Translater

02 جون 2018

متحدہ اپوزیشن کی آنچ سے مرجھانے لگا ہے کمل

جب کرناٹک کے ووٹوں کی گنتی ہورہی تھی تب بھاجپا صدر اور چانکیہ کہے جانے والے امت شاہ وزیر اعظم نریندر مودی مہاراشٹر۔ اترپردیش سمیت لوک سبھا کی چار اور مختلف اسمبلیوں کی 10 سیٹوں پر ضمنی چناؤ کی حکمت عملی بنا رہے تھے۔ بی جے پی کے لئے ضمنی چناؤ اس لئے بھی اہمیت رکھتے تھے کہ لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چناؤ کے معاملہ میں اس کا حال کا ریکارڈ کوئی تشفی بخش نہیں رہا۔ پارٹی لگاتار 6 لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہار چکی تھی۔ یہ وہی سیٹیں تھیں جو 2014 میں اسے ملی تھیں۔ ان میں یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے خالی کی گئی لوک سبھا سیٹ گورکھپور میں ملی غیر متوقع ہار بھی شامل ہے۔ مسلسل ملی ہار کے بعد 2014 میں 282 لوک سبھا سیٹیں جیتنے والی بی جے پی سیٹوں کی تعداد بھی کم ہوتی گئی ہے۔ لوک سبھا کی چار سیٹوں اسمبلی کی10 سیٹوں کے نتیجے بتا رہے ہیں کہ بھاجپا کے لئے ضمنی چناؤ جیتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ بی جے پی چار سال میں 27 ضمنی چناؤ میں پانچ سیٹیں ہیں جیت سکی ہے۔ اس کے مقابلہ 9 گنوائی ہیں۔ اس کے مقابلہ 4 لوک سبھا اور 10 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ کے نتیجوں سے مرکز اور آدھے سے زیادہ ریاستوں میں اپنی طاقت کے ساتھ اپنی سرکار بنانے کا بار بار ذکر کرنے والی بھاجپا کو مایوسی ضرور ہوئی ہوگی۔ ضمنی چناؤ کے نتیجے اپوزیشن اتحاد کی یکجہتی کا دم دکھاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مودی سرکار کے کام کاج کے طریقوں اور نتائج کو لیکر پارٹی اور ساتھیوں میں ناراضگی کا واضح اشارہ بھی دے رہے ہیں۔ نتیجے بتاتے ہیں کہ اترپردیش ، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی سرکار ہے پارٹی کے لئے چناؤ جیتنا خاصا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ بہار میں جونیئر پارٹنر کے رول میں ہے پھر بھی وہاں جوکی ہارٹ میں جے ڈی یو کا امیدوار جیت گیا۔ یوپی کا کیرانہ ضمنی چناؤ صرف ایک سیٹ کا نہیں بلکہ حکمراں بی جے پی کی طاقت اور اپوزیشن اتحاد کا امتحان بھی تھا ۔ یعنی دیش میں 2019 کے لوک سبھا چناؤ کا سیاسی روڈ میپ بھی یہیں سے طے ہوگا۔ اس چناؤ میں دونوں بھاجپا اور اپوزیشن کے لئے وارننگ بھی ہے اور اشارہ بھی ہے ۔ جس طریقے سے مہاراشٹر میں شیو سینا نے بی جے پی کو ٹکر دی ہے اس سے صاف ہے کہ اگر بی جے پی کو 2019 میں اقتدار میں واپس آنا ہے تو اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ ابھی دوسری پارٹیوں میں بھی ناراضگی ہے۔ اپوزیشن کے لئے یہ سمجھناضروری ہے کہ وہ آپسی اختلافات بھلا کر اگر2019 کے لوک سبھا چناؤ میں ون ٹو ون ٹکر دیتے ہیں تو بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا سکتے ہیں۔ جیسا کہ کیرانہ میں ہوا۔ کیرانہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے بڑی سمجھداری سے کام لیا۔ تبسم بیگم سماجوادی پارٹی کی امیدوار تھیں لیکن جاٹھ مسلم اور دلت ووٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ تبسم بیگم راشٹریہ لوکدل کے چناؤ نشان پر چناؤ لڑیں گی اور آر ایل ڈی ، سپا ، بسپا، کانگریس کی مشترکہ امیدوار ہوں گی اس سے ووٹ کٹنے کا امکان کم ہوگا۔ یہ حکمت عملی صحیح بھی رہی اور تبسم حسن نے بھاجپا کی امیدوار مرگانگا سنگھ کو تقریباً55 ہزار ووٹ سے ہرادیا۔ بتادیں یہ ہار بی جے پی کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ سیٹ بھاجپا کے سینئر لیڈر حکم سنگھ کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اسی سیٹ پر بھاجپا نے ان کی بیٹی مرگانگا سنگھ کو امیدوار بنایا تھا۔ کیرانہ کی ہار بھاجپا کیلئے بڑا پیغام لے کر آئی ہے۔ اگر سپا، بسپا کے درمیان چناؤ سے پہلے اتحاد ہوجاتا ہے جس کی کیرانہ کے بعد امید زیادہ بڑھ گئی ہے، تو ذات پات تجزیئے کے لحاظ سے اتنا طاقتور اتحاد ہے کہ بھاجپا بہت پیچھے رہ جائے گی۔ 2014 میں بھاجپا کو 72 سیٹیں ملی تھیں اگر سپا ۔بسپا مل کر چناؤلڑتیں ہیں تو بھاجپا 20سے25 سیٹوں تک سمٹ کر رہ جائے گی۔ جارکھنڈ اور بہار دونوں ریاستوں میں این ڈی اے کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ اترپردیش ، بہار، جھارکھنڈ میں بھاجپا اور اس کی لیڈر شپ کی مقبولیت گراوٹ پر ہے۔ جنتا نے جہاں جذباتی اشوز کو مسترد کردیا ہے انہوں نے مذہب کی بنیاد پر پولارائزیشن بھی نہیں ہونے دیا۔ ایک اور بات صاف ہے 2014 میں اپوزیشن سے ٹوٹے ووٹر اس کے پاس واپس لوٹ رہے ہیں۔ لمبی مایوسی کے دور سے گزری بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کا بھروسہ بھی گجرات اور کرناٹک کے بعد بحال ہورہا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد بنا رہا تو 2019 میں وہ مل کر بھاجپاکو اقتدار سے ہٹا سکتی ہے۔ پنجاب میں کانگریس نے شاہ کوٹ سیٹ اکالی دل سے چھینی اور میگھالیہ میں ایک سیٹ جیت کر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور کرناٹک کی ایک ایک اسمبلی سیٹ بھی اس کے ہاتھ لگی ہے۔ مغربی بنگال میں موہ استھل لوک سبھا سیٹ جیت کر پی ایم سی نے وہاں اپنا جلوہ قائم رکھا ہے لیکن بی جے پی کے لئے تسلی کی بات یہ ہے کہ وہ ریاست میں لیفٹ اور کانگریس کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر پہنچ رہی ہے۔ بیشک ان ضمنی چناؤ کو 2019 کے لوک سبھا چناؤ کے لئے ٹرینڈ سیٹر نہیں مانا جاسکتا لیکن بی جے پی کے لئے یہ خطرہ کی گھنٹی ضرور بج رہی ہے۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ محض چار سال میں ہی بھاجپا اتنی غیر مقبول کیوں ہوگئی؟ کچھ حد تک بھاجپا نیتاؤں کا غرور اور اپنے طریقہ کار کو چھوڑ کر کانگریس مکت بھارت بنانے کی ضد اس پر بھاری پڑ رہی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ ضمنی چناؤ کے نتیجوں سے سبق لیتے ہوئے مودی سرکار بھاجپا تنظیم پالیسیوں کا بیباکی سے تجزیہ کرے گی۔
(انل نریندر)

01 جون 2018

پرنب مکھرجی کے دورہ ناگپور کو بے وجہ طول دیا جارہا ہے

سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے ذریعے 7 جون کو آر ایس ایس کے پروگرام میں شامل ہونے کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔ پرنب دادا ناگپور میں آر ایس ایس کے سنگھ ایجوکیشن ونگ سوم برس پروگرام میں شامل ہوں گے اور سنگھ کے 708 رضاکاروں کو خطاب کریں گے۔ سنگھ کے اکھل بھارتیہ پبلسٹی چیف ارون کمارنے بتایا کہ پرنب مکھرجی نے پروگرام میں پہنچنے کی منظوری دے دی ہے۔ پرنب مکھرجی 7 جون کو ہونے والے اختتامی اجلاس کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ سنگھ ناگپور ہیڈ کوارٹر میں ہر سال ہونے والے اس پروگرام میں اہم ہستیوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ پرنب مکھرجی کا یہ دو دن کا دورہ ناگپور ہوگا۔ کانگریس کے سابق ایم پی سندیپ دیکشت نے اسے اٹپٹا قرار دیتے ہوئے پرنب دا کے اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ دیکشت نے کہا کانگریس میں رہتے ہوئے پرنب مکھرجی ہمیشہ آر ایس ایس نظریات کے خلاف رہے ہیں تو آخر وہ اس تنظیم کے پروگرام میں کیوں شامل ہورہے ہیں۔ پرنب دا کے سنگھ کے بارے میں تقریباً وہی خیالات رہے ہیں جو کانگریس کے ہیں۔ آر ایس ایس ایک فاسسٹ تنظیم ہے اور آر ایس ایس کی بنیادی آئیڈیالوجی ہی کانگریس کے خلاف ہے۔ سندیپ دیکشت کے اس تبصرے پر بی جے پی نے اس کا زبردست جواب دیا ہے۔ سنگھ سے لمبے وقت سے جڑے رہے بی جے پی کے سینئرلیڈر اور مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا کیا سنگھ کوئی پاکستانی تنظیم ہے جو اس طرح کے معاملہ کو اٹھایا جارہا ہے؟ گڈکری نے کہا کہ لوگ تو دارو کی دوکان پر جاتے ہیں ، لیڈیز بار میں جاتی ہیں ایسے میں اگر سابق صدر پرنب مکھرجی آر ایس ایس کے پروگرام میں جا رہے ہیں تو اسے کوئی اشو نہیں بنایا جاناچاہئے۔ بی جے پی ایم پی ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا سابق وزیر اعظم اندر گاندھی بھی سنگھ کے کاموں کی تعریف کر چکی ہیں۔ پہلے وزیر اعظم سورگیہ جواہر لال نہرو بھی سنگھ کو کافی احترام دیتے تھے۔ آج دنیا کے کونے کونے میں آر ایس ایس کو الگ پہچان ملی ہے۔ پرنب دا وہاں جا کر کیا بولتے ہیں یہ دیکھنا ہوگا۔ سوامی نے کہا جب حالات بدلتے ہیں تو لوگوں کے نظریئے بھی بدلتے ہیں۔ لال بہادری شاستری نے بھی آر ایس ایس کو اہمیت دی تھی۔ آج کانگریس کا زوال ہورہا ہے تو مجھے لگتا ہے پرنب مکھرجی کو دیش کی چنتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے نیتا اکھلیش یادو نے بھی نپا تلا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا میں اس معاملہ پر کچھ نہیں بولوں گا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی سے دیش کو بچنا چاہئے۔ ہم دو تین باتیں کہنا چاہتے ہیں کہ آر ایس ایس قومی آئیڈیالوجی کی غیرسیاسی انجمن ہے۔قدرتی آفات کے وقت سنگھ کے ورکر متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی تشدد کا پروپگنڈہ نہیں کیا پھر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے پرنب مکھرجی اب کسی سرکاری عہدہ پر نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے وہ صدر جمہوریہ رہ چکے ہیں لیکن اب اپنی آئیڈیالوجی اور برتاؤ کے لئے کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ پھر ابھی سے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کس مقصد سے ناگپور جارہے ہیں۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ اپنے کسی نجیمعاملے میں بات کرنے جارہے ہوں۔ سنگھ کا موجودہ سرکار پر دبدبہ کا اثر کسی سے چھپا نہیں ہے۔ پرنب مکھرجی نہ صرف سنگھ کے سیوکوں کے پاسنگ آؤٹ پروگرام کا اہم حصہ ہوں گے بلکہ وہ اپنے خیالات بھی رکھیں گے۔ ممکن ہے کہ پرنب دا کا کوئی سیاسی اشو بھی ہو وہ سنگھ کی قیادت کے سامنے رکھیں۔ آخر میں بتادیں کہ 1934 میں تو مہاتما گاندھی خود وردھا میں سنگھ کے کیمپ میںآئے تھے۔ اگلے دن سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈگوار ان سے ملاقات کرنے ان کی کٹیا میں گئے تھے۔ ان کی سنگھ پر مفصل بات چیت ہوئی تھی۔ اس کا تذکرہ گاندھی جی نے 16 ستمبر 1947 کی صبح دہلی میں سنگھ کے سیوکوں کو خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس میں انہوں نے سنگھ کے ڈسپلن ، سادگی اور فراخدلی کی تعریف کی تھی۔ گاندھی جی نے کہا تھا برسوں پہلے میں وردھا میں آرایس ایس کے ایک کیمپ میں گیا تھا۔ اس وقت اس کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گوار تھے۔ جمنا لال بجاج مجھے کیمپ میں لے گئے تھے۔ وہاں میں نے ان لوگوں سے کہا ڈسپلن ،سادگی اور چھواچھوت کے مکمل خاتمے کو دیکھ کر انتہائی متاثر ہوا۔ آگے وہ لکھتے ہیں کہ سنگھ ایک باقاعدہ ڈسپلن انجمن ہے۔ یہ تذکرہ سمپورن گاندھی وانجمے کھنڈ 89 صفحہ نمبر 215-217 میں درج ہے۔ اکھل بھارتیہ معاون پبلسٹی چیف نریندر کمار نے یہ بھی بتایا بھارت کے اس وقت کے نائب صدر ڈاکٹر ذاکر حسین ،بابو جے پرکاش نارائن بھی سنگھ کی دعوت پر آچکے ہیں اور انہوں نے سنگھ کی تعریف کی۔ جنرل کری اپا 1959 میں منجور کی سنگھ شاکھا کے پروگرام میں آئے تھے۔ اگر کوئی مسلم اسلام کی تعریف کر سکتا ہے تو سنگھ ہندوتو کی مہم جاری رکھنے میں غلط کیوں ہے؟ 1965 میں بھارت ۔پاک جنگ کے وقت اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے سنگھ کے سرسنگھ چالک گورو جی کو آل پارٹی میٹنگ میں مدعو کیا تھا اور گورو جی گئے بھی تھے۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ اس معاملہ کو زیادہ طول دینے کی ضرورت ہے۔ پرنب مکھرجی اپنی نجی حیثیت میں ناگپور جارہے ہیں اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ وہ کوئی آئی ایس آئی تنظیم کے پروگرام میں شامل ہونے نہیں جا رہے ہیں۔
(انل نریندر)

31 مئی 2018

سازش یا اتفاق : کیسے خراب ہوگئیں ای وی ایم مشینیں

اترپردیش کے کیرانا اور نور پور اسمبلی سمیت دیش کی کل 14 سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ ای وی ایم مشینوں کی خرابی کی شکایتوں کے درمیان ختم ہوگئے لیکن مشینوں کے خراب ہونے سے چناؤ کا مزہ کرکرہ ضرورہ وگیا۔ سرکار یا عوامی نمائندوں کو چنے کی کارروائی بالکل شفاف اور غیر جانبدار ہونی چاہئے یہی ہماری جمہوریت کی بنیاد بھی ہے۔ پولنگ کے دوران ای وی ایم مشینیں یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خراب ہونے کی شکایتیں جس پیمانے پر سامنے آئی ہیں وہ حیران پریشان کرنے والی ہیں۔ ا س سے چناؤکی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے یا نہیں یہ چناؤ انتظامیہ کی ناکامی ضرور ہے۔ ای وی ایم کی سب سے زیادہ شکایتیں اترپردیش اور مہاراشٹر سے سامنے آئی ہیں۔ کیرانا لوک سبھا سیٹ پر راشٹریہ لوک دل کے امیدوار نے تو کئی جگہوں پر ای وی ایم کے خراب ہونے کی تحریری شکایت الیکشن کمیشن سے کی ہے۔ وہیں اپوزیشن کے تمام نیتاؤں نے ای وی ایم کی خراب کو چناؤ کو بیجا ڈھنگ سے متاثر کرنے کی کوشش تک بتادیا۔ اترپردیش کے شاملی ضلع کے کیرانا لوک سبھا اور نور پور اسمبلی سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی چناؤ میں پیر کی صبح کو پولنگ کے دوران تقریباً 150 ای وی ایم میں خرابی کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کی شکایت بھاجپا ۔سپا سمیت تمام پارٹیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے ریاستی چناؤ کمیشن سے ای وی ایم بدلنے کی مانگ کی ہے۔ پردیش کے چیف الیکٹرول افسر ایل وینکٹیشورلو نے ای وی ایم کی خرابی کا سبب زبردست گرمی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا تیز گرمی کے سبب ای وی ایم مشینیں خراب ہورہی ہیں لیکن کہیں پر بھی مشین کی گڑ بڑی کے سبب چناؤ متاثر نہیں ہوا ہے۔ ہمارے پاس کافی مقدار میں فاضل مشینیں ہیں۔ ہم نے مشینیں بدلوادیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا پولنگ سے پہلے سبھی ای وی ایم اور وی وی پیٹ کی جانچ ہوئی تھی۔ ادھر مہاراشٹرمیں دالگھر و گوندیا لوک سبھا کے ضمنی چناؤ کو لیکر پولنگ کے دوران ای وی ایم مشینوں کی گڑ بڑی کے سبب پولنگ 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہوپائی ہے۔ ای وی ایم کی گڑ بڑی کولیکر شیو سینا ، کانگریس، این سی پی نے بھاجپا کو گھیرا۔ کانگریس نے ضمنی چناؤکو منسوخ کر پھرسے پولنگ کرانے کی مانگ کی ہے۔ وہیں شیو سینا نے مشین کی گڑ بڑی کو بھاجپا اور چناؤ کمیشن کی ملی بھگت بتایا ہے۔ چناؤ کمیشن نے پولنگ ختم ہونے کے بعد بھاجپا مخالفین کی مانگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پھر سے چناؤنہیں ہوں گے۔ چناؤ کمیشن کے افسر ابھیمنیو کالے نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کا الزام بے بنیاد ہے ۔ دکھ اور تشویش کا باعث یہ ہے کہ چناؤ کمیشن اپنا موقف بدلتا رہا ہے۔ پہلے تو کہا کہ ای وی ایم کے خراب ہونے کی بڑھ چڑھ کر شکایتیں کی جارہی ہیں لیکن جب دن بھر یوپی اور مہاراشٹر سے مشینوں کی گڑ بڑی کی خبریں آئیں تو چناؤ کمیشن نے دوسری وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ مشینیں گرمی کے سبب خراب ہوئی ہیں یعنی قصور موسم کا ہے۔ لیکن اپوزیشن نے الزام لگایا کہ پہلی بار چناؤ کمیشن نے رمضان کے دوران پولنگ کیوں رکھی؟ انہیں معلوم ہے کہ مسلمان روزہ رکھتے ہیں وہ پانی تک نہیں پیتے، ایک بار وہ دو گھنٹے لائن میں لگ کر ووٹ دیں اور پتہ چلے کہ ای وی ایم میں گڑ بڑی ہے تو وہ دوبارہ دو گھنٹے ووٹ دینے کے لئے لائن میں لگنے سے رہے۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ای وی ایم مسلم، دلت علاقوں میں زیادہ خراب ہوئی ہیں؟ یہ سازش ہے یا اتفاق؟ آخر اتنے بڑے پیمانے پر ای وی ایم مشینیں کیسے خراب ہوگئیں، کیسے وی وی پیٹ خراب ہوئیں؟ مشین کی اس خرابی نے ضمنی چناؤ کی سیاست کو اور زیادہ گرما دیا ہے اور غیر جانبدارانہ چناؤ کی مانگ پر سوال کھڑے کردئے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں سے لیکر جنتا تک نے ای وی ایم کے بھروسے پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر بیلٹ پیپر سے چناؤ کرانے کی مانگ کی ہے۔ داؤ پر ہے چناؤ کمیشن کی ساکھ۔
(انل نریندر)

کیا کرناٹک کا چار ریاستوں کے اسمبلی چناؤ پر اثر ہوگا

کیا کرناٹک کے چناؤ نتیجوں کا اثر دور تک جائے گا ، یہ سوال سیاسی گلیاروں میں پوچھا جارہا ہے۔ اس سال کے آخر میں ہونے والے چارریاستوں کے ضمنی چناؤ پر بھی ان کا اثر پڑے گا۔ ان میں سے تین ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ میں تو بھاجپا کی سرکاریں ہیں اور یہاں بھاجپا کانگریس کا سیدھا مقابلہ ہے۔ چاروں ریاستوں کے چناؤ زیادہ ٹکراؤ والے ہوں گے۔ یہ چناؤ ایک طرح سے لوک سبھا چناؤ سے پہلے ہوں گے۔ ایسے میں چناوی درجہ حرارت بیحد اوپر ہوگا۔ چناؤ میں جے ڈی ایس کے مضبوطی سے ابھرنے کے بعد قومی سطح کی سیاست میں علاقائی پارٹیوں کو ساتھ لیکر لڑنا ہوگا۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ تینوں ہی ریاستوں میں بھاجپا کی حکومتیں ہیں۔ کرناٹک کا مستقبل طے ہونے کے بعد بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا اب زیادہ فوکس راجستھان پر اس لئے ہوگا کیونکہ اقتدار مخالف ماحول مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ کے مقابلے راجستھان میں زیادہ ہے۔ حالانکہ ایم پی اور چھتیس گڑھ میں بھی اسی سال چناؤ ہونا ہے لیکن ان دونوں ریاستوں میں بھاجپا لگاتار تین بار سے اقتدار میں ہے۔ راجستھان میں حال ہی میں ہوئے دو لوک سبھا ضمنی چناؤ و ایک اسمبلی ضمنی چناؤمیں بھی اسی اینٹی کمبینسی کی وجہ سے بھاجپا نے تینوں سیٹیں کھو دی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری ریاستوں کے مقابلہ راجستھان میں چناؤ کا ٹرینڈ سرکار مخالف رہتا آیا ہے۔ یہاں ہر بار حکمراں پارٹی چناؤ ہار جاتی ہے۔ اپوزیشن پارٹی ہر پانچ سال میں اقتدار میں آتی ہے اس لئے ایم پی اور چھتیس گڑھ کے مقابلہ مودی ۔ شاہ کا راجستھان پرزیادہ فوکس رہے گا۔ مدھیہ پردیش میں وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان چوتھی بار سرکا ر بنانے کا دعوی کررہے ہیں۔ انہیں اس بات کا پورا بھروسہ ہے کہ مدھیہ پردیش کے لوگ یوں ہی ماما نہیں کہتے۔ انہوں نے حقیقت میں پردیش کی لڑکیوں میں بھروسہ پیدا کیا ہے۔ بیٹی کو وردان بنایا ہے جس کے سبب انہیں یہ نام ملا ہے۔ اس بار بھی چناؤ وکاس کے اشوپر لڑا جائے گا۔ انہوں نے صاف کہا کہ کانگریس کے اسمبلی چناؤ کے چہرے کملناتھ، جوتر آدتیہ سندھیا، دگ وجے سنگھ کانگریس کو چناؤ نہیں جتا سکتے۔ چوہان نے دوٹوک کہا جو کام کرے گا وہ اقتدار میں رہے گا۔ مدھیہ پردیش میں اگر شیو راج سنگھ چوہان اپنے بوتے پر چناؤ جیتنے کی کوشش کریں گے تو چھتیس گڑھ میں ڈاکٹر رمن سنگھ کی ساکھ کافی اچھی ہے اور یہاں بھی زیادہ اینٹی کمبینسی فی الحال دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے لیکن اسمبلی چناؤ سے پہلے کئی ضمنی چناؤ ہونے ہیں ان پر ہارجیت سے پردیش کے موڈ کا پتہ چلے گا۔
(انل نریندر)

30 مئی 2018

آرکبشپ کے خط سے مچا سیاسی واویلا

دہلی کے پادری آرکبشپ انل کاؤپی کا سبھی گرجا گھروں کو لکھا خط سامنے آنے کے بعد ہائے توبہ مچنا فطری ہی تھا۔ مانا جارہا ہے کہ درپردہ طور سے انہوں نے سال2019 میں نریندر مودی کی سرکار نہ بنے اس کے لئے لوگوں سے دعا کرنے کی اپیل کی ہے۔ آرکبشپ انل کاؤپی نے آخری لکھا کیا تھا جو اتنا ہنگامہ ہوگیا؟ انہوں نے کچھ یوں لکھا: ہم لوگ شورش پسند سیاسی ماحول کے گواہ ہیں۔ اس وقت دیش کے جو سیاسی حالات ہیں اس میں جمہوری اصولوں اور دیش کے سیکولر زم کی پہچان کے لئے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ سیاستدانوں کے لئے پرارتھنا کرنا ہماری مقدس روایت رہی ہے۔ لوک سبھا چناؤ قریب ہیں جس کے سبب یہ بھی اہم ہوجاتا ہے 2019 میں نئی سرکار بنے گی ایسے میں ہمیں اپنے دیش کے لئے پرارتھنا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے لئے پرارتھنا کے ساتھ ہی ہر جمعہ کو ایک دن کھانا نہ کھائیں تاکہ دیش میں امن ، جمہوریت ،برابری ، آزادی اور بھائی چارہ بنا رہے۔ 13 مئی کو مدر مریم نے درشن دئے تھے۔ اس لئے یہ مہینہ عیسائی مذہب کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آرکبشپ نے اس خط کو چرچ میں منعقدہ پریئر میٹنگ میں پڑھنے کی بھی اپیل کی ہے جس سے لوگوں تک یہ بات پہنچ سکے۔ آرکبشپ کے اس خط پر سیاسی پارہ چڑھنا لازمی ہے۔ اس کی بڑی وجہ عیسائی آبادی کا 40 لوک سبھا سیٹوں پر اثر ہونا ہے۔ دیش میں عیسائیوں کی آبادی 2.4 فیصد ہے۔ ابھی 25 ایم پی عیسائی ہیں۔ مرکز میں اس فرقہ سے الفونس کترادھننجے وزیر بھی ہیں، وہیں دوسری طرف نارتھ ایسٹ اسٹیٹ کی چار ریاستوں گووا (41 فیصد)، میگھالیہ (70 فیصد)، میزورم (87 فیصد)، ناگالینڈ (90 فیصد) عیسائی اکثریت ہے۔ چھ ریاستوں آسام، اروناچل ،گوا، اڑیشہ، تملناڈو اور چھتیس گڑھ میں عیسائی آبادی دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ آبادی سیاست کو سیدھے متاثر کرتی ہے۔ خط پر اٹھے سیاسی واویلے کے بعد آرکبشپ کو جواب دینے کے لئے بھاجپا صدر امت شاہ 15 مرکزی وزیر اور اتنے ہی ممبر پارلیمنٹ میدان میں اتر آئے۔ امت شاہ نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی بنیاد پر یکجا نہیں ہونا چاہئے۔ وہیں گری راج سنگھ نے کہا کہ اگر 2019 میں مودی سرکار نہ بنی اس کے لئے چرچ لوگوں سے پرارتھنا کرنے کے لئے کہیں تودیش کو سوچنا ہوگا کہ دوسرے دھرم کے لوگ اب کیرتن پوجا کریں گے۔ ادھر آر ایس ایس کے پرچارک راجیش سنہا نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت میں اور مذہبی آزادی پرحملہ ہے۔یہ ہندوستانی چناؤ عمل میں ویٹیکن کی سیدھی مداخلت ہے کیونکہ آرکبشپ کی تقرری پوپ کرتا ہے۔ بشپ کی وفاداری سیدھے طور پر پوپ کے تئیں ہوتی ہے نہ کہ بھارت سرکار کے تئیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے آرکبشپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سبھی برادری ،فرقہ اور کولکتہ سمیت پورے دیش کے آرکبشپ کا احترام کرتے ہیں۔ آرکبشپ نے جو کہا صحیح کہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا بھارت مذہب اور پنتھ کی بنیادپر کسی سے امتیاز نہیں برتا ، یہاں ہر مذہب کے لوگ محفوظ ہیں۔ دیش میں کسی کو بھی اس طرح کا نظریہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اپنے خط کے بعد بھاجپا کے نشانہ پر آئے آرکبشپ نے صفائی دی اور کہا یہ تبصرہ مودی سرکار پر نہیں تھا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ایسی سرکار بنے جو لوگوں کو آزادی، حقوق اور عیسائی فرقہ کی بھلائی کی فکر کرے۔
(انل نریند)

گلوبل وارمنگ کا اثر

ویسے تو راجدھانی دہلی سمیت نارتھ انڈیا کی جنتا گرمی سے واقف ہے لیکن اس سال گرمی کچھ زیادہ اور کچھ پہلے ہی شروع ہوگئی ہے۔ دہلی میں پچھلے چھ مہینوں سے گرم ہوائیں چل رہی ہیں۔ پالم علاقہ میں زیادہ تر درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے۔ اس برس یہ دہلی میں درج کیاگیا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اتنی گرمی کے چلتے ہوا میں تپش کی کم از کم سطح گھٹ کر 10 فیصدی تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے 22 مئی کو پالم میں زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری رہا۔ دہلی میں چلچلاتی دھوپ سے آدمی سے لیکر جانور ،پرندوں ،چرندوں تک کا برا حال ہے۔ تازہ معاملہ میں جانور اور پرندوں کی حفاظت کررہی انجمن وائڈ لائٹ ایس او ایس نے جمعہ کی شام کو وزیر اعظم کے دفتر کمپلیکس میں گرمی سے بیہوش پڑی دو چیلوں کو بچایا۔ پی ایم او سے اطلاع ملنے پر ایس او ایس کی ٹیم موقعہ پر پہنچی۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے سابق وزیر اعظم کی رہائشگاہ سے بھی ایک چیل بیہوش پڑی ملی تھی۔ اگلے اس مہینے میں اس ادارہ نے دہلی میں 30 سے زیادہ پرندوں کو بچایا ہے۔ جو گرمی سے بیہوش ہوکر گرے ملے تھے۔ پچھلے چھ دنوں سے دہلی سمیت پنجاب، ہریانہ، اترپردیش جیسی ریاستوں میں بھی درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ ریکارڈ توڑ گرمی کے درمیان بارش بھی دہلی و نارتھ انڈیا کے شہریوں کو مایوس کررہی ہے۔ پری مانسون اور مانسون تو ابھی کچھ دور ہے لیکن گرمیوں کے تین ماہ میں ہی اوسط سے 17 فیصدی کم بارش ہوئی ہے۔ مارچ ایک دم خشک رہا۔ حالانکہ اپریل اور مئی کی حالت بقدر ہے بہتر ہے محکمہ موسم پرلگاتار انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔سال 2016 اور 2017 میں بھی اچھے مانسون کا دعوی کیا گیا تھا لیکن بارش توقع سے کم ہوئی۔ اسی طرح گذشتہ8 مئی کو آندھی طوفان کے الرٹ کو لیکر بھی محکمہ موسم کی کافی کرکری ہوئی تھی۔ وزارتی سطح پر بھی محکمہ موسمیات کے اعلی حکام کو جم کر پھٹکار پڑی۔ موجودہ حالت میں مانسون کی پیشگوئی پر بھی اندیشے کے بادل منڈراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گرمی ویسے تو بہت ہے ،شدید گرمی تو پہلے بھی آتی رہی ہے لیکن فرق یہ آگیا ہے کہ اب شدید گرمی ہمیں پریشان ہی نہیں کرتی بلکہ ڈراتی بھی ہے۔ اوسطاً درجہ حرارت بھی بڑھا ہے اور ساتھ یہ بھی اندیشہ بڑھ رہا ہے کہ ہر اگلی گرمی پچھلی گرمی سے زیادہ ستائے گی۔ یہ سب ہورہا ہے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے۔ ہمارا نہیں پوری دنیا کا موسم بدل رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ کے کئی دور رس اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔
(انل نریندر)

29 مئی 2018

مودی سرکار کے چار سال

اب جب مرکز کی اقتدار میں نریندر مودی سرکار کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اب اس کا تجزیہ کرنا فطری ہی ہے اس دوران اس نے کیا حاصل کیا۔ اس سے لوگوں کی توقعات کتنی پوری ہوئیں اور کون کون سی چنوتیاں ہیں جن کا بچے ایک سال میں اسے سامنا کرنا ہے۔ مودی سرکار جیسے زبردست اکثریت سے اقتدار میں آئی تھی اس کے چلتے اس سے جنتا کی امیدیں بھی بہت بڑھ گئی تھیں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جنتا کی توقعات کو بڑھانے میں خود مودی سرکار ذمہ داری ہے۔ اچھے دن کے نعرہ سے جنتا کو لگنے لگا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اپوزیشن نے بھی اس کو ہوا دی اور سوال پوچھنے لگے کیا آپ کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے آگئے ہیں؟ کیونکہ توقعات کی کوئی حد نہیں ہوتی اور کئی بار اہل ہوتے ہوئے بھی عوامی توقعات پر کھرا اترنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی چار سال کے کارناموں پرایک رائے نہیں ہے۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کے بے اثر سے جنتا میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ اتار چڑھاؤ کے باوجود جی ڈی پی کی ترقی شرح 7.2 فیصد کے قریب بنے رہنا مودی سرکار کا کارنامہ مانا جاسکتا ہے۔ دیش میں غیرملکی ذخیرے میں بھی پچھلے چار برسوں میں 35 فیصد اضافہ مضبوط بنیاد کی علامت ہے۔ آج دیش میں 417 ارب ڈالر کا غیر ملکی ذخیرہ ہے جو سرکار کو یہ بھروسہ دیتا ہے کہ وہ تیل کے بڑھتے داموں کا مقابلہ کر لے گی۔ حالانکہ پیٹرول اور ڈیزل کی بے تحاشہ قیمت نے جنتا میں ہائے توبہ مچا رکھی ہے لیکن تیل کے بڑھتے داموں کے ساتھ روپے کی گرتی ہوئی قیمت سبھی کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں مودی سرکار نے دیش کو مضبوطی دی ہے۔ سوچھتا ابھیان، 18 گاؤں میں بجلی پہنچانا، عورتوں کے لئے اجولا جیسی گرامین یوجنا، مہلاؤں کے لئے فائدہ مند ہونا، گرام سوراج ابھیان کے ذریعے اس سے ہزاروں گاؤں میں سب سے غریب طبقے کی ترقی کا فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے۔ چاربرس کی حکومت کے بعد بھی وزیر اعظم نریندر مودی جیسی مقبولیت برقرار ہے اس کی مثال آسانی سے نہیں ملتی لیکن اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کئی بنیادی اصلاحات نہیں ہوسکیں ۔ جوہوئیں ان میں سے کچھ توقع کے مطابق نتیجے نہیں مل سکے۔ اس کے علاوہ سرکار کے کچھ باہمت فیصلے ناکامی کی زد میں آگئے۔ جیسے کہ نوٹ بندی۔ جموں کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ اتحادی سرکار بنانے سے کشمیرکے جو حالات آج ہیں وہ پہلے کبھی نہیں تھے۔ دراصل اسی طرح کی ناکامیوں کی وجہ سے اپوزیشن حملہ آور ہے اور وہ مودی کا مقابلہ کرنے کے لئے زور آزمائش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ بلا شبہ عہد کے آخری سال میں ہرسرکار اگلی پاری کی تیاری میں لگ جاتی ہے لیکن یہ وقت ادھوری اسکیموں کو پورا کرنے کا بھی ہوتا ہے۔ لوگوں کو بھروسہ جگانے اورپھر جیتنے کا بھی ہوتا ہے۔ دیش میں بڑھتا اقتصادی عدم توازن سیاسی اور سماجی استحکام کو ڈانواڈول کرنے کے لئے کافی ہے۔ 2017 میں دیش میں پیدا ہونے والی پراپرٹی کا 73 فیصد حصہ 1 فیصد لوگوں نے ہتھیالیا اس لئے جنتا کی نظروں میں یہ سرکار صنعتکاروں کی سرکار مانی جاتی ہے۔ اس لئے سی ایس ڈی ایس کے تازہ سروے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس سرکار راہل گاندھی دونوں کو پسند کرنے والے 43 فیصد لوگ ہوگئے ہیں۔ بڑھتی ناراضگی کے باوجود مودی نے اپنی سیاسی بات چیت اور سرگرمی اور مشکل محنت سے دونوں قومی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان مضبوط کی ہے۔ دیش کی بیرونی ممالک میں ساکھ کو مودی نے بڑھایا۔ آج دنیا کے ہر کونے میں ہندوستانیوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

ایک اسٹیج، 17 پارٹیاں۔۔۔2019 کی مورچہ بندی

کرناٹک میں ایچ ڈی کمار سوامی نے پہلے دو امتحان تو پاس کرلئے ہیں۔ پہلا تھا اکثریت ثابت کرنے کے امتحان سے پہلے کانگریس اور جے ڈی ایس کے لئے اسمبلی اسپیکر کا چناؤ جیتنا۔ بھاجپا کے اس سے ہٹ جانے سے کانگریس کے راجیش کمار بلا مقابلہ اسمبلی اسپیکر بن گئے ہیں۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلی اور بھاجپا نیتا بی ایس یدی یرپا نے کہا کہ ہم نے اسپیکر کے عہدہ کے لئے اپنے امیدوار کا نام واپس لے لیا کیونکہ ہم چاہتے ہیں چناؤ اسپیکر کی عہدے کے وقار کو بنائے رکھنے کے لئے اتفاق رائے سے ہی ہو۔ چناؤ سے پہلے سمجھا جارہا تھا کہ یہ کرناٹک کے سیاسی ڈرامہ میں ایک اور واویلا لے کر آئے گا کیونکہ بھاجپا نے بھی کانگریس کے امیدوار کے خلاف اپنا امیدوار اتاردیا تھا۔ اس چناؤ میں بھاجپا نے اپنے سینئر لیڈر ایس سریش کمار کو امیدوار بنایا تھا لیکن آخری لمحہ میں انہوں نے شاید ہارکو دیکھتے ہوئے اپنی امیدواری واپس لے لی۔ دوسری بڑی طاقت آزمائی تھی ایوان میں کمار سوامی کو اعتماد میں لینا۔ یہ بھی انہوں نے آسانی سے حاصل کرلیا۔ اعتماد کے حق میں 117 ووٹ پڑے جبکہ اکثریت کے لئے کم از کم تعداد کی شرط113 تھی ظاہرہے یہ معمولی اکثریت والی سرکار ہے لیکن اگر اس سرکار کے استحکام کو لیکر ابھی بھی شبہ جتائے جارہے ہیں تو اس کے پیچھے دوسری وجوہات زیادہ ہیں۔ کانگریس اور جنتا دل (ایس) اتحاد چناؤ کے بعد کا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے نہ صرف بھاجپا پر بلکہ ایک دوسرے پر بھی کیچڑ اچھالتے ہوئے چناؤ لڑا۔ سابق وزیر اعلی سدا رمیا نے تو جنتا دل (ایس ) کو برا بھلا کہتے ہوئے بھاجپا کی بی ٹیم تک کہہ ڈالا تھا۔ ایچ ڈی کمار سوامی کی حلف برداری تقریب میں بھاجپا اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاؤں نے اپنے اتحاد کا جیسا مظاہرکیا اس کو بھاجپا نظر انداز نہیں کرسکتی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جس موثر ڈھنگ سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ قریب قریب سبھی بھاجپا مخالف پارٹیوں کے نیتا بنگلورو میں ایک اسٹیج پر نظر آئے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا نہ صرف ایک اسٹیج پر بیٹھے بلکہ یہ پیغام دینے کی بھی کوشش ہوئی کہ ہم سب مل کر بھاجپا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کا پہلا امتحان اترپردیش میں کیرانہ ضمنی چناؤ میں ہوگا۔سماجی وادی پارٹی پوری اپوزیشن کو متحد کرنے کے لئے پہلے سے ہی کوشش میں لگی ہے۔ بدھوار کو حلف برداری تقریب کو کرناٹک میں سپا ۔ بسپا ۔ کانگریس اور آرا یل ڈی کے سربراہوں کے درمیان جو تھوڑی سی یکجہتی دکھائی دی اس سے آنے والے دنوں میں اترپردیش میں اپوزیشن اتحاد کا پلیٹ فارم تیار ہوسکتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے لئے سپا۔ بسپا اتحاد میں اتفاق رائے ہو چکا ہے اور کیرانہ ضمنی چناؤ سے پہلے آر ایل ڈی بھی ان کے قریب آگئی ہے۔ ایسے میں کانگریس کے لئے بھی ساتھ آنا مجبوری ہوگی۔ کرناٹک میں اس حلف برداری تقریب میں17 اپوزیشن پارٹی کے نیتاؤں کی موجودگی میں 2019 میں مودی مخالف مورچہ کی تیاریوں کی جھلک پیش کی ہے۔ تقریب کے بہانے اپوزیشن کے ایک اسٹیج پر آنے کو بڑی سیاسی اہمیت ملی ہے۔ تقریب کے دوران بسپا چیف مایاوتی اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی ایک دوسرے سے بہت گرمجوشی سے ملیں۔ حلف لینے کے بعد وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی نے کہا کہ کانگریس اور جی ڈی ایس مل کر کرناٹک میں پردھان منتری نریندر مودی کے خیالی گھوڑوں کو باندھنے میں کامیاب رہے۔ ہمارا نشانہ پورا ہوگیا ہے۔ میں نے کہا تھا اترپردیش کے چناؤ نتیجوں کے بعد میرا نشانہ نریندر مودی اور امت شاہ کے دوڑتے گھوڑے کو باندھنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں کانگریس ۔ جے ڈی ایس اتحاد سرکار اپنے پانچ سال کی میعاد پوری کرے گی۔
(انل نریندر)

27 مئی 2018

والدین کے 750 کروڑ روپے پرائیویٹ اسکولوں کی جیب میں

پرائیویٹ اسکولوں کے ذریعے بے تحاشہ فیس اضافہ سے دہلی میں والدین آج ہی نہیں پہلے سے پریشان ہیں۔ منمانی فیس بڑھانے دہلی سرکار اور عدالتیں دونوں سخت ہیں۔ دہلی سرکار نے 7 دنوں کے اندر 575 پرائیویٹ اسکولوں کو بڑھی فیس واپس دینے کا حکم دیا ہے۔ اسکولوں کو یہ فیس 9 فیصدی سود کے ساتھ والدین کو دینی پڑے گی۔ دہلی سرکار نے ان اسکولوں کی فہرست محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ پر ڈال دی ہے۔ مقررہ میعاد کے اندر بڑھی فیس نہیں لوٹانے کی صورت میں سخت وارننگ بھی دی ہے۔ دہلی سرکار کے محکمہ تعلیم نے ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے یہ حکم دیا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں چھٹے پے کمیشن کے نام پر والدین سے زیادہ فیس وصولی لیکن انہوں نے یہ پیسہ ٹیچروں کو نہیں دیا۔ اس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ میں چلا گیا۔ اس بارے میں سماعت ہونے اور عدالت کے حکم کے بعد سرکار کے محکمہ تعلیم نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ پہلے فیس نہیں لوٹانے والوں میں راجدھانی کے کل 1169 اسکول تھے لیکن عدالت کے حکم کے بعد کچھ اسکولوں نے بڑھی ہوئی فیس واپس کردی ہے اور کچھ نے والدین کو پیسہ بھی لوٹایا ہے۔ اب بھی 575 اسکولوں نے بڑھی فیس نہیں لوٹائی۔ جسٹس انل دیو سنگھ کی کمیٹی کے مطابق اسکولوں سے 750 کروڑ روپے وصولہ جانا تھا لیکن نجی اسکولوں نے والدین کو پیسہ نہیں لوٹایا۔ 11 فروری2009 کو دہلی سرکار نے ایک حکم نکالا کے پرائیویٹ اسکول 500 روپے تک فیس بڑھا سکتے ہیں۔ دہلی پریرینٹس فیڈریشن سمیت کئی انجمنوں نے اسے عدالت میں چیلنج کردیا۔ 12 اگست 2011 کو معاملہ میں کمیٹی بنائی گئی جس نے 80 فیصد اسکولوں کو فیس لوٹانے کی بات کہی تھی۔اشوک آل انڈیا پیرینٹس ایسوسی ایشن کے پریزیڈنٹ اشوک اگروال بتاتے ہیں کہ قریب 800 اسکولوں سے سرکار قریب دس سالوں سے پیسے واپس نہیں لے رہی ہے۔ سرکار نے جو 575 اسکولوں کی لسٹ نکالی ہے ان میں وہ اسکول شامل ہیں جو اس معاملہ کو لیکر کورٹ گئے اور نہ ہی انہوں نے بڑھے پیسے واپس کئے۔ ان کے علاوہ ابھی 150 اسکول کورٹ میں اس کیس کو لڑ رہے ہیں۔ اس سے پہلے پانچویں پے کمیشن کے نام پر بھی پرائیویٹ اسکولوں نے فیس بڑھا کر والدین کا 400 کروڑ روپے کا نقصان کیا تھا۔ دلچسپ یہ ہے کہ 1998 میں اسے لیکر چیف جسٹس سنتوش دگل کمیٹی بنی تھی مگر کوئی پیسہ واپس نہیں ملا۔کچھ پرائیویٹ اسکولوں نے کسی نہ کسی بہانے ماں باپ کو لوٹنے کی عادت بنا رکھی ہے۔ کبھی یونیفارم کے بہانے تو کبھی اسکول بس کے کرائے کے بہانے یہ اپنے جیبیں بھرتے ہیں۔ ہم دہلی سرکار کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ سرکار سختی کرتے ہی انہیں بڑھی فیس لوٹوانے کی کوشش کرے گی۔
(انل نریندر)

کھلاڑی تو بہت ملیں گے نہیں ملے گا تو دوسرا ڈی ولیئرس

مہاراشٹر کرکٹ میں اب 360 ڈگری کے شارٹ نظرنہیں آئیں گے۔ 14 سال تک اپنے بلے سے کرکٹ شائقین کو لوٹ پوٹ کرنے والے ساؤتھ افریقہ کے بلے باز اے وی ڈی ولیئرس نے سبھی کھیلوں سے سنیاس لینے کا اعلان کرکے دنیا بھر میں اپنے پرستاروں کو چونکا و مایوس کردیا ہے۔ اے وی کے اس بڑے فیصلے سے نہ صرف فینز بلکہ کرکٹ امپائر بھی حیران ہیں۔یہ سنتے ہی سوشل میڈیا پر مانو ماتم سا چھا گیا۔ فینز کا کہنا ہے کہ کھلاڑی تو آتے جاتے رہیں گے لیکن کرکٹ میں اب دوسرے اے وی ڈی ولیئرس نہیں دیکھا جاسکتا۔ کھلاڑی تو بہت ملیں گے لیکن دوسرا ڈی ولیئرس نہیں مل پائے گا۔ اے وی کے ذریعے بہترین کٹ ، زور دار فل شارٹ اور اسپنروں پر حملہ کرتے ہوئے خوشی کی طرح ان کا بلہ بولتا تھا۔ یہ حملہ کو ناکام کرنے کے لئے کافی تھا۔ وہ گیند بازوں کے لئے ایک مسکراتے ہوئے خطرناک کھلاڑی تھے۔ وہ پل اسکپ شارٹ کھیلتے تھے جو سری لنکا کے تلک رتنے، دلشان کی وجہ سے مشہور ہوا۔ ان کا ریورس سوئپ کافی اثر دار تھا۔ وہ ڈیل اسٹین جیسے تیز گیند باز پر بھی ریورس سوئپ کھیل سکتے تھے۔ آف اسٹمپ کے باہر کھیلنا اور اسکوائر کے پیچھے کی گیند کو چپکے سے کھیلنا اور بہت سے دیگر شارٹ تھے جن پر وہ اپنا دعوی کرسکتے تھے۔ یو ٹیوب پر ان کے ان شارٹ کو کافی اے وی انسیٹ واٹس کلک کرکے دیکھا جاسکتا ہے جنہیں پہلے ہی36 لاکھ ہٹ مل چکے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ میں نسلی دور سے پہلے گرم اولاک کا اس طرح کا اثر تھا۔ جیکس کیلکس حیرت انگیز آل راؤنڈر تھے لیکن اے وی کا ٹی ۔20 خاکہ اور چھوٹے خاکوں میں اتنا ہی دھماکہ خیز انداز تھا کہ وراٹ کوہلی نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ ڈی ولیئرس کی موجودگی آر سی بی کے ڈریسنگ روم میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان دونوں بلے بازوں کے درمیان آپسی سوجھ بوجھ دیکھی جاسکتی تھی لیکن جہاں تک جاریحانہ گیند بازی کو ناکام کرنے کی بات ہے تو ڈی ولیئرس انہیں کثیر طور پر ثابت کرتے ہیں۔ کھیل کے بادشاہ سپر مین ، جینٹل مین، اسپائڈر مین اور مسٹر360 ڈگری کے نام سے مشہور ڈی ولیئرس نے اپنے دیش کے لئے ہمیشہ لا جواب پاریاں کھیلیں۔ وہ سب سے تیز 50، 100 اور 150 رن بنانے کا ریکارڈ ہولڈ ر ہیں۔ کھیل کی دنیا میں اپنی نایاب چھاپ چھوڑنے والے اے وی کو کرکٹ شائقین ہمیشہ یاد کریں گے۔ حالانکہ ان کے قریبی کھلاڑیوں میں آئی پی ایل کے فوراً بعد سنیاس لینے پر مایوسی دکھائی دی۔ ڈی ولیئرس نے کہا کہ ان کے بیرون ممالک میں کھیلنے کا کوئی پلان نہیں ہے اس کا مطلب کیا وہ آئی پی ایل کے اگلے سیشن میں آر سی بی کی جرسی میں نظرنہیں آئیں گے؟ انہوں نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ میں گھریلو کرکٹ میں ٹائی اپ کے لئے دستیاب رہوں گا، اگر وہ گھریلو لیگ میں دستیاب رہیں گے تو ہم کیا امید کرسکتے ہیں کہ وہ آر سی بی کے لئے بھی دستیاب ہوں گے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...