Translater

01 ستمبر 2012

گجرات فسادات پر لائق خیر مقدم فیصلہ، انصاف کی جیت


27 فروری 2002 کو ہوئے گودھرا کانڈ کے ایک دن بعد یعنی28 فروری کو وشو ہندو پریشد نے گجرات بند کا اعلان کیاتھا۔ اس کے دوران احمد آباد کے نرودہ پاٹیہ علاقے میں بھارتی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور مشتعل بھیڑ نے وہاں اقلیتی فرقے پر حملہ بول دیا جس کے نتیجے میں تشدد میں 97 لوگ مارے گئے جبکہ33 دیگر لوگ زخمی ہوئے۔ تقریباً ساڑھے دس سال بعد اس قتل عام کے لئے عدالت نے 32 لوگوں کو قصوروار و سزا سنائی ہے جبکہ29 لوگوں کو بری کردیا گیا۔ احمد آباد کی اسپیشل عدالت نے بدھوار کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ان لوگوں کو مجرمانہ سازش اور قتل کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا تھا۔ قصوروار پائے جانے والے لوگوں میں گجرات کی سابق وزیر مایا کوڈنانی اور وی ایچ پی کے سابق لیڈر بابو بجرنگی شامل ہیں۔ گجرات میں پہلی بار کسی سابق وزیر کو سزا سنائی گئی ہے۔ اس معاملے میں 70 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا جن کے خلاف 325 سے زیادہ لوگوں نے گواہی دی تھی۔ ان میں چشم دید گواہ ، پولیس ملازم ، ڈاکٹر، فورنسک ماہرین اور اس معاملے میں اسٹنگ آپریشن کرنے والے ایک صحافی شامل تھے۔ وزیراعلی نریندر مودی کے قریبی مانے جانے والی مایا کوڈنانی کو مجرمانہ سازش، قتل اور اقدام قتل کا قصوروار پایا گیا۔اس فیصلے سے لوگوں کا دیش کے عدلیہ نظام پر بھروسہ مضبوط ہوگا۔خصوصی عدالت میں بھاجپا کی سابق وزیر مایا کوڈنانی اور بجرنگ دل کے بدنام لیڈر بابو بجرنگی پر الزام ثابت ہونے سے اتنا واضح ہوجاتا ہے کہ مودی سرکار کا اس شرمناک دنگوں میں بھلے ہی کوئی کردار نہ رہا ہو لیکن کچھ حد تک فساد روکنے میں وقت رہتے ہوئے قدم اٹھانے میں تاخیر ضرور ہوئی۔ یہ صحیح ہے کہ فساد کے دوران مایاکوڈنانی ممبر اسمبلی تھیں مگر دنگوں میں اس کے براہ راست رول نبھانے کے الزام لگے تھے۔ اس کے باوجود نریندر مودی کے ذریعے انہیں اپنی کیبنٹ میں شامل کرنے سے یہ ظاہرکرتا ہے کہ کیا انہیں اس بات کے لئے ایوارڈ دیا گیا تھا اور لوک لاج کو اٹھا کر طاق پر رکھ دیا گیا؟ اس فیصلے سے مودی سرکار صاف طور پر پریشان ہے اور بھاجپا نیتاؤں کے لئے مودی سرکار کا بچاؤ کرنا مشکل ہورہا ہے۔ بیشک یہ فیصلہ 10 سال کے بعد آیا ہے لیکن اس سے حملے میں مارے گئے لوگوں کے کنبوں کے دلوں میں انصاف کی امید بنی ہے۔ گجرات دنگوں میں جن معاملوں میں انصاف کی امید پوری ہوئی ہے اس کا زیادہ تر سہرہ سپریم کورٹ کو جاتا ہے۔ اگر ایس آئی ٹی کی تشکیل اور پہلے ہوتی تو فیصلہ اور جلدی آسکتا تھا۔ کسی بھی ریاستی حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ فسادات کے قصورواروں اور سازشیوں کو سخت سے سخت سزا دلوائے لیکن اس معاملے میں علاقائی عوام نے بہت اچھا کام کیا ہے اور کئی براہ راست غیر براہ راست دھمکیوں کے باوجود 327گواہوں نے سامنے آکر گواہی دی۔ دنیا جانتی ہے گجرات دنگوں کو روکنے میں مودی سرکار ناکام تھی اور وزیر اعلی نریندر مودی نے یہ کہہ کر دنگوں کو صحیح ٹھہرایا تھا کہ نیوٹن کی تھیوری کے مطابق عمل پر ردعمل ہوتا ہے۔ اس وقت وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو نریندر مودی کو راج دھرم کی یاد دلانی پڑی تھی۔ اس عدالتی فیصلے کا نریندر مودی اور بھاجپا پر دور رس اثر پڑ سکتا ہے۔ اب گجرات میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں دیکھنا یہ ہوگا کہ ان پر اس فیصلے کا کیا اثر پڑے گا۔ گجرات کی اپوزیشن پارٹی کانگریس اسے گجرات میں اور پورے دیش میں اچھالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ نریندر مودی کی قومی توقعات پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس فیصلے سے اتنا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ فسادات میں بھاجپا اور بجرنگ دل کے کچھ لوگ ملوث تھے۔ نریندر مودی اپنے بچاؤ میں کہہ سکتے ہیں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار ان میں شامل تھی یا اس نے انہیں روکنے کے لئے کوئی ضروری قدم نہیں اٹھائے۔ کہنے کو تو بھاجپا یہ کہہ سکتی ہے کہ چلو ہم نے تو گجرات دنگوں کے قصورواروں کو سزا دلوا دی ہے لیکن ہزاروں سکھوں کے قتل عام 84 کے دنگوں میں آج تک ایک بھی نیتا کو قصووار نہیں ٹھہرایا جاسکا۔
(انل نریندر)

کیا پاک جوڈیشیری فوج کا کھیل کھیل رہی ہے؟


پاکستان میں زرداری حکومت اور وہاں کی سپریم کورٹ میں لڑائی جاری ہے۔ پیر کو پاکستان کے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف عدالت میں پیش ہوئے۔ اشرف کو 18 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ اشرف نے پیر کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے لئے سوئس انتظامیہ کو خط لکھنے کے لئے مزید مہلت مانگی ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق61 سالہ پرویز اشرف نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سوئس انتظامیہ کو خط لکھنے کے لئے انہیں چار سے چھ ہفتے کا وقت درکار ہے۔ اشرف کے جانشین رہے یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے اسی معاملے میں عدالت کے ایک حکم پر تعمیل نہ کرنے کے لئے توہین عدالت کا قصوروار پایا تھا اور انہیں نااہل قراردیا تھا۔ عدلیہ و انتظامیہ میں لڑائی کی تاریخ پاکستان میں لمبی ہے۔ پاکستان میں ججوں کو برخاست کرنے یا استعفیٰ دینے پر مجبور کئے جانے یا انہیں نظربند کرنے کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے لیکن اب گھڑی کی سوئی الٹی سمت میں گھومتی دکھائی پڑ رہی ہے۔ اب سپریم کورٹ منتخب وزیر اعظم کو برخاست کررہا ہے۔ گیلانی کے بعد اب اشرف پر بھی سپریم کورٹ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان کا بھی حشر گیلانی جیسا ہے ہو ۔ کپڑوں کی طرح وزیراعظم بدلنے کا یہ سلسلہ ایک طرح سے عدلیہ کا تختہ پلٹ ہے۔ یوسف رضا گیلانی اپنے میعاد پوری کر ایک تاریخ بنانے جارہے تھے لیکن انہیں فوجی بغاوت کے سبب نہیں بلکہ عدالتی فرمان پر عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ عجیب بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں اب فوج کے علاوہ سپریم کورٹ بھی وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔ پاکستانی فوج نے لگتا ہے اپنی سرکاروں کو بدلنے کا طریقہ بدل دیا ہے۔ سیدھا خود نہ انہیں ہٹا کر وہ اپنا کام عدالتوں کے ذریعہ کروا رہے ہیں۔ پاکستان میں عدلیہ شروع سے ہی حکمرانوں کی مٹھی میں رہی ہے۔ پاکستان کا سپریم کورٹ پوری دنیا میں اکیلی ایسی عدالت ہے جس نے فوج کے ذریعے تختہ پلٹ کو بھی ضروری اصول کے تحت جائز ٹھہرایا تھا۔ آج یہ ادارہ اتنا جارحانہ ہوکر جمہوریت کا قتل کرنے پر آمادہ ہے۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لئے نہ تو صدر کی پرواہ ہے اور نہ ہی چنی ہوئی پارلیمنٹ کی۔ مزیدار بات یہ ہے کہ پاکستانی آئین کی دفعہ 248(2) کے مطابق صدر یا گورنر کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ کارروائی کسی بھی عدالت میں ان کے عہد میں نہیں چلائی گئی اور نہ جائے گی۔ اتنے واضح آئینی تقاضوں کے باوجود پاک سپریم کورٹ وزیر اعظم کو صدر کے خلاف فوجداری کے معاملے کھولنے کے لئے سوئس حکام کو لکھنے کی ہدایت دے رہی ہے۔ بھارت سمیت زیادہ تر ملکوں کے آئین میں موجود تقاضے برطانیہ کے اس انصافی اصول پر مبنی ہیں کہ راجہ کچھ بھی غلط نہیں کرسکتا اس کے پیچھے دلیل بالکل واضح ہے اگر سربراہ مملکت کو مجرمانہ معاملے میں عدالت کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوتو سسٹم کام نہیں کرے گا۔ اپنی سرگرمی میں پاکستان سپریم کورٹ نے فوج کا کھیل شروع کردیا ہے جو خطرناک روایت ہے جس کا خاتمہ کیا ہوگا تصور کرنا مشکل ہے۔
(انل نریندر)

31 اگست 2012

منموہن سنگھ پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے


کیا پردھان منتری منموہن سنگھ اپنے عہدے سے ہٹنے والے ہیں؟رپورٹیں تو کچھ ایسی ہی آرہی ہیں۔جیسے جیسے سرکار مخالف ہوا تیز ہوتی جارہی ہے اور پارلیمنٹ کا کام کاج ٹھپ پڑا ہوا ہے اس سے ڈاکٹرمنموہن سنگھ پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور ان کے استعفے کی مانگ زور پکڑتی جارہی ہے۔ پردھان منتری ان دنوں بیحد دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ بھاجپا نے پارلیمنٹ کے اندر ان کے استعفے کا دباؤ بنایا ہوا ہے تو سڑکوں پر انا ہزارے ،اروندکیجریوال اور بابا رام دیو کے حمایتیوں نے منموہن سنگھ اور ان کی سرکار کے خلاف آندولن چھیڑ رکھا ہے۔ جنتا میں منموہن سنگھ اور اس سرکار کی مقبولیت دن بدن گھٹتی جارہی ہے اور یہ ہی فکر کانگریسیوں کو کھائے جارہی ہے کہ زیادہ تر کانگریسی ارکان پارلیمنٹ اب پردھان منتری منموہن سنگھ کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ کانگریس کے لوگوں میں یہ چرچا عام ہے کہ منموہن سنگھ اتنے بدنام ہوچکے ہیں کہ جنتا میں ان کی مقبولیت زیرو ہوچکی ہے۔سوشل نیٹ ورکوں کے علاوہ گلے چوراہوں، بسوں، میٹروں و چائے پان اور نائی کی دوکانوں پر سرکار کو لیکر جو چرچائیں ہورہی ہیں وہ سب پردھان منتری کو ہی مل رہی ہیں جن سے وہ بیحد دباؤ میں ہیں۔ سرکار کے ایک سینئر وزیر کے مطابق ڈاکٹرسنگھ حالانکہ ٹی وی دیکھنے کے اتنے شوقین نہیں ہیں لیکن آج کل وہ ٹی وی دیکھنے لگے ہیں۔ابھی تک گھوٹالے اور بھرشٹاچار کے الزام کانگریس کے حمایتی یا دوسرے کانگریسی وزیروں پر لگائے جاتے تھے لیکن کوئلہ الاٹمنٹ معاملے میں تو صرف حملے منموہن سنگھ پر ہی ہورہے ہیں۔کانگریس کی زیر قیادت والی مرکزی سرکار کو چوطرفہ گھرتا دیکھ اسے سہارا دے رہے حمایتی اب کھل کر تیور دکھانے لگے ہیں۔ کوئلہ الاٹمنٹ میں پھنسے پردھان منتری کو ہٹانے کی چرچاؤں کے بیچ سرکار کی دو حمایتی پارٹیوں نے اب وسط مدتی چناؤ کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔سرکار کا حصہ ہونے کے باوجود ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یوپی اے سرکار اپنا دورہ اقتدار پورا کرے لیکن حالات بگڑتے ہیں تو ان کی پارٹی وسط مدتی چناؤ کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وسط مدتی چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی پارٹی نے تو چناوی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔پارٹی کے سینئر لیڈر اورترجمان موہن سنگھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سونیا گاندھی کو چھوڑ کر کوئی بھی کانگریسی نہیں چاہتا کہ منموہن سنگھ پی ایم کے عہدے پر رہیں۔ وہ کسی اور کو پردھان منتری بنانے کی تیاری کررہے ہیں۔ حالانکہ اس شخص کے نام کا خلاصہ تو موہن سنگھ نے نہیں کیا لیکن ان کا اشارہ راہل گاندھی کو قیادت سنبھالنے کی طرف ہوسکتا ہے۔کانگریس کا نوجوان طبقہ چاہتا ہے کہ اگر2014 میں راہل گاندھی پارٹی کی قیادت کریں گے تو بہتر ہوگا کہ انہیں ابھی سے پردھان منتری بنا دیا جائے۔ ویسے ایسے کانگریسیوں کی بھی کمی نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ راہل کو قیادت سنبھالنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔ پارٹی چوطرفہ گھری ہوئی ہے۔ اس وقت اگر راہل کو پردھان منتری کے عہدے پر بٹھا دیا جاتا ہے تو اگلے لوک سبھا چناؤ تک ان کی بھی مقبولیت زیرو ہوجائے گی۔تقریباً سبھی کانگریسی اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں پارٹی2014 کا لوک سبھا چناؤ نہیں جیت سکتی۔منموہن سنگھ اب ان کی نظروں میں ایک بوجھ بن گئے ہیں۔ (انل نریندر)

رام دیو کے ٹرسٹوں کا رجسٹریشن رد ہوگا اور ودیشی جائیداد ضبط



بابا رام دیو پر سرکاری شکنجہ کستا جارہا ہے۔حال ہی میں دہلی میں بابا رام دیو کے مظاہرے کے دوران شروعاتی دنوں میں ضرور لگا تھا کہ شاید اندر خانے بابا کی سرکار سے کوئی ڈیل ہوگئی ہے کیونکہ بابا سونیا کو ماتا کہہ رہے تھے اور راہل کو بھائی۔ پر مظاہرے کے آخری دنوں میں بابا سخت ہوگئے اور انہوں نے کانگریس پر ہلہ بول دیا۔ اب مرکزی سرکار نے اپنی ساری ایجنسیوں کو رام دیو کے کاروبار میں خامیاں نکالنے کے لئے لگادیا ہے۔ بابا رام دیو دان کے نام پر کاروبار کررہے ہیں ایسا کہنا ہے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ یوگ گورو کا پتنجلی یوگ پیٹھ ٹرسٹ کاروبار کررہا ہے۔ میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ بابا رام دیو کے ٹرسٹ کو چیری ٹیبل تنظیم کے طور پر رجسٹریشن رد کرنے کی تیاری کررہا ہے۔اس کے علاوہ ٹرسٹ کو دی جانے والی سبھی چھوٹ بھی واپس لینے کی تیاری میں ہے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے مطابق بابا رام دیو کا یہ پتنجلی یوگ پیٹھ تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ کمائی کرنے میں جٹا ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے پتنجلی یوگ پیٹھ کا رجسٹریشن رد کرنے سے پہلے 100 سوالوں کی لسٹ بھیجی ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ انگلینڈ میں دان میں ملے دویپ سمیت بابا رام دیو کے ودیشی میں واقع کروڑوں کی جائیداد کو ضبط کرنے کی تیاری بھی شروع ہوگئی ہے۔دراصل ان سبھی جائیدادوں کو حاصل کرنے کے لئے رام دیو کے قریبی ساتھی بال کرشن کے پاسپورٹ کا استعمال ہوا ہے اور سی بی آئی اس پاسپورٹ کے فرضی ہونے کے الزام میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کرچکی ہے۔منی لانڈرنگ قانون کے تحت فرضی پاسپورٹ کا استعمال کر بنائی گئی جائیداد ضبط کی جاسکتی ہے۔ ای ڈی کے پاس دستیاب جانکاری کے مطابق بابا کی ودیش میں کروڑوں روپے کی جائیداد جن ٹرسٹوں کے نام ہے ان میں بالکرشن ٹرسٹی ہیں۔یہ جائیداد نیپال، ماریشس، انگلینڈ اور امریکہ میں واقع ہیں۔ اس پودار دمپتی کے ذریعے ایک دویپ بھی شامل ہے۔ای ڈی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ جلد ہی بالکرشن کو حراست میں لیکر ان جائیدادوں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ دیشوں کی سرکار سے ان جائیدادوں اور ان کے مالکوں کے بارے میں قانونی دستاویز منگائے جائیں گے۔ پاسپورٹ قانون کی خلا ف ورزی منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت جرم ہے۔ ظاہر ہے کہ پاسپورٹ قانون کی خلاف ورزی کر بنائی گئی جائیدادوں کو ای ڈی ضبط کر سکتا ہے۔ فرضی پاسپورٹ کے معاملے میں سی بی آئی پہلے ہی بالکرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کرچکی ہے اسی لئے ای ڈی قانونی طور پر ان جائیدادوں کو عارضی طور سے ضبط کرنے کی کارروائی شروع کرسکتی ہے۔ عدالت کے ذریعے بالکرشن کو قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد یہ جائیدادیں عارضی طور پر ضبط کرلی جائیں گی۔ ای ڈی پہلے بھی ودیش میں واقع جائیداد کو منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت ضبط کر چکی ہے۔ کڈنی ریکٹ چلانے والے ڈاکٹر امت کمار پر کڈنی ریکٹ میں کمائی گئی جائیداد کو خریدنے کا الزام ہے۔
(انل نریندر) 

30 اگست 2012

دونوں کانگریس بھاجپا آر پار کی لڑائی کے موڈ میں


کوئلے کے اشو پر اب بھاجپا اور کانگریس کے درمیان جنگ مزید تیز ہوگئی ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے اب ایک دوسرے پر ہلہ بول دیا ہے۔ پچھلے چھ دنوں سے پارلیمنٹ ٹھپ پڑی ہے۔ دونوں پارٹیوں میں تلخی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کے نیتا اب کھل کر ایک دوسرے پر تلخ رائے زنی کررہے ہیں۔ منگل کی صبح کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ایک بار پھر جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے اپنے ممبران سے کہا کوئلہ معاملے میں سرکار کو کچھ بھی چھپانا نہیں ہے اور نہ ہی سرکار نے کوئی غلط کام کیا ہے ایسے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ بھاجپا سیاسی سازش کے تحت دیش کو گمراہ کرنے میں لگی ہے کیونکہ بلیک میلنگ بھاجپا کی روزی روٹی بن گئی ہے۔ ادھر لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے بھی جارحانہ رویہ اپنا لیا ہے۔ وہ ابھی تک اس معاملے میں یوپی اے سرکار اور وزیر اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کررہی تھیں لیکن وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ان کے لہجے سرکار کے خلاف اور تلخ ہوگئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کانگریس لیڈر شپ کو بھی لپیٹ لیا ہے انہوں نے اپنے خاص طرز انداز میں کہا کہ کوئلہ الاٹمنٹ کے کھیل میں جو پیسہ بنایا گیا ہے وہ سرکاری خزانے میں نہیں گیا بلکہ موٹا مال کانگریس کے خزانے میں گیا۔ انہوں نے چیلنج بھرے تیور میں الزام دوہرایا کہ وہ سنگین الزام لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر کی حیثیت سے لگا رہی ہیں۔ یہ بات وہ پوری ذمہ داری سے کہہ رہی ہیں کانگریس نے اپوزیشن کا اتحاد توڑنے کے لئے اپنی شطرنجی چالیں شروع کردی ہیں۔ ادھر سی پی ایم نے تو اسے میچ فکسنگ قراردیا ہے۔ یہ کانگریس ۔بھاجپا کے بیچ محض نوٹنکی ہے کیونکہ کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے میں دونوں ہی شامل ہیں اس لئے سارے معاملے کو دبانے کے لئے یہ نوٹنکی ہورہی ہے۔ کانگریس اور سرکار اس وقت چوطرفہ دباؤ میں ہے ۔ کانگریس کے حکمت عملی سازوں کو دراصل سمجھ میں نہیںآرہا ہے کہ وہ آگے کیسے قدم بڑھائے۔ کانگریس نے اپوزیشن پر دباؤ بنانے کی غرض سے یہ بات اڑادی کے سرکار اگلے ہفتے لوک سبھا میں اعتماد کی تحریک لائے گی تاکہ اپوزیشن کو بڑی سیاسی شکست دی جاسکے۔ کانگریس کے ترجمان پی سی چاکو دو دن پہلے ہی بھاجپا لیڈر شپ کو چیلنج کر چکے ہیں کہ اس میں دم ہے تو وہ پارلیمنٹ میں سرکار کے خلاف اعتماد کی تجویز لا کر دکھائے۔ ادھر بھاجپا کو لگتا ہے کہ وہ آر پار کی لڑائی کے موڈ میں ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے بھاجپا کرپشن کے اشو پر اکیلے لڑائی لڑنے کو تیار ہے اس لئے بھاجپا کرپشن پر جارحانہ رخ اپنا رہی ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگلے سال جن چھ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں ان میں بھاجپا کانگریس کے بیچ اہم مقابلہ ہوگا۔ سیاسی سطح پر کانگریس کو گھیرنے کے لئے بھاجپا جو جارحانہ راہ دکھاتی ہے اسے اب وہ چھ ماہ پہلے ہی دکھانے لگی ہے۔ کرپشن کے اشو پر کانگریس کو سیدھے کٹہرے میں کھڑا کرکے بھاجپا 2014 ء سے پہلے ہونے والے لوک سبھا چناؤ کے لئے خود کو قومی سطح پر کانگریس کا واحد متبادل کے طور پر کھڑا کرلینا چاہتی ہے۔لہٰذا بھاجپا کرپشن کی اس لڑائی میں اپنی سیاسی حکمت عملی کے حساب سے ہی چل رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آر پار کی لڑائی میں اب آگے کیا ہوتا ہے؟ (انل نریندر)

گتیکا کی موت : یہاں تو ہر موت کے پیچھے ایک کہانی ہے


پچھلے کئی دنوں سے گتیکا شرما اور گوپال کانڈا کا کیس اخباروں کی سرخیاں بنا ہوا ہے۔ گتیکا خودکشی معاملے میں شاید کچھ نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے معاملے سامنے آچکے ہیں جن میں لڑکیوں کا قتل یا خودکشی جیسے معاملوں کی گتھی کے پہلو سامنے آئے۔ آخر ایسے معاملوں میں قصور کس کا ہے، ان لڑکیوں کا جو ترقی کرنے کے لئے ایسے جعل میں پھنس جاتی ہیں جس سے نکلنا کئی بار ناممکن ہوجاتا ہے یا پھر وہ ذمہ دار ہیں جو اپنی خواہشات کی قیمت وصولنا جانتی ہیں۔ گتیکا سے پہلے حال ہی میں ہمارے سامنے انورادھا بالی عرف فضا کا معاملہ آیا۔ مشتبہ حالات میں ابھی حال ہی میں اس کی موت ہوگئی۔ پولیس یہ پتہ نہیں لگا پائی کے فضا کی موت خودکشی ہے یا قتل یا پھر شراب کی زیادہ مقدار لینے سے اس کی موت ہوئی ہے۔ہریانہ کے سابق نائب وزیر اعلی چندر موہن عرف چاند کے ساتھ محبت کی یہ کہانی ایک مہینے بھی نہ چلی اور فضا اور چندر موہن کی شادی ٹوٹ گئی۔ اب سامنے رہ گئی موت کی ایک اور کہانی مدھیہ پردیش کی آر ٹی آئی رضاکار شہیلا مسعود کی موت کی کہانی بھی سیاسی داؤ پیچ کی طرف گھوم رہی ہے۔ کہتے ہیں مدھیہ پردیش کے بی جے پی کے ایک طاقتور لیڈر دھورو نارائن سنگھ اور شہیلا میں کافی قربت تھی۔ پولیس کا کہنا ہے یہ قربت دھورو نارائن کو چاہنے والی انٹیریئر ڈیزائن زاہدہ پرویزبالکل پسند نہیں تھی۔ زاہدہ نے شہیلا مسعود کو ہی سپاری دے کر مروا ڈالا۔ سی بی آئی نے کیس کی تفتیش کی تو اس کی ساری پرتیں کھل گئیں۔ سی بی آئی نے زاہدہ کو بنیادی ملزم بناتے ہوئے معاملے میں چارج شیٹ عدالت میں داخل کردی ہے۔ اسی طرح کئی اور معاملے بھی ہیں جن میں میرٹھ کی ایک پروفیسر کویتا چودھری، صحافی شیوانی بھٹناگر، شاعرہ مدھومتا شکلا کے کیس قابل ذکر ہیں۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل سماج میں زیادہ تر لوگ جلدی سے جلدی بہت کچھ پالینا چاہتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت وہ اپنی عدم سلامتی سے گھر جاتے ہیں۔ بہت جلدی آگے بڑھنے کی اس چاہت کا کچھ لوگ غلط فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی اور پروفیشنل لائف کو ہمیشہ الگ رکھنا چاہئے۔ پرسنل لائف اور پروفیشل لائف میں جہاں تال میل ہوا وہیں مسئلوں کی شروعات ہوجاتی ہے جو لوگ حساس اور جذباتی ہوتی ہیں ان کے ساتھ ایسی پریشانیاں خاص طور پر کھڑی ہوجاتی ہیں کیونکہ کسی شخص کو سبز باغ دکھائے جانے پر ایسے لوگ آسانی سے جذباتی ہوجاتے ہیں اور راغب ہوجاتے ہیں اور اسی جذبات کی وجہ سے جعل میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ ایسے میں جب ان کی توقعات ٹوٹتی ہیں تو وہ کشیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور انسان اس سے ٹوٹنے لگتا ہے اور خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ دراصل اس طرح کے بھٹکاؤ سے بچنے کے لئے بیلنس لائف اسٹائل کی ضرورت ہے۔ زندگی میں یہ صحیح ہے کہ توقعات اور خواہشات پالنی چاہئیں لیکن ان کا راستہ پختہ ہونا چاہئے۔ سپنوں میں جینا بری بات نہیں لیکن اس کا بھی ایک متوازن راستہ ہونا چاہئے۔ ان سارے معاملوں میں خاندان والوں کا بھی رول اہمیت کا حامل رہا ہے۔ سب جانتے ہوئے بھی وقت رہتے کسی نے روکا نہیں کیونکہ سبھی اس کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔
(انل نریندر)

29 اگست 2012

چیف جسٹس کپاڑیہ کے دو بیان


ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس ۔ایچ کپاڑیہ نے حال ہی میں دو بیان ایسے دئے ہیں جن کا مطلب نکالنا آسان نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے جسٹس کپاڑیہ نے اس خطرے کے تئیں سرکار کو آگاہ کیا تھا کہ جوڈیشیل اصلاحات کے نام پر عدلیہ کی آزادی سے چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس کے تبصرے کو سیدھے سیدھے اس عدالتی پیمانے و جوابدہی بل سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے جو لوک سبھا میں پاس ہوچکا ہے اور اب اس پر راجیہ سبھا کی مہر لگنی باقی ہے۔ اس کی ایک متنازعہ شق میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی جج کسی بھی آئینی اور جوڈیشیری ادارے یا افسر کے خلاف کھلی عدالت میں معاملے کی سماعت کے دوران غیر مناسب رائے زنی نہیں کرے گا۔ پچھلے کچھ برسوں میں کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جس میں سپریم کورٹ سے لیکر ہائی کورٹ تک نے سیدھے سیدھے سرکاری کام کاج کے طریقے پر تلخ ریمارکس دئے ہیں۔ تلخی کا یہ میعار یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے اگر حالت نہیں سنبھلتی تو سرکار کو گدی کیوں نہیں چھوڑدینا چاہئے۔ اب چیف جسٹس کپاڑیہ نے تازہ بیان دیا ہے کہ جج صاحبان کو ملک کی حکومت نہیں چلانا چاہئے اور نہ ہی پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ ججوں کو سونے کے اختیار کو بنیادی حق بنانے جیسے فیصلوں پر کسوٹی کو اپنانا چاہئے۔ عدلیہ کے کام کاج پر کچھ صاف آتم منتھن کرتے ہوئے جسٹس کپاڑیہ نے سوال کیا کہ اگر انتظامیہ ، عدلیہ کو ان ہدایتوں کی تعمیل کرنے سے منع کردیں جو نافذ کرنے لائق نہ ہوں تو کیا ہوگا؟ ان کا کہنا ہے ہم نے کہا ہے کہ زندگی کی حق میں ماحولیاتی سلامتی اور روایات کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ اب ہم نے اس میں سونے کا حق بھی شامل کردیا ہے۔ ہم کہاں جارہے ہیں؟ یہ تنقید نہیں ہے کیا یہ نافذ کرنے لائق ہے؟ جب آپ حق کا دائرہ بڑھاتے ہیں تو عدلیہ کو اس کے عمل کی ذمہ داری کے امکان کوبھی تلاشنا ہوگا۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ ججوں کو خود سے سوال کرنا چاہئے کیا ایسے فیصلے لاگو ہونے لائق ہیں۔ انہوں نے کہا ججوں کو دیش کی حکومت نہیں چلانی چاہئے۔ جب کبھی آپ قانون کے تئیں پابند ہوں تو اسے حکمرانی میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ ہم جنتا کے تئیں جوابدہ نہیں ہیں۔ آئین کے بنیادی اصولوں میں انفرادیت اور روایت اور تقاضوں کو اہمیت دینی ہوگی۔ ہم چیف جسٹس کی باتوں کوٹھیک سے سمجھ نہیں پائے۔ ایک طرف تو وہ سرکار کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ عدلیہ کے کام کاج میں مداخلت نہ کرے وہیں ججوں کو بھی کہہ رہے ہیں آپ حکمرانی چلانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے حکمراں سرکاروں نے بہت سے تلخ فیصلے خود نہ کر سپریم کورٹ پر چھوڑدئے تاکہ وہ واہ واہی لوٹ سکیں اور جب سپریم کورٹ انہیں مسترد کردے تو سارا قصور عدالتوں پر تھونپ دیں۔ آئین میں عدلیہ اور انتظامیہ کے حق کے دائرے کی صاف طور پر تشریح کی گئی ہے لیکن پھر بھی کئی ایسے اشو دیکھنے میں آئے ہیں جب سرکار اور عدالتیں آمنے سامنے آجاتی ہیں۔ اس ٹکراؤ سے بچنا سبھی کے مفاد میں ہے۔ سرکار کو اپنا کام کرنا چاہئے اور عدلیہ کو اپنا۔ حکومت چلاناسرکار کا کام ہے اور قانون کی خلاف ورزی روکنا عدالت کا کام ہے۔ سرکار کو اگر عدالت سے ٹکراؤ سے بچنا ہے تو وہ قوانین کو توڑ مروڑ کر اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل سے پرہیز کریں۔ اگر سرکار میں دم ہے تو باقاعدہ قانون بنوالے۔ اگر قانون بن جاتا ہے تو عدالتوں کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ جسٹس کپاڑیہ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے ہیں اگر اندر خانے انہیں درد کس بات کا ہے؟
(انل نریندر)

اوبامہ پھر صدر چنے گئے تو امریکہ میں خانہ جنگی کا امکان

امریکہ میں پتہ نہیں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔ ابھی وسکونس شہر کے گورودوارے میں کوئی گولہ باری کے تنازعے سے دیش پوری طرح سنبھلا نہیں تھا کہ اب جمعہ کو اس طرح کی ایک اور واردات سامنے آگئی۔ ایک بار پھر ایسے ہی ایک دہشت گرد نے نیویارک کے مشہور سیاحتی مقام امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے پاس اندھا دھند گولیاں برسا کر اپنے ایک سابق ساتھی کو موت کی نیند سلا دیا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں بندوقچی جیفری جونسن مارا گیا۔ اس واقعہ میں8 لوگ بری طرح زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق بندوقچی ایک فیشن ڈیزائنر تھا۔ ادھر صدر براک اوبامہ اور ان کے امکانی سیاسی حریف ریپبلکن پارٹی کے امیدوار رومٹ رومنی کے درمیان وائٹ ہاؤس کی دوڑ سانپ سیڑھی کی طرح جاری ہے۔یہ اطلاع پیرکو شروع ہوئی ریپبلکن پارٹی کی کانفرنس سے پہلے ایک جاری سروے میں سامنے آئی۔ اس کانفرنس میں ریپبلکن پارٹی اپنے صدارتی امیدوار کا اعلان کرنے والی ہے۔ جب تک آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں ہوں گے پارٹی نے اپنا امیدوار اعلان کردیا ہوگا۔ سی این این او آر سی انٹرنیشنل سروے میں دعوی کیا گیا ہے اوبامہ نے 49 فیصد امکانی ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا ہے جبکہ رومنی نے 47فیصد ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف فوکس نیوز کے ذریعے جاری پہلے سروے میں رومنی کو ایک نقطہ سے آگے دکھایا گیا ہے۔ رومنی کو 45 فیصد ووٹ ملے ہیں اور اوبامہ کو44 فیصد۔ سی این این کے سروے میں اوبامہ کو 43 کے مقابلے 52 فیصد ووٹروں سے آگے دکھایا گیا ہے۔ یہ رجسٹرڈ ووٹروں کا ایک وسیع طبقہ ہے جس میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کے پولنگ میں حصہ لینے کاامکان کم ہوتاہے۔ تاریخی طور پر ممکنہ ووٹروں کا سروے ریپبلکن پارٹی کے لئے تھوڑا زیادہ مناسب ظاہرکرتا ہے۔ ایک تہائی سے زیادہ رجسٹرڈ ریپبلکن(35 فیصد) نے کہا ہے کہ وہ چناؤ کو لیکر بہت ہی خوش ہیں جبکہ محض29 فیصد رجسٹرڈ ڈیموکریٹس نے کہا ہے کہ وہ چناؤ کو لیکر خوش تو ضرور ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ صدر اوبامہ کے لئے دوبارہ صدر چناؤ جیتنا اتنا آسان نہیں لگ رہا ہے۔ ان کی مخالفت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ میں ایک جج کا تبصرہ پڑھ کر حیران ہوگیا۔ براک اوبامہ دوبارہ امریکہ کے صدر چنے گئے تو ملک میں خانہ جنگی چھڑ جائے گی۔ جج نے یہ وارننگ دیتے ہوئے کہا پھر سے چنے جانے کی حالت میں اوبامہ اس دیش کو اقوام متحدہ کی فورس کے حوالے کردیں گے۔ ٹیکساس صوبے کے اس جج ٹوم ہیڈ نے دعوی کیا ہے اوبامہ پھر سے صدر چنے گئے توامریکہ کی سرداری اقوام متحدہ کے ہاتھ میں گروی رکھ دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ٹیکساس کی جنتا اسے منظور نہیں کرے گی۔ جج کا کہنا ہے کہ میں بری سے بری حالت کا تصور کررہا ہوں۔ شہر میں بدامنی اور عدم سلامتی اور یہاں تک کہ خانہ جنگی بھی اس سے چھٹکارا پانے کے لئے میں تو کہتا ہوں کہ بندوق اٹھاؤ اور اوبامہ سے نجات پاؤ۔ حالانکہ جج بعد میں اپنے اس بیان سے مکر گئے انہوں نے کہا میڈیا نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔انہوں نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ اوبامہ چنے گئے تو دیش اقتصادی بحران میں پھنس جائے گا۔
(انل نریندر)

28 اگست 2012

بھارتیہ کھیلوں کا سپر سنڈے


ایتوار یعنی سنڈے ہندوستانی کھیل کے لئے ایک اچھا دن رہا۔ یہ کہا جائے کہ سپر سنڈے رہا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ کرکٹ کی بات کریں تو سب سے بڑا کارنامہ ہماری انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا رہا۔ کپتان انمکت چند(ناٹ آؤٹ 111) کی شاندار سنچری سے بھارتیہ انڈر19 ٹیم میں فائنل میں گذشتہ چمپئن آسٹریلیا کو 6 وکٹ سے ہرا کر تیسری ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی۔ بھارت نے اس سے پہلے محمد کیف اور وراٹ کوہلی کی رہنمائی میں 2000 اور2008 میں انڈر19 ورلڈ کپ خطاب اپنی جھولی میں ڈالا تھا۔ انمکت چند کے 111 رن کی شاندار ناٹ آؤٹ پاری اور وکٹ کیپر سمت پٹیل (ناٹ آؤٹ) کے ساتھ ان کی130 رن کی ناٹ آؤٹ سانجھے داری سے بھارت نے اچھال پچ پر 226 رن کا یہ نشانہ 14 گیند باقی رہتے ہوئے حاصل کرلیا۔ آسٹریلیا اس سے پہلے کبھی فائنل میچ نہیں ہارا تھا۔ انڈر19 ٹیم کی جیت سے یہ بات کنفرم ہوجاتی ہے کہ اگر سینئر ٹیم کامیاب ہوتی ہے تو وہ کوئی تکا نہیں ہوتا۔ بی سی سی آئی اور متعلقہ تنظیم بھی اس بات کے لئے مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے ان نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کا موقعہ ملا۔ اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ بھارت میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ موقعہ اور سہولیات ملنی چاہئیں۔ سنڈے کو ہی سینئر ٹیم نے نیوزی لینڈ کو ایک پاری اور 115 رن سے ہرا کر نیوزی لینڈ۔ بھارت ٹیسٹ سیریز کا شاندار آغاز کیا تھا۔ آف اسپنر روی چندرن اشون نے مسلسل دوسری پاری میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو اپنی انگلیوں پر نچایا جس سے بھارت پہلے ٹیسٹ میں بڑی آسانی سے پاری اور 115 رن سے جیت کر دو میچوں کی سیریز میں 1-0 کی بڑھت بنانے میں کامیاب رہا۔ اشون نے پہلی باری میں 31 رن دیکر 6 وکٹ لئے۔ دوسری پاری میں بھی 5 رن دیکر 6وکٹ لئے۔ ایک ٹیسٹ میں 12 وکٹ لیکر ایک شاندار ریکارڈ بنایا ہے۔ ادھر ہم ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی تعریف کرنا چاہیں گے کہ انہوں نے ایتوار کو لندن اولمپکس میں حصہ لینے والے ہریانہ کے کھلاڑیوں کو سنمانت کرکے بھارتیہ کھیلوں کو زبردست فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے سونی پت کے گوہانہ میں ایک رنگا رنگ تقریب میں سلور میڈل حاصل کرنے والے پہلوان سشیل کمار کو ڈیڑھ کروڑ روپے ،یوگیشور دت کو ایک کروڑ، گگن نارنگ کو ڈیڑھ کروڑ، سائنا نہوال کو ایک کروڑ روپے نقد دئے۔ سب سے حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ ہڈا نے ہریانہ سے لندن اولمپک میں شامل ہونے والے ہر ایک کھلاڑی کو بھی عزت بخشی۔ بیشک انہوں نے میڈل نہ جیتا ہو لیکن انہوں نے لندن میں حصہ لیکر بھارت اور ہریانہ کی شان تو بڑھائی ہے۔ کرشنن کنیا کو31 لاکھ روپے، وجندر سنگھ اور گیتا اور امت وغیرہ کو 21-21 لاکھ روپے بطور انعام دئے۔ جے بھگوان، منوج کمار، سنجیو راجپوت، سردار سنگھ ،وکاس کرشن،سیما اتل،سجیت سنگھ سانگوان، اوم پرکاش، انوراگ سنگھ، سدیپ سنگھ اور گریما چودھری سبھی کو11-11 لاکھ روپے حوصلہ افزائی کے طور پر دئے گئے۔ہم اپنی انڈر19 ٹیم اور ہریانہ کے وزیر اعلی کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔
(انل نریندر)

پرموشن میں ریزرویشن دینے کی تجویز پر اٹارنی جنرل کا انتباہ


درج فہرست ذاتوں و شیڈول قبائل برادریوں کو ترقی میں ریزرویشن دینے سے متعلق بل لانے کا وعدہ کرکے منموہن سنگھ سرکار کے سامنے اب نیا پیچ پھنسادیا ہے۔ مرکز کو اس کے ہی سینئر آئینی افسر اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی نے صلاح دی ہے کہ سرکاری نوکریوں میں ترقی میں ریزرویشن دینے کی تجویز قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔ انہوں نے سرکار کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر کوئی بھی قانون لاتے وقت سوجھ بوجھ سے کام لیا جائے۔اس طرح کے قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے جبکہ اس مدعے پر سپریم کورٹ اترپردیش کی جانب سے ترقی میں ریزرویشن دینے کے قانون کو منسوخ کرچکی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے ایک باقاعدہ ترمیم کرکے ایس سی ؍ایس ٹی کو ترقی میں ریزرویشن کا بھروسہ سیاسی پارٹیوں کو دلایا تھا۔ واہنوتی نے سرکار کو آگاہ کرتے ہوئے نصیحت دی ہے کہ ترمیم کے لئے مجوزہ قدم مضبوط ہونے چاہئیں کیونکہ شہری اختیارات کی خلاف ورزی کی بنیادپر لوگ کورٹ میں اسے چنوتی دیں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیادپر سرکار کو اس مسئلے کے سبھی پہلوؤں سے واقف کراتے ہوئے اس میں ترقیوں کی بھی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ سرکار کو اٹارنی جنرل کی صلاح پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ووٹ بینک کے چکر میں سرکار کوکوئی ایسا قدم اٹھانے سے بچنا چاہئے جو آئین کے خلاف ہو اور جسے سپریم کورٹ سے منظوری نہ مل سکے۔ سپریم کورٹ نے این ۔ناگراجن کے فیصلے میں کہا کہ سرکار تبھی ترقی میں ریزرویشن دے سکتی ہے جب اس کے پاس اس بات کے اعدادو شمار موجود ہوں کہ دیگر عہدوں پر پسماندہ طبقات کے لوگوں کو مناسب نمائندگی نہیں ملی ہوئی ہے۔ یہ اعدادو شمار اکھٹے کرنا مشکل کا م ہے۔ عدالت نے اس تفصیل کی کمی میں ہی27 اپریل کو یوپی سرکار کا پرموشن میں ریزرویشن دینے کا قانون منسوخ کردیا تھا۔ دراصل ترقی میں ریزرویشن آئین کی دفعہ 16(4) کے تحت دیا جاتا ہے۔ اس دفعہ میں سہولت ہے کے سرکار نوکری میں ریزرویشن تبھی دے سکتے ہیں جب یہ یقینی کرسکیں کہ پسماندہ طبقوں کی اعلی عہدوں پر مناسب نمائندگی نہیں ہے۔مسئلہ یہ ہی ہے کہ کیا کافی نمائندگی لفظوں میں ہے۔ کورٹ یہ ہی پوچھتی ہے کہ کیا سرکار نے ریزرو طبقے کے لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں مناسب نمائندگی کا سروے کروایا۔ ترقی میں ریزرویشن کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کے لئے یہ صلاح بھی شاید ہی مسئلے کا صحیح طرح سے حل نکال سکے کہ دیگر پسماندہ طبقوں کو بھی ویسا ہی فائدہ ملے جیسا درجہ فہرست ذاتوں اور شیڈول قبائل برادریوں کو دینے کی پیروی کی جارہی ہے۔ اگر ریزرویشن کا مقصد سماجی برابری لانا اور محروم طبقوں کو فائدہ پہنچانا ہے تو پھر ایسا کوئی نظام قائم کرنے سے بچنا چاہئے جو کسی دوسرے طبقوں کے مفادات کو چوٹ کرتا ہو۔ 
یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اگر سبھی سیاسی پارٹیاں ایماندار ہیں تو ایسا سسٹم کیوں نہیں بناتے جس سے ترقی میں کسی بھی طبقے کے ساتھ امتیاز کی گنجائش نہ رہے؟ بہتر تو یہ بھی ہے کہ سیاسی پارٹی اور خاص طور سے سرکار ترقی میں ریزرویشن کے سوال پر کوئی نیا سسٹم بنائے اور پرانے سسٹم میں سدھار کے ذریعے سے ہی معاملے کو سلجھانے کے بارے میں غور و فکر کرے۔ہاں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ سبھی پارٹیاں جس میں حکمراں پارٹی کانگریس بھی شامل ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست سے اوپر اٹھے۔ ابھی تو یہ ہی لگتا ہے کہ درجہ فہرست ذاتوں، شیڈول قبائل برادریوں کے مفادات سے زیادہ ان کو ان کے ووٹ کی فکر ہے۔
(انل نریندر)

26 اگست 2012

ناجائز طریقے سے آکر بنے بنگلہ دیشی درانداز گھر جمائی


بیشک آگ ابھی آسام میں مگر اس کی جڑیں قومی راجدھانی خطہ دہلی تک پھیل گئی ہیں۔ یہاں بھی ذرا سی چنگاری کبھی بھی آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ میں ان ناجائز بنگلہ دیشیوں کی بات کررہا ہوں ۔ آج تک یہ صحیح اندازہ کسی نے نہیں لگایا کہ ان ناجائز بنگلہ دیشیوں کی دیش میں صحیح تعداد کتنی ہے؟ انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ اینالیسس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دیش میں دو کروڑ سے زائد غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں۔ دیش میں رہنے والے اور ہندوستانی شہریوں مساوی سہولیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ ناجائز بنگلہ دیشی پرواسیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہنے پر دہلی کی ایک عدالت نے مرکزی حکومت کو حال ہی میں جم کر جھاڑ پلائی۔ عدالت نے دو بنگلہ دیشی شہریوں کو ڈکیتی و قتل کے معاملے میں عمر قید اور 10 سال کی قید کی سزا سناتے ہوئے سخت ریمارکس دئے۔ ایڈیشنل سیشن جج کامنی لا نے کہا ’’ہمارا دیش ان سبھی مجرمانہ عناصر کے لئے سورگ بن گیا ہے جو اپنے راستے میں آنے والے کسی شخص کے ساتھ انتہائی کٹرتا اور بربریت سے پیش آتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب دیش کے اصلی شہری انتہائی غریبی کا سامنا کررہے ہیں تو سرکارکو بھارت میں غیر قانونی طریقے سے رہ رہے اور شہریوں جیسی سبھی سہولیت حاصل کررہے ان 3 کروڑ بنگلہ دیشیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں دقت کیا ہے؟‘‘ جج نے کہا سرکار اور انتظامیہ کی ٹھوس کارروائی میں کمی ہے جس نے عدالتوں کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کردیا ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کی ناکامی کہیں یا سیاستدانوں کی ووٹ پالیسی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کبھی جمنا کے کنارے بسے جھگی جھونپڑیوں میں مقیم بنگلہ دیشی دراندازوں نے اب سرکار کے ذریعے مہیا کرائے گئے مکانوں کو حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان گھس پیٹھیوں کے پاس نہ صرف ہندوستانی ووٹر شناختی کارڈ ہے بلکہ راشن کارڈ سے لیکر تمام دستاویز موجود ہیں جو انہیں مقامی شہری بنانے کے لئے کافی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف سرکاری سہولیات پا رہے ہیں بلکہ اب تو دلی این سی آر کے مسلم خاندانوں میں انہوں نے شادیاں بھی کرنی شروع کردی ہیں۔ دلی پولیس کے ریکارڈ میں چھوٹے بڑے کل 3 ہزار سے زائد بنگلہ دیشی جرائم پیشہ افراد کے بارے میں ریکارڈ درج ہے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو باقاعدہ بنگلہ دیش میں بیٹھ کر ہی گروہ کو چلاتے ہیں۔ دلی پولیس کے ایک اعلی افسر کے مطابق مسئلہ بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کے ہندوستانی کلچر میں رچ بسنے سے زیادہ ہورہا ہے۔ ایسے کئی بنگلہ دیشی پکڑے گئے ہیں جنہوں نے ہاپوڑ ،دادری وغیرہ علاقوں میں شادیاں کررکھی ہیں۔ کئی بار یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بنگلہ دیشیوں کو پکڑ کر سرحد پار چھوڑنے گئی پولیس کے واپس لوٹنے سے پہلے ہی یہ بنگلہ دیشی دوبارہ دلی پہنچ جاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش سے آئے کچھ لوگ نقلی کرنسی بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ حال ہی میں کرائم برانچ نے دو ایسے معاملے پکڑے ہیں جس میں مغربی بنگال سے نقلی نوٹ دلی لائے گئے تھے۔ یہاں آکر مرد جہاں چوری ، لوٹ مار کا کام کرتے ہیں وہیں ان کی عورتیں بچے منشیات کی اسمگلنگ میں لگ جاتے ہیں۔ لوٹ کا مال کھپانے کے لئے کچھ ٹریول ایجنٹوں کی بھی مدد لی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ پورے دیش میں کبھی بھی آگ پھیل سکتی ہے۔
(انل نریندر)

بینک ہڑتال سے آخر نقصان کس کو ہوگا؟


سرکاری سیکٹر کے بینکوں کی دوروزہ ملک گیر ہڑتال سے دیش بھر میں بینکوں میں لین دین بری طرح متاثر ہوا۔ بیشک پرائیویٹ بینکوں کے ملازمین ہڑتال میں شامل نہ ہونے سے کچھ حد تک صارفین کو پیسہ لینے یا جمع کرنے میں کوئی دقت نہیں آئی اور کچھ نے تو اے ٹی ایم سے کام چلایا۔ لیکن نجی سیکٹر یا پبلک سیکٹر کے اقتصادی لین دین پر اس کا اثر پڑا اور کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔ بینکوں میں کام کاج ٹھپ رہنے سے نقدی کی منتقلی، چیک کلیرینگ ،غیر ملکی کرنسی لین دین سمیت تمام بینکنگ سروس ٹھپ رہیں۔ وقت پر چیک کلیر نہ ہونے سے بڑی تعداد میں سودوں کی ادائیگی رک گئی۔ نقدی کا لین دین رک جانے سے شیئر بازاروں میں بھی سستی رہی۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہڑتال کا دائرہ کافی وسیع رہا۔ اس کے ذریعے سرکاری سیکٹر 24 اور کچھ پرائیویٹ بینکوں کے 10 لاکھ ملازمین نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اقتصادی سیکٹر میں 1 یا2 دن کی دیری بھی ہزاروں کروڑ روپے کی بھی ہو سکتی ہے۔ اس ہڑتال کا اثر اتنا ہی محدود نہیں ہوگا۔ پچھلا ہفتہ کافی چھٹیوں والا تھا۔ یوم آزادی کے ایک دن بعد سنیچر اور ایتوار آگیا اور پیر کو عید کی چھٹی ہوگئی یعنی 15 اگست کے بعد کل دو پورے کام کاجی دن تھے۔ ہڑتال کے بعد جمعہ آگیا اورہفتہ شروع ہوگیا۔ اسی طرح تقریباً ڈیڑھ ہفتے کا کام کاج متاثر رہا بینک ملازم بینک اصلاحات کے لئے تشکیل کنڈیلوال کمیٹی کی سفارشوں اور بینکنگ قانون ترمیم بل کو واپس لینے کی مانگ کررہے ہیں۔ یونینوں کی دلیل ہے کہ اس بل سے چھوٹے بینکوں کا انضمام ہوگا اور لاکھوں لوگوں کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔ جہاں یونینوں کی مانگوں میں بیشک دم ہو لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ کسی بھی مسئلے کے لئے ہڑتال کبھی کارگر ہتھیار نہیں ہوتی۔ صنعتی سیکٹر میں اب تک جتنی بھی ہڑتالیں ہوئی ہیں ان میں مالکوں کی بہ نسبت ملازمین زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دیش میں کار بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ماروتی سوزوکی کے مانیسر کارخانے کا تنازعہ اس کی تازہ مثال ہے۔ جہاں کبھی تین شفٹوں میں چھ ہزار سے زیادہ ملازم کام کرتے تھے ۔ ایک مہینے کی تالا بندی کے بعد یہاں محض تین سو ملازمین کو کام پر لیا گیا ہے۔ اس ورادات میں کمپنی کو بھلے ہی اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہو لیکن جن لوگوں کا کام چھن گیا ہے ان کے سامنے اس مہنگائی کے دورمیں ان کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بینک ملازمین کے معاملے میں یونینوں کا ٹکڑاؤ سیدھے سرکار سے ہے۔ دراصل دیش میں چھوٹے موٹے اشوز پر ہڑتال ،سڑک جام، توڑ پھوڑ کی ایک روایت سی بن گئی ہے۔ اگر اس کے مضر اثرات پر نظر ڈالیں تو آخر کار اس میں نقصان ملازمین یا جنتا کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ بینکوں کی دو روزہ ہڑتال پر غور کریں تو دیش کی معیشت پر 30 ہزار کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ بینک ملازم پچھلے کئی دنوں سے کئی بار ہڑتال کر چکے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اصلاحات کے بعد بدلے گئے ماحول میں بینکوں کے کام کاج میں اصلاحات کی کوششیں کی گئی ہیں اور بینک ملازم عام طور پر ان کے خلاف ہیں۔ ہوسکتا ہے ان تمام کوششوں میں کچھ قدم ایسے بھی ہوں جن کا اثر ان کے کچھ جائز مفادات پر پڑتا ہو لیکن یہ تو فطری ہے کہ کوئی بھی ادارہ اسی پرانے دھرے پر لگاتار نہیں چل سکتا۔ بدلے ہوئے ماحول میں خرچ کم کرنے پیدا وار بڑھانے کی کوشش بھی کی جائے گی اور ہڑتالیں انہیں کچھ وقت کے لئے ہی ٹال سکتی ہیں۔ ایتوار اور تہواروں کو ملا کر اگست ماہ میں بینکوں میں اب تک 7 دن کام نہیں ہوپایا ۔ ایسے میں یونین لیڈروں کی دو تین دن کی ہڑتال کے فیصلے کو کیا مناسب ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ نجی سیکٹر کے بینکوں سے ویسے بھی سرکاری بینک سہولیات اور سروس میں پچھڑ رہے ہیں۔کیا ان ہڑتالوں سے یہ بہتر ہوگا کہ بینک ملازمین کو اپنی باتیں منوانے کیلئے دیگر متبادل پر بھی غور کرنا چاہئے یا ہڑتال سے کونسے مسئلے کا حل نکلے گا؟ انہیں ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہئے کہ آخر ہڑتال کے ذریعے دیش کو کیا ملے گا کیا اس سے عام جنتا کو فائدہ ہوگا؟ ہماری جمہوریت میں تحریک اور ہڑتال کی آزادی ہے لیکن ہمیں دیش اور جنتا کے تئیں اپنے فرائض کو نہیں بھولنا چاہئے خاص کر بینکوں کو جن کاواسطہ براہ راست عوام سے پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...