27 جون 2015

چار دیویاں بنیں مودی کیلئے دردِ سر!

جب اٹل جی وزیر اعظم تھے تو ان کے لئے درد سر بنیں تھیں تین دیویاں ممتا ، مایااور جایا۔ یعنی ممتا بنرجی ، مایاوتی اور جے للتا۔ اب نریندر مودی کیلئے چار دیویاں سشما سوراج، وسندھرا راجے، اسمرتی ایرانی اور پنکجہ درد سر بن گئی ہیں۔آج میں پنکجہ منڈے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ کرپشن فری حکومت کا دعوی کرنے والی بھاجپا سرکار میں ان کے وزیر ہی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنا الو سیدھا کررہے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے کی فرضی ڈگری معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ ریاست کی خاتون و اطفال ترقی وزیر پنکجہ منڈے 206 کروڑ روپے کے گھوٹالے کے الزام میں گھر گئی ہیں۔ اسے مہاراشٹر کی دویندر پھڑنویس سرکار کا پہلا گھوٹالہ مانا جارہا ہے۔وہیں پنکجہ منڈے نے صفائی پیش کی ہے کہ انہوں نے جو فیصلے کئے ہیں وہ قاعدے کے مطابق ہیں۔ پنکجہ منڈے سابق مرکزی وزیر سورگیہ گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی ہیں۔ الزام ہے کہ انہوں نے قواعد کو طاق پر رکھ کر ایک ہی دن میں24 آرڈیننس کے ذریعے کروڑوں روپے کے سامان خریدنے کا آرڈر دے دیا۔ اس خرید کے کام میں 206 کروڑ روپے کے گھوٹالے کا دعوی کیا جارہا ہے۔ دراصل تین لاکھ سے زیادہ کسی بھی خرید کیلئے ای ٹنڈر مدعو کرنے کا قاعدہ ہے، لیکن اس برس فروری میں یونیفائڈ اطفال ڈیولپمنٹ سروس اسکیم کے تحت بنواسی علاقوں میں چل رہے سرکاری اسکولوں کیلئے چٹائی، کتابیں و کھانے کا سامان خریدنے کے لئے پنکجہ نے ایک ہی دن میں 24 تجاویز کو منظوری دے دی۔ ان تجاویز کا کل تخمینہ 206 کروڑ روپے تھا۔ اپوزیشن نے اسے قاعدے کے خلاف بتاتے ہوئے کرپشن انسداد بیورو (اے سی بی) میں شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے سرکار سے ہائی کورٹ کے کسی جج سے معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پنکجہ نے الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے ان کا کہنا ہے یہ فیصلہ ای ٹنڈروں کی پالیسی لاگو ہونے سے پہلے کا ہے اس میں کوئی بے قاعدگی نہیں برتی گئی ہے۔ پنکجہ ان دنوں امریکہ میں ہیں۔ ان کے مطابق وزیر بننے کے بعد سے انہوں نے محکمے میں شفافیت لانے کیلئے کئی فیصلے کئے ہیں۔ حالانکہ دویندر پھڑنواس سرکار پر کرپشن کا یہ پہلا الزام ہے۔ کچھ دنوں پہلے کانگریس نے ریاست کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے پر فرضی ڈگری رکھنے کا الزام لگایا تھا۔ اسی درمیان سرکار کے ایک دوسرے سینئر وزیر ایکناتھ کھڑ سے نے کہا اگر اپوزیشن ثبوت دے تو سرکار پنکجہ کے خلاف جانچ کرانے کو تیار ہے۔ کھڑسے کے مطابق اپوزیشن کا کام ہی الزام لگانا ہے۔ اچانک سامنے آئے ان الزامات سے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کے چہروں پر پریشانی کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ سرکار کی سب سے بڑی تشویش آنے والے مانسون سیشن کو لیکر ہے اندیشہ ہے 21 جولائی کو شروع ہوئے سیشن ان تنازعوں کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔ ان چار دیویوں کی وجہ سے مودی سرکار کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ بے داغ مودی سرکار پر دھبے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

بجلی کٹی توہر گراہک کو ملے گا ہرجانہ!

دہلی حکومت نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بجلی تقسیم کمپنیوں کے خلاف سختی کی ہے اس کا صارفین خیر مقدم کرتے ہیں۔سرکار نے دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ڈی ای آر سی) کو حکم دیا ہے کہ بغیر اطلاع کٹوتی کرنے پر ڈسکام پر جرمانہ کرے اور اس کا فائدہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دے۔ بجلی کٹوتی کے معاملے میں دہلی سرکار کی ہدایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈی ای آر سی کے قاعدوں میں ترمیم کیلئے ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس میں لوگوں سے 29 جون تک اعتراضات اور تجاویز مانگی ہیں۔ اس کے بعد بجلی کٹوتی کیلئے نیا قانون بنا دیا جائے گا۔ ڈرافٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی خرابی کی وجہ سے 50 سے زیادہ گھروں میں بجلی گل ہوتی ہے ، تو ڈسکام کیلئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے ایک گھنٹے کے اندر متبادل بجلی کا ذریعہ لوگوں کے گھروں میں اجالا کرنے کے لئے اپنائے۔ اگر بجلی کمپنیاں ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں تو نہ بجلی بند ہونے کے ایک گھنٹے بعد اگلے دو گھنٹے کے لئے 50 روپے فی گھنٹہ فی صارفین کو دینا ہوگا۔ اس کے بعد ہر گھنٹے فی صارفین کو 100-100 روپے چکانے ہوں گے۔ جرمانے کی رقم بجلی کمپنیوں کو خود بجلی کے بل کے ساتھ صارفین کو دینی ہوگی۔90دنوں کے بجلی بل کے ساتھ جرمانے کی رقم چکاناہوگی اگر اس میں کوئی گڑ بڑی کی جاتی ہے تو فیصلہ کمیشن کو لینا ہوگا۔ اگر کسی کے گھر میں کمپنی کی گڑ بڑی کی وجہ سے بجلی گئی ہے تو شکایت کے تین گھنٹے کے اندر سپلائی بحال ہو جانی چاہئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو کمپنی کو فی گھنٹے اس صارفین کو 100 روپے دینے ہوں گے۔ دہلی کے بجلی منتری ستندر جین نے کہا کہ بجلی ایکٹ2003 کی سیکشن 108 میں یہ سہولت ہے کہ سرکار ریگولیٹری کمیشن کو ایسی ہدایت دے سکے۔ وہیں ڈی ای آر سی کے چیئرمین پی ڈی سدھاکر نے کہا کہ سیوا نہ دینے پر جرمانے کی سہولت پہلے سے ہے بس جرمانوں کی شرح کو لیکر تھوڑا شش و پنج ہے لیکن اس قانون کو اب سختی سے لاگو کیا جائے گا۔ جتنی دیگر بجلی کٹوتی ہوگی اس کی جانکاری دہلی اسٹیٹ ڈسپیچ سینٹر کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے اس کے علاوہ بجلی سپلائی کے سسٹم کی خامیوں کو بھی دور کیا جائے گا۔ جرمانے کا انتظام کا صحیح تجزیہ صحیح طریقے سے ہو اس کے لئے انتظام کیا گیا ہے۔ یہ رقم صارفین کے بل میں نظر آنی چاہئے۔ اگر کسی علاقے میں 1 گھنٹے کی کٹوتی ہو تو متعلقہ علاقے کے صارفین کا بل جرمانہ گھٹاکر آنا چاہئے۔ ہم دہلی سرکار کی اس پہل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان بجلی کمپنیوں کی دھندلی پر لگام لگنی چاہئے۔ بجلی کے میٹروں کی بھی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔ اگر سرکا ان قدموں کو صحیح طریقے سے لاگو کیا جاتا ہے تو راجدھانی کے علاقوں کے صارفین کو تھوڑی راحت ضرور ملے گی۔ ڈی ای آر سی کا کہنا ہے ڈرافٹ میں پاور کٹوتی سے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ڈسکام پر کس کس لاپرواہی کے لئے کتنا جرمانہ لگایا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

26 جون 2015

بھارت سے پھر دھوکہ، لکھوی کی ڈھال بنا چین

جماعت الدعوۃ کا کمانڈراور ممبئی حملہ کا ماسٹر مائنڈ ذکی الرحمن لکھوی گزشتہ اپریل میں جیل سے اس لئے رہا ہوگیا تھا کیونکہ پاکستان اس کے خلاف عدالت میں ضروری ریکارڈ و ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اور اب لکھوی کی رہائی پر پاکستان سے وجوہات مانگنے کی اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی کی پہل کو چین نے یہ کہہ کر روک دیا ہے کہ بھارت نے اس معاملے میں پاکستان کو پختہ جانکاری نہیں دی ۔ چین نے بھارت کے ساتھ پھر بھروسہ کو توڑا ہے چین اقوام متحدہ سلامی کونسل کامستقبل ممبرہونے کے ناطے اس کمیٹی کا ممبر ہے جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر فیصلہ کرتی ہیں۔ ذکی الرحمن لکھوی کے معاملے میں اقوام متحدہ میں چین نے جو رویہ اپنایا ہے اس پر ہمیں تعجب نہیں ہوناچاہئے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ چین نے بھارت کی ایسی کوشش میں ٹانگ اڑائی ہے مئی میں بھارت نے کشمیری آتنکی اور حزب المجاہدین کے نیتا سید صلاح الدین کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کی تھی، جسے چین نے رکوا دیا۔ چین پاکستان کے ساتھ اپنی حکمت عملی پالیسی کو اور مضبوط کررہا ہے ایسے اشارے کئی بار آچکے ہیں۔ا گر وہ دہشت گردی جیسے نازک مسئلے پر بھی پاکستان کی حمایت کرے گا،اس کی توقع نہیں تھی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود چین بھی اسلامی دہشت گردی کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ وہ آتنک واد مخالف بین الاقوامی معاہدوں کے تئیں خود کو باعزم بتاتا تھا۔ لکھوی جیسے دہشت گرد کے بچاؤ میں پاکستان اور چین کے متحد ہونے کا یہ کھولا ثبوت تو ہے یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اپنی زمین سے دہشت گردی کو کھاد پانی دینا کا کام اس لئے بھی کررہا ہے چونکہ اس کی پیٹھ پر چین کاہاتھ ہے۔ لکھوی جیل سے رہا ہوا تھا تب امریکہ، فرانس، برطانیہ جیسے ملکوں نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے لکھوی کو پھر سے گرفتار کرنے کامطالبہ کیاتھا۔ پاکستان اور چین گہری دوستی ہے یہ سبھی جانتے ہیں لیکن پاکستان کاساتھ دینا ایک بات ہے اور دہشت گردی کے سرغنہ کے حق میں کھڑے ہونا دوسری بات ہے۔ یہ تو کھلے عام دہشت گردی کی حمایت کرنا ہوئی۔ چین لکھوی معاملے میں پاکستان کے حق میں کھڑا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اس لئے تاریخ شاید ہے کہ چین شروع سے ہی ایک حکمت عملی پر چل رہا ہے جس نہ صرف بھارت کا کردار محدود ہو بلکہ اس کی آزادی اور سرداری بھی متاثر ہو۔ اس کی ترقی بھی رکاوٹ ہو۔ اس کے لئے چین کو پاکستان سب سے موزوں دیش رکھتا ہے بہت حد تک چین اور پاکستان کے مقصد بھی بھارت کو لے کر ایک جیسے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چین چاہتا ہے کہ بھارت کے بازار چینی مصنوعات سے روشن رہے اورپاکستان کی منشاء انہیں پوری طرح سے نیست و نابود کرنے کی رہتی ہے۔ اب لکھوی معاملے میں بھارت مخالف کھلا موقوف اپنا کر چین نے صاف کردیا ہے کہ وہ بھارت کو گھیرنے کی منظم پالیسی پر چل رہا ہے۔ بھارت کی اب ترجیح چینی حکمت عملی کا مقابلہ کرنا ہے۔
(انل نریندر)

مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی!

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار تنازعات میں گھیرتی جا رہی ہے۔ پارٹی میں ناراضگی بھی بڑھ رہی ہے۔ للت مودی تنازعہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ پارٹی کے بڑے لیڈر بھلے ہی اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن بیان بازی رک نہیں رہی ہے۔ بھاجپا ایم پی و سابق ہوم سکریٹری آر کے سنگھ نے للت مودی کو بھگوڑا قرار دیتے ہوئے ان کی مدد کرنے والے لیڈروں کو کٹھگرے میں کھڑا کردیا ہے سنگھ نے وزیر خارجہ سشما سوراج اور راجستھان کی وزیراعلی وسندھرا راجے کانام لئے بغیر دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھگوڑے کی مدد کرتا ہے یا اس کے ملتا ہے یہ قانونی اور اخلاقی طور پر دونوں طرح سے غلط ہے۔بھاجپا صدر امت شاہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ و ٹرانسپورٹ وزیر نتین گڈ کری کے کھل کر وسشما وسندھرا کی حمایت لینے کے بعد بھاجپا ایم آر کے سنگھ کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے آر کے سنگھ کے بیان کو بھاجپا ایم پی کیرتی آزاد کے بیان کا رد عمل مانا جارہا ہے۔ آزاد نے سشما کے حق میں کھڑے ہوکر آستین کے سانپ ہونے کا بیان دے کر تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔ اب سنگھ نے اس کے برعکس سشما اوروسندھرا پر نکتہ چینی کی ہے۔ دونوں ہی بہار سے ایم پی ہے اس کا سیدھا اثر بہار میں ہونے والے اسمبلی چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پچھلے دنوں شری لال کرشن اڈوانی نے وارننگ دی تھی کہ ایمرجنسی عہد کا خطرہ بھی ٹلا نہیں ہے۔ اب پی جے بی کے سینئر لیڈر یشونت سہنا نے اپنی ہی پارٹی کی سرکار کو نشانہ بنایا ہے ان سے منگلوار دیر رات ایک پروگرام میں نریندر مودی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے کام کاج کے موازنے پر سوال پوچھے گئے تھے۔ انہو ں نے مرکز میں ’’میک ان انڈیا‘‘ کے پروگرام میں کہا ہے کہ پہلے بھارت بناؤ، باقی خود ہوجائے گا۔شری یشونت سنہا نے کہا ہے کہ بھاجپا میں جو بھی 75سال سے زیادہ عمر کے تھے ان کو سبھی کو’’برین ڈیڈ‘‘ قرار دے دیا ہے میں بھی پارٹی کے ان ’’برین ڈیڈ‘‘ لوگوں میں شامل ہوں۔ بدھوار کو مودی حکومت کی ایک اور وزیر مرکزی انسانی وسائل ترقی اسمرتی رانی کولیکر مشکل میں پھنس گئی ہے۔ بدھوار کو دہلی کی ایک عدالت نے ایرانی کے خلاف ملی شکایت کو سماعت کے لائق مانا، جس میں ان پر چناؤ کمیشن کو اپنی تعلیمی استعداد کی غلط جانکاری دینے کا الزام لگایاگیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے اس سلسلے میں ایرانی کو سمن بھیجنے سے پہلے شکایت کنندہ سے اورثبوت مانگے ہیں۔فری لانس صحافی احمر خاں نے عدالت میں عرضی دائر الزام لگایا تھا کہ ایرانی نے 2004سے 1914تک مختلف انتخابات لڑنے کے لئے دی حلف ناموں میں اپنی تعلیم الگ الگ بتائی تھی۔ پارٹی میں ناراضگی صاف ابھر کر سامنے آگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کاآنے والے بہار چناؤ میں کیا اثر پڑتا ہے؟ 
(انل نریندر)

25 جون 2015

طالبان کا افغان پارلیمنٹ پرحملہ

کابل میں افغانستان کی پارلیمنٹ پر طالبان دہشت گردوں کا حملہ اس دیش میں منڈرا رہے خطرے کی سنگینیت کو نئے سے سے بیان کرتا ہے۔ بیشک یہ باآور رہنے والی بات ہے کہ طالبان کو ان کی منشا پر کامیاب نہیں ہونے دیا گیا لیکن افغانستان کی پارلیمنٹ کو نشانہ بنا کر طالبان نے اپنے ارادے تو صاف کردئے ہیں کہ آنے والے دن وہاں کے لئے اور شورش والے ہونے والے ہیں۔ دراصل طالبان کا حوصلہ تو پچھلے سال کے آخر میں ہی نیٹو فوج کی افغانستان سے باقاعدہ وداعی کے بعدبڑھ گیا تھا۔ پیر کو پارلیمنٹ پر ہوئے حملہ کا شاید نشانہ نئے مقرر وزیر دفاع محمد معصوم ستنی کزئی تو نہیں تھے پچھلے 9 مہینے سے دیش میں وزیر دفاع کا عہدہ خالی تھا۔ صدر اشرف غنی اور پہلے ان کے حریف اور اب سرکار میں ساتھی عبداللہ عبداللہ کے درمیان وزیر دفاع کے نام پر عدم اتفاقی کی وجہ سے یہ عہدہ اب تک خالی پڑا ہوا تھا۔ پچھلے دنوں وزیر دفاع کے لئے ستنی کزئی کو نامزد کیاگیاتھا۔ پیر کو ان کی تقرری پر مہر لگانے کے لئے پارلیمنٹ کے ایوان میں ان کا تعارف کرانے کی کارروائی چل رہی تھی اسی دوران پارلیمنٹ پر طالبان دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ یہ راحت کی بات ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے میں ممبران اور سکیورٹی فورس کے جوان اور عام شہریوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے سکیورٹی فورسز نے پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے والے آتنکیوں کو مار گرایا۔ سکیورٹی فورسز نے جس مستعدی سے آتنک وادیوں کے منصوبے کو ناکام کیا اس سے یہ صاف ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے اور منہ توڑ جواب دینے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ البتہ افغانستان کے موجودہ بحران میں دو پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تو یہی کہ اشرف غنی نے بیحد چیلنج بھرے وقت میں افغانستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ اس میں ملک کے تمام قبائلی گروپوں کو شیشے میں اتارے رکھنے کی ویسی صلاحیت نہیں ہے جیسی سابق صدر حامد کرزئی میں تھی۔ دوسرا یہ کہ آئی ایس کے افغانستان میں دبدبہ بنا لینے کے بعد طالبان کی یہ جارحانہ بالادستی کی لڑائی میں آگے بڑھنے میں دوڑ لگ سکتی ہے۔ حامد کرزئی کی جگہ پر صدر کی کرسی پر بیٹے اشرف غنی نے پچھلے دنوں جس طرح مبینہ طور پر اپنی سلامتی مضبوط کرنے کیلئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ سمجھوتہ کیا اس سے بھارت سمیت عالمی برادری کا فکرمند ہونا فطری ہے اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ حامد کرزئی اور ان کے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود اشرف غنی نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے ہیں لیکن یہ معمہ بنا ہوا ہے آخر انہوں نے آئی ایس آئی سے ہاتھ ملانے کے بارے میں سوچا ہی کیوں؟ طالبان کی موجودہ جارحیت کو نہ صرف پچھلی ایک دہائی میں سب سے خطرناک حملہ بتایا جارہا ہے بلکہ اس سال کے ابتدائی چار مہینے میں دہشت گردانہ تشدد میں وہاں قریب ایک ہزار شہریوں نے جان گنوائی ہے۔ موجودہ حالت پوری دنیا کے لئے انتہائی تشویش کا باعث ہے اور یہ پورے خطے کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔
(انل نریندر)

تومر سے عدالت نے کہا کب تک بیوقوف بناؤں گے

فرضی ڈگری معاملے کے ملزم جتیندر سنگھ تومر جنتا کے نمائندے ہیں۔ اس پر بی ایس سی، ایل ایل بی کی فرضی ڈگری رکھنے کا سنگین الزام ہے ایسے میں اسے کسی بھی طرح کی رعایت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تومر کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ پیر کوعدالت نے تومر کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کو کب تک بیوقوف بناتے رہیں گے۔ ایڈیشنل میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ ترون یوگیش نے کہا کہ معاملے کی جانچ بہت اہم مرحلے میں ہے۔ ایسے میں انہیں ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنا نمائندہ چننے کیلئے ووٹ ڈالتے ہیں لیکن ہمیں کیا ملتا ہے۔ عدالت نے تومر کو اسمبلی چناؤ سیشن میں بھی حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ساکیت عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے تومر کے وکیل رمیش گپتا نے دلیل رکھی کہ ان کے موکل کو فرضی ڈگری معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا پورا معاملہ دستاویز پر مبنی ہے اور زیادہ دستاویز پولیس ضبط کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ ٹرائل کے دوران تومر عدالت میں پیش ہوگا اور کبھی بھی ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ وہ سب ثبوت کو متاثر کرنے والا انسان ہی نہیں ہے کیونکہ اب وہ وزیر قانون نہیں ہے۔ایسے میں وہ کیسے ثبوت ضائع کر سکتا ہے۔ وہیں ابھی تک دہلی بار کونسل نے ان کے موکل کے خلاف کسی بھی طرح کی شکایت نہیں دی ہے۔ وہیں تومر نے کہا کہ اس کیس اور پولیس نے ان کا بیڑا غرق کردیا ہے۔اس کے پاس اب کچھ نہیں بچا ہے۔ تین گھنٹے سے زیادہ چلی سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل پبلک سالیسٹر اتل کمار شریواستو نے ضمانت پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا معاملے کی جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اس معاملے میں کئی لوگ فرار ہیں اور ان کا پتہ لگانا ہے۔ انہوں نے کہا فرضی ڈگری گروہ کافی بڑا ہے اور اس کا پردہ فاش کیا جانا ہے۔ اگر اس وقت ملزم کو ضمانت دے دی گئی تو پورے معاملے میں جانچ متاثر ہوگی اس لئے ضمانت عرضی خارج کی جائے۔ تومر کے وکیل نے کہا کہ پولیس نے جوڈیشیل کسٹڈی میں بھیجنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے مطلب ہے پوچھ تاچھ پوری ہوگئی ہے اس لئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے کہا آپ (تومر) دستاویز یا حلف ناموں میں جعلسازی کیسے کرسکتے ہیں۔ہم ضمانت پر رہا نہیں کرسکتے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری وکیل نے کہا کہ عوامی نمائندے کو ملا پارلیمانی مخصوص اختیار ان کے کام میں تعاون کرنے کے لئے ہے وہ دیگر شہریوں کے مقابلے میں ایک الگ زمرے میں نہیں بناتا۔ شریواستو نے کہا کہ قانون ملزمان کو الگ طرح کے برتاؤ کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پارٹی کے جو لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ جتیندر سنگھ تومر کو فرضی کیس میں پھنسایا گیا ہے اب وہ خود فیصلہ کرلیں ۔ عدالت تو ثبوت کی بنیادپر چلتی ہے اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیتی ہے۔ جتیندر سنگھ تومر پر انتہائی سنگین الزام ہے۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی اور پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو تومر کی جعلسازی کے بارے میں معلوم تھا۔ اسمبلی چناؤ سے پہلے پرشانت بھوشن نے کیجریوال سے درخواست کی تھی کہ تومر کو ٹکٹ نہ دیا جائے لیکن کیجریوال نے پرشانت بھوشن سے خندک نکالنے کے لئے جتیندر سنگھ تومر کو نہ صرف ٹکٹ دیا بلکہ وزیر بنا ڈالا۔ اب قانون منتری اوران کے قانون کا کیا حال ہورہا ہے یہ سب کے سامنے ہے۔
(انل نریندر)

24 جون 2015

اترپردیش کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی صحافی کا قتل

تشویش کا موضوع یہ ہے لگتا ہے کہ دیش میں صحافی ایک مرتبہ پھر نشانے پر ہیں۔ کہیں پولیس ان کا شکار کررہی ہے تو کہیں مافیہ انہیں اپنے نشانے پر لے رہا ہے۔ابھی اترپردیش میں صحافی جگیندر کو پولیس کے ذریعے زندہ جلائے جانے کا واقعہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ اس کے تین دن بعد مدھیہ پردیش کی کٹنگی تحصیل میں ایک صحافی کی جلی ہوئی لاش پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے ناگپور کے ایک قصبے سے برآمد ہوئی۔ جرنلسٹ سندیپ کوٹھاری قتل کے سلسلے میں پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار ضرور کیا ہے لیکن پولیس کی لاپرواہی سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیا پریس کو ایمانداری سے کام نہ کرنے دینے کی کوئی سازش تو نہیں رچی جا رہی ہے؟ دیش کے میڈیا کو پوری سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا۔ صحافیوں پر حملوں کی وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اترپردیش کے بعد اب مدھیہ پردیش میں بھی ایک صحافی کو اپنی جان بنوانی پڑی ہے۔ بتایا جاتا ہے ریپ مافیہ سے وابستہ لوگوں نے عدالت سے معاملہ واپس نہ لینے پر جبلپور کے ایک ہندی اخبار کے نامہ نگار سندیپ کوٹھاری( 40 سال) کو زندہ جلا دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں 3 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اپرپولیس سپرنٹنڈنٹ نیرج سونی نے بتایا کہ سندیپ کا دو دن پہلے 19 جون کو بالا گھاٹ سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان کی جلی ہوئی لاش مہاراشٹر کے وردھا ضلع میں بھنڈی شہر میں ریلوے کی پٹریوں کے پاس ملی۔ سندیپ کے بھائی نے لاش کی شناخت کی ہے۔ سونی نے بتایا کہ سندیپ بلاتکار کے ایک کیس میں پچھلے دو ماہ سے ضمانت پر رہا ہوا تھا۔پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا ان کی پہچان راکیش نسوانی، وشال ڈانڈی اور برجیش دوہروال کی شکل میں ہوئی۔ تینوں کتنگی کے باشندے ہیں۔ الزام ہے کہ تینوں ناجائز کوئلہ کھدائی میں لگے ہوئے ہیں اور ایک چٹ فنڈ کمپنی بھی چلاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق سندیپ نے اس ناجائز کوئلہ کھدان کے معاملے میں کچھ لوگوں کے خلاف ایک مقامی عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔ تینوں ملزم یہ کیس واپس لینے کا دباؤ بنا رہے تھے پولیس کا خیال ہے کہ سندیپ کے انکار کرنے پر ملزمان نے ان کا اغوا کر قتل کردیا۔ اغوا میں استعمال کی گئی کار ضبط کر لی گئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے قتل کے واقعہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے صحافی نے ریت مافیہ کی سرگرمیوں کا خلاصہ کیا تھا اس لئے ان کے خاندان کو پریشان کیا جارہا تھا۔ وہیں بالا گھاٹ کے سابق ممبر اسمبلی کشور سمرتے کا الزام ہے کہ سندیپ کو 12 سے زیادہ مجرمانہ معاملوں میں پھنسایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا سندیپ نے منظم کرائم میں ملوث میگنیز اور ریت مافیہ اور طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور قلم کا سپاہی اپنی ڈیوٹی پر مارا گیا۔ ہم انہیں شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹیم انڈیا کے دھورندھروں نے گنوائی ساکھ اور سیریز

جس کرشمائی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی رہنمائی میں ٹیم انڈیا نے کئی کارنامے اپنے نام کئے تھے وہیں ایتوار کو اسی بنداس ٹچ والے ٹیم انڈیا کے کپتان کا مان مردن ہوگیا۔ پوری طاقت کے ساتھ ون ڈے سیریز کھیلنے بنگلہ دیش پہنچی ٹیم انڈیا نے دوسرے ونڈے میں بھی شرمناک کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے خلاف وکٹیں گنوا دیں۔ اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش نے تین میچ کی سیریز 2-0 سے اپنی بڑھت بنا لی ہے۔ اس تاریخی سیریز کی جیت کے بعد بنگلہ دیش نے چیمپئن ٹرافی 2017 کے لئے اپنی جگہ بھی پختہ کرلی ہے۔ 1986 ء سے ونڈے کھیل رہی بنگلہ دیشی ٹیم کی یہ ٹیم انڈیا کے خلاف پہلی سیریز جیت ہے۔ٹیم انڈیا جب بنگلہ دیش کے دورے پر آئی تھی تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس ٹیم کو ورلڈ کپ میں آسانی سے مات دے رہی تھی وہ اس انداز میں حساب برابر کرے گی۔ بنگلہ دیش کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز مشتفق الرحمن نے مسلسل دوسرے میچ میں ٹیم انڈیا کی مضبوط بلے بازی کو دھارا شاہی کردیا۔21 جون2015ء کو بنگلہ دیش کے لئے یادگار بنا دیا۔ اپنے کیریئر کی سب سے عمدہ گیند بازی کا مظاہرہ کر مشتفق الرحمن نے 43 رن دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اپنے پہلے دو میچوں میں11 وکٹ لے کر انہوں نے نیا ریکارڈ بنا لیا۔ بنگلہ دیش نے دوسرا ونڈے 6 وکٹ سے جیت کر پہلی بار بھارت کے خلاف سیریز جیتنے کا خواب پورا کرلیا۔ جیت کی یہ خوشی دوہری بن گئی کیونکہ اس جیت کے ساتھ بنگلہ دیش نے پہلی بار چمپئن ٹرافی کے لئے بھی کوالیفائی کرلیا۔ بارش کے سبب یہ میچ 47 اوور کا کردیا گیا لیکن ٹیم انڈیا 45 اوور میں ہی سمٹ گئی۔ بنگلہ دیش کو ڈکورت لوئس قواعد کے تحت 47 اوور میں 200 رن کا نشانہ ملا جسے اس نے 38 اوور میں 4 وکٹ گنوا کر پورا کرلیا۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف سیریز 3-0 سے جیتی تھی۔ ایتوار کے اس میچ میں ٹیم انڈیا نے تین تبدیلیاں کیں۔ 
ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی سیریز میں اوپر آنے کے باوجود ٹیم انڈیا اسکور بورڈ پر بڑا اسکور نہیں کھڑا کرپائی۔ رہانے کی جگہ امباتی رائیڈو کو اتارنے کا فیصلہ بھاری پڑا۔ پہلے ونڈے میں ہار کے بعد ٹیم میں تین تین تبدیلیاں کر کے پہلے ہی بیک فٹ پر چلی گئی تھی ٹیم انڈیا۔وراٹ کوہلی نے اس میچ میں بھی مایوس کن کھیل کھیلا۔ کوہلی کی خراب پرفارمینس جاری رہی۔ پچھلے14 میچ میں صرف ایک سنچری ہے باقی میچوں میں 50 کا نمبر پار نہیں کرپائے۔ ایتوار کو میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کپتان مہندر سنگھ دھونی کافی جذباتی انداز میں نظر آئے۔ ان کی باتوں میں ہار کا غم صاف دکھائی دیا۔ جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ بطور کپتان کب تک بنے رہیں گے تو کپتان کول کا مزاج بگڑا نظر آیا۔ دھونی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہندوستانی کرکٹ میں جو بھی کچھ خراب ہوتا ہے اس کے لئے ہمیشہ مجھے ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ سب کچھ میرے سبب ہوتا ہے۔ حقیقت میں میں اپنی کرکٹ کا لطف اٹھا رہا ہوں مجھے پتہ تھا کہ یہ سوال مجھ سے ضرور پوچھا جائے گا۔ بار بار یہ سوال کھڑا کیا جاتا ہے اگر میرے ہٹائے جانے سے ہندوستانی ٹیم اچھا کرنے لگے تو میں کپتانی سے ہٹنے کو تیار ہوں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ٹیم انڈیا میں گروپ بندی چل رہی ہے۔
(انل نریندر)

23 جون 2015

للت مودی کا پھیلتا مکڑ جال

للت مودی معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج کا نام اس تنازعہ میں اس لئے آیا کیونکہ برطانیہ کے ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ انہوں نے للت مودی کے پرتگال دورے کے لئے برطانوی حکومت سے پیروی کرنے کو کہا تھا۔ اب راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے سندھیا اس لئے اس تنازعہ کے گھیرے میں آگئیں کیونکہ للت مودی نے خود ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ کب کب وسندھرا راجے نے ان کی مدد کی تھی۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ للت مودی اب کئی گڑھے مردے کیوں اکھاڑ رہے ہیں؟ مودی نے اس وقت وسندھرا راجے کو مشکل میں ڈالنے والے ثبوت کیوں اجاگر کئے؟ یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وسندھرا راجے کے خاندان سے جس 30 سال کی وفاداری کا دعوی مودی کررہے ہیں وہ کب اور کیوں ختم ہوئی؟ ممکن ہے کہ وسندھرا کو پھنسوا کر مودی ان کے مخالفین کو خوش کرنا چاہ رہے ہوں۔ اس سے یہ تو پتہ چلتا ہی ہے کہ للت مودی کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی خطرناک ہوسکتی ہیں۔ آئی پی ایل کو چلانے میں وہ جس طرح کی منمانی اور بے قاعدگیاں کررہے تھے وہ تو بی سی سی آئی سے وابستہ لوگ برداشت کررہے تھے کیونکہ آئی پی ایل میں بے شمار پیسہ آرہا تھا اور اس پیسے کا فائدہ بی سی سی آئی میں سبھی کو مل رہا تھا۔ آئی پی ایل سے جس طرح کا کرپشن کا ماحول بن رہا تھا اس سے زیادہ لوگوں کو شکایت نہیں تھی لیکن اپنے غرور اور بڑبولے پن کے چلتے للت مودی نے تمام لوگوں سے جو برتاؤ کیا وہ ان کے زوال کا سبب بنا۔ یہ غرور اور بڑبولے پن ان کے برتاؤ میں پھر دکھائے دے رہا ہے۔جب وہ خود اور دوسروں کو تنازعوں میں پھنسا رہے ہیں۔ للت مودی نے کانگریسیوں پر بھی الزام لگایا ہے وہ شرد پوار اور راجیو شکلا سے ملنے کا دعوی کررہے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم پر بھی پیچھا کرنے کا الزام لگایا۔ للت مودی نے یوپی اے سرکار پر برطانوی حکام سے خفیہ سمجھوتے کے ذریعے انہیں برطانیہ میں یرغمال بنانے کا بھی الزام لگایا۔ للت مودی کے مطابق چدمبرم نے مجھے واپس بھیجنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ ایسا نہیں کرپائے کیونکہ کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی وہ صرف اس لئے مجھے پریشانی میں ڈال رہے تھے کیونکہ میں نے ششی تھرور کو باہر کروایا تھا۔ تھرور کی وزارت کی کرسی میرے سبب نہیں گئی وہ جھوٹ بول رہے تھے۔ تازہ معاملے میں میڈیاگوگل روپٹ مرڈوک کا نام لیتے ہوئے للت نے کہا یہ سب انہیں کا کیا دھرا ہے۔ جس سنڈے ٹائمس اخبار میں سشما سوراج اور برطانیہ کے ممبر پارلیمنٹ کیتھ واچ سے وابستہ ای میل جاری کی ہے وہ رپٹ مرڈوک کا ہی ہے۔ ایسا چمپئن ٹوئنٹی ٹوئنٹی لیگ کے سبب کیا گیا تھا۔ اصل میں مرڈوک خسارے میں چل رہی اس لیگ کے براڈ کاسٹنگ رائٹس کو چھوڑنا چاہتے تھے لیکن انہیں ڈر تھا کہ کہیں میں یہ ظاہر نہ کردوں کہ اس معاملے میں نو ایگزٹ کلاس بھی ہے۔ للت مودی نے الزام لگایا کہ برطانیہ میں یوپی اے سرکار نے ہی اڑنگا لگادیا لیکن اب وہ اپنی لڑائی آخر تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ میں عالیشان زندگی جی رہا ہوں اور کیوں نہ جیوں میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔
(انل نریندر)

بینک گارنٹی نہیں تو سبرت رائے جیل میں ہی رہیں گے

سہارا چیف سبرت رائے کو پھر ضمانت نہیں ملی۔ توہین عدالت معاملے میں 15 ماہ سے جیل میں رکھنے پر اٹھ رہے سوالوں پر سپریم کورٹ نے پہلی بار صفائی دی ہے۔ یہ وضاحت ضمانت کی شرطوں پر جمعہ کو آئے اپنے حکم میں دی ہے۔جسے کورٹ نے ایک اہم اور بیحدپیچیدہ معاملہ بتایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سہارا چیف کو جیل بھیجنے کا حکم توہین کے دائرے اختیار میں آتا ہے۔ بھلے ہی نہیں واضح ہو لیکن یہ کورٹ کو حق حاصل ہے کہ غیرمعمولی اختیارات (سیکشن142) سے لیا گیا ہے۔ اس میں کورٹ کو مکمل انصاف کرنے کے لئے بھی کوئی بھی حکم دینے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کہا یہ جنتا کی 36 ہزار کروڑ روپے کی بھاری بھرکم رقم کی واپسی اور کورٹ کے احکامات پر توجہ نہ دینے کی عجب پوزیشن تھی جس نے یہ ایک اہم حکم جاری کرنے کے حالات پیدا کئے۔ عدالت نے کہا کہ ہم اس بات سے بے خبر نہیں ہیں کہ تین لوگوں کو شخصی آزادی سے محروم کیا گیا ہے۔ وہ پچھلے 15 ماہ سے جیل میں ہیں اور یہ ان پر کافی بھاری پڑ رہا ہے لیکن دوسری طرف ہمیں عوامی مفادات کی اس مانگ کو بھی دیکھنا تھا کہ جنتا سے 22 ہزار کروڑ روپے کی بھاری بھرکم پیسہ ناجائز طور سے اکٹھا کرنے والے کو ذمہ دار بنایا جائے۔ اس طرح کورٹ کے سامنے جہاں تین لوگوں کی شخصی آزادی ایک طرف نئی تھی وہیں دوسری طرف قانون کا وقار بنائے رکھنے کی بات تھی۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ پانچ ہزار کروڑ روپے کی ضمانت رقم اور اتنی ہی بینک گارنٹی کے بغیر ضمانت نہیں ملے گی۔ اس سے پہلے سبرت رائے کے وکیل کپل سبل نے مجبوری ظاہر کر کہا کہ جس بینک نے گارنٹی دینی تھی وہ مکر گیا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آپ نے یہ بھروسہ دلایا تھا کہ بینک گارنٹی کے لئے تیار ہے۔ جواب میں سبل بولے میڈیا میں سماعت کی خبریں آنے سے بینک نے گارنٹی دینے سے منع کردیا۔ ہم چار ہزار کروڑ کی بینک گارنٹی دے سکتے ہیں۔ کورٹ نے بغیر نرمی دکھائے کہا ٹھیک ہے تو 6 ہزار کروڑ نقد دی جائے تبھی ضمانت ملے گی۔ عدالت نے سبرت کو پیرول کی عرضی خارج کر ضمانت کیلئے اور شرطیں جوڑ دیں۔ سبرت رائے کو ضمانت کے بعد 18 ماہ میں36 ہزار کروڑ روپے لوٹانے ہوں گے۔ رقم 9 قسطوں میں دے سکتے ہیں۔ پہلی 8 قسطیں 3-3 ہزار کرور کی ہوں گی اور9 ویں باقی رقم دینی ہوگی۔ کوئی بھی قسط چوکے تو سیبی بینک گارنٹی بھنا لے گا۔ تین قسطیں چوکیں تو سبرت رائے کو پھر سے جیل جانا ہوگا۔ سبرت رائے اور جیل میں بند کمپنی کے دو سینئر افسران کو15 دن کے اندر پاسپورٹ کورٹ میں جمع کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر تینوں جیل سے باہر نہیں جاسکے۔ اس کے علاوہ سبرت رائے کو دہلی کے تلک مارگ تھانے میں ہر 15 دن بتانے ہوں گے۔ وہ دیش میں جہاں تہاں جائیں گے اس کے بارے میں بھی معلوم ہونا چاہئے کہ سبرت رائے اور سہارا گروپ کے دو ڈائریکٹر پچھلے سال مارچ سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ تازہ شرائط کے تحت سہارا چیف کے عنقریب مستقبل میں جیل سے رہا ہونے کا امکان کم ہی دکھائی پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے سبرت رائے کو انصاف کے مفاد میں جیل بھیجا۔ ہمارا حکم پورا انصاف کرنا ہے۔
(انل نریندر)

21 جون 2015

امریکہ کے سیاہ فاموں کے تاریخی چرچ پر حملہ

امریکہ میں سیاہ فام افراد کے خلاف نفرتی کرائم رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سیاہ فام و پولیس ملازمین میں تو ٹکراؤ چل ہی رہا ہے۔ اب ایک چرچ میں گولہ باری کی خبر آئی ہے۔امریکی ریاست ساؤتھ کیرولینا کے چارلسٹن میں سیاہ فاموں کے ایک تاریخی گرجا گھر کے اندر ایک گورے بندوقچی کی فائرننگ میں کم سے کم9 لوگوں کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اسے نفرت آمیز جرائم بتایا ہے۔اس ریاست کی گورنر ہندوستانی نژادامریکی نکیتی ہیلی ہیں۔21 سال کے گورے حملہ آور کو قریب 13 گھنٹے بعد گرفتار کرنے میں پولیس کو کامیابی مل گئی۔ مقامی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق پکڑے گئے بندوقچی کا نام بلان روف ہے۔اس اندھا دھند فائرنگ میں بچے ایک شخص پکنی کے رشتے دار نے بتایا کہ حملہ آور روف نے حملے کے وقت کہا کہ وہ ایسا اس لئے کررہا ہے کیونکہ سیاہ فام لوگ ہماری عورتوں سے بدفعلی کرتے ہیں اور ہمارے دیش میں قبضہ جماتے جارہے ہیں۔ جس گرجا گھر میں یہ واردات ہوئی ہے وہ امریکہ کے سب سے اہم افریقن امریکن گرجا گھروں میں سے ایک ہے۔1816 میں یہ بنایا گیا تھا۔ چرچ کی ویب سائٹ کے مطابق سال1822 میں چارلسٹن میں چرچ کے معاون بانی ڈینمارک ویسے نے غلاموں کو متحد کربغاوت کی کوشش کی تھی۔ مقامی نیشنل پارک سروسز کے مطابق یہ گرجا گھر سیاہ فام مذہبی افراد کا سب سے پرانا عقیدت کا مرکز ہے، جہاں ہر بدھوار کو شام مقدس کتاب بائبل پڑھی جاتی ہے۔ اس حملے میں مرنے والوں میں 6 خواتین اور3 مرد ہیں۔ ان میں صوبائی سینیٹ کے ممبر اور گرجا گھر کے پادری کلیمن پنونی بھی شامل ہیں۔ 8 لوگوں کی موت موقعے پر ہوگئی جبکہ ایک نے ہسپتال میں دم توڑا۔ حملہ آور روف کے ایک رشتہ دار نے بتایا اس کے والد نے حال ہی میں اس کی سالگرہ پر .45 کیلیبر کی دستی بندوق تحفے میں دی تھی۔ امریکہ میں افریقن امریکن گرجا گھر پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی 1963ء میں الباما کے برہنگم ایسے ہی حملے میں چار لڑکیوں کی موت ہوگئی تھی۔ اگت2012 میں امریکہ کے ویسکوسن کے ایک گوردوارے میں صبح کی پرارتھنا کے وقت بندوقچی نے فائرننگ کی تھی جس میں 7 لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے حملے کے بعد اپنے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا مذہبی عبادت گاہ پر امن کی تلاش میں آئے لوگوں کا قتل ایک ٹریجڈی ہے ہمیں ماننا ہوگا کہ دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں اس طرح کے واقعات نہیں ہوتے۔ سابق وزیر خارجہ و امریکہ کی امکانی صدارتی چناؤ کی دوڑ میں شامل ہونے والی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ٹوئٹ کر واقعے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک ذہنی پاگل پن بتایا ہے اور مارے گئے لوگوں کے تئیں ہمدردی ظاہر کی ہے۔ وہ 2016 ء میں امریکی صدارتی چناؤ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہوں گی۔جنوبی کیرولینا ریاست کی گورنر ہندوستانی نژاد امریکن نک ہیلی نے کہاکہ ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ہمارے پوجا استھل میں گھس پر لوگوں کی جان لینے کے پیچھے کیا ارادہ رہا ہوگا۔ ساؤتھ کیرولینا کی تاریخ میں یہ سب سے خوفناک فائرننگ کا واقعہ مانا جارہا ہے۔ فائرننگ سے پہلے ہلیری کلنٹن چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں چارلسٹن کے ایک گھر میں گئی ہوئیں تھیں۔ یہ گھر واردات سے آدھا میل کی دوری پر واقع ہے۔2014ء میں پولیس کے حملے میں 238 سیاہ فام مارے گئے ہیں۔گورے لوگوں کو پولیس کے ذریعے گولی مارنے کا اندیشہ21 فیصدہے۔ امریکہ میں سیا ہ فام لوگوں کی آبادی 13 فیصد ہے۔ یہ امریکہ میں سیاہ فام پر پچھلے 15 برسوں میں سب سے بڑا حملہ ہے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ حملہ آور کچھ دیر پریئر مجلس میں بیٹھا پھر اٹھ کر فائرننگ شروع کردی۔ وہ چلا رہا تھا تم سب ہماری عورتوں سے بدفعلی کرتے ہو، ہمارے دیش پر قبضہ کررہے ہو، میرا دیش چھوڑ دو نہیں تو میں سب کو مار دوں گا۔ ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ حملہ آور نے کہا میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم باقی سب کو بتا سکو کہ یہاں کیا ہوا ہے۔
(انل نریندر)

پچھلے 5 برسوں میں مہلا شرابیوں کی تعداد25 فیصد بڑھی

ایک نئے جائزے میں دعوی کیا گیا ہے کہ پچھلے پانچ برسوں میں عورتوں میں شراب پینے کی لت25فیصد بڑھی ہے۔ عورتوں میں شراب برداشت کرنے کی صلاحیت مردوں سے کم ہوتی ہے۔ ان کا شراب پینے کے بعد گاڑی چلانا زیادہ خطرے بھرا ہوتا ہے۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق عورتوں کے جسم میں پانی کی مقدار مردوں سے کم ہوتی ہے اس لئے جب یکساں وزن والا مرد اور عورت برابر مقدار میں شراب پیتے ہیں تو عورت کو نشا زیادہ ہوتا ہے انہیں زیادہ چڑھتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے الکحل ہضم کرنے کے لئے ضروری ہے ہضم کرنے والا مادہ جو عورتوں میں کم ہوتا ہے۔ ہندوستان میں شراب پینے والی عورتوں پر زیادہ اسٹڈی نہیں ہوئی ہے، لیکن ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعدادو شمار کے مطابق فی الحال دیش میں شراب پینے کے معاملے میں عورتوں کا تشدد پانچ برسوں میں بڑھ کر 25 فیصد ہوجائے گا۔ پچھلے دنوں ممبئی میں کارپوریٹ وکیل جیہانی گاڈکر کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سوال اٹھ رہے ہیں کہ یہاں بھی شراب پینے والی عورتوں پر پختہ مطالع کیا جائے۔ شراب بنانے والی کمپنیاں ہندوستانی عورتوں کو راغب کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہی ہیں، وہیں شراب کی لت چھڑانے کیلئے اصلاح گھر پہنچنے والی عورتوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسٹڈی کے مطابق مرد طلبا کے مقابلے میں عورتیں زیادہ شراب پیتی ہیں وہیں امریکہ میں ایک دہائی میں نشے میں دھت گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار ہونے والی عورتوں کی شرح فیصد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2013ء تک کے اعدادو شمار کے مطابق شراب پینے والی عورتوں میں محض پانچ فیصدی زیادہ عورتیں ہیں۔ ان کی تعداد میں اگلے پانچ برسوں میں پانچ فیصدی اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نشے کیلئے عورتوں کے جسم میں پانی کی کمی ذمہ دار ہوتی ہے۔ یکساں وژن کے مرد اور عورتیں برابر شراب پینے ہیں تو عورت کے خون میں الکحل کی موجودگی زیادہ ہوگی۔ ایسا نائیٹروڈین یونیورسٹی کی ایک اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر ہیمنت مشیر جسلوک ہسپتال ممبئی کا کہنا ہے کہ عورتوں کو مردوں کی بہ نسبت دیری سے شراب ہضم ہوتی ہے اس لئے عورتوں کو زیادہ تیزی سے نشا ہوتا ہے۔ ان کے پیٹ میں شراب ہضم کرنے کے لئے اینزائم سطح بہت کم ہوتی ہے۔ بھارت میں عورتوں میں شراب پینے کا ٹرینڈ بڑھتا جارہا ہے۔ خاص کر نوجوانوں میں۔ ان ریوو پارٹیوں میں شراب تو عام بات ہے۔ ڈرگس کے ساتھ شراب کا خطرناک کمبینیشن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ٹرینڈ کو کیسے روکا جائے؟
(انل نریندر)