Translater

27 جولائی 2024

سنگھ کی سرگرمیوں میں شامل ہوسکیں گے!

لوک سبھا انتخابات کے دوران مرکزی حکومت نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات اور اندرونی کشمکش اور بیان بازی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے۔ مرکز نے 58 سال پرانا سرکاری حکم واپس لے لیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہونا فطری تھا۔ اس فیصلے کو بی جے پی کی مستقبل کی سیاست سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں اسے اپنی سیاسی مہم میں سنگھ کی مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی نقطہ نظر سے اہم ہے کیونکہ پچھلے کچھ مہینوں سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے درمیان رسہ کشی چل رہی تھی اور وہ بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کو طعنے دے رہے تھے۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی آر ایس ایس کے بی جے پی کے لیے پوری طاقت سے کام نہ کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس کی وجہ سے بی جے پی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا کا سنگھ پر دیا گیا بیان بھی سنگھ کو پسند نہیں آیا۔ سنگھ کے پبلسٹی چیف سنیل امبیڈکر نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے جمہوری نظام کو مضبوط کرے گا۔ حکومت کا تازہ فیصلہ مناسب ہے۔ سنگھ گزشتہ 99 سالوں سے قوم کی تعمیر اور سماج کی خدمت میں سرگرم ہے۔ سنگھ نے قومی سلامتی، اتحاد اور سالمیت اور قدرتی آفات کے وقت معاشرے کو ساتھ لے کر چلنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ دریں اثنا، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پیر کو وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرگرمیوں میں ان کی شرکت پر پابندی ہٹا کر نظریہ کی بنیاد پر سرکاری ملازمین کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت نے 1966 کے حکم کو تبدیل کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ کھرگے نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ہندوستان نے 1947 میں اس دن اپنا قومی پرچم اپنایا تھا۔ آر ایس ایس نے ترنگے کی مخالفت کی تھی اور سردار پٹیل نے انہیں اس کے خلاف خبردار بھی کیا تھا۔ 4 فروری 1948 کو گاندھی جی کے قتل کے بعد سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی۔ 58 سال بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے 1966 میں سرکاری ملازمین پر یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر لگائی گئی پابندی کو ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں بی جے پی نے تمام آئینی اور آزاد اداروں کو ادارہ جاتی طور پر قبضہ کرنے کے لیے آر ایس ایس کا استعمال کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کو ہٹانا سرکاری دفاتر میں سرکاری ملازمین کی آئین کی غیر جانبداری اور بالادستی کے احساس کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت شاید اس لیے ایسے اقدامات کررہی ہے کیونکہ عوام نے انتخابات میں آئین کو تبدیل کرنے کے اس کے ناپاک ارادے کو پہچان لیا ہے۔میں نے شکست دی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ قدم سنگھ کارکنوں کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں کھل کر بی جے پی کی حمایت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے سنگھ کو ناراض کرنے کے نتائج پہلے ہی دیکھ چکی ہے۔ سنگھ اب اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دے رہا ہے۔ (انل نریندر)

مودی کی مجبوری، کرسی بچاو ¿بجٹ !

اس بار 400 پارکا نعرہ فلاپ ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا اس سال کا بجٹ آندھرا اور بہار کے نعرے کو پورا کرتا نظر آ رہا ہے۔ این ڈی اے حکومت کی تیسری میعاد کے پہلے بجٹ میں مودی حکومت خاص طور پر آندھرا پردیش اور بہار پر مہربان رہی اور دونوں ریاستوں کو حکومت چلانے میں تعاون کرنے پر بھاری تحفہ دیا گیا ہے۔ اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو چندرابابو نائیڈو اور نتیش کمار کی بیساکھیوں پر چلنے والی حکومت نے ان دونوں کے لیے اپنے بجٹ کے خزانے کھول دیے ہیں۔ اگر موجودہ سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو پی ایم مودی کی مجبوری یہ ہے کہ ان کی مخلوط حکومت چلانے کے لیے آندھرا اور بہار بہت اہم ہیں۔ یہ مجبوری وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے بجٹ میں صاف نظر آتی ہے۔ بجٹ کے ذریعے مودی حکومت نے اپنے اہم اتحادیوں ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کو ایک طرف رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے لیے دونوں ریاستوں کے لیے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بجٹ پر سخت ردعمل دیا ہے۔ راہل نے الزام لگایا کہ حکومت نے کرسی بچاو¿ بجٹ پیش کیا ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو خوش کرنے کے لیے دیگر ریاستوں کی قیمت پر خالی وعدے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ کانگریس کے انتخابی منشور اور کچھ سابقہ بجٹ کی نقل ہے۔ اتحادیوں کو برا دکھانے کے لیے، دوسری ریاستوں کی قیمت پر ان سے خالی وعدے کیے گئے۔ اپنے دوستوں کو خوش کیا۔ AA کو فوائد دیے گئے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ AA کا مطلب کیا ہے؟ مودی جی کے دو صنعتکار دوست۔ عام ہندوستانی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے منشور اور پچھلے چند بجٹ کاپی پیسٹ کیے گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرکزی بجٹ میں آندھرا پردیش اور بہار کے لیے کیے گئے اعلانات کو حکومت کو بچانے کی کوشش قرار دیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے کسانوں اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے نوجوان ایک مستقل نوکری چاہتے ہیں نہ کہ آدھی پکی۔ یادو نے پوچھا کہ کیا یوپی کی طرف سے دیا گیا وزیر اعظم وہاں کے کسانوں کے لیے بھی کچھ بڑے فیصلے لیتے ہیں؟ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے کہا کہ بجٹ میں مغربی بنگال کے لیے کچھ نہیں ہے اور یہ ہندوستان کے لیے پیش کردہ بجٹ نہیں ہے بلکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے لیے ہے۔ ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی نے بھی دعویٰ کیا کہ یہ کرسی بچت بجٹ ہے۔ اس بجٹ کا پورا مقصد (وزیر اعظم) نریندر مودی کی پوزیشن کو بچانا ہے۔ یہ این ڈی اے کا بجٹ ہے، ہندوستان کا نہیں۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رکن اسمبلی مہوا مانجھی نے کہا کہ اس بجٹ میں قبائلیوں کے روزگار، ان کی نقل مکانی روکنے اور قبائلی خواتین کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے کہا کہ اس بجٹ کو پردھان منتری سرکار بچاو¿ یوجنا کہا جانا چاہیے۔ اس بجٹ میں مہاراشٹر کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مجموعی طور پر وہ تمام اپوزیشن کے خلاف کھڑے نظر آئے۔ (انل نریندر)

25 جولائی 2024

جموں میں کیوں کامیاب ہو رہے ہیں آتنکی؟

قریب 20 سالوں تک پرامن رہے جموں میں آخر ایسا کیا ہو گیا ہے قریب 3 برسوں سے آتنکی حملے ہو رہے ہیں ؟گھات لگاکر صرف سکیورٹی فورسیز کو ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانے پر لیا جا رہا ہے ۔84 دنوں میں 10 سے زیادہ آتنکی حملوں میں 17 جوانوں کی شہادت ہو چکی ہے ۔آئے دن آتنکی حملوں کی خبرےں آتی رہتی ہے ۔ہمارے جوان شہید ہوتے جا رہے ہیں اور زخمیوں کی گنتی 300 سے زیادہ ہے ۔اس کے علاوہ ساتھ ہی 3 سے 6 خطرناک آتنکی مارے جا چکے ہیں ۔جموں کے سمانگ میں دہشت گرد ی کے خاتمے کو کشمیر ماڈل اپنانے کی جموں کشمیر کے ایل جی منوج سنہا کا اعلان پر کئی سوال کھڑے ہونے لگے ہیں ۔اس میں کنٹرورشل سوال یہ سامنے آ رہا ہے کے آخر جموں کے سمانگ میں دہشت گردی کو پنپنے ہی کیوں دیا گیا ؟کیا جموں کی سکیورٹی کو داﺅ پر لگاتے ہوئے فوجیوں کو وہاں سے ہٹایا گیا ہے ؟اور اب سے بڑا سوال آخر دہشت گردی کو کچلنے کا کشمیر ماڈل ہے کیا؟دہشت گرد ہر ایک ضلع کو 3 سالوں سے نشانہ بنا رہے ہیں ان سے نمٹنے کو اب جو تیاریاں کی گئی ہیں ان میں سب سے اہم کشمیر ماڈل ہے ۔یہ سب سے بڑا سنگریٹ ہے جس کے تئیں کسی کو جانکاری نہیں ہے آخر یہ ماڈل ہے کیا یہ لفظ ایل جی نے پہلی بار استعمال کرکے سب کو چونکا دیا ہے حلانکہ مرکزی سرکار کی ہدایتوں پر سکیورٹی فورسیز نے مشترقہ رائے سے اب جموں کے سمانگ میں دہشت گردوں پر حملہ کرنے کو ہزاروں جوانوں کو تعینات کرنا شروع کر دیا ہے۔آپ ان جوانوں کی تعیناتی اس تعداد کو پورا نہیں کر پائے گی جو 2021 کے بعد جموں سمانگ سے ہٹاکر چین سے نمٹنے کو لداخ سیکٹر میں بھیج دیا گیا تھا ۔ڈیفنس ذرائع نے مانا ہے کے پاکستان نے اسی حالت کا فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنے یہاں ٹریننگ یافتہ دہشت گردوں کو سمانگ کو نشانہ بنانے کی ہداےت دیتے ہوئے انہیں بھاری تعداد میں اس طرف دھکیلا ہے ۔تو یہ ہے کے پچھلے 3 برسوں میں کتنے دہشت گرد جموں میں گسے ہیں اور وہ 300 کو بھی پار کر گئے ہیں ۔آتنکی جس طرح واردات کر بھاگنے میں کامیاب ہو رہے ہیں اس سے مخبری پر بھی سوال کھڑے ہو رہے ہیں ۔غیر ملکی آتنکی علاقہ میں ہے اور واردات کر رہے ہیں لیکن ان کی معلومات نہیں مل پا رہی ہے ادھر لیفٹیننٹ جنرل کلکرنی کہتے ہیں میں نے خود ڈوڈہ علاقہ میں کمان سنبھالی ہے کسی بھی کارروائی کے لئے مقامی آدمی کی مدد اہم ہوتی ہے ۔مقامی ہی ہمارے آنکھ کان ہوتے ہیں وہیں بتاتے ہیں کے کہیں کوئی مشتبہ شخص گھوم رہا ہے ۔کوئی مشتبہ حرکت کر رہا ہے یہ جانکاری لوکل آدمی سے ہی ملتی ہے اس لئے مخبری پر دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔وہ یہ بھی سوال پوچھتے ہیں کے انسانی مخبری کیسے کیسے ختم ہو گئی جبکہ اتنی ست بھاﺅنہ کے پروگرام چلاتے ہیں وہ کہتے ہیں کے ہیومن انٹیلیجنس کے لئے مسلسل کوشش کی جانی چاہئے ،جانکاری کے لئے 3 برسوں میں آتنکی جموں سمانگ میں 52 سکیورٹی ملازمین کی جان لے چکے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کا نام لے رہا ہے۔(انل نریندر)

شرد پوار کرپشن کے سرغنہ ،اودھو ،اورنگزیب فین کلب کے چیف !

جےسے جےسے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ قریب آتے جا رہے ہیں سیاسی پارٹیوں کی آزویں تلخ ہوتی جا رہی ہیں۔حالیہ لوک سبھا چناﺅ میں بھاجپا نے جہاں 2019 میں ریاست کی 23 سیٹیں جیتی تھی ،وہیں 2024 میں یہ گھٹ کر 9 رہ گئیں ۔اس سے بھاجپا لیڈر شپ بوخلہ گئی اور اب پوری مشقت آنے والے اسمبلی چناﺅ میں اچھی پرفارمنس کے لئے لگا دی ہے ۔نیتاﺅ کے نہ صرف تیور تلخ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ حدوں کو بھی پار کرتے جا رہے ہیں ۔اپنے حریفوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں لیکن زبان کی کوئی حد ہونی چاہئے۔اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن لیڈر اور این سی پی چیف شرد پوار پر تلخ حملہ کیا اور انہیں دیش میں کرپشن کا سرغنہ قرار دے دیا۔ پونے میں بھاجپا کی ریاستی کانفرنس میں امت شاہ نے چیف سینا (ادھو صدر )ادھو ٹھاکرے کو اورنگزیب فین کلب کا چیف قرار دیا اور کہا جب وہ 1994 کے ممبئی بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب میمن کے لئے معافی مانگنے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔امت شاہ نے کہا بھاجپا این ڈی اے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں 2014 اور 2019 کے انتخابات سے اچھی سیٹیں لائے گی بھاجپا کے سینئر لیڈر نے کہا کے شرد پوار نے کرپشن کو تنظیمی سطح تک پہنچایا اور ادھو ٹھاکرے پر تنقید کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کے انہوںنے اورنگزیب فین کلب کیا ہے؟26/11 کے آتنکی حملے کے قصوروار اجمل قصاب کو زندہ رہتے بریانی کھیلاتے اور یعقوب میمن کے لئے معافی مانگتے ہیں جو اسلامی مبلغ ذاکر نائک کو امن کا داعی ایوارڈ دیتے ہیں اور ادھو جو پی ایف آئی کی حمائت کرتے ہیں ان کو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں شرم آنی چاہئے ۔اپوزیشن لیڈروں نے امت شاہ جی کو یاد دلایا ان کی پارٹی سب سے کرپٹ لوگوں کو اپنی واشنگ مشین میں ڈال کر صاف ستھرا کر دیتی ہے۔جس اجیت پوار پر خود وزیراعظم نے 70 ہزار کروڑ روپئے کے کرپشن کا الزام لگایا اور اس وقت کے وزیراعلیٰ دویندر فڑنویز نے ویڈیو میں کہا تھا کے اجیت پوار چکی پیسیں گے جن انہوںنے چھگل بجھبل کو اپنی پارٹی میں ملایا آج وہ کرپشن کی بات کر رہے ہیں ۔شرد پوار نے 2-3 دن پہلے کہا تھا کے اس سال کے آخر میں ہونے والے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں ان کا اتحاد ادھو ٹھاکرے گروپ اور کانگریس مل کر 200 سے زیادہ سیٹیں جیتنے جا رہا ہے ۔دوسری طرف مہاراشٹر میں بھاجپا اتحاد مہاگاڑی کوٹ شباب پر ہے اجیت پوار گروپ کے کئی نیتا واپس شرد پوار کی سرپرستی میں آ گئے ہیں ۔وہا سوال اددھو ٹھاکرے کا تو ان کے ساتھ مہاراشٹر کی جنتا ہے کیوں کے وہ یہ مانتی ہے کے شندے نے ان کے ساتھ بھروسہ توڑا ہے وہ انہیں غدار مانتی ہے۔بھاجپا پورا زور لگا رہی ہے تاکہ آنے والے اسمبلی چناﺅ میں پارٹی اچھی پرفارمنس دی سکے ۔(انل نریندر)

23 جولائی 2024

10 سیٹیں ۔۔۔30 وزرا کی تعیناتی !

لوک سبھا چناﺅ میں مایوس کن نتیجوں سے سبق لیتے ہوئے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے اسمبلی کی 10 سیٹوں پر ضمنی چناﺅ پرچار کےلئے 30 وزرا کو انجارچ بنایا ہے انہوںنے ان کے ساتھ تبادلے خیالات کئے اور سبھی سیٹیں جیتنے کا نشانہ دے دیا یہ ضمنی چناﺅ ممبران اسمبلی کے لوک سبھا چناﺅ جیت کر ایم پی بننے کی وجہ سے یہ سیٹیں خالی ہوئی تھی ابھی ان میں سے 5 سیٹیں این ڈی اے کے پاس تو 5 سیٹیں سپا کے پاس تھیں اب بھاجپا کے سامنے بہتر کارکردگی دکھا کر تنظیم کو لوک سبھا چناﺅ میں ہوئے نقصان سے پیدا مایوسی سے نکالنا ایک بڑی چنوتی ہے ۔تو سیٹوں کے تجزیہ اتنے ہی پیچیدا ہیں ۔اترپردیش کے پھولپور ،کھر ،غازی آباد ،میرا پور،کرہل اور کٹہیری وغیرہ سے ممبر اسمبلی ایم پی بن گئے ہیں اس طرح کھالی ہوئی سیٹ سیستھ بھانو سپا ایم ایل اے عرفان سولنکی ممبر شپ منسوخی کے سبب ہوئی ہے ۔اس سیٹ پر ضمنی چناﺅ کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن ان کے لئے تیاری بڑی اپوزیشن پارٹیا ں سپا ،کانگریس کے سامنے حکمرا بھاجپا نے بھی شروع کر دی ہے سپا نے لوک سبھا چناﺅ میں تو غیر متوقع کامیابی حاسل کی ہے لیکن اب ضمنی چناﺅ میں پرفارمینس دوہراکر یہ ثابت کرنے کی چنوتی ہے کے لوک سبھا میں جو نتیجہ آئے اس کی ٹھوس بنیاد بھی ہے اس سے بھاجپا کے پاس ورکروں کو ایک طرح سے نئی طاقت دینے کا موقع ہے ۔مین پوری کی کرہل سیٹ سے سپا چیف اکھلیش یادو ایم ایل اے تھے ۔یہ سیٹ سپا کا گڑ مانی جاتی ہے فیض آباد لوک سبھا سیٹ کے تحت آنے والی ملکی پور سپا سیٹ پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں ایودھیا میں بھاجپا کو چت کرنے والے اودھیش پرساد کو اس سیٹ پر بھاجپا کو طاقت دکھانی پڑے گی اور بھاجپا نے جیتنے کے مقصد سے انجارچ وزیر سوریا پرتاپ شاہی اور گریش یادو اور انجارچ وزیر مملکت سنتوش شرما کو ذمہ داری سونپی ہے وہیں کانپور سیماﺅ سیٹ پر مسلم آبادی زیادہ ہے ایسے ہی علی گڑھ کی کھیر اور غازی آبادی سیٹ پر بھاجپا کے لئے لڑائی تھوڑی آسان ہے ایسے ہی مظفرنگر کی میرا پور سیٹ بھی کو جیتنے کے لئے سماجی تجزیوں کو دیکھنا ہوگا ان اسمبلی ضمنی چناﺅ میں بھاجپا کی ساخ داﺅ پر ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میں یوگی ادتیہ ناتھ کی ساخ داﺅ پر ہے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے یہ یوگی کے لئے ایک سخت امتحان ہے انہیں اس بار ٹکٹ باٹنے سے لیکر پوری چناﺅ مہم چلانے کی چھوٹ دی گئی ہے ۔اگر بھاجپا ان ضمنی چناﺅ میں اچھی سیٹیں جیت نہیں پاتی تو دہلی کی گجرات لاوی کو یوگی کو ہٹانے کا موقع مل جائے گا ادھر کانگریس نے بھی طے کر لیا ہے کے لوک سبھا چناﺅ کی طرح ان ضمنی چناﺅ میں بھی سپا کے ساتھ مل کر لڑیں گے ۔اتحاد کو یوپی میں 80 سیٹوں میں سے 43 سیٹیں ملی تھی ۔سپا کو 33 اور کانگریس کو 10 ۔یوگی نے چناﺅ انجارچوں سے کہا ہے کے آپ ہفتے میں کم سے کم 2 دن حلقہ میں رات کو رکیں گے ۔اور بوتھ سطح پر بات چیت کر ان کی پریشانیوں کو دور کرانے میں بھی ہدایت دیں گے لگتا ہے بابا نے اس چناﺅ کو اپنی ساکھ کا سوال بنا لیا ہے۔ (انل نریندر)

پہلے اتیمانوو ،پھر بھگوان بننا چاہتے ہیں!

جھارکھنڈ کے گملا میں گرام سطح ورکر بات چیت پروگرام کے دوران آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے کہا کے لوگ انسان سے اتیمانوو پھر بھگوان بننا چاہتے ہیں ۔جس میں انسانیت نہیں ہے ،وہ انسان نہیں ہے اور پرگتی کا کوئی انت ہی نہیں ہے ۔لوگ اتیمانوو بننا چاہتے ہیں ،لیکن وہ یہی نہیں رک سکیں ۔وہ دیوتا بننا چاہتے ہیں پھر بھگوان بننا چاہتے ہیں پھر عالمی سروپ بننا ۔کوئی نہیں چانتا کے اس سے بڑا کچھ بھی نہیں ۔وکاس کا کوئی انت نہیں ہے۔ہمیں یہ سوچنا چاہئے کے ہمیشہ اور زیادہ کی گنجائش ہوتی ہے باہری ترقی اور اندونی ترقی کاکوئی انت نہیں ہے۔انہوںنے کہا خود اعتمادی کرتے وقت ایک انسان سپر مین بننا چاہتا ہے ،اس کے بعد وہ دیوتا اور پھر بھگوان بننا چاہتا ہے ۔اور ترقی کی بھی توقعہ رکھتا ہے لیکن وہا سے بھی آگے کچھ اور بھی ہے کیا یہ کوئی نہیں جانتا ہے ۔آر ایس ایس چیف نے کہا کے کچھ لوگوں میں انسانیت ہونے کے باوجود انسانی خوبیوں کی کمی ہوتی ہے انہیں سب سے پہلے اپنے اندر ان خوبیوں کو پیدا کرنا چاہئے ۔وہ جمعرات کو گملا کے کشن پور میں وکاس بھارتی ادارہ میں منعقدہ دیہی سطح پر ورکرس کانفرنس کو خطاب کر رہے تھے انہوںنے کہا کے وکاس کوئی انت نہیں ہے دیش میں نئے نئے باب جوڑنے کی ضرورت ہے ۔مگر بنیادی اخلاق برقرار رہنا چاہئے۔دیش کے پچھڑے سماج کا کوئی وکاس نہیں ہوا ہے۔وہ آج بھی دشواریوں سے گھرے ہیں وہاں کام کی ضرورت ہے ۔ورنا جن کے پاس اثر ہے وہ اس سماج کے کمیوں کو دور کر ان کی پورے رویے کو ہی بدل دیں گے ۔ان کا اشارہ تبدیلی مذہب کی کی طرف تھا انہوںنے یہ بھی کہاجہاں تپسیا ہے وہاں نتیجہ ہے اور بروقت کیا گیا کام رنگ لاتا ہے ۔بھاگوت نے کہا قبائلی سماج کے برتاﺅ اور اس کی خیالات کو بدلہ جا رہا ہے جن کے پاس پاوور ہے وہ جن جاتی سماج کی کمیاں دور کرنے کے نام پر یہ کر رہے ہیں ان کا اشارہ پھر تبدیلی مذہب پر تھا ان کا کہنا تھا آج کل خود ساختہ ترقی یافتہ لوگ سماج کو کچھ دینے میں یقین رکھتے ہیں جو ہندوستانی تہذیب میں ہے انہوںنے کہا سناتن تہذیب اور دھرم راج محلوں سے نہیں بلکہ یہ جنگلوں سے آئی ہے ۔بدلتے وقت کے ساتھ ہمارے کپڑے تو بدل سکتے ہیں لیکن ہمارا برتاﺅ کبھی نہیں بدلے گا بدلتے وقت میں اپنے کام اور خدمات کو جاری رکھنے کے لئے ہمیں نئے طور طریقے اپنانے ہوں گے جو لوگ اپنے برتاﺅ کو برقرار رکھتے ہیں انہیں ترقی یافتہ کہا جاتا ہے بھاگوت نے کہا سبھی کو سماج کی بہبود کے لئے کوشش کرنی چاہئے اور قبائلیوں کو پکڑے ہوئے ہیں اور ان کے لئے تعلیم ہیلتھ سیکٹر میں کافی کام کئے جانے کی ضرورت ہے۔موہن بھاگوت ایک بار پھر بار بار نصیحتیں دیں رہے ہیں آخر یہ کس کے لئے ہیں؟کس کو خبردار کرنے کا کام کر رہے ہیں ؟کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کے وہ اپنے طور طریقوں کو بدلو نہیں تو پوری لٹیا ڈوب جائیگی۔آپ تو ڈوبوگے ہی ساتھ میں پارٹی اور سنگھ کو بھی لے ڈوبوگے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...