Translater

03 جون 2017

آخرکارکتنا کارگر ثابت ہوا نوٹ بندی کا قدم

جب8 نومبر 2016ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 بجکر 15 منٹ پر رات کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو سارے ہندوستان میں زلزلہ سا آگیا۔ کچھ لوگوں کو لگا کہ وزیر اعظم بھارت اور پاکستان کے کڑوے رشتوں کے بارے میں بولیں گے یا شاید دونوں دیشوں کے درمیان جنگ کا اعلان نہ کردیں لیکن یہ اعلان تو کچھ لوگوں کے لئے جنگ کے اعلان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ ان کی راتوں کی نینداڑگئی۔ کچھ لوگوں کے ہوش و حواس اڑ گئے اور چاروں طرف افراتفری مچ گئی۔ اگلے دو دن کے بعد بینک و اے ٹی ایم لوگوں کے لئے مستقبل پتہ بن گئے۔ لائنیں دنوں دن بڑھتی گئیں۔ عام جنتا کے لئے تکلیف دہ ثابت ہونے لگیں۔ لمبی لمبی قطاروں کی وجہ سے اموات ہوئیں۔ کبھی بینکوں و اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کی حدگھٹانا و بڑھانا، کبھی پرانے روپوں کو جمع کروانے کے بارے میں قاعدوں میں سختی کرنا تو کبھی ڈھیل دینا، اپوزیشن پارٹیاں پورے اتحاد سے سرکار کے فیصلے کو ناکام و دیش کو پیچھے لے جانے والا ثابت کرنے میں لگ گئیں۔ تقریباً پوری اپوزیشن سرکار کے اس قدم کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ مورچے، مظاہرے، ناراضگی یہ عام بات ہوگئی۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ و کانگریس کے دیگر لیڈروں نے خبردار کیا کہ نوٹ بندی کا بھارت کی معیشت پر برا اثر ہوگا۔ ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے پیشگوئی کردی کے دیش کی جی ڈی پی میں گراوٹ آئے اور بے روزگاری بڑھے گی۔ دوسری طرف سرکار اپنے فیصلے کو صحیح ٹھہرانے میں لگی رہی۔ کبھی وزیر اعظم و ان کی ٹیم لوگوں کواس نوٹ بندی کے فائدے گنانے میں لگی رہی تو کبھی 50 دن کا وقت مانگتے نظر آئے۔ لوگوں کے اندر بھی بہت بھائی چارہ دیکھنے کو ملا۔ امیر دوستوں کو ان کے غریب دوست یاد آئے۔ امیر رشتے داروں نے اپنے غریب رشتے داروں کو بینک میں اپنی کالی کمائی جمع کروانا شروع کردیا۔ امیر بیٹے کی غریب ماں کا بینک اکاؤنٹ جو والد کی موت کے بعد بند ہوچکا تھا اچانک قابل عمل ہوگیا۔ ایسا لگا مانو کے پوری انسانیت زندہ ہوگئی۔ میڈیا والوں کا بھی بہت شاندار رول رہا۔ کچھ نوٹ بندی پر سرکار کے حق میں کھڑے دکھائی دئے تو کچھ (میرے جیسے) اپوزیشن میں۔ کچھ نیوز چینلوں کو لوگ لائنوں میں مزے لیتے دکھائی دئے تو دوسری طرف کچھ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا۔ کچھ چینلوں کے مطابق تقریباً 100 لوگ لائنوں میں کھڑے ہوکر اپنی جان گنوادی۔ نوٹ بندی کی وجہ سے پرانے زمانے میں کامیاب بارٹر طریقہ پھرسے کارگر ثابت ہوا۔ لوگوں نے بغیرپیسے کے بھی دن گزارنے سیکھ لئے۔ پہلی بار احساس ہوا کہ زندگی کتنی کم ضرورت میں بھی چل سکتی ہے۔ یہاں کچھ لوگوں کی دانشمندی بھی دیکھنے کو ملی انہوں نے اپنے کالے دھن کو چھپانے کے لئے نئے نئے طریقوں کا آغاز کردیا جیسے غریب دوستوں و رشتے داروں کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنا۔ مزدوروں کو تین دن400 روپے دیکر اے ٹی ایم و بینکوں کی لائن میں کھڑا کرنا، 20سے30 فیصد کے لالچ میں پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ حاصل کرنا۔ کچھ بینک و ڈاک ملازمین کی ناجائز خدمات لینا وغیرہ وغیرہ۔ سرکار کا دعوی ہے کہ تقریباً 400 سے ساڑھے چار سو کروڑ کا کالادھن بینک میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔ 8 نومبر 2016ء وزیر اعظم نریندر مودی نے کالے دھن کے خلاف نوٹ بندی کا اعلان کر یکساں معیشت کو تباہ کرنے کے لئے سب سے بڑا داؤ کھیلا۔ اس جارحانہ مہم کا مقصد کالا دھن رکھنے والوں کو سبق سکھانا اور نشے کے کاروبار و اسمگلنگ، دہشت گردی کی کمر توڑنا اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں کے لئے ناجائز لین دین وغیرہ سرگرمیوں کو ختم کرنا بتایا گیا۔ دیش کے شاندار مستقبل کے لئے بیشک وزیر اعظم کا یہ قدم یقینی طور سے قابل تحسین تھا لیکن کیا قومی مفاد کے لئے اٹھائے گئے اس سخت قدم کے بعد بھارت میں کالادھن یاکرپشن ختم ہوگیا؟ کیا دہشت گردی پر لگام لگی؟ کیا نکسلیوں کی سرگرمیاں کم ہوئیں؟ میرے خیال سے جتنی سکیورٹی ملازمین کی شہادت پچھلے 8 مہینوں میں ہوئی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ کرپشن آج بھی اتنا ہی ہے لیکن شکل بدل گئی ہے۔ ہماری توقعات کچھ حدتک صحیح ثابت ہوئیں۔ دیش کی جی ڈی پی میں اضافہ شرح 2016-17 ء میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ سرکار کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ جی ڈی پی 2016-17ء گھٹ کر 7.1 فیصدی پر آگئی ہے۔ زرعی سیکٹر میں کافی اچھی کارکردگی کے باوجود اضافہ شرح نیچے آگئی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد نوٹ بدلنے کے کام میں87 فیصدی نقدی چلن سے باہر ہوگئی تھی۔ نوٹ بندی کے فوراً بعد بھی سہ ماہی جنوری، فروری، مارچ میں اضافہ گھٹ کر 6.1 فیصد رہی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال رہے کہ پچھلے سال نوٹ بندی کے چلتے جی ڈی پی اور معیشت کے اہم سیکٹروں میں یہ گراوٹ آئی ہے۔ مرکز کی جانب سے بدھوار کو جاری کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق مالی سال 2016-17 ء میں دیش کی گروتھ 7.10 فیصد رہی۔ 2015-16ء کے مقابلے میں یہ 0.8 فیصدی کی گراوٹ ہے۔ پچھلے سال یہ اعدادو شمار 7.9 فیصدی تھا۔ کوئلہ، کچا تیل،سیمنٹ پیداوار میں گراوٹ کے چلتے گھٹ کر2.5 فیصدی رہی۔ ان صنعتوں نے پچھلے سال اپریل میں 8.7 فیصدی اضافہ درج کیا ۔ ان میں صنعتی کوئلہ، کچا تیل، قدرتی گیس، ریفائنری پروڈکٹ، کھاد، فولاد، سیمنٹ اور بجلی شامل ہیں۔ مودی سرکار کے وزراء کو تین سال پورے ہونے کے موقعہ پر بڑھ چڑھ کر اپنے کارنامے گناتے ہوئے دیکھا اور سنا جارہا ہے۔ لیکن دیش کے نوجوان کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بے روزگاری پر کوئی وزیر اپنا منہ نہیں کھول رہا ہے۔ نوٹ بندی سے جو بے روزگاری بڑھی وہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا ہے۔ یوپی اے سرکار کے دوران 2011ء میں بے روزگاری شرح 3.8 فیصدی تھی۔ 2012ء میں یہ 4.7 فیصدی اور 2013 میں 4.9 فیصدی رہی۔ مرکزی وزیر پرسنل اور ٹریننگ مملکت جتیندر سنگھ نے 30 مارچ کو لوک سبھا میں اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ روزگار کے موقعہ پیدا کرنے کے معاملے میں مودی سرکار کے عہد کو سب سے برے دور سے گزرنا پڑا۔ ان اعدادو شمار کے مطابق سال 2017ء کے مقابلے میں سیدھی بھرتیوں میں 89 فیصدی کمی آئی ہے۔ سال 2013ء میں مرکز کی سیدھی بھرتیوں میں 154841 لوگوں کو نوکری ملی۔ سال 2014ء میں یہ اعدادو شمار گھٹ کر 126261 رہ گئی اور 2015ء میں محض 15877 لوگوں کو ہی مرکز کی سیدھی بھرتیوں میں نوکریاں مل پائیں۔ سب سے بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس دوران درج فہرست ذاتوں ،قبائلیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو دی جانے والی نوکریوں میں 90 فیصدی کی کمی آئی ہے۔ میں نے یہ دونوں تصویریں پیش کردی ہیں اب آپ ہی بتائیں نوٹ بندی کا قدم کتنا کارگر ثابت ہوا ؟
(انل نریندر)

02 جون 2017

آزادی سے لیکرعدالتوں میں التوا میں پڑا ایودھیا تنازعہ

ایودھیا کے متنازعہ ڈھانچے کو گرائے جانے کے معاملے میں 25 سال بعدمبینہ سازش رچنے والوں کے خلاف منگل کو پھر سے مقدمہ شروع ہوگیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایودھیا میں 1992ء میں ڈھانچہ مسماری معاملہ کی سماعت کررہی مخصوص عدالت نے منگل کے روز بھاجپا کے سینئر لیڈروں سرو شری لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھاری اور ایم پی ونیکٹیار سمیت سبھی12 ملزمان کے خلاف الزامات طے کردئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی 25 سال بعد سازش کے معاملے کا مقدمہ شروع ہوگیا۔ اس سے پہلے نچلی عدالت اور پھر ہائی کورٹ نے انہیں سازش کے الزام سے آزاد کردیا تھا۔ مخصوص عدالت نے ان لیڈروں کے خلاف فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور بے چینی پیداکرنے اور نقص امن کو خطرہ پیدا کرنے کے علاوہ مذہبی کٹرپسندی کا ماحول بنانے کی سازش رچنے کے الزامات طے کئے ہیں۔ بدھوار سے گواہی شروع ہوگئی۔عدالت کوروزانہ سماعت کرتے ہوئے دوسال میں فیصلہ دینا ہوگا۔ 12 ملزمان کے علاوہ دیگر ملزمان کے خلاف سابقہ میں مخصوص عدالت الزامات طے کرچکی ہے جو الزامات لگائے گئے ہیں انہیں ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک تو معاملہ قریب 25 سال پرانا ہے اور دوسرے اس دعوے کو لگاتار چنوتی ملتی رہی ہے کہ ڈھانچہ کو گرانے کی کوئی سازش نہیں کی گئی تھی۔ عام خیال یہی ہے کہ اس پس منظر میں اور جذبات میں آکر بھیڑ بے قابو ہونے کا نتیجہ تھا ایودھیا ڈھانچے کی مسماری۔ اگرچہ ڈھانچہ مسماری کی کوئی سازش رہی بھی ہوگی یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں اڈوانی اور جوشی جیسے نیتا بھی سانجھے دار تھے۔ دیش کی سیاست اور سماجی تانے بانے کو متاثر کرنے والے ایودھیا اشو کے پس منظر میں یہ کہا نہیں جاسکتا مگر یہ معاملہ دیش کی لمبی کارروائی کی پیچیدگیوں کی نشاندہی ضرور کرتا ہے۔ سی بی آئی عدالت کے وکیل آر کے یادو نے بتایا کہ آنے والی تاریخوں پر مقدمہ لگاتار چلے گا اس میں اہم گواہیاں ہوں گی۔ سی بی آئی کی لسٹ میں 894 گواہ ہیں ان کی گنتی کی جائے گی اور جو گواہ زندہ ہے عدالت میں اسے بلایا جائے گا۔ اگر وہ عدالت میں موجود نہیں ہوتے تو اس کے لئے حاضری معافی کی عرضی دینی ہوگی جس پر عدالت فیصلہ لے گی۔ یادو کے مطابق معاملہ میں اب تک رائے بریلی میں چلے مقدمے کے دوران بھی گواہیاں ہوئی ہیں اور ملزمان کے وکیل چاہیں تو لکھنؤ کورٹ میں بھی شفٹ کرنے کے لئے ان کی گواہی کی مانگ کرسکتے ہیں۔ یہ عدالت کے ضمیر پر منحصر ہوگا کہ وہ کس گواہ کو بلائے یا نہیں۔ ایک سوال جو عام طور پر پوچھا جارہا ہے کہ کیا اب جب اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی پر مقدمہ چل رہا ہے تو کیا وہ صدر نہیں بن سکتے؟ مجرمانہ سازش کے الزامات کے باوجود راشٹرپتی بھون کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ مجرمانہ سازش کا مقدمہ جاری رہنے کے باوجود وہ صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں۔ معاملہ بس صرف اخلاقیات سے جڑا ہے کیونکہ سماعت دو سال تک چلے گی، لہٰذا اگلے لوک سبھا چناؤ میں یہ اشو نئے سرے سے طول پکڑسکتا ہے۔ سماعت جب آخری دور میں ہوگی تبھی لوک سبھا چناؤ ہورہے ہوں گے اور آئینی ماہر سبھاش کشیپ نے کہا کہ مجرمانہ مقدمہ جاری رہتے ہوئے صدارتی چناؤ لڑنے کو لے کر قانونی روک نہیں ہے۔ آئین میں ایسے حالات کا سامنا کررہے لیڈر کے راشٹرپتی چناؤ لڑنے پرروک نہیں ہے۔ بھاجپا اگر چاہے تو انہیں صدارتی امیدوار بنا سکتی ہے۔ موجودہ لوک سبھا کی میعاد مئی 2019ء میں پوری ہوگی اور 2019 کے اپریل ۔ مئی میں چناؤ ہورہے ہوں گے۔ ایودھیا کا معاملہ آزادی کے فوراً بعد ہی عدالت کے سامنے پہنچا تھا اور دیش کو ابھی آخری فیصلے کا انتظار ہے۔ دراصل اس کیس میں اما بھارتی بھی ملزمہ ہیں جن کی وجہ سے یہ اخلاقی سوال کھڑا ہوسکتا ہے کہ انہیں کیبنٹ میں رہنا چاہئے یا نہیں؟ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ جس ایودھیا اور رام مندر کے دم پر اڈوانی نے ایک وقت بھاجپا کو دھار دی تھی آج وہ اس اشو پر کٹہرے میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔
(انل نریندر)

پراکسی جنگ کو پراکسی طریقوں سے ہی لڑا جاسکتے ہے

کشمیر کے حالات بلا شبہ بیحد کشیدہ ہیں۔ فوج کے چیف جنرل بپن راوت کے کشمیر میں پتھربازوں سے نمٹنے کے لئے انسانی ڈھال کا استعمال کرنے کو صحیح ٹھہرانا اور ایسے حالات میں نئے طریقے ایجادکرنے سے متعلق بیان کو لیکر کچھ خود ساختہ سیکولر قسم کے لیڈروں نے تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ فوج کی جیپ پر ایک پتھر باز کو باندھنے والے میجرجنرل کی تعریف ہو یا پتھر بازوں کے خلاف سختی، سرکار اب کشمیر میں حساب کتاب برابر کرنے کے موڈ میں آچکی ہے لگتا ہے۔ خاص کر ساؤتھ کشمیر میں جہاں علیحدگی پسندوں کی نئی فوج پنپ رہی ہے اور وادی میں پھیلتی جارہی ہے۔ سرکار کے زیادہ چوکس رہنے کی وجہ سے جموں و کشمیر پولیس کی رپورٹ جس کے مطابق وادی میں قریب 282 دہشت گردوں میں 99 مقامی لوگ ہیں شامل بتایا ہے۔ لازمی ہے کہ سرکار اور فوج کا اصلی مقابلہ ساؤتھ کشمیر میں موجوددہشت گردوں ، علیحدگی پسندوں و پتھر بازوں سے ہے جو فوج اور حکومت کے درد سر کی بڑی وجہ ہے۔ فوج کے چیف نے صاف ہی کہا ہے کہ میجر لتل گگوئی کو سمانت کرنے کا اہم مقصد سکیورٹی فورسز کے حکام کا حوصلہ بڑھانا تھا جو دہشت گردی سے متاثرہ ریاست میں بہت مشکل حالات میں کام کررہے ہیں۔ میجر گگوئی کے خلاف ابھی بھی کورٹ آف انکوائری چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ پراکسی جنگ ہے اور پراکسی جنگ ڈرٹی وار ہے اسے پراکسی طریقے سے ہی نمٹنا چاہئے۔ جنگ کے قاعدے تب لاگو ہوتے ہیں جب حریف فریق آمنے سامنے سے لڑتا ہے۔ ادھر مارکسوادی لیڈر محمد سلیم نے جنرل راوت کے بیان کو فوج میں اخلاقی اقدار کو تلانجلی بتایا ہے۔ جبکہ بھاجپا اور کانگریس نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے فوج کو کھلی چھوٹ ملنی چاہئے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے جس طرح برہان وانی اور ساتھی سبزار احمد کے علاوہ کئی دہشت گردوں کو مار گرایا ہے وہ تو یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اب فوج ہتھیار اٹھانے والوں پر نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں دکھائی پڑتی۔ مرکزی سرکار کا نظریہ صاف ہے۔ پتھربازوں کے ساتھ نہ تو کوئی بات چیت ہوگی اور نہ ہی کوئی نرمی برتی جائے گی۔ 1990ء کے بعد ریاست کے حالات اتنے خراب نہیں رہے جتنے پچھلے کچھ برسوں میں رہے ہیں۔ فطری ہی ہے کہ سرکار پر حالات کو بہتر کرنے کا چوطرفہ دباؤ ہے۔ اتفاق ہی بات یہ بھی ہے کہ تشدد اب سکڑ کر ساؤتھ کشمیر کے کچھ ضلعوں تک محدود رہ گیا ہے۔ ایسے میں اگر اس شورش پر قابو نہیں پایا گیا تو انتظامیہ کے اقبال پر سوال اٹھنا فطر ی ہی ہے۔ ہم فوج کے چیف کے بیان کی حمایت کرتے ہیں اور فوج کے ہاتھ باندھ کر لڑائی نہیں لڑی جاسکتی۔
(انل نریندر)

01 جون 2017

پشو بد ھ قانون کیخلاف سیاسی مہا بھارت

مرکز کے نئے پشو بدھ قانون کے خلاف سیاست تیز ہوگئی ہے۔ مرکزی وزارت جنگلات و ماحولیات نے 26 مئی کو ایک نوٹیفکیشن جاری کر جانور بازار میں سلاٹر ہاؤس کیلئے جانوروں کی خریدو فروخت پر روک لگا دی تھی۔ نئے تقاضے کے تحت گائے، بیل، سانڈ، بدھیا، بچھڑے، بھینس اونٹ کو بازار میں لاکر قتل کے ارادے سے ان کی خریدو فروخت پر روک لگائی گئی تھی۔ اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف صف بند ہونے لگی ہیں۔ مغربی بنگال ، پنڈوچیری اور کیرل کی حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو نہیں مانیں گی۔ اس پابندی کے خلاف پیر کو کیرل ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی بھی داخل کی گئی ہے۔ مرکزی سرکار نے 26 مئی کو جانوروں کے خلاف ظلم روک تھام (مویشی بازار ریگولیشن ) قاعدہ 2017 نوٹی فائی کیا۔ اس کے مطابق دودھ دینے والے مویشیوں کی منڈیوں میں خریدو فروخت نہیں ہوگی۔ مویشی تبھی لایا جائے گا جب اس کے مالک کی پوری تفصیل منڈی میں جمع ہوجائے۔ خریدار اور سیلر دونوں لکھ کر دیں گے جانوروں کی کٹائی نہیں ہوگی۔ اس پر جانور کے مالک کے دستخط ہوں گے۔ گائے کے بارے میں آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے لوگ شروع سے ہی حساس رہے ہیں۔ بی جے پی بھی گؤ ہتیا کے بارے میں صاف رخ رکھتی آئی ہے لیکن پی ایم مودی سمیت پارٹی کے کئی نیتا بیچ بیچ میں گؤ رکھشکوں کے ذریعے قانون ہاتھ میں لینے کی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ پی ایم مودی نے تو قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کافی برا بھلا بھی کہا تھا لیکن گؤ رکھشا کا معاملہ پھر بھی کسی نہ کسی شکل میں گرم رہا ہے۔ جانور لے جانے والوں پر حملے نہیں رکے ہیں۔ مرکزی سرکار کے ذریعے سلاٹر ہاؤس کے لئے مویشی کی بکری پر پابندی لگادینے کے بعد یہ اشو اور بھی گرما گایا ہے اور رد عمل میں کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے ورکر ساؤتھ اور مشرقی بھارت میں جو کچھ کررہے ہیں اس کا الٹا اثر نارتھ انڈیا اور دیگر حصوں میں بھی ہوسکتا ہے اس لئے تین طلاق کے بعد اب مویشیوں کا یہ معاملہ بھی بڑا اشو بن سکتا ہے۔ حالانکہ کہا جارہا ہے کہ احتجاج کو دیکھتے ہوئے مویشیوں کی بکری کی پابندی سے بھینس لفظ ہٹایا جاسکتا ہے۔ اصلی تنازعہ اسی پر ہورہا ہے کہ کام دھندے اور روز گار کو بڑی ٹھیس لگنے کی بات کہی جارہی ہے۔ کیا کھانا ہے اس پر آزادی پر بھی چوٹ پہنچنے کی بات ہورہی ہے۔ مویشیوں کی فروخت پر پابندی کو لیکر کیرل میں ورکروں نے بچھڑے کا بدھ کردیا۔ اگلے دن بھی واردات ہوئی۔ چنئی میں بیف پارٹی ہوئی۔ بنگلورو میں بھی کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں، مالیگاؤں میں اس کے پلٹ سخت رد عمل ہوا ہے۔کیرل کے وزیر اعلی نے معاملے کو لیکر وزیر اعظم کو خط لکھا ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کے نیتا ناراض ہورہے ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی و ٹی ایم سی کے لیڈر ممتا بنرجی نے تو پریس کانفرنس میں ناراضگی ظاہر کردی۔ انہوں نے کہا مرکز کا یہ فیصلہ غیر آئینی ہے۔ یہ ریاستوں کے دائرہ اختیار کا معاملہ ہے اور مرکز فیڈرل ڈھانچے کو چوٹ پہنچا رہا ہے۔ ممتا نے معاملہ کو کورٹ میں چیلنج کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ کاٹنے کیلئے گؤ ونش کی خریدو فروخت پر پابندی کے فیصلے کو صحیح مانتے ہوئے مرکز نے قانون میں عام طور سے گؤ کاٹنے کے کئی شہروں میں بیف پارٹی کے انعقاد کو قابل تسلیم قراردیا ہے۔ مرکزی قانون منتری روی شنکر پرساد نے کہا کہ سرکار کسی پر کھانے کی عادتوں کو لیکر دباؤ نہیں بنا رہی ہے۔ اقلیتی امور وزیر مختار عباس نقوی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹیاں ایک بار پھر دیش کا ماحول خراب کرنے کی سازش رچ رہی ہیں۔ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کیرل میں بیف فیسٹول کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک پروگرام میں کہا کہ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے واقعات پر بولنے والے خود ساختہ سیکولر بیف فیسٹ پر کیوں خاموش ہیں؟ احتجاج کرنے والوں کی طرف سے یہ بھی دلیل دی جارہی ہے کہ ان کیلئے گؤ ماس کھانا ضروری ہے۔ وہ یہ دلیل اس بات کو اچھی طرح جانتے ہوئے بھی دے رہے ہیں کہ دیش کے زیادہ تر حصوں میں ایک بڑاطبقہ گائے کی تئیں عقیدت اور احترام رکھتا ہے۔ آخر اس طرح دوسروں کی عقیدت کو چوٹ پہنچانا کہاں کا قانون ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کوئی کسی خاص جانور کے میٹ کے استعمال کی ضد کیسے پکڑ سکتا ہے۔جب کھانے پینے کی عادتیں بدل رہی ہیں اور ساری دنیا میں سبزی خوری پر زور دیا جارہا ہے تو کچھ لوگ گؤ ماس کے استعمال کو ضروری ثابت کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ کیا یہ بنیادی حق ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں گؤ میٹ کھانے پر روک نہیں وہاں کے نیتا کیوں بوکھلائے ہوئے ہیں؟ اب جب مرکزی سرکار کی طرف سے خودہی اس کے اشارے دے دئے گئے ہیں کہ وہ جانوروں کی خریدو فروخت سے متعلق قاعدوں میں ترمیم کرنے پر غور کررہی ہے تب پھر ان نیتاؤں کو ماحول خراب کرنے و سیاست چمکانے سے باز آنا چاہئے۔
(انل نریندر)

سبزارکی ہلاکت سکیورٹی فورس کابڑا کارنامہ

کشمیر میں ایک کے بعد ایک کئی دہشت گردوں کو مار گرایا جانا ہماری سکیورٹی فورس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ سب سے بڑی کامیابی10 لاکھ کے انعامی خطرناک دہشت گرد سبزار احمد کا مارا جانا ہے۔ وادی کشمیر میں سکیورٹی فورس نے سنیچر کو حزب المجاہدین کے سرغنہ کمانڈر برہان وانی کے جانشین سبزار احمد کو مار گرایا۔ اس پر10 لاکھ روپئے کا انعام مقرر تھا اور برہان وانی کے مارے جانے کے بعد وادی میں حزب المجاہدین کی کمان سبزار کے ہاتھ میں تھی۔ ادھر بارہمولہ ضلع کے رائے پور سیکٹر میں کنٹرول لائن پر دراندازی کی کوشش کرتے وقت چھ دہشت گرد مار گرائے گئے۔ مڈ بھیڑ کے دوران تبادلہ فائرننگ میں ایک شہری کی بھی موت ہوگئی۔ سبزار کا خاتمہ اس لئے ضروری تھا کیونکہ اس نے پچھلے سال جولائی میں مارے گئے برہان وانی کی جگہ لے لی تھی۔ اس کے خاتمے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ وادی میں بھارت کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کی زندگی دو چار سال سے زیادہ نہیں ہے۔ برہان اور سبزار کا وہی حشر ہوا جو دہشت گردی کے راستے پر چلنے والوں کا ہوتا آرہا ہے لیکن کشمیر میں آزادی کی بے تکی مانگ کے ذریعے شورش پیدا کر نوجوانوں کو دہشت گردی کے راستے پر دھکیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سبزار کی موت کے بعد وادی میں پتھر بازی و تشدد کا دور شروع ہوگیا۔ دو درجن پولیس والوں سمیت 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ترال و ساؤتھ کشمیر کے اننت ناگ ،شوپیاں، بارہمولہ، کھترا بل سمیت 50 جگہ تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں۔ سرینگر و سات تھانہ علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا ہے۔ مڈ بھیڑ میں مارے گئے حزب کے آتنکی سبزار کئی دنوں سے سکیورٹی فورسز کے نشانے پر تھا۔ سبزار19-20 مئی کو سرینگر آیا تھا اور تبھی سے اس کے ٹھکانوں پر دبش دی جارہی تھی لیکن وہ بچتا رہا۔ سکیورٹی فورس کو جمعہ کو پتہ چلا کہ وہ ترال میں شکار گاہ کے پاس واقع سکھ اکثریتی گاؤں سوئمو میں اپنے ایک واقف کار کے گھر میں چھپا ہے۔ آتنکی رہے برہان وانی کے بچپن کے دوست سبزار احمد ترال میں ایک لڑکی سے پیار کرتا تھا لیکن 2015ء میں یہ تعلق ختم ہوگیا۔ معشوقہ کے ذریعے ٹھکرائے جانے پر اس نے دہشت گردی کا راستہ اپنایا۔ وہ شروع میں برہان کے لئے اوور گراؤنڈ ورک کیا کرتا تھا لیکن اپریل 2015ء کو برہان کے بھائی خالد کے مارے جانے کے بعد وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا۔ سبزار کی مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں میں ہی نہیں بلکہ آتنکیوں کے اوور گراؤنڈ نیٹ ورک یا علیحدگی پسندوں میں گھس پیٹھ کا بھی اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ ذاکر موسیٰ نے حزب المجاہدین سے ناطہ توڑ کر جب اپنا نئی اسلامی تنظیم بنانے کی کوشش شروع کی تو اسے سبزار نے رکوایا اور اس کے کہنے پر موسیٰ کو منانے کے لئے حزب المجاہدین کی کمان کونسل وادی میں سرگرم کرکے اپنے اوور گراؤنڈ نیٹ ورک کی مدد لے رہی ہے۔ کشمیر وادی میں جو حالات بنے ہوئے ہیں اس کے لئے جتنے ذمہ دار حریت علیحدگی پسند تنظیم ہے اتنی ہی پاکستان میں پھل پھول رہی آتنک وادی تنظیمیں بھی ہیں کیونکہ کشمیر میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی ایک دھندہ بن گئی ہے اس لئے وہاں کے حالات سنبھلے کا نام نہیں لے رہے۔ حالانکہ مودی سرکار کی طرف سے بار بار کہا جارہا ہے کہ کشمیر کے حالات جلد کنٹرول ہوجائیں گے لیکن اس میں درکار کامیابی ملتی نظر نہیں آرہی ہے۔ کشمیر کے خراب حالات مودی سرکار کے لئے تشویش کا موضوع بننے چاہئیں کیونکہ تین برس بعد بھی حالات جوں کہ توں بنے ہوئے ہیں اور بدلنے کے معاملے میں بھاجپا کی سانجھے دار پی ڈی پی کا رویہ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ حالانکہ وزیراعلی محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کشمیر مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی رٹ لگائے رہتی ہیں کہ مرکز حریت کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسندوں اور پاکستان پرست عناصر سے بات کرنی چاہئے کیونکہ اس رخ اور رویئے سے بات بننے والی نہیں ہے اس لئے کشمیر میں کچھ نئے اور الگ سے قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہوگی۔
 (انل نریندر)

31 مئی 2017

کیاجیور واقعہ کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے

جیور میں چار عورتو ں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی لوٹ مار و خاندان کے مکھیہ کے قتل کے معاملے میں تضادات میں رپورٹ آرہی ہے۔ معلوم ہو کہ جیور کوتوالی علاقہ کے تحت جیور۔ بلندشہر ہائی وے پر سابوتا گاؤں کے پاس بدھوار کی رات کار سوار فیملی کو بدمعاشوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ انہوں نے لوٹ مار کے بعد کار میں سوار چار عورتوں کے ساتھ کنبے کے سامنے ہی اجتماعی آبروریزی کی۔ ایک عورت کے شوہر نے بدمعاشوں کی مزاحمت کی تو اس کو گولی مار کے ہلاک کردیاگیا۔ بدمعاشوں نے متاثرہ خاندان سے 40 ہزار روپے و زیورات سمیت قریب ایک لاکھ روپے سے زائد کی لوٹ مار کی۔ مقامی پولیس انتظامیہ نے واردات کے بعد اشارے دئے ہیں کہ عورتوں کے بیانات میں تضاد ہے اور گینگ ریپ جیسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ اسکریپ تاجر کے خاندان سے ملنے سنیچر کو جب مرکزی وزیر ڈاکٹر مہیش شرما جیور پہنچے تو متاثرہ خاندان نے مرکزی وزیر سے کہا کہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیکر پولیس بے تکے بیان دے رہی ہے۔ اس سے بدفعلی کا شکار اور اس کے رشتہ دار بیحد مایوس ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کا حوالہ دیکر پولیس چار عورتوں سے اجتماعی آبروریزی جیسی سنگین واردات کو مستردکرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ڈاکٹر مہیش شرما نے متاثرہ خاندان کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ فورنسک رپورٹ جب تک لیب سے نہیں آتی اس سلسلے میں کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔ دکھ کی اس گھڑی میں سرکار ہرممکن مدد کرے گی۔ دوپہر بعد مقامی کسان یونین کا ایک نمائندہ وفد متاثرہ خاندان سے ملنے پہنچا۔ رشتے داروں نے پولیس پر واردات کی تفصیل نہ بیان کرنے کا الزام لگایا جس کے بعد نمائندہ وفد نے پولیس حکام سے بات چیت کر واردات کے بارے میں جلد تفصیل رکھنے کی مانگ کی۔ متاثرہ عورتوں نے سنیچر کو کورٹ میں بیان درج کرایا۔ اس دوران متاثرہ عورتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ متاثرہ فریق کی مانیں تو انہوں نے ایک ایف آئی آر کے مطابق ہی بیان درج کرائے ہیں۔ رشتے داروں کے مطابق عورتوں نے کورٹ سے یہ بھی کہا کہ بدفعلی ہونے کے باوجود پولیس اسے میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیکر نظر انداز کررہی ہے۔ متاثرہ خواتین نے لوٹ مار، بدفعلی اور احتجاج کرنے پر اسکریپ کاروباری کے قتل کا بیان کورٹ میں درج کرایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مقامی پولیس و انتظامیہ سچائی کو دبانے کی کوشش کررہی ہے؟ قتل ہوا ہے، بدفعلی کا الزام ہے اسے ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ متاثرین سے انصاف ہونا چاہئے۔ اگر اس وقت لیپا پوتی کی جارہی ہے تو یہ سراسر غلط ہے۔ ویسے بھی معاملہ اب عدالت میں چلا گیا ہے جہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔
(انل نریندر)

ٹی وی بحث پرپاک مہمان کو بے عزت ہونے کے عوض میں ڈالر

ٹی وی پراپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے کچھ چینل کیا کیا نہیں کررہے ہیں؟ لمبی لمبی بحث کرائی جاتی ہے، بیرونی ممالک سے مہمان بلا کر تو تو مے مے کروائی جاتی ہے۔ ناظرین نے کچھ انگریزی چینلوں پر کشمیرجیسے برننگ اشوز پر پینل بحث سنی ہوگی اس میں ماہرین بلائے جاتے ہیں۔ ٹی وی پر اکثر پاکستان بنام بھارت بحث ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے یہ جانکار میں بھی چونک گیا۔ بھارت بنام پاکستان کی تلخ بحث کے پیچھے اصل سچ کیا ہے؟ جی ہیں؟ کو مت دیکھے بلکہ ٹی وی میں بحث کے پیچھے دھندے کے سچ کو سمجھئے جو منصوبہ بند طریقے سے لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کررہا ہے اور دو دیشوں کے لوگوں کے درمیان دیش بھگتی کو مشتعل بھی۔ٹی وی چینل پر بیٹھا اینکراور پاکستانی نمائندے کے درمیان گرمجوشی سے بھری اور کراری بحث کے پیچھے پورا کھیل ٹی آرپی ریٹنگ اور روپے کا ہے۔ چونکئے مت بلکہ اس سے آگے کے حالات کو بھی سمجھئے جہاں پاکستان گیسٹ کو جو کڑوی کڑوی باتیں سنائی جاتی ہیں اس کے عوض میں اسے باقاعدہ ڈالر میں رقم ادا کی جاتی ہے بدلے میں اسے بحث میں تمام طرح کے الزامات کو سہنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ایک گیسٹ ہیں پاکستان کی جانب سے بھارتیہ نیوز چینل پر دکھائی دینے والے سید طارق پیر زادہ۔ مشہور ٹی وی جرنلسٹ اور مدیر راجدیپ سرڈیسائی نے اپنے انگریزی بلاگ میں ٹی وی کی بحث کے ایک ایسے سچ کو بے نقاب کیا جس کے پاس ٹی وی کی سنجیدہ نیشنلسٹ کی بحث کے پیچھے دوبئی کے ان کے اکاؤنٹ میں جا رہی رقم اور ٹی وی کی ریٹنگ چمکانا ہے۔ راجدیپ کہتے ہیں ہاں میں نے واضح طور سے پیر زادہ کو پروگرام ختم ہونے کے وقت ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔ مجھے اس پر بالکل تعجب نہیں ہوا۔ وہ کل سے آدھا درجن ہندوستانی نیوز چینلوں پر اسکائپ کے ذریعے سے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر امریکی ڈالرمیں انہیں اچھے پیسے دیتے ہیں۔ مجھے دوبئی میں کھولے گئے بینک کھاتے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ کس طرح سے بیحد کارگر کاروباری ماڈل کے طور پر ہیں۔ میں اس کے رد عمل جس میں جارحیت اور بے عزتی سننے کے لئے اور پھراس پر جم کر چلانے کے لئے باقاعدہ پیسہ دیا جاتا ہے۔ جو لوگ اسے زیادہ پیسہ دیتے ہیں وہ خود زیادہ بڑے راشٹروادی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ بھگوان اس جمہوریہ کو ان لوگوں سے بچائے جن کے پراکسی راشٹرواد کو ٹی آر پی کے لئے چلایا جارہا ہے۔ پچھلی رات میں نے پاکستان کے بارے میں ایک واقف چہرے کو ہندوستانی چینل پر دیکھا۔ خودساختہ سیاسی و فوجی تجزیہ نگار سید طارق پیر زادہ نے ہمارے نیوز چینلوں پر بھارت اور ہندوستانی فوج کا بیجا استعمال کرنے کے لئے پیشہ ورانہ طریقے سے استعمال کرنے کے لئے بلایا۔تیزی سے پھیل رہے کٹر واد کی برصغیر میں لہر کے چلتے پیر زادہ کو ایک مثالی مہمان کی شکل میں دیکھا جاتاہے جو کٹر پسند پاکستانی نظریئے کی نمائندگی کرتا ہے۔ پیرزادہ بالکل ویسا ہی نام تھا جیسے خودساختہ نیوز چینل کا اینکر اسے بنانا چاہتے تھے۔ اتنا ہی نہیں پیر زادہ نے ہندوستانی فوج کو گندی زبان کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کی اور لگے ہاتھ وارننگ بھی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی ملک ہے اور اب بھارت کو اسے سبق سکھانا ہی ہوگا۔ اس کے جارحانہ انداز مجھے ہندوستانی سنیما کے اس گیت کی طرح لگا ’آ دیکھیں ذرا کس میں کتنا ہے دم‘ بھارت کا موقف رکھنے کے لئے ایک بزرگ میجر جنرل بھی موجود تھے جو پیر زادہ کو اسی انداز میں جواب بھی دے رہے تھے۔ یہ تو تو مے مے کا دور پورے 30 منٹ تک جاری رہا اور پھر اشتہارکے دباؤ میں آخر کار اس اینکر کو بریک لینا پڑا۔ حساس ترین اشوز پر سنجیدہ بحثیں مانو کسی نوٹنکی کا احساس کرا رہی تھی اور بیوقوفی بھری دلیل اور بیجا وضاحت کے سوائے بحث میں کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔ کنٹرول لائن کو بھول جائیے کیونکہ ہمارے یہاں اسکرین پر ٹی وی جنگ کھیلی گئی جہاں اسکرین میں صرف آگ کی کمی تھی۔ دراصل کسی بات کو سنسنی خیز طریقے سے بتانا ٹیلیویژن کو ریٹنگ پوائنٹ میں مانیتا دلاتا ہے اور اسی کے چلتے اخبارات کی دنیا میں انتہائی راشٹرواد کے نام پر تماشہ بیچا جارہا ہے۔ سنجیدہ بحث کے نام پر کھیلے جارہے اس گندے کھیل میں صبر یا تحمل کو کمزور بتایا جاتا ہے اور سیاسی طور پر وہی صحیح ہے جو بے خوف دھڑلے سے مردانگی کا ثبوت دے۔ اب وقت ہے ٹی وی کے اس ناپائیدار سچ کو سمجھنے کا جہاں ٹیلیویژن کے دھندے کو چمکانے کے لئے دیش کے نام پر لوگوں کو نہ صرف بیوقوف بنایا جارہا ہے بلکہ ورغلایا بھی جاتا ہے۔ کیا ٹی وی پر بیٹھے پیر زادہ جیسے لوگ واقعی بھی کسی کی نمائندگی کرتے ہیں؟ راجیو سرڈیسائی کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس سچ کو اجاگر کیا ہے۔
(انل نریندر)

30 مئی 2017

برہمپتر پر بنے پل کی اہمیت اس کی لمبائی سے کہیں زیادہ

سرکار کے تین سال کا جشن منانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرق خطے کو چنا۔ اس موقعہ کو یادگار بنانے کیلئے مودی نے آسام اور اروناچل پردیش کے درمیان برہمپتر ندی پر دیش کے سب سے بڑے پل کا افتتاح کیا۔ اس انتہائی پسماندہ نارتھ ایسٹ کو انہوں نے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) و انڈین ایگریکلچر ریسرچ کونسل کا بھی تحفہ دیا۔ جمعہ کو آسام کے سدور فیماجی کے گوگوا مکھ قصبے میں اروناچل پردیش کی سرحد پر منعقدہ ریلی میں لوگوں کے ہجوم کی موجودگی ظاہر کرتی ہے یہ پل ان کے لئے کتنا اہم ہے۔ بیشک یہ دیش کا سب سے بڑا پل ہے۔ پٹنہ کے مہاتما گاندھی سیتو اور سمندر کی اچھال لیتی لہروں پر بنے ممبئی ورلی سی لنگ بھی لمبا ہے لیکن وزیر اعظم نے آسام میں ڈھولا کو سدیہ سے جوڑنے والے جس 9.15 کلو میٹر لمبے پل کا افتتاح کیا اس کی اپنی اہمیت اس کی لمبائی سے کہیں زیادہ ہے۔ صرف مقامی سطح پر دیکھیں تو یہ برہمپتر ندی کے اس پار بسے سدیہ قصبے کے لئے کافی اہمیت کا حامل ہے جو سیدھا رابطہ نہ ہونے کے سبب باقی آسام سے الگ تھلگ ہوجاتا تھا۔ اب سدیو کے لوگوں کے لئے ایک نایاب ہی نہیں بلکہ پورے دیش تک پہنچنا بہت آسان ہوجائے گا۔سدیو کے لوگوں کو صرف جغرافیائی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس سے اس کا پورا اقتصادی مکینزم بھی بدل جائے گا۔مہا سیتو کے ذریعے سرحد پر دیش کی دفاعی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس مہا سیتو کا ڈیزائن اس طرح سے بنایاگیا ہے کہ یہ فوجی ٹینکوں کا بھی وزن برداشت کرسکے۔ یہ پل 60 ٹن وزنی جنگی ٹیک کا وزن بھی سہن کرنے میں اہل ہے۔ چینی سرحد سے ہوائی دوری 100 کلو میٹر سے کم ہے۔ مودی نے شمال مشرق کی ریاستوں کو کافی لمبی اپڈلکشمی نام سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ اپڈ لکشمی پرویش پنچ سے جوڑے گی۔ یہ پنچ پتھ 21 ویں صدی کے انفرسٹکچر کے ہوں گے جن میں ہائی وے ریلوے اور ایئرویز اور انفورمیشن ویز قابل ذکر ہیں۔ شمال مشرق کی ریاستوں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے وکاس سے دیش کی قسمت بدلے گی۔ دہلی کی سرکار ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔ ایک طرف اور اچھی بات یہ ہوئی کہ وزیر اعظم نے اس پل کا نام مشہور آسامی گلوکار بوپند ہزاریکا کے نام پر رکھ کر اسے علاقائی پہچان سے جوڑدیا۔ بوپیندر ہزاریکا کی پیدائش 91 سال پہلے سدیہ میں ہی ہوئی تھی جہاں سے نکل کر وہ پورے دیش کی موسیقی دنیا میں ایک طاقتور آواز بنے۔ ان کی آواز میں برہمپتر کی تیز لہروں کی کھنک ہمیشہ موجود رہی۔ اس سیتو کی مضبوطی ہے اہم نہیں ہے اس کے 118 وسیع کھمبے زلزلے کے بہت جھٹکوں کو بھی آسانی سے جھیل سکتے ہیں۔ ساتھ ہی برہمپتر میں اکثر آنے والی باڑھ بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
(انل نریندر)

صدارتی چناؤ کے بہانے اپوزیشن اتحاد کی کوشش

این ڈی اے کے تین سال کے جشن کے دن ہی آخر کار صدارتی چناؤ کے بہانے اپوزیشن اتحاد کی بنیاد رکھنے کی سونیا گاندھی کی کوشش کچھ حد تک کامیاب رہی اور کچھ معنوں میں اتنی کامیاب نہیں رہی ۔ کانگریس صدر کی پہل پر 17 اپوزیشن پارٹیوں کو ایک ساتھ میٹنگ میں بلانا ان کی کامیابی رہی۔ علاقائی سیاست میں دشمن مانی جانے والی پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر لانے کی سونیا کی کوشش کامیاب رہی۔ یوپی سے بی ایس پی چیف مایاوتی اور ایس پی پردھان اکھلیش یادو کے علاوہ مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی ،لیفٹ لیڈر سیتا رام یچوری اور دیگر کمیونسٹ نیتاؤں کی ایک ساتھ موجودگی سیاست کے ذریعے سے بیحد اہم مانی جارہی ہے۔ سونیا کی اس ملاقات میں کانگریس کے علاوہ آر جے ڈی ، جے ڈی یو،سپا، بی ایس پی ، پی ٹی ایم، سی جے ایم ایم، کیرل کانگریس، نیشنل کانگریس، این سی پی، ڈی ایم کے ، اے آئی یو ڈی ایف، آر ایس پی، آل انڈیا مسلم لیگ، سی پی ایم، سی پی آئی، جے ڈی ایس کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس میٹنگ میں عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کو نہیں بلایا گیا وہیں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی جگہ جے ڈی یو کے قومی صدر شرد یادو پہنچے۔ کرپشن کے نئے الزامات میں گھرے قومی صدر راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کی موجودگی میں نتیش کے غائب رہنے پر سیاسی قیاس آرائیاں لگانا توطے تھا۔ بتادیں کہ صدر پرنب مکھرجی نے یہ صاف کردیا ہے کہ دوسرے عہد میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے اس وجہ سے اس میٹنگ کی بہت اہمیت مانی جارہی ہے۔ سونیا گاندھی کی میٹنگ سے غائب رہے نتیش کمار پی ایم مودی کے لنچ میں شامل ہوئے۔ ان کے اس قدم سے ایک بار پھر ان کی بی جے پی سے نزدیکیاں بڑھنے کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ وہیں اپوزیشن کے اتحاد پر بھی سوال کھڑے ہورہے ہیں حالانکہ سونیا گاندھی کے ذریعے دئے گئے لنچ میں حصہ نہ لینے پر نتیش نے صفائی دی ۔ ان کا کہنا ہے لنچ پر میری غیر موجودگی کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ میں سونیا جی سے اپریل میں ہی مل چکاتھا اور جن اشوز پر اس بار تبادلہ خیال ہونا تھا ان پر پہلے ہی غور و خوض کر چکا تھا۔ اس بار انہوں نے سبھی پارٹیوں کو لنچ پر بلایاتھا ۔بحران آنے سے پہلے اسے بھانپ لینا اور پھر اسی حساب سے قدم اٹھانا بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بخوبی جانتے ہیں۔ ایک دو معاملوں کو اگر چھوڑدیا جائے تو ان کا حساب کتاب مقام اور عہد کے حساب سے عام طور پر فٹ بیٹھتا ہے۔بہار کی سیاست میں اپنے کٹر مخالف لالو یادو تک سے ہاتھ ملانے سے پیچھے نہیں رہے لیکن اب ساتھ چھوڑنے کی بات سامنے آرہی ہے۔ سیاست کے منجھے ہوئے اس کھلاڑی کے اگلے قدم پر سب کی نظر ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس پر سے پردہ کب اٹھتا ہے؟ دراصل وزیر اعظم کے سیاسی برانڈ پر سواربھاجپا ۔ این ڈی اے کو 2019ء کے عام چناؤ میں چنوتی دینے کے لئے کانگریس صدارتی چناؤ کے بہانے اپوزیشن پارٹیوں کو یکجا کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ میٹنگ اس معنی میں کامیاب رہی کہ ریاستوں میں برعکس کیندر پر رہنے والی پارٹیاں قومی سیاست میں ایک اسٹیج پر آنے کو تیار ہیں۔ میرا ہمیشہ سے خیال رہا ہے کہ کانگریس کا گرتا گراف قومی ٹریجڈی ہے۔ اگر جمہوریت کے لئے مضبوط اقتدار فریق ضروری ہے تو اتنا ہی ضروری مضبوط اپوزیشن۔ اور یہ رول کانگریس ہی نبھا سکتی ہے۔ یہ علاقائی پارٹیوں کا نظریہ تنگ ہوتا ہے جو قومی نقطہ نظر سے نہیں سوچ سکتیں ، یہ ہمیشہ اپنی اپنی ریاستوں کے بارے میں ہی سوچتی ہیں اور کانگریس کی بدقسمتی یہ ہے کہ پارٹی کا گرتا گراف رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سونیا گاندھی بیمار ہونے کے سبب اب اتنی سرگرم نہیں، راہل تمام کوششوں کے باوجود اپنے میں خو اعتمادی پیدا نہیں کرپا رہے ہیں۔ راشٹرپتی چناؤ میں پتہ چل جائے گا کہ ان اپوزیشن پارٹیوں میں کتنا اتحاد ہے۔ 2019ء تو ابھی دور ہے۔
(انل نریندر)

28 مئی 2017

لا اینڈ آرڈر انتظام یوگی آدتیہ ناتھ کیلئے سب سے بڑی چنوتی

لا اینڈ آرڈر کے نام پر سابقہ اکھلیش یادو کی حکومت کو گھیر کر قریب دو مہینے پہلے نئے تیور کے ساتھ اقتدار میں آئی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے لئے یہی سب سے بڑا اشو بن کر ابھرا ہے اور یہی سب سے بڑی چنوتی بھی ہے وزیر اعلی کے سامنے۔میں نے اسی کالم میں ریاست میں بگرتے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ یوگی حکومت اپنے ابتدائی 100 دنوں کے عہد کی رپورٹ کارڈ اگلے مہینے کے آخر تک جاری کرے گی۔ مگر بگڑتے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو پٹری پر لانا سب سے بڑی چنوتی ہے۔ پردیش بھاجپا کا کہنا ہے کہ یوگی سرکار بننے کے بعد سے ریاست کی تصویر میں تبدیلی ضرور ہوچکی ہے بیشک یہ کئی سیکٹروں میں ہی صحیح کہا جارہا ہے کہ غنڈہ گردی ختم ہورہی ہے اور جرائم کا گراف گر رہا ہے۔ سرکار میں جنتا کا بھروسہ بحال ہورہا ہے مگر سہارنپور میں نسلی جھگڑا، بلند شہر ، سنبھل اور گونڈا میں حال ہی میں ہوئے فرقہ وارانہ واقعات نے سرکار کے لئے پریشانی کھڑی کردی ہے۔ زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان وارداتوں میں بھاجپا اور خودساختہ ہندووادی تنظیموں کے لوگوں کی شمولیت کے الزام لگے ہیں۔ پچھلے مہینے سہارنپور کے شبیر پور میں بھڑکے نسلی دنگے کے بعد راجپوتوں اور دلتوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرے میں اب تک کی کوششیں ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے الٹ ان میں ٹکراؤ ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ سہارنپور ضلع پچھلے دس دنوں میں نسلی تشدد میں جل رہا ہے 2 لوگ مارے جاچکے ہیں اور6 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔ تشدد سے متاثرہ دیہات میں دہشت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ پولیس کے جوانوں کی گشت کے باوجود رات میں کوئی بھی ٹھیک سے سو نہیں پارہا ہے۔ زیادہ تر لوگ تو کام پر بھی نہیں نکل پارہے ہیں۔ جمناایکسپریس وے کے پاس چلتی کار کو روک کر قتل اور اجتماعی بدفعلی کی خوفناک واردات نے اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر کے سوال کو اس لئے کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے کیونکہ مغربی اترپردیش تو پہلے سے ہی ناگزیں اسباب سے سرخیوں میں رہتا ہے۔ یوگی حکومت اس کو نظر انداز نہیں کرسکتی کہ ایک طرف سہارنپور میں نہ تھمتا نسلی تشدد اس کے لئے درد سر بنا ہوا ہے تو دوسری طرف لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو چنوتی دینے والے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ گڈ گورننس کے دعوی کو منہ چڑھانے والے واقعات تب سے ہورہے ہیں جب ریاستی سرکار لگاتار اس پر زور دے رہی ہے قانون کے خلاف کام کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔آج جنتا پوچھ رہی ہے کیا اب ہم رات کوگھروں سے نکلنا بند کردیں؟ تب بھی نہ نکلیں جب ہمارا کوئی ہسپتال میں بھرتی ہو اور اسے ہماری سخت ضرورت ہو؟ تب بھی نہ نکلیں جب ہمارا کوئی محبوب اچانک کسی مشکل میں پڑ جائے؟ اگر یہ ساری تشویشات صحیح ہیں تو یہ سوال بھی صحیح ہے کہ آخر کس سماج میں ہم جی رہے ہیں؟ گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے سے اترتے ہی جیور سے بلند شہر کے راستے جو کچھ ہوا وہ ایسے کئی سوال چھوڑتا ہے کہ ایک خاندان مشکل میں پڑے اپنے رشتہ داروں کا دکھ بانٹنے ہسپتال جا رہا تھا ساتھ میں چار عورتیں اس لئے تھیں کہ ہسپتال میں بھرتی مریض بھی ایک خاتون تھی۔ اس کو ان کی فوری مدد درکار تھی۔ جیور سے لوگ تھوڑا آگے بڑھنے پر لٹیروں نے سڑک پر کوئی نوکیلی چیز پھینک کر پہلے ان کی گاڑی کا پنکچر کیا اور جب تک یہ کچھ سمجھ پاتے ان عورتوں کو لیکر چلے گئے اور ان کے ساتھ اجتماعی آبروریزی اور احتجاج کرنے والے لڑکے کو گولی مار دی گئی۔ حال ہی کے کچھ واقعات بتا رہے ہیں کہ سخت اور سندیش دینے والی کارروائی کی کمی سے حالات کیسے بگڑتے ہیں۔ اس واقعات کے بعد پولیس انتظامیہ کے ساتھ ریاستی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا فطری ہے۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے کافی ثبوت ہیں۔ پولیس نے بلند شہر کے واقع سے ضروری سبق لینے سے انکار کیا۔ آخر یہ خودساختہ بدمعاش گروہ کی کمر توڑنے کے ساتھ جرائم زدہ علاقوں کی نگرانی کا بنیادی کام کیوں نہیں کرسکی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بلند شہر کے واقعہ کے بعد جو دعوے کئے گئے تھے، وہ آدھے آدھورے تھے۔ ان سوالوں کا جواب جو بھی ہو یہ ٹھیک نہیں کہ اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ایک ایسے وقت میں بحران میں ہے جب مودی سرکار اپنے عہد کے تین سال پورے ہونے کو لیکر جشن منا رہی ہے۔
(انل نریندر)

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حلف نامہ پر اتفاق

سپریم کورٹ میں تین طلاق کے مسئلہ پر جاری سماعت کا جواز دکھائی پڑنے لگا ہے۔ عدالت میں سماعت پوری ہوچکی ہے، فیصلہ کیا ہوگا یہ تو بعد میں ہی پتہ چلے گا لیکن سماعت کے دوران تین طلاق کو ختم کرنے کی مخالفت کرنے والے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جس طرح طلاق کے اس طریقے کے خلاف حلف نامہ میں ایک شرط درج کرنے پر رضامندی دکھائی اس سے لگتا ہے کہ اسے یہ حقیقت سمجھ میں آگئی ہے کہ بیدار مسلم سماج اور خاص کر مسلم خواتین نے اب فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ پرانے طریقے پر چلنے کیلئے اب تیار نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ ابھی مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تین طلاق کے اشو کو عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر بتایا تھا۔ یہ بھی کہا تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیناآئین اور رائج مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہوگی۔ بورڈ کی ایک اور اہم دلیل یہ بھی تھی کہ تین طلاق قرآن شریف اور شریعت سے تعلق رکھنے کے سبب عقیدت سے جڑا معاملہ ہے۔ لیکن اب بورڈ کے لہجے میں تبدیلی آئی ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں داخل اپنے نئے حلف نامہ میں بورڈ نے کہا ہے کہ عورتوں کو تین طلاق نہ ماننے کا حق بھی ملے گا۔ دلہن نکاح نامہ میں وابستہ شرط جڑوا سکے گی۔ یہی نہیں، قاضی دولہا دولہن کو سمجھائے کہ تین طلاق نہ کہنے کی شرط نکاح نامہ میں شامل کروائیں۔ بورڈ تین طلاق کا بیجا استعمال روکنے کے لئے اپنی ویب سائٹ ،سوشل میڈیاسمیت سبھی ذرائع کا استعمال کرے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تازہ حلف نامہ کی بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے بورڈ عورتوں کے درمیان محض غلط فہمی پیدا کررہا ہے اور کہا ہے کہ تین طلاق کا سہارا لینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ تنظیم نے کہا یہ صلاح کافی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق کی مخالفت کرنے والی وکیل فراز فیض نے کہا کہ بورڈ قاضیوں کو مشورہ یا دولہوں کو ایسی صلاح دینے والا کوئی فریق نہیں ہے۔ یہ ایک رجسٹرڈ این جی او ہے جو قاضیوں کو نہ تو شامل کرتی ہے اور نہ ہی انہیں نوکری پر رکھتی ہے یہ صرف مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کررہا ہے۔ فیض نے کہا کہ بورڈ کو ایسا مشورہ دینے کا کوئی قانونی یا مذہبی اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کا کام صرف سماجی اصلاحات کے لئے کام کرنا ہے۔ دیش کے مسلمانوں پر حکومت کرنا نہیں۔ دراصل بورڈکے یکدم جاگنے کے پیچھے اسے اپنے ہاتھ سے کمان چھوٹنے کا احساس ستا رہا ہے۔ اگر عدالت نے فیصلہ کرلیا تو پھر اس کے پاس کون جائے گا؟ ویسے بھی پرسنل لاء بورڈ پورے مسلم سماج کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اب عدالت کو طے کرنا ہے کہ فیصلے سے پہلے نئے حلف نامہ کو وہ قبول کرتی ہے یا نہیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...