27 اپریل 2013

کرس گیل نے ٹی۔20 کے خاکے کو نئے دور میں پہنچایا

پنے ویریرس کے خلاف ٹی۔ 20 آئی پی ایل ۔6 میں کھیلتے ہوئے رائل چیلنجرز کے کرس گیل نے ٹی۔20 کی تاریخ کی بدل دی ہے۔ ایک ایسا باب جوڑا ہے جو شاید کبھی ختم ہوسکے۔ جیسے سچن تندولکر کی سنچری کا ریکارڈ کرکٹ سنچری سے جڑ گیا اسی طرح کرس گیل کی یہ طوفانی پاری ٹی۔20 ریکارڈ بک میں درج ہوگئی ہے۔ گیل کے رنوں کی آندھی اتنی زوردار رہی کے جسے کرکٹ کی سونامی کہا جاسکتا ہے۔ گیل کا بلا ایک رن مشین کی طرح رنوں کی بوچھار کرتا رہا۔ ان کے ترکش میں ہرتیر ہے اور ان کا وار خالی نہیں جاتا۔ چننا سوامی اسٹیڈیم ایک بار پھر گیل کے کرشمے کا گواہ بنا۔ انہوں نے کرکٹ کے اس سب سے بڑے کورفارمیٹ میں اتنی لمبی پاری کھیلی ہے کے اسے پار کرنا دوسر ے کرکٹروں کے لئے جتنی چنوتی ہے اتنا ہی خواب ہے۔ پہلے 30 گیندوں پر کرکٹ تاریخ کی سب سے تیز سنچری اپنے نام کی پھر 66 گیندوں میں ناٹ آؤٹ175 رنوں کا پہاڑ جیسا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ گیل کی آتشی پاری کی بدولت رائل چیلنجرز بنگلور پنے ویریرس کو130 رنوں سے ہراکر آئی پی ایل6- میں 8 میچوں میں 12 پوائنٹ جوڑ کر ٹیبل میں ٹاپ پر پہنچ گئے۔ گیل کی یہ سنچری کسی بھی کرکٹ فارمیٹ میں کسی بھی سطح پر سب سے تیز سنچری ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ یوسف پٹھان کے نام تھا جنہوں نے راجستھان رائلز کی طرف سے ممبئی انڈینز کے خلاف کھیلتے ہوئے 37 گیندوں میں سنچری لگائی تھی ۔ گیل نے اپنی پاری میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ گراہم نیپیرکے نام تھا جنہوں نے 2008ء میں ایس ایکس کی طرف سکسیس کے خلاف کھیلتے ہوئے انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں اپنی پاری میں16 چھکے لگائے تھے۔ کرس گیل نے اس میچ میں 17 چھکے لگائے۔ گیل کی پاری کی بدولت رائل چیلنجرز نے آئی پی ایل تاریخ کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور 263 رن بنایا۔ اس سے پہلے آئی پی ایل کا سب سے بڑا ریکارڈ بنانے کا ریکارڈ چنئی سپر کنگ کے نام تھا۔ اس نے چنئی کے میدک میدان میں3 اپریل2010 ء کو اسی رائل چیلنجرز کے خلاف246 رن بنائے تھے۔ گیل کی یہ پاری اسٹرائک ریٹ کے حساب سے بھی تیز رہی۔ گیل نے 66 گیندوں میں 17 چھکے اور13 چوکے لگائے اور 175 رن پر ناٹ آؤٹ رہے۔ اس سے پہلے بریٹمیکولم نے کولکتہ نائٹ رائڈرز کی طرف سے کھیلتے ہوئے ناٹ آؤٹ158 رن بنائے تھے۔ کرس گیل نے اس دوران آئی پی ایل کا سب سے اونچا چھکا لگایا۔ گیل نے دلشان کے ساتھ پہلے وکٹ کے لئے 167 رنوں کی پاری کھیلی جو ایک ریکاڈر تھا۔ ٹی ۔20 میں ان کے نام 11 سنچریوں کا بھی ریکارڈ ہے۔ کوئی بھی دوسرا بلے باز 6 سے زیادہ سنچری نہیں بناپایا۔ ویسے ایک طرح سے آئی پی ایل ۔6 میں تیز رنوں کا سہرہ دلی ڈیر ڈیولز کے وریندر سہواگ کو بھی جاتا ہے۔ان کی دلی میں دھواں دھار پاری سے ہی دوسرے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا۔ اگلے ہی دن راجستھان رائلز نے شین واٹسن نے سنچری لگا کر آئی پی ایل۔6 میں پہلی سنچری بنائی لیکن اس کا نشہ زیادہ دن نہیں چلا۔ کرس گیل کی طوفانی پاری سب پر بھاری پڑ گئی۔پتہ نہیں ایسی طوفانی بلے بازی ٹی ۔20 میں پھر دیکھنے کو ملے گی یا نہیں۔
(انل نریندر)

چٹ فنڈ کمپنیوں کا یہ گورکھ دھندہ!

جھانسے دیکر لوگوں سے پیسہ ٹھگنے کے الزام میں شاردا گروپ کے چٹ فنڈ تنازعے پر مغربی بنگال میں سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ کمپنی کے چیئرمین سدپتوسین کے ذریعے مبینہ طور سے سی بی آئی کو لکھے خط میں دو ترنمول کانگریس ممبران اسمبلی کرنال گھوش اور سنجے بوس کا نام بھی لیا گیا ہے۔ ان پر انہوں نے بلیک میلنگ کا الزام لگایا ہے۔ وہیں تنازعے سے نمٹنے کے لئے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے فوراً500 کروڑ روپے کی راحت دینے کے لئے فنڈ بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ جو گروپ کے ذریعے ٹھگے گئے لوگوں کو رقم لوٹانے کے کام آئے گا۔ ساتھ ہی ممتا کو یہ کہنا پڑا کہ اگر ان کے لیڈروں نے جرم کیا ہے تو قانون کے تحت قدم اٹھائے جائیں گے۔ ادھر شاردا گروپ کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔ انکم ٹیکس محکمے کے ذریعے دی گئی ہدایت اور مالی گھوٹالے کی جانچ کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔ سدپتو سین کے ذریعے سی بی آئی کو لکھے خط میں کئی نیتاؤں،افسران و وکیلوں کے نام بھی شامل ہیں،جو اسے بلیک میل کیا کرتے تھے۔ کرنال گھوش نے حال ہی میں شاردا گروپ کے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جبکہ سنجے ایک بنگلہ روزنامہ کا مدیر ہے۔ اس نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے اخبار کا چینل10 ٹی وی سے کمرشل ٹائی اپ ہے۔ اس کا شاردا چٹ فنڈ کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔چینل10 شاردا گروپ کا ہے۔ شاردا کمپنی کے چیف سے تعلق پر پوچھے جانے پر انہوں نے کہا ہمیں پتہ نہیں تھا کہ یہ شخص ایک جعلساز ہے ۔مغربی بنگال میں شاردا گروپ کا گھوٹالہ مالی دھاندلیوں پر نظر رکھنے کیلئے سرکار کی کوتاہی ظاہر کرتا ہے۔ بیشک اس کمپنی کے عہدیداران کو گرفتار کرلیا ہے اور سیبی نے گروپ کی سبھی کاروباری سرگرمیوں کی جانچ شروع کردی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے دھوکے سے پیسہ اکٹھا کرنے والوں کے خلاف سخت اور صاف قانون نہ ہونے کے سبب عدلیہ کی کارروائی لچر رہتی ہے۔ قریب10 سال پہلے جب دیش میں غیر بینکنگ مالیاتی کمپنی کے نام سے چٹ فنڈ چلانے والے گروپوں کا جعل پھیل چکا تھا اور اس کے جھانسے میں آکر لاکھوں لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو بچت اکاؤنٹ میں دینے کے معاملے اجاگر ہوئے تھے، تب حکومت نے اس کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تھا لیکن تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کے پورے پیسے نہیں مل پائے۔ اسکے بعد بھی ان کا پیسہ کہاں گیا یہ سب جانتے سمجھتے ہوئے چٹ فنڈ کا کاروبارجاری ہے۔ اور حیرانی اس بات پر ہے کہ ان کمپنیوں پر نکیل کسنے کا کوئی باقاعدہ طریقہ نہیں نکالا جاسکا۔ ان چٹ فنڈ کمپنیوں کی سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن سیبی کی آنکھیں تب کھلتی ہیں جب لاکھوں لوگ تباہ ہوجاتے ہیں؟ شاردا گروپ کی کمائی کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ مغربی بنگال کے 19 ضلعوں میں اس کے 1 لاکھ ایجنٹ کام کررہے ہیں اور کمپنی کی 360 شاخیں ہیں۔ دراصل ایک مشکل یہ بھی ہے کہ یہ چٹ فنڈ کمپنیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ وہ رکشا چلانے والے، ریڑی مزدوری کرنے والوں سے لیکر بھیک مانگنے والوں تک تمام لوگوں کو سبز باغ دکھا کر روزانہ معمولی سے معمولی رقم جمع کرنے کے لئے راضی کرلیتی ہیں کیونکہ ایسی سرمایہ کاری کو کوئی قانونی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ کمپنیاں اپنی وصولی وغیرہ سے وابستہ جانکاریاں چست درست رکھنے کے لئے پابند نہیں ہوتیں۔ فرضی کاغذات کے ذریعے سارا کاروبار چلتا ہے۔ اس طرح سے پیسہ اکھٹا کرنے کا جعل صرف چٹ فنڈ کمپنیوں تک محدو د نہیں رہا۔ اب تو انٹرنیٹ، اخباروں اور ٹی وی پر اشتہارات کے ذریعے چھوٹی سرمایہ کاری پر بڑی کمائی کا جھانسہ دینے والے بہت سے گروہ سرگرم ہیں۔ ایسے معاملوں میں واضح قانون اور اتھارٹیوں کا دائرہ اختیار مقرر نہ ہونے کے سبب ایسی کمپنیاں بچ جاتی ہیں۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ الگ الگ معاملوں میں مالی دھاندلیوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری الگ الگ سرکاری ایجنسیوں کو سونپی جاتی ہے۔ اس میں کارروائی تیزی سے ہوسکتی ہے۔ جہاں یہ مختار مالیاتی کمپنیاں رجسٹرڈ ہو ۔ وقت آگیا ہے کہ سرکار اس چٹ فنڈ کے گورکھ دھندے پر نکیل کسنے کے لئے ایک آزاد ایجنسی بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے۔ ممتا کے ذریعے 500 کروڑ روپے کا فنڈ قائم کرنا کوئی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پورے دیش میں تو پتہ نہیں کتنے ہزاروں کروڑ روپے کا یہ دھندہ اس وقت چل رہا ہے۔
(انل نریندر)

26 اپریل 2013

سونیا گاندھی کا جارحانہ رویہ :نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ جواب

کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے اور سی بی آئی جانچ میں سرکاری مداخلت کو لیکر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ اس اشو پر حکمراں اور اپوزیشن پوری طرح آمنے سامنے کھڑا ہوگیاہے۔ جارحانہ تیور اپناتے ہوئے بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا نے وزیر اعظم، وزیر قانون سے استعفیٰ مانگا تو یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے بھی اسی جارحانہ انداز میں خود سامنے آکر مطالبے کو مسترد کردیا۔ پارلیمنٹ میں اٹھی پی ایم اور قانون منتری کے استعفے کی مانگ کو سونیا گاندھی نے مسترد کرتے ہوئے کہا انہیں استعفیٰ مانگنے دو،آپ ان کو جواب دیں، اشارہ ملتے ہیں پارلیمانی وزیر کمل ناتھ نے بھی کہا بھاجپا تو ہر وقت کسی نہ کسی کا استعفیٰ مانگتی ہی رہتی ہے۔ ہمیں سونیا گاندھی کے ہٹلری فرمان پر تعجب نہیں ہوا۔ جب تک شری مکھرجی کانگریس کے لیڈر تھے اور سنکٹ موچک بن کر وہ اپوزیشن سے ٹکراؤ سے بچا لیا کرتے تھے۔ کچھ اپوزیشن کی بات کو سمجھا بجھا کر ختم کرادیا کرتے تھے لیکن جب سے وہ صدر بنے ہیں اور سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ میں پارٹی اور سرکار کی کمان سنبھالی ہے تو اسی طرح کے ہٹلری انداز میں بولتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح 2 جی گھوٹالے میں بھی انہوں نے ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔جب گھوٹالہ الاٹمنٹ سامنے آیا تب بھی یہی کیا اور آخر کار تازہ ٹکراؤ اس حد تک کیوں پہنچا؟ سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی نے جو جوابی رپورٹ تیار کی تھی اسے سپریم کورٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی وزیر قانون اشونی کمار نے منگوالیا اور اس میں کچھ ترامیم کیں۔ ایسا الزام بھاجپا نے لگایا ہے۔ پہلے تو سرکار اسے ماننے کو تیار نہیں تھی لیکن بعد میں یہ مانا کے وزیر نے رپورٹ کو دیکھا ہے۔ پارلیمانی وزیر کملناتھ نے پھر کہا اشونی کمار نے تو رپورٹ اس لئے منگائی تھی تاکہ اس میں کوئی تکنیکی غلطی نہ ہو۔ ہمیں نہیں پتہ کے سی بی آئی میں ایسے افسر بیٹھے ہیں جنہیں گرامر بھی نہیں آتی؟ خیر جب اپوزیشن نے بہت دباؤ ڈالا تو سرکارا یوان میں اس پر بحث کرانے کو تیار ہوگئی۔راجیہ سبھا میں جب یہ معاملہ آیا تو وزیر قانون اشونی کمارجو اس وقت تک ایوان میں بیٹھے تھے عین موقعے پر نکل لئے اور اس پر بحث نہ ہوسکی۔ اب اپوزیشن اگر وزیر اعظم سے یہ کہہ رہا ہے کہ اشونی کمار کو برخاست کرو تو اس میں کیا غلط ہے؟ اگر پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہوتی ہے تو اس کی سیدھی ذمہ داری حکمراں فریق پر آتی ہے۔ کوئلہ الاٹمنٹ میں پارلیمنٹ میں گھری سرکار کو سپریم کورٹ میں جواب دینا پڑے گا۔ سرکار کی مصیبتیں سپریم کورٹ میں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ تازہ واقعہ کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی کٹہرے میں کھڑی دکھائی پڑرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو مطمئن کرنا چاہے گی اور معاملے کی ابتدائی جانچ میں ملے ثبوتوں کیساتھ اور چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے۔ کسی کو بچانے کی کوشش کررہی ہے اس لئے وہ بچاؤ کے رخ اختیار کرے گی۔ ممکن ہے سپریم کورٹ کہے کہ آپ دونوں رپورٹ پیش کریں اگر کوئی ترمیم کی گئی ہے؟ سپریم کورٹ دونوں رپورٹوں کی جانچ کر طے کرسکے گی کے رپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے یا نہیں؟ سی بی آئی کے ڈائریکٹر رنجیت سنگھ کورٹ کو بتا چکے ہیں کہ کوئلہ الاٹمنٹ میں بے قاعدگیوں کے ساتھ رپورٹ کسی سے شیئر نہیں کی گئی ہے۔اب عدالت میں کیا موقف لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں اس کے علاوہ بھی سرکار کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ کوئلہ وزارت کی جانب سے عدالت میں داخل حلف نامے میں الاٹمنٹ عمل میں شفافیت اپنائے جانے کو لیکر کوئی پختہ دلیل نہیں دی گئی ہے۔ سرکار نے خود مانا ہے کہ الاٹ شدہ 218 کول بلاکوں میں سے ابھی تک محض35 ہی کوئلہ الاٹمنٹ پیداوار شروع ہوسکتی ہے۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ میں ہوئی دھاندلیوں کا معاملہ ویسے بھی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ معاملے پر 30 اپریل کو سماعت ہونی ہے۔ وزارت نے الاٹمنٹ کارروائی کی تفصیل پیش کرتے ہوئے ساری ذمہ داری ریاستی سرکاروں اور اسکریننگ کمیٹوں کے ماتھے پر ڈالنے کی کوشش کی ہے جن کی سفارشوں پر الاٹمنٹ کیا گیا۔ اس طرح سرکار نے ایک ساتھ تین مورچے کھول دئے ہیں۔ سرکار سپریم کورٹ اور ریاستی سرکاریں و سونیا گاندھی کہتی ہیں نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ جواب دیں گے اور نہ ہی لیں گے۔
(انل نریندر)

چوطرفہ گھرتے سہارا چیف سبرت رائے سہارا

سہارا گروپ کے چیف سبرت رائے کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک تنازعے میں پھنستے جارہے ہیں۔سپریم کورٹ نے سبرت رائے کو ایسی پھٹکار لگائی جس کی شاید انہیں کبھی امید نہ رہی ہوگی۔ جسٹس ایس بالا کرشنن کی سربراہی والی بنچ نے سیبی کی توہین عرضی پر جواب داخل نہ کرنے پر سہارا گروپ اور اسکے سربراہ سبرت رائے کو نہ صرف پھٹکار لگائی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کے وہ عدالت سے چال بازیاں نہ کریں۔ سرمایہ کاروں کو 24 ہزار کروڑ روپے نہ لوٹانے کے معاملے میں بنچ نے یہ رائے زنی کی۔ بنچ نے سبرت رائے اور دونوں ڈائریکٹروں اشوک رائے چودھری اور روی شنکر دوبے کو حراست میں لینے سے متعلق سیبی کی عرضی پرتینوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سیبی نے سرمایہ کاروں کا پیسہ وصولنے کے لئے ان کو حراست میں لینے کے حکم جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ پیر کے روز سماعت کے دوران عدالت نے سبرت رائے کے وکیل سے کہا کہ وہ دیش نہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرائیں۔ نہیں تو عدالت اس سلسلے میں حکم جاری کر ے گی۔ اس کے علاوہ سیبی کے پاس 24 ہزار کروڑ روپے جمع کرانے میں ناکام رہنے کی صورت میں سہارا گروپ کی دو کمپنیوں کی پراپرٹی قرق کرنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد سہارا انڈیا کے ذریعے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائرکئے جانے پر بھی بنچ نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سہارا کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ سبرت رائے کی ذاتی پراپرٹی قرق کررہی ہے اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔ جس میں عدالت عظمیٰ نے 24 ہزار کروڑ روپے لوٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پر ججوں نے کہا آپ عدالتوں کے ساتھ چالکی سے کام لے رہے ہیں۔ ہمارے فریقین میں دلچسپی نہیں ہے۔ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرنا و سیبی کے پاس جانا بھی توہین ہے۔ سیبی کی جانب سے سینئر وکیل اروند نے کہا سہارا گروپ اور اسکی کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹریٹ کارپوریشن، سہارا ہاؤسنگ نے کمپنی قانون کے قواعد پر تعمیل کی ہے۔ ادھر ایک اور جھٹکے میں سہارا ریئل اسٹریٹ کارپوریش کے ذریعے پرائم ٹائم کا 3450 کروڑ روپیہ تھا جزوی طور پر آئی پی او اب نہیںآ پائے گا۔ سیبی نے سہارا پرائم سٹی لمیٹڈ کے آئی پی او پرستاؤ سے جڑی فائل بند کردی ہے۔ سیبی کے ذریعے مانگی گئی صفائی کو پیش کرنے میں کمپنی ناکام رہنے پر سیبی نے یہ قدم اٹھایا ہے کے ایک اور واقعہ میں سہارا گروپ اب امپلائز فنڈ آرگنائزیشن کی جانچ کے گھیرے میں بھی آچکا ہے۔ وہ ای پی ایف او کے دیش میں بڑے ڈفالٹروں میں سے ایک ہے۔ سہارا انڈیا فائننشیل کارپوریشن اور سابق سہارا ایئرلائنس سمیت سہارا گروپ کی پانچ کمپنیوں کے نام 50 کمپنیوں میں شامل ہیں جو دیش کی بڑی ڈفالٹروں میں مانی جاتی ہیں۔خبر تو یہ بھی ہے کہ اتراکھنڈ میں سہارا گروپ کی نئی اسکیم ’کیوشاپ‘ بھی تنازعوں کے گھیرے میں آگئی ہے۔ اتراکھنڈ فوڈ سکیورٹی محکمے کے مطابق بہادرآباد سمیت سہارا کیو شاپ کے گودام سے26 دسمبر2012ء کو بیسن مکس فروٹ، جیم اور سرسوں کے تیل کے سمپل اکھٹے کئے گئے تھے لیکن یہ میعاری نہیں اترے اور سمپل جانچ میں فیل ہوگئے۔ اس بارے میں سہارا سے جواب مانگا گیا تھا۔ کمپنی نے جواب دینے کے لئے30 دن کی مہلت مانگی تھی لیکن وہ تشفی بخش جواب نہیں دے پائی۔ اب اس معاملے میں فوڈ سکیورٹی و اسٹنڈرڈ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ کل ملاکر شری سبرت رائے سہارا کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں۔ یہ بھی لگتا ہے کہ انہیں گھیرنے کے لئے سرکاری ایجنسیاں زبردست طریقے پر سرگرم ہوگئی ہیں اور انہیں بے عزت اور سزا دلانے پر تل گئی ہیں۔
(انل نریندر)

25 اپریل 2013

الٹا پڑ گیا پرویزمشرف کا وطن واپسی کا داؤں

پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف پتہ نہیں کیا کیا سوچ کر اپنے وطن پاکستان واپس لوٹے تھے؟ جب سے ان کی واپسی ہوئی ہے تبھی سے ان کی راہ میں ایک کے بعد ایک روڑا کھڑا ہورہا ہے۔ ان کی پریشانیاں دور ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اپنی جلاوطنی ختم کرکے جب وہ پاکستان آئے تو کراچی کے ایک عدالت میں ان پر جوتا پھینکا گیا۔ جس وقت جوتا پھینکا گیا کورٹ کا احاطہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس واقعہ کو گذرے بمشکل ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کے سپریم کورٹ نے ان پر ملک کی بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلانے کا آغاز کردیا۔ پھر پاکستان کے الیکشن ٹریبونل نے ان کے پارلیمنٹ پہنچنے کی دوڑ پر بریک لگادی۔ اس نے صاف حکم دیا کے وہ چناؤ نہیں لڑ سکتے۔ ابھی ان کے چناؤ نہ لڑپانے کا معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ اسلام آباد کی ایک عدالت نے ان کی گرفتاری کا راستہ صاف کرتے ہوئے ان کی ضمانت عرضی خارج کردی۔ اب حالت یہ بن گئی ہے کہ انہیں گرفتار کرنے سے پہلے انہیں اپنے پاکستانی رینجرز کے گھیرے میں کورٹ سے بھاگنا پڑا تھا۔ آج وہ اپنے محل نما فارم ہاؤس میں محض دو کمروں کے اندر زندگی جینے کو مجبور ہیں۔ ان کے رشتے داروں یا پرائیویٹ اسٹاف اور وکیلوں سے ملنے پر بھی پابندی لگی ہوئی ہے۔ اس پانچ ایکڑ میں پھیلے فارم ہاؤس کو ڈپٹی جیل میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ 69 سالہ سابق فوجی جنرل کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 15 دن کی جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔ اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے پرویز مشرف دیش کے پہلے سابق فوجی سربراہ ہیں۔ فارم ہاؤس کے چاروں طرف15 فٹ اونچی دیواریں ہیں اس میں دو کمرے بم پروف ہیں۔ اس کی لاگت 2 ملین ڈالر مانی گئی ہے۔ آج اگر مشرف اپنے آپ کو اس حالت میں پا رہے ہیں تو کافی حد تک وہ اس کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ جو بیج انہوں نے بویا وہ خود کاٹ رہے ہیں۔ مشرف 1999 ء میں ایک منتخبہ حکومت کا تختہ پلٹ کر تاناشاہی قائم کرکے 2001ء میں صدر بنے اور 2008 ء تک اس عہدے پر فائض رہے۔ اس دوران انہوں نے کئی قدم اٹھائے جو اب ان پر ہی بھاری پڑ رہے ہیں۔ فوجی سربراہ رہتے ہوئے جنرل مشرف نے منتخبہ حکومت کے وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اب بھی مشرف کے خلاف ملک کی بغاوت اور آئین کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ چلانے کی مانگ کررہے ہیں۔ ایمرجنسی کے دوران ہی اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت میں فوج داخل کی اور اس نے قریب7 ججوں کو حراست میں لیا جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی تھے، ان ججوں کو برخاست کردیا گیا۔ مشرف کی گرفتاری کا حکم ججوں کو حراست میں رکھنے کے معاملے میں آیا ہے۔ 2009ء میں ایک وکیل نے دیش میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور ججوں کو حراست میں لینے کے لئے مشرف کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ 2007ء میں دیش میں ایمرجنسی تھوپ کر سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشن پر بھی فوج قابض ہوگئی۔ پرائیویٹ چینلوں کا ٹیلی کاسٹ بھی روکا گیا۔ ان سب کو جمہوریت کا قتل مانا گیا۔ قتل کے الزام بھی ان پر لگے ہوئے ہیں۔ 2007ء میں جس وقت سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا قتل ہوا اس وقت پاکستانی فوج کی کمان مشرف کے ہاتھوں میں تھی۔ اس سے پہلے2006ء میں بلوچ نیتا نواب اکبر بگتی کی پر اسرار حالت میں موت ہوئی تب بھی مشرف پر انگلی اٹھی۔ بھٹو کے معاملے میں مشرف پر الزام لگا کے خطرے سے واقف ہونے کے باوجود انہوں نے بینظیر کو مناسب سکیورٹی نہیں دی۔ اسلام آباد کی لال مسجد پر2007 ء میں فوجی ایکشن ہوا تھا اس میں بھی مشرف کو قصوروار اور حکم دینے والا مانا گیا تھا۔ اس معاملے میں بھی مشرف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ اگست2008 ء میں اتحادی سرکار نے مشرف پر پارلیمنٹ میں مقدمہ چلانے کی کارروائی شروع کرنے کی بات کہی ہے۔مشرف اگست2008ء میں صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر خود ہی دیش چھوڑ گئے تھے۔ لندن میں قریب ساڑھے چار سال تک جلا وطنی کی زندگی ختم کرتے ہوئے چناؤ میں حصہ لینے کے لئے مشرف 24 مارچ کو کراچی آئے۔ اس طرح ہے کچھ پرویز مشرف کی عرش سے فرش تک کی داستاں۔
(انل نریندر)

مکیش امبانی کو زیڈ سکیورٹی کی سرکاری سرکشا؟

دیش کے مشہور صنعت کار مکیش امبانی کو زیڈ سکیورٹی دینے کا فیصلہ سرکار کے لئے درد سر بن گیا ہے۔ جنتا کو سکیورٹی دینے میں ناکام یوپی اے کی اس حکومت کو عام جنتا سے زیادہ فکر صنعت کاروں کی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب سارا دیش یہ مانگ کررہا ہے کہ وی آئی پی سکیورٹی میں تعینات جوانوں کو وہاں سے ہٹا کر عام آدمی کی سیوا میں لگاناچاہئے۔ یہ فیصلہ نہایت غلط روایت کا آغاز کرتا ہے۔ کئی بار سرکار کی جانب سے قائم کمیٹیاں بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ خصوصی سکیورٹی خطرے کے تجزیئے کے مطابق نہیں دی جاتی بلکہ وہ ایک اسٹریٹ سمبل یا رسوخ کی علامت بن گئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیش دو کٹگری میں بٹ گیا ہے۔ ایک طبقہ وہ وی آئی پی ہے جنہیں خصوصی سکیورٹی حاصل ہے اور جو ہر قاعدے قانون سے اوپر ہے۔ دوسرا طبقہ وہ اکثریتی لوگ ہیں جن کی سلامتی کا کوئی انتظام نہیں ہے جو کسی خطرے یا جرائم کی اطلاع دینے تھانے جائیں تو انہی سے مجرمانہ برتاؤ ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے چیئرمین اروند کجریوال نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ہے مکیش امبانی زیڈ سکیورٹی؟ اتنا امیر آدمی اپنے لئے سکیورٹی گارڈ نہیں رکھ سکتا؟ کوئی بھی سیاسی پارٹی اس کی مخالفت نہیں جتا رہی ہے ۔ اس سے لگتا ہے امبانی سبھی پارٹیوں کی گڈ بک میں ہیں۔ مصنف چیتن بھگت کا کہنا ہے کہ ارب پتیوں کو اے سے زیڈ زمرے تک سکیورٹی مل رہی ہے جبکہ معمولی سکیورٹی پانے کے لئے ننھی بچی کے والدین کو پولیس اسٹیشن سے بھگا دیا جاتا ہے۔ موجودہ وی آئی پی سکیورٹی کی حالت چونکانے والی ہے۔ 253 دہلی شہریوں کی سلامتی پر اوسطاً 1 پولیس والا ہے۔ 427 با اثر لوگوں کی سکیورٹی پر 5183 جوان تعینات ہیں۔ دیش بھر میں 14842 لوگوں کو سکیورٹی مہیا کرائی گئی ہے اور ان کی سلامتی میں لگے 47557 پولیس والے وی آئی پی سکیورٹی پر لگے ہیں۔اس پر سالانہ خرچ 341 کروڑ روپیہ ہے۔ چوطرفہ نکتہ چینی سے گھبرائی حکومت نے پیرکو اس مسئلے پر صفائی دینے کی کوشش کی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق پچھلے مہینے مکیش امبانی کو انڈین مجاہدین کی جانب سے یہ دھمکی ملی تھی کے اس میں ان کاقتل اور ان کے علیشان محل نما بنگلے پر حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔ ساتھ ہی ریلائنس کی فیکٹریوں پر بھی آتنک وادی حملے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے صاف کیا کہ سکیورٹی کا تمام خرچ سرکار نہیں بلکہ خود مکیش امبانی اٹھائیں گے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے مالک مکیش امبانی قومی اثاثہ ہیں اور انہیں مل رہی دھمکیوں کے پیش نظر زیڈ سکیورٹی دی گئی ہے۔ یہ سہولت یوں ہی نہیں دی جارہی ہے اس کے لئے مکیش امبانی کو 15 لاکھ روپے چکانے ہوں گے۔ سی آر پی ایف کے ذرائع کے مطابق25 سے30 کمانڈو والے اس سکیورٹی گھیرے کا ہر مہینے خرچ قریب14 لاکھ روپے ہوگا جس میں ان کی تنخواہ بھی شامل ہے۔ اس خرچ کے علاوہ امبانی سکیورٹی ٹیم کو بیرک بھی مہیا کرائیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی بلڈنگ میں پولیس تھانہ بھی بنادیا جائے۔ ہوسکتا ہے سرکار کی نظرو ں میں مکیش امبانی کو سکیورٹی مہیا کرانا جائز ہو لیکن عام ہندوستانی اسے اپنی سلامتی اور سرکار کی بے حسی کے آئینے میں ہی دیکھا گا۔
(انل نریندر)

23 اپریل 2013

اجیت پوار نہ صرف این سی پی بلکہ اتحادی حکومت کیلئے درد سر بنے

مشہور خاتون رضاکار میدھا پاٹیکر نے جمعہ کو شرد پوار کے بھتیجے اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار پر ایک سنچائی پروجیکٹ میں 27.5 کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ پاٹیکر کا الزام ہے کل43.38 کروڑ روپے کی رشوت رقم میں بھاجپا نیتا اور سابق صدر نتن گڈکری اور لوک سبھا میں بھاجپا کے ڈپٹی لیڈر کو50 لاکھ اور20 لاکھ روپے دئے گئے۔ میدھا نے بتایا کہ مہالکشمی انفرسٹیکچر نے گوسی خورد سنچائی پروجیکٹ کو روک دیا تھا۔ ٹھیکیدار نے کمیشن کے طور پر43.83 کروڑ روپے مختلف لیڈروں اور حکام کو بانٹے ۔ پوار کے علاوہ ٹھیکیدار نے گڈکری کو50 لاکھ اور گوپی ناتھ منڈے کو20 لاکھ دئے۔ کانگریس ممبر اسمبلی وجے اور پارٹی نیتا سنیل دیشمکھ کو بھی کمیشن دیا۔ پاٹیکرنے بتایا کہ کمپنی کے دفتر پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپہ مارا تھا اس دوران اسے کچھ اہم دستاویز ملے تھے۔ ان دستاویز کو انہوں نے آر ٹی آئی کے تحت حاصل کیا ہے جن سے انہیں کمیشن کی جانکاری ملی ہے۔ میدھا پاٹیکر کے الزامات سے میرا دور دور تک کوئی واستہ نہیں ہے یہ کہنا ہے اجیت پوار کا۔ میں سینئر رضا کار کے طور پر پاٹیکر کا سنمان کرتا ہوں لیکن کمیشن خوری کا جو الزام انہوں نے لگایا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ پوار نے آگے کہا کہ ادھر عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سینچائی گھوٹالے میں مبینہ کردار کے لئے نائب وزیر اعلی اجیت پوار کو فوراً برخاست کیا جائے۔ اس معاملے کی منصفانہ جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے۔ آپ کی ترجمان پریتی شرما مینن نے کہا کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) کی رپورٹ اور مہالکشمی کی بنیادی انفرسٹیکچر کے پروجیکٹ میں مبینہ رشوت کے انکشاف کے بعد اجیت پوار کے نائب وزیر اعلی بنے رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا ہے۔ مہاراشٹر اس وقت زبردست خوشک سالی سے گذر رہا ہے جو گھٹیا طریقے سے بنائی گئی اسکیموں کا سیدھا نتیجہ ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری خزانے کو لوٹ کر خالی کردیا گیا بلکہ ہماری مٹی کو بھی بے پانی کردیا گیا۔ پریتی نے کہا کہ سینچائی پروجیکٹ پر27 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ بنیادی بجٹ 7 ہزارکروڑ روپے کا تھا۔ ایک دوسرے واقعہ میں سی اے جی کی مہاراشٹر اسمبلی میں پیش ہوئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینچائی محکمے کی 426 اسکیمیں پچھلے 40 برسوں سے لٹکی ہوئی ہیں۔ ان میں سے242 اسکیموں کا خرچ ابتدا میں 7215 کروڑ روپے تجویز تھا۔ اس میں26617 کروڑ روپے تک اضافہ ہونے سے اس کی کل لاگر 33832 کروڑ ہوگئی۔کچھ لیڈروں کو تنازعوں میں بنے رہنے کا شوق ہوتا ہے بیشک نگیٹو پبلسٹی ہی کیوں نہ ملے۔ پچھلے دنوں آپ نے ایک بیان ایسا دیا جس سے ابھی تک آپ کا پیچھا نہیں چھوٹ رہا ہے۔ مہاراشٹر میں سوکھے کی بات کرتے ہوئے اجیت پوار نے کہا اب اگر باند میں پانی ہی نہیں تو پانی کیسے چھوڑا جاسکتا ہے؟ کیا ہم وہاں جاکر پیشاب کریں؟ اب اگر پینے کو ہی پانی نہیں ہے تو پیشاب بھی کیسے ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جب یہاں رات کو بجلی نہیں ہوتی تو زیادہ بچے پیدا ہونے لگے ہیں۔ لوگوں کے پاس اور کوئی کام نہیں بچا ہے۔ جب ان کے بیان پر ہنگامہ مچ گیا تو محترم نے ایتوار کی صبح کراڈ میں اپواس کیا۔ اس سے پہلے سنیچر کو اجیت کے چاچا اور این سی پی کے چیف شرد پوار نے ان کے بیان کو غلط بتاتے ہوئے معاملے کو رفع دفع کرنے کی بات کہی تھی۔ اجیت پوار نے حالانکہ معافی مانگ لی ہے لیکن اپوزیشن پارٹی شیو سینا ، بھاجپا اور ایم این ایس ان کے استعفے کی مانگ کو لیکر اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دے رہے ہیں۔ اب ان کو اجیت کے خلاف مواد مل گیا ہے۔ اجیت پوار نے اپنی حرکتوں سے نہ صرف اپنی پارٹی کو ہی بلکہ کانگریس اتحادی سرکار کو بھی نکتہ چینی کا شکار بنا دیا ہے۔ وزیر اعلی چوہان کے لئے ایک درد سر بن گئے ہیں۔ مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اسی سال ہونے ہیں۔ دیکھنا ہے کانگریس ۔ این سی پی اتحاد پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

کیا کبھی ان ٹریفک جام سے چھٹکارا بھی ملے گا؟

جمعرات کی شام کو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں ہوئے آئی پی ایل میچ نے علاقے کی تمام سڑکوں پر جام لگادیا ہے۔ آئی ٹی او، دہلی، راج گھاٹ، بہادر شاہ ظفر مارگ سمیت کئی راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔ راجدھانی میں پانچ سالہ بچی سے درندگی کے خلاف لڑکوں نے آئی ٹی او چوک جام کئے رکھا۔ اب دہلی کے شہریوں کی زندگی کا یہ ٹریفک جام حصہ بن گیا ہے۔ حالانکہ ٹریفک پولیس نے ٹریفک کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے انتظامات کئے لیکن پھر بھی ان جام سے چھٹکارا نہیں مل رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ تو تب ہوتا ہے جب چوراہوں پر ٹریفک سگنل اور لائٹیں نہیں جلتیں۔ حیدر آباد انسٹی ٹیوٹ کا دعوی ہے کہ دہلی پولیس کے غیر ارادی فیصلوں کے سبب ہر سال نہ صرف تین ہزار کروڑ روپے برباد ہورہے ہیں بلکہ آلودگی میں بھی بھاری اضافہ ہورہا ہے۔ دہلی کی لال بتیوں پر سروے انسٹیٹیوٹ نے سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کو یہ رپورٹ سونپی ہے۔ بربادی کی وجہ لال بتیوں پر بے وجہ پیٹرول ، ڈیزل پھونکنا ہے۔ اس پرلگام ٹائمر لگا کر کیا جاسکتا ہے۔ 730 1لال بتیوں میں سے 1198 میں ٹائمر نہیں لگے ہوئے ہیں۔2006ء میں محض200 کروڑ روپے کی اسکیم پر مجوزہ لاگت بڑھ کر 1 ہزار کروڑ روپے پہنچ گئی وہیں اب تک گاڑیوں کے لال بتیوں پر اسٹاٹ رہنے سے اب تک15 ہزار کروڑ روپے کا ایندھن بیکار جل چکا ہے۔ لیکن ابھی تک کسی ایجنسی نے اس کی ذمہ داری نہیں لی۔ ٹائمر نہ لگے ہونے سے روزانہ قریب8 کروڑ روپے کا ایندھن بیکار ہوتاہے ۔ سال بھر میں اس کی اعدادو شمار 3 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے یعنی ریڈ لائٹ پر دیر تک کھڑا رہنے سے اتنے روپے کا دیش کو نقصان ہورہا ہے۔ ماہرین سفارش کرتے ہیں کہ اگر ریڈ لائٹ پر30 سیکنڈ سے زیادہ دیری ہوتی ہے توا پنی گاڑی کا انجن بند کرلیں۔ سروے کی بنیاد پر 37 ہزار کلو گرام سی این جی جلتی ہے۔1 لاکھ30 ہزار لیٹر ڈیزل اور 4 لاکھ10 ہزار لیٹر پیٹرول آئی ٹی او، دہلی گیٹ، شام لال کالج، آزاد پور جو زیادہ مصروف ترین علاقے ہیں ان میں ایندھن جلتا ہے۔جاموں کی بات کو چھوڑیئے دہلی این سی آر میں چل رہی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ان میں سے قریب82 فیصد گاڑیاں خراب ہیں اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے چل رہی ہیں۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ لال بتی پر سب سے آگے کھڑا آٹو گرین لائٹ ہونے پر بھی فوری طور پر اسٹارٹ نہیں ہوتا جام لگنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ یہ ہی نہیں انہیں چلانے والے زیادہ تر ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیوننگ لائسنس بھی نہیں ہیں۔ ایسوچیم کے ذریعے کرائے گئے سروے میں اس کا انکشاف ہوا ہے۔ دہلی میں چلتی بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی گینگ ریپ کے واقعے کے بعد یہ سروے کرایا گیا تھا ۔ اس کے تحت 200 گاڑیوں کی جانچ کی گئی اندازہ ہے کہ اس وقت دہلی میں65 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں ہیں۔65 ہزار آٹو روز دہلی میں دوڑتے ہیں۔ 5884 بسیں ہیں،4 ہزار گرامین سیوا دوڑتیں ہیں۔2 ہزار چارٹرڈ بسیں ہیں۔ راجدھانی میں حالانکہ دہلی سرکار نے درجنوں فلائی اوور بنائے ہوئے ہیں لیکن بڑھتی گاڑیوں کی تعداد نے ان کا پورا فائدہ نہیں ہونے دیا فائدہ تو ہوا لیکن اتنا نہیں۔اصل مسئلہ ہے روز نئی گاڑیوں کا بڑھنا۔ دہلی این سی آر میں اتنی سڑکیں نہیں ہیں جو اتنی گاڑیوں کو ٹھیک ٹھاک چلنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ان جاموں سے کوئی نجات نہیں ملنے والی ہے۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2013

سنجے کورعایت سے بالی ووڈ نے لی تھوڑی راحت کی سانس

اداکار سنجے دت کو فی الحال سپریم کورٹ سے تھوڑی راحت مل گئی ہے۔ انہیں خود سپردگی کرنے کے لئے چار ہفتے کا وقت دے دیا ہے۔ سنجے نے سرنڈر کرنے کے لئے 6 مہینے کا وقت مانگا تھا۔ حالانکہ عدالت نے صاف کیا کے اس کے بعدوقت نہیں بڑھایا جائے گا۔ سنجے دت کو سپریم کورٹ نے1993ء میں ہوئے بم دھماکوں میں ناجائز طور پر ہتھیار رکھنے کے جرم میں 5 سال قید مشقت کی سزا سنائی تھی۔ سنجے دت18 مہینے پہلے ہی جیل کاٹ چکے ہیں۔ بدھوار کو جیسے ہی جسٹس پی ست شیورام و بی ایس چوہان کی ڈویژن بنچ نے سنجے کی عرضی پر سماعت کے لئے غور کیا تو سنجے کے وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ صرف وہ رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ کسی آئینی اختیار کی دلیل نہیں ہے۔ بنچ نے سوال کیا کیا دت خصوصی عدالت کے فیصلے سے واقف نہیں تھے جس میں انہیں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔سنجے کی جو فلم ابھی ادھوری ہیں ان کا بجٹ 9278 کروڑ کے سرمائے کا ہے اگر وہ جیل جاتے ہیں تو وہ لٹک جائیں گی۔سی بی آئی کی جانب سے ایڈیشن سالیسٹر جنرل ہرین راول نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے چیف جسٹس التمش کبیر کی سربراہی والی بنچ کی طرف سے منگلوار کو تین قصورواروں کی عرضی خارج کئے جانے کے حکم کو بتایا۔بنچ نے جواب دیا کے سبھی معاملوں میں ایک ہی قاعدہ لاگوں نہیں کرسکتے اور یہ معاملہ اس معاملے پر منحصر کرتا ہے ۔سی بی آئی نے کہا کہ اداکار کی اپیل کو منظور کئے جانے سے اس طرح کی عرضیوں کی باڑ آجائے گی اور یہ21 مارچ کے فیصلے میں ترمیم کی طرح ہوگا۔ بنچ نے اس دلیل سے اتفاق جتاتے ہوئے کہا یہ کوئی ترمیم نہیں ہے۔ عدالت صرف وقت بڑھا رہی ہے۔ اب سنجے کو16 مئی تک سرنڈر کرنا ہوگا۔ فلم پروڈیوسر مہیش بھٹ کا کہنا ہے حالانکہ میں سنجے کے ساتھ کوئی فلم نہیں بنا رہا ہوں لیکن اس طرح ان پروڈیوسروں کو سپوٹ مل جائے گی جن کی فلموں میں سنجے ہے۔ ہم کو اور زیادہ ٹائم کی امید تھی لیکن کچھ نہیں سے کچھ تو ریلیف ملی۔سنجو کی پولیس گری کے پروڈیوسر ٹی پی اگروال کا کہنا ہے فی الحال ہمارا ڈبنگ کا کام بچا ہے اور ہم دو دنوں میں شوٹنگ شروع کریں گے۔ حالانکہ ہمیں فلموں کی پرموشن کے دوران ضروری سنجو کی کمی محسوس ہوگی لیکن پہلی ضرورت شوٹنگ مکمل کرنے کی ہے۔ سنجو کے ایک اور فلم ’ڈگلی‘ کے ڈائریکٹر ریسل ڈیسلوا نے کہا کہ ہم لوگ سنجو کی بھلائی کے لئے دعا کررہے ہیں۔وہ کوئی خطرناک کرمنل نہیں ہیں اور ہم ان کے ساتھ ایڈجسٹ کریں گے۔ سنجو کی اس وقت7 فلمیں ادھوری پڑی ہیں۔ ان میں سے کچھ چار ہفتوں میں پوری ہوسکتی ہیں لیکن باقی کا کیا ہوگا کہا نہیں جاسکتا۔ ہاں یہ تو ہے سنجے دت کو ایک بار جیل تو جانا ہی ہوگا۔ گورنر،صدر کا پتہ نہیں کے ان حالات میں وہ کوئی راحت دے سکتے ہیں؟ دونوں طرف کی دلیلیں آرہی ہیں۔ سنجے نے اپنی دلیل میں کہا انہوں نے سپریم کورٹ کے 21 مارچ کے حکم کے بعد کوئی فلم سائن نہیں کی لیکن پہلے ایگریمنٹ شدہ فلمیں ادھوری ہیں۔ اگر فلمیں پوری نہیں ہوتیں تو اس سے جڑے لوگوں کو بھاری نقصان ہوگا۔ ان فلموں کو پورا کرنے میں 196 دن کا وقت لگے گا ساتھ ہی یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سنجو اب سدھر گئے ہیں اور سماج سیوا کے پروگرام بھی کررہے ہیں۔ ان کے جیل جانے سے قریب900 کنبے متاثر ہوں گے جو دیہاڑی پر ان کی فلموں میں کام کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

پونٹی چڈھا قتل کانڈ میں چارج شیٹ داخل

سرخیوں میں چھائے 17 نومبر کو چھترپور کے ایک فارم ہاؤس میں شراب تاجر پونٹی چڈھا کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس فائرنگ میں ان کے چھوٹے بھائی ہردیپ چڈھا بھی مارے گئے تھے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ راجکمار کے سامنے جمعرات کو پولیس نے یہ فرد جرم داخل کرتے ہوئے کہا کہ جانچ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ پونٹی کی موت اور اس کے بھائی ہردیپ چڈھا کے ذریعے چلائی گئی گولی سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے جانچ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہردیپ چڈھا نے ہی پونٹی کے منیجر نریندر اہلاوت کوبری طرح سے زخمی کردیا تھا۔ ہردیپ کی موت اتراکھنڈ اقلیتی کمیشن کے برخاست چیئرمین ایس ایس نامدھاری اور ان کے سکیورٹی گارڈ سچن تیاگی کے ذریعے چلائی گولی سے ہوئی تھی۔ پولیس نے جانچ میں زخمی کرنے یا قتل کرنے کے معاملے میں کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کی بات سامنے نہیں آئی۔ اس سے پہلے پولیس نے گولی باری کے بعد ایک دوسرے معاملے میں نامدھاری اور تیاگی کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔انہیں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت ملزم بنایا گیا تھا۔ پولیس نے چارج شیٹ میں کہا پونٹی چڈھا ایک سازش کے تحت فارم ہاؤس پر قبضہ کرنے کے لئے نامدھاری کے ساتھ پہنچے تھے۔ ہردیپ نے پونٹی اہلاوت پر گولیاں چلائیں۔ اس کے جواب میں نامدھاری و اس کے ساتھیوں نے ہردیپ پر گولیاں چلادیں۔ ان کے درمیان پراپرٹی کا جھگڑا تھا۔ چارج شیٹ میں واقعہ کے بارے میں بتایا گیا پونٹی اور نامدھاری نے ہردیپ کے قبضے سے فارم ہاؤس لینے کی سازش رچی تھی۔ ہردیپ اس وقت موقعے پر پہنچا جب پونٹی کے آدمی متنازعہ پراپرٹی کا دروازہ کھول رہے تھے۔ ہردیپ نے اس آدمی اور پونٹی پر گولی چلائی اور بدلے میں نامدھاری اور اس کے پی ایس او تیاگی نے ہردیپ کو گولی ماری۔ اس چارج شیٹ سے پہلے کرائم برانچ نے اسی عدالت میں نامدھاری، سچن تیاگی، پونٹی چڈھا کے سکیورٹی منیجر نریندر اہلاوت سمیت22 لوگوں کے خلاف سنیچر کو ایک چارج شیٹ داخل کی۔ ان پر قتل کی کوشش اور سازش رچنے اور ثبوت مٹانے جیسے سنگین الزام لگائے گئے۔ اس معاملے میں 11 ملزم گرفتار ہوئے ہیں جبکہ معاملے میں ایک اور ملزم ستنام سنگھ ستے اور بلکار سنگھ ،باج سنگھ، ہردیال سنگھ، پرمویر سنگھ اور اندر پال ابھی بھی مفرور ہیں۔ ان کے خلاف ان ملزمان پر ہتھیار رکھنے کے قانون کے تحت معاملہ بنایا گیا ہے۔ پولیس نے 110 لوگوں کو اس سارے مقدمے میں گواہ بنایا ہے۔ پونٹی چڈھا و اس کے بھائی ہردیپ چڈھا قتل کانڈ میں پولیس نے بھلے ہی اپنی جانچ پوری کرلی ہو،عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہو مگر پولیس نے معاملے میں لاپروائی برتتے ہوئے مقدمے سے جڑے کئی اہم دستاویزوں کو ابھی تک عدالت کے سامنے نہیں پیش کیا۔سی جی ایم مکیش کمار نے اس سلسلے میں جانچ افسر کو نوٹس جاری کر جواب مانگا ہے۔ عدالت نے معاملے کی جانچ افسر کو اپنے جواب کے ساتھ ساتھ معاملے سے جڑے باقی دستاویز عدالت میں پیش کرنے کوکہا ہے۔
(انل نریندر)