Translater

30 اکتوبر 2015

گیتا بھارت تو لوٹ آئی پر کہانی میں نیا موڑ آگیا

کچھ ماہ پہلے بالی ووڈ فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ آئی تھی۔ جس کے بعد پاکستان میں رہ رہی گونگی بہری لڑکی گیتا کی وطن واپسی ممکن ہوسکی لیکن بھارت کی سرزمیں پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی گیتا کی کہانی میں ایک نیا موڑ آگیا۔ بہارکے ضلع سہرسہ کے جس مہتو خاندان کے فوٹو کو گیتا نے اپنے ماں باپ کے طور پر پہچاناتھا ، انہیں جب اس نے آمنے سامنے دیکھا تو بالکل نہیں پہچان سکی۔ بیٹی کو گلے لگانے کی تمنا لئے پچھلے کئی دنوں سے دہلی میں ڈیرا ڈالے جناردن مہتو کو زبردست مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں قریب 15 سال تک رہنے کے بعد بھارت کی بیٹی آخر کار پیر کے روز اپنے وطن لوٹ آئی تھی۔ پاکستان سے ایدی فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کے ساتھ گیتا پی آئی اے کے طیارے سے دہلی آئی تو وزارت خارجہ اور پاکستانی ہائی کمیشن کے سینئر افسران اس کا استقبال کرنے کیلئے ہوائی اڈے پر موجود تھے ۔ کوئی ڈیڑھ دہائی پہلے بھٹکی ہوئی لڑکی کو اس کی منزل مل گئی۔ جب گونگی بہری گیتا غلطی سے بارڈر پار کر گئی تھی ۔ اگر انجانے میں سرحد پار کی ایک غلطی کو درکنار کردیں تو گیتا معاملے کی یہ داستاں غیر معمولی ہی کہی جائے گی۔ اس میں اس کی پرورش کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایدی فاؤنڈیشن ،پاکستان کابھائی چارہ نبھانے والا سماج اور وہاں کے رینجر و سرکار نے شاندار رول ادا کیا ہے اس کیلئے ان سب کا شکریہ۔ اس کے ساتھ حکومت ہند بھی مبارکباد کی مستحق ہے جس نے سنجیدگی دکھائی ۔ یہ اچھا ہوا کہ ہندوستان کی وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے گیتا کی واپسی میں پاکستان سرکار کی جانب سے ملے تعاون کا نہ صرف ذکر کیا بلکہ ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تمام تلخی اور ڈپلومیٹک سطح پر ٹکراؤ کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان ایسے رشتے بنے رہنے چاہئیں اور عام لوگوں کو کسی طرح کی کوئی دشواری نہ ہو۔ گیتا کی واپسی کے ساتھ ہی ایک ایسے پاکستانی لڑکے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے جو ایک عرصے سے بھارت میں رہ رہا ہے اور کچھ وجوہات سے پاکستان نہیں لوٹ سکا۔ ایسے معاملوں میں بھی ہمدردانہ فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ اس ضرورت کی تکمیل ان قیدیوں کے معاملے میں بھی کی جانی چاہئے جو سزا پوری کرنے کے باوجود ایک دوسرے ملک کی جیلوں میں بند ہیں۔ دونوں ملکوں کو ان ماہی گیروں کے معاملے میں بھی ہمدردی دکھانے کی ضرورت ہے جو بھٹک کر ایک دوسرے کی سرحد پار کرجاتے ہیں۔ گونگی بہری گیتا کی 15 سال تک دیکھ بھال کرنے والے کراچی کے ایدی فاؤنڈیشن کو وزیر اعظم نریندر مودی نے 1 کروڑ روپے کا ڈونیشن دینے کا اعلان کیا۔ ابھی اس میں تھوڑا تضاد ہے کہ ایدی فاؤنڈیشن نے ڈونیشن لینے سے انکار کردیا ہے یا نہیں؟ ڈونیشن پر اس کشمکش کی شروعات تب ہوئی جب پاکستانی اخبار’ڈان‘ نے ایدی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی کہ ادارے نے ڈونیشن لینے سے منع کردیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے کی طرف سے بعد میں بیان بھی دیا جائے گا۔ حالانکہ دیر شام ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی حکام نے تصدیق کرنے کے لئے ایدی فاؤنڈیشن کے نمائندوں سے بات کی تھی اور انہوں نے ان رپورٹوں کو غلط بتایا کہ فاؤنڈیشن نے ڈونیشن لینے سے منع کردیا ہے۔ وزیر اعظم نے پیر کے روز 1 کروڑ روپے تحفے کے طور پر دینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ گیتا کی واپسی بھی سیاست سے الگ نہیں رہ پائی۔ پاکستان نے اس کے بدلے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کی مانگ رکھ دی۔ یہ بھی کم بدقسمتی نہیں ہے کہ ایک طرف تو وہ گیتا کو واپس بھیج کر انسانیت کی مثال پیش کرتا ہے تو وہیں جموں و کشمیر میں رہ رہ کر گولہ باری سے باز نہیں آتا۔ بہتر ہو کہ پاکستان نے گیتا کی واپسی کو لیکر جیسی انسانی ہمدردی کی مثال پیش کی ہے و ہیں وہ بھارت کے دیگر علاقوں میں پیدا خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کرے۔
(انل نریندر)

بھگوان وشنو کو کیسے جگائیں: سپریم کورٹ طے کرے

کیرل کا شری پدمنابھ سوامی مندر اکثر بحث میں رہتا ہے۔ 2 ہزار سال پرانے اس مندر کی نگرانی سپریم کورٹ کررہا ہے۔ کورٹ کے حکم پر ہی 2011 ء میں مندر کے تہہ خانے کھولے گئے تھے۔ تب 1 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا اثاثہ ملا تھا۔ ایک تہہ خانہ ابھی کھولا جانا باقی ہے۔ پچھلے دنوں اس مندر کو لیکر ایک دلچسپ بحث چھڑی۔کہ بھگوان وشنو کو کیسے جگایا جائے؟ پہلے ان کی پوجا کون کرے؟ یہ بحث کا اشو تھا۔ اس کا فیصلہ بھی لوگ سپریم کورٹ سے ہی کروانا چاہتے ہیں۔ مندر میں جاری رسم و رواج میں ہورہی تبدیلیوں کا معاملہ عدالت عظمیٰ پہنچ گیا ہے۔ اس چھڑی بحث میں شراون کوٹ شاہی پریوار کی جانب سے کے کے وینو گوپال اور سکریٹ کیوری کے طور پر گوپال سبرامنیم نے دلیلیں پیش کیں لیکن عدالت نے چیف پجاری پر معاملہ چھوڑدیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ سماعت جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور انل آر دوے کی عدالت میں ہوئی ۔ گوپال سبرامنیم :بھگوان وشنو کو جگانے کے لئے مندر میں وینکٹیش سوپربھات شلوک پڑھا جانا ضروری ہے۔ کے کے وینو گوپال: بھگوان گہری نیندمیں ہیں اسے یوگ نندرا کہا جاتا ہے، انہیں صبح صبح گا کر نہیں جگایا جاسکتا۔ یہ مندر کی صدیوں پرانی روایت کے خلاف ہے جو ریتی رواج مندر کی روایات میں شامل نہیں رہیں انہیں انتظامیہ کمیٹی لاگو کررہی ہے۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ اس کا برا اثر پڑے گا۔ سبرامنیم: آپ یہ شلوک سنئے اس میں پدمنابھ سوامی کا ذکر ہے۔کوشلیا سوپرگیا راج پرسندھیا پروارتت اتشٹھ کرتویہ دیوساہتکم ہتوا ہتکم۔ اتشٹھوٹھا گووندم گتشٹھا گرورودھواجا اتشٹھا کملا کانتم ترے لوکیم منگلے کروہ ماترسمستا بھگتو مکور پیارے بھکچو بہاری گتی منوہر دتیا مورتا۔ شری سورگیہ سچتانند پریہ داس شیلے شری وینکٹیش شدھیتم سپربھاتم۔ وینو گوپال : یہ وینکٹیش سپربھاتم ہے ۔ تری مالا میں بھگوان وشنو کے اوتار وینکٹیش پتی کیلئے گایا جاتا ہے۔وہاں بھگوان کی کھڑی پرتما ہے لیکن پدمنابھ سوامی مندر میں بھگوان سوئے ہوئے ہیں انہیں جگانے کے لئے ونکٹیش سپربھاتم کیسے گایا جاسکتا ہے؟ عدالت: بھگوان کو کس شلوک سے جگایا جائے، یہ آستھا کا سوال ہے۔ ہم اسے کیسے طے کرسکتے ہیں؟ مندر کے چیف پجاری پرمیش ورن نمودری ہی اس کا فیصلہ کریں۔ سماعت کے دوران وینو گوپال نے کہا شاہی پریوار کو روز پوجا کیلے آدھا گھنٹا ملا ہے لیکن مندر کی انتظامیہ کمیٹی کے سربراہ کے این ستیش اسے چھوا چھوت مانتے ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا ستیش انقلابی نظریات سے متاثر نہ ہو۔ آخری فیصلہ آنے تک شاہی پریوار کو روایتی حقوق ملتے رہیں گے۔ ان کا سب کچھ تو ہم لے چکے ہیں صرف پوجا کرنے کا اختیار چھوڑا ہے۔ آپ ان سے یہ بھی چھیننا چاہتے ہیں۔۔۔ ان کے پرکھوں نے ہی مندر بنوایا ہے۔
(انل نریندر)

29 اکتوبر 2015

ہندو ڈان چھوٹا راجن کی کہانی ممبیا فلموں سے کم نہیں

ایک بار پھر بھارت کے سب سے زیادہ مطلوب جرائم پیشہ میں ایک ہے انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن۔ خبر آئی ہے کہ انڈونیشیا پولیس نے انٹر پول کے ریڈ کارنر نوٹس کی بنیاد پر انڈونیشیائی شہر بالی میں اسے گرفتار کرلیا ہے۔ وہ پچھلی دو دہائی سے فرار تھا۔ اسے جلد ہی وہاں سے بھارت ڈیپوٹ کیا جائے گا۔ یہ چھوٹا راجن کون ہے؟ آج میں اس کی کہانی بتاؤں گا۔ چھوٹا راجن کا اصلی نام ہے راجندر سدا شیو نکھلجے۔ وہ 56 سال کا ہے۔ ا س کی پیدائش بمبئی جو اب ممبئی ہے کہ چیمبور علاقے میں تلک نگر کے ایک مراٹھی خاندان میں ہوئی تھی۔ 1980 کی ابتداء میں اس نے شاہکار سنیما میں ٹکٹیں بلیک کرنے کے دھندے سے اپنی مجرمانہ زندگی کی شروعات کی تھی۔ مقامی گروہوں سے ہوتے جھگڑوں کے دوران ایک بار اس کی ملاقات راجن نائر (بڑا راجن) نامی شخص سے ہوئی۔ نکھلجے نے اسے اپنا گورو بنایا اور اس سے دھندے کی باریکیاں سیکھیں۔1982 میں بڑے راجن کو ساؤتھ ممبئی کے ایک علاقے میں گولی مار دی گئی لہٰذا اس گروہ کا سرغنہ نکھلجے بنا اور چھوٹا راجن نام سے مشہور ہوا۔ اپنے باس کے قتل کے بعد چھوٹا راجن نے سونے اور چاندی کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کے ساتھ مل کر خود اپنا دھندہ چمکایا۔ یہ سبھی اسمگلر داؤد ابراہیم کے نام پر چھوٹے چھوٹے بدمعاش گروہوں میں کام کرتے تھے۔ 1980 ء کے درمیان میں ممبئی پولیس نے داؤد کو پکڑنے کے لئے اپنی کارروائی تیز کردی۔ جگہ جگہ چھاپے ماری شروع ہوگئی۔ لہٰذا داؤد کو ممبئی چھوڑ کر دوبئی میں پناہ لینی پڑی۔ اس نے اپنے ممبئی کے سبھی کاروبار کا ذمہ چھوٹا راجن کو سونپ دیا۔ راجن نے اپنے نئے باس کے ذریعے دی گئی ذمہ داری کو امید سے بہتر طریقے سے نبھایا۔ پہلے داؤد کا سنڈیکٹ(کاروبار) بھارت تک ہی محدود تھا۔ چھوٹا راجن نے اپنے کاروباری اسٹیٹ کو سری لنکا اور نیپال تک پھیلا دیا۔ اسی دوران پولیس کی پکڑ سے بچنے کے لئے چھوٹا راجن بھی دوبئی بھاگ گیا۔ وہاں وہ داؤد کا داہنا ہاتھ بن گیا۔ بالی ووڈ فلموں کی طرح اس کہانی میں ایک نیا موڑ 1992 میں آیا۔ 1992 میں سبھاش ٹھاکر نامی شخص کو داؤد کے غنڈوں نے راجن کے تین دوستوں کا قتل کردیا۔ مانا گیا ہے کہ یہ قتل داؤد کے اشارے پر ہوئے۔ راجن اور داؤد کے رشتوں میں تلخی تو آئی لیکن تب بھی دونوں ساتھ ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر ہوئی1993 کے ممبئی کو دہلانے والی سازش۔ 1993 میں ممبئی سیریل دھماکوں میں 350 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی۔ چھوٹا راجن نے اس پر اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ چھوٹا راجن نے کہا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر وہ جرائم کا مخالف ہے۔ اسی درمیان داؤد اور چھوٹا راجن کے گینگ مسلم اور ہندو بنیاد پر بٹ گئے۔ فاصلے اتنے بڑھ گئے کہ دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن گئے۔ علیحدگی کے بعد دونوں نے ایک دوسرے پر حملے شروع کردئے۔ اس خونی کھیل میں دونوں گروہ کے 100 سے زیادہ گرگے مارے گئے۔مانا جاتا ہے کہ داؤد گروہ کے بارے میں اطلاعات پہنچا کر راجن بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد بھی کرتا رہا ہے۔کہانی میں پھر ایک موڑ 2000ء میں ا س وقت آیا جب ستمبر میں بینکاک میں راجن پر داؤد نے ایک بڑا قاتلانہ حملہ کروایا۔ پورے حملے کو داؤد کے موجودہ بایاں ہاتھ مانے جانے والے چھوٹا شکیل نے انجام دیا۔ پیزا ڈلیوری کرنے والے کے شکل میں گئے داؤدکے شوٹروں نے ہوٹلوں کے کمرے میں راجن پر حملہ کیا۔ اس میں راجن کا ہٹ مین روہت ورما اور اس کی بیوی ماری گئی۔ زخمی حالت میں چھوٹا راجن ہوٹل کی پہلی منزل سے کود کر بھاگ نکلنے میں کامیاب رہا۔ یہ حملہ داؤد کو مہنگا پڑا۔ چھوٹا راجن گروہ نے 2001ء میں ممبئی میں داؤد کے دو ساتھیوں ونود شیٹی اور سنیل سانس کو موت کی نیند سلا دیا۔ جنوری 2003ء میں چھوٹا راجن گروہ نے ممبئی میں داؤد کے چیف فائننس منیجر شرد شیٹی کو گولیوں سے بھن دیا۔ یہ داؤد کیلئے بڑا جھٹکا تھا۔ انڈر ورلڈ کو لیکر مایا نگری میں بہت ساری فلمیں بن چکی ہیں، لیکن 2002ء میں رام گوپال ورما کے ذریعے بنی فلم ’’کمپنی‘‘ میں چندو کا کردار چھوٹا راجن سے تشبیہ دیا جاتا تھا۔ اسی طرح 1999ء میں آئی فلم ’’واستو‘‘ میں سنجے دت کا کردار بھی راجن کی زندگی کے ارد گرد گھومتا دکھائی دیا تھا۔ چھوٹا راجن کو بھارت لانے کے لئے وسیع پیمانے پر کوششیں جاری ہیں۔ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے ذریعے را ء اور آئی بی کے افسروں کے ساتھ مل کر تیار خاکے کی بنیاد پر انڈونیشیا میں ضروری کارروائی چل رہی ہے۔ بھارت نے پیرکو کہا ہے کہ انڈونیشیا میں گرفتار ہوئے انڈرورلڈ ڈان چھوٹا راجن کوجلد وطن واپس لانے میں دیری کی وجہ ہے دونوں ملکوں کے درمیان حوالگی معاہدہ نہ ہونا۔پھر بھی کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ چھوٹا راجن کو بھارت لانے کیلئے کئی اور راستے بھی ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں کئے گئے ایک معاہدے کے تحت چھوٹا راجن کو بھارت بھیجا جاسکتا ہے۔ یہ معاہدہ کوئی وارنٹ کی بنیاد پر جرائم پیشہ کو ڈیپوٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کیا راجن انڈونیشیا میں بغیر عدالتی کارروائی کے اتنی آسانی سے بھارت جانے کو تیار ہوجائے گا؟ اس سوال پر خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیار ہوجاناچاہئے۔ وہ دووجوہات سے تیار ہوسکتا ہے، ایک تو داؤد گروہ اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے اور وہ باہر رہنے کے بجائے ہندوستانی حراست میں زیادہ محفوظ ہوگا۔ دوسرا یہ ہے کہ وہ طویل عرصے سے ہندوستانی ایجنسیوں کے رابطے میں رہا ہے۔
(انل نریندر)

28 اکتوبر 2015

غلام کشمیر ہو چاہے بلوچستان ہو پاک پھرہوا بے نقاب

پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر پاکستان اخباروں کی سرخیوں میں ہے لیکن غلط وجوہات کو تمام دنیا میں پاکستان کی کرکری ہورہی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو اس وقت شرمندہ ہونا پڑاجب امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں ان کی تقریر کے دوران ایک احتجاجی گھس گیا۔ شریف امریکی تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں تقریر کررہے تھے تبھی اچانک ایک احتجاجی کھڑا ہو کر بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگانے لگا۔ شریف نے جیسے ہی تقریر شروع کی سامعین میں سے ایک شخص ہاتھ میں پوسٹر لیکر کھڑا ہوگیا، ساتھ ہی اس نے دعوی کیا کہ القاعدہ کے مارے جاچکے سرغنہ اسامہ بن لادن سے شریف کے دوستانہ رشتے تھے پھر جب شریف امریکی صدر براک اوبامہ سے ملے تو انہوں نے پھٹکار لگادی۔ اوبامہ نے پاکستان کویہ بھی صاف کردیا کہ اسے بلا امتیاز سبھی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے اور ساتھ ہی اس نے بھارت پاکستان امن مذاکرات عمل میں اپنے کسی کردار سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دونوں دیش مل کر اس کیلئے نہیں کہیں گے تب تک امریکہ کوئی رول نہیں نبھائے گا۔ اس کے علاوہ امریکہ نے بھارت جیسے نیوکلیائی سمجھوتہ کئے جانے کے متعلق پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت سے صاف طور سے انکار کرتے ہوئے امریکی میڈیا کی رپورٹوں کو پوری طرح غلط قراردیا۔ ادھر بلوچستان اور غلام کشمیر میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کس قدر ظلم ڈھا رہی ہے اس کی سچائی بیاں کرتے ہوئے ایک اور ویڈیو سنیچر کو سامنے آیا۔ ویڈیو میں واقعہ بدھوار کا ہے جب سینکڑوں مظاہرین نے غلام کشمیر میں پاکستانی قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے یوم سیاہ منایا۔ نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے لیڈر میر افضال سلیریا کی رہنمائی میں احتجاجیوں نے اذیتوں اور استحصال کی مخالفت کی۔ انہوں نے غلام کشمیر کا ہیڈ کوارٹر کہے جانے والے مظفر آباد میں ایک سیمینار سے بھی خطاب کیا۔ غور طلب ہے کہ پاکستان نے غیر منقسم جموں و کشمیر پر22 اکتوبر 1947 کو ہی اپنا پہلی بار حملہ کیا تھا۔ خبروں کے مطابق غلام کشمیر میں ایسے مظاہرے عام ہورہے ہیں۔ ویڈیو میں سکیورٹی جوان مظاہرہ کرنے والوں پر بری طرح لاٹھیاں برساتے، لاتیں گھونسے چلاتے نظر آرہے ہیں۔ بھارت نے تو پہلے بھی کہا ہے کہ ایسے ویڈیو پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بے رحمی کے رویئے کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ یہ کشمیر میں پاکستان کے ناجائز قبضے کا مضر نتیجہ ہے۔ چاہے وہ غلام کشمیر ہو چاہے بلوچستان ہو، پاکستان ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

وجے دشمی کے دن ہی 90 سال پہلے سنگھ کی بنیاد پڑی تھی

وجے دشمی کا دن جمعرات کو آر ایس ایس کے لئے ہر سال آنے والے اس وجے دوس کی طرح نہیں تھا۔ ستمبر 1925 میں دسہرے کے دن ہی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈ گوار نے راشٹر سوئم سنگھ کو قائم کیا تھا۔ آرایس ایس نے 90 سالہ لمبے سفر کو طے کرلیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی تعمیر میںآرایس ایس کے اشتراک کی تعریف کرتے ہوئے مبارکباد دی۔ اپنے لمبے سیاسی سفر کے دوران آر ایس ایس کے پرچارک رہے نریندر مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا دیش سیوا میں وقف آر ایس ایس نے 90 برس پورے کرلئے ہیں۔ اس موقعے پر میں سبھی آر ایس ایس کے ورکروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔سال1925 میں جب بھارت انگریزی حکومت کے چنگل میں تھا تب وجے دشمی کے دن آر ایس ایس کا وجود قائم ہوا۔ بمشکل 17 ساتھیوں کے ساتھ ڈاکٹر کیشو راؤ بلی رام ہیڈ گوار نے ناگپور کے موہت باڑے میں سنگھ کی بنیاد رکھی تھی۔ ہیڈ گوار نے اتنا ہی کہا کہ آج ہم سنگھ کا آغاز کررہے ہیں۔ ناگپور کے اکھاڑے سے تیار ہوئی آر ایس ایس آج ایک بڑی تنظیم کی شکل میں کھڑی ہے۔ سنگھ کے91 یوم تاسیس پر یہ اتفاق ہی ہے کہ سنگھ شکشت پرچارک رہے نریندر مودی آج بھارت کے وزیر اعظم ہیں۔ آر ایس ایس کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ ہندو سماج کو اس کے مذہب اور کلچر کی بنیاد پر طاقتور بنانا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ آر ایس ایس سیاست سے الگ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سنگھ سے نکلے اس کے سیوکوں نے ہی بی جے پی کی بنیاد رکھی۔ آج دیش میں آر ایس ایس کی ہزاروں شاخاؤں کے ذریعے ہندوتو اور راشٹرواد کا سندیش دیا جارہا ہے۔ آر ایس ایس کے پوری دنیا میں کروڑوں سوئم سیوک ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں پرچارک ہیں جنہوں نے گرہست زندگی تیاگ کرکے آر ایس ایس کیلئے ساری زندگی وقف کردی۔ خود ہیڈ گوار نے بھی کنوارے رہ کر ہی سنگھ کو کھڑا کرنے کا عہد کیا تھا۔ سنگھ نے اپنے لمبے سفر میں کئی کارنامے انجام دئے اور پابندیوں کو توڑا۔بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کو سنگھ سے جوڑ کر دیکھا گیا۔ سنگھ کے دوسرے سرسنگ چالک گورو گولورکر کو بندی بنایا گیا پھر پورے دیش میں آر ایس ایس کے ستیہ گرہ پر پابندیوں کا دور شروع ہوااور اس پر جو الزام لگا تھا بعد میں وہ سچ ثابت نہیں ہوا۔ 18 ماہ بعد سنگھ سے پابندی ہٹی اور اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل کا خط گولورکر ملا۔ کچھ وقت بعد انہوں نے دہلی میں پنڈت نہرو سے ملاقات بھی کی۔ ہم آر ایس ایس و سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو اس شاندار کارنامے پر بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح دیش کے مفاد کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

27 اکتوبر 2015

اودھو ٹھاکرے کی بھاجپا و مودی سرکار کو کھری کھری

شیو سینا بھارتیہ جنتا پارٹی کی نہ صرف سب سے پرانی سہیوگی پارٹی ہی ہے بلکہ دونوں کے خیالات بھی زیادہ تر معاملوں میں ملتے جلتے ہیں لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے جس طریقے سے بھاجپا اور خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی پر شخصی حملے کئے ہیں ان سے دونوں پارٹیوں میں اتنا تناؤ ہوگیا ہے کہ دونوں کے تعلقات ٹوٹنے کی کگار پر پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ شنی وار کو مہاراشٹر آئے مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے شیو سینا کے احتجاجی مظاہروں کے طور طریقے کی نکتہ چینی کی تھی۔ کیونکہ شیو سینا نے پاکستانی غزل سنگر غلام علی، سابق وزیر خارجہ (پاکستان) خورشید محمود قصوری اور پاک کرکٹ بورڈ صدر شہریار خاں کی زبردست مخالفت کی تھی۔ شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے نے شیوا جی پارک کی دسہرہ ریلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی پر تیکھے حملے بولے۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا پاکستان کی نکتہ چینی کرتی ہے تو بھاجپا کا پیٹ کیوں دکھتا ہے؟اپوزیشن میں رہنے کے دوران پاکستان پر حملہ کرنے کی باتیں کرنے والی بھاجپا میں اگر ہمت ہے تو پاکستان میں گھس کر دکھائے؟ اودھو نے کئی مدعے اٹھائے جس میں بھاجپا کا بیک فٹ میں آنا قدرتی ہے۔ انہوں نے بنا کسی کا ذکر کئے کہا کہ گائے پر کیوں ہمت ہے تو مہنگائی پر بولیں جس کے ذریعے اقتدار میں پہنچے۔ بھاجپا کے اعلان کو کھوکھلا بتاتے ہوئے ٹھاکرے نے طنز کیا۔ انہوں نے کہا مندر وہیں بنائیں گے پر تاریخ نہیں بتائیں گے۔ مہنگائی کے مدعے پر بھاجپا و مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ قیمتیں رک کیوں نہیں رہیں؟ مہنگائی بڑھ رہی ہے مگر چرچا گائے کی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو تحفظ دینے والوں کو ابھی تو دال کو سرکشا دینی چاہئے۔ اودھو نے کہا کہ آخر ہندو کے بارے میں کیوں نہیں بولا جاتا ہے۔ کرن رجیجو کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ گؤ ماس کھاتے ہیں، ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑتا۔ اودھو نے کہا کہ سیاہی پھینکنے سے نہیں بلکہ دادری جیسے واقعات سے گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔ ٹھاکرے نے کہا کہ ان پر پابندی کی بات کی جاتی ہے کیا اقتدار ان کے باپ کا ہے۔ اودھو نے کہا کہ اقتدار میں اب کب تک رہتے ہیں یہ انہیں پتہ ہے۔ شیو سینا کا نریندر مودی پر سب سے تیکھا حملہ بولا جب دادر میں شیو سینا بھون کے سامنے ایک پوسٹر لگایا گیا جس میں مودی کو ڈھونگی بتایا گیا۔تنازعہ ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے پوسٹر ہٹا دیا۔ شیو سینا کی جانب سے لگائے گئے اس پوسٹر میں نریندر مودی ، اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، راجناتھ سنگھ، نتن گڈکری، شرد پوار سمیت کئی لیڈروں کے فوٹو بال ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔ پوسٹر میں ایک بڑا فوٹو بھی ہے اس میں مودی بال ٹھاکرے کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ اس کے آگے لکھا ہے کہ ڈھونگ کرنے والے لوگ بھول گئے ہیں وہ دن جب انہیں بالا صاحب ٹھاکرے کے سامنے اس طرح سے جھکنا پڑتا تھا۔ بھاجپا سمرتھکوں کا کہنا ہے کہ شیو سینا آج کل بے چین ہے۔
ریاست میں اقتدار کی مین اسٹریم میں نہیں آ پانے سے وہ پریشان ہے۔ وہ سرکار میں ضرور ہے لیکن کچھ بڑے شہروں کی نگر نگموں میں اس کا پہلے جیسا دبدبہ نہیں ہے۔ دوسرے اپنے وزیروں کو بہت کم اختیار دینے کی وجہ سے بھی وہ ناراض ہے۔ شیو سینا نے بھاجپا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بیف پر جموں و کشمیر اور دہلی میں ٹنٹا شروع ہے۔ بھاجپا والے گٹھ بندھن والے کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہیں۔آگ لگانے والی آئی ایس کے جھنڈے تک لہرا رہے ہیں۔ ہندوؤں کو مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اسے کھلی آنکھوں سے دیکھیں اور ٹھنڈے دماغ سے سہن کریں اور اپنی سوابھیمانی گردن پاکستانی قصائیوں کے سامنے جھکائیں۔ شیو سینا نے کہا کہ پاکستان ہمارے جوان مار رہا ہے ، خون بہا رہا ہے اسے روکنے میں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو شیو سینا کی مدد کرنی چاہئے۔ مگر اقتدار کی وجہ سے دماغ خراب ہوجاتا ہے اور سو بارہمتی آجاتے ہیں۔بتادیں کہ بارہمتی پہنچ کر جیٹلی نے وہاں کے وکاس کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے سو بارہمتی ہوں تو دیش کے وکاس میں مدد ملے گی۔ شیو سینا کے قیام کا یہ 50 واں سال ہے اس لئے اس بار شیوا جی پارک میں دسہرہ ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ لوگوں سے پارک کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جس میں اودھوگرجے۔ اودھو کے اسٹائل سے بالا صاحب ٹھاکرے یاد آگئے وہ بھی اسی طرح بیباک ہوکر بولتے تھے۔ دراصل بھاجپا کے خلاف شیو سینا کے حملے دونوں پارٹیوں کے درمیان وقار کی لڑائی کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔
بھاجپا نیتا گریش ویاس نے کہا کہ اگر شیو سینا یہ سوچتی ہے کہ جو سنمان بالا صاحب ٹھاکرے کو حاصل تھا وہی سنمان اودھو ٹھاکرے یا آدتیہ ٹھاکرے کو ملے گا تو یہ ان کی بھول ہے۔ وہیں بھاجپا نیتا شائنا این سی نے کہا کہ چناؤ کے دوران مودی کی بڑھتی مقبولیت سے کچھ لوگ ڈرے ہیں۔ یہ افسوسناک ہی ہوگا کہ دونوں پرانے سہیوگیوں میں رشتے ٹوٹنے کی نوبت آئے۔ حالانکہ اودھو نے کہا مہاراشٹر اور کیندر میں گٹھ بندھن ٹوٹنے کے خدشات کو خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم بھاجپا کی نیتیوں کے خلاف بولتے ہیں تو ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ ہم این ڈی اے سرکار کب چھوڑیں گے؟ ہمیں پتہ ہے اقتدار میں کب تک رہنا ہے۔ ہم چھوڑیں گے لیکن کام پورا کرنے کے بعد۔انہوں نے کہا کہ جیسے رام نے راون کے خلاف جنگ چھیڑی تھی ویسے ہی پاکستان کے خلاف قدم اٹھائے جانے چاہئیں۔
(انل نریندر)

25 اکتوبر 2015

کیا پوتر گرنتھ کی بے حرمتی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے

پنجاب میں شری گورو گرنتھ صاحب سے بے ادبی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہے۔ مرکزی سرکار نے اس بے ادبی کے حالیہ واقعات پر مبینہ طور پر غیر ملکی ہاتھ ہونے کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب سرکار سے رپورٹ مانگی ہے۔ پوتر گورو گرنتھ کی بے ادبی کے خلاف ریاست بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب پولیس نے منگل کو کہا تھا کہ اس نے گورو گرنتھ صاحب کے مبینہ بے ادبی میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ساتھ ہی پنجاب پولیس نے دعوی کیا کہ دونوں ملزمان کو ہدایت اور پیسہ آسٹریلیا اور دوبئی میں موجود ان کے آقاؤں سے مل رہا ہے۔ جسوندر سنگھ اور روپندر سنگھ کو فرید کوٹ ضلع کے برداری گاؤں میں سکھوں کے پوتر گرنتھ کی بے ادبی کرنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کی فون کال کی جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ انہوں نے آسٹریلیا اور دوبئی میں رہ رہے لوگوں سے بات کی تھی اور اس کی جانچ کے لئے ایک اسپیشل تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ایم پی بھگونت سنگھ مان نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کر ان سے ریاست میں شانتی قائم کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیر داخلہ نے ان کی بات توجہ سے سنی اور ان سے کہا کہ انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل سے اس بارے میں بات کی ہے۔ دونوں نے ریاست کی موجودہ صورتحال کا جائزہ بھی لیا ہے۔ 
پنجاب میں سکھوں کے پوتر گرنتھوں کی بے ادبی کے واقعات سے فکر مند وزیر داخلہ نے پیر کو وزیر اعلی بادل سے بات کر ان واردات سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔راجناتھ سنگھ نے بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی پنجاب میں حالات اور پرکاش سنگھ بادل سے ہوئی بات چیت کے بارے میں جانکاری دی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی جو ایسے کاموں کیلئے بدنام ہے بھارت میں گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ کہیں ماس کے ٹکڑوں کے افواہ اڑائی جاتی ہے تو کہیں دلتوں پر مظالم ڈھایا جارہا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس غیر ملکی خفیہ ایجنسی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہے تو اس کے پیچھے دیش کے اندر ایسے عناصر کا بھی ہاتھ ہے جو ان کی مدد کرتے ہیں۔ ان معاملوں کی تہہ تک جانا چاہئے تاکہ پتہ لگ سکے کہ دیش کے اندر ایسے جے چند کون ہیں؟ ان کا پردہ فاش ہونا ضروری ہے۔ صرف یہ کہنے سے کہ غیر ملکی ہاتھ ہے، مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

نیپال کی چین پرستی کشیدگی پیدا کررہی ہے

بھارت نیپال کے رشتوں میں حالیہ دنوں میں آئی کڑواہٹ کو دور کرنے کے لئے نیپال کے نائب وزیر اعظم کمل تھاپا بھارت تشریف لائے۔تھاپا نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جو بھی غلط فہمیاں تھیں وہ اب دور ہوگئی ہیں۔ اپنے سہ روزہ دورہ کے آخری دن پچھلی پیر کو وطن واپسی سے پہلے مسٹر تھاپا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس دوران قومی سکیورٹی مشیر اجیت ڈوبال بھی موجودتھے۔
7 صوبائی ماڈل والے نئے آئین کے احتجاج میں مدھیشی اور تھارو فرقہ پچھلے ایک مہینے سے زیادہ وقت سے سڑکوں پر ہے اوراس نے سرحد پر ناکہ بندی کررکھی ہے جس وجہ سے بھارت سے نیپال کو کھانے پینے کی چیزوں سے لیکر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی۔ نیپال کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ چین کی طرف سے چیزوں کی سپلائی کے راستے کھولنے کا پلان بنا رہا ہے۔نیپال کی اس چین پرستی سے ہی بھارت کافی ناراض ہے۔ نیا آئین بننے کے بعد مدھیشی تحریک کو لیکر ہو رہے بھارت مخالف پروپگنڈہ سے مرکزی سرکار بھی فکر مند ہے۔ بھارت نے نیپال سے صاف صاف کہا ہے کہ وہ اپنے اندرونی مسئلے کا حل خود کرے۔ بھارت میں سبھی کا خیال ہے کہ نیپال میں جاری تحریک سے وہ خود نپٹے۔ مظاہرین کی واجب مانگوں کو سلجھائے۔ تھاپا کو صاف جواب ملا کہ سرحد پر ناکہ بندی مدھیشی تحریک کے سبب ہے۔ بھارت کے مالبردار ٹرکوں کو نیپال کے اندر سکیورٹی دینے کا ذمہ نیپال سرکار کاہے بھارت کا نہیں۔ نیپال انہیں سکیورٹی دے تو سامان بھیجنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ 
نیپالی نائب وزیر اعظم کو مودی سے کافی توقعات تھیں، ان کا خیال تھا کہ مودی خاص طور سے مداخلت کر معاملہ سلجھا سکتے ہیں لیکن مودی نے نیپالی نمائندہ وفد کو مایوس کیا۔ انہوں نے صاف لہجے میں کہا کہ نیپال ایک خودمختار ملک ہے۔ اس میں بھارت سیدھے مداخلت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں کہا کہ نیپال میں بھارت مخالف پروپگنڈے سے بھارت کی تشویش حق بجانب ہے۔ چین کے تئیں نیپال کا زیادہ جھکاؤ بھارت کو اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ بھارت نے تو اسے اچھا پڑوسی مانتے ہوئے تعاون کا ہاتھ بڑھایا تھا لیکن اس طرح کا کوئی جواب نہیں ملا جیسا ملنا چاہئے تھا۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ بھارت پر مدھیشی تحریک کو سپورٹ کرنے کا الزام غلط ہے اب یہ نیپال کو طے کرنا ہے کہ اسے نیپال کی حمایت و دوستی چاہئے یا پھر چین کا ساتھ؟
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...