31 دسمبر 2017

تاکہ ایک جھٹکے میں تین طلاق کی روایت ختم ہو

لوک سبھا نے جمعرات کو تاریخ رقم کرتے ہوئے مسلم خواتین کے لئے لعنت بنی ایک ساتھ تین طلاق (طلاق بدعت) کے خلاف لائے گئے بل کو سوتی ووٹ سے پاس کردیا۔ مسلم خواتین کی آزادی کے لئے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ایک ساتھ تین طلاق کی بری اور غیر انسانی اور لعنت آمیز روایت کو مجرمانہ قرار دینے والا مسلم شادی حق تحفظ بل 2017 پاس کرکے متاثرہ مسلم خواتین کو بڑی راحت دی ہے۔ بل کی دفعات میں ہے کہ اسلام کا کوئی بھی ماننے والا اپنی بیوی کو ایک بار میں تین طلاق کسی بھی ذریعے سے (ای میل، واٹس ایپ ،ایس ایم ایس) سے دے گا تو اسے تین سال کی جیل اور جرمانہ ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک جھٹکے میں دئے جانے والی تین طلاق کو ناقابل قبول اور غیر آئینی قراردئے جانے کے بعد اس طرح کے منمانی طلاق کے معاملے سامنے آنے کے بعد اس قانون کا بنانا ضروری ہوگیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدبھی تین طلاق کے معاملہ سامنے آنے سے یہ ہی ظاہر ہورہا ہے کہ طلاق کی اس منمانی روایت نے بہت گہری جڑیں بنا لیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ اگست میں مسلم خواتین کے خلاف صدیوں سے چلی آرہی اس غیر انسانی اور ظالمانہ روایت کو غیر آئینی ٹھہراتے ہوئے سرکار کو اس سلسلہ میں قانون بنانے کا حکم دیا تھا۔ بلا شبہ تین طلاق کے معاملہ سامنے آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی تنظیم اور اسد الدین جیسے نیتا شریعت کا غلط حوالہ دیکر اپنے ہی سماج کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور کئی دیگر انجمنوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ بل لانے سے پہلے سرکار نے متعلقہ فریقین سے رائے مشورہ نہیں کیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سزا نہیں ہونی چاہئے تھی اگر مرد کو جیل ہوجائے گی تو طلاق شدہ عورت کو گزارہ بھتہ کون دے گا؟ کانگریس کی سشمتا دیو نے کہا کہ اگر اس قانون میں تین سال کی سزا کو دیکھیں تو اگر قصوروار شوہر جیل میں ہے تو متاثرہ عورت کو گزارہ بھتہ کون دے گا۔ قانونی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ شوہر کے جیل جانے کے بعد بیوی اور بچوں کے گزر بسر کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ شوہر اگر نوکری میں ہوا تو جیل جاتے ہی وہ برخاست ہوجائے گا اور اسکی تنخواہ رک جائے گی۔اگر وہ کاروباری ہوا تو بھی اس کی آمدنی پر اثر پڑے گا ایسے میں بیوی بچوں کی زندگی کیسے چلے گی؟ اسی اندیشے سے عورتیں ایسے معاملوں میں سامنے آنے سے کترا سکتی ہیں۔
عورت شوہر کی پراپرٹی سے گزارہ بھتہ لے سکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں مجوزہ قانون میں کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ کانگریس نے اس بل کو حمایت دے کر ایک طرح سے 40 سال پرانی اپنی غلطی ہو سدھار لیا ہے۔ اگر راجیو گاندھی کی لیڈر شپ والی سرکار نے شاہ بانو کے معاملہ میں دئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹا نہیں ہوتا تو شاید اس بل کی نوبت نہیں آتی۔ اگر ووٹ بینک کی سیاست کوترجیح نہیں دی گئی ہوتی تو شاید مسلم سماج اب تک تین طلاق کی منمانی روایت کے ساتھ دیگر برائیوں سے نجات پا گیا ہوتا۔ کیا یہ اپنے آپ میں متضاد نہیں ہے۔ لیفٹ سمیت کچھ دیگر نیتا اس کو سیاسی اغراز پر مبنی بتا رہے ہیں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ سماجی برائیوں کا خاتمہ بھی آخر اسی کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ بل کی سب سے زیادہ مخالفت ان پارٹیوں نے کی ہے جو سماجی انصاف کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں لوک سبھا میں آر جے ڈی ، بی جے ڈی کی مخالفت اور ٹی ایم سی کی خاموشی کے پیچھے سوائے ووٹوں کی سیاست کے علاوہ کوئی دوسرا نظریہ نہیں ہے۔ دراصل کٹر پنتھی ،دقیانوسی اور دیگر برائیوں کی سیاسی دوکان کسی بھی ترقی پسند قدم کی مخالفت پر نہیں چلتی۔ بلا شبہ منمانی تین طلاق کے خلاف قانون بن جانے سے محض یہ صدیوں پرانی برائی ختم ہونے والی نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ عورتوں کو بے سہارا بنادینے والی برائیوں کو ختم کرنے لئے قانون کا سہارا نہیں لیا جانا چاہئے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ بل جن کے حق میں ہے انہوں نے خوشی ظاہر کی ہے تو باقی لوگوں کی مخالفت کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ستی پرتھا، جہیز اور بچیوں کی شادی جیسی برائیوں کے خلاف قانون بنائے جاچکے ہیں۔ اسی بیداری کی ضرورت تین طلاق کے چلن کو ختم کرنے کے معاملہ میں بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر غور ہونا چاہئے کہ تین طلاق کے خلاف بننے جارہا قانون کہیں ضرورت سے زیادہ سخت نہ ہو اور درکار نتیجے ملیں گے یا نہیں ایساہم اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ اس مجوزہ قانون کی کچھ دفعات کو لیکر کچھ جائز سوال اٹھ رہے ہیں۔ بہتر ہوکہ پارلیمنٹ کی آخری مہر لگنے تک یہ مجوزہ قانون ایسے سوالوں کا باقاعدہ جواب دینے میں اہل ہوجائے۔
(انل نریندر)

30 دسمبر 2017

پاک میں 500 میٹر گھس کر لیا بدلا

اپنے چار فوجیوں کی پاکستان کا کارانا حملے میں شہید ہونے سے تیتمائی بھارتی فوج نے بار بار پاکستان کی سرحد میں داخل کرنے کے لئے سرجیکل ہڑتال کی. ستمبر 2016 2016 کے بعد سرجیکل ہڑتال کے بعد بھارتی فوج نے پاک فوج کو کشمیر (پی اوکی) کے اندر داخل کیا اور اپنے چار جوانوں کی شہادت کا بدلہ لے لیا. فوج کی پونچھ بریگیڈ کے پانچ مقتول کمانڈروں نے پیر کے روز تقریبا 6 بجے لوسی پار کر ایک میجر بھی چار پاک فوجیوں کو مار ڈالایا اور چار۔پانچ پاک فوجیوں کو بری طرح سے زخمی کیا. ہمارے کمانڈوز نے پاکستان کے ایک عارضی چوک کو تباہ کر دیا. فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے مارے گئے فوجیوں نے 59 افواج میں ریجیمنٹ کے سیکنڈڈ بریگیڈ کے تھے. تین دن قبل راؤری علاقے میں پاکستانی فوج کی فائرنگ سے بھارتی فوج نے ایک میجر سمیت تین جوان شہید ہو گئے. تب بھارتی فوج نے کہا تھا کہ ہم اپنے جوانوں کی قربانی ضائع نہیں جانے دیں گے. اور ہوا بھی یہی دراصل پاکستان نے ہمیشہ بزدلانہ طریقوں سے بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنا دیا ہے. اس مرتبہ بھی پاک فوج نے سنیچر وار کو پیر پنجال وادی کے راجوری سیکٹر میں اسنائیپر فائرنگ میں ہندستانی فوج کے ایک میجر اور تین جوانوں کو مار دیا تھا ۔پاک کی اس کارروائی کی 48 گھنٹوں کے اندر ہی ہی ہمارا کمانڈو کی ٹیم نے بھارتی فوجیوں کے قتل کا بدلہ لے لیا. 45 منٹ کے اندر پانچوں بھارتی کمانڈو محفوظ واپس آنے کے بعد مکمل کرنے کی کارروائی. یہ خیال ہے کہ گریج نہیں ہے کہ بھارت کے پچھلے سرجیکل اسٹرائیک میں خاصا نقصان جھیلنے کے بعد بھی ناکامی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی حرکات سے باز نہیں آتی ہے۔ اور سرحد پر جنگجوؤں کے خلاف ورزی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ بندی نہیں کی جا رہی ہے. اس سال پاکستان نے فائرنگ کے دوران 750 علاقوں میں کشیدگی کا نشانہ بنایا. پاکستان کی جانب سے جنگجوؤں کی طرف سے یہ واقعہ گزشتہ سات سالوں میں سب سے زیادہ ہے. پاکستان کوسبق سکھانے کی کی یہ واحد کارروائی نہیں تھی. اس سے قبل بھارتی جوانوں نے جموں۔کشمیر کی جھنکار میں کنٹرول لائن کے پاس ایک پاک سنیپر کو پھیر لیا اور ٹھیک بعد پلوااما میں طویل وقت سے مطلوب دہشت گرد نور محمد تانترے عرف چھوٹا نور کو مار گریا. چھوٹی نوری کا مارا جانا تو براہ راست جیک۔اے۔محمد (ص) اور پاک میں بیٹھے اس کے آقاوں کو سخت پیغام ہے. نومبر 2003 میں جب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد، کنٹرول لائن پر کشیدگی پر معاہدہ ہوا ہے، پاکستان نے کسی بھی سال اس کی قائدے سے تعمیل نہیں کی ہے۔۔بھارتی فوج نے یہ جواب دیا کہ اس وقت سامنے آئے جب کلبھوشن جادھوکی بیوی اور ماں پاکستان میں ان کے ساتھ مل کر ان کی ملاقات ہوئی اور ملک ان کے ملاقات کے دوران پاکستان کی طرف سے برتا گیا غیر انسانی سلوک کا بحث جوروز پر تھا. پاکستان نے جس طرح ماں اور بیوی سے سلوک کیا انہوں نے نہ صرف اپنی بے حسی کا کاثبوت دیا بلکہ اپنا اصلی چہرہ بھی دکھایا کہ وہ کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہے. ہمارے سوال یہ ہے کہ یہ سرجیکل ہڑتال پاکستان سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے. انہوں نے ہمارے چار مارے تو ہم نے ان کو چار مار دیا. اس سے نہ ہی پاک فائرنگ رکے گی اور نہ ہی گھس پیٹ. بھارت کو پی اوکی کی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا. جب تک ہم ایسا نہیں کرتے پاکستان سدھرنے والا نہیں. ویسے عام طور پر ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائیک میں اپنے مرنے والے فوجیوں کی پاکیزگی کا سلسلہ جاری رہا ہے لیکن پردہ پوشی کرتے ہوئے ہی سہی پاک یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے جنگ بندی کے خلاف ورزی کی ہے۔ اور اس کے تین فوجی مارے گئے ہیں۔ اس سے اس نے ہندوستانی کارنامے کی ایک طرح سے تصدیق ہی کر دی ہے۔
(انل نریندر)

2017نے کانگریس میں امیدیں جگائیں ہیں

کانگریس کے لئے سال2017تمام اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا پارٹی کی اترپردیش ،گوا ،منی پوراور ہماچل میں چناؤی ناکامی کے درمیان پارٹی کو پنجاب اسمبلی میں ملی جیت نے تھوڑی راحت کی سانس دی جبکہ وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات میں 22 سال سے اقتدار پر قبضے کے بعد بی جے پی کو کڑی انتخابی ٹکرکر دے کر پارٹی نے اپنے کارکنوں میں مستقبل میں اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا جگائی ہے. حال ہی میں 16 دسمبر کو راولیل گاندھی کی طرف سے کانگریس کی ہائی کمان سنبھالنے کے بعد پارٹی کے رہنما اور کارکن نے نئے جوش سے لبرریج کیا. کانگریس کے حکمت عملی ساز گجرات چناؤ کے دوران راہل گاندھی کی رہنمائی میں پارٹ کے جارہانہ کمپین اور ریاست کے دیہی علاقوں میں پارٹی کی اچھی کارکردگی کو پارٹی کی حق میں چل رہی لہر مان رہی ہے۔سال 2017 کے اختتام سے چند دنوں پہلے 2 جی سپیکٹرم اسکلالا کیس میں خصوصی سیبی آئی عدالت کی طرف سے سابق مرکزی وزیر اے. راجہ اور دیگر تمام الزامات کو بری کرنے کا فیصلہ پارٹی کی خاطر نیا سنجیوی ثابت ہو سکتا ہے. ادھر آدرش سوسائیٹی گھوٹالے کے معاملے میں مہاراشٹر کی سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر سربراہ اشوک چوھان پر مقدمہ چلانے کی حکمرانی کی منظوری دی ہے. اس سال ہمیں کانگریس پارٹی کا سوشل میڈیا میں اپنی موجودگی کو زور شور سے درج کرانے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔ سوسائٹی میڈیا کے ذریعہ مودی حکومت پر کئے جانے والے اپنے حملوں کی دھارکانگریس نے اورتیز کی ہے. اس معاملے میں بڑے پہلو راہل گاندھی کی طرف سے ہی ہوا تھا جن کے ٹویٹر فلووروں کی تعداد میں گزشتہ چند مہینے میں 50 لاکھ کا اعداد و شمار ختم ہوگئے ہیں. اور اپنی طرف سے سال ھر سال بھر میں مختلف معاملات بھر میں بڑھ چھڑ کر کانگریس کی رہنمائی کرتے ہوئے راہل نظر آئے. گجرات میں راہل کی قیادت میں کانگریس لیڈروں نے جس سرگرمی سے کمپین کی، اس سے سیاسی تجزیہ کاروں سے یہ خیال ہے کہ یہ آنے والے وقت پارٹی کے لئے امیدوں کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں. سال 2017 کا دسمبر مہینہ کانگریس کی تاریخ میں طویل وقت تک یاد رکھا جائے گا. بیتے 19 سال سے کانگریس کی قیادت میں سونیا گاندھی کی جگہ راہل گاندھی باقاعدہ صدر بن گئے. مجموعی طور پر یہ کہاجا سکتا ہے کہ سال 2017کانگریس کیلئے کچھ نئی امیدیں لیکر آرہا ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2017

حلف برداری تقریب کے بہانے شکتی پردرشن

گجرات میں وزیر اعلی وجے روپانی اور ہماچل میں وزیر اعلی جے رام ٹھاکر کی حلف برداری تقریب کو وسیع پروگرام بنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی بڑھتی طاقت کا پردرشن کیا ہے۔ یہ انعقاد ان ریاستوں میں بھی ماحول بنانے کی کوشش ہے جہاں اگلے برس اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کیبنٹ کے کئی ممبران اور نتیش کمار سمیت بھاجپا و اتحادی پارٹیوں کے حکمراں18 ریاستوں کے وزرائے اعلی کی شاندار موجودگی این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے سامنے بکھری اپوزیشن کو بے اثر بتانے کی کوشش بھی تھی۔ ہماچل پردیش کے ساتھ ساتھ گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کی جیت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سب سے طاقتور بنا دیا ہے۔ اس کا اثر پارلیمنٹ میں بھی کھلے عام دکھائی دینے لگا ہے۔ جیت کے بعد تو پارلیمنٹ کے حالات اور ان کے مطابق ہوگئے ہیں۔ لوک سبھا میں تو اکثریت کے چلتے ان کے اشارے پر ایوان چلتا ہی تھا اب راجیہ سبھا میں بھی وہی ہورہا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ شاید یہ پہلی بار ہوا کہ راجیہ سبھا چیئرمین پارٹی کی جانب سے جواب دے اور کہے کہ پارلیمنٹ سے باہر کے اشو پارلیمنٹ ایوان میں جواب دینے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ دونوں ریاستوں کے اسمبلی چناؤ جیتنے کے بعد بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس، ٹی ایم سی کے علاوہ زیادہ تر بڑی پارٹیاں بھاجپا کی حمایت میں ہیں یا ان کی دوری بھاجپا سے زیادہ کانگریس سے بنی ہوئی ہے۔ جے للتا کے مرنے کے بعد تو 37 ممبران والی انا ڈی ایم کے بھاجپا کی غیرا علانیہ ساتھی جیسی ایوان میں دکھائی دینے لگی ہے۔ یہی حال بیجو جنتادل کا بھی ہے۔ کانگریس بھی لوک سبھا میں کبھی حکمراں فریق کو نہیں گھیر پائی۔اب راجیہ سبھا میں کانگریس نمبروں کی تعداد میں بھاجپا سے پچھڑتی جارہی ہے۔ بھاجپا پردھان امت شاہ بھی راجیہ سبھا پہنچ گئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھاجپا کے سابق صدر ایم وینکیانائیڈو نائب صدر جمہوریہ کے ناطے راجیہ سبھا کے چیئرمین بن گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں راجیہ سبھا میں بھی بھاجپا کی طاقت بڑھتی جائے گی۔ پھر تو لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی سرکار اپے حساب سے بل پیش اور پاس کروائے گی۔ کانگریس کے ہر ممبر روز واک آؤ ٹ کررہے ہیں لیکن حکمراں فریق اپنے حساب سے دیر شام تک ایوان کی کارروائی چلا کرکے سرکاری کام کاج نمٹا رہی ہے۔ پارلیمنٹ 5 جنوری تک چلے گی اور اس کے تین ہفتے بعد پھر پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن شروع ہوگا۔ ابھی تک پارلیمنٹ میں سرکار گھرتی نہیں دکھائی دے رہی ہے البتہ وہ اپوزیشن کو حاشیے پر لگانے میں لگی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

اب حافظ سعید چناؤ لڑنا چاہتا ہے

پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے چیف اور ممبئی آتنک وادی حملے کا اہم سازشی حافظ سعید دہشت گردی انسداد اور پبلک سیکورٹی قانون کے تحت مہینوں سے نظربندی سے رہائی کے بعد اپنا جہادی ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ آتنک وادی تنظیم لشکرطیبہ کے بانی سعید کے سر پر 1 کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمیں پر محفوظ پناہ گاہ مہیا کرانے کو لے کر پاکستان کو وارننگ بھی دی ہے۔ امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے اپنے غیر اعلانیہ افغانستان دورہ کے دوران یہ بات کہی۔ امریکی وارننگ کے باوجود حافظ سعید اپنے ارادوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سعید نے اس مہینے کی شروعات میں تصدیق کی تھی کہ اس کی تنظیم جماعت الدعوۃ سال 2018 کے عام چناؤ میں ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) کے بینر تلے چناؤ لڑے گا۔ پاکستان چناؤ کمیشن نے ایم ایم ایل کو سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹرڈ کرنے سے منع کردیا تھا۔ کمیشن کے اس فیصلے کو ایم ایم ایل نے 11 اکتوبر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ پاک وزارت داخلہ نے ایم ایم ایل کی عرضی پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ وہ اس گروپ کے سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹریشن کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ یہ گروپ ممنوعہ تنظیموں کی شاخ ہے۔وزارت نے اپنے جواب میں کہا کہ سیاسی پارٹی حکم 2002 کے تحت ایسی تنظیم جو بنیادی حقوق کے تئیں پہلے سے بغاوت کا رویہ رکھتی ہو دیش کے اتحاد کو چنوتی دیتی ہو، نسلی علیحدگی پسندی کو فروغ دیتی ہو، علاقائی اور ذات پات نفرت پھیلاتی ہو اور جس کا نام آتنکی گروپ سے وابستہ ہو اسے سیاسی پارٹی کی شکل میں رجسٹرڈ کرنے پر روک ہے۔ 
پاکستان کا دورہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے۔کھلے طور سے وہ سعید کی تنقید کرتا ہے اور اندر خانے اس کی تعریف کرتا ہے۔ حافظ سعید اقوام متحدہ تک میں آتنکی قرار ہے۔ اس کے سر پر انعام ہے۔ امریکہ کھلے عام اسے آتنک واد اسپانسر کرنے کا الزام لگاتا ہے اور پاکستان سرکار اور ایجنسی اسے رہا کردیتی ہیں۔ اور اسے اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی پوری چھوٹ دیتی ہیں۔ حافظ سعید کھلے عام گھوم رہا ہے اور بھارت کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا ہے اس کو تو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2017

شیشے کی دیوار کے پارسے دیدار

مبینہ جاسوسی کے الزام میں اگلے دو برس سے پاکستان کی جیل میں بندسابق ہندوستانی بحریہ کے کلبھوشن جادھو کی اپنی ماں اور بیوی سے پاکستانی وزارت خارجہ کے دفتر میں جس طرح سے ملاقات کروائی گئی وہ صرف چھلاوے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کیا آپ اسے رشتے داروں کی ملاقات کہیں گے؟ بیوی اور ماں کسی سے ملنے جائیں اور ان کے بیچ ایک شیشے کی دیوار ہو ۔نہ اسپرش نہ النگن، بس ایک دوسرے کو دیکھ پانا اور اسپیکر کے ذریعے سے بات کرنا۔ کلبھوشن جادھو ان کی ماں اور بیوی کے لئے یہ ملاقات ایک بیحد جذباتی وقت رہا ہوگا کیونکہ پتہ نہیں پھر یہ موقعہ کب آئے گا۔ آئے گا بھی یا نہیں؟ پہلے تو پاکستان اس ملاقات کے لئے راضی ہی نہیں ہورہا تھا اور اب اس ملاقات کے بعد وہ انسانی بنیادپر اور فراق دلی برتے جانے کا ناٹک کررہا ہے۔ خوف کے ماحول میں کرائی گئی اس ملاقات میں سیکورٹی کے نام پر پریوار کے کلچرل اور مذہبی جذبات کی توہین بھی کی گئی۔منگل سوتر، چوڑی، بندی اتروا لی گئی اور پہناوے میں بھی تبدیلی کرائی گئی۔ بار بار درخواست کے باوجود جادھو کی بیوی کا جوتا ملاقات کے بعد واپس نہیں دیا گیا۔ جادھو کی بیوی اور ماں منگلوار کو نئی دہلی میں وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج سے ملیں۔ بھارت نے کہا کہ ملاقات کے بعد جو فیٹ بیک ملا ہے اس سے لگتا ہے کہ جادھو شدید تناؤ میں تھے اور وہ دباؤ کے ماحول میں بول رہے تھے۔ جو بھی وہ بول رہے تھے انہیں ویسا بولنے کے لئے کہا گیا تھا،جس سے پاکستان میں ان کی سرگرمیوں سے جڑے جھوٹے الزامات کو ثابت کیا جاسکے۔ ان کے جسم پر اذیتوں کے کئی نشان بھی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو ٹھینگا دیکھاتے ہوئے پاکستان نے ابھی تک جادھو تک بھارت کے ڈپلومیٹ کو پہنچنے نہیں دیا اور بھارت کے دباؤ کے سبب وہ جادھو کی ماں اور بیوی سے ملاقات کروانے کے لئے راضی ہوا۔ سارے قاعدے قانون کو طاق پر رکھ کر پاکستان نے جادھو کو موت کی سزا سنا رکھی ہے جس پر بین الاقوامی عدالت (آئی سی جے) نے بھارت کے حق میں اپنا انترم فیصلہ سناتے ہوئے آخری فیصلہ تک روک لگا رکھی ہے۔ کلبھوشن جادھو کا معاملہ پہلا ایسا معاملہ نہیں جب پاکستان نے کسی ہندوستانی شہری کو پکڑ کر جاسوس قراردیا ہو اور پھر پھانسی کی سزا سنا دی ہو۔ اس سے پہلے سربجیت کا معاملہ تو کئی سال تک موضوع بحث بنا رہا تھا۔ ایک ہی سربجیت پر پاکستان میں کئی نام سے مقدمے چلائے گئے تھے۔ خود پاکستان کے کئی انسانی حقوق رضاکار اس کے حق میں کھڑے ہوگئے تھے لیکن آخر کار پراسرار حالات میں اس کی جان لے لی گئی۔ چمیل سنگھ، کرن پال سنگھ نام کے دو ہندوستانیوں کو بھی پاکستان حال ہی میں پھانسی پر لٹکا چکا ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جو جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے اور پھانسی سے بچ گئے۔نہ جانے وہ کب سے وہاں کی جیلوں میں بند ہیں۔ اگر پاکستان اس ملاقات کے ذریعے دونوں ملکوں کے رشتوں میں کچھ بہتری کی امید کررہا تھا، تو وہ اس میں پوری طرح ناکام ہوگیا ہے اور اب بھارت اسے بین الاقوامی عدالت سے لیکر تمام دنیا میں اسے گھیرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑنا چاہے گا۔ بس اتنی تشفی ضرور ہے کہ کلبھوشن جادھوزندہ ہے۔
(انل نریندر)

دوکانوں کی سیلنگ سے دہشت

سینٹرل زون کی ڈیفنس کالونی میں ایم سی ڈی نے جمعہ کو تقریباً51 دوکانوں کو سیل کردیا۔ اس سے پوری دہلی کے تاجروں میں دہشت کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ساؤتھ دہلی کی دوسری مارکیٹ میں بھی سیلنگ کی کارروائی کا ڈر تاجروں کو ستا رہا ہے۔ چھترپور انکلیو میں بھی ماربل کے چھ شوروم سیل بند کردئے گئے ہیں۔ ایم سی ڈی کے مطابق دوکانداروں نے کافی عرصے سے کنورجن چارج نہیں دیاتھا ان دوکانوں کے اوپر ریزیڈینشل فلور کو سیل کیا گیا ہے۔ ساؤتھ دہلی کے شاپنگ سینٹرز کو کئی سال پہلے بنایا گیا تھا۔ ان شاپنگ سینٹر میں لوگوں کو گراؤنڈ فلور پر دوکان کھولنے اور اوپر فلور کو ریزیڈینشل یونٹ کی شکل میں استعما ل کرنے کے لئے الاٹ گیا تھا لیکن دوکانداروں نے اوپر ریزیڈینشل فلور کا بھی کمرشل یوز کرنا شروع کردیا۔ جس کے سبب انہیں 89 ہزار روپے فی مربع میٹر کے حساب سے کنورجن چارج جمع کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن دوکانداروں نے کنورجن چارج کی ادئیگی نہیں کی ۔ ان دوکانداروں پر کروڑوں روپے کا کنورجن چارج بقایا ہے۔ اس اشو پر ڈیفنس کالونی کے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم یہاں لمبے عرصے سے کاروبار کررہے ہیں۔ ایم سی ڈی کو کارروائی سے پہلے نوٹس دینا چاہئے تھا ، تاکہ تاجر بھی اپنا موقف رکھ پاتے۔ کاروباریوں نے کارروائی کو غلط بتاتے ہوئے کہا ان کا کمپلیکس مکس لینڈ یوز میں ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے کنوینر برجش گوئل نے کہا کہ ایم سی ڈی کی کارروائی پوری طرح غلط ہے۔ سیلنگ کے باوجود ڈیفنس کالونی کے دوکاندار کنورجن چارج چکانے کو تیار نہیں ہیں۔ دوکاندار اب ایم سی ڈی اور مانیٹنرنگ کمیٹی سے پوچھ رہے ہیں کہ 59 سال پہلے جن دوکانوں کو لینڈ اینڈ ڈولپمنٹ آفس نے کمرشل طور پر الاٹ کیاتھا اب وہ دوکانیں شاپ کم ریزیڈینشل کیسے ہوگئیں؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ صاف کئے بغیر کوئی بھی دوکاندار کنورجن چارج نہیں دے گا۔دوکانداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 89 ہزار روپے مربع میٹر کنورجن چارج کچھ مارکیٹ پر ہی لاگو ہے جن میں سروجی نگر، خان مارکیٹ اور گرین پارک ایکسٹینشن شامل ہیں۔ باقی بازاوں میں یہ چارج لاگو نہیں ہوگا۔ معاملہ سنگین ہے اور اس میں مرکز کو مداخلت کرنی چاہئے۔مانیٹرنگ کمیٹی کی سرگرمی سے سبھی علاقوں میں سیلنگ کو لیکر 2006-08 جیسی افراتفری پھر پیدا ہوسکتی ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ترمیمی بل جلد پاس کروائے کیونکہ موجودہ راحت کی میعاد 31 دسمبر تک ختم ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ کمیٹی نے منگلوار کو تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ میٹنگ کرکے طے کیا ہے کہ سیلنگ کے معاملہ میں دوکانداروں کے خلاف سخت رخ اپنانے کے بجائے انہیں کنورجن چارج جمع کرانے کے لئے 31 مارچ تک کا وقت دیا جائے۔ اگر لوکل شاپنگ سینٹر کے کاروباری گھٹا ہوا کنورجن چارج بھی جمع نہیں کراتے ہیں تو ان کے خلاف سیلنگ کی کارروائی کی جائے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2017

لالو کو جیل ہونے پر ان کی پارٹی و اپوزیشن پر کیا اثر ہوگا

چارہ گھوٹالہ کے ایک اور معاملہ میں آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو قصوروار قرار دئے جانے کے بعد ان کے سیاسی سفر پر تو سوالیہ نشان لگا ہی بلکہ عدالت کے اس فیصلہ کا اثر صرف بہار ہی نہیں بلکہ مرکز کی سیاست پر بھی پڑے گا۔ لالو کے جیل جانے سے جہاں ان کی پارٹی راشٹریہ جنتادل کے مستقبل پر اثر پڑے گا وہیں تمام اپوزیشن کے سروے سروا بنے لالو یادو کی غیر موجودگی اور خود ساختہ اپوزیشن اتحاد پر بھی اثر پڑے گا۔ بہار میں اقتدار سے باہر ہونے اور بیٹے تیجسوی کو آگے بڑھانے کے فیصلہ کے بعد سے ہی آر جے ڈی میں کئی سینئر لیڈروں کے بغاوتی سر اٹھنے لگے تھے حالانکہ لالو کے رہتے یہ نیتا کھل کرتو سامنے نہیں آ پائے، لالو کے جیل جانے کے بعد ان کے حوصلہ بلند ہوسکے ہیں اور یہ سیدھے تیجسوی اور تیج پرتاپ کی لیڈرشپ کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ قومی سطح پر لالو مودی سرکار کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے میں لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے یوپی میں بسپا اور سپا ،کانگریس کو ایک ساتھ لا کر مہا گٹھ بندھن بنانے کی کوشش کی تھی۔ بیشک اس میں زیادہ کامیابی نہیں پاسکے۔ آر جے ڈی کے کچھ لیڈر حکمراں جنتا دل (یو) میں جاسکتے ہیں۔ آر جے ڈی کی ساتھی کانگریس میں بھی اتھل پتھل مچ سکتی ہے۔ پارٹی کے15 سے زیادہ ممبران اسمبلی کے پہلے سے ہی بھاجپا ،جنتادل (یو) کے رابطہ میں ہونے کی خبریں ہیں۔ لالو کی غیرموجودگی اور آر جے ڈی کی نئی لیڈرشپ میں کم تجربہ کار ہونے کا فائدہ نتیش والی جنتا دل (یو)اور بھاجپا اٹھانے کی کوشش کرے گی۔ بتادیں کہ لالو کی مصیبتیں ابھی ختم نہیں ہوں گی۔ دو معاملوں میں فیصلے آچکے ہیں۔ دونوں معاملوں میں لالو پرساد یادو قصوروار قرار دئے گئے ہیں ،چار مقدمہ چل رہے ہیں ، ایک پٹنہ میں اور تین رانچی میں۔ چارہ گھوٹالہ کی جانچ اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سی بی آئی نے 1996 میں سے لیکر 1998 کے درمیان لالو پرساد یادو کے خلاف ایک کے بعد ایک 6 معاملہ درج کئے تھے۔ یہ سبھی معاملہ گھوٹالہ اور سازش سے جڑے ہوئے ہیں۔ بتادیں کہ یہ ساتویں بار ہے جب لالوجیل گئے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے لالو نے کئی بار ٹوئٹ کر فیصلے کو اپنے خلاف بھاجپا کی سازش بتایا اور کہا کہ سماجی انصاف کی لڑائی جاری رہے گی۔ بھاجپاکو چنوتی دیتے ہوئے لالو نے کہا کہ سنو کان کھول کر ، گدڑی کے لال کو پریشان کر سکتے ہو، ہرا نہیں سکتے۔ سامنتی طاقتوں میں جانتا ہوں لالو تمہاری راہوں کا کانٹا نہیں آنکھوں کی کھیل ہے لیکن اتنی آسانی سے اکھاڑ نہیں پاؤگے۔ ہم جیل جاتے رہیں گے لیکن جھکیں گے ہیں۔
(انل نریندر)

مہنگائی نے 15 ماہ کا ریکارڈ توڑا

ہم سرکار کی توجہ بڑھتی مہنگائی کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔ مہنگائی نے پچھلے 15 ماہ کا ریکارڈ توڑدیا ہے۔خوردہ مہنگائی نومبر میں بڑھ کر 6.88فیصد پر پہنچ گئی جو 15 ماہ میں سب سے زیادہ اونچی سطح ہے۔ پچھلے سال اگست میں مہنگائی شرح5.05 فیصد تھی۔نومبر 2017 میں یہ 3.63 فیصد تھی۔ پروٹین والے انڈوں کے دام پچھلے سال نومبر کے مقابلہ میں 7.95 فیصدی بڑھے ہیں۔ ایندھن میں مہنگائی نومبر میں 7.92 فیصدی بڑھی ہے جو اکتوبر میں 6.36 فیصد تھی۔ سب سے زیادہ اثر سبزیوں پر ہوا ہے۔ نومبر میں سبزیوں کی مہنگائی 22.48 فیصدی کی شرح سے بڑھی جو اکتوبر میں 7.47 فیصد تھی۔ خوردنی تیل کی بات کریں تو اس میں بہرحال لگاتار گراوٹ آرہی ہے۔ پچھلے سال نومبر کے مقابلہ میں سرسوں،دالوں کے داموں میں25.53 فیصد کی گراوٹ آئی۔ ایچ ڈی ایف سی بینک کی چیف اقتصادی ماہر تشار اروڑہ نے کہا کہ پیاز ،ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کے داموں میں اندازے سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ اس سے پورے مالی برس میں ریزرو بینک آف انڈیا کو سخت مشقت کرنی پڑے گی۔وزارت کامرس کے ذریعے اعدادو شمار کے مطابق ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر پیاز کے دام 178.19 فیصد بڑھے ہیں۔ سیزن کی دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 59.80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر میں ان سبزیوں کے دام 36.61 فیصد بڑھے تھے۔ پروٹین والی چیزوں مثلاً انڈوں، مچھلی کے زمرے میں افراط زر شرح 4.73 فیصد رہی۔ پچھلے مہینے یہ 5.76 فیصد تھی۔ نومبر میں غذائی اجناس کی افراط زر شرح بڑھ کر 6.06 فیصد ہوگئی، جو اکتوبر میں 4.30 فیصد تھی۔ تیار شدہ چیزوں کی افراط زر شرح 2.61 فیصد پر تقریباً مستحکم رہی۔ پچھلے مہینے یہ 2.62 فیصد تھی۔ اس سے پہلے پچھلے ہفتے جاری اعدادو شمار کے مطابق نومبر میں صارفین قیمت انڈکس پر مبنی افراط زر شرح 4.88 فیصد 15 مہینے میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی۔ ادھر معدنیات اور تعمیراتی سیکٹر کے کمزور پرفارمینس سے اکتوبر کی صنعتی پیداوار میں اضافہ شرح گھٹ کر 2.2 فیصد آگئی۔ یہ تین مہینے کی کم از کم سطح ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں صنعتی پیداوار میں اضافہ 4.2 فیصد تھا اس سال دسمبر میں یہ 4.14 فیصد تھی۔ رواں مالی سال اپریل۔ اکتوبر کی 7 ماہ کی میعاد میں صنعتی پیداوار میں اضافہ شرح محض 2.5 فیصد رہی۔پچھلے مالی سال کی اسی میعاد میں صنعتی پیداوار اضافہ 5.5 فیصد تھا۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2017

ادھیاتم کے نام پر یہ عیاشی کے اڈے

یہ ہمارے باباؤں کو کیا ہوگیا ہے؟ دھرم کی آڑ میں کچھ بابا بے قصور انویایوں کا جنسی استحصال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ابھی گورمیت سنگھ رام رحیم کی عیاشیوں کی داستان پرانی بھی نہیں ہوئی تھی کہ دیش کی راجدھانی میں ایک اور بابا کی کالی کرتوت کا پردہ فاش ہوا ہے۔ روہنی کے وجے وہار علاقہ میں ادھیاتمک یونیورسٹی کے نام سے چلنے والے آشرم کے بابا وریندر دیو دیکشت خود کو کرشن بتاتا تھا۔ وہ ہمیشہ مہلا چیلیوں کے درمیان رہنا پسند کرتا تھا۔ وریندر نے 16 ہزار مہلاؤں کے ساتھ رشتے بنانے کا ٹارگیٹ رکھا تھا۔ ادھیاتمک کی آڑ میں برسوں سے چلے آرہے سیکس ریکٹ کا انکشاف بیحد چونکانے والا ہے جہاں سینکڑوں لڑکیوں اور عورتوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر منگلوار دیر رات آشرم کی جانچ کرنے پہنچی دہلی مہلا کمیشن و دہلی پولیس کی ٹیم کو ملے ویڈیو میں یہ بات سامنے آئی۔ کارروائی میں کئی لڑکیوں کو محفوظ نکالا گیا اور دونوں ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا۔ مشتبہ سرگرمیوں اور مقامی لوگوں کے احتجاج و شکایت کے باوجود دہلی میں اب تک یہ آشرم بغیر روک ٹوک چلتا رہااس سے تصور تو کیا جاسکتا ہے کہ دیش کے دور دراز علاقوں میں کیا حالت ہوگی۔سیکس ریکٹ کا یہ سسٹم آدھیاتمک یونیورسٹی کے نام سے چل رہا تھا جس میں مذہبی کتابوں کی بجائے فحش کتابیں، خطوط ، دوا اور سرنج ملے۔ مذہب کی آڑ میں عورتوں کے جنسی استحصال کے قصے بار بار سامنے آتے ہیں۔ اس معاملہ میں یہ بھی صاف ہے کہ زیادہ تر غریب اور غیر محفوظ عورتوں کو آستھا کے نام پر ورغلایا گیا اور ایک سے زیادہ پولیس والوں کی بیٹیاں اور امریکہ میں پی ایچ ڈی کرکے لوٹی ایک لڑکی تک کا اس آشرم پھنس جانا مذہب سے جڑی ہماری دقیانوسی نظریئے کا ہی نتیجہ ہے جس کا غلط فائدہ رام رحیم اور وریندر دیو جیسے لوگ اٹھاتے ہیں۔ پولیس ٹیم کوملے ویڈیوسامنے آیا کہ وریندر خود کو کرشن بتاتا اور گوپیاں بنانے کے لئے انویائی لڑکیوں کو تعلق بنانے کے لئے راضی کرتا۔ آشرم میں لڑکیوں کو پانچ دن تک ایک کمرے میں بند رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد بابا ویڈیو دکھا کر ان کا برین واش کیا جاتا۔ دہلی مہلا کمیشن کی چیئرمین سواتی جے ہند ے بتایا کہ عورتوں کو نشے کی دوا دی جاتی تھی۔ انہوں نے عورتوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ دکشا لے رہی ہیں لیک وہاں کوئی مذہبی گرنتھ نہیں ملا۔ چار منزلہ آشرم کے اندر بورڈ پر لکھا تھا آپ سے کوئی پوچھے کیسے ہو تو کہنا کے خوش ہیں، پڑوسیوں نے بتایا کہ رات میں لڑکیاں یہاں سے آتی جاتی ہیں۔ یہاں جسم فروشی کا دھندہ چلتا ہے۔ عمر کم ہونے کے باوجود عورتوں کو باہر نکال دیا جاتا تھا۔مختلف ریاستوں کی لڑکیاں یہاں رہتی ہیں۔ ان میں خاص طور سے اڑیسہ، بنگال، کرناٹک، تاملناڈو، یوپی اور راجستھان وغیرہ شامل ہیں۔پورے معاملے کا انکشاف تب ہوا جب راجستھان کی عورت وریندر کے آشرم میں انویائی بن کر رہ چکی تھی اس نے اپنی چاروں بیٹیوں کو بھکتی کے لئے چھوڑا تھاجس میں ایک نابالغ ہے۔ اس نے بتایا کہ بابا نے اس کے ساتھ بدفعلی کی۔ مہلا اور اس کے شوہر نے بابا پر بدفعلی کا کیس درج کریا۔ بعد میں پورا معاملہ سامنے آگیا۔ بابا پر بدفعلی سمیت کئی دفعات میں 11 معاملے درج ہیں۔ پولیس ان سبھی کی جانچ کررہی ہے۔ وریندر دیکشت پر دہلی ہائی کورٹ نے شکنجہ کس لیا ہے۔ عدالت نے آشرم کی دیگر شاخوں کی جانچ کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی ہے کہ آشرم کے باجی وریندر دیو دیکشت کو پکڑ کر 4 جنوری تک عدالت میں پیش کرے۔ عدالت کے سامنے جمعرات کو 168 ایسی عورتوں ،لڑکیوں کی فہرست پیش کی گئی جو آشرم میں مبینہ طور پر یرغمال ہیں۔ ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کہاں چھپا ہے بابا وریندر دیکشت؟ نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ نے پوچھا کہ آشرم کے بانی اور ادھیاتمک انچارج سچے ہیں تو پیش کیوں نہیں ہورہے ہیں وہ کہاں ہیں؟ یہ محض اتفاق نہیں کہ 21 ویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں مذہب کے نام پر ٹھگنے والے لوگوں کی دوکانیں بھی اسی زور شور سے چل رہی ہیں۔ ہم آستھا اور ادھیاتم کی تو بات کرتے ہیں لیکن اس پر کبھی غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ دیش کی بڑی آبادی آج بھی مذہب کے نام پر ٹھگی کا شکار کیوں بن رہی ہے؟ پچھلے کچھ عرصہ سے ان باباؤں کی کالی کرتوت کا پردہ فاش ہورہا ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ بھولی بھالی جنتا کو مذہب کے نام پر اس طرح گمراہ کرکے اپنی نجی عیاشی کا شکار بنانے والے ان دھونگی باباؤں کا پردہ فاش ہورہا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ہماری بھولی بھالی جنتا ان کے شکنجہ میں پھنسنے سے بچے گی۔
(انل نریندر)

میکس اسپتال کا لائسنس کس نے بحال کیا

زندہ نوزائیدہ کو مردہ قراردینے والا شالیمار باغ میکس اسپتال پھر سے کھل گیا ہے۔ بدھوار کو اپیل اتھارٹی مالی کمشنر نے اسپتال کا لائسنس منسوخ کئے جانے کے دہلی سرکار کے فیصلہ کو پلٹ دیا۔ جب لائسنس بحال کرنا ہی تھا تو سرکار کو یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بھاجپا نے اس کے پیچھے سرکار اور اسپتال کے درمیان بڑی سودے بازی ہونا بتایا ہے۔ عاپ سے برخاست وزیر کپل مشرا نے اسے کیجریوال کی سوچی سمجھی سازش بتایا ہے۔ وہیں دہلی حکومت نے اس معاملہ کو لیفٹیننٹ گورنر کے اوپر ڈالنے کی بات کہیں ہے۔ اسے لیکر عام آدمی پارٹی نے دو بار پریس کانفرنس بلائی اور صفائی دیتی رہی۔ ادھر لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی جانب سے پہلی کی صاف کردیا گیا تھا کہ ان کا اس معاملہ میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنے ذاتی فائدہ کے مقصد سے اس طرح کی باتیں کررہے ہیں۔ پچھلی 8 دسمبر کو شالیمار باغ میں واقع میکس اسپتال کا دہلی سرکار نے لائسنس منسوخ کیا تھا۔ زندہ بچے کو مردہ بتانے اور پیکٹ میں سیل کرکے رشتے داروں کو سونپنے کے معاملہ میں یہ کارروائی کی گئی تھی۔ ادھر دہلی سرکار کی 8 دسمبر کو ہوئی اس کارروائی کے بعد اسپتال انتظامیہ اس معاملہ کو لیکر دہلی سرکار کے مالی کمشنر کے پاس گئی تھی۔ مالیاتی کمشنر اس طرح کے معاملہ میں اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ اس نے اپنی پہلی ہی سماعت پر لائسنس منسوخ کئے جانے کے سرکار کے فیصلے پر روک لگادی۔ روک لگانے کے بعد اسپتال میں سبھی علاج سے متعلق خدمات پہلے کی طرح بحال ہوگئی ہیں۔ دہلی سرکار نے اپیلیٹ اتھارٹی کی روک میں چنوتی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکار دہلی ہائی کورٹ میں معاملہ لے کر جائے گی۔ یہ دلاسہ جمعہ کو متوفی بچوں کے رشتے داروں کو وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کیس میں سرکار کے سینئر وکیل کام کررہے ہیں۔ مردہ بچوں کے دادا کیلاش سنگھ نے بتایا کہ جمعہ کی صبح کو وزیر اعلی نے انہیں اپنے گھر پر بلایا تھا۔ وہاں ملاقات میں رشتے داروں سے معاوضے کا ایک فارم بھروایا گیا۔ساتھ ہی سرکار کے اچھے وکیلوں کو کیس میں لگانے اور رشتے داروں کی ہر ممکن مدد کرنے کا یقین بھی دلایا۔ بتادیں کہ لائسنس منسوخ ہونے کے فیصلے پر روک لگانے کے بعد ہی رشتے دار میکس اسپتال کے باہر بیٹھے ہیں۔ ان کی مانگ ہے کہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2017

نابالغ طالبعلم پر بالغ کی طرح مقدمہ

پردیومن قتل معاملہ میں جوینائل جسٹس بورڈ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 11ویں کلاس کے ملزم نابالغ طالبعلم پر بالغ کی طرح مقدمہ چلانے کا جو حکم دیا ہے وہ بلا شبہ ایک دوررس اثر ڈالنے والافیصلہ ہے۔ اس فیصلے کو آئی پی سی کی تاریخ میں ایک دوررس قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔یعنی جرائم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پردیومن کو قتل کرنے والے نابالغ ملزم پر کسی بالغ کی طرح مقدمہ چلایا جائے گا۔ نربھیا کے ساتھ ہوئے اجتماعی آبروریزی میں بھی سب سے بربریت ایک نابالغ نے ہی کی تھی ۔ تب جنسی تشدد کے خلاف قانون کے ساتھ جوینائل جسٹس قانون کو بھی سخت بنایا گیا جس میں سہولت ہے کہ جوینائل جسٹس کورٹ چاہے تو نابالغ کے خلاف بالغ کی طرح مقدمہ چلانے کی اجازت دے سکتی ہے۔ جوینائل جسٹس بورڈ نے سی بی آئی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جیسے ہی یہ فیصلہ سنایا اس کے حق میں اور مخالفت میں بحث شروع ہوگئی۔ ایک فریق مانتا ہے کہ یہ صحیح فیصلہ ہے کیونکہ جس طرح کی حیوانیت پکڑے گئے گیارویں کے طالبعلم نے برپا کی تھی وہ ایک بالغ جرائم کی سنگنیت ہی تھی۔ یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ اگر نابالغوں کو گھناؤنا جرائم پیشہ مان کر برتاؤ کیا جائے گا تو اس سے جرائم بڑھیں گے اور جرائم کرتے وقت ان کے دل میں یہ احساس ہوگا کہ ان کے ساتھ نابالغ سمجھ کر برتاؤ ہوگا اور عام سزا کو بال سدھار گرہ میں آرام سے کاٹ لیا جائے گا۔ نربھیا معاملہ میں یہی ہوا۔ ایک جرائم پیشہ جس پر سب سے زیادہ حیوانیت کا الزام تھا اسے نابالغ مان کر مقدمہ چلا اور اسے سخت سزا بھی نہیں دی گئی۔ اس کا فائدہ بڑے جرائم پیشہ گروہ بھی اٹھاتے ہیں اور وہ نابالغ سے جرم کرواتے ہیں۔ ان کو یہ سمجھا دیتے ہیں کہ اگر تم پکڑے گئے تو تب بھی تم کو بڑی سزا نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر نابالغ نے نا سمجھی میں کوئی جرم کردیا تو اس کے ساتھ ایک بالغ مجرم کی طرح برتاؤ نہیں کیا جانا چاہئے۔اسے سدھرنے کا موقعہ ملنا چاہئے تاکہ اس کا مستقبل جرائم سے پا ک ہوسکے۔ اگر اسکول میں پی ٹی ایم اور امتحان ٹلوانے کے لئے کوئی طالبعلم کسی کا قتل کردے جیسا کہ سی بی آئی نے دعوی کیا ہے تو اسی معاملہ میں جرم کی سنگینیت بتانے کے لئے کافی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس فیصلہ کو ہر معاملہ کی نظیر کی طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔ اب عدالتوں کو طے کرنا ہے کہ نابالغ جرم بالغ کے جرم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔
(انل نریندر)

ایک لاکھ76 ہزار کروڑ کا 2 جی گھوٹالہ جو کبھی ہوا ہی نہیں

اب تک 2 جی گھوٹالہ کو دیش کا سب سے بڑا گھوٹالہ مانا جاتا تھا لیکن سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ میں یہ ایک روپئے کا بھی گھوٹالہ ثابت نہیں ہوسکا۔ عدالت نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ گھوٹالہ ہے ہی نہیں۔ سرکاری دستاویزوں سے نکلی محض ایک افواہ ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ سے وابستہ معاملوں میں سی بی آئی اسپیشل جج اوپی سینی نے سارے ملزمان کو الزام سے بری کردیا۔بیشک سی بی آئی نے اس فیصلہ کو بڑی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہی ہے کہ وہ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ پچھلے سات سال میں ٹوجی اسپیکٹرم کے الاٹمنٹ میں ہوئی بے ضابطگیوں ، کرپشن اور پیسے کے لین دین کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے درکار ثبوت اکٹھا نہیں کرپائی نتیجتاً اسپیشل جج نے سابق کمیونی کیشن وزیر اے راجا اور ڈی ایم کے ایم پی، سابق کمیونٹی کیشن سکریٹری سدھارتھ بیہورہ سمیت تین ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں سوان ، یونیٹیک اور ریالائنس کے حکام کو الزام سے بڑی کردیا۔ اس پورے معاملہ میں یوپی اے حکومت کے عہد میں تب زلزلہ لا دیا تھا اس وقت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل ونود رائے نے اپنی رپورٹ میں یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ2007-8 میں ٹوجی کا لائسنس الاٹمنٹ 2001 کی شرحوں سے کیا گیا جس میں سرکار کو اندازاً 1.76 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ حالانکہ سی بی آئی نے جو معاملہ درج کئے ان میں اس نے 30 ہزار کروڑ روپئے کے نقصان کی بات کہی تھی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں یوپی اے نے 2009 میں پھر سے کامیابی حاصل کر اپنی دوسری میعاد یہاں یوپی اے ۔2 شروع کی تھی۔ کانگریس کی رہنمائی والی سرکار کا کام کاج سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا تبھی ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کی گونج نے نہ صرف کانگریس بلکہ پورے دیش کی سیاست کی سمت اور حالت کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔ ایسے میں جب جمعرات کو اسپیشل کورٹ نے اس کے ملزمان کو مقدمے میں بری کردیا ہے تو اس کے معنی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکم آنے کے محض 30 منٹ کے اندر ہی کانگریس کی جانب سے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سابق وزیر پی چدمبرم اور سابق ٹیلی کام منتری کپل سبل سمیت پارٹی کے ترجمان جارحانہ انداز میں میڈیا کے سامنے آئے۔ فطری ہی ہے کہ ٹو جی میں ملزمان کے بری ہونے سے کانگریس گد گد ہے۔ پارٹی اس معاملہ کو بڑی جیت کی شکل میں پروپگنڈہ کرنا چاہے گی۔ راہل گاندھی کے کانگریس صدر بننے کے بعد پہلی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میںیہ فیصلہ ہوا کہ پورے دیش میں یہ پیغام دیا جائے کہ ٹوجی گھوٹالہ کے نام پر وزیر اعظم مودی اور بھاجپا نے پورے دیش میں کانگریس کو بلا وجہ بدنام کیا۔ کانگریس ٹو جی میں 176 ہزار کروڑ روپئے گھوٹالہ کا اندازہ لگانے والے اس وقت کے سی اے جی ونود رائے کو کھلنائک کی طرح پیش کرنا چاہتی ہے اور دیش کو بتانا چاہتی ہے کہ انہوں نے سی اے جی کی ڈرافٹ رپورٹ لیک کرکے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملا لیاتھا۔ اسی سلسلہ میں پارٹی وزیر اعظم کے سکریٹری نرپندر مشر کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتی جو ٹو جی گھوٹالہ کے وقت ٹرائی کے چیف تھے اور ان کی ہی سفارش پر اسپیکٹرم کا الاٹمنٹ کیا گیا تھا۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملہ میں سابق وزیر اے راجا سمیت سبھی ملزمان کو بری کرتے ہوئے اسپیشل جج اوپی سینی نے کہا ایک بھی ثبوت نہیں ملا جس سے اس میں کوئی گھوٹالہ نظر آئے۔ جج موصوف نے کہا کہ پچھلے سات برسوں سے ورکنگ ڈیز میں، سمر وکیشن کے دوران بھی میں پورے بھروسے کے ساتھ صبح دس بجے سے لیکر شام پانچ بجے تک اوپن کورٹ میں بیٹھا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ کسی کے پاس کوئی ثبوت نکلے لیکن کچھ بھی نہیں نکل کر آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کوئی افواہ، گپبازی اور تصورات سے ہی بنی عام رائے میں کہہ رہا تھا۔ حالانکہ جنتا کی سوچ عدلیہ کی کاروائیوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ادھر کانگریس کے میڈیا انچارج رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ٹوجی معاملہ میں بی جے پی کی پول کھل گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ ٹوجی معاملہ کے بعد انعام کے طور پر سابق سی اے جی چیف ونود رائے کو بی سی سی آئی میں اہم عہدہ دینے کے ساتھ ساتھ بینکوں میں اصلاحات کیلئے بنی کمیٹی کی سربراہی سونپ دی گئی۔ وہیں غلام نبی آزاد نے کہا کہ آج اس ٹوجی معاملہ میں فیصلہ آیا جس کے سبب ہم اپوزیشن میںآئے اور این ڈی اے اقتدار میں آئی۔ سی بی آئی ذرائع نے کہا فیصلہ سے مایوسی ہوئی لیکن ہمیں پختہ بھروسہ ہے کہ ہائی کورٹ میں اپنی بات ثابت کرنے کے لئے درکار ثبوت پیش کریں گے اور پورے معاملے میں ہمارے پاس ایسے حقائق ہیں جس سے بالائی عدالت میں مقدمے کا رخ مڑے گا۔ ادھر مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا کہ کانگریس فیصلہ کو ایمانداری کا سرٹیفکیٹ مان رہی ہے لیکن یہ کرپٹ پالیسی تھی۔ کانگریس اس فیصلے کو ایمانداری کا تمغہ مان رہی ہے جو صحیح نہیں ہے۔2012 میں سپریم کورٹ نے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے معاملہ کو منمانا اور غیر مناسب بتاتے ہوئے منسوخ کردیا تھا۔ وزیر کمیونی کیشن منوج سنہا نے کہا کہ آٹھ کمپنیوں کے منسوخ ہوئے 122 ٹیلی کمیونی کیشن لائسنس کے بارے میں مستقبل سی بی آئی کے اگلے قدم پر منحصر کرے گا۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2017

کیا بند ہوسکتا ہے2000 روپئے کا نوٹ

نوٹ بندی کتنی خطرناک ثابت ہوئی تھی یہ جنتا ابھی تک بھولی نہیں ہے اور اب 2000 روپئے کے نئے نوٹ کو لیکر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ریزرو بینک نے یا تو بڑی تعداد میں دو ہزار روپئے کے نوٹ جاری کرنے سے روک دیا ہے یا پھر اس کی چھپائی بند کردی گئی ہے۔ بھارتیہ اسٹیٹ بینک کی ایکوفلیش رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہے کہ لوک سبھا میں حال ہی میں پیش کئے گئے اعدادو شمار سے اگر ریزرو بینک کی سالانہ رپورٹ میں دئے گئے اعدادو شمار کا ملان کیا جائے تو یہ پتہ چلا ہے کہ مارچ2017 تک بینکنگ مشینری میں جاری چھوٹی رقم والے نوٹوں کی کل مالیت 3501 ارب روپئے تھی اس لحاظ سے 8 دسمبر کو معیشت میں دستیاب کل کرنسی میں سے چھوٹے نوٹوں کی ویلیو ہٹانے کے بعد ہائی ویلیو زمرے کے نوٹوں کی کل ویلیو 13324 ارب روپئے کے برابر ہونی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں وزارت مالیات کے ذریعے دی گئی معلومات کے مطابق 8 دسمبر کی پوزیشن کے مطابق ریزرو بینک نے 500 روپئے کے 1695.7 کروڑ نوٹ چھاپے جبکہ 2000 روپئے کے 365.40 کروڑ روپئے کے نوٹوں کی چھپائی ہوئی۔ دونوں ویلیو کیٹگری کے نوٹوں کی کل مالیات 15787 ارب روپئے بیٹھتی ہے۔ ایس بی آئی گروپ کے چیف معاشی مشیرسمیا کانتی گھوش کے ذریعے لکھی گئی اس رپورٹ کے مطابق، اس کا مطلب ہے کہ بڑی مالیت کیٹیگری کے باقی بچے 2463 ارب روپئے کے نوٹ ریزرو بینک نے چھاپے تو ہیں لیکن انہیں بازار میں جاری نہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد پر یہ مانا جاسکتا ہے کہ 2463 ارب روپئے کی کرنسی چھوٹی رقم کے نوٹوں میں کافی چھاپی گئی ہو۔ مرکزی بینک نے اس درمیان اتنی رقم کے 50 اور 200 روپئے کے نوٹوں کی چھپائی کی ہو۔ رپورٹ کے مطابق 2000 روپئے کے نوٹ سے لین دین میں ہورہی دقتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ریزرو بینک نے یا تو 2000 روپئے کے نوٹ کی چھپائی روک دی ہے یا کم کردی ہے۔ رائج دستیاب کل کرنسی میں چھوٹی رقم کے نوٹوں کا حصہ ویلیو کے حساب سے 35 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے پچھلے سال 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ نوٹ تب چلن میں جاری کل کرنسی کا 86 سے 87 فیصد تھے۔ اس سے نقدی کی کمی ہوئی اور بینکوں میں چلن سے ہٹائے گئے نوٹوں کو بدلنے یا جمع کرنے کو لیکر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ اس کے بعد ریزرو بینک نے 2000 روپئے ویلیو کے نئے نوٹ کے ساتھ 500 روپئے کابھی نیا نوٹ جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ریزرو بینک نے 200 روپئے کا بھی نوٹ جاری کیا۔ 2000 کے نوٹ بند کرنے کی قیاس آرائیوں کی ابھی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
(انل نریندر)

پنامہ پیپرس میں کارروائی شروع

بدنام زمانہ پیپرس معاملہ میں ہندوستان کے محکمہ ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کارروائی شروع کردی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے دہلی اور این سی آر میں 25 سے زائد ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی ہے۔ محکمہ کی ٹیم نے پٹیل فوڈ پروسسنگ مالی سروس اور ٹائر کے کاروبار میں شامل تین کاروباری گروپوں پر چھاپہ ماری میں 4 کروڑ نقدی اور زیورات اپنے قبضے میں لئے ہیں۔ سی بی ڈی ٹی نے حال ہی میں کہا تھا کہ پنامہ پیپرس معاملہ میں 792 کروڑ روپئے کے غیر اعلانیہ اثاثے کا پتہ چلا ہے اور اس کی جانچ تیزی سے جاری ہے۔ ایک سال پہلے واشنگٹن میں واقع انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹیگیٹک جرنلسٹ نے پنامہ پیپرس کا خلاصہ کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکیوریٹ نے کاروباری اور سابقہ آئی پی ایل چیئرین امین کے کنٹرول والی کمپنی کے 10.35 کروڑ روپئے کی مالیت کے میوچل فنڈ کو فیما قانون کے تحت ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی پنامہ پیپرس معاملہ میں کی گئی ہے۔ پنامہ پیپرس معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 46 اور فرموں کو فیما قانون کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ پنامہ پیپرس نے تقریباً 150 معاملوں کو کارروائی کے لائق مانتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اب تک متعلقہ فرموں کو نوٹس جاری کرچکا ہے۔ پنامہ پیپرس معاملہ کی جانچ کے لئے مرکزی سرکار نے ای ڈی سمیت کئی ایجنسیوں کو ملا کر ملٹی ایجنسی گروپ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں اب تک 7 رپورٹ حکومت کو بھیجی جاچکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال انٹرنیشنل کنسورٹیم آف انویسٹیگیٹک جرنلسٹ نے تقریباً1 کروڑ 15 لاکھ خفیہ دستاویزات کو عام کیا تھا۔ اس کے مطابق پنامہ میں واقع موروک فونسیکا فرم نے کئی ملکوں کے شہریوں کو ٹیکس بچانے میں غیر قانونی طور سے مدد کی تھی۔ ان میں بھارت یا ہندوستانی نژاد 426 لوگوں اور فرموں کے نام تھے۔ ادھر پڑوسی ملک پاکستان نے پنامہ پیپرس کو لیکر سخت کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ ان پیپرس کے سبب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدہ سے ہٹنا پڑا تھا۔ نواز شریف کو اس معاملہ کو لیکر پاکستان کے قومی جوابدہی بیورو کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ شریف اپنی بیٹی مریم شریف ایک داماد محمد صفدر کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ بھارت ابھی نوٹس جاری کررہاہے اور پاکستان میں تو کارروائی بھی شروع ہوچکی ہے۔ یہ تصور بھارت میں نہیں کیا جاسکتا کہ کرپشن کے الزام میں کسی سرکردہ شخصیت کو عہدہ سے ہٹنا پڑے۔
(انل نریندر)

22 دسمبر 2017

گجرات میں بی جے پی سے زیادہ نریندر مودی کی جیت ہے

گجرات چناؤ میں ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ کانگریس اور بھاجپا کی کافی قریبی ٹکر ہے۔ کانگریس اس چناوی جنگ میں کافی مضبوطی سے سامنے آئی اور راہل گاندھی کی تابڑ توڑ کوششیں رنگ لاتی دکھائی دیں۔ شاید وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی یہ احساس ہوگیا تھا کہ بازی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ بی جے پی نے ہماچل پردیش میں بھی آسان جیت درج کی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے اپنے حکمرانی کے دائرہ میں ایک اور ریاست کو جوڑ لیا۔ بیشک بی جے پی نے ہماچل اور گجرات میں جیت کا سلسلہ جاری رکھا لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ جیت پارٹی سے زیادہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جیت ہے۔ ہماچل پردیش میں بی جے پی کی جیت کو لیکر کسی کو بھی شک نہیں تھا۔ ویسے بھی ہماچل پردیش کی تاریخ رہی ہے یہاں پانچ سالوں میں سرکاریں بدلتی ہیں۔ پردیش کے پانچ برسوں کا فطری طور سے بی جے پی کے پالے میں جانا تھا لیکن گجرات میں بی جے پی کی جیت معنی رکھتی ہے۔ گجرات میں بی جے پی کے خلاف کئی اشو تھے۔ 22 سالوں کی اقتدار مخالف لہر، ہاردک پٹیل کی لیڈر شپ میں پاٹیداروں کی تحریک، جگنویش میوانی کی رہنمائی میں دلتوں کی تحریک، پسماندہ برادری کے ٹھاکر کی ناراضگی تھی جس کی قیادت الپیش ٹھاکر کررہے تھے۔ سورت اور گجرات کے کئی دیگر شہروں میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے تاجر ناراض تھے۔ گجرات میں نریندر مودی کا نہ ہونا بھی بی جے پی کے خلاف جا رہاتھا لیکن سارے برعکس حالات کو بی جے پی کنارہ کرتے ہوئے ایک بار پھر گجرات میں کامیابی حاصل کرلی۔ حالانکہ 2012ء میں پارٹی کو 115 سیٹیں ملی تھیں اس مرتبہ99 پر ہی سمٹ گئی۔ بیشک اس بار بی جے پی کے ووٹ شیئر میں معمولی اضافہ ہوا ہے 2012ء میں بی جے پی کا ووٹ شیئر 48.30 فیصدی تھااس بار49.1 فیصدی ہے۔ بی جے پی کے حق میں آخر کونسے عوامل تھے جس سے اسے جیت ملی؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے آخری دو ہفتوں میں کافی جارحانہ چناؤ کمپین کی جس سے منقسم ووٹروں نے جو کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالنے کا من بنا چکے تھے اس کے بعد انہوں نے پولنگ سے ٹھیک پہلے مودی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ لے لیا۔ مودی کی کمپین کے بعد بی جے پی کے حق میں ووٹ پولنگ کا رخ بڑے سطح پر ٹکا ہوا تھا۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ گجرات میں قریب 33 فیصد ووٹروں نے پولنگ کے کچھ دن پہلے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔ شروعات کے کچھ ہفتوں میں کانگریس نے جارحانہ کمپین چلائی تھی کانگریس کی کمپین کے سبب بی جے پی بیک فٹ پر نظر آرہی تھی۔ لیکن جب نریندر مودی نے بھی جارحانہ کمپین شرو ع کی تو کانگریس کی چناوی مہم پر بھاری پڑنے لگی۔ منی شنکرایر کے تبصرہ کے بعد مودی کی چناوی کمپین کو اور رفتار مل گئی۔ ایر کے نیچ والے تبصرہ کے بعد بی جے پی پوری طرح سے حملہ آور ہوگئی تھی۔ مودی نے منی شنکر ایر کے بیان کو گجراتی وقار اور پہچان سے جوڑدیا۔ اس کے بعد کانگریس چناوی کمپین میں بی جے پی کے مقابلہ بیک فٹ پر آگئی اور اس نے جو بی جے پی کے خلاف ماحول بنایا تھا اسے بھاری دھکا لگا۔کانگریس نے ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی، الپیش ٹھاکر اور باسوا جیسے مختلف فرقہ کے نیتاؤں کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جس کے نتیجہ نے پچھلے چناؤ کے برعکس ان فرقے کے کچھ ووٹ کانگریس کو زیادہ ملے۔ پاٹیداروں کے زیادہ تر لوگ بی جے پی کو ملے حالانکہ اس تبدیلی سے کانگریس جیت کا ذائقہ نہیں چکھ پائی۔ کانگریس کو امید تھی کہ پاٹیداروں کے ووٹ اس کے حق میں جائیں گے لیکن چناؤ کے بعد ہوئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ پاٹیداروں کے 40 فیصدی سے بھی کم ووٹ کانگریس کو ملے جبکہ بی جے پی 60 فیصدی پاٹیداروں کے ووٹ پانے میں کامیاب رہی۔ جگنیش میوانی کے ساتھ اتحاد بھی کانگریس کے لئے کام نہیں کرسکا۔ 47 فیصدی دلتوں کے ووٹ کانگریس کو ملے جبکہ بی جے پی 45 فیصدی دلت ووٹ پانے میں کامیاب رہی۔ اس طرح او بی سی ووٹ بھی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان بٹ گیا۔ پاٹیداروں کے بٹے ووٹ کی بھرپائی بی جے پی نے آدیواسی ووٹوں سے کرلی۔ 52 فیصدی آدی واسی ووٹ بی جے پی کو گئے وہیں 40 فیصدی آدیواسیوں کے ووٹ کانگریس کو گئے۔ ویسے بھی بی جے پی کی گجرات میں ایک اور چناؤ جیتنے کے لئے اور کانگریس سے ہماچل چھیننے کے لئے خوش ہونا چاہئے لیکن ان کامیابیوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گجرات میں حکمراں پارٹی کے اندر سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ کل ملا کر دونوں ریاستوں میں ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ہے جو سرکار کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی پالیسیوں سے غیر مطمئن ہے۔ کسان حکومت سے خفا ہے کیونکہ وہ ان کی مشکلوں کا حل نکالنے کے لئے ضروری کوشش نہیں کررہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب کے باوجود ایک بڑی آبادی نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا اور برعکس ماحول کے باوجود اگر گجرات میں بی جے پی جیتی تو اس کا سارا سہرہ وزیر اعظم نریندر مودی کو جاتا ہے۔ ان کی تابڑ توڑ کوششیں رنگ لائیں۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2017

99 کا پھیر ۔۔۔2

گجرات چناؤ کے دوران مختلف مندروں میں جاکر درشن کرنے کی وجہ سے کئی بار سرخیوں میں آئے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے بارے میں اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی ہریش راوت نے دلچسپ دعوی کیا ہے۔ ہریش راوت کے مطابق سومناتھ مندر کے درشن کرنے پر بابا کی کانگریس پر بڑی مہربانی ہوئی اور کانگریس سومناتھ علاقہ کی چاروں سیٹوں پر کامیاب رہی۔ کانگریس بھلے ہی گجرات میں 22 برسوں سے اقتدار پر قابض بھاجپا کو ہرا نہ پائی ہو لیکن کانگریس اور اس کے لیڈر راہل گاندھی نے گجرات میں مقامی اشو اور ترقی کا مسئلہ کچھ یوں اٹھایا کہ گجرات میں کانگریس ہار کر بھی اخلاقی طور سے جیت گئی۔ جس طرح سے راہل گاندھی گجرات میں لوگوں کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب رہے اس کا فائدہ آنے والے وقت میں اپوزیشن کی ایکتا کو بنائے رکھنے اور مودی کو چنوتی دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے ایک سینئرلیڈر کا کہنا تھا کہ گجرات چناؤ میں راہل کو پکا لیڈر بنا دیا ہے اور اپوزیشن کو چہرہ مل گیا ہے۔ نوٹا نہ ہوتا تو فائدے میں رہتی کانگریس۔ گودھرا میں بی جے پی کے راؤل جی نے258 ووٹ سے کانگریس کے راجندر سنگھ پرمار کو ہرایا۔ اس سیٹ پر 3050 ووٹ نوٹا کو ملے۔ دھولکا میں بی جے پی کے بھکتے سنگھ چوڈسما نے کانگریس کے اشون بھائی راٹھور کو 327 ووٹ سے ہرایا جبکہ نوٹا کو ملے 2347 ووٹ۔ بوٹان میں بی جے پی سے کانگریس یہ سیٹ 906 ووٹ سے ہاری۔ یہاں نوٹا کو 1334 ووٹ ملے۔ اسی طرح کم سے کم چار اور سیٹوں پر امریڈ ،ڈانگ، دیودار اور کپراڑا میں نوٹا نے کانگریس کا کھیل بگاڑ دیا۔ ادھر کے نیتاؤں کے بھروسے گجرات کی چناوی جنگ جیتنے نکلی کانگریس کے ہاتھ اقتدار کی بھاگ ڈور تو نہیں لگی لیکن کانگریس کے کندھے پر پاؤں رکھنے والے ان لیڈروں کی سیاست ضرور چمک گئی۔ کانگریس کو سہارا دے کر کھڑا کرنے والے الپیش اور جگنیش نے خود تو چناؤ جیت لیا لیکن دیگر سیٹوں پر کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ تو کیا گجرات اسمبلی چناؤ نتائج نے ای وی ایم تنازعہ کو پوری طرح ختم کردیا ہے۔ ای وی ایم پر اٹھے سوال نتیجے تو یہی نکال سکتے ہیں کہ چناؤ کمیشن نے اس بار پہلی مرتبہ گجرات میں سبھی182 سیٹوں پر وی وی پیٹ کا استعمال کیا تھا جس کے تحت ہرووٹر کو ووٹ ڈالنے کے بعد پرچی ملی۔ اپوزیشن لگاتار ای وی ایم کے جواز پر سوال اٹھا رہی ہے اور چناؤ کمیشن کے ذریعے بیلٹ پیپر سے چناؤ کروانے کی مانگ پر اڑی ہوئی ہے۔ گجرات چناؤ نتائج کے بعد یہ تنازعہ ختم ہوجانا چاہئے۔ اس بار کئی معنوں میں چناؤ اہم تھا۔ یہ کسی ایک ریاست کا عام اسمبلی چناؤ نہیں تھا بلکہ اس بار بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ کانگریس اس بات سے تشفی حاصل کرسکتی ہے کہ لوک سبھا چناؤ 2014 کے مقابلے اس بار بی جے پی کا ووٹ فیصد 10 فیصدی سے کم کرنے میں کامیاب رہی تو بی جے پی اس بات پر تشفی کرسکتی ہے کہ ناراض ووٹ کے باوجود وہ 2012 سے زیادہ ووٹ حاصل کرپانے میں کامیاب رہی۔ جس کانٹے کے مقابلہ میں بی جے پی نے گجرات میں جیت حاصل کی اس سے وہاں کی سیاست ہمیشہ کے لئے بدل جائے گی۔ برسوں بعد ریاست کا چناؤ مذہبی پولرائزیشن سے ہٹ کر ذات پات کے تجزیئے میں بدل گیا ساتھ ہی بھلے ہی نتیجوں کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ اس چناؤ کو کانٹے کی ٹکر ماننے سے انکار کررہے ہوں لیکن بی جے پی کے لئے جیت کے ساتھ ہی چناؤ ایک وارننگ بھی ہے۔ اس ریزلٹ نے بی جے پی کو یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ گجرات کے دیہاتی علاقوں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنا اس کے لئے بڑی چنوتی ہے۔ جس طرح کانگریس نے اس بار وزیر اعظم اور بی جے پی پردھان امت شاہ کے آبائی علاقہ میں گھس پر اپنی کارکردگی بہتر کی ہے اس سے یہ صاف ہے کہ اگر بی جے پی گجرات میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ صورت (16 میں سے15 ) سیٹ، بروڈہ میں سے (10-9 )سیٹ، راجکوٹ میں (8 میں سے 6) سیٹ کی وجہ سے ان کا ٹوٹل بنا ہے 53 میں سے 46 سیٹیں بی جے پی جیتی۔ اگر ہم ان بڑے شہروں کو نکال دیں تو باقی بچیں127 سیٹیں ان میں بی جے پی صرف 53 سیٹیں ہیں جیت پائی جبکہ کانگریس 71 سیٹوں پر کامیاب رہی۔لب و لباب یہ ہے کہ سورت، بڑودہ و راجکوٹ نے بھاجپا کی لاج بچائی۔ دیہاتی علاقو ں میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی کا برا اثر صاف نظر آیا ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ بات تشویش کی ہونی چاہئے۔ کانگریس نے جس طرح سے گجرات میں ٹھیک ٹھاک کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ریاست میں اس کے نیتاؤں کے حوصلہ بلند ہیں۔ ایسی حالت میں بی جے پی کو 2019 کے چناؤ کے لئے فوراً تیاری شروع کرتے ہوئے ناراض فرقوں کے لئے راحت کا انتظام کرنا ہوگا۔(ختم)
(انل نریندر)

پاکستان کی ہیٹ اسٹوری کی زمینی حقیقت

پاکستان کے ساتھ ہیٹ اسٹوری کی حقیقت آخر کیا ہے؟ پاکستان سے بات چیت کا راستہ بند ہے، آئے دن سرحد پر تابڑ توڑ فائرننگ ہورہی ہے۔ اس لڑائی میں بھارت کے 200 بہادر جوان پاکستان کے ہاتھوں اس سال اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق پاکستان نے اس سال750 سے زیادہ مرتبہ جنگ بندی توڑی ہے۔ پاکستان کی مانیں تو ہندوستانی فوج نے جواب میں 1300 بار فائرننگ کی ہے۔ دونوں سے اموات کے نمبرات 150 سے200 بتائے گئے ہیں۔ ایک سال کے اندربارڈر سیکورٹی فورس نے پاکستانیوں کو 199 احتجاجی خط بھیجے ہیں۔ جواب میں پاکستانی رینجرز نے 215 خط تھما کر اپنی ناراضگی جتا دی۔ دراندازی کی خبریں آنا بند نہیں ہو رہی ہیں یہاں تک کہ حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی الزام لگا چکے ہیں کہ پاکستان گجرات میں مداخلت کررہا ہے۔ اس پر بھاجپا۔ کانگریس میں الزامات کی جنگ سی چھڑ گئی ہے لیکن پاکستان سے بھارت کے رشتوں کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ کاروبار، لوگوں کے بیچ روابط اور کلچرل امور کے تبادلہ کے پیمانوں پر پچھلے تین برسوں میں مودی سرکار میں کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے بلکہ مودی سرکار نے تو پاکستان سے بھارت آنے والے شہریوں کو سہولت دینے کے لئے بھی اہم ترین قدم اٹھائے ہیں۔ اتنی تلخی کے باوجود مودی سرکار نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی کاروبار میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ دونوں دیشوں کے درمیان کمپوزٹ ڈائیلاگ رکا ہوا ہے لیکن جوائنٹ بزنس فورم کی میٹنگیں جاری ہیں ویسے ہی جیسے منموہن سنگھ سرکار میں ہوا کرتی تھیں۔ اتنا ہی نہیں، بھارت نے اری فوجی کیمپ پر آتنکی حملہ کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کوقرار دیا گیا موسٹ وانٹڈ نیشن کے اقتصادی درجہ پر نئے سرے سے غور کرے گی۔ یوپی اے سرکار کے آخری سال2013-14 میں بھارت میں پاکستان سے 42 کروڑ ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹ کیا تھا جو مودی سرکار کے آنے کے بعد 2015-16 میں 50 کروڑ ڈالر کے نمبر کو چھو گیا۔ اس سال اپریل سے نومبر تک کے دستیاب اعدادو شمار کے مطابق پاکستان نے33 کروڑ ڈالر کا بھارت کو ایکسپورٹ کیا اور ابھی دسمبر کے اعدادو شمار آنے باقی ہیں۔ منموہن سنگھ سرکار کے آخری برس 2013-14 میں دنیا دیشوں کا کل کاروبار 2.7 ارب ڈالر تھا جو معمولی کمی کے ساتھ 2015-16 میں 2.612 ارب ڈالر پر ٹکا ہوا ہے۔ آج بھی بھارت نے پاکستان کو موسٹ فیبرک نیشن کا درجہ دے رکھا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کو اسپانسر کرنا اسی دیش سے تجارت جاری رکھنا ،الگ الگ ہے لیکن پاکستان ابھی بھی دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے تحت مانتا ہے۔ کیا موسٹ فیبرک نیشن اسٹیٹس پر دوبارہ سے غور نہیں ہونا چاہئے؟
(انل نریندر)

20 دسمبر 2017

99ویں کا پھیر۔۔۔1

وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کی عزت کا سوال بنے گجرات چناؤ میں بھاجپا نے آخر کار جیت حاصل کرلی ہے۔ جب گنتی شروع ہوئی تو پہلے رجحانات میں تو ایک بار پھر کانگریس کی زیادہ سیٹیں آنے کا امکان بن گیا تھا لیکن جیسے جیسے گنتی آگے بڑھتی گئی بھاجپا کی سیٹیں بڑھتی گئیں۔ تمام بیان بازیوں اور اندیشات اور چڑھتے اترتے جارحانہ کمپین کا دنگل بنے گجرات نے ایک بار پھر کانگریس کو اقتدار کا ذائقہ بیشک چکھنے سے روک دیا ہو لیکن کانگریس کی لئے خوشی کی بات یہ ہی رہی ہے کہ اس نے اپنے نوجوان صدر راہل گاندھی کی قیادت میں بھاجپا کو سخت ٹکر دی ہے۔ کانگریس کو 77 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے اور بھاجپا کو اکثریت کا جادوئی نمبر چھونے کے بعد 99 تک پہنچنے میں پسینے چھوٹ گئے۔ قریب 22 سال کی حکومت کے بعد بھاجپا نے گجرات میں لگاتار چھٹی بار جیت کا پرچم لہرادیا۔ لیکن یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اکیلے راہل کا مقابلہ دیش کے وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کے وزراء ، آر ایس ایس اور ریاستی حکومت اور انتظامیہ سے تھا۔ ان حالات میں راہل نے ڈٹ کر ٹکر دی اور کانگریس کی سیٹوں کی تعداد 61 سے بڑھا کر 77 کردی۔ اس نتیجے سے راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں ایک بھروسہ پیدا ہوگا۔ بار بار ہار کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ بھاجپا اگر کامیاب ہوئی ہے تو وہ صرف وزیر اعظم کی تابڑ توڑ ریلیوں، روڈ شو، گجرات کے وقار کا حوالہ دینے سے ملی ہے۔ بھاجپا بیشک اپنی جیت کے ڈنکے بجا رہی ہو لیکن مودی کے گاؤں میں ہی نہیں چلا مودی کا جادو۔ پورے گجرات میں مودی کا جلوہ قائم رہا لیکن ان کے آبائی شہر کی انچا اسمبلی سیٹ پر کانگریس نے بازی مار لی۔ گجرات میں بی جے پی ، کانگریس کے بعد تیسرے نمبر پر نوٹا (ان میں سے کوئی نہیں) 1.8 فیصدلوگوں نے اسے چنا۔ عاپ نے جن27 سیٹوں پر امیدوار اتارتے تھے وہاں نوٹا کو عاپ امیدواروں سے زیادہ ووٹ ملے۔ کل 5.51 لاکھ لوگوں کا ووٹ نوٹا کو گیا جو بی ایس پی ، این سی پی کو ملے ووٹوں سے بھی زیادہ ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے گجرات اور ہماچل کے چناؤ میں ہار قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان نتیجوں سے مطمئن ہے لیکن مایوس نہیں۔ انہوں نے ورکروں کی حوصلہ افزائی کی اور کہا آپ نے غصے کے خلاف عزت کی لڑائی لڑی۔ آپ نے دکھایا ہے کہ کانگریس کی سب سے بڑی طاقت نرم گوئی اور ہمت ہے۔ وہیں پارٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل نے بی جے پی کی واپسی کو ای وی ایم کی جیت بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اے ٹی ایم ہیک ہوسکتا ہے تو ای وی ایم کیوں نہیں؟ بی جے پی صدر امت شاہ نے گجرات میں 150 سیٹوں کا ٹارگیٹ رکھا تھا لیکن 99 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ شاہ نے کہا کہ کانگریس کے ذات پرستی کی کمپین کی وجہ سے پارٹی ٹارگیٹ کو نہیں حاصل کرسکی۔ ان سے پوچھا گیا کہ گجرات میں بی جے پی ان کے ٹارگیٹ سے اتنا پیچھے کیوں رہ گئی تو انہوں نے کہا کانگریس کمپین کو نچلی سطح پر لے گئی اور ذات پرستی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی اس سے کچھ سیٹوں پر نقصان اٹھانا پڑا۔ شاہ نے جیت کو وراثت واد، ذات پرستی اور خوش آمدی کے سبب ترقی کی جیت بتایا۔ بی جے پی دیش کے 29 میں سے19 راجیوں میں سرکار چلا رہی ہے اس سے پہلے کبھی کسی پارٹی نے ایک ساتھ اتنی ریاستوں میں سرکار نہیں بناء تھی۔24 سال پہلے کانگریس کی 18 ریاستوں میں سرکاریں ہوا کرتی تھیں۔ دلت نیتا جگنیش میوانی جو کانگریس کی سپورٹ سے جیتے ہیں، نے کہا کہ آپ بات کرتے تھے150 سیٹوں کی لیکن ملیں 99 ، یہ تو ایک شروعات ہے۔ تبدیلی کی پوری آندھی آنے والی ہے۔ بڑگاؤں کی جنتا نے ووڈنگر والے کو جواب دے دیا ہے۔ دو چار دن میں بڑ گاؤں سے وڈ نگر کا روڈ شو اور صفائی ملازمین کی تحریک کا پلان تیار کیا جائے گا۔ گجرات میں پارٹیدار تحریک کا گڑھ مانے جانے والے مہسانہ سے ڈپٹی سی ایم نتن پٹیل جیت گئے ہیں۔ پاٹیدار نیتا ہاردک پٹیل نے سورت میں بڑی ریلی کی تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ دوسرے پارٹیدار لیڈروں کا بھی فوکس سورت پر ہی تھا لیکن وہاں 16 میں سے15 سیٹیں بھاجپا کو ملی ہیں۔ اس کا مطلب ہے پاٹیداروں میں بھاجپا کی پکڑ اب بھی مضبوط ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کی جیت کو غیر معمولی اور ناقابل فراموش بتاتے ہوئے کہا کہ سال1989 سے لگاتار 12 چناؤ میں وکاس کے اشو پر جیت ایک تاریخی سچائی ہے اور گجرات کی جنتا نے اس پر مہر لگائی ہے۔ کانگریس کا پرچار زوروں پر تھا تبھی منی شنکر ایر کا متنازعہ بیان آیا۔ نیتاؤں کے بگڑے بول سے بڑا نقصان ہوا۔ ہاردک، الپیش اور جگنیش پر زیادہ بھروسہ کرنا بھی نقصاندہ رہا۔ کانگریس پارٹی کا پردیش میں کمزور سنگٹھن زمین پر کمزور رہا۔ چناؤ میں نوٹ بندی۔ جی ایس ٹی کا اشو بھی نہیں نظر آیا تبھی تو 1.8 فیصد ووٹروں نے نوٹا کا بٹن دبایا۔ یہ سبھی بھاجپا کے حمایتی تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے اتنے ناراض تھے کہ حمایتی ہوتے ہوئے بھی انہوں نے پارٹی کو ووٹ دینا ضروری نہیں سمجھا اور پروٹیسٹ کی شکل میں نوٹا دبایا۔
(انل نریندر)

پنجاب سکم چناؤ میں کانگریس کی بمپر جیت

راہل گاندھی کے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے لئے پہلی خوشخبری پنجاب بلدیاتی چناؤ میں بمپر جیت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ پنجاب میں سنیچر کو تین میونسپل کارپوریشنوں اور 32 نگرپالیکاؤں اور نگر پنچایتوں کے لئے پولنگ ہوئی۔ اس چناؤ میں حکمراں کانگریس پارٹی نے بھاری جیت درج کی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بڑی اپوزیشن پارٹی عام آدمی پارٹی کا صفایا ہوگیا ہے۔ وہیں اکالی۔ بھاجپا اتحاد بھی کھاتہ کھولنے میں ناکام رہا۔ جالندھر ،امرتسر اور پٹیالہ سٹی کارپوریشنوں سمیت نگر کونسل میں بھی کانگریس نے ایک دہائی بعد واپسی کی ہے۔ وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ ریزلٹ بہت اچھا آیا ہے۔ اس سے بہتر نتیجہ ہو ہی نہیں سکتا۔ہم نے کلین سوئپ کی ہے۔ مقامی کارپوریشن امور کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ پنجاب نے راہل گاندھی کو پارٹی صدر بننے پر انہیں جیت کا تحفہ دیا ہے۔ جالندھر میں سبھی80 سیٹوں کے نتیجے اعلان ہوگئے ہیں۔ کانگریس نے 66 ، بھاجپا نے8، شرومنی اکالی دل نے4 و آزاد امیدواروں نے 2 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ عام آدمی پارٹی یہاں کھاتہ بھی نہیں کھول پائی۔ پٹیالہ میں 60 سیٹوں میں سے اعلان سبھی 58 سیٹوں پر کانگریس امیدواروں نے جیت درج کی ہے جبکہ امرتسر میں79 جونتیجے اعلان ہوئے ہیں ان میں سے63 پر کانگریس ،7 پر بھاجپا، 7 پر شرومنی اکالی دل و 4 پر آزاد امیدواروں نے جیت درج کی۔وزیراعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے کہا کہ اس جیت نے کانگریس کی پالیسیوں پر مہر لگادی ہے۔ انہوں نے حریفوں کی گھٹیا کمپین کو کراری ہار بتایا ہے۔ انہوں نے کہا یہ چناؤ ریاستی حکومت کی طرف سے پچھلے 9 مہینے میں لئے گئے فیصلوں کا ایک امتحان تھا۔ کانگریس پارٹی نے اسے پاس کرلیا ہے۔ جنتا نے سرکار کی پالیسیوں پر مہر لگانے کا کام کیا ہے۔ وزیر اعلی نے چناؤ کے دوران کسی طرح کے تشدد سے انکار کیا ہے۔ پنجاب میں کانگریس کی سرکار ہے اور پردیش میں اکالی۔بھاجپا اتحاد بری طرح سے لڑکھڑا گیا ہے۔ اسمبلی میں اتحاد کی ہار کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آگے بڑھ گیا ہے۔ بھاجپا کو پنجاب کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہیں اکالی دل سے اتحاد کرکے صرف نقصان ہی ہوا ہے۔ وہیں راہل گاندھی کی شخصی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

19 دسمبر 2017

آدھار کو ضروری پر سپریم کورٹ کا انترم فیصلہ

عام آدمی کی سہولیات کو آدھار سے جوڑنے کی سپریم کورٹ میں جم کر مخالفت ہوئی ہے۔ عرضی گذاروں نے یہاں تک کہا کہ آدھار کو بینک کھاتوں، موبائل فون اور دیگر اسکیموں سے جوڑنے کا مقصد ہر آدمی کی پرائیویسی کو متاثر کرنا اور جاسوسی کرنا ہے۔ سرکار کا یہ قدم اختیارات کو قبضانے کی طرف لے جائے گا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس کمارسیکری ، اجے خان ولکر اور دھننجے چندرچوڑ اور اشوک بھوشن کی آئینی بنچ کے سامنے عرضی گذاروں کی دلیلوں کے سامنے مرکزی سرکار بیک فٹ پر کھڑی نظرآئی۔ آدھار ایکٹ کا حوالہ دیکر عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ یہ ضروری ہے۔اسے مرضی بتایا گیا ہے۔ پھر بھی مرکزی حکومت نے139 نوٹی فکیشن جاری کرکے لازمی قراردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سرکار کھلے عام خلاف ورزی کررہی ہے۔ مرکز کی جانب اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے آئینی بنچ کو بتایا کہ سرکار مختلف خدمات اور فلاحی اقدامات کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسے آدھار سے جوڑنے کو ضروری کرنے کی وقت میعاد اگلے سال 31 مارچ تک بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا بینک کھاتہ کھولنے کے لئے آدھارکو ضروری بنا رہنا چاہئے۔ 
سرکار نے بینک کھاتوں اور چنندہ مالی لین دین کے ذریعے آدھار اور پین کی جانکاری دینے کو ضروری کرنے کی میعاد 31 مارچ 2018 ء تک بڑھانے سے متعلق نوٹیفکیشن بدھ کو جاری کردیا گیا۔ پرانے بینک کھاتہ یافتگان کو 31 مارچ تک کھاتہ آدھار نمبر کو لنک کرانا ہوگا۔ ای پی ایف کھاتہ، بیمہ پالیسی،میوچول فنڈ کھاتہ وغیرہ 31 مارچ 2018ء تک لنک کرا سکیں گے۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی قیاد ت والی پانچ نفری آئینی بنچ نے جمعہ کو اپنے انترم حکم میں آدھار کو موبائل خدمات سے جوڑنے سے متعلق اپنے سابقہ حکم میں بھی تصحیح کی ہے اور کہا کہ 6 فروری کی وقت میعاد کو بڑھا کر 31 مارچ 2018ء کی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آئینی بنچ آدھار یوجنا کو چیلنج کرنے والی عرضی پر 17 جنوری سے سماعت کرے گی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی 9 نفری آئینی بنچ نے کہا تھا کہ آئین کے تحت پرائیویسی کا حق ایک بنیادی حق ہے۔ آدھار کے جواز کو چیلنج کرنے والے کئی عرضی گزاروں نے دعوی کیا کہ یہ پرائیویسی کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ بڑی عدالت میں کئی عرضی گزاروں نے آدھار کو بینک کھاتہ اور موبائل نمبر سے جوڑنے کو غیر قانونی اور غیر آئینی بتایا ہے۔
(انل نریندر)

امرناتھ گپھا میں منترو اچارن پر پابندی نہیں

ہمالیہ کے اونچے پہاڑوں کی یاتراوں کے دن مشکل بھرے ہوتے ہیں۔بابا امرناتھ یاترا ایک ایسی ہی مشکل یاترا ہے۔ برفیلی طوفان ،آب و ہوا میں کم دباؤ اور سب سے بڑی بات ہے آکسیجن کی مقدا ر میں کمی کسی بھی شیو بھگت کے لئے مشکل چنوتی ہوتی ہے۔ ہر شیو بھگت کو تب حیرانی ہوئی جب نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی ) نے اپنے فیصلہ میں کہہ دیا کہ امرناتھ یاترا پر جانے والے یاتریوں کوجے کارا نہیں لگانا چاہئے یا منترواچارن نہیں کرا چاہئے۔ اس سے پتہ نہیں کیسے یہ سندیش گیا کہ این جی ٹی نے پوری یاترا راستہ کو خاموش علاقہ اعلان کردیا ہے۔ جسٹس سوتنترکمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ حکم میں صرف یہ کہا گیا ہے کوئی بھی شردھالو یا درشن کرنے والا مہاشیولنک کے سامنے جب پہنچے تو وہاں خاموشی بنائے رکھے۔ مہاشیو لنک کی قدرتی پوزیشن اور اس کی پاکیزگی کو آواز کی گرماہٹ ،ترنگوں اور دیگر چیزوں سے کوئی نقصان نہ پہنچے اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ آخری سیڑھی سے بابا برفانی کی گپھا میں داخلہ کے دروازے کے بیچ کی دوری بمشکل 30 قدم ہے۔ کچھ احتیاطی روک اسی سیڑھی کے بعد ہے۔ اس سیڑھی سے پہلے یا نیچے کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ امرناتھ درشن کے دوران منترواچارن پر این جی ٹی کے روک کے فیصلہ کے بعد اس پر ردعمل سامنے آنا فطری ہی تھا۔
سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ جے کاروں سے ماحولیات کو کیسے نقصان پہنچے گا؟ بھاجپا ایم پی جگل کشور شرما نے کہا یہ فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ ہندوؤں کی آستھا کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے۔ ویشو ہندو پریشد کے صوبائی ڈپٹی منتری اجے منہاس نے سوال کیا کہ کیا آلودگی کے لئے صرف ہندو ہی ذمہ دار ہیں؟ این جی ٹی کا فیصلہ ہندوؤں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ بجرنگ دل کے پردیش پردھان نوین سودن نے کہا کہ این جی ٹی صرف ہندو سماج کے خلاف فیصلے دے رہی ہے۔ چوطرفہ مخالفت کے سبب این جی ٹی نے صاف کیا ہے کہ اس نے گپھا کے اندر منترو اچارن ،بھجن گانے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ شردھالوؤں کو امرناتھ کی شیو لنک کے سامنے خاموشی رکھنی چاہئے۔ این جی ٹی نے اچھا کیا کہ یہ صاف کردیا کہ اس نے امرناتھ میں پورے علاقہ کو وائبریشن ممنوع نہیں قراردیا ہے۔ نہ ہی ایسی کوئی منشا ہے۔ جسٹس سوتنتر کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ پوتر گپھا کی طرف جانے والی اہم سیڑھیوں پر پابندی لاگو نہیں کی ہے۔
(انل نریندر)

17 دسمبر 2017

کانگریس صدر عہدہ سے ریٹائر ہوئیں سیاست سے نہیں

کانگریس صدرسونیا گاندھی 19 سال تک کانگریس صدر کے عہدہ پر رہنے کے بعد سنیچر کو ریٹائر ہوگئیں۔ انہوں نے پارٹی کی کمان اپنے بیٹے اور نو منتخب صدر راہل گاندھی کو باقاعدہ حوالے کردی ہے۔ سونیا گاندھی کے سیاست سے ریٹائرڈ ہونے کی قیاس آرائیوں پر روک لگانے کے لئے پارٹی نے صاف کیا ہے کہ وہ صرف پارٹی صدر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے سونیا گاندھی نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کمپلیکس میں اخبار نویسوں سے کہا تھا میرا وقت اب ریٹائر ہونے کا ہے۔ سونیا گاندھی نے اپنی ذمہ داری راہل گاندھی کو سونپی ہے لیکن وہ ہمیشہ پارٹی کا مارگ درشن کرتی رہیں گی۔ سونیا گاندھی آگے بھی کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرمین بنی رہیں گی یعنی وہ آگے سے پارٹی کے بجائے پارلیمنٹ میں زیادہ رول نبھائیں گی۔ بتایا تو یہ جارہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ تال میل بنائے رکھنے کی ذمہ داری بھی سونیا گاندھی کی ہوگی۔ سونیا گاندھی کی لیڈر شپ میں کانگریس پارٹی نے کافی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ سونیا گاندھی محض ایسی کانگریس صدر رہیں جن کی قیادت میں کانگریس نے مسلسل دو پوری میعاد تک مرکز کا اقتدار سنبھالا۔1998ء میں منفی حالات میں کانگریس کی کمان سنبھالنے کے بعد 6 سال کے اندر ہی انہوں نے اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی بھاجپا سرکار سے اقتدار چھین لیا تھا۔ اس وقت ان کے وزیر اعظم بننے کی قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں ، لیکن انہوں نے وزیر اعظم کی کرسی کو مسترد کر منموہن سنگھ کو وزیر اعظم چنا۔ اگلے 2009 ء کے چناؤ میں ان کے سامنے بھاجپا کے دوسرے بڑے نیتا لال کرشن اڈوانی تھے لیکن ان کی قیادت میں بھی کانگریس نے بھاجپا کو ہرا کر مرکز میں اقتدار برقرار رکھا۔ پھر سے منموہن سنگھ کو ہی وزیر اعظم چنا۔ یہ محض اتفاق ہے کہ جب سونیا گاندھی نے کانگریس کی کمان سنبھالی تھی تب بھی وہ اپوزیشن میں تھی اور اب جب راہل گاندھی کمان سنبھال رہے ہیں تب بھی کانگریس اپوزیشن میں ہے۔ اس وقت کانگریس کے پاس چار ریاستوں میں حکومتیں تھیں اس وقت پانچ ریاستوں میں حکومتیں ہیں۔ تب ان کے پاس لوک سبھا کے 141 ایم پی ہوا کرتے تھے اور اس وقت 46 ایم پی ہیں۔ پچھلے تین برسوں سے سبھی فیصلہ راہل گاندھی ہی لے رہے تھے۔ غور طلب ہے کہ سونیا گاندھی سیاست سے دور رہنا چاہتی تھیں۔1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ 1997ء میں اندرونی رسہ کشی سے پارٹی کو بچانے کے لئے وہ سیاست میں آنے کو راضی ہوئیں تھیں۔ سونیا 1998ء میں کانگریس کی صدر چنیں گئیں اور 19 سال تک پارٹی کے صدر کے طور پر کام کیا۔ سونیا گاندھی اب کانگریس صدر کے عہدہ سے ہٹیں ہیں لیکن سیاست سے نہیں۔ ان کا کانگریس اور دیش دونوں ہی جگہ رول رہے گا اور وہ پارٹی کو سمت دیتی رہیں گی۔
(انل نریندر)

محترم صاحبان کے مقدمے نمٹانے کیلئے خصوصی عدالتیں

ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف التوا (مجرمانہ) مقدمات کے نمٹارے کے لئے مرکزی سرکار نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ان معاملوں کو نمٹانے کیلئے 12 خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی۔ حالانکہ حکومت نے ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف ان التوا معاملوں کی جانکاری اکٹھا کرے کے لئے مزید وقت دینے کی مانگ کی ہے۔ سپریم کورٹ نے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف التوا مقدموں کے نپٹارے کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کے لئے پلان پیش کرنے کو کہا تھا۔ یہ اچھا ہوا کہ پہلے داغی نیتاؤں کے معاملوں کی سنوائی، سماعت الگ سے انتظام کرنے کی تجویز سے غیرمتفق سپریم کورٹ اب یہ محسوس کررہی ہے کہ سیاست کے جرائم کرن پر لگام لگانے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام داغی عوامی نمائندوں کے معاملوں کے اژالہ پر توجہ دے کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق اس وقت قریب ڈیڑھ ہزار ایم پی اور ایم ایل اے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی مجرمانہ معاملہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ تعداد ان نیتاؤں کے چناوی حلف ناموں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ممبر اسمبلی اور ایم پی ایسے ہیں جن پر سنگین الزام ہیں لیکن سبھی کو ایک ترازو میں نہیں تولا جاسکتا۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی بار اسپیشل اور یہاں تک کہ فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی مقدمات کا نپٹارہ لمبا کھینچ دیتی ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ عدلیہ کی کارروائی کے طور طریقے میں درکار تبدیلی اور اصلاح نہیں ہو پائی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ہر طرح کے مقدموں کا انبار لگتا جارہا ہے۔ کیا یہ عجب نہیں کہ سب سے بڑی مقدمے بازی ریاستی سرکاروں کی ہے۔ بہتر ہو کہ جہاں سرکاریں یہ دیکھیں کہ افسر شاہی بات بات پر عدالت پہنچے سے باز آئیں وہیں عدلیہ بھی معاملوں کو جل نپٹانے کے متبادل طور طریقے تلاش کرے۔ سرکار و عدلیہ کی تمام تشویشات کے باوجود لوگوں کو تیزی سے انصاف ملنے کا سلسلہ ابھی دور کی کوڑی نظر آتا ہے۔ نیشنل جوڈیشیل ڈیٹا گرڈ (این جے ڈی جی) کے مطابق سبھی 24 ہائی کورٹس میں 2016 تک کل 40.15 لاکھ مقدمہ التوا میں تھے۔ تقریباً چھ لاکھ مقدمہ تو ایسے ہیں جو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے نمٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔ چند دنوں پہلے ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک کانفرنس میں زور دیا تھا کہ جھگڑوں کے نپٹارہ کا متبادل سسٹم کے طور پر ادارہ جاتی ثالثی اہم ثابت ہوگی۔
(انل نریندر)

16 دسمبر 2017

سائنسدانوں نے بھی مانا رام سیتو انسانی تیار کردہ ہے

بھارت میں گھٹیا سیاست کی وجہ سے بھلے ہی رام سیتو کو متنازع اشو با دیا گیا ہے اور اس کے جواز پر بھی سوال اٹھائے گئے لیکن نامور سائنسدانوں ،آرکیولوجسٹ کی ٹیم نے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر اور سیتو کی جگہ کے پتھروں اور ریت کی ریسرچ کرنے کے بعد یہ پایا گیا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کے درمیان ایک سیتو کی تعمیر کئے جانے کے اشارہ ملتے ہیں۔ دنیا بھر میں تحقیق رساں بھی اب یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ بھارت ۔سری لنکا کے درمیان واقع قدیم ایڈکس برج یعنی رام سیتو اصل میں انسان کے ذریعے ہی تیارکردہ ہے۔ بھارت کے رامیشورم کے قریب واقع جزیرہ پیبن اور سری لنکا کے جزیرہ چنار کے درمیان50 کلو میٹر لمبا نایاب پل کہیں سے لائے گئے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔سائنسداں اس کو ایک سپر ہیومن کارنامہ مان رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت ۔سری لنکا کے درمیان 30 میل کے رقبہ میں ریت کی چٹانیں پوری طرح سے قدرتی ہیں، لیکن ان پر رکھے گئے پتھر کہیں سے لائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ قریب 7 ہزار سال پرانے ہیں جبکہ ان پر موجود پتھر قریب 4سے5 ہزار برس پرانے ہیں۔ بتادیں کہ رام سیتو کو شری رام کی نگرانی میں چٹانوں اور ریت سے بنایا گیا تھا جس کا تفصیل سے تذکرہ بالمیکی رامائن میں ملتا ہے۔ رام سیتو کی عمر رامائن کے مطابق 3500 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ کچھ اسے آج سے 7 ہزار سال پرانا بتاتے ہیں۔ رام سیتو کا تذکرہ کالی داس کی رگھوونش میں سیتو کا ذکر ہے۔ ہندوستانی سیٹلائٹ اور امریکی خلائی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ناسا نے سیٹلائٹ سے کھینچی گئی تصاویر میں ہندوستان کے ساؤتھ میں دھنش کوٹی تک سری لنکا کے نارتھ ویسٹ پمبن کے درمیان سمندر میں 48 کلو میٹر چوڑی پٹری کی شکل میں ابھرے اے یو۔ حصہ کی لائن دکھائی دیتی ہے۔ اسے ہی آج رام سیتو یا رام کا پل مانا جاتا ہے۔ 
قدیم واستو کاروں نے اس اسٹرکچر کی پرت کا استعمال بڑے پیمانے پر پتھروں اور گولائی کی طرح کی وسیع چٹانوں کو کم کرنے میں کیا ہے ساتھ ہی کم سے کم دھنوتو و چھوٹے پتھروں اور چٹانوں کا استعمال کیا گیا جس سے آسانی سے ایک لمبا راستہ تو بنا ہی ساتھ ہی وقت کے ساتھ یہ اتنا مضبوط بھی بن گیا کہ انسانوں و سمندر کے دباؤ کو بھی سہہ سکے۔ پچھلی یوپی اے سرکار ے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائرکیا تھا کہ کوئی ثبوت نہیں ہے رام سیتو کوئی پوجنے کا مقام نہیں ہے۔ ساتھ ہی سیتو کو توڑنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ بعد میں سخت نکتہ چینی کے درمیان اس وقت کی حکومت نے یہ حلف نامہ واپس لے لیا تھا۔تحقیق رسانوں نے اسے سب سے بڑھیا اور انسانی آرٹ بتایا ہے۔ جے شری رام۔
(انل نریندر)

مدرسوں میں طلبا یا تو مولوی بن رہے ہیں یا آتنک وادی:پاک فوجی چیف

پاکستان میں تیزی سے پھیل رہے مدرسوں پر فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے تلخ نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا زیادہ تر اسلامی تعلیم دینے والے مدرسوں کی آئیڈیالوجی پر ایک بار پھر توجہ دینی ہوگی کیونکہ پاکستان کے مدرسوں میں زیرتعلیم بچے یا تو مولوی بن رہے ہیں یا دہشت گرد۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ میں باجوا کے بیان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے بڑے شہر کوئٹہ میں ایک یوتھ کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے خلاف نہیں ہوں، لیکن مدرسوں کا بنیادی جذبہ کہیں کھوگیا ہے۔ پاکستان میں مدرسوں کی تعلیم ناکافی ہے کیونکہ وہ طلبا کو جدید دنیا کے لئے تیار نہیں کرتی۔ جنرل باجوا نے کہا کہ مدرسوں میں قریب 25 لاکھ بچے پڑھتے ہیں لیکن وہ کیا بنیں گے: کیا وہ مولوی بنیں گے یا دہشت گرد بنیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ دیش میں اتنے فارغ طلباء کو نوکری کے لئے مقرر کرنے کے لئے نئی مسجدیں کھولنا ناممکن ہے۔ جنرل باجوا نے کہا پاک مدرسوں پر اکثر الزام لگتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو کٹر پسند بنا رہے ہیں۔ ادھر ہمارے اترپردیش نے قریب ڈھائی ہزار سے زیادہ مدرسوں نے اب مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ این سی آر ٹی کی کتابیں بھی پڑھنے کو ملیں گی۔ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی حکومت نے یہ فیصلہ مدرسوں کے نصاب کو بہتر بنانے کے لئے بنی 40 نفری کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنے کے بعد لیا ہے۔ عام طور پر مدارس کو لیکر عام لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ یہاں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسے میں مدارس سے نکلے بچے معمولی تعلیم حاصل کرتے ہیں جس سے آگے چل کر ان کے لئے روزگار کی سنگین پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے۔ سرکار کی اصلی فکر اسی بات کو لیکر ہے کہ مدرسوں کی تعلیم دینے کے طریقے میں تبدیلی آئے وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ چلیں۔
آج جو حالات ہیں وہ باعث تشویش اس لئے ہیں کہ مدرسوں نے خود کو موجودہ تعلیمی ڈھانچہ سے باہر نکالنے کی نہیں سوچی۔ سرکار اس بات کی اہمیت سمجھتی ہے کہ مدرسوں کی تعلیم کو جدید اور شفاف بنانا بیحد ضروری ہے؟آج کے دور میں بچوں کی ترقی اور ان کے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔ عالمی ماحول تیزی سے بدل رہا ہے اور اس میں بچوں کو زیادہ نئے طریقے سے تعلیم دیا جانا ضروری ہے۔اگر پاکستان کے فوج کے سربراہ مدرسوں میں تعلیم میں اصلاح کی بات کررہے ہیں تو کچھ مدرسوں میں کٹر پسندی تعلیم کو روکنا کتنا ضروری ہے ۔ روزگار کی پرکھ تعلیم سے ہی ملے گی تو بے روزگاری کا بحران بھی دور ہوگا۔ پاک میں فوج کا رول سب سے زیادہ اہم ہے ایسے میں جنرل باجوا کے بیان معنی رکھتا ہے۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2017

کانگریس میں راہل دور کی شروعات

آخر راہل گاندھی کے عہد کی شروعات ہوہی گئی ہے۔وہ کانگریس صدر عہدہ کے لئے اتفاق رائے سے بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں اور16 دسمبر کو باقاعدہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔اس اعلی ترین عہدہ کیلئے صرف راہل گاندھی نے ہی کاغذات داخل کئے تھے۔ اس چناؤ کے ساتھ ہی پارٹی میں پیڑھی کی تبدیلی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی اب اپنی ماں سونیا گاندھی کی جگہ پارٹی کی کمان سنبھالیں گے۔ بتا دیں سونیا گاندھی 19 سال تک اس عہدہ پر رہیں۔ اپنے عہد کے اختتام کے بعد دیش کی اس سب سے پرانی پارٹی کی کمان سنبھالنا راہل گاندھی کیلئے کسی بڑی چنوتی سے کم نہیں ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر پچھلے کچھ برسوں سے انہیں شہزادہ اور کئی دیگر ناموں سے پکارکر ان کی اہمیت کو کم کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔راہل اپنی دادی اندرا گاندھی کے 1984ء میں قتل کے بعد ان کی آخری رسوم کے وقت قومی ٹیلی ویژن اور اخباروں میں چھپی تصویروں میں اپنے والد راجیو گاندھی کے ساتھ دکھائی دئے تھے۔ اس کے بعد ان کے والد راجیو گاندھی کو 1991 ء میں ہلاک کردئے جانے کے بعد ان کے انترم حکومت میں راہل تقریباً پورے دیش کی ہمدردی کے مرکز میں رہے۔ راہل کی پیدائش 19 جون 1970 ء کو ہوئی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی سرکاری ویب سائٹ پر دی گئی جانکاری کے مطابق راہل نے دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج ، ہارورڈ کالج اور پلوریڈا کے رولس کالج سے آرٹ سائٹس سے گریجویشن کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرسٹی کالج سے ڈولپمنٹ اسٹڈیز میں ایم فل کیا۔ نہرو گاندھی خاندان کے وارث راہل گاندھی کا ابھی تک کی سیاسی زندگی سرخیوں کی محتاج نہیں رہی ہے لیکن کانگریس صدر کی حیثیت سے ان کا اصل امتحان چناوی منجھدار میں پچھلے کچھ عرصہ سے پارٹی کی دگمگاتی نیا کو ساحل تک صحیح سلامت پہنچانے کا ہوگا۔ راہل کو جب 2013ء میں پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا تھا تو انہوں نے جے پور میں تقریر کے دوران اپنی والدہ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کی اس بات کو بڑے جذباتی انداز سے بتایا تھا کہ اقتدارزہر پینے کے برابر ہے۔ حالانکہ اس کے ٹھیک پانچ سال بعد اب انہیں یہ زہر پینا پڑے گا۔ چونکہ اب وہ کانگریس کے صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ کانگریس کی کمان سنبھالنے جارہے ہیں۔ راہل نہرو ۔گاندھی خاندان میں پانچویں پیڑھ کے لیڈر ہیں۔ یہ سلسلہ آزادی سے پہلے موتی لال نہرو سے شروع ہوا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق گجرات چناؤ راہل کے لئے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ اس چناؤ میں پارٹی کچھ بہتر کر پاتی ہے تو یقینی طور پر پارٹی کے اندر اور باہر ان کے بھروسہ میں اضافہ ہوگا۔ اترپردیش کے چناؤ کے بعد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی جیسے منجھے ہوئے نیتا ایک اچھے مقرر سے مقابلہ کیلئے اپنی سیاست میں کافی تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے جہاں گبر سنگھ ٹیکس جیسے جملے بولنے شروع کردئے ہیں وہیں ٹوئٹرکے ذریعے سے انہوں نے بھاجپا سرکار پر جارحانہ حملہ تیز کردئے ہیں۔ گجرات چناؤ کمپین کے دوران راہل نے اپنی ساکھ بہتر کی ہے اب لوگ انہیں نہ صرف سنجیدگی سے سنتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں ان کی ریلیوں میں بھی آتے ہیں۔ کانگریس میں اب راہل دور کی شروعات ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے جھٹکے سے نکلنے میں ابھی وقت لگے گا

8 نومبر 2016ء کو نوٹ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ اس وقت رات آٹھ بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹی وی اسکرین پر آکر اس کا اعلان کرکے سب کو حیران پریشان کردیا تھا۔ اس فیصلہ کے کئی سیاسی ،اقتصاری اور سماجی اثرات اور پہلو رہے ہیں۔ اس دن پی ایم مودی نے نوٹ بندی کو ہندوستانی سیاست میں گیم چینجر کا لمحہ کہا تھا۔فوری طور پر عمل سے 500 اور 1000 روپے کے نوٹ چلن سے باہر کرنے کا اعلان کیا اور اسے بدلنے کے لئے ایک خاص وقت میعاد دی۔ اس کے بعد شروع ہوااقتصادی اور سیاسی سطح پر اس بڑے فیصلہ کے نفع نقصان کے تجزیہ کا دور۔ جس وقت نوٹ بندی ہوئی تھی اس وقت شاید ہی کسی کو یہ اندازہ رہا ہو کہ اس کے اتنے دوررس نتائج ہوں گے۔ نوٹوں کو بدلنے کے لئے لمبی لمبی لائنیں لگیں۔100 سے زیادہ لوگوں نے ایسا کرتے ہوئے دم توڑ دیا۔ شاید ہی کسی کو یہ اندازہ ہوگا کہ اس کے دوررس اثرات ہوں گے۔ ایک سال بعد بھی لوگ اس فیصلہ کے اثر سے سنبھل نہیں پائے۔ رہی سہی کثر جی ایس ٹی نے پوری کرڈالی۔ دونوں ہی قدم ٹھیک طریقے سے ہوم ورک کئے بغیر لاگو کردئے گئے۔ بھارتیہ ریزرو بینک کے سابق گورنر وائی ۔وی۔ ریڈی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے قدموں سے معیشت کو لگے جھٹکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ معیشت کو اس صورتحال سے پوری طرح سے نکلنے اور اونچی گروتھ کے راستے پر آگے بڑھنے کے لئے دو سال کا وقت اور درکار ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک جھٹکا ہے جس کی منفی اثرات کے ساتھ شروعات ہوئی ہے۔ اس سے کچھ بہتری آسکتی ہے اور اس کے بعد ہی کچھ فائدہ مل سکتا ہے فی الحال اس وقت اس میں پریشانی ہے اور منافع بعد میں آئے گا۔ کتنا فائدہ ہوگا ، کتنے فرق کے بعد یہ ہوگا یہ دیکھنے کی بات ہے۔ ریڈی نے ممبئی میں حالات پر اخبار نویسوں کے ایک گروپ کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ اس وقت اقتصادی اضافہ کو لیکر کوئی اندازہ لگانا کافی مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ معیشت پھر سے 7سے 8 فیصد کے امکانی اضافہ کے راستہ پر کب لوٹے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ ریزرو بینک کے گورنر ہوا کرتے تھے اس کے مقابلہ پچھلے تین سال میں کچے تیل کے دام ایک تہائی پر آگئے تھے۔ حالانکہ اس درمیان جی ایس ٹی لاگو ہونے، نوٹ بندی کا قدم اٹھانے اور بینکوں میں بھاری ایم پی اے (مالی خسارہ) کی وجہ سے اقتصادی اضافہ کے دوران پچھلے حکومت میں بغیر غور و خوض کئے قرض اور کرپشن کے الزامات کو لیکر ٹیلی کام اور کوئلہ سیکٹر میں رونما واقعات سے کمپنی سیکٹر پر کافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس پورے واقعہ سے بینکنگ مشینری میں پھنسا قرض 15 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2017

یروشلم پر ٹرمپ کا متنازع فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام احتجاجوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پچھلے بدھوار کی دیررات یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی اعلان کرکے بھیڑو کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے اس مقدس شہر میں لے جائے گا۔ اس اعلان سے مشرقی وسطیٰ میں نئے سرے سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کو منتقل کرنے کے صدر ٹرمپ کے فیصلہ نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی تک کوئی بھی مسلم دیش امریکہ کے اس فیصلہ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی مان سکتے ہیں ایسے کرنے والے وہ پہلے بڑے نیتا ہوں گے۔ مشرسی وسطیٰ کے عرب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا مسلمانوں کو اکسانا ہوگا اور اس سے مشرقی وسطیٰ کے حالات بگڑ جائیں گے۔ یروشلم اسرائیل ۔عرب کشیدگی میں سب سے متنازعہ اشو ہے۔ یہ شہر اسلام، یہودی اور عیسائی مذہب میں بیحد اہم مقام رکھتا ہے۔ پیغمبر ابراہیم ؑ کو اپنی تاریخ سے جوڑنے والے یہ تینوں ہی مذہب یروشلم کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے دل میں اس شہر کا نام بستا رہا ہے۔ حبر زبان میں یروشلم اور عربی میں القدس کے نام سے جانا جانے والا یہ شہر دنیا کے سب سے قدیم شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا اور تباہ کردیا گیا ہے اور پھر سے بسایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی مٹی کی ہر پرت میں تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ عرب ملک کے لئے یہ شہر اس لئے مقدس ہے کیونکہ یہاں الاقصیٰ مسجد قائم ہے۔ یہ ایک ڈھلان پر ہے جسے مسلم حرم الشریف یا مقدس مقام کہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ اسلام کی تیسری سب سے مقدس جگہ ہے اور اسکا انتظام ایک اسلامی ٹرسٹ کرتی ہے جسے وقف کہتے ہیں۔ مسلمانوں کا یقین ہے کہ پیغمبر محمدؐ نے مکہ سے یہاں تک ایک رات میں سفر کیا تھا اور یہاں پیغمبروں کی روحوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا تھا۔ یہیں سے کچھ قدم دور ہی ڈوم آف دی راکس کا مقدس جگہ ہے۔ یہ مقدس پتھر بھی ہے۔مانا جاتا ہے پیغمبر محمدؐ نے یہیں سے جنت کا دورہ کیا تھا۔ یہودی علاقہ میں ہی کوٹیل یا مغربی دیوار ہے یہ وال آف دی ماؤنٹ کا بچا حصہ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ کبھی یہودیوں کا مقصدٹمپل اسی مقام پر تھا۔اس مقدس مقام کے اندر ہی ہولی آف دی ہولیز یہ یہودیوں کا سب سے مقدس جگہ تھی۔ عیسائی علاقہ میں دی چرچ آف ہولی سیو لارڈ ہے یہ دنیا کے کئی علاقوں میں عقیدت کا مرکز ہے۔ یہ جس جگہ پر واقع ہے وہ عیسیٰ مسیح کی کہانی کا مرکزی سینٹر ہے۔ یہیں حضرت عیسیٰ کی وفات ہوئی تھی،انہیں سولی پر چڑھایا گیا تھا، یہیں سے وہ اٹھائے گئے تھے۔ ٹرمپ کے فیصلہ کو لیکر دنیا بھر سے جو رد عمل سامنے آرہے ہیں وہ کافی تلخ ہیں۔ کچھ دیر کے لئے اگر مغربی ایشیا کے دیشوں کو چھوڑ بھی دیں تو فرانس جیسے ناٹو میں اس کے ساتھی دیش نے بھی اس ارادے کی کھلی مخالفت کی ہے۔ باقی دنیا بھی اسے لیکر کافی بے چین سی لگ رہی ہے۔ یہ تقریباً طے مانا جارہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مغربی ایشیا ایک بار پھر بڑی شورش کی طرف بڑھنے لگے گا۔ بیشک اسے اسرائیل اور یہودی دنیا کو کسی طرح کی ذہنی تشفی ملے لیکن اس سے اسرائیل کی مشکلیں بھی بڑھیں گی۔ فلسطین علیحدگی پسندوں کا تیور تلخ ہونا طے ہے۔ کئی علاقائی حالات بھی بدل جائیں گے۔ اس فیصلہ کی عرب لیگ میں شامل 57 دیشوں نے مخالفت کی ہے۔ وہ 12 دسمبر کو میٹنگ کریں گے۔ ان میں ترکی شام، مصر، سودی عرب، یردن، ایران سمیت10 سے زیادہ خلیجی ملکوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں نئے سرے سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان نامہ میں یہ وعدہ کیا تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے فیصلہ پر اٹل رہتا ہے اور عرب دیشوں کو خاموش کرسکتا ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)

ای وی ایم پر پھر اٹھا تنازعہ

گجرات کے اسمبلی چناؤ میں پھر ای وی ایم کا اشو اٹھ گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ارجن مودوواڑیا نے سنیچر کو پوربند کے مسلم اکثریتی علاقہ میں منواڑہ کے تین پولنگ مرکزوں میں ای وی ایم سے ممکنہ چھیڑ چھاڑ کی شکایت کی اور کہا کہ کچھ مشینیں بلو توتھ کے ذریعے باہری سازو سامان سے جڑی پائی گئیں۔ اس سے پہلے اترپردیش کے بلدیاتی چناؤ میں میئر کی سیٹ پر کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی سماجوادی پارٹی نے ہار کے لئے ای وی ایم کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ سنیچر کو سپا کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا جن جگہوں پر بیلٹ پیپر سے پولنگ ہوئی وہاں بی جے پی صرف15 سیٹیں جیت پائی جبکہ جن جگہوں پر ای وی ایم کا استعمال کیا گیا ان جگہوں پر بی جے پی46 سیٹیں جیتی۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور یوپی کے انچارج سنجے سنگھ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نگر نگم میں ہی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی ہے کیونکہ وہاں ای وی ایم سے چناؤ ہوئے تھے۔ عام آدمی پارٹی بار بار یہ کہتی آئی ہے کہ جب تک ای وی ایم سے چناؤ ہوں گے تب تک بی جے پی کامیاب ہوتی رہے گی۔ اس درمیان ارجن موڑواریا کی شکایت پر چناؤ کمیشن نے کہا کہ ان کی شکایت کی جانچ کرائی گئی ہے کسی بھی ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کی شکایت نہیں پائی گئی ہے۔ وہیں کانگریس کے نیتا شکتی سنگھ جوہل نے الزام لگایا ہے کہ دلت فرقہ کے علاقہ میں ای وی ایم میں گڑ بڑیوں کی شکایت زیادہ ہے۔ ای وی ایم کی گڑ بڑی کی وجہ سے وی پی پوربندر اور بلساڑ سمیت تمام ضلعوں میں پولنگ میں رکاوٹ آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گڑ بڑی کی شکایت کے بعد سورت میں 70 اور راجکوٹ میں 35 ای وی ایم بدلی گئیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ موڑ واڑیا کی جانب سے کی گئی شکایتیں دکھاتی ہیں کہ اپوزیشن کانگریس کوئی بہانہ تلاش رہی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ چناؤ میں اسے کراری شکست ملے والی ہے۔ ادھر بسپا کی مایاوتی نے یوپی نگر نگم چناؤ میں ملی کامیابی سے خوش بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جمہوریت میں یقین رکھتی ہے تو چناؤ ای وی ایم کے بدلے بیلٹ پیپر سے کروائے۔ ای وی ایم کا اشو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب واپس بیلٹ پیپر پر جانا تو مشکل ہے لیکن ای وی ایم کوٹھیک چلانے کا کام چناؤ کمیشن کا ہے ،آزادانہ اور منصفانہ چناؤکرانا اس کی ذمہ داری ہے۔
(انل نریندر)

12 دسمبر 2017

اب جنتا کا پیسہ ہتھیانے میں لگی مرکزی سرکار: عاپ پارٹی

عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی سرکار بینکوں میں جمع دیش کے لوگوں کا پیسہ ہتھیانے کی تیاری میں ہے۔ پارٹی ترجمان راگھو چڈھا کا کہنا ہے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا مرکزی حکومت کا دی فائننشل ریزولوشن اینڈ ڈیفالٹر اشورینس اسکیم 2017 بینکوں میں جمع عام لوگوں کے پیسے کے لئے نیوکلیائی بم کی طرح تباہ کن ثابت ہوگا۔ اگست میں پیش کردہ یہ بل اس کی وجہ سے لوگوں میں اس بات کا ڈر بیٹھ گیا ہے کہ بینکوں میں جمع کئے گئے فنڈ کا استعمال بینک اپنی ضرورت کے حساب سے کر سکتے ہیں۔ سیدھے لفظوں میں کہیں تو حکومت اب بینکوں کو بیل آؤٹ نہیں کرے گی۔ ابھی تک ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ ایم پی اے بڑھنے کے بعد بینک حکومت کی پناہ میں آجاتے ہیں اور سرکار بانڈ خرید کر بیل آؤٹ (نقصان کو پورا کرنا) کر دیتی تھی لیکن اب حکومت کی توجہ بیل آؤٹ کی جگہ بیلنس پر ہوگی۔ اس میں زیادہ ایم پی اے والے بینکوں کو اپنے بیل آؤٹ کا انتظام خود کرنا ہوگا۔ اس صورت میں بینکوں نے اپنے بیل آؤٹ کا انتظام بینک میں جمع رقم سے کرنا ہوگا۔ یعنی بینکوں میں گراہکوں کا جو پیسہ ہوگا اس کا ایک حصہ بینک اپنے خسارہ میں استعمال کرے گی۔ ابھی تک سرکاری بینکوں میں جمع عاپ کا پیسہ کریڈٹ گارنٹی کے چلتے ایک حد تک محفوظ رہتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے نیتاؤں کا کہنا ہے مرکز کی مودی سرکار اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس کے نافذ ہونے کے بعد بینکوں میں جمع جنتا کا پیسہ بینک ہڑپ جائیں گے اور لوگ کچھ نہیں کرپائیں گے۔ راگھو چڈھا و ممبر اسمبلی سورب بھاردواج نے کہا کہ اب پارلیمنٹ میں یہ بل پاس ہوجاتا ہے تو بینکوں میں جنتا کا جو بھی پیسہ جمع رہے گااس کی ادائیگی آپ کو اسی صورت میں کی جائے گی جب ادائیگی کے وقت بینک کی مالی حالت ٹھیک ہوگی اور ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ بینک آپ کے کھاتے میں کل جمع رقم کو ہی ہڑپ لیں۔ یہ سہولت اس قانون کے آرٹیکل 52 میں رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے بینک کھاتہ میں اپنے بڑھاپے یہ پھر کسی بیماری یا بچوں کی پڑھائی یا شادی کے لئے رقم رکھی ہوگی وہ پیسہ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد کبھی بھی ڈوب سکتا ہے۔ عاپ نیتا نے کہا کہ تین طرح سے بینک آپ کا پیسہ ہڑپ سکتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہوگی کہ اگر آپ کے بچت کھاتے میں 10 لاکھ روپے کی رقم موجودہے اور آپ کا بینک اگر کسی وجے مالیہ جیسے صنعتکار کے قرض واپس نہ لوٹانے کی وجہ سے نقصان میں چلا جاتا ہے تو بینک اپنی مرضی سے آپ کے کھاتے میں موجودہ 10 لاکھ روپے میں سے گھٹا کر 1 لاکھ روپے بھی کر سکتا ہے۔دوسرا طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بینک آپ کے کھاتہ میں موجود سارا پیسہ ہی ہڑپ لے۔ آپ کے کھاتے کا بیلنس صفر ہوجائے، تیسرا طریقہ یہ بھی کہ بغیر آپ کی مرضی کے بینک آپ کے پیسے کو اگلے 15-20 سالوں کے لئے فکسڈ ڈپازٹ میں بدل دے۔ چڈھا نے کہا اس قانون کے لاگو ہونے کے بعد اس معاملے میں کسی عدالت میں سماعت تک نہیں ہوگی۔ عاپ نیتاؤں نے کہا اس سے پہلے سائیپرس میں ایسا قانون نافذ ہوچکا ہے۔ اس قانون کے آنے کے بعد وہاں بھی بڑی تعداد میں عام لوگوں کا پیسہ ہڑپ لیا گیا تھا اور لوگ کنگال ہوگئے تھے۔ اس مجوزہ بل کے خلاف آن لائن عرضی پر درستخط کرنے والوں میں ہزاروں لوگ شامل ہوگئے ہیں۔ بل کے تقاضوں کو لیکر خدشات کو دور کرنے کے لئے وزارت مالیات نے کہا ہے کہ مالی حل و جمع بیمہ بل2017 جمع کنندگان کے حق میں ہے اور اس میں ان کے لئے موجودہ قانون کے مقابلہ میں اچھی سہولیات رکھی گئی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس بل سے جمع کنندہ کے مفادات کے تحفظ سے متعلق موجودہ مفادات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اس بل میں آپ کے مفادات کی شفافیت کے ساتھ بحفاظت رکھنے کے مزید انتظامات کئے گئے ہیں۔
(انل نریندر)

میکس اسپتال کا لائسنس منسوخ

غریبوں کو مفت علاج نہ کرنا میکس اسپتال کو بھاری پڑا۔ دہلی حکومت نے زندہ نوزائیدہ کو مردہ بتا کر رشتے داروں کو سونپنے کے معاملہ میں شارلیمار باغ میں واقع میکس اسپتال کا لائسنس جمعہ کے روز منسوخ کردیا۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا کہ میکس اسپتال میں کوئی نیا مریض بھرتی نہیں ہوگا، جو بھرتی ہیں ان کا علاج اسی اسپتال میں کیا جائے گا۔ اس طرح کی لاپروائی قطعی برداشت نہیں ہوگی۔ جین نے کہا کہ اس معاملہ کی فائنل رپورٹ آگئی ہے جس میں اسپتال کی لاپروائی پائی گئی ہے۔ وزیر صحت نے دو ٹوک کہا کہ اسپتالوں کی لاپرائیوں کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ راجدھانی میں پہلی بار پورے اسپتال کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے۔ پچھلے کچھ عرصو ں سے دیش کی راجدھانی دہلی اور اس کے آس پاس کے شہروں میں نجی اسپتال کے بارے میں جیسی سنگین اور میڈیکل پیشے کو شرمسار کرنے والی شکایتیں آرہی تھیں انہیں دیکھتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہوگئی تھی۔ یہ اچھا ہوا کہ جہاں ہریانہ سرکار کی ایک کمیٹی نے علاج میں ہوئے خرچ کو بے تکے طریقے سے بڑھا کر وصولنے والے فورٹیز اسپتال کا لائسنس اور لیز منسوخ کرنے کی سفارش کی وہیں دہلی حکومت نے زندہ نوزائیدہ کو مردہ بتانے والے میکس اسپتال کو بند کرنے کا ہی فیصلہ کرلیا۔ بلا شبہ یہ سخت فیصلہ ہے لیکن جب منمانی کی حدیں کچھ نجی اسپتال پار کرنے میں لگے ہیں تب پھر سخت قدم اٹھانا ضروری ہوجاتا ہے۔ دہلی کی تاریخ میں پہلی بار کسی سپر اسپیشیالٹی اسپتا ل کا لائسنس منسوخ کیا گیا ہے۔ میکس اسپتال کا لائسنس کینسل کرکے دہلی سرکار نے اپنی منشا صاف کردی ہے کہ وہ لوگوں کی صحت کے ساتھ کسی طرح کا کھلواڑ برداشت نہیں کرے گی۔دو دن پہلے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ اگر مریضوں کو علاج کے نام پر لوٹا جائے گا ان پر مجرمانہ لاپروائی مانی جائیگی تو کسی بھی ذمہ دار سرکار کی طرح سخت ایکشن لینا ہوگا لیکن دہلی سرکار کے اس فیصلے کو جہاں میکس اسپتال نے سخت بتایا وہیں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اور دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی اپنی نااتفاقی جتائی ہے۔ علاج میں لاپروائی برتنے اور علاج کے نام پر لوٹ کرنے والے اسپتال کوبند کرنے جیسے سخت قدم مسئلہ کا ایک حد تک مناسب حل ہیں ۔ سرکاوں کا زور بے لگام اسپتالوں کو بند کرنے پر نہیں بلکہ یہ یقینی کرنا ہونا چاہئے کہ وہ منافع خوری کی دوکانیں نہ بنیں۔
(انل نریندر)

10 دسمبر 2017

روی چندرن اشون ٹیم انڈیا کی بیک بون ہیں

حال ہی میں کھیلے گئے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ریکارڈ بنے ایک بڑا سوال تھا کیا روی چندرن اشون اپنے 300 وکٹ پورے کر لیں گے یا نہیں؟ سری لنکا کے آخری وکٹ لیتے ہوئے انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی۔ اشون سب سے کم ٹیسٹ میں 300 وکٹ لینے والے بالر بن گئے ہیں۔ مہان ڈینس للی نے یہ پڑاؤ 50 ٹیسٹ میچ میں ہی پورا کرلیا تھا۔ روی چندرن اشون نے 54 ٹیسٹ میں ہی اسے حاصل کرلیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے سری لنکائی گیند باز متھیا مرلی دھرن بھی اس اونچائی پر 58 ٹیسٹ میں ہی پہنچ سکے تھے۔ اس مقام پر پہنچنے کے بعد اشون نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 600 سے زیادہ وکٹ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ٹیم انڈیا کی جیت کے بعد کہا میں امید کرتا ہوں کہ 300 وکٹ سے دگنا وکٹ لے سکوں۔ ابھی میں نے تقریباً 50 ٹیسٹ میچ ہی کھیلے ہیں اسپن گیند بازی آسان نہیں ہے۔ ٹیم انڈیا سے ولے بریتا اور کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا مجھے فائدہ ملا۔ اب میں تروتازہ محسوس کررہا ہوں۔ اشون کا کہنا ہے کہ ان کی کیرم بال اب بھی کافی بہترین ہے اور انہوں نے اس پر کافی محنت کی ہے۔ وہ بولے میرا بریک تھوڑا لمبا رہا لیکن میں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کئی نئی چیزیں دیکھیں۔ اشون ٹیم انڈیا کا بیحد اہم حصہ ہیں۔ ہر میچ میں ان کا چلنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر وہ چلتے ہیں تو ٹیم انڈیا کی جیت آسان ہوجاتی ہے۔ ایک طرف بلے بازی میں وراٹ کوہلی تو دوسری طرف بالنگ میں اشون۔ جب اشون چلتے ہیں تو جم کر وکٹ لیتے ہیں۔ ایک دو نہیں وہ 8-9 کے نمبر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ روی چندرن کی بالنگ میں غضب کی خوبی ہے ان سے اچھی آف اسپن دنیا میں شاید ہی کسی کی ہو۔ اشون بیحد سوجھ بوجھ والے کھلاڑی ہیں۔
وہ اپنی بالنگ میں لگاتار بہتری لاتے ہیں۔ دبا کر محنت کرتے ہیں۔وہ بیٹنگ بھی اچھی کرلیتے ہیں۔کئی بار انہوں نے اپنی بیٹنگ میں جوہر دکھایا ہے۔ وہ سنچری بھی بنا سکتے ہیں۔ بیشک اشون کا مظاہرہ گھر کی پچوں پر بہت شاندار رہا لیکن وہ باہر جاکر تھوڑے پھیکے پڑجاتے ہیں۔ باہر جاکر انہوں نے محض ویسٹ انڈیز میں ہی بہتر بالنگ کی ہے۔ ابھی انہیں آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور نیوزی لینڈ میں بہتر پرفارمینس دینی ہے۔ وہاں کی پچ اسپنر کے لئے بنتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اگلے سال بیرونی ممالک میں جب ٹیم انڈیا کھیلنے جائے گی تو روی چندرن اشون نئے ریکارڈ بنائیں گے۔ وہ ٹیم انڈیا کا بہت اہم حصہ ہیں۔
(انل نریندر)

چابہار: جہاں 12 مہینے بہار چھائی رہتی ہے

ایران کے چابہار بندرگاہ کے پہلے مرحلہ کے افتتاح سے آنے جانے کا ایک نیا راستہ تو کھلا ہی ہے یہ بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان نئی حکمت عملی رابطوں کی تاریخی شروعات بھی ہے۔ چابہار پہلی بندرگاہ ہے جسے بنانے میں بھارت کی سیدھی حصہ داری ہے۔ بھارت نے اس بندرگاہ کے پہلے مرحلہ کو چلانے اور سہولت سے آراستہ کرنے میں جو دلچسپی دکھائی اس سے چین کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کو بھی یہ پیغام گیا ہے کہ اقتصادی۔ کاروباری اہمیت کے منصوبوں کو بھارت ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں اہل ہے۔ سال 1947 ء میں دیش تقسیم کے بعد پورے مشرقی و وسطی ایشیا اور یوروپ سے جغرافیائی طور پر الگ ہوئے بھارت نے اس دوری کو بھرنے کی سمت میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس بندرگاہ کے ذریعے بھارت اب بغیر پاکستان گئے ہی افغانستان اور پھر اس سے آگے روس اور یوروپ سے جڑ گیا ہے۔چابہار بندرگاہ بننے کے بعد سمندری راستے ہوتے ہوئے بھارت کے جہاز ایران میں داخل ہوجائیں گے۔ اس کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیاتک کے بازار ہندوستانی کمپنیوں اور کاروباریوں کے لئے کھل جائیں گے۔ اس لئے چا بہار بندرگاہ کاروبار اور فوجی لحاظ سے بھارت کے لئے کافی اہم ہے۔ بھارت کی نظر اس کے ذریعے اپنی مصنوعات کے لئے یوروپی ملکوں کے بازار میں جگہ بنانے پر بھی ہے۔ بھارت اس مقصد کے ساتھ ایک مخصوص اقتصادی زون بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی سڑک قومی شاہراہ جہاز رانی وزیر نتن گڈکری نے کہا تھا بھارت کی اسکیم چابہا ر میں کچھ دولاکھ کروڑ روپئے سرمایہ کرنے کی ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو پاک۔ چین کو کرارا جواب ملے گے کیونکہ چابہار سے گوادر کی دوری صرف 72 کلو میٹر دور ہے۔ پاکستانی میڈیا پہلے سے ہی شور مچا رہا ہے کہ چابہار کے ذریعے بھارت ، افغانستان اور ایران سے مل کر اسے گھیرنے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت نے اس بندرگاہ کو بنانے کے لئے 50 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد 2002ء میں بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور اس وقت ایرانی صدر سید محمد خاتمی نے رکھی تھی۔ یوں بھی چاربہار کا وہاں کی مقامی زبان میں مطلب ہوتا ہے ایسی جگہ جہاں 12 مہینے بہار چھائی رہتی ہو۔ امید کی جانی چاہئے کہ ایران اور افغانستان سے بھارت کے رشتوں میں چھائی یہ بہار یوں ہی قائم رہے۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2017

مودی عہد میں راہل کی چنوتیاں

47 سالہ راہل گاندھی کی کانگریس میں تاجپوشی طے ہوگئی ہے۔ وہ پارٹی کے اگلے صدر ہوں گے۔ یہ عہدہ سنبھالنے والے نہرو گاندھی خاندان کے چھٹے اور کانگریس میں وہ اپنی ماں سونیا گاندھی کی جگہ لیں گے۔ 132 سال پرانی پارٹی کانگریس میں سونیا سب سے زیادہ19 سال تک پارٹی کی صدر رہی ہیں۔ راہل گاندھی 13 سال تک ایم پی رہتے ہوئے صدر بننے جارہے ہیں۔ ویسے تو کانگریس پارٹی میں راہل گاندھی نائب صدر رہتے ہوئے اس وقت وہی رول نبھا رہے ہیں جو پارٹی صدر کو نبھانا چاہئے۔19 سال پہلے10 اپریل 1998 میں جب سونیا گاندھی نے کانگریس کی کمان سنبھالی تھی تب بھی پارٹی کی سیاسی حالت کمزور تھی۔ مئی 1991ء میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سینئر لیڈروں نے سونیا سے پوچھے بغیر انہیں کانگریس کا صدر بنائے جانے کا اعلان کردیا لیکن سونیا نے اس کو منظور نہیں کیا۔ کانگریس کی حالت دن بدن بری ہوتی دیکھ سونیا گاندھی 1998 ء میں کانگریس کی صدر بنیں۔ ان کے عہد میں 2004ء ،2009ء میں کانگریس کی حکومت بنی۔ پارٹی نے 26 صوبوں میں سرکار بنائی۔ حالانکہ 2014 میں کانگریس نے پچھلے70 برس میں سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کانگریس کا 7 ریاستوں میں کھاتہ تک ہیں کھل سکا۔ لوک سبھا میں صرف 44 سیٹیں ملیں۔ کانگریس کا صدر بننے جارہے راہل گاندھی کے سامنے سب سے بڑی چنوتی پارٹی میں نئی جان ڈالنا اور اس کی تشکیل نو کرنا ہے، لیکن ایسا کرتے وقت انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ نئی پیڑھی اور پرانی پیڑھی کے کئی نیتاؤں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ راہل کو پارٹی کے ورکروں اور نیتاؤں کا حوصلہ بڑھانے پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ ایک کے بعد ایک چناوی ہار کے سبب ان کے اندر مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ ہماچل پردیش اور گجرات چناؤ میں اگر کانگریس ہار جاتی ہے تو اس کا پارٹی کے حوصلہ پر برا اثر پڑے گا۔ ہاں اگر کانگریس گجرات میں اپنی سیٹیں بڑھانے میں کامیاب رہتی ہے تو اسے راہل کی جیت مانا جائے گا۔ اگلے سال یعنی2018ء میں راہل کے سامنے کرناٹک میں اپنی سرکار بچائے رکھنے کی چنوتی بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان میں اقتدار پر قابض بھاجپا کو اکھاڑ پھینکنے کا بھی ٹارگیٹ ہوگا۔ اس کے بعد 2019ء کے عام چناؤ میں ان 16 مہینوں میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی راہل گاندھی کو اتحادی ساتھیوں کی بھی تلاش پوری کرنی ہے۔ صاف ہے کہ کانگریس اکیلے اپنے دم پر بھاجپا کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لئے اتحاد کرنا اس کی مجبوری ہوگی۔ اس معاملہ میں انہیں اپنی ماں سونیا گاندھی سے رائے لینی ہوگی جو 10 سال تک یوپی اے اتحاد رکھنے میں کامیاب رہیں تھیں۔ اب پارٹی کے صدر کے طور پر انہیں اپنا قد اتنا بڑھاناہوگا کہ کچھ علاقوں میں ان کا حوصلہ بڑھانے والے بونے نہ پڑ جائیں۔ اگلے یا اس سے اگلے عام چناؤ میں کانگریس اقتدار میں آتی ہے یا نہیں اتنا اہم نہیں ہے بھلے ہی کانگریس اپوزیشن میں رہے لیکن آل انڈیا پارٹی کی شکل میں اگر وہ ایک مضبوط پارٹی ہوکر ابھرتی ہے تو یہ ہماری جمہوریت کے لئے ایک اچھا اشارہ ہوگا۔ جمہوریت تبھی مضبوط مانی جاتی ہے جب حکمراں اور اپوزیشن دونوں ہی مضبوط ہوں۔ گجرات میں اونٹ چاہے جس کرونٹ بیٹھے، راہل گاندھی نے لوگوں کے درمیان اپنی پکڑ بنانے کی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ دیش کو کانگریس پارٹی سے بہت امید ہے ، کیا راہل گاندھی پارٹی کے سامنے چنوتیوں کو قبول کرنے میں اہل ہوں گے؟ سوال کا جواب جلد مل جائے گا۔
(انل نریندر)