14 ستمبر 2019

جج صاحب ہی نہیں مان رہے عدالت کا حکم

ہندی اخبار امر اجالا میں دھیرج بینی وال کی ایک سنسنی خیز خبر شائع ہوئی ہے پیش ہے یہ رپورٹ اگر آپ اپنی عدالت کے حکم کو نہیں مانے تو اسے جیل بھیجا جا سکتا ہے لیکن جب ایک جج خود عدالت کا حکم نہ مانے تو اسے کیا کہیں گے؟اتر پردیش میں تعینات ایک جج صاحب عدالتی حکم کے بعد بھی بیوی اور نابالغ بچی کو گزارا بھتہ اور اس کی بقایا رقم کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں خاص بات یہ ہے کہ جج صاحب کی بیوی جج ہیں اور اترپردیش میں ہی تعینات ہیں ۔میاں ،بیوی کے درمیان قانونی جھگڑا چل رہا ہے دونوں 2013سے الگ رہ رہے ہیں ۔میاں بیوی کے درمیان طلاق کا مقدمہ بھی چل رہا ہے ۔روہنی ضلع عدالت کے سامنے میرٹھ میں تعینات جج صاحب نے 4.80لاکھ روپئے کی بقایا رقم میں سے صرف ایک لاکھ روپئے اپنی بیوی کو دیئے اور ماہ اگست کے آخر تک باقی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے بعد اب تک باقی رقم نہیں دی گئی ۔خاتون جج کی طرف سے وکیل پنیہ کمار سنگھ و ترون نارن نے کورٹ کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی جج صاحب اپنی بیوی بچوں کو گزارابھتے کی رقم نہیں دے رہے ہیں ۔معاملے کی سماعت 25ستمبر طے ہوئی ہے ۔عدالت نے خاتون جج کی عرضی پر سماعت کے بعد جنوری 2018میں اسے و اسے اس کی نابالغ بیٹی کی خرچ کے لئے ماہانہ 20ہزار روپئے عرضی دائر کرنے کی تاریخ سے بقایا خرچ رقم دینے کا انترم حکم بریلی میں تعینات جج کو دیا تھا ۔متاثرہ نے پچاس ہزارروپئے گزارہ بھتہ دلانے کی مانگ کرتے ہوئے جنوری 2016میں عرضی دائر کی تھی عدالت نے اس فیصلے کو جج صاحب نے ہائی میں چنوتی دی تھی لیکن جسٹس سنجیو سچدیوا نے 19اپریل 2018کے اپنے حکم میں انہیں بقایا رقم (خرچ)کی ادائیگی کا حکم دیا تھا ۔اس کے بعد جج صاحب نے بیوی کو گزارہ بھتہ اور باقی رقم ادا نہیں کی تھی ۔پیش معاملے میں روہنی کی باشندہ متاثرہ خاتون کی شادی 23نومبر2008کو غازی آباد کے باشندے سے ہوئی تھی شادی کے بعد اکتوبر 2010میں انہیں ایک بچی پیدا ہوئی تھی اس کے بعد پہلے پتی اس کے بعد پتنی بھی یو پی میں جج بن گئے متاثرہ کا الزام ہے کہ اس کے پتی و سسرال والوں نے جہیز کے لئے مار پیٹ اور پریشان کرنا شروع کر دیا تھا جب جج صاحب مظفر نگر میں تعینات تھے تو انہوں نے بیوی میں گھر میں گھسنے سے بھی روک دیا تھا اس کے بعد مہیلا جج اپنے والد کے گھر آگئی تھی ۔سسرال والوں نے اسے ایل ایل بی کرنے سے روکا اور اپنی محنت سے امتحان میں پاس ہوئی گئی اور جوڈیشیل سروس میں سیلکشن ہو گیا اس نے پتی کے خلاف 2015میں آلہٰ آباد ہائی کورٹ کو شکایت بھیجی تھی ۔بڑی مشکل کی حالت بن گئی ہے ایک جج اپنے خلاف حکم کی تعمیل نہیں کر رہے ہیں تو آگے کیا ہوگا؟شکایت کنندہ بھی جج ،اور ملزم بھی جج آخر فیصلہ کون کرئے گا؟ 

(انل نریندر)

گزررہا ہے لینڈر وکرم سے رابطہ قائم ہونے کا وقت

انڈین اسیپیس رسرچ سینٹر (اسرو)کا کہنا ہے کہ ایجنسی چندریان ٹو کے وکرم لینڈر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس نے چندریان کے آربی ٹیٹر اس کی صحیح لوکیشن کا پتہ بھی لگا لیا ہے ۔اسرو کی ٹیم مسلسل سگنل لینڈر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر ہی ہے حالانکہ یہ بھی کہنا ہوگا کہ رابطہ کرنے کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے ۔چھ سات ستمبرکی درمیانی رات کو چاند کی سطح سے دو کلو میٹر دوری پر ہی لینڈر سے رابطہ ٹوٹ گیا تھا سنیچر کو چاند کی سطح پر وکرم کی موجودگی کا پتہ لگا تھا اس کے بعد اسرو چیف کے سیون نے چودہ دن تک لینڈر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کئے جانے کی بات کہی تھی دراصل چندریان کے لینڈر رور کا مشن صرف چودہ دن کے لئے ہی طے کیا گیا تھا جو چاند کے ایک دن کے برابر ہے جیسے جیسے مشن کی تاریخ طے کی گئی وہ آہستہ آہستہ گزر رہی ہے ۔رابطہ قائم کرنے کا امکان بھی کم ہوتا جا رہا ہے اسرو کے کچھ افسران کے مطابق وکرم چاند کی سطح پر پہلے سے طے جگہ سے پانچ سو میٹر کی دوری پر پڑا ہوا ہے وہ ٹوٹا نہیں ہے بلکہ وہ ترچھا ہو گیا ہے ۔سائنس داں رابطہ قائم کرنے کی کوشش کے لئے لینڈر کے اینٹینا کو صحیح سمت میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اسی درمیان نیدر لینڈ کے خلا باز سیز بیسا نے ناسا کی جیٹ پروبلیشن لیب کے ڈیٹا اور اسرو کے ڈیٹا کو کھلے طور پر دستیاب کے موازنے کی بنیاد پر دعوی کیا ہے لینڈر کا رابطہ چاند کی سطح سے ٹکرانے کے بعد ٹوٹا تھا نہ کہ سطح سے 2.1کلو میٹر اوپر سے اسرو نے 2.1اوپر ہی رابطہ ٹوٹنے کا دعوی کیا تھا سیز بیسا نیدر لینڈ کی خلا باز ہیں۔ اور نیدر لینڈ انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو اسٹرونامی ادارے کے لئے دنیا بھر کے اسپیس کرافٹ کی ہیکنگ کرتے ہیں سات ستمبر کو بھی وہ ڈیو گلو ٹیلی اسکوپ آبزر ویٹری سے چندریان ٹو کی لینڈنگ پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔منگل وار کو چار رنگوں کی روشنیوں کا ایک گراف ٹوئٹ کر کے بتایا کہ اس کی بیگنی روشنی ریڈیو ٹیلی اسکوپ ڈاپلر گولائی کی ہے ۔جبکہ نارانگی روشنی لائن چندریان ٹو کے لینڈر کی ناسا جے پی ایل کے ذریعہ جاری ہوریزون ٹریجکٹری کی ہے ۔انہوںنے لکھا ہے اس کے موازنے سے صاف ہے کہ لینڈر چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہو چکا ہے ۔اس سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کے کامیاب ہونے کا امکان بے حد کم ہے ۔انہوںنے ڈالپر گولائی کی تصویر جاری کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا تھا کہ لینڈر کی کریش لینڈنگ ہوئی ہے ۔وہیں اسرو کا کہنا ہے کہ وکرم ٹرانسپونڈرس اور ایک طرف اینٹینا سے جڑے ہیں ۔اس کے اوپر ایک گنبا جیسا آلہ لگا ہے وکرم انہیں سازو سامان استعمال کر کے زمین یا اس کے آر بی ٹیٹر سے سگنل لے گا اور اس کا جواب دے گا۔

(انل نریندر)

13 ستمبر 2019

ٹرمپ نے طالبان امن سمجھوتہ منسوخ کیا

کابل میں ہوئے طالبان حملے میں ایک امریکی فوجی کی موت کے بعد امریکہ کے صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن سمجھوتے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہے ۔امریکہ اور طالبان اب تک نو مرحلوں میں امن بات چیت کر چکے ہیں ۔حالیہ اعلان کے بعد بے نتیجہ رہی بات چیت پر ٹرمپ نے کہا کہ طالبان کے نیتاﺅں اور افغانی صدر اشرف غنی کے ساتھ کیمپ ڈیوٹ میں ہونے والی خفیہ میٹنگ کو کابل میں ہوئی بمباری کے پیش نظر منسوخ کردیا گیا اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے لی تھی ۔جس میں ایک امریکی فوجی سمیت بارہ لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔امن مذاکرات ٹوٹنے پر ملا جلا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے ۔طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا ٹوٹنا افغانستان کے لئے ایک بار پھر برے دور کی واپسی کے اشارے ہیں ۔اب تک یہ امید بنی تھی آنے والے وقت میں افغان لوگوں کے لئے جلد ہی کوئی اچھی خبر آئے گی ۔لیکن اب امیدوں پر پانی پھر گیا ہے ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ طالبان جس تشدد کے راستے پر بڑھ چکا ہے اس میں اب امن کی امید ضائع لگتی ہے ۔ٹرمپ نے جو اچانک بات چیت سے ہٹنے کا فیصلہ کیا وہ طالبان کے لئے ایک سندیش ہے ۔اس سے یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ امریکہ طالبان کے تشدد کے آگے نہیں جھکے گا ۔اور اسے سبق سکھانے کی حکمت عملی پر چلے گا ۔ٹرمپ کے بات چیت توڑنے کے بعد طالبان نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مزید حملے کر نے کی دھمکی دی ہے ۔اتنا صاف ہے کہ امریکہ طالبا ن کو یہ اشارہ نہیں دینا چاہتا کہ وہ مجبوری میں جھک کر فیصلہ کر رہا ہے امریکہ میں ٹرمپ کے ذریعہ بات چیت منسوخ کرنے کا زیادہ تر شہریوں نے حمایت کی ہے ۔ایک سروے میں افغان شہریوں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے طالبان سے بات چیت منسوخ کرنے کا صحیح فیصلہ لیا ہے ۔آتنکی تنظیم کو افغانستان میں اٹھارہ سال سے زیادہ تشدد ختم کر دینا چاہیے اور دوسری طرف کچھ لوگوں نے طالبان سے گزارش کی ہے کہ وہ جنگ بندی پر امریکہ اور افغانستان سرکار کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کرئے افغانستان کے لئے آنے والا وقت مشکلوں بھرا ہے وہاں اس مہینے کے آخر میں صدارتی چناﺅ ہونے ہیں ۔اگر امن سمجھوتہ ہو جاتا تو طالبان کے لئے افغانستان کے اقتدار کا راستہ کھل سکتا تھا ۔افغانستان کے اقتدارپر طالبان کی پکڑ مضبوط ہونے کا مطلب ہے کہ پاکستان کی طاقت بھی بڑھے گی یہ صورتحال بھارت کی مفادات کے منافی ہے ۔اس نظریہ سے یہ بہتر ہے کہ طالبان کو جتنے وقت تک اقتدار سے دور رکھا جائے گا اتنا ہی بہتر ہو گا امریکی فوج کو افغانستان میں تب تک رہنا چاہیے جب تک افغان سرکار اور افغان فوجی طالبان کا مقابلہ کرنے میں پوری طرح اہل نہیں ہو جاتے ۔امریکہ نے جہاں یہ جتا دیا کہ وہ طالبا ن کی تشدد کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں ۔آنے والے دنوں میں طالبان امریکی فوجیوں پر اور زیادہ حملے کر سکتا ایسا نہیں کہ امن مذاکرات دوبارہ نہیں ہوسکتے یا پھر ہونے کے لئے طالبان کو اپنی حکمت عملی بدلنی پڑے گی جس کے لئے وہ فی الحال تیار نہیں ۔اگر امن مذاکرات کانتیجہ اچھا نکلتا تو پورے جغرافیائی علاقہ کے لئے اچھا ہوتا۔

(انل نریندر)

سابق بھاجپا ایم پی نے میرا1 سال تک ریپ کیا

بھاجپا کے سابق ایم پی اور سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیا آنند کی مصوبتیںبڑھتی جا رہی ہیں ۔ان پر جان سے مارنے کی دھمکی کا بھی الزام لگانے والی طالبہ پیر کے روز دو پہر ڈھائی بجے اپنے گھر سے پہلی بار میڈیا کے سامنے آئی طالبہ نے الزام لگایا کہ چنمیا آنند نے ایک سال تک اس کا ریپ کیا اور جنسی استحصال کیا ۔طالبہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ شاہجہاں پور پولس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے اس لئے اس نے دہلی میں آکر 0ایف آئی آر درج کراوئی ہے ۔طالبہ نے بتایا کہ وہ معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کو یہ بھی بات بتا چکی ہے ۔ایس آئی ٹی نے سنیچر وار کو اس سے تقریبا 11گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی تھی لڑکی کے مطابق اس نے ایس آئی ٹی کو بتایا کہ سوامی نے اس کے ساتھ آبروریزی اور جنسی ازیت بھی پہنچائی ۔اس نے دعوی کیا کہ رپورٹ دہلی کے لودہی روڈ تھانے میں 0کرائم نمبر پر درج کر کے شاہ جہاں پور پولس کو بھیج دی گئی ہے ۔مگر مقامی پولس آبروریزی اور جنسی استحصال کی رپورٹ درج نہیں کر رہی ہے اور ابھی تک سوامی چنمیا آنند کو گرفتار نہیں گیا ۔لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی تحریری شکایت کی گئی تھی تب اس پر مقدمہ درج کرنا تو دور ضلع مجسٹریٹ نے اس کے والد کو دھمکی دیتے ہوئے چنمیا آنند کے رسوخ کا حوالہ دیا اور بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کو کہا طالبہ نے دعوی کیا اس کے پاس سارے ثبوت موجود ہیں وہ کالج ہاسٹل میں جس کمرے میں رہتی تھی اسے سیل کر دیا گیا اسے میڈیا کے سامنے کھولا جائے صحیح وقت پر ثبوت (ویڈیو کلپ)بھی پیش کیا جائے گا۔طالبہ نے کہا کہ اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لئے ہی وہ اپنا ویڈیو وائرل کیا تھا جس میں اس نے سوامی سے جان کو خطرہ بتایا تھا ملزم چنمیا آنند کے وکیل اوم سنگھ کی طرف سے درج کرائے گئے پانچ کروڑ روپئے کی رنگ داری مانگے جانے کے معاملے میں متاثرہ نے کہا کہ اس کی جانچ ہونی چاہیے چنمیا آنند نے جو الزام لگایا ہے وہ غلط ہے ۔طالبہ کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ دہلی کے ہوٹل میں دیکھا گیا سنجے سنگھ نامی لڑکا اس کا بھائی ہے معلوم ہو کہ سابق مرکزی وزیر مملکت کے کالج سوامی شک دیو آنند لو کالج میں ایل ایل ایم کی طالبہ نے 24اگست کو ایک ویڈیو وائرل کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چنمیا آنند نے اس کی اور کئی دیگر لڑکیوں کی زندگی برباد کر دی ہے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے اور اپنے خاندان کو خطرہ بتایا اور کے خلاف اغوا اور جان سے مارنے کی دھمکی کی دفعات میں مقدمہ درج لیا تھا ۔اس کے علاوہ ایک قابل اعتراض تصویروں والا ویڈیو منگل کو سوشل میڈیا پر وائر ہوا جس میں سوامی ایک طالبہ سے مساج کراتے دکھائی دے رہے ہیں یقین نہیں آرہا کہ اپنے آپ کو سوامی کہنے والے اور دیش کے سابق وزیر رہے چنمیا آنند پر اتنے سنگین الزام لگے ہیں معاملے کی تہہ تک جانا چاہیے سوامی کے لئے اور بھاجپا دونوں کے لئے اہم ہے کہ آبرو ریزی کا الزام لگانے والی طالبہ کے میڈیا کے سامنے آنے کے بعد کانگریس نے منگل کو مرکز اور اترپردیش کی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملزمان سے پریم اور اس کی شمولیت بھاجپا کے ڈے این اے میں شامل ہے ۔

(انل نریندر)

12 ستمبر 2019

ڈاکٹروں پر بڑھتے حملوں کو کیسے روکا جائے؟

اگر کوئی علاج یا کسی دوسرے معاملے نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کرتا ہے تو اسے بڑی سخت سزا مل سکتی ہے ۔جس میں دس سال جیل سے لے کر دس لاکھ روپئے تک کا معاوضہ دینا پڑ سکتا ہے اس شخص کے گھر یا اثاثے کی قرقی ہو سکتی ہے مرکزی حکومت نے میڈیکل ملازمین ،ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق ایک بل کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے اسے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا حکومت نے اس بل پر عام لوگوں سے بھی رائے دینے کو کہا ہے اگلے تیس دنوں تک لوگ اس پر اپنی بات رکھ سکتے ہیں بتا دیں کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹروں پر مسلسل حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں ۔جس کے احتجاج میں ڈاکٹروں نے ہڑتال بھی کی تھی۔پچھلے دنوں مغربی بنگال میں ایک اسپتال میں مار پیٹ کو لے کر پورے دیش کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی تھی ۔اس کے بعد حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹروں کی حفاظت سے متعلق جلد قانون لایا جاے گا اُدھر سپریم کورٹ نے پچھلے جمعہ کو مرکزی حکومت نے اس عرضی کا جواب مانگا جس میں ڈاکڑوں اور کلینکل اداروں پر حملوں میں شامل لوگوں کے خلاف فوری اور ضروری کارروائی کئے جانے کی ہدایت دئے جانے کی درخواست کی گئی ہے ۔جسٹس این وی رمنہ اور جسٹس اجے رستوگی کی بنچ کے سامنے کارروائی کےلئے اس عرضی میں ڈاکٹروں اور کلینکل ادارہ (اسپتا لوں)پر دنگہ کرنے اور توڑ پھوڑ کو الگ سے جرم قرار دینے کے لئے ایک قانون لانے کے لئے حکومت کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے ۔بنچ نے مرکز اور وزارت صحت و بہبود کو نوٹس جاری کئے ۔اور ان سے عرضی پر اپنے جواب داخل کرنے کو کہا ایسوشی ایشن آف ہیلتھ کئیر فار ورلڈ (انڈیا)تامل ناڈوکے ایک ڈاکٹر اور دوسرے ڈاکٹر بھی کنچن کے ذریعہ دائر عرضی میں ہندوستانی میڈیکل فیڈریشن کے ذریعہ کی جارہی ایک اسٹڈی کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔جس میں بتایا گیا کہ دیش بھر کے 75فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں نے کسی نہ کسی شکل میں تشدد کا سامنا کیا ۔عرضی میں بتایا گیا کہ دیش بھر میں ڈاکٹروں پر تشدد کے متعدد واقعات سامنے آرہے ہیں ۔یہاں تک کہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ (ایمس)نئی دہلی بھی اس سے نہیں بچا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ڈاکٹر اور مریض کا تناسب ایک ہزار گنا ہونا چاہیے جس کا مطلب ہے کہ بھارت کے اس فرق کو بھرنے کے لئے پانچ لاکھ ڈاکڑوں کی ضرورت ہے ہمارا بھی خیال ہے ڈاکٹروں کو پوری حفاظت ملنی چاہیے ان مار پیٹ کرنے والے شر پسندوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔

(انل نریندر)

کانگریس میں تیزی سے بڑھتی ناراضگی

آنےوالے چند دن کانگریس پارٹی کے لئے کافی اہم ترین ہیں عام چناﺅ میں کراری ہار کے بعد کئی محاز پر بحران کا سامنا کر رہی پارٹی کی انترم صدر سونیا گاندھی سخت فیصلے لے سکتی ہیں ۔کانگریس میں دراصل بحران تیزی سے بڑھا ہے ۔کم سے کم کانگریس کے چھ اہم ترین لیڈروں نے پارٹی کی بڑی قیادت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری کارروائی کرنے کی چیتاونی دی ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ پارٹی میں ابھی نہیں تو کبھی نہیں جیسے حالات ہیں ۔ان نیتاﺅں نے اشارہ دیا ہے کہ لمبے وقت تک پارٹی میں اس طرح بے سمت کی حالت میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ پارٹی کا بحران کیسے ختم ہوگا ۔ان میں زیادہ تر پارٹی کے نوجوان لیڈر ہیں اس کے بعد پارٹی میں حرکت ہوئی ہے خبر ہے بارہ ستمبر کو کانگریس کی عارضی صدر سونیا گاندھی نے سبھی لیڈروں کی میٹنگ بلائی تھی جس میں آگے کی راہ کے بارے میں طے کئے جانے پر غور و خوض ہوا اگلے کچھ دنوں میں ہریانہ ،مہارا شٹر ،اور جھارکھنڈ میں اسمبلی چناﺅ کا اعلان ہونے والا ہے ۔پارٹی ابھی تک ان تین ریاستوں میں اندرونی بحران سے گزر رہی ہے ۔ہریانہ میں لمبے عرصے سے چل رہی نارضگی کم نہیں ہو رہی ہے ۔وہیں بہار میں بھی پارٹی کے اندر دو گروپ ہونے کی خبریں آرہی ہیں ان میں سے ایک گروپ آر جے ڈی سے اتحاد کی صلاح دے رہا ہے ۔کرناٹک میں سرکار گنوا چکی کانگریس کے لئے اب مدھیہ پردیش اور رجستھان میں اپنی سرکاریں بچانے کی چنوتی سامنے کھڑی ہوئی ہے دونوں ریاستوں میں گروپ بندی انہتار کو پہنچ گئی ہے ۔سونیا گاندھی نے دونوں نیتاﺅں سے بات چیت کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش تو کی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ یہ صلح کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے ؟کملناتھ اور جوتر آدتیہ سندھیہ کی لڑائی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔سندھیہ نے تو خبردار بھی کر دیا ہے کہ اگر ان کی بات نہیں مانی گئی تو کہ وہ بھاجپا کا دامن بھی تھام سکتے ہیں راجستھان میں اشوک گہلوت چاہتے ہیں کہ ایک شخص ایک عہدے کے اصول پر تعمیل کرتے ہوئے ڈپٹی وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ ریاستی صدر کا عہدہ چھوڑ دیں ۔وہیں مدھیہ پردیش میں تو جوتر آدتیہ سندھیا کی ناراضگی بہت سنگین ہے ۔ذرائع کے مطابق سونیا گاندھی نے سبھی نیتاﺅں کو پیغام بھیجوایا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں وہ سبھی سے بات کریں گی ۔اور باقی نیتاﺅں کو بھی بیان بازی سے دو ر رہنے کی ہدایت دی ہے ۔اس کے علاوہ پارٹیٰ سینر لیڈروں پر جانچ ایجنسیوں کی بڑھتی دبش کے بعد پیدا حالات پر بھی غور و خوض ہوگا ۔پارٹی اس مسئلے پر سیاسی لڑائی کا پلان بنا رہی ہے ۔

(انل نریندر)

11 ستمبر 2019

کشمیر میں مہینے بھر بعد امن کی امید جاگی ،چنوتی بھی برقرار

مرکز میں مودی سرکار کے ذریعہ دفعہ 370و 35Aکو ہٹائے جانے کےلئے اُٹھائے گئے قدم کے ساتھ خاص کر وادی میں نافذ پابندیوں کو جمعرات کے روز ایک مہینہ ہو گیا ۔حالانکہ ٹیلی فون سروس بحال کر دی گئی ہے ۔لیکن کچھ دیگر سخت پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں ۔اس درمیان سری نگر کی ڈل جھیل ہو یا پیلگام یا گل مرگ سبھی جگہ مایوسی اور سناٹا چھایا رہا ۔گرمی کے موسم میں جب نہ صرف دیش یا بیرون ملک سے سیاحوں کی بھاری آمد سے جو وادی گلزار دکھائی دیا کرتی تھی آج وہاں خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔سیب ،ببو گوشہ،آلو بخارا وغیرہ پھلوں سے وابسطہ باغبانی صنعت بھی چرمرا گئی ہے ۔حالانکہ گورنر ستیہ پال ملک نے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لئے کئی اعلان کیے ہیں ۔سیاحات کے ذریعہ سے صرف وادی کے ہوٹل اور گیسٹ ہاﺅ س ہاﺅس بوٹ ہی نہیں بلکہ جموں کے بھی ہوٹل سیاحوں کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں ۔ڈل جھیل میں جو شکاریں سیاحوں کے ہجوم سے بھرے رہا کرتے تھے وہ بھی کسی افسوس میں ڈوبے دکھائی پڑتے ہیں ۔جموں و کشمیر میں حالات تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں اور زندگی پٹری پر لوٹ رہی ہے یہ دعویٰ حکومت ہند کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں شر پسندوں اور دہشتگردوں پر لگام کسنے کے لئے کچھ پابندیاں لگائی گئی ہیں ساتھ ہی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔جموں و کشمیر سے 370ہٹائے جانے کے بعد سے اب تک کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔اور کچھ لوگ ابھی بھی نظر بند ہیں ۔سیکورٹی فورس نے قریب ڈھائی ہزار شر پسندوں کو حراست میں لیا تھا یہ کشمیر وادی میں گڑ بڑ پھیلانے کے فراق میں تھے اس درمیان لشکر طیبہ سے وابسطہ پاکستانی دہشتگردوں کو کشمیر میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے ۔فوج نے دونوں دہشتگردوں کا ایک ویڈیو دکھایا ہے ۔جس میں وہ قبول کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے ہیں اور لشکر طیبہ سے وابسطہ ہیں انہوں نے بتایا کہ سرحد پار پاکستان کئی دہشگردوں کو بھارت میں در اندازی کروانے کے فراق میں ہے ۔فوجی حکام کے مطابق وادی میں امن بھنگ کرنے کے لئے پاکستان دہشگردوں کی در اندازی کرانے پر بے چین ہے ۔لشکر سے وابسطہ ان دو پاکستانی شہریوں کو 21اگست کو گرفتار کیا گیا تھا ۔افسران کے مطابق پاکستان مقبوضہ کشمیر میں سبھی لال پیڈ پر کئی دہشتگرد تنظیموں کے آتنکی موجود ہیں ۔آتنکیوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایل او سی پر ،نہ صرف کشمیر کے پاس بلکہ پونچھ ،راجوری،جموں ،جموں پاس ،سبھی لانچ پیڈوں پربڑی تعداد میں آتنکی موجود ہیں ۔

(انل نریندر)

ہمیں چین سے آزاد کرائیں!

3مہینے سے جاری جمہوریت ہمایتی مظاہروں کے بعد ہانگ کانگ میں چین کو جھکنا پڑااور ہانگ کانگ کی چیف کایاواری کیٹی لیم نے جس حوالگی قانون شہر کو لمبے عرصے سے بے حال کر رکھا تھا اُسے با قاعدہ طور سے واپس لے لیا ہے ۔اس متنازعہ بل کو اپریل میں لایا گیا تھا ۔جس میں جرائم کے معاملوں کے ملزمان کو چین کے حوالے کرنے کی سہولت تھی اس بل پر جون میں روک لگائی گئی تھی ۔لیکن اسے پوری طرح ہٹانے سے چین نے انکار کر دیا تھا ۔مظاہرین اس بل کو پوری طرح سے واپس لینے کی مانگ کر رہے تھے ۔ہانگ کانگ میں سابقہ جمہوریت کی مانگ کر رہے تھے کیری لیم نے ایک ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعہ اس بل کو پوری طرح سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سرکار جنتا کی پریشانی کو دھیان میں رکھتے ہوئے بل کو باقاعدہ طور پر واپس لینے کو تیا رہے لیم کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ہانگ کانگ کی جنتا کو حیران پریشان کر دیا ہے ۔مظاہرے میں جس طرح کا تشدد ہو رہا تھا اس سے ہانگ کانگ ایک بے حد خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ چلا تھا اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کو سرکار کے فیصلے سے کس طرح سے ناراضگی ہے ۔لیکن کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا جا سکتا ۔اب اس بل کو واپس لینے کے اعلان کے بعد الگ الگ طرح سے رد عمل سامنے آرہے ہیں ۔بیجنگ کی طرف سے جھکاﺅ رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ ریگنیا ایپ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ قدم ایک مثبت ہے ۔اس فیصلے سے سب کچھ خاموش نہیں ہوگا لیکن امید کرتے ہیں کہ اس سے پر امن مظاہرین کے دل میں جو اندیشات ہیں ۔وہ ضرور دور ہوں گے الگ الگ وجوہات سے لوگ سڑک پر اترے ہیں ہانگ کانگ میں لوگوں کے درمیان پیسے کو لے کر جو امتیاز ہے اسے انہیں ناراضگی ہے ۔لوگ اپنے گھروں کے حالات سے پریشان ہیں اس کے ساتھ ہی انہیں دیش کے نظام سے بھی دقت ہے ۔مجھے خوشی ہے کہ چیف ایگزیگیٹو نے کہا ہے کہ وہ خود لوگوں سے ملنے جائیں گی اور ان کی پریشانیاں سنیں گی وہیں دوسری طرف جمہوریت کے حمایتی نیتا اومی وائی کیری لیم کے فیصلے کو ایک دھوکہ قرار دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ پولس کو اپنی بربریت آمیز کارروائی کو روکنا ہوگا ۔نہیں تو یہ مظاہرے ایسے ہی جاری رہیں گے ۔جمہوریت کی مانگ کرنے والے ورکر جو شو وا وگ نے کہا کہ بل کو واپس لینا ایک بہت ہی مجبوری سے لیا گیا قدم ہے ۔اور ایک رضا کار نے کہا مہم جاری رہے گی مظاہرین چاہتے ہیں کہ جتنے بھی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں معاف کیا جائے ۔سیاسی سسٹم میں تبدیلیاں ہوں اور افسران ان مظاہروں کو بغاوت کا نام نہ دیں ہانگ کانگ میں حوالگی بل کے خلاف چل رہی تحریک اتوار کو تین مہینے پورے کر لیے ہیں اس کے ساتھ امبریلا مظاہرین نے چین کو جھنجھلا دینے والا ایک قدم اُٹھا دیا ہے ۔قریب پانچ لاکھ مظاہرین امریکہ کا جھنڈا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوسٹر لے کر سڑکوں پر اترے اور آزادی کے گیت گائے ان کے پوسٹروں اور بینروں پر لکھا تھا صدر ٹرمپ براہ کرم ہانگ کانگ کو چین سے آزاد کرائیں ۔

(انل نریندر)

10 ستمبر 2019

بورس جونسن سرکار کی تیسری ہار:آگے کیا؟

برطانیہ میں بریگزیٹ اشو کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں میںاتھل پتھل کادور رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔بیوٹی یونین سے بغیر شرط علیحدگی کے مسئلے پر پارلیمنٹ (ہاﺅس آف کامنز)میں لگے جھٹکے سے وزیر اعظم بورس جانسن سنبھل نہیں پائے تھے کہ 15اکتوبر کو چناﺅ کرانے کی ان کی تجویز کو ایوان نے مسترد کر دیا ۔وسط مدتی چناﺅ کے لئے جونسن کو ایوان کی دو تہائی 434ممبران کی ہمایت چاہیے تھی لیکن انہیں محض 298ممبروں کا ہی ساتھ ملا ۔اس سے پہلے ایک پرستاﺅ ہاﺅس آف کامنز نے پولنگ کے حق میں 301ممبران نے ووٹ دیا تھا ۔جبکہ 328نے مخالفت کی تھی ۔اس ہار کے بعد جونسن پھر دہرایا وہ 31اکتوبر تک سودے کے بغیر برطانیہ کو یوروپی یونین سے الگ کرنے کو لے کر عہد بند ہیں ۔اس سے پہلے وزیر اعظم نے کہا کہ سرکار کے لئے ہاﺅ س آف کامنز نے کوئی پرستاﺅ پاس کرانا اب ممکن نہیں ہے ۔پندرہ اکتوبر کو چناﺅ کرانے کی تجویز مسترد ہونے سے کنزر ویٹیو پارٹی کی جونسن حکومت کو محض 24گھنٹے میں یہ تیسرا جھٹکا لگا ہے ۔بتا دیں کہ بریگزیٹ اشو پر کئی بار ہار کے سبب جولائی تیریزا میں نے اسعفیٰ دیا تھا اور 24جولائی کو جونسن وزیر اعظم بنے تھے۔بورس کو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالے چھ ہفتے گزر چکے ہیں وہ 31اکتوبر تک یوروپی یونین چھوڑنے کے وعدے پر قائم ہیں یہ کہنا مشکل ہے کہ وزیر اعظم جونسن نے معطل پارلیمنٹ 31اکتوبر تک سمجھوتہ پاس کرنا ہوگا ۔بریگزیٹ کو روکنے کا ایک متابادل جسے سرکار ترجیح دے رہی ہے ۔برطانیہ کی پارلیمنٹ اکتوبر کے آخری ہفتہ سے پہلے یوروپی یونین سے سمجھوتے کو واپس لینے پر راضی کرا لے اس سے پہلے سابق وزیر اعظم ٹیریزا مے نے یوروپی یونین سے جو بریگزیٹ سمجھوتہ کیا تھا اسے برطانیہ کے ہاﺅس آف کامنز نے کئی بار نا منظور کیا جا چکا ہے ۔اتنا ہی نہیں موجودہ وزیر اعظم جونسن نے کہا کہ یہ سمجھوتہ اب ڈیٹ ختم چکی ہے ۔اس کے علاوہ بریگزیٹ کو ٹالنے کابھی ایک متابادل ہے ۔اس کے لئے یوروپی یونین کے باقی ممبراب کی رضا مندی چاہیے آخر میں یہ متابادل ہے کہ بریگزیٹ کو منسوخ ہی کر دیا جائے ۔دفعہ 50کو واپس لے کر بریگزیٹ کو پوری طرح سے منسوخ کرنے کا قانوی متابادل بھی ہے ۔لیکن یہ صاف ہے ۔کہ موجودہ سرکار اس پر غور نہیں کر رہی ہے ۔ایسے میں اگر سرکار بدلتی ہے تو یہ تصور ختم ہو سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

جرمانہ اور سڑکوں پر ڈسپیلن

ترمیم شدہ موٹر ویکل قانون ایک ستمبر سے پورے دیش میں نافذ ہو چکا ہے ۔جب سے یہ قانون لاگو ہوا ہے دیش میں ایک عجیب طرح کا افرا تفری کا ماحول بن گیا ہے کسی کا 94ہزار روپئے تک کا جرمانہ کسی پر 23ہزار روپیہ جرمانہ اس سے پریشان ایک موٹر سائکل سوار نے 10ہزار روپئے کے جرمانے پر اپنی بائک کو ہی جلا ڈالا جگہ جگہ پر لوگوں کی پولس ملازمین سے جھڑپیں اور گاڑی کو جلانے کی خبریں آئی ہیں ۔دراصل نئے قواعد کے تحت ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور سزا پہلے سے کافی زیادہ بڑھ گئی ہے ۔اس لئے جن ڈرائیوروں کے پاس جائز کاغذات نہیں ہیں یا وہ شراب پی کر گاڑی چلا رہے تھے لال بتی پار کر رہے تھے ۔وغیرہ سب کو ملا کر جرمانے کی رقم ہزار وں میں بڑھ گئی ہے ۔جس وجہ سے عام آدمی میں ناراضگی ہے ۔اپوزیشن کے کچھ لیڈر تو اسے رقم اکھٹا کرنے کا ایک نیا ہتھ کنڈہ قرار دے رہے ہیں ۔اس قانون کے لاگو ہونے سے پہلے اور اس کے عمل درآمد کو لے کر اندیشات تھے کے اس کو لاگو کرنے کے لئے کافی تعداد میں ملازمین کی ضرورت ہوتی چونکہ اسے ریاستوں کے ذریعہ لاگو کیا جانا تھا ۔اس لئے چنوتی اور بڑی لگ رہی تھی مگر مرکز اور ریاستوں میں الگ الگ پارٹیوں کی حکومتیں ہوں تو ایسا سوچا جا سکتا ہے یہ سچ ہے کہ غیر بھاجپا حکمراں ریاستوں پنجاب،مدھیہ پردیش،مغربی بنگال،اور راجستھان نے اسے نافذ نہیں کیا ہے ۔دوسری طرف گجرات میں اسے نافذ کرنے میں ٹال مٹولی دیکھی گئی ہے ۔مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کو صفائی دینی پڑی ہے کہ جرمانے کا مقصد لوگوں کو قانون توڑنے سے روکنا ہے نہ کہ پیسہ اکٹا کرنا سڑک حادثہ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور ان پر قابو پانا ایک بڑی چنوتی ہے ۔ایسے میں بھاری جرمانوں کے ڈر سے لوگ ٹریفک قانون توڑنے سے بچیں گے ۔انہیں محفوظ طریقہ سے گاڑی چلانے کی عادت ہوگی بتا دیں کہ دیش میں ہر سال قریب 56لاکھ اموات سڑک حادثوں میں ہوتی ہے ۔اگر قانون لوگوں کی جان بچانے میں معاون ہے تو اس کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے بے شک احتجاج کرنے والے یہ شکایت کر سکتے ہیں کہ خراب سڑک اور گڈھوں کو نہ بھرنے والوں پر کارروائی ہونی چاہیے کئی چوراہوں پر سگنل لائٹ نہیں جلتی ۔فی الحال تو یہ جرمانے کی رقم چلتی رہنی چاہیے ۔اور کچھ وقت کے بعد جب ٹریفک کنٹرول میں آجائے اور گاڑی چلانے والے سدھر جائیں تو بے شک جرمانے کی رقم کمی کی جا سکتی ہے۔

(انل نریندر)

کوشش کرنے والوں کی کبھی ہار نہیں ہوتی

چاند کے فلک پر ترنگا دیکھنے کی 130کروڑ ہندوستانیوں کا خواب جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات چاند کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ادھورا رہ گیا ۔دیش کی سب سے اہم ترین مشن چندریان 2لانچنگ کے بعد 48دن میں 3.84لاکھ کلو میٹر کا سفر طے کر رات 1.55 منٹ چاند کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا اس وقت تک چاند کے ساﺅتھ پول پر لینڈر وکرم کے اترنے کی ساری کارروائی ٹھیک ٹھاک تھی 35کلو میٹر اوپر سے سطح پر اترنے کی کارروائی کی اُلٹی گنتی شروع ہو گئی اور تیرہ منٹ 48سیکنڈ تک سب کچھ ٹھیک چلا تالیاں بھی گونجیں مگر آخری ڈھیڑھ منٹ پہلے وکرم جب 2.1کلو میٹر اوپر تھا تبھی اس کا 1:55منٹ پر اس کا اسرو سے رابطہ ٹوٹ گیا اور یہ حالت قریب بارہ منٹ تک رہی ۔پھر قریب 2:07منٹ پر سائنسدانوں نے بتایا کہ رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔حالانکہ 2:18منٹ پر اسرو کے چیف کے سیون نے بتایا کہ وکرم سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے ۔اور ہم تفصیلات کا تجزیہ کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ صرف رابطہ ٹوٹا ہے مشن پر امیدیں قائم ہیں ۔تب وزیر اعظم نریندر مودی جو وہیں موجود تھے انہوںنے اسرو کے سائنسدانوں سے کہا کہ زندگی میں اُتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں لیکن یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں ہے ۔دیش آپ پر فخر کرتا ہے ۔آپ کی اس محنت نے بہت کچھ سکھایا ہے ۔اچھے کے لئے امید کریں ہر حال میں ہار سے ہم بہت کچھ سیکھتے ہیں ۔میں پوری طرح آپ کے ساتھ ہوں ۔ہمت کے ساتھ چلیں اور آپ کی محنت سے دیش پھر خوشی منانے لگے گا۔مشن کامیاب ہوتا تو بھارت چاند کے ساوتھ پول پر اترنے والا پہلا دیش بن جاتا ۔اس سے پہلے چین ،امریکہ ،روس چاند پر اتر چکے ہیں ۔لیکن کسی نے معجزات سے بھرے چاند کے ساﺅتھ پول پر شکل کو نہیں اُتارا چندریان کو 47دن پہلے چاند کے لئے روانہ کیا گیا تھا ۔چندریان کے ذریعہ چاند کی سطح پر اترنے سے پہلے وکرم لینڈر کا رابطہ ٹوٹنے سے پورے دیش کا دل بے شک ٹوٹا ہو لیکن اس کے بعد اسرو کے سائنسدانوں کے ساتھ جس طرح پورا دیش کھڑا ہو اہے ۔وہ قابل تحسین ہے ۔ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے اسرو کے سائنسدانوں کے جوہر کو ہر جگہ سلام کیا جا رہا ہے ۔سیاستدانوں سے لے کر سماجی رضا کاروں عام ہندوستانی نے اسرو کے سائنسدانوں کا حوصلہ بڑھایا ۔چندریان 2کی لینڈنگ دیکھ رہے اسر و کے چیف کے سی ون کے چہرے پر جذبات کچھ پتا جیسے تھے جس کے بیٹے کا سب سے بڑا امتحان ہو سیون کا کہنا تھا ہمارے لئے آخر کے پندرہ منٹ دہشت سے بھرے ہوں گے ان کی پریشانی صحیح ثابت ہوئی حالانکہ منزل ایک قدم قریب تھی لیکن آخری موقعہ پر کامیابی ہاتھ سے پھسل گئی اور اسرو کو چاند کے اوپر وکرم لینڈر کا پتہ چل گیا ہے ۔آر بی ٹیٹر نے تھرمل امیج کیمرے سے اس کی تصویر دی ہے ۔حالانکہ ابھی اس سے رابطہ قائم نہیں ہو پایا پھر بھی خبر ہے ۔وکرم لینڈر طے لینڈنگ کی جگہ سے پانچ سو میٹر دور پڑا ہے امید کی جاتی ہے کہ ہمارے سائنسداں جلد ہی اسے کمیونکیشن قائم کر لیں گے ۔

(انل نریندر)

08 ستمبر 2019

ڈوسوچناﺅ سے پتہ چلے گا دہلی کا موڈ!

دہلی اسمبلی چناﺅ سے قریب پانچ مہینے پہلے ہو نے جا رہے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین (ڈوسو)چناﺅ کافی اہم ہو گئے ہیں ۔بی جے پی کے نیتاﺅں کا کہنا ہے کہ اگر اس سال بھی ڈوسو چناﺅ میں اے بی وی پی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو اس کا فائدہ آنے والے چناﺅ میں بی جے پی کو مل سکتا ہے ۔دوسری طرف کانگریس کے نیتا بھی این ایس یو آئی کو جتانے میں لگے ہیں ان کا بھی خیا ل ہے کہ اگر ان کا اسٹوڈینٹ ونگ این ایس یو آئی اور بی جے پی کی اسٹوڈینٹ ونگ اے وی بی پی کو ہرا دیتی ہے تو پارٹی کا حوصلہ بڑھے گا دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی کی اسٹوڈینٹ ونگ سی وائی ایم ایس چناﺅ میں نہیں ہے حالانکہ کالج سطح پر چناﺅ لڑنے کی چھوٹ اسٹوڈینٹ ونگ کو ضرور دی گئی تھی عآپ کے پردیش صدر گوپال رائے کہہ چکے ہیں کہ ابھی تنظیم کی پوری توجہ دہلی اسمبلی چناﺅ پر ہے ۔اور اس چناﺅ کا اثر دہلی اسمبلی چناﺅ پر دیکھنے کو ملتا ہے ۔ڈوسو صدارت کے لئے اس مرتبہ چار امیدواروں میں تین لڑکیاں ہیں خاص بات یہ ہے کہ این ایس وی آئی نے بھی صدارت کے لئے گیارہ سال بعد کسی لڑکی کو امیدوار بنایا ہے وہ ہیں چیتنا تیاگی ۔اس کے علاوہ اے وی بی پی نے دامنی کین کو اس عہدے پر اتارا ہے اور تیسری طالبہ شیامہ پرساد مکھرجی کالج کی طالبہ روشنی ہے ۔اس کے علاوہ تین اور جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لئے دو لڑکیاں میدان میں ہیں ۔این ایس وی آئی نے اس مرتبہ شہید بھگت سنگھ کالج کی طالبہ چیتنا تیاگی کو اتارا ہے ۔دہلی یونیورسٹی اسوڈینٹ یونین کے چار عہدیداروں کے چناﺅ کے لئے 67امیداواروں نے کاغذات داخل کئے ہیں ۔1924میں امیدوار بودھ اسٹڈیز کے ہیں ۔پانچ ستمبر دوپہر 12بجے تک نام واپس لئے گئے اب بارہ کو مورنگ اور ایونگ میں ووٹ پڑیں گے اس میں مورنگ کے کالجوں کے طالب علم صبح ساڑھے آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک اور ایونگ کالج کے طالب علم تین بجے سے شام ساڑھے سات بجے تک ووٹ ڈال سکتے ہیں ۔اگلے دن یعنی تیرہ ستمبر کو ووٹوں کو گنتی ہوگی ۔سیاست کی پرائمری پاٹھ شالہ مانے جانے والے ڈوسو چناﺅ میں بھی قومی سیاست کی طرح ذات پات حاوی رہے گی ۔ڈو سو کا چناﺅی دنگل اہم طور سے اے وی بی پی اور این ایس وی آئی کے درمیان رہتا ہے ۔دونوں ہی تنظیموں کے امیدواروں میں جاٹ اور گجر کا اثر دکھائی دے رہا ہے ۔مرکزی یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے دہلی یونیورسٹی میں دیش کے ہر کونے ذات و طبقے کے طلباءو طالبات پڑھتے ہیں لیکن جب ڈوسو چناﺅ کی بات آتی ہے تو ذات پات کا اشو اہم سیکٹر بن جاتا ہے ۔پچھلی کئی دہائیوں کے چناﺅ پر نظر ڈالیں تو ڈوسو کے چناﺅی دنگل میں اے بی وی پی ،این ایس یو آئی سے وابسطہ جاٹ گجر برادری کے امیدوار ہی حاوی رہتے ہیں ۔

(انل نریندر)

گنیش انادی کی دنیا بھر میں پانچ ہزار سال سے پوجا ہورہی

گلی محلے میں گنپتی بپا موریہ جے کار ے لگائے جا رہے ہیں ۔پورا دیش گنپتی پوجن کو سمرپت رہا اکیلے راجدھانی دہلی میں ہی مندروں و بستیوں میں گنپتی اتسو کے 300سے زیادہ پروگرام ہوئے مہاراشٹر میں تو پورا صوبہ گنیش اتسو مناتا رہا ۔گنیش انادی ہے تاریخ میں بھی اس کے ثبوت ہیں ان کی پوجا کا ثبوت آج سے پانچ ہزار سال پہلے سے ملتا ہے وہ الگ الگ روپوں میں مختلف سنسکرتیوں میں ہیں ۔جاپان میں انہیں کارتی کے کہا جاتا ہے ۔چین ،افغانستان ،ایران اور میکسیکو میں اس کی مورتیاں ہیں انڈونیشیا کے مشہور برومو کے مہانے پر بیٹھے گنیش کی مورتی ہے انڈونیشیا میں 144جوالا مکھی ہیں جن میں سے 130آج بھی سرگرم ہیں مشرقی جاوا کا ماﺅنٹ بریمو ہی انہیں میں سے ایک ہے یہ ہزاروں برسوں سے دہک رہا ہے ۔اس پہاڑ پر 2329میٹر کی اونچائی پر لاوا پتھروں سے بنے گنیش کی مورتی قریب سات سو سال پہلے لگائی گئی تھی ۔آس پاس کے 48گاﺅں کے تین لاکھ ہندﺅں کا بھروسہ ہے کہ گنیش ان کی رکھشہ کرتے ہیں اور ان کے رکشک ہیں ۔پہاڑ کے سب سے پاس کے گاﺅں کےمیورو لوانگ میں ہندو خاندان رہتے ہیں جنہیں ٹینگ ریس کہا جاتا ہے ۔یہ خود کو بارہویں صدی کے مہاراجا ونش کہتے ہیں ۔ان کے بارے میں مانتا ہے کہ ان کے پوروجوں نے گنیش مورتی لگائی تھی ۔جس جگہ سے جوالا مکھی کی شروع ہوتی ہے ۔وہاں کالے پتھروں سے بارہویں صدی برہما کا مندر ہے ۔دراصل جاوا کی جیپنیز زبان کو برومو کہتے ہیں ۔یوں تو ماﺅنٹ برومو پر سال بھر گنپتی کی پوجا ہوتی ہے ۔لیکن بڑا پروگرام جولائی میں پندرہ دنوں تک چلتا ہے ۔پانچ سو سال سے زیادہ پرانی روایت یادنیا کاسزا کہلاتی جو کبھی رکی نہیں چار جوالا مکھی میں زبردست دھماکے ہی کیوں نہ ہو رہے ہوں ۔2016میں جوالا مکھی میں دھماکے ہو رہے تھے جب بھی سرکار نے صرف پندرہ پوجاریوں کو پوجا کی اجازت دی تھی ۔پوجاریوں کی تعداد میں جو لوگ پہنچ گئے تھے ان کا کہنا ہے کہ گپتی کی پوجانہ ہونے سے عذاب ہو سکتا ہے ۔انڈونیشیا میں گنیش کے بارے میں اتنی روایت ہیں کہ وہاں کے 20ہزار کے نوٹ پر بھی گنیش جی کی تصویر ہے ۔گنیش زمانہ قدیم سے ہی اوتار بتائے گئے ہیں ۔جس میں وہ انسان ،من اور ممتا ،غصہ جیسے آٹھ کمیوں پر کامیابی پانے کے راہ دکھاتے ہیں ۔ان میں گنیش جی کے بھوشک کے علاوہ شیر ،مور،اور شیش ناگ سمیت چار واہن بتائے گئے ہیں یعنی زمین،آسمان اور پانی تینوں میں چلنے والے واہن ہیں ،سندھو گھاٹی اور ہڈپا میں بھی گنیش کی مورتیاں ملی تھیں وہیں ایران کے لیرستان میں بارہ سال قبل عیسوی میں گنیش کی مورتی ملتی ہے ۔کےمگاﺅ غار میں گنیش جی کی چھٹی صدی کی پینٹنگ ملی ہے ۔گنپتی بپا موریہ۔

(انل نریندر)