Translater

07 ستمبر 2019

بھارت میں پولس میں کام کرنا آسان نہیں ہے

بھارت میں پولس میں کام کرنا آسان کام نہیں ہے خاص طور پر جب کوئی نچلے عہدے پر کام کر رہا ہو یہ بات ہندوستانی پولس سروس کے آئی پی ایس افسران کی نہیں بلکہ ان کے نیچے کام کرنے والے عام پولس والوں کی ہو رہی ہے جن کی ڈیوٹی کا نہ وقت متعین ہے نہ ہفتہ واری چھٹی ہے ۔یہ انکشاف اسٹیسٹ آف پولسنگ ان انڈیا 2019نامی رپورٹ میں سامنے آئی ہے جسے لوک نیتی ،کامن کاج اور سینٹر فار اسڈڈی آف ڈبلپینگ سوسائیٹیز نے مل کر گہرے سروے کے بعد کیا ہے جس میں پایا گیا ہے کہ کئی جرائم کے مقدمے صرف اس لئے نہیں درج ہوتے کیونکہ پولس کے پاس جاتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں ۔دیش میں پولس اصلاحات کے باوجود زیادہ تر پولس ملازم ڈیوٹی کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں اوسطا چودہ گھنٹے پولس والے اب ڈیوٹی کرتے ہیں یہ بات دیش کی 21ریاستوں میں کرائے گئے سروے سے سامنے آئی ہے ۔اس سروے میں قریب 118334پولس ملازمین سے پولس تھانوں اور قریب 10535پولس والوں کے رشتہ داروں کو اس میں شامل کیا گیا تھا ۔ہر دوسرا ملازم اوور ٹائم کو مجبور ہے ۔یومیہ 11سے 18گھنٹے ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے ۔24فیصدی پولس والے16گھنٹے کام کرتے ہیں ۔80فیصدی پولس ملازمین 8گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی کرتے ہیں رپورٹ کے مطابق دیش کے پولس تھانوں کا خستہ حال ہے ۔22ریاستوں میں کی گئی اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ قریب 70پولس تھانوں میں وائر لیس سسٹم نہیں ہے ۔اور 224تھانوں میں ٹیلی فون تک نہیں ہے ۔بارہ فیصد پولس والوں کا کہنا تھا کہ ان کے تھانوں میں پانی کا انتظام نہیں ہے ۔18فیصد کا کہنا تھا کہ ٹوائلٹ دستیاب نہیں ہے ۔پانچ میں سے ایک خاتون پولس ملازمہ نے بتایا کہ ہمارے لئے الگ ٹوائلٹ نہیں ہے چار میں اسے ایک نے کہا کہ تھانوں کے تحت جنسی اذیت شکایت کمیٹی نہیں ہے ۔رپورٹ میں پسماندہ طبقے اور اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے پولس والوں کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کو اپنے ساتھی کرمچاریوں سے امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔سروے کے مطابق تیار کردہ اس روپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ کام کے بوجھ کی وجہ سے ذہنی کشیدگی کا اثر پولس کرمچاریوں کے رویہ پر بھی ہو رہا ہے ۔دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں یہ رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس چلمیشور کے علاوہ ریاستی پولس اور سی آر پی ایف کے سابق ڈائرکٹر جنرل پرکاش سنگھ بھی شامل ہوئے تھے ہم آئے دن پولس کی نکتہ چینی تو کرتے ہیں لیکن کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ پولس والے کتنے مشکل حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں ۔

(انل نریندر)

چاند سے 35کلو میٹر دور چندر یان نچلے مدار میں پہنچا وکرم

قدم قدم چاند کی طرف بڑھتے بھارت کے چندریان 2-کے لینڈر وکرم نے اپنے مدار میں تبدیلی کا آخری پڑاﺅ بھی پورا کر لیا ہے اب یہ اپنے سفر کے سب سے قریبی مدار میں داخل ہو گیا ہے ۔پیر کو آربی ٹیٹر سے الگ ہونے کے بعد اس کے مدار میں بدھ کو دوسری مرتبہ تبدیلی کی گئی اس کارروائی کو ڈی آر بنگ کہا جا تا ہے ۔چاند پر چندریان ٹو کی سافٹ وینڈنگ کے ذریعہ بھارت اپنی تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرے گا ۔اب تک امریکہ ،روس اور چین،ایسا کر چکے ہیں ۔بھارت نے وکرم لینڈر کو اتارنے کے لئے چاند کے دو کریٹر سمپیلیس اینڈ میگنیز مینجنز سی کے درمیان نو کلو میٹر لمبے یکساں میدان کو چنا ۔چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات میں چاند کے ساﺅتھ پول میں واقع اس میدان میں چندریان کو اتارا جائے گا یہ خلائی گاڑی کو چاند کے ساﺅتھ پول پر 65ڈگری سے 90ڈگری پر اتارا جانا ہے اس مناسب جگہ کا انتخاب بڑی چنوتی ہے ۔اس کے لئے تکنیکی اور آئینی کسوٹیاں بنائی گئیں ۔اس کی بنیاد پر وکرم شٹل کے لئے چاند کی زمین پر اترتے وقت پیش آنے والے تین بڑے خطرے پہچانے گئے ۔وکرم کے لئے پندرہ ڈگری سے کم ڈھلان والی جگہ کو چنا جائے گا زیادہ ڈھلان ہونے پر اترتے وقت توازن بنانا مشکل ہو سکتا ہے وکرم کو اترنے کی جگہ پر 0.5میٹر سے بڑے اور 32سینٹی میٹر سے اونچے بولڈر نہ ہونے چائیں۔ ایسا ہوا تو وہ لینڈنگ میں رکاوٹ بننے کے ساتھ توازن بگاڑ سکتے ہیں ۔کسی بڑی چٹان پہاڑ یا اونچی جگہ کے سانچے سے بھی وکرم کو بچانا ہوگا کوشش کی جائے گی کہ اسے زیادہ سے زیادہ وقت سورج کی روشنی ملے اس سے مشن کی عمر بڑھے گی جسے کم سے کم چاند کے ایک دن (یعنی ہمارے چودہ دن)رکھنے کا ٹارگیٹ ہے ۔ساﺅتھ پول پر لینڈنگ کی ایک وجہ مشن کی لائٹ بڑھانا بھی تھی کیونکہ پول پر سورج کی روشنی زیادہ وقت تک رہتی ہے ۔دیش کا دوسرا اہم ترین چاند مشن چندریان ٹو چاند پر تاریخی قدم رکھنے سے اب کچھ ہی قدم دور ہے ۔جب تک قارئین یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہوں تب چندریان چاند پر اتر چکا ہوگا ۔چندریان ٹو کا لینڈر وکرم بدھ کی صبح اندھیرے 3بج کر 42منٹ پر چاند کے نچلے مدار میں پہنچ گیا اسرو نے بتایا کہ وکرم کا چاند کی سب سے نزدیکی مدار 35گنا 101کلو میٹر کے دائرے میں لے جانے کا کام کامیابی کے ساتھ اور پہلے سے طے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے اب اگلے تین دن تک وکرم اسی مدار میں چکر لگاتا رہے گا ۔اسرو کے مطابق وکرم اور اس کے اندر موجود رور اعلیٰ طے اسکیم کے مطابق سات ستمبر کی صبح رات ایک سے دو بجے چاند کی سطح پر اترنے کا کام شروع کر دے گا ۔6ستمبر درمیانی رات کے بعد تاریخ رقم کر دے گا ۔

(انل نریندر)

06 ستمبر 2019

ہندوستانیوں کے سوئس کھاتوں پر سے پردہ اٹھنے کا امکان

آخر کار بھارت اور سوئیزر لینڈ کے درمیان بینکنگ اطلاعات کے ازخود تبادلے کے معاہدے کے یکم ستمبر سے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی سوئس بینکوں میں جمع ہندوستانی شہریوں کی بلیک منی کی معلومات ملنی شروع ہو جائیں گی ۔سوئس بینکوں کے کھاتوں کے معمہ پر پڑے پردہ اٹھنے کا امکان ہے ۔غیر ملکی بینکوں کھاتہ کھول کر غیر قانونی طریقہ سے پیسہ جمع کرانے والے لوگوں کے ناموں کا پتہ لگانے اور اس پیسے کو بھارت واپس لانے کی مانگ برسوں سے اُٹھتی رہی ہے ۔اب امید کی جاسکتی ہے کہ یہ پتہ چل سکے گا کہ کن کن ہندوستانیوں کے کتنے پیسے کہاں جمع ہیں جن لوگوں نے پچھلے سال وہاں اپنے کھاتے بند کر ا لئے تھے وہ بھی اس سسٹم کے تحت بچ نہیں پائیں گے چونکہ ان کی معلومات بھی بھارت سرکار کو مل جائے گی ۔سی بی ڈی ٹی نے اسے اہم کامیابی بتایا ہے اور کہنا ہے کہ اب سوئس بینک سے وابسطہ خفتگی کا دور ختم ہو جائے گا ۔حالانکہ سوئیز بینک میں ہندوستانی شہریوں کے کھاتوں کی جانکاری حاصل کرنے کے لئے کافی عرصہ سے کوششیں جاری تھیں ان بینکوں کے قاعدوں کے مطابق اس کے اکاﺅنٹ ہولڈروں کے بارے میں معلومات شئیر نہیں کی جا سکتی یہاں تک کہ وہاں کی سرکار بھی اس پر ایسا کرنے کا دباﺅ نہیں ڈال سکتی ۔لیکن سوئیزر لینڈ سرکار نے بلیک منی کے مسئلے کو سنگین مانتے ہوئے قواعد میں تبدیلی کر بینک اطلاعات کے تبادلے کی کارروائی کا راستہ کھول دیا ہے ۔بلیک منی کے خلاف لڑائی کو اس قدم کو کافی اہم مانا جا رہا ہے لیکن سوئس بینک کی جانب سے اپنے کام کاج میں شفافیت لانے کی کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اسی برس سوئس حکومت نے بلیک منی رکھنے والے درجنوں ہندوستانی کاروباریوں کے نام اجاگر کئے تھے اور انہیں نوٹس بھی بھیجا تھا ۔حالانکہ بھارت سرکار کے ذریعہ مالی لیپہ پوتی سے متعلق گڑبڑی سے ثبوت پیش کرنے پر سوئس سرکار وہاں ہندوستانیوں کے بینک کھاتے کی تفصیل دیتی تھی لیکن اس نئے نظام کے بعد یہ اطلاع اس کے پاس خود پہنچ جائے گی ۔در اصل سوئیزر لینڈ سمیت کئی ملکوں کے بینکوں میں کھاتہ کھولنا بہت آسان ہے کسی بھی دیش کا کوئی بھی شہری آن لائن کھاتہ کھول سکتا ہے ۔یہ بینک اپنے گراہنکوں کے نام پتہ وغیرہ کو خفیہ رکھتے ہیں وہاں کی حکومتوں نے بھی ان بینکوں کو یہ آزادی دی ہے اس لئے دنیا کے تمام دیش ایسے لوگوں کے لئے یہ بینک اپنا کالا پیسہ چھپانے کا سب سے بڑا ٹھکانہ بنتے گئے بھارت کے کرپٹ افسران اور سیاستدانوں کاروباریوں وغیر ہ کے لئے بھی یہ بینک ایک طرح سے محفوظ تجوری ثابت ہوتے ہیں ۔مودی سرکار کرپشن پر پوری طرح روک لگانے کے لئے عہد بند ہے اس لئے چوری اور رشوت وغیرہ سے جمع پیسہ بیرون ملک بھیجنے والوں پر سخت قدم اُٹھانے کی امید فطری ہے ۔

(انل نریندر)

اپائے یعنی اڑتا ٹینک ائیر فورس میں شامل

دنیا کے سب سے طاقتور اور جدید اے ایچ64-ای اپائے ہیلی کاپٹر ملنے سے دینا کی چوتھی سب سے طاقتور ائیر فورس ،انڈین ائیر فورس کی طاقت اور بڑھ گئی ہے ائیر فورس چیف مارشل بی ایس دھنوا کی موجودگی میں پٹھان کوٹ میں ائیر فورس کے بیڑے نے آٹھ جدید اے ایچ 64ای جنگی ہیلی کاپٹر شامل ہوئے ہیں اپائے ہیلی کاپٹر دنیا کے سب سے خطرناک کثیر الکردار ہیلی کاپٹر ہے ۔اس میں ہائی کوالٹی نائیٹ ویژن سسٹم ہونے سے یہ دشمن کو اندھیرے میں بھی ڈھونڈ لیتا ہے ۔ایک منٹ میں بارہ سو 88نشانے لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس میں 16اینٹی ٹینک اے جی ایم 114ہیل فائیر اور اسٹنگر میزائل ہے ہیر فائر ٹینک ،توپ،بی ایم پی گاڑیوں کو سنکڈ بھر میں تباہ کر سکتی ہے اس کے علاوہ ہائیڈرا 70-انرا ئیڈیڈ میزائلیں بھی لگی ہیں یہ 1200راﺅنڈ والی 30ایم ایم مین گن اور فائیر کنٹرول راڈار سے لیس ہیں 360ڈگری کوریج کے لئے نوز ماﺅٹیڈ سینسر ہیں ماڈرن الیکٹرانک سسٹم کی وجہ سے سب سے ڈیبلپ جنگی ہیلی کاپٹر مانا جاتا ہے ۔امریکہ نے عراق کے خلاف 1991 میں اور افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں اس کی مدد لی تھی اسامہ بن لادین کے خلاف کارروائی میں بھی امریکہ نے اسی کا استعمال کیا تھا ۔ بھارت اپائے استعمال کرنے والا دنیا کا 14واں دیش ہوگا ۔امریکہ،اسرائیل، جاپان ،مصر،نیدرلینڈ،قویت،قطر،سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کی ائیر فورس میں قریب 2200 اپائے ہیلی کاپٹر تعینات ہیں ۔یہ ہیلی کاپٹر صرف ہلہ بولنے کا کام ہی نہیں کرتا بلکہ جنگی جگہ کی تصویریں کھینچ کر بھی اپنی ائیر بیس پر واپس بھیج دیتا ہے۔انڈین ائیر فورس نے روس کے بنے پرانے ایم آئی 36ہیلی کاپٹروں کی جگہ لینے والا اپائے ایک مکمل جنگی مشین ہے ۔جس کی ضرورت انڈین ائیر فورس کو کافی پہلے سے تھی حالت یہ ہے کہ تھوڑے دن پہلے خود ائیر فورس کے چیف بی ایس دھنوا نے یاد دلایا تھا کہ ان کے جانباز آج بھی 40سال پرانے مگ جنگی جہاز اُڑا رہے ہیں ۔سرد جنگ کے دنوں کا یہ روسی جنگی جہاز اپنی اہمیت کو ختم کر چکا ہے جس سے حادثوں کے سبب اسے اڑتا ہوا تابوت سے نوازہ جا چکا ہے ۔دوسری طرف اپاے ہیلی کاپٹر دہشتگردی سے بھرے چنوتی کے دور میں عراق اور افغانستان میں بے حد کارگر ثابت ہوئے ہیں لہذا مغربی سرحد کی پیچیدہ چنوتیوں اور سرحد پر دہشتگردی کے مسئلے پر اپائے ہیلی کاپٹروں کی بھارت کے لئے ایک خاص اہمیت ہے ۔پلوامہ میں اسی برس سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے آتنکی حملے کے بعد بھارت کے جنگی جہازوں نے سرحد پار جا کر بالا کوٹ میں آتنکی کیمپوں پر حملہ کر کے انہیں کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا تھا ۔اس وقت ہندوستانی فضایہ کی جنگی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی اب اپاے کے آنے سے سرحد کے قریب پیچیدہ پہاڑیوں میں آتنکی کیمپوں پر کارروائی کو کارگر ڈھنگ سے انجام دیا جا سکے گا ۔اپاے ہیلی کاپٹر جنگی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے جسے اُڑتا ٹینک بھی کہا جا سکتا ہے ۔جیسا بھی موسم ہو دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کر سکتا ہے اپاے کے آنے سے اور تھوڑے دنوں میں رفائیل جنگی جہاز کے ائیر فورس میں شامل ہونے سے بھارت کی فوجی پوزیشن مضبوط ہوگی ۔ایک اور بات ہے کہ ابھی تک ہم روسی فوجی ہتھیاروں پر منحصر تھے ۔اب امریکہ نے بھی ہمارے لئے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں ۔مودی سرکار کی دونوں محاظ پر ایک قابل قدر کامیابی ہے ۔اپاے ہیلی کاپٹر کے آنے سے ہم چین اور پاکستان دونوں محاز پر مضبوط ہوئے ہیں ۔

(انل نریندر)

05 ستمبر 2019

تینوں ریاستوں میں چناوی تیاریوں میں لگی بھاجپا اور کانگریس

 اس سال کے آخیر میںتین ریاستوں جھارکھنڈ،مہاراشٹر و ہریانہ اسمبلی کے چناﺅں کی تیاروں میں بھاجپا کانگریس لگ گئی ہیں ۔اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کا اہم چناوی چہرہ ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی ہی ہونگے۔پی ایم مودی کی ڈھائی درجن چناوی ریلیوں کا حساب کتاب بنایا جا رہا ہے معلوم ہواہے کہ جھارکھنڈ و مہاراشٹر میں مودی کی زیادہ ریلیا ں ہوںگی ۔جبکہ ہر یانہ پردیش سے بھی چناﺅی تیاریوں کی رپورٹ مانگی گئی ہے ۔سال کے آخر میں تینوں ریاستوں میں ہونے جا رہے چناﺅ میں ریاستی سرکاروں کے ذریعہ کاموں کے علاوہ جموں و کشمیر میں 370ہٹانے کا بڑا اشو ہوگا ہر ریاست میں بھاجپا کی الگ حکمت عملی ہوگی بھاجپا کا دعوی ہے کہ دفعہ370کے خاتمے کو لے کر دیش بھر میں زبردست ماحول ہے لوگ اسے دیش کی قوت اور اتحاد کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔مرکزی نیتا اپنی چناﺅ مہم میں اسے سب سے اوپررکھیں گے مہاراشٹر میں شیو سینا کے ساتھ اتحاد اور بکھری کانگریس و این سی پی کو دیکھتے ہوئے بھاجپا کو زیادہ دقت محسوس نہیں ہو رہی ہے ۔ہریانہ میں بھی سماجی تجزیہ بھاجپا کے حق میں ہیں ۔جھارکھنڈ میں بھی اگر اپوزیشن متحد ہوئی تو مقابلہ سخت ہوگا ایسے میں بھاجپا ہائی کمان تینوں ریاستوں کے لئے الگ الگ طرح کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے ۔وہیں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی آنے والے اسمبلی چناﺅ میں پارٹی کی تیاریوں کو تیز رفتار دینے کی کوشش شروع کر دی ہے ۔سونیا نے مہاراشٹر میں پارٹی نیتاﺅں سے کہا ہے کہ صوبے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ساتھ سیٹوں کے بٹوارے کو جلد قطعی شکل دی جائے گی۔وہیں جھارکھنڈ کے نیتاﺅں سے رائے شماری کے بعد پردیش میں نئی کانگریس لیڈر شپ کے مسئلے کو بھی سلجھانے کا دعوی کیا ہے ایسے اشارے ملے ہیں کہ صوبے کے نئے پردیش صدر کے ساتھ چار نگراں صدور کا نام بھی طے کیا جا سکتا ہے ۔مہارشٹر ،ہریانہ اور جھارکھنڈ میں کبھی کانگریس کی حکومت کا پرچم لہراتا تھا اب بھاجپا کا لہرا رہا ہے ۔کانگریس اقتدار میں واپسی کی امید لگائے ہوئے ہے لیکن کانگریس کے ہر صوبے میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے ۔ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں تو سینر لیڈر ناراضگی دکھا رہے ہیں ایسے میں پارٹی کو متحد کر کے بھاجپا کا سامنا کرنا بہت مشکل کام ہے سونیا گاندھی پورا زور لگا رہی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ان ریاستوں میں اسمبلی چناﺅ میں کانگریس کتنی یک جہتی سے لڑ پاتی ہے ۔

(انل نریندر)

سرکار کے فیصلوں سے بحران میں دیش کی معیشت

سابق وزیر اعظم و نامور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دیش کی معیشت پر سخت رائے زنی کی ہے ۔انہوںنے ترقی شرح پانچ سال کی سب سے بڑی گراوٹ کو لے کر مودی سرکار پر تلخ نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی حالت بے حد باعث تشویش ہے ۔جی ڈی پی ترقی محض پانچ فیصدی تک محدود رہنا سستی کے لمبے عرصے تک بنے رہنے کے اشارے ہیں بھارت میں تیزی سے اضافے کے امکانات ہیں لیکن سرکار کے بد انتظامی کی وجہ سے معاشی سستی آگئی ہے ۔سابق وزیر اعظم نے اس کے لئے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو ذمہ دار ٹہرایا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار بدلے کی سیاست بند کر کے اچھے لوگوں سے صلاح سے مسٹر سنگھ نے کہا کہ جی ڈی پی ترقی میں گراوٹ دکھاتی ہے کہ معیشت مندی کے بھنور میں پھنس گئی ہے ۔گھریلو مانگ میں نرمی ہے ۔کھپت 18مہینوں میں سب سے نچلے سطح پر ہے ۔ٹیکس محصول اضافہ بہت کم ہے ۔ٹیکس ذخیرہ گھٹا ہے سرمایہ کاروں میں خدشہ سے اقتصادی سستی سے نکلنا مشکل نہیں ہے ۔سابق وزیر اعظم نے سرکار پر اداروں کو برباد کرنے اور ان کی مختاری ختم کرنے کا بھی الزام لگایا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار ریزرو بینک سے 1.76لاکھ کروڑ روپئے تو لے لی ہے لیکن اس کے سلسلے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ایسے میں اتنی بڑی رقم سرکار کو دینے کے بعد مشکل سے نکل پانے کی ریزرو بینک کی صلاحیت کا بھی امتحان ہوگا ۔ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ میں سرکار سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بدلے کی سیاست چھوڑے اور سبھی دانشوروں ماہر اقتصادیات کا تعاون لے کر ہماری معیشت کو بحران سے باہر نکالے۔اقتصادی ترقی شرح ڈھلان کی نچلی سطح پر پہنچنے کے بعد اب دیش کی اہم ترین صنعت کی ترقی شرح بھی ایک سال میں گھٹ کر ایک تہائی کم ہو گئی ہے ۔جولائی میں آٹھ بڑی صنعتوں کی اضافی شرح گھٹ کر 2.1فیصدی سطح پر رہ گئی ہے پچھلے سال جولائی میں یہ 7.3فیصدی تھی پیر کو جاری اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان آٹھ بڑی صنعتوں میں کوئلہ ،کچا تیل ،قدرتی گیس ،ریفائنری ،کھاد،فولاد،سیمنٹ،اور بجلی آتی ہے ۔ان صنعتوں میں پیداوار میں 14.27فیصدی کا اشتراک ہوتا ہے ۔جولائی میں کوئلہ ،کچا تیل،قدرتی گیس،اور ریفائنری مصنوعات میں کمی درج کی گئی ہے دوسری طرف بھاجپا نے دیش کی اقتصادی حالت مشکل میں ہونے کے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوںنے اپنے دس سال کے عہد میں کرپشن اور بھائی بھتیجا واد کے سبب معیشت کو گہرا نقصان پہنچایا ہے ۔کیونکہ مودی سرکار کے دوران معیشت کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے اور دنیا میں دیش کا بھروسہ قائم ہوا ہے بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ یو پی اے سرکار کے دس برسوں کے طویل کال کھنڈ میں بھارت کو جس طرح آگے بڑھنا چاہیے تھا وہ آگے نہیں بڑھا ۔

(انل نریندر)

04 ستمبر 2019

نئے ٹریفک قواعد میں خلاف ورزی کےلئے جرمانہ رقم ؟

دہلی کی سڑکوں پر ویسے تو ٹریفک پولس والے روز ہی ٹریفک قوانین توڑنے والوں کا چالان کاٹتے ہیں ۔لیکن اتوار کو نظارا کچھ الگ ہی دکھائی دے رہا تھا کہیں پر کوئی جہاں ٹریفک پولس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر چھوڑ دینے کی گزارش کر رہا تھا تو کوئی کان پکڑ کر معافی مانگتے ہوئے وعدہ کر رہا تھا کہ آگے سے کبھی رول نہیں توڑوں گا کوئی سالگرہ تقریب میں جانے کی جلد بازی میں ہیلمیٹ بھول جانے کا حوالہ دے رہا تھا تو کوئی نئے قواعد کی جانکاری نہ ہونے کی بات کہہ کر ایک مرتبہ موقعہ دینے کی التجا کر رہا تھا ۔یہ اثر تھا اس بڑے جرمانے کا جو اتوار یکم ستمبر سے نافذ ہو گیا ۔ترمیم موٹر گاڑی ایکٹ میں ریڈ لائٹ سگنل کراس کرنے پر ایک ہزار روپئے اور نشے میں گاڑی چلانے پر دس ہزار روپیہ جرمانہ ہوگا اور نئے ترمیم شدہ جرمانہ کی رقم پانچ سے دس گنہ تک بڑھ گئی ہے اسی وجہ سے پہلے جو لوگ سو روپئے کا چالان کٹوا کر چلتے بنتے تھے اب جب انہیں ایک ہزار روپئے کا چالان کٹوانا پڑ رہا ہے تو ان کے پسینے چھوٹنا فطر ی ہے ۔دہلی سرکار کے حکم کے مطابق دہلی ٹریفک پولس نے اتوار سے نئے قواعد کے حساب سے چالان کاٹنا تو شروع کر دیا ہے لیکن چونکہ ابھی ٹرانسپورٹ محکمہ کی طرف سے کچھ ضروری خانہ پوری ہونا باقی ہیں اس لئے ٹریفک پولس جرمانہ کی رقم موقعہ پر نہیں وصول رہی ہے بلکہ کورٹ کے چالان کاٹ رہی ہے ۔مسافر اب ٹرانسپورٹ محکمہ کی طرف سے نیا فرمان جاری ہونے تک دہلی میں جتنے بھی لوگوں کے ٹریفک چالان کٹیں گے ان سبھی کو جرمانہ بھرنے کورٹ جانا پڑے گا اس کے بعد ہی چالان جمع ہو پائے گا نئے ٹریفک قواعد پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔مغربی بنگال ،مدھیہ پردیش،راجستھان جیسے غیر بی جے پی ریاستوں نے ٹریفک قواعد ٹوٹنے پر دس گنا تک بڑھے جرمانے پر سوال کھڑے کئے ہیں ۔بنگال اور مدھیہ پردیش نے بڑے جرمانے کو نافذ کرنے سے منع کر دیا ہے ۔راجستھان حکومت نے کہا ہے کہ ہم نے قانون تو نافذ کر دیا ہے لیکن جرمانہ کی رقم پر نظر ثانی کریں گے ۔مدھیہ پردیش کے وزیر قانون پی سی شرما نے کہا کہ بغیر ہیلمیٹ کے اسکوٹر یا موٹر سائیکل چلانے پر پانچ ہزار روپئے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے ۔اور اسے نہ چکانے پر کتنے لوگوں کو جیل میں ڈالیں گے ؟پہلے لوگوں کو نئے قواعد کے بارے میں بتائیں پھر اسے نافذ کریں ۔لیکن ہمارا خیال ہے کہ جرمانہ لوگوں کی وسعت کے حساب سے ہونا چاہیے مندی کے اس دور میں بہت سے لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہے ایسے میں اس پر اتنا بھاری جرمانہ لگائیں گے تو وہ گاڑی کیسے چھڑا پائے گا ؟ٹریفک قواعد توڑنے والوں پر جرمانہ تو ہونا چاہیے یہ رقم بہت زیادہ ہے ،اسے کم کرنا چاہیے۔

(انل نریندر)

ایجنسیوں کے نشانے پر اپوزیشن لیڈر!

اپوزیشن پر سرکاری ایجنسیوں کا شکنجہ کستا جا رہا ہے ۔کانگریس سے لے کر ترنمول کانگریس،پوار خاندان سے لے کر اعظم خاں پر ایجنسیاں کارروائی تیز کر رہی ہیں ۔ہریا نہ کانگریس میں لیڈر شپ کی لڑائی میں الجھے سابق وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا کی مشکلیں بڑ ھتی جا رہی ہیں ۔انفورسمینٹ ڈاریکٹریٹ نے پنچ کلہ میں صنعتی پلاٹ الاٹ مینٹ معا ملے میں ان سبھی چودہ پلاٹوں کو پر کر دیا جنہیں انہوںنے اپنے رشتہ داروں ملنے والے لوگوں اور اثر دار شخصیتوں کو دئے تھے ۔تیس کروڑ چالیس لاکھ روپئے قیمت کے یہ پلاٹ منی لانڈرنگ معاملے میں پر کئے گئے ہیں ۔دوسری طرف کانگریس کے سینر لیڈر اور سونیا گاندھی کے قریبی احمد پٹیل کو ایک مبینہ طور سے ان کی کمپنی کے ذریعہ کی گئی جعلسازی کے معاملے میں ای ڈی نے ان سے تیسری مرتبہ پوچھ تاچھ کی اس معاملے میں کھاتہ اور قانون سے وابسطہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سارا معاملہ احمد پٹیل کے بیٹے فیصل پٹیل کی کمپنی اسٹرلنگ بائیوٹیک سے جڑا ہے ۔جس نے جانے مانے آندھرا بینک کی قیادت والی بینکوں کے ایک گروپ سے پانچ ہزار کروڑ روپئے کا قرضہ لیا تھا یہ قرضہ پوری طرح تصدیق کے بعد دیا گیا تھا اور جب کمپنی نے باقاعدہ طے وقت پر قرض نہیں چکایا تو یہ ایم پی اے میں تبدیل ہو گیا اس قرضے کو اب 8100کروڑ روپئے بتایا جا رہا ہے سی بی آئی سے ملی جانکاری کی بنیاد پر کمپنی پر دھوکہ دھڑی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ادھر سی بی آئی نے نارد اسٹنگ آپریشن معاملے میں ترنمول کانگریس کے ایک سابق ایم پی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے رابطہ قائم کیا ہے ۔ایجنسی نے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے تین ایم پی سوغات رائے ،کاکولی گھوش،اور پرسون بنرجی پر مقدمہ چلانے کی منظوری مانگی ہے ۔تو اگر یہ دی جاتی ہے تو چاروں لیڈروں کا نام ایجنسی کی چارج شیٹ میں رکھے جا سکتے ہیں ۔حکام نے کہا نارد اسٹنگ کا معاملہ ترنمول کے کچھ نیتاﺅں اور مغربی بنگال کے افسروں سے جڑا ہے ۔جسے ایک پرائیوٹ کمپنی کا نمائندہ بتانے والے صحافی سے پیسے لیتے ہوئے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا تھا ۔کولکاتہ ہائی کورٹ کے حکم پر تقریبا ایک مہینے کی ابتدائی جانچ کے بعد 16اپریل 2017کو سی بی آئی کی ایف آئی آر میں سبھی چار نیتاﺅں کو ملزم بنایا گیا تھا ۔سابق وزیر خزانہ چدمبرم اس وقت سی بی آئی حراست میں ہیں ۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی اے جی ایل کیس میں ضمانت پر ہیں ۔ہڈا کے ساتھ رابرٹ واڈرا بھی زد میں آچکے ہیں ۔مہاراشٹر کے مشہور کاپریٹو بینک گھوٹالہ معاملہ میں ممبئی پولس نے بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نیتا اجیت پوار اور دیگر 76لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے ۔یہ ایف آئی آر ممبئی پولس کی معاشیاتی برانچ نے درج کی ہے ۔کسانوں کی زمین ہتھیانے کے الزام میں پہلے ہی سپا کے سینر لیڈر اعظم خاں مشکل میں ہیں ۔ان پر اب ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان پر ساٹھ مقدمے پہلے سے درج ہیں ۔ڈکیتی کی رپورٹ رامپور شہر کی کوتوالی میں محلہ گھوسیان کے باشندے ننھے نے یہ رپورٹ درج کرائی ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ 15اکتوبر 2016کو اس وقت کے سی او سٹی اے جے حسن خان اور ایس او جی سپاہی دھرمیندر ٹھیکیدار اسلام بریندر گوپال فصاحت علی خان عرف شانوان کے گھر پر بھاری پولس فورس کے ساتھ آئے اور ان کی یہ جگہ اعظم خان نے لے لی ہے ۔اور یہ کہا کہ اس کو فورا خالی کرو اپوزیشن کا سرکار پر الزام ہے کہ وہ چن چن کر اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ پر لے رہی ہے ۔سرکاری ایجنسیوں کا بے جا استعمال ہو رہا ہے وہیں سرکار کا کہنا ہے کہ اس سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں قانون اپنا کام رہا ہے قانون سے اوپر کوئی نہیں چاہے وہ کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو ؟

(انل نریندر)

01 ستمبر 2019

غزنوی میزائل تجربے سے پاک کے کئی نشانوں کی کوشش

جموں و کشمیر میں دفعہ370سے پیدا ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان کے درمیان جمعرات کو نیو کلیائی ہتھیار کو لے جانے میں اہل بیلسٹک میزائل غزنوی (ہطف3)کا تجربہ کر بھارت کو ڈرانے کی کوشش کی ہے یہ میزائل چین کے ایم 11میزائل کا پاکستانی ایڈیشن ہے۔جو 290کلو میٹر دوری تک مار کر سکتی ہے ۔پاکستان نے ایک دن پہلے ہی بدھ کے روز کراچی ہوائی زون کی تین اڑان راستوں کو 31اگست تک بند کر دیا تھا جس سے امکانی میزائل تجربہ کی قیاس آرائیاں جاری تھیں ۔غزنوی میزائل تجربہ کے ذریعہ پاکستان ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے ۔کشیدگی بھرے ماحول کے درمیان پاکستان نے عالمی براردی اور اپنے عوام کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں جہاں اپنے ساری میزائلوں کے نام پرتھوی ،اگنی،اور ترشول جیسے قدرتی اور ہندوستانی کلچر سے وابسطہ مثبت نام رکھے ہیں وہیں پاکستان نے زیادہ میزائلوں کے نام جارحیت پسندوں کے نام پر رکھے ہیں ۔ترکی فتح کرنے والے غزنوی شہر کے محمود غزنوی 998عیسوئی میں اپنے والد کا جانشین بنا اس کا نام ہندوستان پر حملہ کرنے والے ان جارحیت پسندوں میں سے ہے جنہوں نے حملے کئے غزنوی نے سن1000-1027عیسوئی میں 17بار بھارت پر حملے کئے غوری :محمود غزنوی کے بعد محمد غوری نے بھارت پر حملہ کیا بھارت نے ترک حکومت کو سہرا محمد غوری کو دیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ 1191عیسوئی میں تہران کی پہلی جنگ میں پرتھوی راج نے غوری کو ہرایا تھا ۔1192میں تہرائین کی دوسری جنگ میں پرتھوی راج چوہان کو دھوکہ سے قیدی بنایا تھا ۔بابر :ظہیر الدین محمد بابر نے 1502میں کابل پر جیت حاصل کی تھی ابراہیم لودھی کے ذریعہ قائم دہلی سلطنت پر 1519میں حملہ کر دیا لودہی کو پہلی لڑائی میں ہرا دیا ۔بابر پانی پت کی لڑائی جیتنے سے پہلے بھارت پر چار مرتبہ حملہ کر چکا تھا ۔ابدالی :احمد شاہ ابدالی نے بھارت پر 1748سے 1759تک کئی بار حملہ کیا ۔اس نے سب سے بڑا حملہ سن 1757میں جنوری میں دہلی پر کیا ابدالی نے دہلی اور متھرا میں ایسی تباہی مچائی کہ آگرہ دہلی سڑک پر ایک بھی ایک جھونپڑی ایسی نہیں بچی تھی جس میں ایک بھی آدمی زندہ بچا ہو غزنوی میزائل کا ایک بھی تجربہ پاک فوج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے نہیں کیا گیا ہے ۔بلکہ جنگ کی اسی مہم کا حصہ ہے جسے پاکستان نے بھارت کے خلاف چھیڑ رکھا ہے ۔جب کوئی دیش جنگ کا ماحول بناتا ہے تو اسے بار بار اپنا جزبہ دکھانا پڑتا ہے پھر وہ جنگ کے لئے کسی بھی صورتحال حال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔بھارت کو اس تجربہ سے کوئی چنتا نہیں کیونکہ ہم پاکستان کو منھ توڑ جواب دینے میں پوری طرح اہل ہیں ۔

(انل نریندر)

کرپشن پر مودی سرکار کا زیرہ ٹالرینس

وزیر اعظم نریندر مودی کا کرپشن کے خلاف زیرہ ٹالرینس کی پالیسی کے تحت ٹیکس محکمہ کے 22اعلیٰ افسران پر بجلی گری ہے بھلے ہی یہ اپنے آپ میں بہت بڑا فیصلہ نہ ہو لیکن اس سے ہماری امید بڑھی ہے کہ دیش میں کرپشن ختم کرنے میں سرکار ٹھوس قدم اُٹھائے گی سینٹرل ایکسائز اینڈ کسٹمس نے کرپشن پر اہم قاعدہ 56(جے)کے تحت سی بی آئی سی نے اسپیکٹر سطح کے 22افسران کو کرپشن اور دیگر الزامات میں سروس سے ریٹائرڈ کر دیا ہے ۔سی بی آئی سی عالمی سطح پر جی ایس ٹی اور درآمد ٹیکس ذخیرہ کی نگرانی کرتی ہے اس سال جون سے تیسری مرتبہ کرپٹ افسران پر کارروائی کی گئی ہے واضح ہو کہ وزیر اعظم نے یوم آزادی پر اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کے کچھ بد عنوان افسران نے اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ایماندار ٹیکس دہندگان کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ان حکام میں سے دہلی بھی کا ایک بھی ٹیکس افسر شامل ہے جو جی ایس ٹی آفس میں تھا یہ افسر پچھلے سال 1200گرام کی دس سونے کی اینٹ کی ناجائز اسمگلنگ میں پکڑا گیا تھا وہ اس سونے کو دبئی بھیج رہا تھا اس کے علاوہ گیارہ ناگپور اور بھوپال زون کے ہیں ۔انہوںنے اندور کی ایک سگریٹ کمپنی بنانے کو منظوری دی تھی اس کے علاوہ چنئی ،کولکاتہ ،میرٹھ،چنڈی گڑھ،زون کے ایک ایک اور ممبئی جے پور،بینگلورو کے دو دو افسر ریٹائر کے گئے ہیں اس کے علاوہ 2003میں بینگلورو کے افسر غیر قانونی طریقہ سے موبائل فون اور کمپیوٹر کے پرزے اسمگلنگ کرتے وقت بینگلورو انٹر نیشنل ہوائی اڈے سے پکڑا گیا تھا ان چیزوں کو محکمہ محصول خفیہ نے ضبط کیا تھا ۔اس طرح اب تک 27افسروں پر کارروائی ہو چکی ہے اس سے پہلے ہندوستانی محصول سروس کے 27اعلیٰ افسران کو اسی قاعدہ کے تحت غیر ضروری طور سے ریٹائر کیا گیا تھا ۔اس کے علاوہ سی بی ڈیوٹی کے بارہ افسران بھی ان میں شامل تھے ان پر کرپشن جنسی ازیت آمدنی سے زیادہ املاک رکھنے کا الزام تھا جبکہ جون میں سرکار نے سی بی آئی کے پندرہ کمشنر سطح کے افسران کو ریٹائر کیا تھا ۔اس سے لگتا ہے کہ ہمارے سماج اور سرکاری انتظامیہ میں کرپشن کافی گہری جڑیں جما چکا ہے ایسی امید کرنا کہ راتوں رات یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا کہنا غلط ہوگا ۔لیکن کرپٹ افسران کو ناپنے کی سمت میں صحیح قدم ہے جو فی الحال کوشش کی جا رہی ہے وہ کہاں تک جائے گی یہ نہیں کہا جا سکتا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ایک شروعات تو ہوئی ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...