Translater
25 دسمبر 2025
ایپسٹین فائلوں میں دبے ہیں کئی راز!
امریکی محکمہ انصاف نے نام نہاد فائنانسر اور جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملوں کی جانچ سے متعلق 13 ہزار سے زیادہ فائلیں کھول کر رکھ دی ہیں ۔یہ دستاویز اس قانون کے تحت جاری کئے گئےہیں جس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے مہینہ دستخط کئے تھے ۔حالانکہ طویل انتظار کے باوجود ان فائلوں سے ابھی تک کوئی چونکانے والے انکشافات نہیں ہو پائے ہیں۔زیادہ تر دستاویزوں کو بھاری شکل سے بلاک کئے گئے ہیں ۔جیفری ایپسٹین کی موت ہو چکی ہے ۔امریکی سینٹ نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت جمعہ تک سبھی فائلوں کو پوری طرح منظر عام پر ظاہر کرنا ضروری تھا ۔لیکن اب تک کچھ ہی دستاویز ہی جاری کئے گئے ہیں ۔وہ بھی کئی جگہ کثیر کانٹ چھانٹ کے ساتھ ان دستاویزوں کو پبلک کرنے کے لئے دباؤ بنانے والے سینٹروں نے محکمہ کی کوششوں کو غیر ذمہ دارانہ بتایا ہے وہیں کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ کانٹ چھانٹ سے سازش سے وابستہ دفعات اور مضبوط ہوسکتی ہیں ۔جاری میٹر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوٹو بھی جاری کیا گیا ہے ۔حالانکہ انہیں بچانے کی پوری کوشش کی گئی ہے ۔فائلوں میں ایک فوٹو شامل ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیفری ایپسٹن میلونیا ٹرمپ اور گجلیپ میکس ویلر ایپسٹین کی گرل فرینڈساتھ نظر آرہے ہیں ۔جسٹس محکمہ نے ان فائلوں کے ہٹانے کو لے کر اب تک کوئی صفائی نہیں دی ہے۔جو فائلیں پبلک کی گئی ہیں ان میں امریکہ کے سابق صدر بل گلنٹن ۔ برطانیہ کے شاہی خاندان سے وابستہ اینڈریو ماؤنڈ بیٹن ،وڈسر ،مشہور گلوکار مک جیگر اور مائیکل جیکسن کے نام شامل ہیں ۔حالانکہ ان فائلوں میں کسی کا نام ہونا یا ان کی تصویر ہونا یہ ثابت نہیں کرتاکہ انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے۔جن لوگوں کے نام ان دستاویزات میں آئے ہیں یا پہلے بھی ایپسٹین سے جڑے معاملوں میں سامنے آئے تھے ،ان میں سے کئی نے کسی بھی طرح کی غلط سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے ۔جاری کی گئی تصاویر میں امریکہ کے سابق صدر بلکلنٹن سوئمنگ پول میں دو عورتوں کے ساتھ تیرتے دکھائی پڑتے ہیں ۔یہ تصویر ہاٹ ٹب کی لگتی ہے ۔1990 کی دہائی اور 2000 کے آغاز کے برسوں میں بل کلنٹن کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ کئی مرتبہ تصویریں لی گئی تھیں ۔کلنٹن حالانکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ایپسٹین کے جنسی جرائم سے کوئی معلومات نہیں تھی ۔دستاویزوں کے مطابق جیفری ایپسٹین نے مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ایک 14 سال کی لڑکی سے کرائی تھی ۔امریکی محکمہ انصاف نے جو فائلیں جاری کی ہیں ان میں صدر ٹرمپ کا بھی ذکر ہے ۔اسپتال کے کاغذوں کے مطابق یہ ملاقات فلوڈا کے یور ے لگے ریزورٹ میں1990 کی دہائی بتائی جاتی ہیں ۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ کو کہنی مار کر لڑکی کی جانب اشارہ کیا اور مذاقیہ انداز میں پوچھا کہ اچھی ہے نا ؟ ٹرمپ مسکرائے اور رضامندی سے سر ہلایا۔دستاویز کے مطابق اسے لے کر دونوں ہنسے تھے اور لڑکی کو تھوڑی پریشانی محسوس ہوئی لیکن اس وقت وہ اتنی چھوٹی تھی کہ وہ اس ہنسی کی وجہ کو سمجھ نہیں پائی۔ملاقاتی کا الزام ہے کہ ایپسٹین نے کئی برسوں تک اسے بہکایا اور اس کی جنسی استحصال کیا ۔حالانکہ عدالت میں دائر کاغذوں میں لڑکی نے ٹرمپ پر کوئی الزام نہیں لگایا ۔ان دستاویزوں پر رائے زنی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینڈی گیل جیکسن نے بیان دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی تاریخ سب سے صاف انتظامیہ کی ہے ۔انہوں نے کہا ہزاروں صفحات کے دستاویز جاری کئے گئے ہیں ۔ہاؤس کی اویئر کمیٹی کی جانچ میں تعاون دیا گیا ہے۔ادھر ڈپٹی اٹارنک جنرل ٹارڈ بلانش نے کہا ہے کہ کئی لاکھ صفحات کی بھی اتنی جانچ چل رہی ہے یہ دستاویز ابھی پبلک نہیں کئے گئے ہیں ۔وائٹ ہاؤس اویئر کمیٹی کے ڈیموکریٹک ممبران نے ٹرمپ سے جڑی تصویر کے غائب ہونے پر سوال اٹھائے ہیںاور پوچھاکہ کیا چھپایاجارہا ہے ۔ابھی تک کھیل شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے ؟
(انل نریندر)
23 دسمبر 2025
پھر اٹھی بنگلہ دیش میں شورش کی لہر!
بنگلہ دیش میں یوتھ لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک بار پھر شورش اور تشدد کی لہر دوڑ گئی ہے ۔15 ماہ بعد پھر سے تشدد بھڑک اٹھا ہے ۔بھارت مخالف طالب علم لیڈر شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد کٹر پسندوں نے جمعرات کو دیر رات مٹوگرام میں ہندوستانی ہائی کمیشن پر حملہ کر دیا ۔یہاں ہائی کمشنر کی رہائش گاہ بھی ہے ۔بلوائیوں نے جم کر پتھراؤ کیا اور یمن سنگھ کے ملوکا میں بلوائیوں نے توہین رسالت کا الزام لگا کر ہندو لڑکے دیپو چندر داس کو پیٹ پیٹ کر مارڈالااور پیڑ پر لٹکا کر لاش کو جلا دیا۔بتادیں کٹر پسند ہادی نے پچھلے سال اگست میں طلباء تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ہادی حال ہی میں جماعت اسلامی سے جڑے اقبال منچ میں شامل ہوگیا تھا ۔وہ 12 فروری کو ہونے والے چناؤ میں ڈھاکہ -8 سیٹ سے اتھلاؤ منچ کا امیدواری تھا۔ڈھاکہ میں 12 دسمبر کو عثمان ہادی کو دو لڑکوں نے گولی مار دی تھی اس کو سنگاپور میں علاج کے دوران جمعرات کو موت ہو گئی ۔بھارت کے ساتھ رشتے مسلسل بگڑتے جارہے ہیں ۔پاکستان کے بڑھتے قدم اور بنگلہ دیش سے بگڑتے رشتوں پر پارلیمانی رپورٹ میں ان چیلنجوں کا ذکر کیا گیاہے۔سال 1971 کی جنگ کے بعد بھارت کو بنگلہ دیش میں سب سے بڑے حکمت عملی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔نیشنلزم کے ابھارت ، اسلامی تنظیموں کی دوبارہ سرگرمی اور چین پاکستان کے بڑھتے اثر نے بنگلہ دیش میں بھارت کے سامنے نئی چنوتیاں کھڑی کر دی ہیں ۔اگر وقت رہتے بھارت نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی تو وہ بنگلہ دیش میں ایک طرح سے پنگو ہو جائے گا ۔یہ باتیں بھارت میں خارجی امور کی ایک پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں بتائی گئی ہیں ۔99 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کمیٹی نے بھارت بنگلہ دیش کے رشتوں سے وابستہ ان چنوتیوں کا ذکر کیا ہے جو اگست 2024 کے بعد درپیش ہوئیں ہیں ۔اگست 2024 یہ وہ مہینہ تھا جب بنگلہ دیش میں وسیع لوگ سڑکوں پر اترنے کے بعد دیش کی اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو دیش چھوڑ کر بھار ت میں پناہ لینی پڑی تھی تب سے وہ یہاں رہ رہی ہیں اور دیش میں ایڈمنسٹریٹر محمد یونس کی قیادت والی انترم سرکار کام کررہی ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ تیار کرنے کے لئے ایم پی ششی تھرور کو اس کمیٹی کی سربراہی کے لئے چنا گیا ۔کمیٹی نے وزارت خارجہ کے نمائندوں سے بات چیت کی اور گزشتہ 29 جون کو 4 ماہرین کی رائے بھی سنی ہے ۔ان ماہرین میں سابق نیشنل سیکورٹی مشیر شیو سنکر ، و ریٹائرلیفٹننٹ جنرل سید عطا حسنین وزارت خارجہ کی سابق سیکریٹری رینا گانگولی و دیگر ممبر شامل تھے ۔تجزیہ نگار کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے رشتوں میں موجودہ چیلنجوں کے پیچھے خاص وجہ بھی گنائی گئی ہیں ۔اقلیتوں پر حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کے ہاتھ ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔بنگلہ دیش میں چین کی بڑھتی موجودگی بھی ایک چنوتی ہیں ۔لال منیہار ایئر بیس کی چینی مدد سے بنایا جانا بھارت کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ ہے ۔جماعت اسلامی پارٹی کے لیڈروں کے حالیہ چین دورہ کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ اس سے بنگلہ دیش میں الگ تھلگ سیاسی گروپوں کے ساتھ چین کی گہری بات چیت کا اشارہ ملتا ہے جس کی وہاں اس کی موجودگی اور مضبوط ہورہی ہے۔کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سرکار بنگلہ دیش میں غیر ملکی طاقتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے کیوں کہ کسی بھی ایسے دیش جن کے ساتھ بھارت کے رشتے اچھے نہیں ہیں ۔پاک چین اپنا وہاں فوجی اڈہ بنانے کی کوشش کرے گا۔بھارت کی سلامتی کے لئے وہاں بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔محمد یونس بنگلہ دیش میں تازہ تشدد پر صرف کھاناپوری والے بیان دیتے نظر آرہے ہیں اگر یونس واقعی سست ہو گئے ہیں اور کٹر پسند مشینری بدامنی پھیلانے کے لئے آزاد ہے تو یہ نہ تو بنگلہ دیش کے لئے اچھا ہے اور بھارت کے لئے تو بہت ہی باعث تشویش ہے ہی ۔فی الحال بنگلہ دیش میں جس طرح کی بدامنی پھیل رہی ہے اور اس کے سائے میں بہت کچھ جھلسنے کا اندیشہ ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے بھارت سرکار کو چاہیے کہ وہ ڈپلومیٹک سطح پر ان مسئلوں کو بنگلہ دیش کی انترم سرکار کے سامنے ٹھوس طریقہ سے اٹھائے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !
ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...