مخالفوں کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے نافذ ہونے کے بعد سرکا ر بنجامن نتن یاہو کے خلاف چل رہے مقدموں کو ختم کرسکتی ہے ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے دیش کی جمہوریت اور سپریم کورٹ کمزور ہوگی ۔ دیش میں کرپشن بڑھے گا۔اور اقلیتوں کے حقوق میں کمی آئے گی۔ اس وہ متحدہوکر اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں۔ وہ وزیر اعظم نتن یاہو کا موازنہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عسکر حیات چیف اپوزیشن لیڈر اور اٹارنی جنرل نے بھی سرکار کی اسکیم کی مخالفت کی ہے ۔ اس درمیان اسرائیل کے قومی سلامتی وزیر یتایا بین گربٹ نے پولیس سے سڑک روکنے اور فلسطینی جھنڈے لہرانے والے مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کو کہا ہے۔ تقریبا یہی حالات ہمارے دیش میں چل رہے ہیں حکومت اور سپریم کورٹ میں کئی محاذ پر ٹھنی ہوئی۔ کالیجیم سے لیکر پارلیمنٹ کے ختیارات پر سرکار اور سپریم کورٹ میں تنازعہ جھڑاہوا ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے جوڈیشری آزاد ہو اور سرکا ر کے غلط قدموں کا و غلط ممبران اسمبلی کی جائزہ کر سکے ۔ سپریم کورٹ پر کسی طرح کی پابندی جمہوریت کیلئے خطرناک ہوگی ۔سب سے اچھا راستہ تو یہ ہے کہ سرکار اور عدلیہ مل تنا زعہ کو سلجھائے ۔ آئین بالا تر ہے او ر آئین کے مطابق دونوں کے پاور طے ہونے چاہئے۔
(انل نریندر)
17 جنوری 2023
ٹی وی چینل سماج میں پھوٹ ڈال رہے ہیں!
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ٹی وی چینل سماج میں پھوٹ ڈال رہے ہیں ۔ایسے چینل ایجنڈے سے کنٹرول ہوتے ہیں اور ان کی سنسنی خیز خبروں کیلئے مقابلے کرتے ہیں ۔یہ پیسہ لگانے والے کے حکم پر کام کرتے ہیں ۔چینلوںپر نفرت پھیلانے والے بیان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے عدالت نے کہا نفرتی تقریر ایک راکشش ہے جو سب کو نگل جاے گا ۔ جسٹس کے ایم جوزیف اور جسٹس بی وی ناگراجن کی بنچ نے کہا دیش میں بے روزگاری ،مہنگائی جیسے کئی اہم مسئلے ہیں لیکن ان پر بحث کے بجائے نفرتی تقریروںپر بحث کرائی جا رہی ہے جو افسوس ناک ہے ۔ بنچ نے صاف کیا کہ وہ کسی فرقہ خاص یا مذہب خاص کے بارے میں نہیں بول رہے ہیں ۔جسٹس جوزیف نے اپنی رائے رکھی جب آپ بولنے اور اظہار رائے آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں تو آپ کو ایسا کام کرنا چاہئے ،جیسے کہ آپ سے امید کی جاتی ہے ورنہ ہمارے لئے کیا وقا ر بچا ہے ۔ بڑی عدالت جمعہ کے روز نفرتی خبروں کے خلاف اٹھانے اور حالات کو خراب کرنے والی عرضیوں کے ایک معاملے پر سماعت کررہی تھی عدالت نے اپنے حکم میں درج کیا کہ مرکزی سرکار اور نفرتی تقاریروںسے یا جلسوں سے نمٹنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر غور کر رہی ہے ان میں ایسی باتوں سے نمٹنے کیلئے ایک قانون بھی شامل ہے بنچ نے اگلی تاریخ تک موجودہ گائڈ لائنز رکھنے کا بھی حکم دیا ۔ جسٹس جوزیف نے کہا کہ چینل بنیاد ی طور سے نفرتی خبریں دکھانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اور وہ ایسی سنسنی خیز اسٹوری بناتے ہیں ۔ بولنے اور اظہار رائے کی آزادی اہم ہے لیکن کیا ناظرین ان چینلوں کے ایجنڈے کو سمجھ سکتے ہیں؟ چینل کے پیچھے پیسہ کام کر رہا ہے ۔ اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ پیسہ کون لگا رہا ہے ؟ یہ طے کرتے ہیں سب کچھ۔ بنچ نے نیوز براڈ کاسٹنگ آتھارٹی اور مرکزی سرکار سے پوچھا کہ وہ اس طرح نشریات کو کیسے کنٹرول کر سکتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ نفرتی تقریروں سے نمٹنے کیلئے آئی پی سی میں وسیع پیمانے پر ترمیم کرنے کا پلان بنا رہی ہے ۔ مرکزی سرکا ر کی طرف سے پیش ہوئے سرکاری وکیل کے ایم نٹراج نے کہا کہ ہم سی آر پی سی میں ترمیم پر غور کر رہے ہیں اور یہ بھارت سرکار کا موقف ہے ۔ بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ اگر نیوز اینکر خود نفرت پھیلاتے ہیں تو ان کے خلاف کیا کاروائی کی جا سکتی ہے ؟ بنچ نے کہا کی این بی ایس اے کو جانبداری نہیں برتنی چاہیے ۔ ایک طرفہ پروگرام نہیں دکھا سکتے اور سیدھے پروگرام کی غیر جانبداری اینکر پر منحصر کرتی ہے ۔ کورٹ نے کہا کہ اگر اینکروں کو پتہ ہو تو اسے اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے یعنی قانونی شکنجہ کسا جاسکتا ہے تو وہ اس سے بچیںگے ۔ کورٹ زور دیا اس لئے اینکروں کو ہٹایا بھی جا سکتا ہے ۔کورٹ نے زور دیا کہ میڈیا ملازمین کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس پر کنٹرول کیسے کیا جا سکتا ہے۔
(انل نریندر)
راہل کے نشانے پر آر ایس ایس !
راہل گاندھی نے آر ایس ایس کو 21صدی کا کورو بتایا ہے اور کہا ہے کہ دھنوانوں سے ان کی سانٹھ گانٹھ ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا کی سیریز میں ہریانہ اور پنجاب کے راستے پر پد یاترا کر رہے سابق کانگریس صدر راہل گاندھی نے بتایا کہ کورو کون تھے ؟ میں آپ کو 21ویں صدی کے کورو کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، وہ خاکی پینٹ پہنتے ہیں ،ہاتھوں میں لاٹھی لیکر چلتے ہیں شاکھا ئیں لگاتے ہیں۔ بھارت کے تین ارب پتیوں کی ان کو حمایت ہے اور وہ ان کورو کے ساتھ کھڑے ہیں ۔پچھلے سال ستمبر میں جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرل کی راجدھانی تیرواننت پورم سے شروع ہوئی پد یاترا کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کے مسلسل راہل گاندھی کے نشانے پر رہے ہیں ۔راہل گاندھی نے آر ایس ایس بی جے پی کو اصلی ٹکڑے ٹکڑے گینگ ،خوف اور نفرت کی سیاست کرنے والے قرار دیاتھا ۔اور انہوں نے آر ایس ایس کا موازنہ مصر میں ممنوع تنظیم مسلم برادر ہڈ سے کر دیا تھا۔ راہل کے اتنے تلخ حملوں کے باوجود آر ایس ایس کے مو قف کو لیکر تیز بحث ہے ۔ سیاسی مبصرین کہہ رہے ہیں جس آر ایس ایس نے مہاتما گاندھی کے قتل سے جوڑے جانے والے بیان پر راہل گاندھی کو عدالت تک بھی گھسیٹا تھا وہ حالیہ بیانات پر اتنا ہائے توبہ کیوں نہیں کر رہا ہے ؟ حالاںکہ آر ایس ایس کے نیتا اندریش کمار نے پچھلے دنوں ضرور راہل گاندھی کی یاترا پر سوال کھڑے کئے تھے اور میڈیا سے انہوں نے کہا تھا کہ بھارت میں کئی لوگوں نے یاترائیں کیں ہے لیکن راہل گاندھی نفرت والی زبان کا استعمال کرتے ہیں آر ایس ایس کو لگاتا ر نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ بھارت کو جوڑنے کی نہیں بلکہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لیکن آر ایس ایس کی سینئر لیڈر شپ ا س پر خاموش ہے ۔ اس کے برعکس رام مندر ٹرسٹ کے دو عہدیداروں جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور خزانچی سوامی گووند دیو گری نے بھارت جوڑو یاترا کو لیکر ایسے بیان دئے ہیں جنہیں کچھ لوگ راہل گاندھی کی تعریف کے طور دیکھ رہے ہیں ۔ چمپت رائے اپنے بیان میں آر ایس ایس سے اپنے رشتے پر بھی زور دیا ہے اور کہا کہ دیش میں ایک نوجوان پیدل چل رہا ہے اچھی بات ہے اس میں کیا خراب ہے ؟ میں آر ایس ایس کا ورکر ہوں اور سنگھ سے کسی نے تنقید کی ہے کیا؟ وزیر اعظم صاحب نے ان کی یاترا پر نکتہ چینی کی ہے کیا؟ ایک نوجوان دیش گھوم رہا ہے دیش کو سمجھ رہا ہے یہ ایک تعریف کی بات ہے ۔50سالہ نوجوان ہندوستان کے 3000کلومیٹر دوری کو طے کرے گا اور اس موسم میں بھی چلے گا تو اس کی ہم تعریف ہی کریںگے ۔ ادھر چمپت نے یہ بیان اس سوا ل کے جواب میں دیا تھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ رام مند ر نے چیف پوجاری ستیندر داس نے بھارت جوڑو یاترا کو اپنا آشردواد دیا ہے اس پر کیا کہیںگے ؟ سوامی گووند دیو گری نے کہا جو بھی بھگوان رام کا نام لیتا ہے جو بھارت ماتا کا نام لیتا ہے اس کیلئے کچھ کرتا ہے ہم اس کو سراہیںگے کہ بھگوان رام انہیں آشر واد دیں تاکہ دیش متحد اور مضبوط رہ سکے ۔ کانگریس ان بیانوں کو راہل گاندھی اور یاترا کو تیرتھ کے طورپر پیش کر رہی ہے ۔ خاص طور پر رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹر چمپت رائے کے بیان کو کیا بی جے پی اور آر ایس ایس میں کچھ اختلافا ت پیدا ہو گئے ؟
(انل نریندر)
16 جنوری 2023
کیا 2024کی بساط اس سال بچھے گی؟
اس سال کی سیاسی سرگرمیوں سے صرف 2024کی بساط ہی نہیں بچھے گی بلکہ لوک سبھا چناو¿ کی حالت اور سمت بھی طے ہو جائے گی ۔کیوں کہ اس برس 9ریاستوںمیں اسمبلی چناو¿ ہونے والے ہیں ۔جن میں ساو¿تھ انڈیا میںکرناٹک اور تلنگانا اور شمال مشرقی بھارت کے راجیوں میکھالیہ ،تریپورہ ،ناگالینڈ اور میزورم چناو¿ ہونے ہیں۔ جبکہ ہندی زبان بولنے والی ریاستوں مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔بتادیں کہ کرناٹک اور مدھیہ پردیش اور تریپورہ میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں جبکہ ناگا لینڈ ،میکھالیہ اور میزورم میں علاقی پارٹیاں قابض ہیں جو بھاجپا کی اتحادی پارٹیاںہیں ۔ وہیں راجستھان اور چھتیس گڑہ میں کانگریس کی حکومت ہے ،تلنگا نا میں ٹی آرایس قابض ہے ۔ ان ریاستوں کی چناو¿ دیش کی سیاست کے حساب سے بیحد اہم ہےں کیوں کہ اس بعد لو ک سبھا کے چناو¿ ہونے ہیں ۔ ایسے زیادہ تر ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے تو علاقائی پارٹیوں کی بھی اگنی پرکشا ہے ۔ جس ریاستوںمیں چناو¿ ہونے ہیں ان میں سے زیادہ تر اہم ریاستوںمیں کانگریس اور بھاجپا کے درمیان اہم مقابلہ ہے ۔ جن میں مدھیہ پردیش ،راجستھان ،چھتیس گڑھ اور کرناٹک شامل ہیں ۔ان چار ریاستوںمیں سے دو دو ریاستیں بھاجپا اور کانگریس کے پاس ہیں اس لئے دونوں پارٹیوں کیلئے ان میں اقتدار بچائے رکھنا ایک بڑی چنوتی ہوگی ۔ بی جے پی کرناٹک اور مدھیہ پردیش کا اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی لیکن راجستھا ن میں ہر پانچ سال میں تبدلی اقتدار کی روایت رہی ہے ایسے میں کانگریس کو یہاں کافی جد جہد کرنی ہوگی ۔ بی جے پی کو 2018میں ان چار ریا ستوںمیں ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور کرناٹک میں وہ اکثریت حاصل نہیں کر پائی تھی۔ 2019کے بعد مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں آپریشن لوٹس کے ذریعے کانگریس ممبران اسمبلی کی بغاوت نے بی جے پی کو سرکار بنانے کا موقع دے دیا ایسے میں بی جے لے سامنے سب سے بڑی چنوتی ساو¿تھ انڈیا کے اپنے اکلوتے درگ کو بچائے رکھنے کی ہے چوںکہ ریڈی بندھوو¿ ں نے اپنی الگ پارٹی بنا لی ہے جبکہ تلنگانا میںوی ایس آر کیلئے اس بار بی جے پی سے سخت چنوتی ملنے جار ہی ہے اور پارٹی کے سی آر کے خلاف جاریحانہ محاذ کھول دیا ہے ۔کانگریس بھی پورے دم خم کے ساتھ میدان میںہے اس کے علاقہ شمال مشرق میں تریپورہ میکھالیہ ،ناگالینڈ وار میزورم بھی دو دو ہاتھ کرنے ہوں گے ۔تریپورہ سے لیکر اپنی واپسی کیلئے بی جے پی ہی نہیں بلکہ ٹی ایم سی سے بھی ٹکرانا ہوگا۔ ایسے ہی میکھالیہ ،میزورم اورپولینڈ میںکانگریس کی رنمائیوالی علاقائی پارٹیوں کے کے اتحاد ور بھاجپا کے اتحاد کے درمیان مقابلہ ہے۔ایسے میں اگر علاقی پارٹیوں نے چناو¿ میں اچھی پرفارمنس دکھائی تو چھوٹی پارٹیوں میں اہمیت بڑھے گی ۔ بہرحال راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے آنے والے انتخابات میں کیا اثر پڑے گا یہ بھی دیکھنا ہوگا۔کل ملاکر یہ نیا سال سیاست کے لحاظ سے انتہائی اہم ترین ثابت ہوگا۔
(انل نریندر)
15 جنوری 2023
چنی ہوئی دہلی حکومت کا کیا کام ہے؟
افسران کے تبادلے و تقرری کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر انتظامیہ کا پورا کنٹرول آپ کے پاس ہے تو پھر دہلی میں ایک چنی ہوئی سرکار کا کیا ہے ؟مرکزی اور دہلی حکومت کے درمیان کام کاج کو لیکر جاری کھینچ تان کے درمیان سپریم کورٹ کے اس رائے زنی کو انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے پہلے صفحے پر جگہ دی ہے ۔دہلی کے کام کاج پر کنٹرول کو لیکر مرکزی اور دہلی سرکار کے درمیان کھینچ تان کے معاملے میں سپریم کورٹ کی پانچ ممبری آئینی بنچ سماعت کررہی ہے اس کی سربراہی چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کررہے ہیں۔ بنچ نے مرکزی سرکار کی طرف سے موجود سرکاری وکیل تشار مہتا سے پوچھا کہ اگر سارا دہلی کا انتظامیہ مرکزی حکومت کے اشارے پر چلایا جانا ہے تو پھر دہلی میں ایک منتخب حکومت کا کیا مقصد ہے ؟سپریم کورٹ کا یہ ریمارکس تشار مہتا کے اس دلیل کے بعد آئے کہ جس میں کہا تھا کہ مرکزی حکمراں ریاست کو بنانے کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ مرکز اس کا انتظامیہ خود چلانا چاہتا ہے ۔اور سبھی مرکزی حکمراں ریاستوں کو مرکز کے سول سروس کے حکام اور مرکزی سرکار کے ملازم چلاتے ہیں۔ تشار مہتا نے کہا کہ حکام کے کام کاج پر کنٹرول اور ان کے انتظامیہ یا حکمرانی کنٹرول کے درمیان ہوتی ہے۔ایک چنی ہوئی حکومت کے نمائندے کے طور حکومت کا کام کاج سے متعلق کنٹرول ہمیشہ وزیر کے پاس رہتا ہے ۔ انہوں نے صاف طور پر بتایا کہ جب مرکزی حکومت کے اعلیٰ افسر یا آئی اے ایس افسر کو دادر اور نگر ہویلی میں ایک کمشنر کے طور پر تعینا ت کیا جاتا ہے تو وہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں پر چلتا ہے ۔ وہ افسر کسی کو لائسنس جاری کرنے کیلئے متعلقہ ریاستی ٹریڈ قواعد کو مانے گا اور وزیر کے تئیں جواب دہ ہوگا ۔ وزیر پالیسی بنائیںگے ،کیسے لائسنس دینا ہے اور کیسے نہیں دینا ہے ان تقاضو پر غور کرنا ہے ۔ معاملہ کیسے چلے گاکا م سے جوڑے کنٹرول منتخبہ وزیر کا ہوگا۔ اس پر تشار مہتا نے کہا کہ ہمارا لینا دینا انتظامی کنٹرول سے ہے ،جیسے کون تقرری کرےگا ،کون شعبہ جاتی کاروائی کرتا ہے ،کون تبادلہ کرےگا لیکن وہ افسر ہوم سیکریٹری سے یہ نہیں پوچھ سکتا ہے کہ وہ کسی کو لائسنس جاری کرے یا نہیں اس کیلئے اسے وزیر سے پوچھنا ہوگا۔ یہ دو الگ الگ باتیں ہےں اور کام کاج کا کنٹرول ہمیشہ متعلقہ وزیر اعلیٰ کے پاس ہی ہوتا ہے۔اور اس پر حیرانی جتاتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے پوچھا کہ کیا اس سے ناگزیں حالات پیدا نہیں ہو جائیںگے ۔ انہوں نے کہا کہ مان لیجیے کہ کوئی افسر اپنا کام ٹھیک سے نہیں کررہاہے تو دہلی سرکا ر کی یہ کہنے میں کوئی رول نہیں ہے کہ اس افسر کہ بجائے ہم دوسرا کوئی افسر چاہتے ہیں ۔۔۔ دیکھئے یہ کتنا پیچیدہ معاملہ ہوسکتا ہے کہ دہلی سرکار کہاںہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ افسر کو کہاں تعینات کیا جائے گا۔ اس پر دہلی سرکار کا کوئی کنٹرول نہیں چاہے وہ محکمہ تعلیم ہو یا کوئی اور محکمہ ہو ۔ اس کے جواب میں سرکاری وکیل تشار مہتا نے کہا کہ قانون کے مطابق انتظامیہ سے متعلق کنٹرول وزارت داخلہ کے ہاتھ میں ہوگا ۔ ایسے میں لیفٹمنٹ گورنر کو مطلع کیا جا سکتا ہے کہ براہ کرم اس افسر کا تبادلہ کر دیجئے ۔ایل اس دوخواست کو آگے بڑھانے کیلئے پابند ہے ۔ سماعت کررہی بنچ میں جسٹس ایم .آر.شاہ ،جسٹس کرشن مراری ،جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وی ایس نرسمہا شامل ہیں ۔ اس معاملے میں سماعت جاری ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...