Translater

27 دسمبر 2014

آسام میں نہ رکتا دہشت گردانہ تشدد!

ہم نے دیکھا ہے کہ عام طور پر جب ہم دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو ہم ان جہادی گروپوں لشکر طیبہ،جیش محمد اور القاعدہ کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں ان کے ذریعے آتنکی حملوں کی بات کرتے ہیں لیکن دیش کے اندر بھی ایسی کئی تنظیمیں ہیں جو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں لیکن ان کا زیادہ ذکر نہیں ہوتا۔ ایسی ہی ایک تنظیم ہے الفا۔ آسام میں اشتعال انگیزی اور حملوں کا سلسلہ تھوڑے بہت اتار چڑھاؤ کے ساتھ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ 2014 ء کے جاتے جاتے دہشت گردوں نے آسام کے سونی پور اور کوکرا جھار اضلاع میں بھیانک قتل عام کرکے اپنی خونی حرکتوں کو درج کرادیا ہے۔ بوڈو دہشت گردوں نے دور دراز کے آدی واسی دیہات کو نشانہ بنایا ہے۔ مارے گئے لوگوں میں کافی بچے اور عورتیں ہیں۔ غصے میں بھرے آدی واسیوں نے پانچ بوڈو خاندانوں پر بدلہ لینے کیلئے حملہ کردیا۔ اس قتل عام میں 50 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور20 گھر جلا ڈالے۔ اس قتل عام کے پیچھے بوڈو دہشت گردوں کی تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ ہے جسے ہم مخفف میں این ڈی ایف کے نام سے جانتے ہیں، کا ہاتھ ہے۔ یہ قتل عام بتاتا ہے کہ بھارت کے دور دراز سرحدی علاقوں میں مقیم لوگ چٹ پٹ تشدد اور شورش کو جھیل رہے ہیں۔ الفا کے کئی عہدیداران کی گرفتاری اور پھر اس کے چیف کے امن عمل میں شامل ہونے کے بعد سے یہ مانا جارہا ہے کہ آسام کو دہشت گردانہ تشدد سے کافی حد تک نجات مل گئی ہے مگر اس رائے پر ایک بار پھر سے سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دراصل چاہے الفا ہو یا این ڈی ایف بی ہو ان کے جیسے گروپ جو امن معاہدوں میں شامل نہیں ہوئے اب بھی ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں جب تب موقعہ ملتا ہے وہ قتل اور دھماکوں کو انجام دیتے رہتے ہیں۔ کبھی ان کے نشانے پر سکیورٹی جوان ہوتے ہیں تو کبھی عام لوگ۔ آسام کے وزیر اعلی ترون گگوئی نے ان حملوں کو بربریت آمیز قرار دیا ہے۔ این ڈی ایف بی بوڈو علیحدگی پسندوں کی سب سے بڑی مشتعل تنظیم ہے جس سے سرکار کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ آزاد بوڈو لینڈ سے کم بات پر سمجھوتے کو تیار نہیں ہیں۔ این ڈی ایف بی میں دو گروپ ہیں ان میں سے ایک سرکار سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا تو دوسرا گروپ بات چیت کے حق میں ہے۔ جس گروپ نے یہ قتل عام انجام دیا ہے وہ بنیادی طور سے این ڈی ایف بھی کی مسلح یونٹ بوڈو لینڈ آرمی کے سابق چیئرمین سنگپجیت کا گروپ ہے۔ نارتھ ایسٹ کی دہشت گرد تنظیم اپنی موجودگی درج کرانے یا اپنا دبدبہ بڑھانے کے لئے اس طرح کے قتل عام کو انجام دیتی رہتی ہیں۔ ان کے اس کاروبار کا خمیازہ عام شہری بھگتے ہیں۔ نارتھ ایسٹ کا اگر ڈولپمنٹ نہیں ہوا تو اس کے پیچھے ایک وجہ ان تنظیموں کی تشدد آمیز سرگرمیاں ہیں۔ مقامی سیاستداں اپنی سیاست چلانے کیلئے ان گروپوں کا سہارا لینے سے نہیں ہچکچاتے۔ نارتھ ایسٹ کا مسئلہ اتنا سنگین بھی نہیں ہے جتنا بنا دیا گیا ہے۔ اگر ایمانداری سے ان مسئلوں کو سلجھا لیا جائے اور ترقی پر توجہ دی جائے تو وہاں امن قائم ہوسکتا ہے لیکن پہلے قومی دھارا کے بھارت کو نارتھ ایسٹ کے لوگوں سے ذہنی طور پر دوری بنا کر ان کی بات سننی ہوگی۔ تبھی وزیر اعظم نریندر مودی نے نارتھ ایسٹ میں امن قائم کرنے کی سمت میں کچھ قدم اٹھائے ہیں۔ دیکھیں وہ مستقبل قریب میں کتنے کارگر ثابت ہوتے ہیں اور آسام کی عوام کو امن کا دور مل سکتا ہے؟
(انل نریندر)

درجہ حرارت صفر تک گرا کہرے سے تھم گئی زندگی!

راجدھانی دہلی میں سردی نے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ پیر کے روز نہ صرف کم از کم درجہ حرارت پچھلے پانچ برسوں کے سب سے نچلے سطح پر پہنچ گیا بلکہ راجدھانی میں سب سے ٹھنڈے دن کی شروعات ہوگئی۔راجدھانی میں پیر کو شملہ کے مقابلے سب سے زیادہ سردی تھی۔ دہلی میں درجہ حرارت4.2 ڈگری تک پہنچ گیا تھا جبکہ شملہ میں6.2 رہا۔ کبھی کسی نے سوچا نہ تھا کہ پہاڑوں سے زیادہ میدانی علاقوں میں سردی پڑے گی۔ گھنے کہرے سے دہلی میں ٹریفک ٹھپ ہوا۔ اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایئرپورٹ سے قریب20 پروازیں روانہ نہ ہوسکیں اور50 ٹرینیں 12-18 گھنٹے تک لیٹ ہوئیں۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ کے بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری جاری ہے۔ پہلگام میں درجہ حرارت-3.6 ڈگری سیلسیس پر ہے۔ہمالیہ کے کالپا میں درجہ حرارت -0.1 ڈگری سیلسیس پر رہا۔ اترپردیش میں 24 گھنٹے کے اندر21 لوگوں کی جانیں سردی سے گئیں۔ بنارس ،میرٹھ، الہ آباد، گورکھپور میں رات کا درجہ حرارت صفر تک پہنچ گیا ہے۔ پرتاپ گڑھ ضلع میں سب سے زیادہ کم درجہ حرارت2.2 ڈگری سیلسیس تک ریکارڈ کیا گیا۔ راجدھانی میں پڑ رہی کڑاکے کی سردی نے بدھوار کو اپنا پچھلا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ منگلوار کے مقابلے میں بدھوار کو زیادہ سے زیادہ اور کم از کم درجہ حرارت بسلسلہ ایک ایک ڈگری سیلسیس کی گرواٹ آئی اور کہرہ چھایا رہا اس کی وجہ سے یمنا ایکسپریس وے میں اب تک کا سب سے بڑا حادثہ رونما ہوا۔ یہاں پر ایک ساتھ 70 سے زیادہ گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے یہ سب سے بڑا حادثہ بن گیا۔ اب سے پہلے کہرے کے چلتے یمنا ایکسپریس وے پر پچھلے 22 سال اور نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور ایکسپریس وے پر چار سال پہلے25 گاڑیاں ٹکرائی تھیں۔ بدھوار کو ہوئے حادثے میں سب سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے اور کئی موتیں بھی ہیں۔حادثے کے لئے کہرے کے ساتھ ڈرائیوروں کی لاپروائی بھی ذمہ دار ہے۔دھند کی وجہ سے30 سے50 میٹر تک کوئی چیز دکھائی نہیں دی لیکن کئی لوگ100 سے زیادہ کی رفتار سے چل رہے تھے۔ قریب صبح ساڑھے آٹھ بجے زیرو پوائنٹ سے 24 کلومیٹر دور ٹول پاس پر ایک کے بعد ایک 70 گاڑیاں ٹکراتی گئیں۔ حادثے میں بی ایچ ایل کے جنرل منیجر اور ڈپٹی منیجر کی موت ہوگئی۔ کئی غیر ملکی سیاحوں سمیت 22 لوگ زخمی ہوئے۔ الزام یہ ہے پولیس ملازمین نے وصولی کے لئے ایک ٹرک کو رکنے کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد ڈرائیور نے اچانک بریک لگادیا اور گھنے کہرے میں گاڑیاں ٹکراتی چلی گئیں۔ این سی آر سمیت شمالی بھارت میں کڑاکے کی سردی سے ابھی تک کوئی راحت ملتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ این سی آر میں ہنڈن کا درجہ حرارت تو 2.3 ڈگری تک سردی بڑھنے کی پیشگوئی محکمہ موسمیات نے کردی ہے۔ اگلے تین دن میں درجہ حرارت کم ازکم 2.3 ڈگری تک اور گرے گا۔
(انل نریندر)

26 دسمبر 2014

بھارت کے سب سے کرشمائی لیڈر اٹل بہاری واجپئی!

شری اٹل بہاری واجپئی صاحب کو بھارت رتن دئے جانے سے جتنی خوشی ہمیں ہورہی ہے اس کو ہم لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔ اٹل جی ہمارے ہمیشہ قریب رہے ہیں۔ سبھی کو معلوم ہے کہ شری اٹل بہاری واجپئی دینک ویرارجن کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اٹل جی کی سب سے بڑی خوبی یہ رہی کہ وہ انسانی ہمدردی کی علامت ہیں کیونکہ وہ ایک عمدہ ہندی شاعر بھی ہیں۔ سیاستدانوں کی خوبیوں اور خامیوں سے آراستہ شخصیت ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی کسی بھی پارٹی سے شخصی طور پر مخالفت نہیں کی اور مخالفت کرنے کا بھی ان کا اپنا انداز ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک تلخ آرٹیکل لکھاتھا جس کا عنوان تھا ’’دیش کوا ٹل جی چلا رہے ہیں یا برجیش مشرا؟‘‘ اٹل جی نے فوراً مجھے فون کیا اور کہا ایڈیٹرصاحب دیش کون چلارہا ہے؟ اور پھر مسکرادئے۔ یہ تھا ان کا احتجاج کرنے کاطریقہ۔ میری نظر میں اٹل جی بھارت کے سب سے اچھے وزرائے اعظم میں سے ایک تھے۔ پوکھرن 2- ایٹمی تجربہ جب ہونا تھا تو امریکہ سمیت کچھ ملکوں نے اس کی جم کر مخالفت کی تھی۔ مگر انہوں نے ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کرنیوکلیائی تجربہ کرڈالا۔ جب نیوکلیائی تجربہ ہوگیا تو امریکہ کی رہنمائی میں اس کے پچھل پنگو ملکوں نے بھارت پر اقتصادی پابندیاں اور اقتصادی بندشیں لگادیں۔ ان پابندیوں سے ہندوستان کی معیشت ڈگمگانے کا خطرہ تھا لیکن اٹل جی اس سے پریشان نہیں ہوئے اور انہوں نے تارکین وطن ہندوستانیوں سے دیش کی مدد کرنے کی اپیل کی۔اس اپیل کا اثر یہ ہوا کروڑوں ڈالر این آر آئی نے اکٹھا کرکے ہندوستان کو بھیج دئے۔ اس سے ہندوستان کی معیشت کو نقصان نہیں ہوا۔ تارکین وطن ہندوستانیوں کی کانفرنس کا آغاز اٹل جی نے ہی کیا تھا جو آج تک ہوتی آرہی ہے۔ 2004 میں اٹل جی کی حکومت پیداوار شرح 6.5 فیصدی تک لے آئی تھی اورمہنگائی بھی صرف 3.5 فیصدی تک آگئی تھی۔ اس کے بعد یہ بڑھتی ہیں گئی اور پھر کبھی یہ پیداوار شرح و مہنگائی اتنی آگے نہیں بڑھ سکی۔ اٹل جی ایک اصلاح پسند لیڈر ہیں جب جنتا پارٹی کی سرکار میں وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے تو انہوں نے پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے پاکستان کا ویزا آسان کردیا تھا۔ اس سے ہندوستانیوں کو پاکستان جانے میں آسانی ہوگئی تھی۔پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے مقصد سے وہ لاہور بس میں گئے لیکن مشرف نے ہندوستان کی پیٹھ میں خنجر گھومپ پر کارگل جنگ کرادی۔ مجھے اٹل جی کے ساتھ اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کیلئے امریکہ جانے کا موقعہ ملا۔ یہ دورہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اقوام متحدہ میں جب اٹل جی ہندی میں تقریر کی تو ان کا طرز انداز دیکھ کر سبھی موجود نمائندے اور سربراہ مملکت خوش ہوگئے۔اٹل جی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ہندوستانیوں کو عرب ممالک میں جانے سہولت ملی ۔ اس سے لاکھوں ہندوستانی عرب ممالک میں گئے، وہاں نوکریاں پائیں اور پیسہ بھیجنا شروع کردیا، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔بھارت کے سب سے کرشمائی لیڈروں میں اٹل بہاری واجپئی شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے دیش کو سیاسی پلیٹ فارم پر ایک ایسی شخصیت والے لیڈر کی شکل میں ان کا احترام کیا جاتا ہے جن کی وسیع سطح پر کافی پہنچ ہے اور انہوں نے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے90 کی دہائی میں سیاست کے اہم اسٹیج پر بھاجپا کو مضبوط کرنے میں اہم رول نبھایا۔ویر ارجن پر اٹل جی نے نمایاں چھاپ چھوڑی ہے۔ ویر ارجن کے اداریہ پیج پر سب سے اوپر سنسکرت کا یہ مقولہ لکھا جاتا ہے ’’ارجنسے پرتگیہ ہے، نہ دینیہ نہ پلائنمو‘‘ اٹل جی لوک سبھا میں اپنا استعفیٰ دینے سے پہلے آخری بار یہ مقولہ پڑھ کر استعفیٰ دینے راشٹرپتی بھون چل دئے۔ ہم نے اس مقولہ کو اپنالیا اور ویر ارجن کے ادارتی صفحہ پر سب سے اوپر لکھ کر انہیں کہ راستے پر چلنے کی کوشش کی۔ اٹل جی کو بھارت رتن دینے سے اپنے آپ کو بھی بہت قابل فخر محسوس کررہے ہیں۔ اٹل جی کو روزنامہ پرتاپ، دینک ویر ارجن اور ساندھیہ ویر ارجن کی جانب سے بہت بہت مبارکباد۔
(انل نریندر)

ڈیرے کے’’ میسنجر آف گاڈ‘‘ فلم پر چھڑا تنازعہ!

ہریانہ کے سرسہ کے متنازعہ ڈیرہ سچا سودا کے پیشوا گورمیت رام رحیم سنگھ ایک بار پھر تنازعات میں گھر گئے ہیں۔اگلے ماہ ریلیز ہونے والی ان پر بنی فلم پر بہت سی سکھ انجمنوں نے پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ 16 جنوری2015ء کو ریلیز ہونے والی ’’میسنجر آف گاڈ‘‘ کو لیکر سکھوں کی کچھ جتھے بندھیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فلم کو پنجاب میں نہیں چلنے دیں گے۔ آل انڈیا سکھ اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے پردھان کرنیل سنگھ پیر محمد نے امرتسر میں پریس کانفرنس کرکے پوچھا کہ فلم بنانے کیلئے بابے نے کہاں سے پیسہ لیا۔ اس کے علاوہ اکالی دل امرتسر کے پردھان سمرجیت سنگھ مان نے کہا کہ سینسر بورڈ اس فلم کو دیش بھر میں پابندی عائد کرے کیونکہ اس میں گوروبانی کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔رام رحیم سکھوں کو بدنام کررہے ہیں۔ مان نے کہا اس کے پیچھے آر ایس ایس بھی ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی خود ان کے ڈیرے پر آئے تھے۔ حالانکہ دمدمی ٹکسال کے چیف ہرنام سنگھ گھوما نے کچھ کہنے سے منع کردیا۔ سرسہ ڈیرہ کے چیف سنت گورمیت رام رحیم پر بنی فلم میں سنت نے ہیرو کا رول خود نبھایا ہے۔ 60 دن میں بنی اس فلم میں گانے بھی رام رحیم نے ہی گائے ہیں۔سنت نے اپنے سرسہ ڈیرے کے علاوہ پالم پور میں بھی شوٹنگ کی ہے۔ اکالی دل نے اپنا موقف ظاہر نہیں کیا ہے۔ فلم کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ریاست کے وزیر تعلیم اور شرومنی اکالی دل کے ترجمان ڈاکٹر دلبیر سنگھ چیما نے کہا کہ ابھی اس اشو پر کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک فلم بازار میں نہیں آتی۔ اکال تخت کے چیف گوربچن سنگھ نے کہا کہ ڈیرا چیف پر قتل اور آبروریزی کا الزام ہے ان کی فلم سے لوگ گمراہ ہوسکتے ہیں۔ پنجاب سرکار سے اس فلم پر پابندی لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فلم سکھ ہندو اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ کرنیل سنگھ پیر محمد نے بھی مرکز اور ریاستی حکومت سے فلم کی ریلیز پر روک لگانے کوکہا ہے۔ پچھلے دنوں اکال تخت نے لوگوں سے ڈیرا چیف کے دھارمک سماگموں میں نہ جانے کی اپیل کی تھی اور سکھ انجمنوں کا فرض ہے کہ وہ اس فلم کو ریلیز نہ ہونے دیں۔ اکال تخت نے سرسہ کے ڈیرا چیف گورمیت رام رحیم کے ذریعے مبینہ طور پر سکھوں کے 10 ویں گورو گوبند سنگھ کا بھیس اپنائے جانے پر بھی اعتراض جتایا تھا جس کے بعد پنجاب میں سکھوں اور ڈیرا حمایتیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اس فلم سے ایک بار پھر اکالیوں اور ڈیرا حمایتیوں میں کشیدگی بڑھے گی اور خون خرابہ ہوگا۔ دونوں مرکز اور ریاستی سرکاروں کے لئے یہ چیلنج ہوگا کہ فلم ریلیز ہونے سے پہلے اور بعد میں قانون و نظام نہ خراب ہو ۔اس فلم کے ہیرو اور ہدایتکار، موسیقار گورمیت رام رحیم خود ہی ہیں۔ فلم کا ٹریلر سوشل میڈیا پر آچکا ہے۔ ڈیرا کے ماننے والوں کا دعوی ہے ملک و بیرون ملک میں ان کے پانچ کروڑ حمایتی ہیں۔ ہریانہ میں ان کے 25 لاکھ ماننے والے ہیں۔
(انل نریندر)

25 دسمبر 2014

جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے چناؤ نتائج کیا اشارہ دیتے ہیں؟

جموں وکشمیر اور جھارکھنڈ اسمبلی چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے رتھ پر سوار ہوکر اب تک کی سب سے شاندار پرفارمینس کا مظاہرہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نہ صرف دوسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے بلکہ ووٹ شرح کے لحاظ سے بھی سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ اس چناؤ میں اسے 23 فیصدی ووٹ ملے جبکہ پچھلی بار پارٹی نے 11 سیٹیں جیتی تھیں جو اس بار دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔ پارٹی کے لئے مشن44 بھلے ہی نمبروں میں پورا نہیں ہوپایا لیکن جموں و کشمیر میں پارٹی کا ابھرنا یقینی طور سے یہاں کی سیاست میں ایک نیاموڑ مانا جارہا ہے۔ حالانکہ کشمیر وادی میں بی جے پی کھاتہ نہیں کھول پائی لیکن اپنی موجودگی درج کرانے میں کامیابی ضرور ملی۔ پارٹی دو فیصدی ووٹ لیکر باقی بھارت اور پاکستان حمایتی علیحدگی پسندوں کو ایک پیغام دینے میں ضرور کامیاب رہی۔ علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کی اپیل تبدیلی مذہب جیسے اشو نے پارٹی کی ووٹنگ پر اثر ڈالا ہے۔ دوسری طرف جھارکھنڈ کی بات کریں تو اس ریاست میں بی جے پی کی اگلی سرکار بننے جارہی ہے۔ ریاست کے قیام کے ڈیڑھ دہائی بعد پہلی بار ایسا موقعہ آیا ہے کہ چناؤ سے پہلے اتحاد کی ریاست میں اکثریتی حکومت ہوگی۔عدم استحکام کے سبب جھارکھنڈ نے سیاسی زوال کے کئی دور دیکھے ہیں۔ بی جے پی باقاعدہ طور پر بدھوار کو جھارکھنڈ میں نئے وزیر اعلی کے نام کا اعلان کرے گی لیکن یہ لگتا ہے کہ اس بار پہلی بار غیر آدی واسی وزیر اعلی بنے۔ آدی واسی لیڈروں اور ریاست کے سابق وزرائے اعلی کی بات کریں تو ووٹروں نے ان سرکردہ لیڈروں کو آئینہ ضرور دکھا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی ریاستوں کے وزرائے اعلی اپنی ممبری بچانے میں بھی بمشکل کامیاب رہے۔ جب وہ دو دو سیٹوں پر لڑے تھے۔
نیشنل کانفرنس کے چیئرمین اور چھ سال سے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی رہے عمر عبداللہ سرینگر ضلع کی سونوار سیٹ سے پی ڈی پی کے امیدوار اشفاق میر سے ہار گئے جبکہ بڈگام ضلع کی ویروا سیٹ پرایک ہزار ووٹوں سے جیت پائے۔ وہیں جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمت سورین بھی دمکا اور برہیٹ سیٹ سے لڑے لیکن کامیابی انہیں برہیٹ ہی میں ملی۔ پچھلی مرتبہ وہ دمکا سے کامیاب ہوئے تھے۔ ادھر ریاست کے پہلے وزیر اعلی اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے پردھان بابو لال مرانڈی گریڈی اور دھنوار دونوں سیٹوں پر ہارگئے۔ گریڈی میں بھاجپا کے نرمے شابکش نے انہیں ہرایا۔ اس کے علاوہ تین بار وزیر اعلی رہ چکے ارجن منڈا کی ہار نے بھاجپا کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ منڈا کو ریاست کے وزیر اعلی کے دعویداروں میں سب سے اوپر مانا جاتا تھا۔ جھارکھنڈ سے ہی ایک اور سابق وزیر اعلی مدھو کوڑا کو بھی عوام نے مسترد کردیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی بیوی گیتا کوڑا مغربی سنگھ بھوم ضلع کی جگناتھ پور سیٹ سے جیت گئی ہیں۔ ویسے ان چناؤ سے کئی اشارے ضرور ملتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ نریندر مودی کا جادو لوک سبھا چناؤ جیسا اب نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر وادی میں بی جے پی کو لوک سبھا چناؤ سے بھی کم ووٹ ملے ہیں ، جھارکھنڈ میں بی جے پی کا دائرہ سمٹا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے دوران بی جے پی جھارکھنڈ میں اکیلے54 اور جموں و کشمیر میں26 سیٹوں پر آگے تھی۔ دوسری بات جو ابھر کر سامنے آئی ہے وہ ہے بی جے پی کو اتحادی کی سیاست پر پھر سے غور کرنا پڑسکتا ہے۔ 
مرکز میں اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف ہاتھ ملا رہی ہیں۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کے خلاف دو بڑی پارٹیاں ہاتھ ملا لیتیں تو تصویر بدل سکتی تھی۔ ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ملا۔ تیسرا مرکز کی مودی سرکار کیلئے اسمبلی چناؤ میں جیت راجیہ سبھا میں مضبوطی دے گی۔ اس ایوان میں پارٹی کے کمزور ہونے کی وجہ سے اقتصادی اصلاحات بل رکے پڑے ہیں۔ چوتھی بات اگلے سال دہلی اور بہار میں چناؤ ہونے ہیں ان نتیجوں کا اثر بھی پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کیلئے ہار کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس چوتھے نمبر پر رہی۔ کبھی یہ دیش میں سب سے زیادہ ریاستوں میں سب سے بڑی پارٹی بنی رہتی تھی۔ کانگریس کے لئے یہ چناؤ بھی ایک تباہ کن خواب کی طرح رہا۔ اب پارٹی کے اندر لیڈر شپ کو لیکر پھر سے سوال اٹھے گا۔ چناؤ نتیجوں نے دونوں ریاستوں کیلئے امکانات کے دروازے کھول دئے ہیں۔
لوک سبھا چناؤ کے دور سے ہی پارٹی عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے۔ جھارکھنڈ کو پہلی بار پائیدار حکومت کا احساس ہوگا۔حکمراں مخالف لہر میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کو بیشک اقتدار سے باہر کردیا ہو لیکن پارٹی کا یہاں صفایا نہیں ہوا۔ آدی واسیوں کا چہرہ مانے جانے والی یہ پارٹی ایک مضبوط اپوزیشن کی شکل میں نئی سرکار کے لئے زور دار طریقے سے نکیل کسنے کا رول نبھا سکتی ہے۔ کانگریس کی گراوٹ پر شاید کسی کو حیرت ہوئی ہو لیکن لالو اور نتیش کا اتحاد جس طرح یہاں مار کھاگیا وہ بہار کے ان دو سرکردہ لیڈروں کیلئے اچھا اشارہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس ریاست میں اگلے سال چناؤ ہونے والے ہیں۔ دہلی میں بھاری بھرکم ریلی میں لالو اینڈ کمپنی نے جو ہوا بنانے کی کوشش کی تھی اس پر ان چناؤ نتائج نے پانی پھیردیا ہے۔ سب سے بڑا معجزہ تو جموں و کشمیر میں دیکھنے کو ملا۔ جس بھاجپا کو آج تک اپنی موجودگی درج کرانے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی تھی وہ اچانک یہاں کے اقتدار کیلئے ایک مضبوط طاقت بن کر سامنے آئی ہے۔ امت شاہ نے یہاں 44+ کی ایسی سیاسی چال چلی کہ چناؤ بائیکاٹ کی پاکستانی سازش دھری کی دھری رہ گئی اور ووٹروں نے بے خوف اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا اور گولی کی جگہ ووٹ بھاری پڑا۔ یہ ہماری جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ بھی ہے اور ہمارے دشمنوں کے منہ پر کرارا طمانچہ بھی ہے۔ آخر میں ہمیں چناؤ کمیشن کو بدھائی دینی ہوگی کہ تشدد کاشکار ان دونوں ریاستوں میں وہ کامیابی سے چناؤ کروانے میں کامیاب رہے۔ بھارت کی جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

24 دسمبر 2014

ڈرگس ریکٹ میں مجیٹھیا کو سمن!

پنجاب میں ڈرگ ریکٹ زوروں سے پھل پھول رہا ہے۔وقتاً فوقتاً یہ تشویشناک خبریں آتی رہتی ہیں کہ پنجاب میں منشیات کا استعمال مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ پنجاب کے ایک کیبنٹ وزیر وکرم سنگھ مجیٹھیا کو ڈرگ دھندے سے جڑی منی لانڈرنگ کے معاملے میں جانچ کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پنجاب کے وزیر محصول مجیٹھیا کو ڈرگس اسمگلروں کے گوروہ کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ گھوٹالے میں 26 دسمبر کو پیش ہونے کے لئے سمن جاری کیا گیا ہے۔ بتادیں کہ مجیٹھیا بادل خاندان کے قریبی رشتے دار ہیں اورنائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل کے سالے اور مرکزی وزیر مملکت ہرسمرت کے بھائی ہیں۔ مرکزی وزارت مالیات کے ماتحت مالیاتی جانچ ایجنسی انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ میں شامل لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جس کو بے نقاب تارکین وطن ہندوستانی انوپ کہلو کی مدد سے مارچ2013ء میں فتح گڑھ صاحب تھانے میں کیا گیا۔اس کے بعد ہوئی جانچ میں پچھلے سال نومبر میں مبینہ سرغنہ جگدیش سنگھ بھولا کی گرفتاری ہوئی جو پنجاب پولیس کے معطل ڈی ایس پی ہیں۔ پولیس کو بیان دیا کہ پورا ڈرگ ریکٹ مجیٹھیا کی نگرانی میں چلتا ہے اور اس کی جانکاری پولیس کو بھی ہے۔ حالانکہ مجیٹھیا نے ان الزامات کو غلط بتایا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مجیٹھیا سے پوچھ تاچھ کے لئے 50 سوالوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ مجیٹھیا نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے طلب کیا ہے۔ یہ بھی بتایا کہ ہو اس ریکٹ کے سامنے آنے کے دن ہی جانچ میں مدد دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے پنجاب کے نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل کی بیوی اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور کے چھوٹے بھائی وکرم سنگھ مجیٹھیا کا نام ڈرگ اسمگلروں کی اس فہرست میں تھا جسے سابق ڈی جی پی جیل ششی کانت نے وزیر اعلی کو سونپی تھی۔ اپوزیشن اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتی آرہی ہے لیکن ریاستی حکومت نے پولیس سے جانچ کراکر مجیٹھیا کو کلین چٹ دے دی تھی۔ مجیٹھیا کے حکمراں بادل پریوار سے انتہائی قریبی رشتے ہونے اور اتحادی بھاجپا کے ساتھ کشیدگی بھرے رشتوں کے چلتے پنجاب کی سیاست میں طوفان آسکتا ہے۔ شیو سینا کے ساتھ کچھ وقت پہلے ہوئی زور دار نوک جھونک کے بعد کیا بی جے پی اپنی ایک اور اتحادی پارٹی اکالی دل سے لڑنے کی حالت میں پہنچ رہی ہے؟ بی جے پی کے تیز طرار نیتا نوجوت سنگھ سدھو اور اکالیوں کے درمیان پہلے سے ہی ٹکراؤ چل رہا ہے۔ مجیٹھیا کو سمن کے پیچھے کچھ لوگ کافی دنوں سے لگے ہوئے ہیں۔ ان کی مانیں تو یہ بی جے پی اور اکالیوں کے درمیان خلیج بڑھانے کی شروعات ہے اس لئے مجیٹھیا سکھبیر کے سالے ہیں اور ہرسمرت کور کے چھوٹے بھائی ہیں یعنی جانچ کی دستک درپردہ طور پر بادل خاندان کے دروازے پر ہے۔6 ہزار کروڑ روپے کے اس ڈرگ ریکٹ میں مجیٹھیا کا ذرا سی بھی رول سامنے آتا ہے تو انہیں گدی چھوڑنے پڑ سکتی ہے اور اس سے بھاجپا اور بادل خاندان میں تلخی بڑھے گی۔
(انل نریندر)

ان ٹریفک جام کی وجہ سے وقت اور ایندھن کی بڑھتی بربادی!

دہلی میں ٹریفک جانچ کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے۔ کئی چوراہوں خاص کر آئی ٹی او چوراہے پر تو لال بتی 10 سے15 منٹ تک رہتی ہے۔ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ وقت کیلئے بنی رہتی ہے۔ کہیں بھی وقت پر پہنچنے کیلئے بہت پہلے سے نکلنا پڑتا ہے تاکہ وقت پر پہنچیں۔ راجدھانی کی سڑکوں پر ٹریفک جام کے مسئلے سے نہ صرف وقت اور ایندھن کی بربادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ دھوئیں سے آلودگی بھی بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی آئی دہلی کی ایک ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ ٹریفک جانچ میں پھنسنے کی وجہ سے گاڑیوں کا تقریباً دو سے پانچ لاکھ لیٹر ڈیزل ۔پیٹرول ہر روز برباد ہورہا ہے۔ آئی ٹی آئی کے ٹرانسپورٹیشن اینڈ انجیری پریوینشن پروگرام (ڈرپ) کے تحت کئی گئی اس ریسرچ میں چونکانے والی بات سامنے آئی ہے۔ سائنس، تکنیکی اور میڈیکل لائن والے جریدے ایل ایس ویئر میں شائع ریسرچ میں سامنے آیا کہ جام کے سبب گاڑی اپنے سفر کا24 فیصد وقت 4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہی چل پاتے ہیں۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ راجدھانی کی سڑکوں پر ہر وقت تقریباً 10 لاکھ گاڑیاں دوڑتی رہتی ہیں۔ ان میں بس، کار کے علاوہ ٹووہیلر اور آٹو رکشا وغیرہ بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ دہلی میں کل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد80 لاکھ سے زیادہ پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد ممبئی، کولکتہ، چنئی سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ7 لاکھ گاڑیاں ایسی ہیں جو سال 2010ء سے آلودگی کنٹرول کی باقاعدہ جانچ کر اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کررہی تھیں جس سے ٹریفک جام کے صحیح اثر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔اسٹڈی میں مزید بتایا گیا کہ دہلی کی سڑکوں پر 4.4 سے 4.7 سال تک کی اوسط عمر والی کار اور بائیکل چل رہی ہیں جبکہ 17فیصدٹرک اور15 فیصد ٹیمپو 10 سے15 سال پرانے چل رہے ہیں۔ ڈرپ کے پروجیکٹ سائنٹسٹ سرت کٹی کنڈا کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی آلودگی کنٹرول ہونے پر نگرانی رکھنا اس مسئلے کا فوری قدم ہے جبکہ سڑکوں کی بہتری اور ٹریفک سسٹم کو ریڈ لائٹ سے مستثنیٰ کرنا ٹریفک جام کے مسئلے سے نمٹنے کا طویل المدت قدمت ہے۔ اس مسئلے کا ایک واحد مستقل حل یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو درست کرنا اور اسے مقبول بنانا۔ اس کیلئے یونیفائڈ بس روڈ بنانے ۔ ہر علاقے کو جوڑتے ہوئے روٹ اور بسوں کی تعداد بڑھانے، چھوٹی اے سی بسوں کی تعداد بڑھائی جانا ضروری ہے۔ آئی آئی ٹی چوک کی بات کریں تو 15 لاکھ کی چپت روزانہ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے بریک ڈاؤن سے دوسری گاڑیوں کو لگ رہی ہے۔400 بسوں کے روزانہ بریک ڈاؤن کا مطلب10 سے15 ہزار لیٹر پیٹرول اور قریب 5 ہزار لیٹر ڈیزل کی بربادی ہے۔ 15 لاکھ روپے روزانہ اتنے ایندھن پر خرچ ہوتے ہیں ۔ ایک برس میں یہ نمبر50 کروڑ کو پار سکتا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر روزانہ ہونے والے حادثوں کی تفصیل الگ ہے۔ تشویش کا باعث یہ ہے کہ راجدھانی میں اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے۔ گاڑیوں کی تعداد بدستور بڑھ رہی ہے۔
(انل نریندر)

23 دسمبر 2014

’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔۔ میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘

ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر اعظم نریندر مودی کافی دکھی ہیں۔انہوں نے سنگھ اور پارٹی کے سینئر لیڈروں کو اشارہ دے دیا اگر یہی حالات بنے رہتے ہیں تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیں گے۔ انہوں نے سنگھ کے لیڈروں سے کہا کہ مجھے عہدے کا لالچ نہیں ہے ۔ ہندی فلم کی یہ مشہور لائنیں ’’مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا، میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا‘‘مودی حکومت پر یہ سطور بالکل کھری بیٹھتی ہیں۔ مودی سرکار کو مرکز میں آئے ابھی 7 مہینے بھی نہیں گزرے لیکن اس وقت جتنی تنقید آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں نے کی ہے اتنا تو خود اپوزیشن پارٹیاں بھی نہیں کرپائیں۔ اور تو اور حکومت کی کرکری یا کہیں اپوزیشن کو مودی سرکار پر حملہ کرنے کا اشو مل گیا ہے۔ بھاجپا کے پاور ہاؤس مانے جانے والے آر ایس ایس کے لوگ یہ اشو دستیاب کرا رہے ہیں ۔ عموماً کسی بھی حکومت کا پہلا سال ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میعاد میں خود اپوزیشن بھی حکمراں پارٹی کی پالیسیوں اور ان کے ذریعے کی جانے والی غلطیوں کاانتظار کرتی ہے۔ اس کے بعد ہی سرکار کے کام کاج کی بنیادپر نکتہ چینی شروع ہوتی ہے۔ لیکن یہاں تو حالات ہی بالکل الٹے ہیں۔ آر ایس ایس اور سے وابستہ مختلف تنظیموں نے گھر واپسی کے نام پر جیسی ہڑبڑی اور دکھاوے کا مظاہرہ کیا ہے اس سے دیش دنیا کو یہ غلط پیغام گیا ہے۔ بھاجپا مخالف سیاسی پارٹیوں کو منفی پروپگنڈہ کرنے کا موقعہ بھی ملا ہے۔ جب مناسب طریقے سے کی گئی تبدیلی مذہب یا پھر گھر واپسی پر کسی طرح کی پابندی نہیں تب پھر کسی بھی تنظیم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اس معاملے میں نشانہ طے کرتی اور مہم چھیڑتی نظر آئے۔ مبینہ گھر واپسی کے سلسلے میں اس طرح کے اعلانات تو سخت اعتراض آمیز ہیں۔ ہم ایک طے برس تک سب کو ہندو بنا دیں گے۔ ایسے اعلانات سے دیش کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کی بھی بدنامی ہورہی ہے جو اپنی فراخدلی اور بھائی چارگی کے لئے زیادہ جانا جاتا ہے۔ مودی کا درد صرف سنگھ میں ہی نہیں بلکہ ان کے گھر میں بیٹھے لوگ بھی ہیں۔ اس کڑی میں پہلا نام سادھوی نرنجن جوشی کا ہے دوسرا نام ساکشی مہاراج کا۔ ابھی مودی ممبران پارلیمنٹ پر کنٹرول ہی کررہے تھے کہ بھاجپا کے بزرگوار اترپردیش کے گورنر نے رام مندر کا راگ چھیڑ کر سرکار کے سامنے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ اتنے واویلے کے بعد بھی لگتا ہے کہ سنگھ کے لوگوں نے ابھی کوئی سبق نہیں لیا ہے کم سے کم سنگھ چیف موہن بھاگوت کے کولکتہ میں دھرم پریورتن پر دئے گئے بیان کو دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا مودی نے سنگھ کے نیتاؤں سے کہا کہ اس طرح کے بیانوں سے سرکار کی ساکھ ملیا میٹ ہورہی ہے۔ بھاجپا کی دلیل ہے کہ سرکار گڈ گورنینس کے ایشو پر جیت کر آئی ہے اور اس طرح کی بیان بازی سے مودی سرکار کی کٹر ساکھ بننے کا خطرہ ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں بھی مودی نے سخت الفاظ میں اس طرح کے بیانات سے بچنے کیلئے کہا تھا لیکن اس کے فوراً بعد ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے متنازعہ بیان دے دیا۔ پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اگر ایسی طرح کے متنازعہ بیان چلتے رہے تو کسی بھی وقت دہلی اسمبلی چناؤ کا اعلان اور 2017 میں یوپی کا مشن فیل ہوسکتا ہے۔اس سے آر ایس ایس کے منصوبوں کو بھی دھکا لگے گا۔ خیال یہ بن رہا ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار میں آتے ہی آر ایس ایس کا قبضہ ہورہا ہے۔ویسے بھی یہ پیغام بے مطلب نہیں کہ تبدیلی مذہب یا گھر واپسی میں کہیں نہ کہیں لالچ کا بھی رول ہوتا ہے۔ ان حالات میں یہ سب ضروری ہوگیا ہے کہ تبدیلی سے متعلق قانون کو درست کرکے سخت اور اس سے وابستہ تنظیم یہ سمجھیں کہ اگر وہ مودی سرکار کے ہمدرد ہیں تو گھر واپسی و دیگر ایسے اشو کو فوراً ترک کریں۔ مودی سرکار کے ترقی کے ایجنڈے کو چلنے دیں۔ بے وجہ انہیں الجھائے نہ رکھیں۔ یہ سب متنازعہ اشو بعد میں بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، سرکار کو صحیح معنی میں جمنے تو دیں۔
(انل نریندر)

جہادی آتنکی تنظیموں نے عورتوں و بچوں پر قہر ڈھایا!

آج کل پوری دنیا میں دہشت گردی سے متعلق خبریں پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ بچے ،عورتیں بھی اب ان دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر آچکی ہیں۔ آئے دن عورتوں پر دہشت گردوں کے قہر سے متعلق خبریں پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ شام اور عراق میں دہشت کا سامراج قائم کرنے کی چاہ رکھنے والے بربریت والی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے مبینہ طور سے عراق کے فالوجا شہر میں 150 لڑکیوں اور عورتوں کو صرف اس لئے موت کی نیند سلا دیا کہ انہوں نے ایک دہشت گردی تنظیم کے جہادیوں سے نکاح کرنے سے منع کردیا تھا۔ ’ڈیلی میل‘ اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق عراق کے انسانی حقوق وزارت نے ایک پریس ریلیز میں خبردی ہے کہ ابو انس البی نامی اس تنظیم کے خونخوار قاتلوں نے الانور صوبے میں تشدد کا یہ ننگا ناچ کیا ہے۔ابو انس نے ان عورتوں کو جہادیوں سے پہلے نکاح کرنے کو کہا لیکن ان عورتوں نے جب نکاح کرنے سے انکارکردیا تو ان سب کو لائن میں لگا کر ان کو قتل کردیا۔مری عورتوں میں زیادہ تر ذرادی قبیلے کی تھیں۔ کئی عورتیں حاملہ بھی تھیں۔ عورتوں پر آئی ایس کا یہ ظلم کچھ نیا نہیں ہے اس کے لئے عورتیں محض ایک شے کی طرح ہیں جنہیں وقت کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ آئی ایس جن علاقوں پر قبضہ کرتا ہے وہاں کی عورتوں کو غلام بنا کر بیچ دیتا ہے۔ مارنے کے بعدان کی لاشیں فالوجا کی ایک قبر میں اجتماعی طور پر دفنا دی گئیں۔ اس ریلیز کے مطابق آئی ایس کے لڑاکوں نے فالوجا کی ایک مسجد کو جیل میں تبدیل کردیا ہے جہاں وہ سینکڑوں عورتوں اور مردوں کو قیدی بنا کر رکھتے ہیں۔ ادھر ہزاروں میل دور پر واقع نائیجریا میں سرگرم انتہا پسند تنظیم بوکوحرام نے دیش کے شمال مشرقی علاقے میں کم سے کم 185 عورتوں اور بچوں کو اغوا کرلیا ۔ اس سے پہلے انہوں نے33 لوگوں کو مار ڈالا تھا۔ ایک مقامی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ دہشت گردوں نے گم سوری گاؤں پر اچانک حملہ کردیا ۔وہ سب ٹرک میں سوارہوکر آئے تھے انہوں نے مردوں کو پہلے گولیوں سے بھونا اور پھر گاؤں کی عورتوں اور بچوں کو ٹرک میں بٹھا کر لے گئے۔ اس سے پہلے انہوں نے گاؤں کے پیٹرول پمپ کو جلایا۔ علاقے میں کمیونی کیشن کی کمی ہے اس وجہ سے واقعہ کی خبر کئی دنوں کے بعد لگ سکی۔ علاقے کے ٹیلی کمیونی کیشن ٹاوروں کو دہشت گردوں نے پہلے ہی اڑادیا تھا۔ مقامی حکام کو ایتوار کے روز اس حملے کی خبر کچھ دیہاتی لوگوں سے ملی جو کسی طرح سے بھاگ کر یہاں پہنچے تھے۔میداگوری نائیجیریا کے دونوں صوبوں کی راجدھانی ہے اور یہ تنظیم مغربی تعلیم کی سخت مخالف ہے۔ بوکوحرام سال2009 سے نائیجیریا میں قہر برپا رہی ہے۔ اس نے اسکولوں ،گاؤں اور پولیس ،گرجا گھر اور عام ناگرکوں پر کئی حملے کئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ اس نے سرکاری عمارتوں پر بھی بم پھینکے ہیں۔ اس مہینے میداگوری میں بوکوحرام کی ایک فدائی خاتون حملے میں 5 لوگ مارے گئے تھے۔ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ ان جہادی دہشت گردوں نے نہ تو بچوں کو بخشا ہے نہ عورتوں کو۔
(انل نریندر)

21 دسمبر 2014

50 سالہ علیحدگی پسندی ختم امریکہ اور کیوبا میں معاہدہ!

کمیونسٹ کیوبا کے تئیں 50 سال سے زائد علیحدگی کو ختم کرنے کیلئے سیاسی رشتے بحال کرنے کی سمت میں امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ہمت افزاء اور تاریخی اور حیرت انگریز ختم اٹھاکر نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ اسے تمام عالمی برادری نے ایک تاریخی پل قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ اور دونوں ملکوں کے قیدیوں کی رہائی کا اعلان کینیڈا اور ویٹکن میں ایک سال سے زائد خفیہ بات چیت کے چلتے ممکن ہو سکا ہے، جس میں پوپ بھی شامل تھے۔ کیوبا اور امریکہ کے درمیان رشتوں کی بحالی کی ایک تاریخی خبر دنیا کو بھلے ہی اچانک محسوس ہوئی ہو لیکن پردے کے پیچھے سے اس کی طویل کوششیں کافی عرصے سے جاری تھیں۔ تقریباً53 سال سے ایک دوسرے کے حریف رہے دونوں ملکوں کے رشتے خوشگوار کرنا حقیقت میں اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کے پیچھے بڑا کردار دونوں ملکوں کے صدور پوپ فرانسس اور جاسوسوں کی رہی ہے۔ رشتوں کو بہتر کرنے کی کوشش صدر براک اوبامہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کردی تھی۔ تب انہوں نے امریکہ میں مقیم کیوبیائی نژاد لوگوں کو اپنے رشتے داروں سے ملنے اور انہیں پیسہ بھیجنے پر لگی پابندی میں نرمی دینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ اس میں تیزی آئی اور ایک سال کے دوران کافی لوگ اپنے رشتے داروں سے ملنے لگے۔ اس دوران کیوبا اور امریکی حکام کے درمیان کینیڈا اور ویٹکن میں 9 ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکی مانگ ایک دوسرے کے قیدیوں کی ادلا بدلی کی تھی۔ امریکہ اپنی جیل میں بند 3 ہزار کیوبائی ایجنٹوں کے بدلے میں کیوبا میں 20 سال سے بند ایک امریکی خفیہ افسر کی رہائی چاہتا تھا۔ دراصل گروس نامی اس خفیہ ایجنٹ ایک این جی او کے لئے کام کرتے تھے اور2009 میں ان کی گرفتاری کے بعد ہی امریکہ نے رشتوں کو بہتر بنانے کی سمت میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا۔ پوپ کی ثالثی کیوبائی صدر فیڈرل راول کاسٹرو کو منانے میں اہم رہی۔ دراصل پوپ فرانسس ارجنٹینا میں پیدا ہوئے تھے ایسی صورت میں انہیں اس کام کو انجام دینے میں آسانی رہی۔ کیوبا کے صدر راول کاسٹرو نے پانچ دہائی کے بعد اس دیش کے بعد رشتے بنانے کے امریکی صدر براک اوبامہ کے فیصلے اور قیدیوں کے ادل بدل کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ نے کیوبا کے تین جاسوس سزا یافتہ قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیوبا نے بھی 2009ء میں قید کئے گئے امریکی راحت رساں ایلن گروس اور ایک خفیہ ایجنٹ کو رہا کردیا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنٹ 20 سال سے کیوبا میں بند تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل و تمام سکیورٹی ملکوں نے رشتوں کے بہتر ہونے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان روابط بڑھانے میں مددگار ہوگا۔ ہم امریکی صدر براک اوبامہ اور کیوبا کے صدر راول کاسٹرو کو اس حوصلہ افزا تاریخی معاہدے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

آڈیٹوریم میں تو بچوں کو مار ڈالا ہے، اگلا فرمان کیا ہے؟

کبھی کبھی الفاظ واقعی بے معنی ہوجاتے ہیں۔ ہم خوف کے سائے میں خاموشی سے اپنی بے بسی کو محسوس کرتے رہتے ہیں اور ہمارے اندر جو جذبات مشتعل ہورہے ہوتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں معقول الفاظ نہیں ملتے۔ اور پھر ہم ہمدردی کے الفاظ کوسود سمجھتے ہوئے خاموش ہوجاتے ہیں۔ ان وحشی طالبان نے پیشار کے معصوم بچوں پر حملہ کرکے ہمیں ایک ایسے ہی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ پیشاور کے آرمی اسکول میں حملے کا منصوبہ ملا فضل اللہ سمیت طالبان کے سینئر 16 دہشت گردوں نے دسمبر کے شروع میں افغانستان میں ہوئے ایک اجلاس میں بنایاتھا۔ یہ اطلاع پاکستان کے حکام نے جمعرات کودی ہے۔ پاک حکا م کا کہنا ہے ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ طالبان چیف ملا فضل اللہ اور طالبان کمانڈر سعید حافظ دولت سمیت کئی دیگر لوگوں نے اس منصوبے کو بنایا۔ ان کا کہنا ہے خیبر ضلع میں سرگرم لشکر اسلام کا چیف منگیل باغ میں بھی اس سازش کا ذمہ دار تھا۔ 7 دہشت گردوں کو پیشاور کے پاس خیبر علاقے میں ٹریننگ دی گئی تھی۔ دہشت گردوں کے آقا اس وقت افغانستان میں تھے اور حملے کے دوران دہشت گردوں کے خلاف رابطہ بنائے ہوئے تھے۔ ہم نے آڈیٹوریم میں موجود سبھی بچوں کو مار ڈالا ہے اب ہمارے لئے اگلا فرمان کیا ہے؟ وہیں ٹھہرو ،فوج کے لوگوں کو آنے دو ،خود کو اڑانے سے پہلے انہیں بھی مار ڈالوں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے افسروں کے مطابق پاکستان آرمی اسکول پر حملہ کرنے والے فدائین کی اپنے آقاؤں سے یہ آخری بار بات چیت ہوئی تھی۔ اس حملے سے ہمیں ممبئی کے 26/11 حملے کی یاد تازہ ہوگئی۔ ممبئی میں بھی قصاب اینڈ کمپنی بھی حملے کے دوران آقاؤں سے سیدھے رابطے میں تھی۔ آخری بات کرنے کے بعد بچے دو دہشت گرد فدائین اسکول کے باہر تعینات اسپیشل آپریشن کے جوانوں کی طرف بڑھ گئے تھے۔ آتنکیوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان اس طرح کی بات چیت کا انکشاف اس خفیہ ڈوزیر سے ہوا ہے جسے پاک فوج کے چیف جنرل راحل شریف نے بدھ کے روز افغانستان حکومت کے افسروں کو سونپا تھا۔ اسکول میں گھستے ہی فدائین حملہ آور سیدھے بڑے آڈیٹوریم کی طرف بڑھ گئے جہاں سینئر سیکشن کے بچوں کو ابتدائی ہیلتھ کے گر سکھائے جارہے تھے۔
افسروں کے بیچ اس بات پر غور و خوض چل رہا ہے کہ کیا حملہ آوروں کو آڈیٹوریم میں موجود بچوں کے جمع ہونے کی پہلے سے اطلاع تھی؟ کیا انہیں کوئی مخبر پوری جانکاری دے رہا تھا؟ ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس حملہ آوروں کے نام اور ان کی بات چیت کی پوری تفصیل ہے۔ ان میں سے ایک حملہ آور کا نام ابو زر تھا جبکہ اسے ہدایت دینے والے کا نام کمانڈر عمر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پیشاور کے حملے نے یہ صاف کردیا ہے کہ طالبان کا صفایا پاکستان کی حکومت کیلئے ایک ہمالیہ پہاڑ سے کم بڑا چیلنج نہیں ہے۔ طالبان کے گناہوں کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کو طالبان کے خلاف اپنے سارے ہتھیار استعمال کرنے چاہئیں اور حکومت کو تب تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک اس کی سرزمین سے دشمن کا پورا صفایا نہ ہوجائے لیکن کیا پاکستان ایسا کرے گا؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...