26 جولائی 2014

روزے دار کے منہ میں جبری روٹی ٹھونسنے کااعتراض آمیز معاملہ!

عوام کے نمائندوں سے جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق برتاؤ کی توقع کی جاتی ہے لیکن اس کو نظر انداز کرنے کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں۔ ہم نے کئی بار دیکھا ہے اگر ممبران حکمراں پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں تو وہ اخلاق کی تمام حدیں پار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ تازہ مثال نیومہاراشٹر سدن میں ٹھہرے کچھ شیو سینا کے ممبران پارلیمنٹ کے برتاؤ کا معاملہ ہے۔ شیو سینا کے 11 ممبران پارلیمنٹ پر مہاراشٹر سدن کی مبینہ خراب سروسز کے احتجاج میں ہنگامہ کھڑا کرنے اور ایک مسلم ملازم کو روزے میں زبردستی روٹی کھلانے کے الزام کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان ممبران کا مطالبہ تھا کہ انہیں مہاراشٹر کے کھانے کھلائے جائیں۔ نیو مہاراشٹر سدن میں قیام و طعام کی ذمہ داری آر آر سی ٹی سی کو سونپی گئی ہے ، جو بھارتیہ ریل میں کھانا سپلائی کرتی ہے۔ یہ ایم پی کئی دن سے سدن میں بجلی، پانی، صاف ،صفائی ،کھانے کے انتظام وغیرہ سے متعلقہ شکایتیں کررہے تھے۔ پچھلے ہفتے انہوں نے پریس کانفرنس بلائی اور پھر اخبار نویسوں کے ساتھ کیٹرین زون میں گئے اور وہاں رکھے برتن وغیرہ اٹھا کر پھینکنے شروع کردئے۔ وہاں تعینات ملازمین کو بیہودہ گالیاں دینے لگے۔ پھر باورچی خانے میں گئے جہاں آئی آر سی ٹی سی کے ریزیڈنٹ ایڈ منسٹریٹر ارشد زبیر ملازمین کو کھانے سے متعلق ہدایت دینے لگے۔ خبر ہے کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے ان کی گردن پکڑی اور ان کو زبردستی روٹی منہ میں ٹھونس دی۔زبیر اس وقت روزے سے تھے۔ ان کے مذہبی جذبات کو تو ٹھنس پہنچی ہوگی۔ اس کا محض اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے زبیر نے اس وقت اپنی وردی پہن رکھی تھی اور اس پر ان کے نام کی پٹی بھی لگی تھی۔ اس ملازم نے کیونکہ روزے رکھا ہوا تھا ایسے میں زبردستی منہ میں روٹی ٹھونسنا نہ صرف قابل اعتراض ہے بلکہ اس ملازم کو کس طرح سے بے عزت کیا گیاہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ایسی حرکت کی کسی بھی حالت میں حمایت نہیں کی جاسکتی۔ پارلیمنٹ میں یہ اشو اٹھنے پر اتحادی پارٹی کے بچاؤ میں بھاجپا کے ایم پی رمیش بدوڑی نے جو رائے زنی کی وہ بھی اتنی ہی غیر ذمہ دارانہ تھی۔ اپنے بیان کے لئے بعد میں انہوں نے بیشک ایوان میں معافی مانگ لی لیکن اس طرح کے تنازعوں سے بچنے کے لئے انہیں اپنی ہی پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے کچھ سیکھنا چاہئے جنہوں نے عوام کے نمائندوں کے رویئے کو غلط بتانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا۔ لیکن شیو سینا اس معاملے میں سنجیدگی کا ثبوت دینے کے بجائے پورے اشو کو اپنے خلاف سیاسی سازش بتانے میں لگی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس واقعہ پر نیو مہاراشٹر سدن کے ریزیڈنٹ کمشنر نے آئی آر سی ٹی سی اور ارشد زبیر سے معافی مانگ لی ہے۔مہاراشٹر کے چیف سکریٹری نے واقعہ کی جانچ کرانے کے بعد مناسب کارروائی کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن اس طرح ارشد کی جذبات کو پہنچی ٹھنس پر کوئی مرحم نہیں لگایا جاسکتا۔ ان دنوں رمضان چل رہے ہیں اور روزے رکھے جارہے ہیں۔ کسی شخص کے سامنے کھانا کھانا بھی ذرا بھی مناسب نہیں مانا جاتا۔ ایسے میں ان ممبران پارلیمنٹ نے ارشد کے منہ میں زبردستی روٹی ٹھونسنا ان کی عقیدت کو چوٹ پہنچانے والی حرکت کی ہے۔ جس کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ہمیں سبھی مذہبی جذبات اور روایات کی عزت کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)

ریلوے ملازمین کی مستعدی و سوجھ بوجھ سے بڑا حادثہ ٹل گیا!

بڑے ریل حادثوں کے پیچھے عام طور پر ریل ملازمین کی مجرمانہ لاپروائی کا اکثر تذکرہ ہوتا ہے لیکن حالیہ معاملے میں کہانی بدل گئی ہے۔ ریل ملازمین کی مستعدی اور سوجھ بوجھ کے چلتے بھوبنیشور راجدھانی ایکسپریس سے سفر کررہے سینکڑوں مسافروں کی جان بچ گئی۔ حادثہ ٹل گیا۔ حادثہ آدھی رات کو ہوا۔ ریلوے کے ذرائع کے مطابق رات 1 بجکر10 منٹ پر نکسلیوں نے گیا( بہار) کے پاس سیواس گاؤں کے سامنے سے گزر رہی ایک ریل لائن پر ایک بارود سے دھماکہ کیا، جو اتنا خطرناک تھا کہ قریب چار فٹ پٹریاں اڑ گئیں جبکہ ڈاؤن لائن سے جودھپور ایکسپریس آرہی تھی۔ دھماکے کی آواز سن کر ڈرائیور نے موقعہ واردات سے پہلے ہی ٹرین روک لی ورنہ وہ ایک بڑے حادثے کی زد میں آسکتی تھی۔ جودھپور ایکسپریس بھی کچھ سیکنڈ کے فرق سے آنے سے بچی لیکن بھوبنیشور راجدھانی ایکسپریس کو تو نکسلیوں نے نشانہ بنایاتھا ایسے میں محض دس پندرہ منٹ پہلے دھماکے سے پٹری اڑائی گئی تھی لیکن ملازمین کو پٹریوں سے گزرنے سے پہلے ہی پائلٹ انجن دوڑایا تو یہ حادثہ ٹلا۔ پائلٹ انجن پٹری سے اتر کر تباہ ہوگیا۔ یہ حادثہ ہوتے ہی پائلٹ انجن کے ڈرائیور نے مستعدی دکھاتے ہوئے پیچھے کے اسٹیشن پر فوراً خبر کردی۔ اس کے بعد راجدھانی ایکسپریس کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس معاملے کی جانکاری جب راجدھانی ایکسپریس کے مسافروں کو ملی تو وہ بغیر حادثے کے ہی بے چین ہوگئے۔ ان میں کچھ مسافر تو اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ وہ راجدھانی ایکسپریس سے آگے سفر ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ بڑی مشکل سے راضی ہوئے۔ واردات کا دورہ کرنے کے بعد ریلوے کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اگر اپنی پوری رفتار میں بھوبھنیشور راجدھانی ٹوٹے ہوئے ٹریک سے گزرتی تو اس کا کوئی بھی ڈبہ محفوظ نہیں رہتا۔ حادثہ اتنا خطرناک ہوتا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ریل منتری سدانندگوڑ نے اس معاملے میں ریلوے ملازمین کی مستعدی کی تعریف کی۔ جن حکام اور ملازمین نے چوکسی دکھائی ہے انہیں انعام بھی دیا جائے گا۔ دراصل سکیورٹی فورس کے بھاری دباؤ کے سبب نکسلی بڑی واردات انجام دینے کے فراق میں ہیں۔ بھوبنشیور نئی دہلی راجدھانی کے آنے سے پہلے پٹری اڑانے کا واقعے کو وزارت داخلہ اس نظریئے سے دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ پائلٹ انجن کے آگے چلنے کے سبب نکسلیوں کی یہ سازش بے نقاب ہوپائی لیکن وزارت داخلہ کو اندیشہ ہے کہ نکسلی پھر سے ٹرینوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس لئے نکسلی متاثرہ علاقوں میں ٹرینوں کی چوکسی بڑھانے کی ہدایت ریاستی حکومتوں کو جاری کردی گئی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد وزارت داخلہ نے بہار، اڑیسہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ کے نکسلی متاثرہ علاقوں میں چلنے والی سبھی ٹرینوں کے آگے پائلٹ انجن چلانے کو کہا ہے۔ ہم مستعدی دکھا کر بڑے حادثے کو ٹالنے کے ذمہ دار افسران کی تعریف کرتے ہیں ۔ ان کے سبب سینکڑوں جانیں بچ گئی ہیں۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2014

گلاسگو کامن ویلتھ کھیلوں کیلئے ہندوستانی کھلاڑیوں کو گڈلک!

کرپشن اور لیٹ لطیفی والے دہلی کامن ویلتھ گیمس کے بعدبدھ کے روز اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں کھیل شروع ہوگئے ہیں۔ اس بار اسٹیڈیموں اور سہولیات کا اتنا تذکرہ نہیں ہورہا ہے جتنا 6 اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے عزوین بولٹ کا ہورہا ہے۔ کھیلوں کے پچھلے ایڈیشن میں انہوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔ حالانکہ جمیکا کے سپر اسٹار بولٹ 100 یا 200 میٹر کی دوڑ میں حصہ نہیں لیں گے وہ صرف4 گنا 100 میٹر رلے دوڑ میں شامل ہوں گے۔ یعنی بولٹ نام کی یہ بجلی 9 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں دوڑے گی لیکن سچ مانئے وہ کچھ چمچماتے لمحوں میں ان کھیلوں کا سب سے بڑا توجہ کا مرکز رہے۔ بدھوار کو اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو کے 13 اسٹیڈیموں میں 17 کھیلوں کی ہلچل مچی ہوئی ہے۔اس 20 ویں کامن ویلتھ گیمس میں 71 ملکوں سے 4500 سے زیادہ ایتھلیٹ حصہ لیں گے۔ چار سال پہلے نئی دہلی میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمس میں177 میڈل کے ساتھ آسٹریلیا ٹاپ پر اور 101 میڈل کے ساتھ بھارت دوسرے مقام پر رہا۔ بھارت کے لئے گلاسگو میں ہورہے اس کامن ویلتھ گیم میں پچھلی بار کی طرح کامیابی دوہرانے کا سخت چیلنج ہوگا۔ لیکن کچھ مقابلوں میں شامل کئے جانے کے بعد بھی اس کی215 ممبری مضبوط ٹیم پانچویں مقام پر رہنے کی کوشش کرے گی۔ نئی دہلی کھیلوں میں ہندوستانی ٹیم ریکارڈ 101 میڈل جیت کر آسٹریلیا کے بعد دوسرے مقام پرتھا۔ اس بار امید کی جارہی ہے ہندوستانی ٹیم آسٹریلیا اور اسکاٹ لینڈ کے بعد تیسرے مقام پر رہ سکتی ہے۔ حالانکہ کامن ویلتھ گیمز کی اہمیت 204 ملکوں والے اولمپک جیسی تو نہیں ہوتی لیکن پھر بھی 71 کامن ویلتھ ملکوں کے لئے یہ ایک سو فیصد شاندار تقریب ہے جہاں 261 میڈلوں کے لئے 17 کھیلوں میں 4500 کھلاڑی ایک دوسرے سے ٹکر لیں گے۔ ہندوستانی حکام کا کہنا ہے گلاسگو کامن ویلتھ گیمس کے کھیل گاؤں کو چار سال پہلے نئی دہلی میں ہوئے کھیل کے کھیل گاؤں سے بھی کافی خراب بتایا ہے۔ 2010ء میں کھیل گاؤں میں کافی صفائی اور بدنظمی کولیکر بھارت کی کافی کھلی اڑی تھی لیکن گلاسگو میں ہلی سے بھی برے انتظام ہیں۔ بھارت کے چیف ڈی مشن راج سنگھ نے کہا کھیل گاؤں میں جگہ کی کمی ہے جب میں چار سال پہلے دہلی کے کھیلوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بھارت نے کافی اچھی سہولیات دستیاب کرائی تھیں۔ یہاں اٹیج باتھ روم نہیں ہیں۔ کھلاڑیوں کو باتھ روم شیئر کرنا پڑ رہا ہے جبکہ دہلی میں ہم نے ہر کمرے میں اٹیچ باتھ روم مہیا کرائے تھے۔ہمارے ایتھلیٹوں کو کھانے کی بھی پریشانی ہورہی ہے۔ کھانے کے لئے سبزی کی کمی ہے۔ دہلی این سی آر کے لئے ان کھیلوں کی خاص اہمیت ہے۔ سشیل کمار، یوگیشور کمار، امت دہائیا، راجیو تومر، سیما منیا، کیندرسنگھ، للت ماتھر،منجیت سنگھ،مانو جیت سنگھ،منیسر سنگھ، انیسا سید وغیرہ وغیرہ سے دہلی این سی آر کے لوگوں کو ہی نہیں پورے دیش کو میڈل کی امید ہے۔ ہاکی میں بھارت کو کم سے کم مرد یا خاتون کلاس سے ایک میڈل کی ضرور امید ہے۔ 2010ء کھیلوں کے فائنل میں بھارت کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ملی تھی۔ دیش کو جن سے زیادہ امیدیں ہیں ان میں سشیل کمار شامل ہیں، جنہوں نے بیجنگ اولمپک میں تانبے او ر لندن اولمپک میں سلور میڈل جیتا تھا۔ یوگیشور نے لندن میں تانبے کا میڈل جیتا تھا۔ یوگیشور کے جسم میں جمناسٹک جیسی لچک ہے اور ان کا ڈیفنس کافی مضبوط ہے۔ 61 کلو گرام میں ورلڈ چمپئن شپ جیتنے والے نوجوان پہلوان بجرنگ گلاسگو میں طلائی میڈل جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نشانے بازی میں ابھینو بندرا دہلی کامن ویلتھ گیمس میں ہندوستانی سورماؤں نے دیش کو تین میڈل دلائے تھے۔ اس بار بھی بھارت کو نشانے بازی سے زیادہ میڈل ملنے کی امید ہے۔ بیڈ منٹن میں بھارت کی نامور اسٹار ثائنہ نہوال کی غیرموجودگی میں بھارت کی امیدیں پی وی سندھو پر لگی ہوئی ہیں۔بھارت کے عمدہ ٹیبل ٹینس کھلاڑی گرت کمل ہیں۔ دو بار گیمس میں دیش کو میڈل دلایا ہے اس بار بھی ان سے امیدیں ہیں۔ پرشانت کرماکر (پیرا ایتھلیٹ) 50 میٹر کی فری اسٹائل پیرا سپورٹ میں بھارت کو تانبے کا میڈل دلانے سے بھی امید رکھی جاسکتی ہے۔جمناسٹک میں اور کامن ویلتھ گیمس اور ایشین گیمس میں میڈل ونر اشش کمار سے بھی بھارت کو جمناسٹک میں میڈل ملنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ڈسکراس تھرو میں وکاس گوڑ، کرشنا پنیا سے بھی کافی امیدیں ہیں۔400 میٹر لمبی لانگ جمپ میں جوڈو اور باکسنگ میں ویجندر سنگھ ،شیو تھاپا اور سمت سانگوان اور دویندر سنگھ سے اچھے کھیل کی امید ہے۔ ہم اپنے تمام کھلاڑیوں کو بیسٹ آف لک کہتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ وہ گلاسگو میں شاندار کھیل دکھائیں گے۔
(انل نریندر)

ملائم، اکھلیش کو نصیحتیں دے رہے ہیں یا ان کی مشکلیں بڑھا رہے ہیں؟

شری ملائم سنگھ یادو اس وقت دوہرا رول نبھا رہے ہیں۔ ادھر لوک سبھا میں قومی سیاست کررہے ہیں تو ادھر اترپردیش میں اپنی پکڑ رکھے ہوئے ہیں لیکن سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ نیتا جی اپنے وزیر اعلی صاحبزادے اکھلیش یادو کی مدد کررہے ہیں یا پھر روڑے اٹکا رہے ہیں؟ گاہے بگاہے اپنے بیانوں سے ملائم سنگھ اکھلیش کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں۔ ایک طرف آبروریزی کے معاملوں میں اترپردیش میں سماج وادی پارٹی حکومت نکتہ چینیوں کا سامنا کررہی ہے تو وہیں پارٹی چیف ملائم سنگھ نے اپنے اس بیان میں کہا کہ 21 کروڑ کی آبادی کے باوجود ریاست میں آبروریزی کے کم معاملے ہوئے ہیں۔ اکھلیش سرکارکے لئے یہ درد سر بڑھا دیا ہے۔ لکھنؤ کے موہن لال گنج علاقے میں ایک خاتون سے آبروریزی اور قتل پر یادو نے دہلی میں اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ آپ اترپردیش کی بات کرتے ہیں وہاں کی آبادی 21 کروڑ ہے ۔ اگرکسی دیش میں اس طرح کے سب سے کم معاملے ہوئے ہیں تو وہ اترپردیش ہے۔16 ویں لوک سبھا کے چناؤ کے دوران مظفر نگر میں ملائم سنگھ نے ممبئی میں ہوئے بدتمیزی کے الزامات پر کہا کہ ’’بچوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں‘‘ جیسے بیان دے کر پردیش کی عورتوں کو ناراض کردیا تھا۔ پارٹی کے ایک بڑے طبقے نے مانا کہ نیتا جی کے اس بیان کا غلط اثر لوک سبھا کے چناؤمیں عورتوں کی ناراضگی کی شکل میں سپا کو بھگتنا پڑا تھا۔ لوک سبھا چناؤ میں سپا کومحض پانچ سیٹیں ملی تھیں۔ پورے لوک سبھا چناؤ میں نیتا جی نے کئی ریلیوں میں یہ کہہ کر اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی دیش کی ترقی میں کسانوں، مسلمانوں نے اہم کردار نبھایا ہے۔ سیاسی واقف کاروں کا خیال ہے کہ نیتا جی کے اس بیان نے فرقہ وارانہ پولارائزیشن کا خاکہ تیار کیا تھا اور فائدہ بھاجپا اٹھا لے گئی۔ اس سے پہلے عام چناؤ میں وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر وزیر اعلی کو اپنے چاٹو کارو سے گھرا بتا کر ان کی مشکلیں بڑھا دی تھیں۔ آج بھی اپوزیشن لیڈر نیتا جی کے اس بیان کو بنیاد بنا کر وقتاً فوقتاً اکھلیش اور ان کی سرکارپر نکتہ چینی سے گریز نہیں کرتی۔ بیان سے پہلے اٹاوا میں ملائم پردیش میں اکھلیش سرکار کے خلاف یہ کہہ کر برسے تھے کہ سرکار کے کام کاج سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ اپوزیشن نے ان کے اس بیان کو یہ کہہ کر تشریح کی کہ جب سپا چیف ہی اپنی سرکار کے کام کاج سے مطمئن نہیں ہیں تو ریاست کے باشندوں کی بات توچھوڑیئے۔ پچھلے دنوں لکھنؤ کے موہن لال گنج علاقے میں عورت کے ساتھ بدفعلی کے بعد جس طرح ملائم سنگھ نے بیان دیا وہ جرائم پیشہ افراد کا درپردہ طور پر حوصلہ بڑھاتا ہے۔ ملائم فرماتے ہیں کہ پردیش کی آبادی 21 کروڑ ہے اور اسے دیکھتے ہوئے جرائم کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ ہی نہیں وہ آگے کہتے ہیں ہر آدمی کے پیچھے پولیس تو نہیں لگائی جاسکتی۔ ہر جرائم کو روکا نہیں جاسکتا۔ یہ بات سچ ہے کہ ہر شخص کے پیچھے پولیس نہیں لگائی جاسکتی مگرراج پولیس اور قانون کا ہوتا ہے۔جب تک غلط کام کرنے والے دل میں قانون کا خوف پیدا نہیں ہوگا تب تک جرائم نہیں رکیں گے۔ اس لئے قانون پر سختی سے تعمیل کرکے ہی قانون کا راج قائم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں تو حالات الٹے ہیں پولیس تھانوں میں ہی جرائم ہورہے ہیں۔ ملائم نے اپریل ماہ میں اپنی ایک چناؤ ریلی میں کہا تھا آبروریزی کے لئے پھانسی کی سزا صحیح نہیں ہے۔ لڑکے ہیں غلطی تو ہوہی جاتی ہے تو کیا اس کے لئے ان کی جان لیں گے؟ ملائم کے بیانوں کے سبب بھاجپا اور کانگریس ، بسپا ان پر حملہ آور کے موڈ میں ہیں۔ ان تینوں سیاسی پارٹیوں نے نیتا جی کے بیان کو اکھلیش سرکار کے ارادے سے جوڑ کر باپ بیٹے کو گھیرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
(انل نریندر)

24 جولائی 2014

جسٹس کاٹجو نے عدلیہ کی ساکھ اور اعتماد پرسوال اٹھایا !

اکثر متنازعہ بیان دینے کے لئے سابق جسٹس اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین مارکنڈے کاٹجو سرخیوں میں رہتے ہیں لیکن اس بار تو انہوں نے ایسا بیان دے ڈالا جس سے ہماری عدلیہ کے کریکٹر پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔عدالتی فیصلوں کو میڈیا کی سرخی بنتے تو ہم نے اکثردیکھا ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جب عدلیہ خود کسی اسباب سے دیش اور دنیا میں بحث کا اشو بن جائے۔ مارکنڈے کاٹجو نے جس سنسنی خیز انداز میں کرپشن کے الزامات میں ملوث ایک سینئر جج کے بارے میں سیاسی اسباب سے سروس میں توسیع دئے جانے کے معاملے کا جو سنسنی خیز انکشاف کیا ہے، اس سے بھونچال آنا فطری ہی ہے۔ کاٹجو نے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو کرپشن کے الزامات کے باوجود نہ صرف برقرار رکھا گیا بلکہ اس کی ملازمت میں بھی توسیع کردی گئی۔ یہ ہی نہیں انہیں بعد میں ایک دوسری ہائی کورٹ میں مستقل جج بنا دیا گیا۔یہ فائدہ انہیں اس لئے ملا کیونکہ انہیں تاملناڈو کے ان سینئر سیاستدانوں کی ہمدردی حاصل تھی جن کی حمایت کے بغیر یوپی اے کی پہلی سرکار چل نہیں سکتی تھی۔ معاملے کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنائی پڑی اور تمام پارٹیاں اپنے اپنے نظریئے کے ساتھ اس معاملے کا محاسبہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر 10 سال بعد کاٹجو کا ضمیر اچانک کیسے جاگ گیا؟لیکن اس سوال کے جواب میں کاٹجو خود سوال داغتے ہیں کہ کیا سچائی بھی کسی وقت اور میعاد میں باندھی جاسکتی ہے؟ اس سنسنی خیز انکشاف کا وقت چننے کے پیچھے بیشک کاٹجو کی اپنی مصلحت ہوں گی لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے ایک حساس ترین اور سنگین معاملے کو دیش کے سامنے اچھال دیا ہے۔ ان کے ارادے اور انکشاف کے موقعے کولیکر بیشک سوال اٹھائے جائیں اور یہ سوال کچھ گنے چنے لوگوں کے لئے اہم ہوسکتے ہیں لیکن بات اس اشو کی ہونی چاہئے کہ عدلیہ میں کرپشن کی جڑیں کیوں گہری ہورہی ہیں؟ عدلیہ جمہوریت کا نہ صرف تیسرا ستون ہے بلکہ عام آدمی کی نظر میں یہ سب سے قابل بھروسہ بنیاد بھی ہے جو اس کے لئے انصاف کرتی ہے۔ ایسے میں عدلیہ کے سسٹم پر بھروسہ اور جمہوریت کا سب سے بڑا کوچ ہے یہ کوچ با اثر بنا رہے اس کے لئے ضروری ہے کہ کرپشن یا سیاسی مداخلت سے اسے پوری طرح پاک رکھا جائے۔ کاٹجو نے متعلقہ ایڈیشنل جج پر مہربانی کے لئے تین سابق ججوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جنہوں نے باری باری سے سپریم کورٹ کی رہنمائی کی۔ غور طلب ہے کہ ہائی کورٹ کو دو ججوں کی تقرری بڑی عدالت کے تین سینئر ججوں کو کالیجیم طے کرتا ہے اور اس میں پانچ سینئر جج شامل ہوتے ہیں۔ کاٹجو کے مطابق جب وہ مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو انہیں وہاں کے ایک ایڈیشنل جج کے بارے میں کرپشن کی شکایتیں ملی تھیں اور ان کی اپیل پر چیف جسٹس نے انٹیلی جنس بیورو سے اس کی جانچ کرائی اور الزامات کو صحیح پایا گیا۔ کاٹجو کا دعوی ہے آئی بی کی اس رپورٹ کے بارے میں سپریم کورٹ کے ان تین چیف جسٹس کو پتہ تھا جن کے نام انہوں نے لئے ہیں۔ پھر بھی مدراس ہائی کورٹ سے وابستہ ایڈیشنل جج کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں ملازمت میں توسیع اور ترقی کا فائدہ پہنچادیا گیا۔ یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ یوپی اے سرکار کو حمایت دے رہی تاملناڈو کی پارٹی نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس جج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو یوپی اے سرکار گر سکتی ہے۔ صاف ہے کہ تاملناڈو کی یہ پارٹی ڈی ایم کے تھی جس کے ایک لیڈر کو اس جج نے ضمانت دی تھی۔ اس معاملے میں ڈی ایم کے کے دامن پر داغ لگا ہے ۔ تین سابق ججوں کے ساتھ ساتھ کانگریس بھی کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہے۔ کاٹجو کا انکشاف یہ بھی بتاتا ہے کہ ڈی ایم کے کو خوش کرنے اور اس طرح اپنی سرکار بچانے کے چکر میں کانگریس کولیجیم پر دباؤڈالنے کی حد تک چلی گئی۔ کیا اس وقت وزیر اعظم منموہن سنگھ اس کے انجان تھے؟ جسٹس کاٹجو نے نہ صرف جانی پہچانی بات کو عام کردیا۔ آزادی کے 67 سال گزرجانے کے بعد اگر ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کی کارروائی کو شفاف بنانے کے بارے میں غور کرنے کو تیار نہیں ہیں تو ہمارے جمہوری سسٹم کیلئے اس سے زیادہ تشویشناک بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
(انل نریندر)

انتہائی چیلنج بھرے سیاسی دور سے گزرتی کانگریس !

اس کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ سب سے پرانی کانگریس پارٹی آج کل ایک خراب سیاسی دور سے گزر رہی ہے۔ چاہے معاملہ لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن کا ہو، لوک سبھا میں سیٹنگ کا ہو یا اتحادی ساتھیوں کا ہو۔ پارٹی کے اندر بڑھتی ناراضگی کا ہو۔ سبھی مورچوں پر کانگریس لیڈر شپ کو زبردست چیلنج کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر محترمہ سمترا مہاجن کے ذریعے نئی ایوان میں سیٹوں کے انتظام کو قطعی شکل دئے جانے کا امکان ہے۔ حالانکہ ابھی یہ طے نہیں کہ ایوان میں اپوزیشن کا لیڈر کے اشو پر فیصلہ کب تک ہوگا۔ پارلیمانی ذرائع نے بتایا کہ لوک سبھا اسپیکرکو ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ انا ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس اور بیجو جنتادل کانگریس کے ساتھ ساتھ لوک سبھا میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔ نہ تو انا ڈی ایم کے اور نہ ہی ترنمول اور بیجو جنتا دل کوئی بھی لوک سبھا میں کانگریس کے ساتھ سیٹ دئے جانے کے حق میں نہیں ہے۔ متعلقہ افسران نے اس بارے میں ان سے کئی دور کی بات چیت کی ہے اور اس مسئلے پر ہفتے بھر میں فیصلہ آنے کی امید ہے۔ سیاسی مشاہدین کا کہنا ہے کہ اڑیسہ میں کانگریس بیجو جنتادل کی خاص حریف جبکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کئی بار حکومت کی حمایت میں دکھائی پڑتی ہے تو کئی بار مخالفت میں نظر آتی ہے۔ایسا بھی تذکرہ چل رہا ہے کوئی ایسا فارمولہ نکال لیا جائے جس کے تحت جیتی گئی سیٹوں کے تناسب کے حساب سے پارٹیوں کو آگے کی سیٹیں الاٹ ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس اگلی لائن میں دو سے زیادہ سیٹیں نہیں پا سکتی۔ اب بات کرتے ہیں کانگریس اتحاد کے ساتھیوں کی۔ اکتوبر ۔نومبر میں ہریانہ ، مہاراشٹر، جموں و کشمیر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ قریب چھ سال تک اتحاد میں رہنے کے بعد جموں و کشمیر میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس اسمبلی چناؤ میں الگ الگ میدان میں اتریں گے۔ یعنی دونوں کا اتحاد ختم ہوگیا ہے۔کانگریس لیڈروں غلام نبی آزاد، امبیکا سونی نے جموں میں اعلان کیاتھا کہ ان کی پارٹی آنے والے اسمبلی چناؤ اکیلے ہی لڑے گی اور چناؤ سے پہلے کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ ادھرنیشنل کانفرنس کے وزیراعلی عمر عبداللہ جو پارٹی کے نگراں صدر بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کیا اور کہا کہ انہوں نے 10 دن پہلے ہی کانگریس پردھان سونیا گاندھی کو اس بارے میں مطلع کردیا تھا کہ ریاست میں چناؤ سے پہلے کوئی تال میل نہیں ہوگا۔ کانگریس کا یہ کہنا کہ اس نے فیصلہ کیا ہے اور پوری طرح سے حقائق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ غیرضروری ہے۔ مہاراشٹرمیں کانگریس اور این سی پی کے درمیان کافی پرانا اتحاد ہے۔ یہاں پر اتحادی حکومت کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان ہیں لیکن این سی پی کے چیف شرد پوار اپنی سیاسی چالیں چلنے سے باز نہیں آرہے۔ ان کا کہنا ہے چناؤ سے پہلے کانگریس پرتھوی راج چوہان کو ہٹا کر کسی اور کو وزیر اعلی بنائے کیونکہ چوہان کی لیڈر شپ میں ریاست میں بھاجپا۔ شیو سینا کی سیاست سے نمٹنا بہت مشکل ہوگا۔ اب کانگریس نے ایک سیاسی چال چلتے ہوئے این سی پی کے پاس ایک تجویز بھیجی ہے کہ اگر پارٹی کانگریس میں ضم ہونے کو تیار ہو تو شرد پوار جسے چاہیں اسی کو وزیر اعلی بنا دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے پچھلے کئی برسوں سے کانگریس لیڈر شپ اس کوشش میں رہی ہے کہ این سی پی کا انضمام کانگریس میں ہوجائے۔ خیال رہے کہ سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کے اشو کو اٹھاتے ہوئے شرد پوار نے کانگریس سے بغاوت کرکے اپنی پارٹی این سی پی بنا لی تھی۔ پچھلے15 سالوں سے مہاراشٹر میں اتحاد کی سرکار چل رہی ہے لیکن ہر بار چناؤ کے موقعے پر دونوں پارٹیوں کے بیچ سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر کھینچ تان شروع ہوجاتی ہے۔ قیاس آرائیاں لگنے لگتی ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے بیچ چناوی اتحاد بچے گا یا ٹوٹے گا۔ این سی پی نے انضمام سے صاف انکار کردیا ہے۔ کل ملا کر کانگریس پارٹی ایک بہت چیلنج بھرے دور سے گزر رہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس لیڈر شپ پارٹی کو اس سے نکال سکتی ہے یا نہیں؟

(انل نریندر)

23 جولائی 2014

خود کو نابالغ بتا کر ہندوستانی قوانین کا فائدہ اٹھائیں!

ہندوستان کے خلاف کئی دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے والے پاکستانی آتنک وادی تنظیم لشکر طیبہ نے اب نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وہ ہمارے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ بے قصوروں اور معصوموں کی بے رحمی سے جان لینے والے اپنے لڑاکو کو بچانے کے لئے وہ ہمارے ہی قوانین کو ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لشکر طیبہ نے جموں و کشمیر میں موجودہ اپنے لڑاکو سے کہا ہے کہ اگر وہ ہندوستانی سکیورٹی جوانوں کے ذریعے پکڑے جائیں تو وہ اپنی عمر 18 سال سے کم بتائیں جس سے انہیں کم سے کم سزا بھگتنی پڑے۔ لشکر کی اس نئی حکمت عملی کاانکشاف گرفتار دہشت گرد محمد جاوید نوید جٹ عرف ابوحمزہ نے کیا۔ جٹ سے پوچھ تاچھ کے دوران مسلسل اپنی عمر17 سال ہی بتاتا رہا لیکن جانچ میں اس کی عمر22 سال نکلی۔ پاکستان کے ملتان کے باشندے جٹ کو پولیس نے ساؤتھ کشمیر میں پچھلے مہینے کے تیسرے ہفتے میں گرفتار کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اکتوبر2012ء میں 6 لڑکوں کے ساتھ شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر سے جموں وکشمیر آیاتھا۔ فوج کے ریٹائرڈ ڈرائیور کے بیٹے جٹ کو لشکر کی سسٹر تنظیم جماعت الدعوی کے کئی مدرسوں میں ٹریننگ دی گئی تھی۔ جٹ پر ساؤتھ کشمیر میں کئی پولیس ملازمین کے قتل ،فوج اور پولیس فورس پر حملہ ،نیشنل کانفرنس ودھان پریشد کے ممبر کے قتل کی کوشش کا الزام ہے۔ پوچھ تاچھ میں جٹ نے بتایا کہ سرحد پار بیٹھے لشکر کے آقاؤں نے اسے اپنی عمر17 سال بتانے کوکہا تھا۔ لشکر نے اپنے آتنک وادیوں سے کہا تھا کہ وہ 18 سال سے کم عمر کے لڑکوں کی طرح برتاؤ کریں تاکہ ان کے خلاف ہندوستانی جرائم قانون کے تحت نہیں بلکہ جوئینائل ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہو۔ ہندوستان میں لڑکوں کے انصاف قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزاتین سال ہے۔ حالانکہ نابالغ بچوں سے قانون کتنی سختی سے نمٹے ایک کے بعد پھر یہ معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس بار اطفال اور خواتین معاملوں کی وزیر مینکا گاندھی نے اس حساس اشو کو نہ صرف اٹھایا ہے بلکہ ان کی وزارت اس سے جڑے قانون پر زور دار طریقے پر تبدیلی میں لگ گئی ہے۔ قومی ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں پچھلی ایک دہائی میں نابالغ جرائم پیشہ کے ہاتھوں جاری جرائم کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ سال2003ء سے 2010ء کی میعاد میں ایسے نام نہاد معصوم جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کی گئی قتل کی وارداتیں 465 سے بڑھ کر 1007 یعنی اس میں 117 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی میعاد میں ان کے ذریعے انجام دئے جانے والے آبروریزی کے واقعات چھلانگ لگا کر1884 ہو گئے ہیں یعنی 304 فیصد اضافہ۔ اعدادو شمار صاف بتاتے ہیں محض کم عمری کا خیال کر سنگین جرائم میں رعایت برتنا اب سماج کے لئے ایک برا خواب بنتا جارہا ہے۔16 دسمبر 2012 ء کو دہلی میں نربھیہ کے ساتھ اجتماعی آبروریزی میں سب سے زیادہ حیوانیت دکھانے والا ایک نابالغ جرائم پیشہ لڑکے کو محض3 سال کے لئے جونائل ہوم میں بھیجنے کے لئے زیادہ سزا نہیں دے پایا تھا جبکہ دیگر بالغ ساتھیوں کو عدالت نے موت کی سزا سنا دی تھی۔ اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس جرائم کے محض چھ مہینے بعد یہ نابالغ آبروریز18 سال پورے کر بالغوں کے زمرے میں آگیا۔ نربھیہ کے ساتھ ہوئی ٹریجڈی سے ٹوٹ چکے اس کے والدین نے سپریم کورٹ سے اس نابالغ کو بھی بالغ کے زمرے میں رکھ کر سخت سزا کی اپیل کی تھی۔ وہ بھی مسترد کردی گئی۔ اب جب دیش کے دشمن بھی اسی کمی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں بنتا کہ بالغوں سے وابستہ قانون میں ایسی ضروری تبدیلیاں کی جائیں جو ان نابالغ لڑکوں کے دل میں قانون کا خوف پیدا کرسکے۔ انہیں ایسے جرائم سے دور رکھنے میں معاون ہو۔ قابل ذکر ہے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا جیسے ترقی پذیر ملکوں میں سنگین جرائم کے معاملوں میں نابالغ کے ساتھ کوئی خصوصی رعایت نہیں برتی جاتی۔ اپنے دیش میں بہت سے ایسے معاملے دیکھے گئے ہیں جن میں نابالغ جرائم پیشہ کو قانون کی اس کمزوری کا پتہ ہوتا ہے اور وہ جم کر اس کا بیجا استعمال کرتا ہے اب تو لشکر طیبہ بھی اس کا فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ ایسے جرائم پیشہ لڑکوں کے لئے 16 سے18 برس کا ایک گروپ بنا دیا جائے اور جرائم کی نوعیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سزا دی جائے۔ ویسے بھی جب نابالغ ایسے سنگین جرائم کرتے ہیں تو (نربھیہ کیس) تو وہ کہاں کا نابالغ رہ گیا ہے؟
(انل نریندر)

سماج میں بڑھتی نشے کی لت تشویش کا موضوع!

سماج میں نشے کی بڑھتی لت کو خطرناک مانتے ہوئے صدر پرنب مکھرجی نے نشے کے عادی لوگوں کو نشے سے نجات دلانے کی اپیل کے ساتھ انہیں سماج کیلئے کارگر بنانے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اعدادو شمار کے مطابق دنیا بھر میں قریب200 ملین لوگ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔شراب سے لیکرکوکین، ہیروئن اور ناجانے کس کس طرح کی نشیلی چیزوں سے آج کی نوجوان پیڑھی تباہ ہورہی ہے۔ حقیقت میں نشیلی چیزوں کا استعمال اور ان کا غیر قانونی کاروبار ہندوستان کے لئے ایک بڑی مصیبت بن گیا ہے۔ ہم اپنے دیش کی بات کرتے ہیں۔ پنجاب میں نشیلی چیزوں کے ناجائز دھندے نے کہاں تک اپنی جڑیں جما لی ہیں اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں پر اسے روکنے کی ذمہ داری ہے وہ بھی اس کی گرفت میں دکھائی پڑتے ہیں۔ مکتیشور پولیس کے چار جوانوں کا ڈیوٹی پر نشیلی چیزوں کا استعمال کرتے پکڑے جانا اور نشہ چھڑاؤ مرکز میں بھیجا جاتا اس کی تازہ مثال ہے۔ یوں تو ان کے پکڑے جانے سے پولیس محکمے کی پریشانی بھی ظاہر ہوتی ہے مگر ریاست میں نوجوانوں نے جس طرح نشیلی چیزوں کی سپلائی بڑھتی جارہی ہے اس پر روک لگانے کی سمت میں کوئی کارگر قدم ابھی تک نہیں اٹھایا جاسکا۔ مسئلہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جب نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ اور فروخت میں پولیس کانسٹیبل کی بھی ملی بھگت ہو۔دیش میں اس وقت افیم ،چرس، اسمیک، کوکن، وغیرہ کی پہچان سے بچنے کیلئے کچھ اسمگلروں نے دوا کی گولیوں کی شکل میں نشیلی گولیاں تیار کرنا شروع کردیں جنہیں سنتھیٹک ڈرکس کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ دہلی میں کئی ریوا پارٹیوں میں ایسی گولیوں کے استعمال کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایسی گولیوں کوتیارکرنے میں اور ان کی سپلائی کا نیٹورک پھیلانے کا قصووار پنجاب پولیس کا ہی ایک افسر پایا گیا ہے۔ نشے کا ٹرینڈ کیونکہ انسان کی بنیادی عادتوں کا حصہ ہے اس لئے امیر سے لیکر غریب طبقے تک سماج کا بڑا حصہ اس کا عادی ہوتا ہے۔ بے ترتیب اور بے حساب آبادی والے بھارت جیسے ملک میں نشیلی چیزوں کا کاروبار اس کی معیشت کو گھن کی طرح کھوکھلا جارہا ہے ۔وہاں کے غریب طبقے کو خاصطور پر جرائم کی دنیا میں جھونکتا جارہا ہے۔ نشہ خوری کے سبب سماج میں جہاں جنسی جرائم میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے وہیں گھر پریوار کے جھگڑے بھی ایک بڑا سبب ثابت ہورہے ہیں۔ گھر اور کنبے کی سطح پر نشے کے عادی تمام لوگوں کے گھر اور کنبے بربادی کے دہانے پر آجاتے ہیں۔ ایسے کئی لوگ اپنے بچوں تک کی فکر مندی سے بے پرواہ ہوجاتے ہیں۔ عورتوں کے تئیں ہورہے جنسی جرائم کے زیادہ تر معاملوں میں نشیلی چیزوں کا استعمال ایک بڑا سبب مانا جاتا ہے۔ جس ناجائز کاروبار کے چلتے دیش کے لاکھوں نوجوان نشے کے عادی ہوں ان میں ہر سال ہزاروں غیر فطری موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس پر نکیل کسنے میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کی لاپرواہی حیرانی ضرور ظاہر کرتی ہے۔
(انل نریندر)

22 جولائی 2014

امریکہ کی بالادستی توڑنے کیلئے برکس ممالک کی بڑی کامیابی!

برکس یعنی برازیل، روس، بھارت،چین اور ساؤتھ افریقہ کا اپنا بین الاقوامی بینک کا خواب پورا ہوچکا ہے جو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دیکھا تھا۔ چھٹی برکس چوٹی کانفرنس میں عالمی اسٹیج پرہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی کا پہلا موقعہ تھا اور اس موقعہ پر عالمی بینک بنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھانے کی بات کرکے انہوں نے مثبت پیغام بھی دیا۔ حالانکہ سب کی توقع برکس بینک کے قیام کو لیکر تھی جسے منظوری مل گئی ہے۔ یہ ایک بڑا کارنامہ ہے اس سے 70 برس پہلے امریکہ میں نیوہیمپشائر برٹین ووڈ میں44 ملکوں کے نمائندوں کے ذریعے ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے قیام کے بعد اس کی طرز پر یکساں مالیاتی ادارے بنانے کی کوشش پہلی بار پھلتی پھولتی نظر آئی۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک دونوں کے ذریعے پوری دنیا پراپنا اقتصادی ایجنڈا تھونپنے کی شکایتیں گزری دہائیوں میں خوب کی گئیں۔ برکس کا مقصد امریکہ اور یورپ کے برعکس ایک یکساں سسٹم قائم کرنا ہے جو جانبداری سے پاک ہو۔ کسی کے ایجنڈے پر چلنے پر مجبور نہ کریں۔ برکس بینک کا جو انتظامی ڈھانچہ طے ہوا ہے اس میں ایک دیش۔ ایک ووٹ سسٹم ہے۔ یعنی اس بینک سے وابستہ فیصلے میں کوئی بھی ممبر ویٹو نہیں کرپائے گا۔ مطلب یہ ہے برکس بینک کو عالمی بینک جس میں امریکہ کی بالادستی ہے اور عالمی مانیٹری فنڈ جو صرف یوروپ کے مفاد دیکھتا ہے، کے موازنہ میں زیادہ جمہوری مالیاتی ادارہ بنانے کا مقصد ہے۔ امریکہ اور یوروپ کی بالادستی کم کرنے کی مانگ تو اٹھتی رہی ہے لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ اسے برکس ممالک کی قیادت والی سمجھداری اور دور اندیشی ہی مانا جائے گا کہ انہوں نے شکایت اور مطالبات سے اوپر اٹھ کر ایک متبادل تیار کرنے کا عہد کیا۔ نتیجہ ہے کہ برکس ممالک میں ترقی کی اسکیموں کی مدد کیلئے نیو ڈولپمنٹ بینک اور مانیٹری یا مالیاتی بحران کے وقت سیدھے طور پر مدد کیلئے ہنگامی فنڈ سسٹم اب وجود میں آگیا ہے لیکن اس سلسلے میں چین اور دوسرے ملکوں کے درمیان ہوئی کھینچ تان نے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔چین لمبے عرصے تک اڑا رہا کے نئی بینک اور ایمرجنسی فنڈ میں وہ زیادہ اشتراک کرے گا جس سے ان کے نظم پر اس کی زیادہ پکڑ بن جاتی۔ بہرحال بھارت کے وزیر اعظم نریند ر مودی اور دوسرے لیڈروں کے اڑیل رویئے کے سبب چین کو یہ ماننا پڑا کہ بینک میں پانچ ممبر دیشوں کی یکساں حصے داری رہے گی لیکن آئی ایم ایف کی طرز پر بنے ایمرجنسی فنڈ میں چین کا جزوی اشتراک ہوگا یعنی 41 ارب ڈالر۔ جبکہ برازیل ،بھارت اور روس18-18 ارب ڈالر، ساؤتھ افریقہ 5 ارب ڈالر کا اشتراک کریں گے۔ برکس ڈولپمنٹ بینک کے شروع ہونے میں دو سال لگیں گے۔ برکس ملکوں میں بھارت(نریندر مودی)کے موقف کی زور دار پیروی کرتے ہوئے دہشت گردی اور اس کے ڈھانچوں اور اس کی سرگرمیوں پر سخت نندا کی گئی۔ پوٹ لیجا اعلانیہ میں زوردے کر کہا گیا ہے کہ نظریاتی ، سیاسی اور اقتصادی یا مذہبی اشو پر مبنی دہشت گردی کی کسی بھی سرگرمی کو کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ برکس چوٹی کانفرنس کے بعد جاری 17 پیج کے اعلانیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم سبھی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کو مالیاتی مدد دینے یا ان کی حوصلہ افزائی یا ٹریننگ دینے یا کسی دوسری طرح کا اشتراک کرنے میں پرہیز کریں۔ مودی نے یہ بھی یقینی کرنے کے لئے ملکوں کی اجتماعی کارروائی کی بھی اپیل کی ہے اور آتنک وادیوں کو پناہ ملے اسے بھارت کے پڑوس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اگلی برکس چوٹی کانفرنس 2015ء میں روس میں ہوگی۔ برکس ملکوں سے ابتدائی توقع تو یہی ہے کہ وہ اپنے آپسی تنازعوں کو ختم کریں مثلاً برازیل میں اٹھے ٹھوس قدم کے بعدہم کیا یہ امید نہیں کرسکتے کہ چین اور بھارت سرحدی تنازعے سمیت تمام اشوز کوحل کرنے کی سمت میں بھی آگے بڑھیں گے۔ مسٹر نریندر مودی کی یہ پہلی بین الاقوامی چوٹی کانفرنس تھی اس میں وہ بھارت کے مضبوط وزیر اعظم کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
(انل نریندر)

آتنک وادیوں کے نشانے پر شیو بھکت!

امرناتھ یاترا کی بیس کیمپ بال تال کیمپ پر جمعہ کو ہوئے جھگڑے میں 65 لوگ زخمی ہوگئے۔300 سے زائد ٹینکوں کو جلا دیا گیا اور امرناتھ یاترا کو روک دیا گیا۔ بال تال میں اجتماعی لنگر میں آگ اورجھگڑوں میں لوگ زخمی ہوگئے۔ جلی ہوئے ٹینٹ و لنگر کا سامان بکھرا ہوا اور چاروں طرف راکھ کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔اس سے تباہی میں لوگ اپنے سامان کو تلاش رہے ہیں۔ سبھی لوگوں کے چہرے پر ڈر اور مایوسی اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ ایسا نظارہ تھا کہ مانو نادرشاہ کی فوج کا قہر یہاں سے گزر گیا ہو۔ سنیچر کو بال تال کہیں سے بھی برفانی بابا کی پوتر گپھا کی طرف جانے والے شردھالوؤں کا بڑا بیس کیمپ نظر نہیںآرہا تھا۔بھیوانی کے ایک باشندے ارون کمار کا کہنا تھا کہ بھائی صاحب یہ بھگوان شنکر کی کرپا ہے اور فوج کی ہمت ہے جو ہم لوگ بچ گئے ہیں۔ میں تو اپنے کنبے کے لوگوں کو بھی گنوا چکا تھا لیکن فوجیوں نے ان کا بھی پتہ لگا لیا اور ہم سبھی کو یہاں اپنے کیمپ میں جگہ دی۔ ارون کمار کا کہنا ہے ہم لوگ تو پوتر گپھا کی طرف جانے کی دھنمیں مصروف تھے لیکن پتہ نہیں کہاں سے لوگوں کا ہجوم آگیا اور نعرے لگاتے ہوئے ان لوگوں نے ہمارے ساتھ مار پیٹ شروع کردی۔ لنگروں میں گھس گئے، ٹینٹوں میں سوئے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر پیٹنے لگے۔ ہم سبھی جان بچا کر بھاگے۔ ہمیں فوج کے جوانوں نے وہاں سے نکالا اور اپنے کیمپوں میں لے گئے۔ یہ تشفی کی بات ہے کہ بال تال میں تشدد کے بعد روکی گئی امرناتھ یاترا پھر سے شروع ہوگئی۔ شردھالو ہر ہر مہا دیو اور اوم نم شوائے کے نعرے لگاتے ہوئے آگے کی یاترا کے لئے روانہ ہوئے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ تشد دآخر بھڑکا کیوں؟ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ہر برس امرناتھ یاترا کو روکنے اور اس میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ لوگ ایسی حرکتیں کرنے کی فراق میں رہتے ہیں۔ اس تشدد کے احتجاج میں جس طرح دیش کے دوسرے حصوں ،خاص طور سے پنجاب اور جموں و کشمیر میں جھگڑا پھیلا وہ تشویش ناک ہے۔ امرناتھ یاتریوں کی سلامتی کیلئے خصوصی انتظام کئے جاتے لیکن پھر بھی ہر برس کچھ نہ کچھ نا خوشگوار واقعہ رونما ہو جاتا ہے کیونکہ امرناتھ یاترا ایک مشکل یاترا ہے اس لئے بھی یاتریوں کے سامنے بہت سی رکاوٹیں کھڑی رہتی ہیں۔ بال تال میں جس طرح بڑے پیمانے پر تشدد ہوا اس سے لگتا ہے اس کے لئے پوری تیاری کی گئی تھی لیکن یہ ابھی صاف نہیں ہے کہ یہ کس معاملے کے چلتے تشدد بھڑکا، اس کے لئے کون ذمہ داری ہے۔ اس لئے یہ ضرور پتہ لگایا جانا چاہئے آخر اس یاترامیں خلل ڈالنے والے عناصر کون ہیں؟ جس طرح سے شیو بھکتو کو نشانے پر لیا جاتا ہے وہ اچھا اشارہ نہیں ہے۔ تکلیف کی بات یہ ہے نہ تو جموں و کشمیر کی سرکار ضرورت کے حساب سے سکیورٹی قدم اٹھانا چاہتی ہیں اور نہ مقامی لوگ یاتریوں کے تئیں ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ تو تب ہے جب ان کی روٹی روزی امرناتھ یاترا سے ہی چلتی ہے۔ہمیں تو ڈر اس بات کا لگتا ہے کہ دیش بھر میں چل رہی کانوڑ یاترا کو بھی آتنک وادی فرقہ وارانہ بھائی چارہ بگاڑنے کے لئے حملہ کرسکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ویسے تو ہمیشہ کانوڑ یاترا کے دوران احتیاطی قدم اٹھائے جاتے ہیں لیکن پچھلے دنوں مغربی اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشددکی وجہ سے اس بات کے حالات تھوڑا مختلف ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو ایسی جانکاری ملی ہے کہ کانوڑ میں گڑ بڑی پھیلائی جاسکتی ہے۔ صاف ہے نارتھ انڈیا میں شیو بھکت آتنک وادیوں کے نشانے پر ہیں۔ وزارت داخلہ کو شیو بھکتوں کی حفاظت کا پختہ انتظام کرنا چاہئے۔جموں و کشمیر کی حکومت کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ نہ صرف وہ یہ پتہ لگائے کہ شرارتی عناصر کون ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت کارروائی بھی کریں۔
(انل نریندر)

20 جولائی 2014

ملیشیائی پلین روس۔ یوکرین جنگ میں نشانہ بنا!

جمعرات کو جنگ سے متاثر یوکرین میں ملیشیائی ایئرلائنس کے ایک مسافر جہاز کو مارگرانے کی بہت ہی دکھ بھری خبر آئی۔ یہ جہاز ایم ایچ۔17 پوربی یوکرین کے علاقے میں 33 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑان بھر رہا تھا۔ جہاز کو ماسکو کے وقت کے مطابق جمعرات شام 5:20 بجے روس میں داخل ہونا تھا۔ روسی سرحد سے 60 کلو میٹر پہلے ہی جہاز پرمیزائل سے حملہ ہوگیا۔واقعہ یوکرین کے دو نیتسک علاقے میں ہوا۔ اس حادثے میں جہاز میں سوار سبھی 298 لوگوں کی موت ہوگئی۔ان میں80 بچے بھی تھے۔ یوکرین کے وزیر داخلہ کا دعوی ہے کہ حملہ روسی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے کیا ہے۔حملے سے ملیشیا،روس، یوکرین سمیت کئی دیشوں میں ہڑکمپ مچ گیا۔ روسی صدر پوتن نے فوراً امریکہ کے راشٹرپتی اوبامہ کو فون لگا کر صفائی دی کہ حملے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب دہشت گردوں یا باغیوں نے کسی مسافر جہاز کونشانہ بنایا۔ ملیشیا کا یہ جہاز ایمسٹرڈم سے کوالالمپور جارہا تھا۔ روسی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے اس پر میزائل حملہ ہوگیا۔ شروعاتی جانکاری کے مطابق جہاز میں امریکہ کے 23 ، نیدرلینڈ کے 20 سے30، برٹن کے10، فرانس کے4 مسافروں سمیت 8-10 ملکوں کے شہری سوار تھے۔ واقعہ جس علاقے میں ہوا ہے وہاں یوکرین سرکار اور روسی حمایت یافتہ باغیوں میں جنگ جاری ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد یوکرین کے راشٹرپتی پیڈروپورو بونچو نے کہا کہ حملے کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے۔ یوکرین کی فوج نے میزائل نہیں داغی ہے جبکہ پوربی یوکرین کے الگاؤ وادی نیتا کا دعوی ہے کہ حملہ یوکرینی سینا نے کیا ہے۔کیونکہ جس میزائل سسٹم کی بات کی جارہی ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔جہازپر بی ۔یو۔کے میزائل لانچر سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ میزائل سسٹم صرف روس کے پاس ہے۔ روس فوجی سازو سامان یوکرین کے باغیوں کو دے رہا ہے۔ایسے میں واقعہ میں باغیوں کا ہاتھ ہونے کا پورا شک ہے۔ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ مسافر جہاز کو باغیوں نے یوکرینی ایئرفورس کا لڑاکا جہاز سمجھ لیا اور میزائل داغ دی۔ باغیوں نے ایک دن پہلے ہی یعنی بدھوار کو بھی یوکرین کے دو جیٹ مار گرائے تھے۔ چار مہینے میں ملیشیا کو دوسرا بڑا جھٹکا لگا ہے۔اس سے پہلے مارچ میں کوالالمپور سے بیجنگ جارہا ملیشیائی جہاز لاپتہ ہوگیا تھا۔ مہینوں تلاش کئے جانے کے بعد اس جہاز کا پتہ چلا اور نہ ہی اس میں سوار 240 مسافروں کا۔ آخر کار یہ مان لیا گیا کہ جہاز کہیں حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔ جہاز کا ملبہ آج تک نہیں مل پایا۔ اتفاق سے وہ جہاز بھی بوئنگ777- زمرے کا ہی تھا۔ اس درمیان ایک چونکانے والی خبر یہ آئی ہے کہ پردھان منتری نریندر مودی بھی اسی فلائٹ روٹ سے لوٹنے والے تھے جس پر ایم ایچ17- کے ساتھ حادثہ ہوا۔ ایک انگریزی اخبار میں چھپی خبر کے مطابق مودی کے فلائٹ روٹ کو اس حادثے کے بعد بدل دیا گیا۔دراصل مودی کی فلائٹ نے حادثے کے دو گھنٹے بعد جرمنی کے فرینکفرٹ سے اڑان بھری۔اگر یہ حادثہ نہیں ہوتا تو ایسی حالت میں پی ایم کا پلین اسی روٹ سے گزرتا۔ یہ ایک نہایت تکلیف دہ حادثہ ہے۔ ہم معصوممسافروں کے مرنے پر اپنا دکھ ظاہر کرتے ہیں اور انہیں اپنی شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

پھر سلگامدھیہ پورب ایریا!

مدھیہ پورب ایریا ایک بار پھر اشانت ہوگیا ہے۔اسرائیل اور فلسطین کے بیچ زبردست جنگ چھڑ گئی ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی الٹا پھیلتی ہی جارہی ہے۔ دونوں دیش ایک بار پھراس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے آگے کا راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ دراصل تازہ سنگھرش تب شروع ہوا جب فلسطینی لڑاکو نے جن کو حماس کہتے ہیں ، نے ایک حملے میں تین اسرائیلی بچوں کی جان لے لی۔ اس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی شروع کی اور وہ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ گذشتہ 10 دن میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ بدھوار کو اسرائیل کے حملے میں غزہ کے سمندری ساحل پر کھیل رہے ایک ہی خاندان کے چار بچوں کی موت ہوگئی۔ سبھی بچے 9سے11 سال کے تھے۔ ان بچوں کی موت کی فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تصویری حملے سے کچھ لمحے پہلے کی ہیں جس میں بچے کھیل رہے ہیں، تبھی راکٹ ٹھیک اسی جگہ گرتا ہے۔ اس کے بعد ریت پر پڑے بچوں کی لاشیں لے کر بھاگتے پریوار والوں کی تصویری سامنے آئیں۔ان بچوں کی لاشیں فتح موومنٹ کے پیلے جھنڈوں میں لپیٹی گئی تھیں ناکہ حماس کے ہرے جھنڈے میں۔ جس کا پیغام یہ تھا کہ حملے میں صرف حماس کے آتنکی ہی نہیں بلکہ معصوم بچے و شہری بھی مر رہے ہیں۔ 10 دن کے اندر وہاں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بے قصور شہری ہیں۔ کہنے کو غزہ میں 2012 ء سے سیز فائر کی حالت تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں راکھ کے نیچے دبی آگ کو تھوڑی سی ہوا کی ضرورت تھی۔ اسرائیل اپنا قبضہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہے اور فلسطینی اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی پہل پر ہوئے کچھ گھنٹوں کے سیز فائر میں البتہ لوگوں کو تھوڑی راحت ضرور ملی لیکن وہاں ہنسا ،تشدد روکنے کی ٹھونس پہل کی سخت ضرورت ہے۔ عام شہریوں کی مشکلیں لگاتار بڑھتی جارہی ہیں۔ ہوائی حملوں اور ناکے بندی کی وجہ سے عام آدمیوں کو روز مرہ کی ضرورت کا سامان جٹانے میں خاصی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں تک بھارت کا سوال ہے تو اسرائیل اور فلسطین دونوں سے ہی پرانے رشتے ہیں۔ اس کے علاوہ پشچمی ایشیا میں ہزاروں بھارتی رہتے ہیں اور وہ ہمارے لئے کھیل کا بھی بڑا ذریعہ ہے ایسے میں وہاں کسی بھی طرح کی استھرتانہ تو اس علاقے کے لئے اچھی ہے اور نہ ہی بھارت کے لئے۔ ظاہر ہے کہ بھارت وہاں کے حالات پر کڑی نظر رکھ رہا ہے۔ سنسد میں بھی اس مدعے کو لیکر سیاسی ٹکراؤ بنا ہوا ہے۔ 
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ کو سیاسی مدعہ بنانے کی جگہ دیش کے مفاد کو دھیان میں رکھ کر اس پر غور کیا جائے۔ کوشش تو یہ بھی ہونی چاہئے کہ اسرائیل اور فلسطین میں چھڑی اس جنگ کو روکنے کے لئے پردھان منتری نریندر مودی پہل کریں۔ ادھر جنگ کا دائرہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ اسرائیلی سینا نے فلسطینی حماس کے خلاف غزہ میں زمینی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔اسرائیلی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی چرم پنتھیوں کے راکٹ داغنے اور حماس کو مضبوط جھٹکا دینے کیلئے کی جارہی ہے جو غزہ پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)