24 فروری 2018

سارے راستے بند ، نہیں لوٹا پاؤں گاپیسہ

پی این بی اور رو ٹومیک بینک گھوٹالے پر مل رہی فیڈ بیک سے بھاجپا پریشان ہے ۔ عام لوگوں کی طرف سے مل رہے فیڈ بیک کے مطابق گھوٹالے کو لیکر بی جے پی کے دلائل پر سوال پوچھ رہے ہیں۔. رائے کے مطابق، اپوزیشن کی حالت، خاصکر کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بی جے پی اپنے زمینی ورکروں کے ذریعہ عام لوگوں کی طرف سے منفی رائے مل رہی ہے۔ بی جے پی کا اپنی صفائی میں کہنا ہے کہ یہ گھپلا یوپی اے سرکار کے وقت میں ہوئے اس سے لوگ متفق نہیں ہیں۔ لوگ لوگوں کی طرف سے سوال کھڑا کیا جا رہا ہے ۔وہ یہ ہیں کہ این ڈی اے حکومت کے وقت ہی بڑے جرائم پیشہ بیرون ملک فرار کیوں ہورہے ہیں؟ سب سے پہلے وجے مالیہ اور اب نیرومودی ۔کیا بی جے پی حکومت یہ معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے ہزاروں کروڑ روپے کا غبن کیا ہے؟ جانتے ہوئے بھی انھیں بھاگنے کا موقع کیسے ملا ہے؟ آگے بڑھنے کا راستہ مشکل ہوتا ہے پی این بی کے دھوکہ دہی کے کیس کا اثر متعلقہ بینکوں پر تقریبًا20ہزار کروڑکاپڑسکتا ہے دیش کی بینک کی تاریخ میں سب سے بڑی دھوکہ دہی کے ملزم نیرومودی نے پی این پی ؂ کو ایک خط میں کہا ہے کہ بینک نے معاملے کو عوامی بنا دیا اور اس بقایا وصولنے کے سارے راستے کو بند کر دیا. اسی وقت، مودی نے دعوی کیا ہے کہ پی این بی کا اسکی ا کمپنیوں پر بقایا بینک کی طرف سے بتائی گئی رقم سے کافی کم ہے. 15۔16 فروری کودئے گئے یک خط میں، مودی نے کہا کہ بینک کا بقایا رقم5000 ہزار کروڑ سے کم ہے، نیرومودی کے شوروم سے ضبط کئے گئے ہیرے اور زیورات کونیلام کر گھوٹالے کا پیسہ وصولنا بھی آسان نہیں ہے اس میں پانچ سے سات سال کا وقت لگ سکتا ہے. ایسے میں سرکار کے ان ہیرے اور زیورات کی حفاظت پر لاکھوں روپے الگ سے خرچ ہونگے نیرو مودی کے مقامات سے ای ڈی نے 5649 کروڑ . کے زیورات ضبط کئے ہیں. واقف کا رکے مطابق ابھی تو پی این بی ہی پوری طرح سے یہ نہیں بتا رہا ہے کہ مہول چوکسی اور نیرو مودی پر کتنا پیسہ بقایا ہے ۔ چورالٹا کوتوال کو ڈانٹ رہا ہے. نیرو مودی کہتے ہیں کہ میں اب پیسہ نہیں لوٹا ؤں گا ۔
(انل نریندر)

مایوسی میں پاکستان عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنارہاہے

گذشتہ کچھ وقت سے جموں اور کشمیر میں پاکستانی فوج اور ان کی جہادی بوکھلاہٹ میں ہمارے ملک کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں فوج کے آپریشن سے بوکھلائے دہشت گرد اپنے خوف کو برقرار رکھنے کے لئے اب ایسے آسان نشانے بنا رہے ہیں۔اور اب خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے پر اتر رہے ہیں لیفٹیننٹ جنرل راجیندر سنگھ (ریٹائرڈ) نے کہا کہ کچھ چنے گئے مقام پر حملے سے صاف ہے اب انکی کمر ٹوٹ گئی ہے۔وہ فوج کے بھاری دباؤ کی وجہ سے وہ وادی سے جا ن بچاکر بھاگ رہے ہیں۔ اور جموں میں رسائی حاصل کر رہے ہیں. حال ہی میں، سنجوان کیجس کیمپ پر حملہ کیاگیا وہ جموں شہر سے ہی لگا ہواہے اور عام طورسے حفاظت ویسی ہی رہتی ہے جیسے . دہلی کے کسی بھی فوجی علاقے میں عام طور پر سیکورٹی ہوتی ہے . یہاں ان فوجیوں کے خاندان ہیں جو وادی میں تعینات رہتے ہیں. ایسے میں دہشت گردوں کے ذریعہ آسانی سے نشانہ بنانے جانے سے صاف ہے کہ وہ بڑی سازش کے تحت داخل ہوئے تھے ۔ اس حملے کے ذریعے، وہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم کمزور نہیں ہیں. بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے حملوں کی پاکستانی حکمت عملی ایسی ہے کہ وادی جموں کے علاقے میں ایسے حالات بنانا جائے تاکہ پنچایت چناؤ نہ ہوسکیں ۔. دہشت گردی اور تشدد کا استعمال کرتے ہوئے انتخابات کو ملتوی کرنے کیلئے پاکستان کی اس چال کی وجہ پاکستانی حکمرانوں کی خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی ہے ۔وادی میں تعینات سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ پی اوکے میں وہاں کی خراب اقتصادی اور سماجی حیثیت کولیکر وہاں جنتامیں ناراضگی بڑھ رہی ہے ۔. گزشتہ مہینوں کے دوران، پاکستان کے خلاف ان کے احتجاج اور غصہ کافی سرخیوں میں آیا ۔ اس کی وجہ سے، پی او کے میں اپنی پول کھلتی دیکھ کر پاکستانی فوج اور آئی ایس کی نظر جموں کشمیر کے پنچایت چناؤ میں رکاوٹ ڈالنے پر لگی ہے ۔. حکومت کے اعلی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پی او او میں کوئی پنچایت چناؤ نہیں ہوئے ۔جبکہ جموں و کشمیر میں تین سطحی جمہوری نظام دہشت گردوں کے باوجود ماثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ پچھلے پنچایتی انتخابات میں، جموں و کشمیر میں ہوئی ر یکارڈ پولنگ وادی کے اس نظام پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے. صوبے میں پنچایت چناؤ کے کامیاب ہونے کا اثر پڑے گا ۔اور پی اوکے لوگوں پربھی اور پاک سرکار پر بھی دباؤ بڑھے گا ۔
(انل نریندر)

23 فروری 2018

آدھی رات کے وار سے چلی تکرار

دہلی میں افسر شاہی اور دہلی سرکار کے درمیان ٹکراؤ ویسے تو لمبے عرصہ سے چلاآرہا ہے مگر پیر کی درمیانی رات میں ہوئے واقعات نے مریادہ کی سبھی حدیں پار کردیں۔ سبھی کو شرمندہ کردیا۔ شروعات پیرکی شام سے ہوئی تھی۔ دہلی کے چیف سکریٹری انشو پرکاش کو وزیراعلی کیجریوال کی رہائش گاہ پر بلانے کے لئے چار بجے کال کیاگیا۔ بتایا گیا کہ کچھ اشو پر بات رنی ہے۔ رات 12 بجے انشو پرکاش وزیر اعلی کے گھر پہنچے۔ یہاں سی ایم کیجریوال سمیت 10-11 ممبر اسمبلی موجود تھے۔ انشو پرکاش کا الزام ہے کہ یہاں ان پر عاپ کے ایک اشتہار کو پاس کرانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ جب وہ منع کرکے جانے لگے تو دو ممبران اسمبلی نے انہیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہیں بٹھا دیا۔ دوبارہ اٹھے تو گال پر زور سے چانٹا مارا اور پیٹ پر بھی گھونسے مارے اور گالیاں بھی دیں۔ وہیں عاپ کے ممبران اسمبلی نے کہا کہ کوئی ہاتھا پائی نہیں کی گئی اور چیف سکریٹری کو راشن تقسیم سسٹم کو لیکر تبادلہ خیال کے لئے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے ذات پات کا بھی کوئی لفظ نہیں کہا۔ عاپ کے ممبران کا تنازع کا اشو جو بھی رہا ہو لیکن انشو پرکاش سے ہاتھاپائی اور مار پیٹ کی تصدیق ایل جی رپورٹ بھی کرتی ہے۔ چیف سکریٹری جہاں میٹنگ کا موضوع اشتہار بتا رہے ہیں وہیں سرکار ڈھائی لاکھ لوگوں کو راشن نہ ملنے کے اشو پر میٹنگ میں بات کررہے تھے۔ سرکار کے بیان کو لیکر کئی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ میٹنگ کی وجہ راشن کو لیکر تھی تو وزیر خوراک عمران حسین اور محکمہ فوڈ سپلائی کے دو افسران کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ چیف سکریٹری کے ساتھ مار پیٹ پر عاپ حکومت لگاتار صفائی دے رہی ہے۔ جنتا کو گھر گھر راشن پہنچانے کے سلسلہ میں وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر میٹنگ بلائی گئی تھی۔ عوام کو گذشتہ2 مہینے سے غلط فیصلہ لاگو کرنے سے راشن نہیں مل پارہا تھا۔ دراصل حکومت نے کام کاج کے کارناموں کا ایک اشتہار تیار کیا تھا۔ اسے سرکار کے تین سال پورے ہونے پر جاری کیا جانا تھا۔ اشتہار میں وزیر اعلی نے کہا تھا کہ تین سال کے کام کاج کے دوران بہت سی مشکلات آئیں مگر ایمانداری سے کام کرنے اور صحیح راستے پر چلنے کے چلتے انہیں کئی ناپسندیدہ اور بیہودہ طاقتوں نے روکنے کا کام کیا۔ افسر نے اسی بیہودہ لفظ کو لیکر اعتراض جتایا تھا اور اشتہار روک دیا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنس کو لیکر بھی حکام نے کچھ اعتراض جتائے تھے جب سے سرکار کے نشانہ پر چیف سکریٹری تھے۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنس کے تحت کسی بھی سرکاری اشتہار کو متعلقہ محکمہ کے سرٹیفکیٹ کے بغیر ٹیلی کاسٹ یا شائع نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے تحت اس محکمہ کو بتانا ہوگا کہ اشتہار کے لئے دیا گیا مواد جائز ہے یا آئینی نقطہ نظر سے صحیح ہے۔ محکمہ کے ذریعے اگر اشتہار کو ویریفائی نہیں کیا جاتا تو اطلاعات و پبلسٹی محکمہ اس اشتہار کو جاری نہیں کرسکتا۔ اس گائیڈ لائنس کے چلتے دہلی سرکار کے کئی اشتہار پہلے بھی رکے تھے۔ اسی کے تحت سرکار کے قائم کے تین سال پورے ہونے پر بھی کیجریوال سرکار کا ٹی وی چینلوں پرٹیلی کاسٹ ہونے والا اشتہار بھی نہیں جاری ہوسکا۔ چیف سکریٹری کے ساتھ مار پیٹ معاملہ کا اگر جلد ہی کوئی حل نہیں نکلا تو دہلی کا انتظامی کام کاج بھی ٹھپ ہوسکتا ہے۔ تشویش کا باعث یہ بھی ہے کہ بجٹ سیشن کا وقت بھی نزدیک ہے۔ 
حکام کی غیر موجودگی میں یا ان کے عد تعاون کی صورت میں اس کے بھی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ منگلوار کو دہلی کے ڈینکس افسران ہڑتال پر رہے ۔ افسران نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعلی و نائب وزیر اعلی اور دیگر وزرا سے اب محض تحریری خط و کتابت کے ذریعے سے ہی تنازعات کا نپٹارہ ہوگا۔ افسر دہلی سرکار کی کسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے انتظامی حکام کے ساتھ کیجریوال سرکار کا تنازع کوئی نیا نہیں ہے۔ کئی سینئر افسران کے ساتھ وزیر اعلی اور وزراء کے درمیان اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ تنازع کی وجہ سے کئی افسر دہلی سے باہر چلے گئے ہیں۔ اسی طرح کے تنازع کا سیدھا اثر دہلی کی ترقی پر بھی پڑتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت میں دہلی کے شہریوں کے مفاد میں نہیں ہے اور بار بار یہ کہنے سے کہ اس کے لئے مرکزی سرکار ذمہ دار ہے اپنی ذمہ داری سے یہ بچنے کی کوشش ہے۔ آخر کانگریس کی اس وقت کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے بھی 15 سال اسی افسر شاہی کے ساتھ دہلی کو چلایا اور ترقی کا کام کیا۔ عام آدمی پارٹی کو ہر اشو پر ٹکراؤ کرنے کے بجائے تھوڑی سمجھداری سے کام لینا چاہئے۔ انہیں آخر دہلی کے وکاس کے لئے زبردست اکثریت ملی تھی نہ کے حکام سے بیوجہ تنازع پیدا کرنے کے لئے۔
(انل نریندر)

22 فروری 2018

بینک گھوٹالہ۔2 پین کنگ نے لگائی 37 ارب کی چپت

سرکاری بینکوں میں نہ جانے کتنے گھوٹالہ ہوئے ہیں آہستہ آہستہ ان گھوٹالوں کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ نیرو مودی کے گھوٹالہ کے فوراً بعد ایک اور گھوٹالہ کا پتہ چلا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک مہا گھوٹالہ کے بعد پیر کو سی بی آئی نے پین کنگ اور روٹومیک کمپنی کے ڈائریکٹر وکرم کوٹھاری کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ کوٹھاری اور بیوی بیٹے پر بینک آف بڑودہ سمیت 7 بینکوں کو 3695 کروڑ روپے کی چپت لگانے کا الزام ہے۔ روٹومیک گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر وکرم کوٹھاری نے بینک آف بڑودہ ، بینک آف انڈیا، بینک آف مہاراشٹر، انڈین اوورسیز بینک ، الہ آباد بینک، اورینٹل بینک آف کومرس اور یونین بینک آف انڈیا سے 2929 کروڑ روپے کا قرض لیا۔ یہ رقم سود سمیت 3695 کروڑ روپے ہوگئی۔ کمپنی نے بینک کا نہ تو قرض واپس کیا اور نہ ہی اس پر لگے سود کی ادائیگی کی۔ کوٹھاری کو انڈسٹریل قرضہ دلانے کے لئے 2007-08 میں سات بینکوں کا گروپ بنایا گیا تھا اس میں بینک آف انڈیا کے چیف (کنسورٹیم لیڈر) بنایا گیا۔ بینکوں کی رضامندی پر کوٹھاری کو 2129 کروڑ روپے کا قرض دینا طے ہوا۔ کچھ برسوں کے بعد حد بڑھ کر 2919 کروڑ ہوگئی۔ سود اور اصل رقم نہ چکانے اور کنسورٹیم لیڈر کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے پر گمری نمبر پانچ میں واقع بینک آف بڑودہ کے ڈی جی ایم برجیش کمار سنگھ نے 18 فروری کو کوٹھاری کے خلاف جعلسازی کی شکایت کی۔ بینکوں سے لئے گئے قرض کے قصے عام ہونے کے بعد سرخیوں میں آئے وکرم کوٹھاری اور والد کے خاندان کی جدوجہد کی کہانی لمبی ہے۔ وکرم کے پتا کبھی کانپور میں سائیکل چلا کر پان مسالہ بیچا کرتے تھے اور آہستہ آہستہ پان پراگ چھاگیا۔ کوٹھاری گروپ کا کاروبار شباب پر پہنچ گیا تو بٹوارہ ہوگیا۔70 کی دہائی کے آغاز میں پانچ روپے کے 100 گروپ کے پانچ مسالہ نے دھوم مچادی تھی۔ پان پراگ نے خلیج کے ممالک امریکہ۔ یوروپ تک اپنی پہنچ بنالی۔ گروپ کو بلندی پر پہنچایا پان مسالہ کے بعد روٹومیک پین اور یس منرل واٹر لانچ کیا ،جو کامیاب رہے۔ سال2000 میں گروپ میں بٹوارہ ہوگیا۔ والد منسکھ بیٹے وکرم سے الگ ہوکر چھوٹے بیٹے دیپک کے ساتھ چلے گئے۔ 1200 کروڑ روپے کا بٹوارہ ہوا۔ وکرم کو الگ کرنے کے لئے 750 کروڑ روپے نقد دئے گئے۔وکرم نے روٹومیک سے الگ ہونے سے انکار کردیا۔ پہچان جو بھی ہو پروڈیکٹ لانچ کئے اور فیل ہوگئے۔ وکرم کوٹھاری کہتے ہیں کہ وہ یقیناًپورا قرض چکتا کریں گے بھاگیں گے نہیں۔ سی بی آئی نے ایک ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ اس کے مطابق وکرم کوٹھاری نے دو طریقوں سے بینکوں کو چونا لگایا۔ اس نے بیرون ملک سے برآمد کے لئے بینکوں سے ایڈوانس قرضہ لیا۔ اصل میں کمپنی بیرون ملک سے کچھ درآمدات نہیں کرتی تھی بعد میں یہ پیسہ روٹومیک کمپنی سے واپس آجاتا تھا۔ دوسری طرف ایکسپورٹ دکھا کر بینکوں سے قرضہ لیا جاتا تھا لیکن ایکسپورٹ کرنے کے بجائے کمپنی پیسے کو دوسری کمپنی میں ٹرانسفر کردیتی تھی۔ یہ سلسلہ 2008 سے جاری تھا بھارت اور دوسرے ممالک میں سود کے فرق کی بنیاد پر سرمایہ لگا کر کمائی کی جاتی تھی۔ وکرم کوٹھاری کے وکیل شبد کمار برلا کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قطعی جعلسازی کا نہیں ہے، صرف قرض کا معاملہ ہے۔ بینکوں سے قرض لیا گیا تھا جسے چکایا نہیں جاسکا۔ اس قرض کو چکانے کی کارروائی جاری ہے۔ اس گھوٹالہ میں بھی بینکوں کے کچھ افسران کی ملی بھگت رہی ہوگی۔ پتہ نہیں اور کتنے بینک گھوٹالہ ہوئے ہیں؟ ان کا آہستہ آہستہ پردہ فاش ہورہا ہے۔
(انل نریندر)

یہ ہے ہزاروں کروڑ لوٹنے والے نیرو مودی

دیش کے دوسرے سب سے بڑے قومی بینک پنجاب نیشنل بینک میں ہوئے 11400 کروڑ کے گھوٹالہ میں بنیادی ملزم کے طور پر جس شخص نیرو مودی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کا براہ راست کنبہ جاتی رشتہ صنعت کار مکیش امبانی سے ہے اور پردھان منتری نریندر مودی کے دورۂ داؤس میں گئے کاروباریوں کے سرکاری نمائندہ وفد میں شامل تھے۔ اتنا ہی نہیں اس شخص کی نیویارک میں ہیری کے پہلی دوکان کھلنے پر اس کا افتتاح کرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آچکے ہیں۔ اس کے بھائی کی مکیش امبانی کی بھانجی کے ساتھ شادی کی پریویڈنگ پارٹی مکیش امبانی خود اپنے گھر دے چکے ہیں۔ جہاں ساری بالی ووڈ ہستیاں پہنچی تھیں جسے ڈائمنڈ کے بزنس میں نہیں اترنا تھا وہ نیرو مودی جب اس بزنس میں قدم رکھتا ہے تو پچھلے سال 100 سالہ تاریخ میں ایسا ہندوستانی جیولر بن جاتا ہے جس کے ایک ڈائمنڈ ہار کے لئے بین الاقوامی امبیشز ایجنسی کرسٹیس بولی لگواتی ہے۔ بالی ووڈ سے ہالی ووڈ تک کے ستاروں میں برانڈ نیرو مودی مشہور ہوجاتے ہیں۔ 48 سالہ نیرو مودی کا تعلق بلجیم کے شہر انٹرو میں ہیرا کاروبار کرنے والے خاندان سے ہے۔ کاروباری ماحول میں پلے بڑھے نیرو نے فائننس کی پڑھائی کی اور فیل ہوگئے۔ آخرکار ہیرے کے کاروبار میں اترپڑے۔ نیرو مودی آج کل آخر ہیں کہاں؟ رپورٹ کے مطابق نیرو اس وقت دیش میں نہیں ہیں۔ یہ ہیرا کاروباری آج کل سوئٹزرلینڈ میں بتایا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ بینک حکام سے رابطہ میں ہے۔ ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا کہ نیرومودی اس سال کے شروع میں ہیں دیش چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ان کی بیوی امریکی شہری ہے وہ بھی 6 جنوری کو بھارت چھوڑ گئی۔ نیرو کا ماما میہل چیکسی نے 4 جنوری کو دیش چھوڑا۔ نیرو مودی کے بھائی نشچل مودی بلجیم کا شہری ہے اور انہوں نے بھی 1 جنوری کو بھارت چھوڑدیا تھا۔ سی بی آئی نے سبھی ملزمان کے خلاف 31 جنوری کو لک آؤٹ سرکولر جاری کردیا تھا۔ اس درمیان نیرو کی کمپنی کی برانڈ امبیسڈر رہی بالی ووڈ اداکارہ پرینکا چوپڑہ کی طرف سے بیان آیا ہے کہ اب تک انہوں نے نیرو مودی کے خلاف کوئی کیس نہیں درج کرایا لیکن یہ ان کی کمپنی سے ناطہ توڑنے کے لئے قانونی صلاح لے رہی ہیں۔ نیرو کی ڈائمنڈ کمپنی کے برانڈ امبیسڈر کے طور پر پرینکا کے ہورڈنکس پورے ممبئی میں لگے۔ پرینکا کی ماں مدھو چوپڑہ نے کہا کہ اس واقعہ سے وہ بہت حیران ہیں کہ پرینکا کے ساتھ ٹھگی کی گئی ہے۔
(انل نریندر)

21 فروری 2018

ہرچار گھنٹے میں بینک ملازم دھوکہ دھڑی میں لگا

بھارت کا بینکنگ سیکٹر اس رفتار سے جلد دیوالیہ ہوجائے گا جس رفتار سے سرکاری بینکوں میں گھوٹالہ بڑھ رہے ہیں۔ اطلاعات حق کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جو معلومات دستیاب کرائی گئی ہے وہ چونکانے والی ہے۔ آر بی آئی کے مطابق سال2012-13 سے ستمبر 2017 تک پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں نے آپسی سمجھوتہ سمیت انکلوڈنگ کمپرومائز کے ذریعے کل 367765 کروڑروپے کی رقم معاف کی ہے۔ اس میں سے 27 پبلک سیکٹرکے بینک ہیں وہیں 22 پرائیویٹ سیکٹر کے بینک ہیں جنہوں نے یہ رقم رائٹ آف کی ہے۔ دیش کی معیشت کی حالت ویسے بھی اچھی نہیں چل رہی ہے اوپر سے بینکوں میں بڑھتا جارہا خسارہ تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے۔ سرکار پوری کوشش کررہی ہے کہ سسٹم کو سنبھالنے میں سرکار کا کوئی مثبت اثر دکھائی نہیں دے پارہا ہے۔ ابھی حال ہی میں دو بڑے گھوٹالہ سامنے آئے ہیں جس سے پورا دیش حل گیا ہے۔ حکمراں فریق اور اپوزیشن ایک دوسرے پرالزام تراشیاں کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے میں آر بی آئی کی یہ رپورٹ بڑی تشویشناک ہے۔ آر بی آئی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے بینک کے کرمچاری گھوٹالہ میں ملوث ہوتے ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے ہر چار گھنٹے میں بینک کا ایک کرمچاری دھوکہ دھڑی جیسے معاملوں میں پکڑا جاتا ہے۔ ریزرو بینک کے تیارکردہ ایک ڈاٹا کے مطابق دیش میں ہرچار گھنٹے میں ایک بینکر جعلسازی کے کیس میں پکڑا جاتا ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے۔ پی این بی میں ہوئی جعلسازی نے سب کو چونکا دیا ہے۔ہیرو کے کاروباری نیرو مودی نے بینکوں کو 11400 کروڑروپے کی چپت لگائی ہے مگر آر بی آئی کے اعدادو شمار ے مطابق اس طرح کے دھوکہ دھڑی کے معاملہ ہندوستانی بینکنگ سیکٹر کے لئے نئے نہیں ہیں۔ آر بی آئی ے مطابق پچھلے پانچ برسوں میں بینکوں میں 8670 دھوکہ دھڑی کے معاملہ سامنے آئے ہیں اور اس سے بینک کو اب تک61260 کروڑ روپے کی چپت لگ چکی ہے۔ آر بی آئی کے دئے اعدادو شمار میں اس کا خلاصہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے پچھلے 11 سالوں میں 2 کروڑ 60 لاکھ روپے بینکوں کو دئے ہیں۔یہ سلسلہ آخر کب تک چلتا رہے گا؟ کہیں تو اس پر روک لگنی چاہئے۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ نیرو مودی جیسے چالاک گھوٹالہ بازوں نے آخر کتنا پیسہ لوٹا ہے۔ کانگریس پارٹی نے مودی سرکار سے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں بینکوں کی حالت پر وائٹ پیپر لانے کی مانگ کی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ ریزرو بینک کے ذریعے جاری اعدادو شمار چونکانے والے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں 61360 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی ہوئی ہے۔ ان پانچ برسوں میں سے چار برس این ڈی اے سرکار کے عہد کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مانگ کرتی ہے کہ مودی سرکار بینکوں کی حالت پر پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں وائٹ پیپر لے کر آئے جس سے پوزیشن صاف ہوسکے۔ سبھی بینک یہ بتائیں کہ ان کے یہاں کتنی دھوکہ دھڑی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ اس بینک دھوکہ دھڑی کو نوٹ بندی کے دوران بڑھاوا ملا ہے۔ یہ بہت بڑے گھوٹالہ کا صرف ایک پوائنٹ ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ پی ایم مودی اور وزیر خزانہ کو اس گھوٹالہ پر خاموشی توڑنی چاہئے۔ وہیں بہن جی مایاوتی نے کہا کہ نہ کھائیں گے نہ کھانے دیں گے کی یقین دہانی کا کیا ہوا؟ اتنا بڑا گھوٹالہ ہوا اور سرکار سوتی رہی۔ دیش یہ جاننا چاہتا ہے پبلک سیکٹر بینکوں کی مالی صحت آخر کیسی ہے؟ ان بینکوں میں بڑھتے گھوٹالوں کو کیسے روکا جائے گا یہ دیش جاننا چاہتا ہے۔
(انل نریندر)

ممبران اسمبلی و ایم پیز کو بتانا ہوگا کیسے بنایا اثاثہ

سپریم کورٹ نے چناؤ جیت کر بے تحاشہ اثاثہ اکٹھا کرنے والے ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی پر لگام کسنے کے لئے جمعہ کو اہم ترین فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا چناؤ لڑنے والے سبھی امیدواروں کو اب خود بیوی اور اس کے رشتے داروں کی پراپرٹی کے ساتھ اپنی آمدنی کا ذرائع بھی بتانا ہوگا۔ جسٹس چیلمیشور کی بنچ سے آیا یہ اہم فیصلہ غیر سرکاری تنظیم لوک پرہیری کی عرضی پر مبنی ہے جس کی تشویش تھی کہ ممبران اسمبلی اور ایم پی بننے کے بعد عوام کے نمائندوں کی آمدنی کیسے کئی گنا بڑھ جاتی ہے؟ یہ حکم ایسے وقت آیا ہے جب کچھ ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کی پراپرٹی میں بے تحاشہ اضافہ کے چلتے ان کی جانچ ہورہی ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے پیسے بانٹ کر چناؤ جیتنے کا ٹرینڈ بڑھتا جارہا ہے۔ یقینی طور سے ممبران اسمبلی یا ممبران پارلیمنٹ بننے سے پہلے اور بعد میں کسی سیاستداں کی آمدنی کا موازنہ ہونا چاہئے اور کوئی پیمانہ بھی مقرر کیا جانا چاہئے۔ آمدنی میں کتنا فیصدی اضافہ مناسب ہے۔ عرضی میں شامل ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ لوک سبھا میں چار ممبران پارلیمنٹ کی آمدنی میں 12 گنا اور 22 کی آمدنی میں 5 گا اضافہ ہوا ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو دیش کے سب سے امیر وزیر اعلی ہیں۔ ان کا کل اثاثہ 177 کروڑ روپے کا ہے جبکہ منک سرکار محض 26 لاکھ کے اثاثہ کے ساتھ دیش کے سب سے غیر وزیر اعلی ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت عوام کے نمائندوں کو نہ صرف اپنی آمدنی کے ذرائع بتانے ہوں گے بلکہ اپنی بیوی، بیٹا ،بہو، بیٹی ، داماد کی آمدنی سمیت ان کے ذرائع بھی اعلان کرنے ہوں گے۔ چناؤ اصلاحات کارروائی میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اہم ترین قدم ہے۔ لوک پرہیری نے اپنی عرضی میں بتایا تھا کہ 26 لوک سبھا و11 راجیہ سبھا ایم پی اور 267 ایم ایل اے کی پراپرٹی میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بعد جانچ شروع ہوئی۔ سی بی ڈی ٹی نے بھی سپریم کورٹ کو بتایا تھا شروعاتی جانچ میں 7 ممبران اور 98 ایم ایل اے کی پراپرٹی میں بے تحاشہ اضافہ کی بات سامنے آئی ہے ۔ یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ چناؤاصلاحات کے لئے سرگرم تنظیموں کی عرضی پر سپریم کورٹ نے ایک ایسا حکم دیا جو چناؤ اصلاحات کی کارروائی کو آگے بڑھانے میں معاون بنے گا۔ سپریم کورٹ نے بالکل صحیح کہا کہ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے ذریعے اثاثہ کی جمع خوری پر روک نہیں لگائی گئی تو یہ دیشجمہوریت کی تباہی کی طرف بڑھے گا اور اس سے مافیہ کا راستہ کھل جائے گا۔
(انل نریندر)

20 فروری 2018

کیا نارتھ ایسٹ کے ان راجیوں میں کمل کھلے گا

نارتھ ایسٹ کے تریپورہ میں 18 فروری کو میگھالیہ اور ناگالینڈ میں 27 فروری کو ووٹ ڈالیں جائیں گے۔ بھاجپا پہلی بار ان تین ریاستوں میں پورے دم خم کے ساتھ چناؤ لڑ رہی ہے۔ وہ ان تین ریاستوں میں پہلی بار حکمراں پارٹی کو سیدھی چنوتی دے رہی ہے وہیں کانگریس یہاں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ کانگریس کی تشویش کی اہم وجہ یہاں اس کا کھسکتا مینڈیٹ ہے اور وہاں بھاجپا کی جارحانہ چناوی کمپین نے بھی پارٹی کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نارتھ ایسٹ کسی وقت کانگریس کا اچھا گڑھ مانا جاتا تھا لیکن مرکز میں مودی سرکار آنے کے بعد اس کی پکڑ لگاتار کمزور ہورہی ہے۔ مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے ایجنڈے میں نارتھ ایسٹ پہلی ترجیح ہے۔ مودی سرکار نے نارتھ ایسٹ کی ترقی کو لیکر ایک کے بعد ایک کئی فیصلے لئے جس کے چلتے کانگریس کے ہاتھ سے اس کی زمین کھسکتی چلی گئی۔ پہلے آسام بعد میں منی پور ،ناگالینڈ میں جہاں 2003 سے پہلے کانگریس کا دبدبہ ہوا کرتا تھا وہاں اس بار چناؤ میں اسے امیدواروں کی قلت پڑ گئی۔ پارٹی نے کل23 امیدوار اتارے ہیں جس میں سے محض 19 ہی میدان میں رہ گئے۔ میگھالیہ میں اس بار اہم مقابلہ بھاجپا ۔ کانگریس کے درمیان ہے۔ ریاست میں ہر چناؤ میں آزاد بڑی تعداد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ پچھلی بار 13 امیدوار جیتے تھے۔ یہاں 372 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 22 خواتین ہیں۔ ریاست کے قریب 75 فیصد ووٹر عیسائی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھاجپا ریاست کی 47 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ باقی13 سیٹیں علاقائی پارٹیوں کو دے رکھی ہیں۔ ناگالیڈ کی59 نشستوں پر 27 کو ووٹ پڑنے ہیں ان پر195 امیدوار کھڑے ہوئے ہیں۔ ان میں 5خاتون ہیں۔ بھاجپا نے چناؤ سے ٹھیک پہلے این پی ایف سے 15 سال پرانا ناطہ توڑ کر این ڈی پی پی سے اتحادکیا ہے۔ این ڈی پی پی 40 اور بھاجپا 20 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ این پی ایف 59 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ پانچ دہائیوں سے تریپورہ کے اقتدار پر قابض لیفٹ پارٹیوں کی حکومتیں تھیں اس بار پٹخنی دینے کا بھاجپا کو پکا بھروسہ ہے۔ ریاست میں اب تک کھاتہ کھولنے میں بھی ناکام رہی بھاجپا اس بار چناؤ میں’چلو پلٹ دیں سرکار ‘ کے نعرہ کے ساتھ پسینہ بہا رہی ہے۔ یہاں بھاجپا کی سب سے بڑی چنوتی ہے مکھیہ منتری منک سرکار ی شخصی ساکھ۔ منک سرکار1988 سے ریاست کے وزیر اعلی ہیں۔ ان کے پاس 1520 روپے محض نقدی ہیں اور 2410 روپے بینک میں ہیں۔ سی ایم کی تنخواہ کے طور پر انہیں 25000 روپے ملتے ہیں لیکن وہ یہ رقم مارکسوادی پارٹی کے قاعدوں و ضوابط کے تحت پارٹی کو دے دیتے ہیں۔ اس میں سے انہیں 9000 روپے بطور بھتہ ملتے ہیں۔ منک کے پاس نہ تو خود کا موبائل ہے اور نہ گھر ہے اور نہ کار ہے۔ وہ سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرتے۔ منک سرکار کو تریپورہ کی جنتا اپنا آدرش مانتی ہے۔ منک سرکار دیش کے سب سے غریب ترین وزیر اعلی بھی ہیں۔ وزیر اعلی بننے کے بعد ان کی ذاتی پراپرٹی مسلسل کم ہوئی ہے۔ نارتھ ایسٹ کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں تریپورہ کی سیاست تھوڑی الگ ہے۔ یہاں سی ایم منک سرکار کی صاف ستھری ساکھ کی وجہ سے سرکاری یوجناؤں کا فائدہ ہر پنچایت تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ مارکسوادی پارٹی کی تنظیم ہر گاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔ سرکاری اسکیموں کی کوالٹی کی جانچ پنچایت سطح کے عہدیداران کے ہاتھوں میں ہے۔ ہر مہینے اسکیموں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پانچ دہائیوں سے تریپورہ کے اقتدار پر قابض لیفٹ حکومت کو اس بار پٹخنی دینے کا بھاجپا کو پکا بھروسہ ہے۔ ریاست میں زبردست بے روزگاری سے خاص طور سے نوجوان طبقہ میں بیحد ناراضگی ہے اس کا سیدھا فائدہ بھاجپا کومل سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ نے چناؤ جیتنے کے لئے پوری طاقت جھونک رکھی ہے۔ دیکھیں نارتھ ایسٹ میں بھاجپا کتنی کامیاب ہوتی ہے؟
(انل نریندر)

راتوں رات کروڑوں لوگوں کی دھڑکن بنی پریہ

آنکھوں سے تیر چلا کر پریمی کو زخمی کرنے والی ملیالی فلم کی اداکارہ پریہ پرکاش راتوں رات نیشنل کرش بن چکی ہیں۔ وہیں بدھوار کو ایک ٹیزر کے ساتھ ان کا انٹرویو سوشل میڈیا پر چھایہ رہا۔ لوگ یوٹیوب پر سرچ کر انٹرویو کو شیئرکررہے ہیں۔ انہیں 19909800 یوزرس نے فالو کیا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، واٹ ایپ سے لیکر انٹرکام تک صرف پریہ ہی پریہ ہے۔ پریہ کے ٹیلر یوٹیوب پر دھڑلے سے دیکھے جارہے ہیں۔ چار دن میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ رائے مل چکی ہیں۔دوسری طرف راتوں رات سوشل میڈیا پر چھا جانا ملیالم فلم کی اداکارہ پریہ پرکاش کے کیریئر میں مشکلیں کھڑی کر رہا ہے۔ پریہ کا کہنا ہے کہ میرا گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ ماں باپ پریہ کی حفاظت کو لیکر فکر مند ہوگئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں پریہ نے کہا کہ میری مقبولیت میں زندگی میں بہت کچھ بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا میں بہت خوش ہوں لیکن اوپر ذمہ داری آگئی ہے۔ پریہ نے بتایا آئی برو اٹھانے والا سین اور آنکھ مارنے والا سین ایک ہی ٹیک میں لیا گیا۔ ڈائریکٹر نے انہیں کہا کہ کچھ اوریجنل کرو۔ سوشل میڈیا پر اپنی ایک فلم کی کلیپنگ ڈال کر راتوں رات کروڑوں نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن چیں ملیالی اداکارہ پریہ پرکاش کے گانے پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا بھی الزام لگ گیا ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔ حیدر آباد کے کاروباری ظہیر علی خاں و دیگر لوگوں نے فلک نما تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے جس میں ظہیرخاں نے فلم میں سے یا تو گانے کو ہٹانے یا اس کے قابل اعتراض الفاظ کو بدلیں‘ یہ ہے شکایت فلم ’اوروادرلو‘ میں منکم ملارایا پوری گانے سے مسلم فرقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ الزام ہے اس میں پیغمبر ؐ کی اہلیہ صاحبہ کو لیکر قابل اعتراض تبصرہ کئے گئے ہیں۔ ہدایت کار عمر لولو نے کہا فلم کے گانے میں کوئی قابل اعتراض لفظ نہیں ہے اور کیرل مے مسلمان چار دہائی سے یہ گیت گا رہے ہیں۔ سی این جبار کے ذریعے لکھا گیاگانا نارتھ کیرل کے مالابار علاقہ میں شادیوں اور تقریبوں میں گایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی قابل اعتراض مواد ہوتا تو 1978 سے مسلمان اسے کیوں گاتے؟ ہم نے اس کا صرف سنگیت بدلا ہے بول نہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر پریہ کو پرپوز کرنے والوں کی کمی نہیں تھی انہوں نے کہا انہیں بہت سے لڑکوں نے پرپوزل بھیجا ہے۔ اتنے پیغام آئے ہیں ابھی تک وہ کھل بھی نہیں سکے۔
(انل نریندر)

18 فروری 2018

اس گھوٹالہ نے تو بینکنگ سسٹم کی ہی چولیں ہلادیں

بینکوں کو چونا لگاکر بیرون ملک بھاگنے وجے مالیا جیسے ہی ایک اور بڑے معاملہ میں جمعرات کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ نے کئی جگہ پر چھاپہ ماری کی اور اہم ملزم ارب پتی ہیرا کاروباری نیرو مودی کے ممبئی ۔سورت اور دہلی سمیت 17 جگہوں پر چھاپہ مار کر 5700 کروڑ روپے کا اثاثہ ضبط کیا ہے۔ نیرو مودی پر پنجاب نیشنل بینک کی ممبئی میں صرف ایک برانچ سے 11400 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کا الزام ہے۔ اسے دیش کے بینکنگ سیکٹر کی سب سے بڑی جعلسازی کہا جارہا ہے۔ پی این بی میں سامنے آئے اس 11400 کروڑ روپے کے دیش کے سب سے بڑے بینک گھوٹالہ سے پورے بینکنگ نظام کی چولیں ہل گئی ہیں جو کہ پہلے سے ہی پھنسے قرض اور بدانتظامی سے لڑ رہی ہے۔ پی این بی کا انتظامیہ بھلے ہی صفائی دے رہا ہے کہ یہ گڑ بڑی 2011 سے چل رہی تھی اور اس نے اپنے کچھ ملازمین پر کارروائی بھی کی تھی لیکن اس گھوٹالہ سے وابستہ بہت سے سوالوں کا جواب ملنا باقی ہے۔ قریب 11400 کروڑ روپے اتنی بڑی رقم ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے پی این بی کی قیمت شیئر بازار کے حساب سے قریب 30 ہزار کروڑ روپے کی ہے یعنی کل قیمت کے قریب ایک تہائی قیمت کی ذمہ داری اس گھوٹالہ کی وجہ سے پیدا ہوئے اس بینک کو حال میں جتنا نیا سرمایہ سرکار سے ملا تھا اس سرمائے کا قریب دو گنا رقم اس گھوٹالہ میں اڑنے کا اندیشہ ہے۔ موٹے طور پر اس گھوٹالے کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ پی این بی سے قریب 11400 کروڑ کی ادائیگی ایسی گارنٹی گلوبل اداروں کو دی گئی جس کے بارے میں بینک کا کہنا ہے کہ وہ گارنٹی ناجائز تھی یعنی بینک میں سینئر مینجمنٹ کو نہیں پتہ لیکن کسی جونیئر افسر نے پی این بی کی طرف سے ایسی گارنٹی دے دی۔ اگرچہ گھوٹالہ سے جڑے سوالوں کا جواب ابھی نہیں ملے لیکن اگر گھوٹالہ کے بارے میں پہلے سے ہی کسی طرح کی بھنک مل گئی ہوتی تو جوہری نیرومودی اور ان کے ساتھی اس طرح سے فرضی گارنٹی کے ذریعے دو درجن بینکوں کی غیر ملکی شاخوں کے لئے قرض دبائے بیٹھے رہے؟ یہ بھی بات گلے نہیں اترتی کہ پی این بی کے صرف دو افسروں نے سوئپٹ میسیجنگ سسٹم کے ذریعے پیغام بھیج کر نیرو مودی اور ان کے ساتھیوں کی زیوراتی کمپنیوں کے لئے غیر ممالک میں قرض کا اضافہ کردیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بینک عام گراہکوں کو چھوٹا موٹا قرض دینے کے لئے بھی درجنوں چکر لگواتے ہیں۔ کئی طرح کی خانہ پوریاں اور گارنٹی وغیرہ مانگتے ہیں لیکن ایک جوہری کو ہزاروں کروڑ روپے کا قرض دینے کے لئے فرضی گارنٹی دی جائے اور بینک انتظامیہ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور وزارت مالیہ اور دیگر مالیاتی اداروں کو اس کی بھنک تک نہ لگے، یہ کیسے ممکن ہوگیا؟ وجے مالیا کا معاملہ تو ابھی پرانا بھی نہیں ہوا اس کے باوجود پبلک سیکٹر کے بینکوں نے نہ تو اپنی نگرانی مشینری کو اور نہ ہی جوابدہی کو مضبوط کیا۔ہر کسی کے دل میں پہلا سوال یہ ہی آتا ہے جب دو چار لاکھ کا قرض دینے میں سرکاری بینک پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں تو قریب 114 ارب روپے کا گھوٹالہ کیسے ہوگیا؟ نیرو مودی کی گنتی بھارت کے 50 سب سے امیر ترین اشخاص میں ہوتی ہے۔ فوربیس میگزین نے 2016 میں انہیں ارب پتیوں کی فہرست میں بھارت میں 46ویں اور دنیا میں 1067 ویں مقام پر بتایا تھا لیکن اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ ان کے اس کارنامہ اور شہرت کے پیچھے دھوکہ دھڑی اور لوٹ کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہوگا۔ کیا اس طرح کا طریقہ اپنانے والے نیرو مودی ایک ڈھونگی ہیں؟ یہ گھوٹالہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے ریزرو بینک نے این پی اے کی بابت اور سختی دکھاتے ہوئے سرکاری بینکوں کو ہدایت جاری کی کہ وہ پھنسے ہوئے قرض کے معاملہ میں 1 مارچ سے 6 مہینے کے اندر سلجھالیں۔ بغیر ادائیگی والے 5 کروڑ روپے سے زیادہ کے کھاتوں کی تفصیل ہر ہفتہ دینی ہوگی۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر پنجاب نیشنل بینک طے قواعد کے مطابق کام کررہا ہوتا اور اسکی نگرانی مشینری چوکس ہوتی تو نیرو مودی بینک کو کھوکھلا کرنے کا کام نہیں کرسکتا تھا۔ کیا یہ عجب نہیں کہ نیرو مودی کے گورکھ دھندے کی شروعات 2011 میں ہوئی لیکن اسے قریب 7 سال کے بعد ہی پکڑا جاسکا۔آخر پنجاب نیشنل بینک نے وقت رہتے اس کی پرواہ کیوں نہیں کی۔ نیرو مودی سینکڑوں کروڑ کی رقم ادھار لئے جارہا ہے اور اسے چونکانے کا نام نہیں لے رہا ہے؟ یہ ایک پیٹنٹ بن گیا ہے کہ بڑا گھوٹالہ کروں اور وجے مالیہ کی طرح دیش سے باہر نکل جاؤ۔ غور طلب ہے کہ پی این بی سرکاری بینک ہے اس میں سیاسی مفادات نہیں ہیں اس لئے گھوٹالہ کی خبر آتے ہی یہ صاف ہوگیا ہے کہ یہ گھوٹالہ 2011 سے یعنی موجودہ سرکار کے2014 میں آنے سے پہلے ہی سے جاری ہے۔ سیاسی بحث اپنی جگہ ہے لیکن اشو اتنے بڑے ہیں بینک کو سرکارڈوبنے نہیں دے گی۔ اس میں اور سرمایہ ڈالا جائے گا۔ یہ سرمایہ ظاہر ہے آپ ہم ٹیکس دہندگان کی جیب سے جانے والا ہے۔ نیرو مودی اور ان کے ساتھیوں پر کارروائی کرنے کے ساتھ پی این بی کے لاکھوں چھوٹے کھاتے داروں کے مفادات محفوظ رہیں یہ یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے ورنہ بینکنگ سسٹم سے ہی ان کا بھروسہ اٹھ جائے گا؟
(انل نریندر)

دہلی کو دہلانے والی یہ جرائم پیشہ خاتون

ایک وقت تھا جب چوری کرنے میں مرد آگے ہوا کرتے تھے لیکن وقت بدل گیا ہے اب چوری کرنے میں عورتیں بھی پیچھے نہیں رہیں۔ راجدھانی دہلی میں خاتون جرائم پیشہ کی فوج تیار ہورہی ہے۔ مردوں کے بھیس میں موبائل چوری کرنے والی 32 سالہ عورت ، قتل کا ٹھیکہ لینے والی 8 بچوں کی ماں اور سب سے بڑا جسم فروشی کا ریکٹ چلانے والی 35 سالہ خاتون دہلی کی نامی جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جو گاڈ مدر کے رول میں ہیں اور مردوں کے ساتھ مل کر گروہ چلاتی ہیں۔ دہلی میں انتہائی مطلوب 62 سالہ خاتون بشیرن 8 بچوں کی ماں ہے جو پچھلے ایک مہینے سے فرار ہے۔ بشیرن پر وصولی، ڈکیتی اور ناجائز طور سے شراب بیچنے کے معاملہ درج ہیں۔ اس کے 6 لڑکے ہیں جس میں ایک نابالغ ہے ان پر 99 مجرمانہ مقدمہ درج ہیں جن میں قتل ،ڈکیتی، وصولی، چوری اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ جیل سے باہر آنے کے بعد اگلے ہی دن بشیرن نے منی بیگم نام کی ایک خاتون سے 60ہزار روپے میں ایک لڑکے کے قتل کی سپاری لے لی تھی۔ پولیس کو سنگم وہار کے جنگل میں ایک جلی ہوئی لاش ملی تھی۔ بشیرن اصلاً راجستھان سے تعلق رکھتی ہے۔38 سال کی سونو پنجابن کو 24 دسمبر 2017 کو جسم فروشی کا ریکٹ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سونو بنیادی طور پر روہتک کی باشندہ ہے۔ وہ پہلے کئی بار گرفتار ہوچکی ہے۔ 13 سال کی لڑکی نے اس پر الزام لگایا تھا اسے مارا پیٹا گیا اور جسم فروشی کے دھندے میں جھونکنے کی کوشش کی۔ 2011 میں اسے مکوکا کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ سونو کا پہلا شوہر گینگسٹر تھا جو مڈ بھیڑ میں سال2000 میں مارا گیا۔ اس کا دوسرا شوہر بھی 2006 میں مڈ بھیڑ میں مارا گیا۔ اس پر پانچ قتل، انسانوں کی اسمگلنگ او ر پاسکو ایکٹ میں معاملہ درج ہیں۔ رام پریت کور عرف رانی 32 سال کی تھی۔پچھلے سال پولیس کو اس بات کی جانکاری ملی تھی کہ وہ مردوں کے کپڑے پہن کر بائیک سے موبائل چھینتی ہے۔ پچھلے ایک سال میں اسی پر ڈکیتی اور چھاپہ ماری کے 9 معاملہ درج ہیں۔ 42 سالہ سائرہ بیگم کا 28 سال پرانا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ خاتون و اس کے شوہر افاق کو 2016 میں دہلی میں سب سے بڑا جسم فروشی کا ریکٹ چلانے کے الزام میں گرفتار یا گیا تھا۔ سائرہ کے جیل میں رہنے پر اس کے ساتھی کوٹھے کو چلاتے ہیں۔ الزام ہے اس کا پتی نیپال سے لڑکیاں لاتا ہے۔ 53 سال کی ششی کلا کا مشرقی دہلی کے شکر پور تھانہ میں بطور بی سی نام درج ہے۔ عورت نے بطور سبزی فروش کام شروع کیا تھا بعد میں وہ جوئے کا بڑا ریکٹ چلانے لگی۔ اس پر 21 معاملہ درج ہیں۔
(انل نریندر)