Translater

28 جنوری 2012

سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹکڑاؤ پیدا کرسکتا ہے


Published On 28th January 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے پاکستان اپنے ایک فیصلے میں آئین سازیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی ایک نئی بحث شروع کردی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ پارلیمنٹ و اسمبلی ممبران کی اہلیت کے بارے میں اسپیکر کے احکامات کاعدلیہ جائزہ لے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکر کا فیصلہ آخری نہیں مانا جائے گا۔ جسٹس التمش کبیر اور جسٹس سلیک جوزف کی بنچ نے کرناٹک کے بھاجپا و آزاد ممبران اسمبلی کو نا اہل ٹھہرانے والے اسمبلی اسپیکر کے احکامات کو غلط قراردیتے ہوئے بدھ کے روز اس کے اسباب بیان کئے ہیں۔ حالانکہ عدالت گذشتہ برس 13 مئی کو ہی اس سلسلے میں فیصلہ سنا چکی تھی اور مفصل سے جاری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ اسپیکر آئین کی دسویں شق میں ممبران کی نا اہلیت کے بارے میں نیم جوڈیشیری اتھارٹی کی طرح فیصلہ کرتا ہے۔ ایسے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اس کے آخری حکم کا جوڈیشری جائزہ لے سکتی ہے۔ اب یہ قانون بن چکا ہے کہ اسپیکر کا آخری حکم آئین میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو ملے اختیارات پر روک نہیں لگاتا۔ سپریم کورٹ سیکشن 32 اے اور 136 و ہائی کورٹ کی سیکشن 226 کے تحت اسپیکر کے حکم کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ معلوم ہو کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو ان سیکشنوں میں خاص طور پر نشان زدہ اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ آزاد ممبران اسمبلی کو سرکار کی حمایت واپس لینے اور کسی اور کو حمایت دینے کی بنیاد پر دل بدل قانون کے تحت نااہل نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ قانون میں ان کی حمایت دینے یا واپس لینے پر کوئی روک نہیں ہے۔ حکمراں پارٹی کو حمایت دینے یا اس کی میٹنگوں یا ریلیوں میں آزاد ممبران کے حصہ لینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اس سیاسی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس لئے ان کے محض سرکار کے شامل ہونے یا وزیر بننے سے ان کی سیاسی پارٹی جوائن کر ثابت نہیں کرتا۔ عدالت نے فریقین کی ان دلیلوں کو بھی مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ کسی ممبر کی نااہلیت کے بارے میں اسپیکر کا فیصلہ آئینی تقاضوں میں آخری فیصلہ مانا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کرناٹک کے اسپیکر کا ممبران کو نااہل ٹھہرانے کا فیصلہ غلط نیت کا عکاس تھا۔ حقائق کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر صرف فلور ٹیسٹ سے پہلے ممبران کو نا اہل ٹھہرانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے اتنی جلد بازی میں کارروائی کی جس سے ممبران کو اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یقینی طور پر اسپیکر کے اختیارات پر ٹکڑاؤ پیدا کرے گا۔ بیشک اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسپیکر حکمراں پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے تئیں اس کی ہمدردی بھی ہوتی ہے اور اکثر فلور ٹیسٹ سے پہلے وہ حکمراں پارٹی کی مصیبت کم کرنے کے لئے کچھ ممبران کو نا اہل قراردے کر ووٹ دینے سے محروم رکھتے ہیں لیکن وہیں اسپیکر کہیں گے کہ ایوان کے اندر کی کارروائی اور اس سے متعلقہ سبھی معاملوں میں وہ قطعی طور پر با اختیار ہے۔آئین سازیہ اور عدلیہ کا اس مسئلے پر ٹکڑاؤ ہونا فطری ہی ہے کیونکہ معاملہ عدالت اور اسپیکر کے درمیان ہے اس لئے اس پر اور تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Speaker, Supreme Court, Vir Arjun

انا ہزارے نے کہا بدعنوان کو پکڑ کرتھپڑ مارو


Published On 28th January 2012
انل نریندر
کچھ ماہ پہلے ناسک کی ایک ریلی میں انا ہزارے نے کہا تھا کہ وہ گاندھی جی کے نظریات پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن لوگوں کو گاندھی کے راستے پر چل کر نہ سمجھایا جاسکے تو شیوا جی کے راستے کو اپنانے میں کوئی گریز نہ کرنا چاہئے۔ جن لوکپال مسئلے پر سرکار سے بار بار ملے دھوکے کے بعد اب انا خود بھی شیواجی کے راستے پر چلنے کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تبھی تو انہوں نے تشدد کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کرپشن برداشت کرنے میں عام آدمی کی قوت جواب دے جاتی ہے تو اس کے پاس تھپڑ مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ انا نے منگلوار کی رات اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں کرپشن کے اشو پر بنی فلم 'گلی گلی چور ہیں' دیکھنے کے بعد یہ متنازعہ رائے زنی کی ۔ یہ پہلی بار نہیں جب انا نے تھپڑ پر کوئی تبصرہ کیا ہو۔ کچھ ہفتے پہلے دہلی میں وزیر زراعت شرد پوار کو ایک شخص کے ذریعے تھپڑ مارے جانے کی اطلاع ملنے کے بعدانانے تبصرہ کیا تھا تو انہوں نے بڑے طمطراق سے پوچھا تھا کہ 'صرف ایک ہی تھپڑ' انا کے اس بیان پر کافی تنقید ہوئی تھی اور ان کے مخالفین کے ذریعے انہیں فرضی گاندھی واد اور تشدد کا حمایتی قراردیا گیا تھا۔ انا کے تازہ بیان کا سیاسی پارٹیوں میں ردعمل ہونا لازمی تھا۔ کانگریس سکریٹری جنرل کا تبصرہ تھا کہ یہ تشدد پر مبنی بیان سنگھ کی سنگت کا نتیجہ ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد میرے من میں ان کے تئیں احترام گھٹا ہے۔ میں انہیں ایک گاندھی وادی کے طور پر دیکھتا ہوں لیکن وہ جس طرح سے تشدد کی باتیں کررہے ہیں اس سے ان کا احترام کم ہوا ہے۔
بھاجپا کے سابق صدر راجناتھ سنگھ کہتے ہیں میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ ایک صحتمند جمہوری نظام میں مریاداؤں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کرپشن کے خلاف انا کی تحرک کی حمایت کرتا ہوں لیکن تحریک میں مریاداؤں کو ٹھیس نہیں پہنچائی جانی چاہئے۔ سماجوادی پارٹی کے سکریٹری جنرل اعظم خاں کا کہنا تھا کہ انا کا جمہوریت میں بھروسہ نہیں ہے۔ جب کمانڈر ہی تشدد کی بات کرتا ہے تو ٹیم کیا کرے گی؟ انا اپنے راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ کرپشن کے اشو پر ٹیم انا کی انتہائی سرگرمی اور سیاسی پارٹیوں پر کی جارہی تنقیدیں اب لوگوں کے گلے سے نہیں اتر رہی ہیں۔ عام آدمی کے علاوہ سیاسی پارٹیوں کو بھی ٹیم انا کا رویہ راس نہیں آرہا ہے۔ کچھ ماہ پہلے تک دہلی میں اپنے انشن کے دوران ملک بھر میں زبردست حمایت ملنے سے گد گد ٹیم انا کی زیادہ ہی سرگرمی اور آئے دن غیرموزوں تبصروں سے ٹیم انا کو لیکر اب زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو بار بار خط لکھنے اور تمام سوالوں پر جواب طلب کرنے کی حکمت عملی پر اب رائے زنی ہونے لگی ہے۔ یہ اس بات کے اشارے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کہیں ایسا نہ ہو کہ لوکپال جیسے اشو پر ٹیم انا الگ تھلگ پڑجائے۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ سے پتہ چل جائے گا کہ جنتا میں انا کی تحریک کا کیا اثر ہوا؟ اگر ایسے نتیجے آتے ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ انا کی باتوں کا اثر جنتا پر نہیں ہوا تو انا کا آگے کا راستہ مشکل ہوجائے گا اور اگر یہ لگا کہ کرپشن ایک اشو بنا ہے تو یقینی طور پر لوکپال بننے کا راستہ آسان ہوجائے گا۔ لیکن تشدد کی بات کرنا انا کو زیب نہیں دیتا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Vir Arjun

26 جنوری 2012

نتن گڈکری کا تازہ میزائل نریندرمودی وزیر اعظم


Published On 26th January 2012
انل نریندر
اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے پھر نیا واویلا کھڑا کردیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں ایک سوال کے جواب میں گڈکری نے کہا ''نریندر مودی پارٹی صدر بن سکتے ہیں، ان میں وزیر اعظم بننے کی بھی قابلیت ہے۔'' پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ اتنے قریب ہو ں اور بھاجپا صدر ایسابیان دے؟ اس میں پہلے کشواہا معاملے میں پارٹی کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ اس سے پارٹی سنبھلی نہیں نتن جی نے نیا تیر چل دیا۔ اس بیان سے جہاں بھاجپا میں کھلبلی مچی وہیں کانگریس اپنے ڈھنگ سے اس کا مطلب، مقصد نکال رہی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ نتن گڈکری نے یہ سوچا سمجھا بیان دیا ہے جس کا مقصد یوپی میں ہندو ووٹ بینک کو منظم کرنا ہے۔ مودی کی ساکھ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے اترپردیش کو خاص ذہن میں رکھ کر یہ بیان دیا گیا ہے۔ اترپردیش میں راہل گاندھی کے دوروں سے اپرکاسٹ ووٹ کانگریس کی طرف جھک رہا ہے۔ مایاوتی کا اپنا حساب بھی بھاجپا کے روایتی ووٹ بینک کو ہلاتا لگ رہا ہے۔ اسی کو ذہن میں رکھ کر پہلے اوما بھارتی کو یوپی میں آگے کیا گیا اور اب نریندر مودی کی وزیر اعظم کی بات اچھالی گئی۔ وہیں بھاجپا کے اندر اس بیان نے نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔ نتن کے اس بیان کا پارٹی کے اندر یہ مطلب نکالا جارہا ہے کہ نریندر مودی گڈکری اور سنگھ کی پی ایم کی پہلی پسند ہوں گے۔لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج اور ارون جیٹلی جیسے بڑے لیڈروں سے دور ہٹ کر گڈکری نے اب مودی کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے۔ کشواہا معاملے کے بعد پارٹی بچاؤ کے دوسرے مطلب بھی اب سامنے آرہے ہیں۔
این ڈی اے کے کنوینر اور جنتا دل کے قومی صدر شرد یادو نے نتن گڈکری کی اس رائے کی کھل کرمخالفت کی ہے جب یادوسے پوچھا گیا کہ اس بارے میں ان کا کیا کہنا ہے تو انہوں نے فوراً کہا کہ ابھی2014ء بہت دور ہے۔ آپ لوگ 2012ء کی بات کیجئے۔ جب یہ بات سامنے آئے گی تب ہم دیکھیں گے کہ اپنے پردھان کے بیان پر بھاجپا نے پیر کو کہا کہ یہ ایک غیر ضروری سوال کردیا گیا ہے اور اس کا موزوں جواب تھا ۔ پارٹی ترجمان روی شنکر پرساد سنگھ نے کہا کہ ایسے معاملوں پر پارٹی مجموعی طور پر فیصلے کرتی ہے۔ اس بارے میں دورائے نہیں ہے کہ مودی میں بھاجپا پردھان یا پردھان منتری بننے کی پوری صلاحیت ہے۔ سارا دیش اور ہم سبھی یہ بات مانتے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا لیکن کسی کو وزیر اعظم یا پارٹی صدر بنانا بھاجپاکا کوئی کنبہ پرستی والا معاملہ نہیں ہے۔ کون پارٹی صدر ہوگا یا وزیر اعظم کا امیدوار بنے گااسے پارٹی مناسب وقت پر طے کرے گی۔ بھاجپا اور کانگریس میں سب سے بڑا فرق یہ ہی ہے کہ کانگریس لیڈر شپ صاف ہے اور جو فیصلہ سونیا گاندھی کردیں وہ ہی آخری ہوتا ہے۔ بھاجپا میں تو درجنوں لیڈر سپریموں ہیں ۔کوئی ایک دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے پھر ابھی لوک سبھا چناؤدور ہیں۔ ابھی سے وزیر اعظم امیدوار کی بات چھیڑنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بھاجپا کا پہلا مقصد تو یوپی میں اچھی کارکردگی دکھانے ،پنجاب اور اتراکھنڈ میں پھر سے سرکار بنانے کا ہونا چاہئے۔ انہیں کے نتائج سے ایک اشارہ ملے گاکے پارٹی جنتا کی نظروں میں کہاں کھڑی ہے؟ گھر بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ بنانے سے شاید ہی کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Narender Modi, Nitin Gadkari, Vir Arjun

پنجاب اسمبلی چناؤ میں کیپٹن امریندر کا پلڑا بھاری


Published On 26th January 2012
انل نریندر
پنجاب اسمبلی چناؤ اب بالکل قریب آگیا ہے۔ چناؤ سے پہلے اس کے آخری ہفتے میں سیاسی لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس بنام اکالی ،بھاجپا اتحاد میں سے کون اگلے پانچ سال پنجاب کی گدی سنبھالے گا ، یہ جلد طے ہوجائے گا۔ اس بار پنجاب چناؤ میں بیرونی ممالک میں مقیم پنجابی پرواسی شہری بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ریاست کی دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس و اکالی دل کے حق میں یہ پرواسی بھارتیہ زور شور سے چناؤ مہم چلا رہے ہیں۔ پنجاب کے اخبارات میں باقاعدہ ان پارٹیوں کے حق میں اشتہارات دے کر یہ مہم چلائی جارہی ہے۔
امریکہ میں بسے پنجابی شہریوں کی اس چناؤ میں اتنی دلچسپی لینے کے پیچھے ایک وجہ امرتسر میں واقع دربار صاحب پر امریکی ٹیلیویژن شو کی میزبان جیم لینو کے ذریعے توہین آمیز تبصرے ہیں۔ امریکہ میں این بی سی چینل پر چل رہے مقبول ٹی وی پروگرام 'دی ٹو نائٹ شو' میں امرتسر کے دربار صاحب کی تصویر دکھاتے ہوئے جیم لینونے کہا تھا کہ یہ امریکہ کے صدارتی چناؤ میں ری پبلکن امیدوار سٹ رومنی کے لئے گرمی کے لحاظ سے ایک باعزت ٹھکانا ہے۔ دنیا بھر کے ہمارے سکھ بھائیوں کو لینو کے قابل اعتراض تبصرے پر غصہ آنا فطری ہے۔ بھارت سرکار نے اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ اس مسئلے پر سارے سکھ ایک ہیں جو دیش میں ہیں یا دنیا کے کسی کونے میں ہیں۔ خیر ہم بات کررہے تھے پنجاب اسمبلی چناؤ کی، پنجاب کے ووٹر 30 جنوری کو 117 اسمبلی سیٹوں کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ سبھی سیاسی پارٹیاں اندرونی اختلافات سے لڑ رہی ہیں۔ کانگریس ریاست کی سبھی 117 سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ وہیں حکمراں شرومنی اکالی دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی سبھی سیٹوں پر چناؤ لڑ رہی ہے، بہوجن سماج پارٹی110 ، پیپلز پارٹی آف پنجاب91، سی پی ایم 9 اور سی پی آئی 14 پر چناؤ لڑ رہی ہے۔ اہم مقابلہ کانگریس ، اکالی بھاجپا اتحاد میں ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں کانگریس کی۔ کانگریس کے لئے پنجاب کا چناؤ جیتنے کا سارا دارومدار کیپٹن امریندر سنگھ کے کندھوں پر ہے۔ وہ نہ صرف پردیش کانگریس کے پردھان ہیں بلکہ ہونے والے وزیر اعلی بھی ہیں۔ اگر پنجاب میں کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو کیپٹن ہی اگلے وزیر اعلی ہوں گے۔ کیپٹن ان دنوں خود اعتمادی سے بھرے ہوئے بیان دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اکالی بھاجپا سرکار مختاری کے بعد سے پنجاب میں اب تک کی سب سے کرپٹ سرکار ہے۔انہوں نے ان انتخابات میں اکالیوں کی بدعنوانی پرلگام کسنے کا رویہ اختیار کرنے کے دعوی کو سب سے بڑا مذاق قراردیا ہے۔
کیپٹن کا دعوی ہے کہ وہ 117 سیٹوں والی اسمبلی میں کم سے کم 70 سیٹیں جیت رہے ہیں۔ وہیں اکالی دل کی کمان تھامے سکھبیر سنگھ بادل دعوی کررہے ہیں کہ ان کی ہی سرکار بنے گی۔ ہر سیاسی پارٹی کا امیدوار ذات، مذہب اور برادری کے ووٹ پکے کرنے میں پورا زور لگا رہا ہے۔ پنجاب کے مالواخطے کا خاصا اثر ہے۔
یہاں قریب 40 اسمبلی سیٹیں ہیں اور یہ ہی اکالی دل کا گڑھ مانا جاتا ہے حالانکہ 2007ء میں یہاں شرومنی اکالی دل کو بھاری دھکا لگا تھا۔ حالانکہ بہوجن سماج پارٹی کے بانی شری کانشی رام پنجاب کے ہی تھے اور یہاں دلتوں کی آبادی بھی 30 فیصد ہے ، ان کی اقتصادی حالت بھی دوسری ریاستوں کے دلتوں سے زیادہ بدتر ہے۔ پارٹی یہاں اپنے پاؤں نہیں جما سکی۔ اسٹار نیوز نیلسن نے چناؤ سے قبل ایک تازہ سروے کیا ہے اس کے مطابق کانگریس 63 سیٹیں جیت رہی ہے جبکہ اکالی ۔ بھاجپا محاذ کو53 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ تیسرے مورچے کے بارے میں سروے کے مطابق پیپلز پارٹی آف پنجاب (منپریت بادل) صرف اپنی ہی سیٹ نکالنے میں کامیاب ہو گی۔ لیکن یہ سروے غلط بھی ہوجاتے ہیں۔ فی الحال ہم یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب چناؤ میں کیپٹن کا پلڑا بھاری لگ رہا ہے۔
Akali Dal, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Punjab, Vir Arjun

25 جنوری 2012

یوپی میں قومی ہیلتھ مشن کچھ لوگوں کیلئے مشن ’کھاؤ کماؤ‘ بن گیا


Published On 25th January 2012
انل نریندر
اترپردیش میں قومی دیہی ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) میں مبینہ طور پر ہوئے ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالے کے معاملے میں پیر کو مقرر پروجیکٹ افسر سنیل کمار ورما نے اپنے گھر میں گولی مار کر خودکشی کرلی۔ حال ہی میں سی بی آئی نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ ورما کا نام اس گھوٹالے کی ایف آئی آر میں بھی درج تھا۔ اس گھوٹالے میں یہ چوتھی موت تھی۔ دراصل اترپردیش میں قومی دیہی ہیلتھ مشن کاپروگرام کیا شروع ہوا۔ ریاست کی سرکاری مشینری کے لئے مشن 'کھاؤ کماؤ' جیسا تحفہ مل گیا۔ کم سے کم سی اے جی کی رپورٹ کو دیکھنے سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔ گھوٹالے باز ماں کی کوکھ اور زندگی موت کے درمیان جھولنے والے مریضوں کی دوائیوں تک میں گڑ بڑی کرنے سے نہیں چوکے۔ یعنی عوام کے ہیلتھ مشن کو شروع کرنے میں انسانیت اور حیوانیت کا تانڈو کرنے سے بھی سرکاری مشینری باز نہیں آئی۔ مرکزی سرکار کی جانب سے جنتا کو صحتمند رکھنے کے لئے چلائی گئی این آر ایچ ایم بے شک پروان نہیں چڑھ پائی لیکن سرکاری مشینری کا مشن کماؤ ضرور پروان چڑھ گیا۔ سی اے جی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2010ء میں قومی پروگراموں کی نگرانی اور ان کے ویلیومقرر کرنے والے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی این پی ایم ای) نے ہیلتھ اسکول اسکیم کے تحت 10 کروڑ روپے سی ایم او کو دئے۔ جانچ میں پایا گیا کہ 16 اضلاع میں اس یوجنا کے تحت دوائی سپلائی کا کام حکام نے کاغذوں میں کولکتہ کی سی آئی لیباریٹری کرشمہ ہیلتھ کیئرلکھنؤ کو دیا دکھایا۔ اس میں جس دوا کی قیمت بازار میں مانا1 روپے40 پیسے تھی اس کی قیمت اسکول پہنچتے پہنچتے18 روپے تک پہنچ گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب سی اے جی کو شک ہوا تو معاملے کی تہہ تک پہنچا گیا تو جانچ میں پتہ چلا کہ کولکتہ میں قائم سی آئی لیباریٹری کے نام پر10 لاکھ روپے کے 13 بل دئے گئے اور جب انکم ٹیکس نے اس کی چھان بین کی تو سی آئی لیب نے صاف منع کردیا کے اس کا بل ہے ہی نہیں۔ اتنا ہی نہیں سرکار بیشک شرح آبادی کم کرنے کی کوشش کررہی ہو اور اس مشن کے تحت ہزاروں کروڑ روپے دے رہی ہے مگر اترپردیش کی سرکاری مشینری اس میں بھی سیند لگانے سے باز نہیں آئی۔ سی اے جی کے مطابق 'جننی سرکشا یوجنا'کے تحت ہیلتھ سینٹر میں بچہ پیدا کرنے والی خواتین کو 1400 روپے دینا تھا جبکہ بی پی ایل خاندان کی عورتوں کو گھر میں بھی بچہ پیدا کرنے کی صورت میں 500 روپے کی نقد مدد دینی تھی۔ ان عورتوں کو سمجھا بجھا کر ہیلتھ سینٹر یا ہسپتال جانے کے عوض میں آشا ورکروں کو 600 روپے تک معاوضہ ملتا ہے۔ یوپی میں 2005-11 کے درمیان اس اسکیم کے تحت 69 لاکھ خواتین کے لئے 1219 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ ریاستی حکومت کے پروگرام تعمیل اسکیم کے تحت اس اسکیم کے 10 فیصدی معاملوں کی تصدیق کرنی تھی۔سچائی میں زچگی ہوئی ہے یا نہیں،اگر ہوئی ہے تو پیسہ دیا گیا یا نہیں۔ لیکن 2008 سے2011 کے درمیان اس اسکیم پر خرچ ہوئے 1085 کروڑ روپے کی تصدیق ہی سرکاری مشینری نہیں کرپائی۔اسی طرح نسبندی پر خرچ کئے گئے 181 کروڑ روپے میں وسیع پیمانے پر گھپلہ کیا گیا۔ انجکشن لگاؤ مہم کی جانچ پر پایا گیا کہ کرائے پر لی گئی گاڑیاں نقلی اسکوٹر، موپیڈ، موٹر سائیکل، ڈلیوری وین اور ٹریکٹر درحقیقت میں لئے ہی نہیں گئے تھے اور خرچہ دکھا دیا گیا۔ شاہجہاں پور کے جلال آباد ہیلتھ سینٹر نے جس نمبر کی گاڑی کو کرائے پر دکھایا وہ گاڑی ڈی ایم کی سرکاری کار تھی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mayawati, NRHM, Uttar Pradesh, Vir Arjun

راجدھانی میں پھل پھول رہا ہے منشیات کا گورکھ دھندہ


Published On 25th January 2012
انل نریندر
دو سال پہلے اپنے ملک گھاناسے آیا تو وہ لیڈیز فٹ ویئر کا ایکسپورٹ کا کام کرنے والا تھا لیکن کاروبار کی سست روی سے بن گیا نشے کا سوداگر۔ ممبئی میں مقیم اس کے ایک واقف کار نے اسے جلدی پیسہ بنانے کا فارمولہ سمجھا دیا اور اس نے نشیلی منشیات کا کاروبار شروع کردیا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور اس سے دو کروڑ روپے کی کوکن برآمد ہوئی۔ گھانا کا یہ باشندہ پول 2010ء میں ہندوستان آیا تھا۔ ممبئی میں مقیم اس کے دیش کے ایک شخص کراس نام کے ایک شخص نے اس کاروبار کے فائدے گناکر اس دھندے میں جھونک دیا۔ اس کے بعد پال دہلی میں نشے کی کھیپ سپلائی کرنے لگا۔ پال اپنے جوتوں میں کوکن چھپا کر لاتا تھا اور فلائٹ سے دہلی پہنچتا تھا۔ جمعہ کو محکمہ نارکوٹکس برانچ نے اسے ممبئی سے آئی ایک گھریلو پرواز سے اتارا تھا۔ یہاں آتے ہی اسے دبوچ لیا گیا ۔اس کے پاس سے 200 گرام کوکین برآمد ہوئی۔ جس کی بین الاقوامی بازار میں 2 کروڑ روپے قیمت بتائی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوکین کو پیج تھری اور ہفتہ واری پارٹیوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔ اس سے کچھ دن پہلے ساؤتھ افریقہ کے باشندے کیلی ولیمس میبین (36سال) کو کرائم برانچ نے گرفتار کیا تھا۔ یہ بھی دہلی کے ہائی پروفائل لوگوں کو کوکین سپلائی کیا کرتا تھا۔ اس کے پاس سے 40 لاکھ روپے کی کوکین برآمد ہوئی۔ پوچھ تاچھ میں خلاصہ ہوا کہ کیلی جولائی 2011ء میں ممبئی آیا تھا۔اس کے پاس ملٹی پرپس ویزا تھا۔ ستمبر2011ء میں کیلی دہلی آیا اور اس نے اپنے دوست جیمس جس کے ساتھ وہ رہتا تھا، کوکین کا دھندہ شروع کیا۔وہ دہلی کے ساتھ ساتھ این سی آر میں بھی ریو (شراب)پارٹیوں میں بھی کوکین سپلائی کرتا تھا۔ اسی ہفتے میں پولیس نے دو نائیجریائی شہریوں کو بھی 2 کروڑ سے زائد قیمت کی کوکین کے ساتھ پکڑا تھا۔ ہائی ڈوز کوکوکین کا نشہ دہلی میں ہائی پروفائل لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ دہلی پولیس بھلے ہی آج تک کسی ریو پارٹی کو نہ پکڑ پائی ہو لیکن اس کا خود کا دعوی ہے کہ کوکین اس ریو پارٹیوں میں سپلائی ہورہی ہے۔ دہلی کے فارم ہاؤسوں کی پارٹیوں میں کوکین کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ کوکین کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے لگ جاتا ہے کہ پچھلے سال 16 غیر ملکی کوین کے دھندے میں پکڑے گئے تھے ۔ یہ انتہائی تشویش کا موضوع ہے کہ راجدھانی میں منشیات کا کاروبار تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ سال2010ء کی بہ نسبت2011ء میں زیادہ مقدار میں پکڑی گئی منشیات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ساتھ ہی اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی کے لوگ دن بدن نشے کے جال میں پھنستے جارہے ہیں اس کے چلتے ڈرگس دہلی کے دیگر حصوں کے علاوہ ملک کی انتہائی محفوظ ترین مانی جانے والی تہاڑجیل تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے سال2011ء میں منشیات کی اسمگلنگ میں 98 لوگوں کو پکڑا جن میں سے 16 غیر ملکی تھے۔ حالت یہ ہے کہ دہلی، این سی آر کی ان ریو پارٹیوں میں شراب کے ساتھ کوکین ملا کر پینے سے لوگ رات رات بھر ناچتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیکس کرنے کے لئے بھی کوکین کا جم کر استعمال ہوتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اس سے ان کی سیکس پاور بڑھ جاتی ہے۔ یہ کوکین لاطینی امریکہ خاص کر کولمبیا سے آتی ہے اس لئے اس کی قیمت بھی دیگر نشیلی ادویات سے زیادہ ہوتی ہے۔ دہلی میں کوکین کے نشے کے لئے کئی بار بڑے بڑے ہائی پروفائل لوگ پکڑے گئے تھے۔ کرکٹ کھلاڑی منندر سنگھ، راہل مہاجن و ایک غیر ملکی سفارتخانے کے افسر کی بیٹی کی گرفتاری نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ راہل مہاجن معاملے کے بعد تو دہلی میں کوکین کا دھندہ کرنے والے غیر ملکی لوگوں پر خاصی سختی برتی گئی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ یہ دھندہ پھر سے سر اٹھانے لگا ہے۔ اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں دہلی کے پولیس کمشنر بی کے گپتا نے بتایا تھا ڈرگس پر 2012ء میں خاص توجہ رہے گی۔ پہلے کچھ اسپیشل دستے ہی ڈرگس اسمگلروں کو پکڑنے کا کام کرتے تھے لیکن پچھلے سال تھانے کی سطح پر بھی کارروائی کے احکامات دے دئے گئے ہیں۔ اسی کے چلتے گذشتہ برس میں 2010 کے مقابلے میں بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔ نشے کی زد میں آئے زیادہ تر لوگ درمیانی کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ ان دنوں راجدھانی میں ڈرگس کی کھیپ کئی ملکوں سے آرہی ہے۔ اس میں نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان قابل ذکر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس اسمگلنگ میں شمال مشرق کی کئی انتہا پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں جو یوروپ ،ایشیا میں ڈرگس اسمگلنگ سے اپنی تنظیموں کو مضبوط کررہے ہیں۔ زیادہ تر اسمگلر کیریئر کی شکل میں خواتین کا استعمال کررہے ہیں وہیں کئی اسمگلر سرکاری ایجنسیوں کا بھی استعمال کررہے ہیں جس میں ریلوے ، پارسل، ہندوستانی ڈاک سروس وغیرہ شامل ہیں۔ پولیس کمشنر گپتا کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی تھانہ حلقے میں ڈرگس کی اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آیا تو اس کی ذمہ داری بیٹ کانسٹیبل کی ہوگی۔ ساتھ ہی تھانہ انچارج بھی ذمہ دار ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Drugs, Vir Arjun

24 جنوری 2012

اترپردیش چناؤ میں دبنگی کے معاملے میں سب کادامن داغدار


Published On 23th January 2012
انل نریندر
 چناؤ کمیشن چاہے جتنے بھی قانونی سختی برتے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ان دبنگیوں کو نہیں روک سکتاہے ۔ یہ کوئی نہ کوئی راستے ضرور نکال لیتے ہیں ۔ان دبنگیوں کا آخر مقصد شاید ایک اسمبلی ممبر بننا ہوتا ہے اور ایسا کرنے کے لئے پہلے تو وہ بڑی سیاسی پارٹیوں کو ٹٹولتے ہیں۔ جب انہیں وہاں جگہ نہیں ملتی تو وہ کوئی چھوٹی پارٹی ڈھونڈتے ہیں چونکہ اسے پارٹی کے بل پر چناؤ جیتنا نہیں بلکہ انہیں تو وہ اس پارٹی کا چناؤ نشان چاہئے۔ ایسی ہی ایک پارٹی اپنا دل ہے۔ اس دل سے ہی الہ آباد کے عتیق احمد کا ممبراسمبلی بننے کا خواب پورا ہوا تھا۔ یہ بات دیگر ہے کہ اس کے بعد سماج وادی پارٹی نے انہیں اپنے یہاں جگہ دے کر لوک سبھا تک پہنچایا اور وہ بھی پنڈت جواہر لال نہرو کے پارلیمانی حلقے سے 2004میں اپنادل کے بانی سونے لال پٹیل ببلو سری واستو کو سیتا پور سے اپنا دل کا امیدوار بنایا تھا۔یہ ہی نہیں ان کی کتاب ''ادھورا خواب ''کااجراء بھی پٹیل نے کیا تھا۔اب جب دوسرے مافیا منا بجرنگی کو ممبر اسمبلی بننے کی خواہش ہوئی ہے۔ تب اس کے خواب کو بھی اپنا دل ہی پنکھ لگارہا ہے۔ منا بجرنگی جونپور کے بھیڑیاؤ سے اپنا دل کے امیدوار ہیں ۔عتیق احمد پھر ایک بارالہ آباد کے شہر وریشمی سے اپنا دل کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ کچھ ایسی حالت پیس پارٹی کی بھی ہے۔ کانگریس پردیش پردھان ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی کا گھر جلانے کے ملزم جتیندر سنگھ ببلو کو پیس پارٹی نے اپنا یہاں جگہ دی تھی۔ مایا وتی بعد میں انہیں نکال پائی۔ اب وہ بیکا پور سے میدان میں ہیں۔ یہی نہیں اپنے بوتے پر سونیاگاندھی پارلیمانی حلقے رائے بریلی سے آزاد امیدوار کی شکل میں چناؤ جیتتے آرہے اکھلیش سنگھ کو بھی پیس پارٹی میں نہ صرف سیاسی پناہ ملی بلکہ انہیں قومی جنرل سکریٹری کا عہدہ بھی دے دیاگیا۔ داغیوں کو چناؤ سے دور رکھنے کی بات سبھی پارٹیاں کرتی ہیں لیکن ان پر عمل دھیلے بھر کابھی نہیں ہوتا۔ وارانسی کے اجے رام مشہور دبنگی ہیں۔یہ پہلے بھاجپا میں تھے ۔لوک سبھا میں چناؤ کاٹکٹ نہیں ملاتو سماج وادی پارٹی میں چلے گئے۔ اس مرتبہ وہ وارانسی کی پنڈرا سیٹ سے کانگریس کے امیدوار ہیں۔ آزاد امیدوار رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا سماج واری پارٹی کے قریب ہیں اس مرتبہ وہ کنڈا سیٹ سے پھر چناؤ لڑرہے ہیں۔ رائے بریلی ضلع سے امید وار محمد مسلم کے خلاف مارپیٹ بلوا جیسے کئی معاملے درج ہیں۔ سپا میں بھی داغیوں کی کمی نہیں۔ متر سین یادو کو حال ہی میں عدالت سے ایک معاملے میں سزا ہوئی ہے۔ یادو کے بیٹے آنند سین یادو ایک دلت طالبہ سے بدفعلی اورقتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ سپا نے متر سین کو فیض آبادکی بیکا پور سیٹ سے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دبنگی ابھے سنگھ بھی فیض آبادکی گوشئی گنج سیٹ سے سپا کے امیدوار ہیں۔ کابینہ وزیر نند گوپال نندی پر حملے کے ملزم وجے مشرا کو سپا نے ٹکٹ دیا ہے۔ وہ بدھوئی سے کھڑے ہوئے ہیں۔گڈو پنڈت اور ونود سنگھ عرف پنڈت سنگھ بھی سپا کے بینر تلے چناؤ لڑرہے ہیں۔ فہرست بہت لمبی ہے کس کس کی کہانی بتائیں۔ چناؤ ہرحال میں جیتنے کی چاہ میں سبھی پارٹیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ وہ کس شخص کو ٹکٹ دے رہے ہیں اس کا کردار اور ریکارڈ کیاہے؟ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں جرائم کا بول بالا بڑھتا جارہا ہے۔ چناؤ کمیشن کیا کرے۔ جب یہ سیاسی پارٹیاں خود ہی پرہیز نہیں کرتی؟
Anil Narendra, Crime, Criminals, Daily Pratap, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستانی عوام نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی


Published On 23th January 2012
انل نریندر
پاکستان کی عوام نے تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔ تیزی سے بدل رہے واقعات پر تھوڑا بریک لگا ہے ۔زرداری حکومت کاجس طرح سے پاکستانی فوج اور پاکستان سپریم کورٹ سے ٹکراؤ ہورہا تھا۔ اس سے لگ رہا تھا کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن سبھی فریقین نے تھوڑا ضبط سے کام لیا اور یہ خطرناک صورت حال فی الحال ٹل گئی۔ کتنے دن یہ قائم رہتی ہے یہ کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔لیکن ہاں سپریم کورٹ کی اگلی تاریخ 24جنوری یعنی آج تک معاملہ ٹلا ہے۔ آج اس میموگیٹ معاملے پر سماعت ہوگی۔ اس معاملے میں حکومت اورفوج پھر ایک بار آمنے سامنے ہوگی۔ فی الحال ہم یہ کہہ سکتے ہیں پاکستان میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ عوام کی جیت ہوئی ہے۔ ہمیں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تعریف کرنی ہوگی کہ انہوں نے پاکستانی جنرلوں اورسپریم کورٹ دونوں سے بہادری کے ساتھ اپنا موقوف رکھا اور اپنے پتے اچھی طرح سے کھیلیں ۔ اتنا طے ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی حکومت کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔جہاں تک پاک میں مالکانہ حق کاسوال ہے شاید صرف اللہ ہی اس کا جواب دے سکتا ہے۔ 2012اور 2013 پاکستان کے لئے دو اہم سال ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران افغانستان سے امریکی فوج کو ہٹنا ہے اس کے بعد افغانستان میں کیا ہوگا۔ اس کاسیدھااثر پاکستان اور ہندوستان پر پڑنے والا ہے۔ 2013 میں ہی چیف جسٹس محمد افتخار چودھری ریٹائر ہونے والے ہیں اور مارچ 2013میں ہی پارلیمنٹ کے 5سال پورے ہوں گے۔ پھر ستمبر2012 میں صدر آصف علی زرداری کے عہدے مدت پانچ سال پوری ہوگی۔ نومبر 2013 جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملازمت میں تین سال کی توسیع پوری ہوجائے گی۔ 2012 ہنگامی حالت میں شروع ہوا ہے۔ آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کی میعاد اسی مارچ کو پوری ہورہی ہے۔ اور خبر آچکی ہے کہ انہیں کوئی توسیع نہیں دی جائے گی۔ پھر پاکستان میں تین سال بعد مارچ کامہینہ اسی لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں سینٹ( راجیہ سبھا) کی آدھی سیٹیں خالی ہونے والی ہے۔ سینٹ میں سیاسی تعذیہ بدلیں گے ۔سابق صدر جنرل مشرف کا پاکستان لوٹنا لٹک گیا ہے۔کبھی خبر آتی ہے کہ وہ لوٹ رہے ہیں اور کبھی خبر آتی ہے کہ فی ا لحال وہ نہیں آرہے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی پارلیمنٹ کے چناؤ اگلے مہینے مارچ میں ہونے ہیں لیکن عمران خان اور نواز شریف کو چناؤ کرانے کی جلدی لگی ہوئی ہے۔ انہیں لگتا ہے مستقبل قریب میں چناؤہوجاتے ہیں تو انہیں اقتدار کے قریب آنے میں مددملے گی۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی گزشتہ جمعرات کو سپریم کورٹ پہنچے تو انہوں نے دوٹوک لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ میں عدلیہ کا پورا احترام کرتا ہوں۔ لیکن آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمے پھر کھولنے سے ہاتھ کھڑے کرتا ہوں کیونکہ آئین کے تحت صدر کو ہی پوری چھوٹ حاصل ہے۔ یہ جواب انہوں نے سات ججوں کی ایک بنچ کے ذریعہ پوچھے گئے اس سوال کہ صدر زرداری پر سوئٹزرلینڈ میں منی لینڈرنگ کا معاملہ پھر سے کھولنے کے لئے خط لکھنے کے عدالتی احکامات کی تعمیل کیوں نہیں ہوئی۔ گیلانی کے وکیل اعتراز احسن نے کہا کہ سویس سرکار کو خط لکھنے کے لئے کورٹ کو پاکستان سرکار پر دباؤ نہیں ڈالناچاہئے۔ کیونکہ اس کامذاق بنتا ہے سویس انتظامیہ کا کہناہے کہ ویانہ معاہدے کے مطابق صدر کو اس کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کورٹ نے پوچھا کیا حکومت نے کبھی سوئس انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ہے؟ جواب داخل کرنے کے لئے گیلانی کو عدالت نے ایک ماہ کاوقت دیا ہے۔ قابل غور ہے کہ پاک صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ اہلیہ و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سال 2003میں سوئٹزر لینڈ کی ایک عدالت نے کروڑوں ڈالر کی خردبرد کا قصوروار پایا تھا۔ یہ معاملہ تب کا ہے جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی۔ بعدمیں ان دونوں نے سوئٹزر لینڈ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی اس کے بعد 2008میں پاکستانی حکومت کی درخواست پر سوئٹزر لینڈ نے یہ جانچ بند کردی تھی۔ سال 2008میں بے نظیر بھٹو کے خلاف ہزاروں ایسے معاملے بند کئے گئے تھے جس کی وجہ سے وہ چناؤ میں حصہ لینے کے لئے پاکستان آپائی تھی۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد ان کو قتل کردیا گیا تھا۔ 2009 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان معاملوں کو بند کرنے کو غیرآئینی قرار دیاتھا اور تب سے دونوں حکومت اور سپریم کورٹ میںیہ ٹکراؤ چل رہاتھا۔ کرپشن اور بدانتظامی کے الزاموں کے بعد پچھلے تین برسوں سے صدر زرداری کی کرسی ڈگمگارہی ہے۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ان کی یہ کرسی کتنے اور دن کے لئے محفوظ ہے۔ لیکن فی الحال کچھ وقت کی مہلت ضرور مل گئی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Vir Arjun

22 جنوری 2012

ہندوستانی کنبوں میں سونے چاندی کا کریز



Published On 22th January 2012
انل نریندر
بین الاقوامی کموڈٹی بازار میں حالیہ تیزی کے بعد اب دیش کے لوگوں کو گھریلو بازار میں سونے چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی امید ہے۔ حکومت نے قیمتی میٹل کے ٹیکس ڈھانچے میں ترمیم کرتے ہوئے اسے مقدار کے بجائے قیمت کے مطابق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قیمتی میٹل پر درآمدات اور پروڈکشن دونوں طرح کے ٹیکسوں کی شرحوں میں ترمیم کی ہے اس سے رواں مالی سال میں بچی ہوئی میعاد میں قریب 600 کروڑ روپے کا فاضل محصول ملے گا۔ ابھی تک سونے کے فی دس گرام پر 300 روپے کا ٹیکس لگتا تھا اب سونے کی قیمت کی بنیاد پر 1.5 فیصد پروڈکٹیو ٹیکس لگانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ابھی تک سونے پر 200 روپے فی دس گرام یہ ٹیکس لگتا تھا۔اسی طرح چاندی پر 4 فیصد پروڈکٹیو ٹیکس لگے گا جبکہ پہلے فی کلو چاندی پر 1000 روپے پروڈکٹ ٹیکس لگا کرتا تھا۔ ہندوستانیوں کو سونے سے کتنا لگاؤ ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی کنبوں کے پاس950 ارب ڈالر (49400 ارب روپے) مالیت کا سونا ہے۔ عالمی ریسرچ فرم میکسویری کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سونا رکھنا ہمارے دیش کی تہذیب اور روایت کاحصہ ہے۔ بھارت دنیا میں سونے کا سب سے بڑا صارفین ملک ہے۔ چین کا بھی نمبر بھارت کے بعد ہی آتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی خاندانوں کے پاس 18 ہزار ٹن سونا ہے جو سونے کے بین الاقوامی ذخیرے کا 11فیصد ہے اور موجودہ قیمت کے حساب سے یہ 950 ارب ڈالر بیٹھتا ہے۔ سونا ڈالر کی قیمت میں بھارت کے جی ڈی پی کا 50 فیصدی ہے۔
عام ہندوستانی خاندان مشکل کی گھڑی میں بھی سونے کے زیورات یا سونا نہیں بیچتے کیونکہ ایسا کرنا وہ صحیح نہیں مانتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوری2010ء سے ستمبر2011ء کے درمیان دیش میں سونے کی قیمتوں میں 64 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود بھارت میں سونے کی مانگ مضبوط ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011ء کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر سونے کی کھپت میں 5فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2010ء میں سالانہ بنیادپر سونے کی ڈیمانڈ 72 فیصد بڑھی ہے۔ حالانکہ ستمبر2011 کو اختتام پذیر سہ ماہی میں مقدار کے حساب سے سونے کی مانگ پچھلے سال کی بہ نسبت 23 فیصد کم رہی۔ اس کی بنیادی وجہ روپے میں گراوٹ ہے۔ دیوالیہ ہونے کے دہانی پر کھڑی یوپی اے سرکار کے راج کو بیپ خسارے کو کنٹرول رکھنے کا دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے میں وہ ہر ممکن ذرائع سے محصول اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ عام ہندوستانیوں میں یہ ایک ٹرینڈ ہے کہ وہ سونا چاندی ضرور رکھنا چاہتا ہے۔ اسے کرنسی پر اتنا بھروسہ نہیں جتنا سونا چاندی پر ہے۔ پہلے زمانے میں خوشحال پریوار سونا خرید کر اپنے آنگن میں گڈھا کھود کر دبا دیا کرتے تھے اور مختلف پیڑھیو ں میں یہ سونا منتقل ہوتا تھا۔ شاید ہی کوئی مشکل سے مشکل اقتصادی صورتحال میں بھی سونا چاندی بیچنے کو تیار ہوتا۔ خوشحال خاندانوں میں تو چاندی کی بھگوان کی مورتیاں، ڈنر سیٹ، چائے سیٹ بھی بنتے ہیں۔ ہندوستانیوں کا سونے چاندی کا یہ کریز بہت ہی دلچسپ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gold Ornaments, Vir Arjun

کیا اومابھارتی کی اینٹری ہندوتوپولارائزیشن کی کوشش ہے؟



Published On 22th January 2012
انل نریندر
نانا کرتے ہوئے بھی آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی کی فائر بینڈ لیڈر مس اوما بھارتی اترپردیش اسمبلی انتخابات میں کود گئی ہیں۔ اس سے بھاجپا میں ان کے دوبارہ سرگرم ہونے کا عمل بھی پورا ہوگیا ہے۔ یوں تو پارٹی صدر نتن گڈکری نے اوما کو چھ سال کے بنواس کے بعد پچھلی جون میں پارٹی میں شامل کیا تھا لیکن صحیح معنی میں اوما کی سیاست میں دوبارہ اینٹری بندیلکھنڈ کے مہوبہ ضلع کی چرخاری اسمبلی سیٹ پر اپنی نامزدگی داخل کرنے سے ہوئی ہے۔ اوما بھارتی بنیادی طور سے بندیلکھنڈ کی ہی رہنے والی ہیں لیکن ان کاحلقہ مدھیہ پردیش ہی رہا ہے۔ چرخاری حلقہ لودھ فرقے کی اکثریت والا ہے۔مس اوما بھارتی بھی لودھ برادری سے ہیں۔ اوما بھارتی کو بھاجپا میں شامل کرنے کے پیچھے نتن گڈکری کو یہ ہی امید تھی کے وہ کلیان سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کے بعد پارٹی کو پھر سے منظم کرکے جتائیں گی۔ اوما بھارتی ہمیشہ تنازعوں کا مرکز رہی ہیں۔ جب وہ پارٹی میں لوٹیں تو بحث شروع ہوگئی کے کیا پارٹی انہیں وزیر اعلی کے عہدے کا چہرہ پروجیکٹ کرے گی؟ 90 کی دہائی جیسا سیاسی جلوہ دکھانے کے چکر میں لگی بھاجپا پسماندہ کارڈ کے بہانے پھر ہندوتو کا ڈنکا بجانے کی تیاری میں ہے۔ مسلم ریزرویشن کی مخالفت اور اوما بھارتی کو آگے کر پسماندہ ووٹ بینک میں سیند کو بھاجپا نے اپنے چناوی ایکشن پلان کا کام شروع کردیا ہے۔ چناوی اشو کی تلاش میں بٹھک رہی بھاجپا کا کام کانگریس نے کچھ حد تک کردیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے پسماندہ طبقہ (او بی سی) کوٹے سے 4.5 فیصد کوٹہ مذہبی بنیاد پر اقلیتوں کو دینے کے فیصلے میں بھاجپا کو چناوی فائدہ نظر آیا اس لئے پارٹی نے لائن آف ایکشن ہی بدل ڈالا۔ کرپشن، بدانتظامی اور مہنگائی ، کالی کمائی جیسے معاملوں کو پیچھے چھوڑ کر مسلم ریزرویشن مخالفت کو ہی بنیادی اشو بنا لیا۔ اتنا ہی نہیں پسماندہ طبقوں کی ہمدردی لینے کی جلد بازی میں این آر ایچ ایم گھوٹالے میں ملزم وزیر بابو سنگھ کشواہا کو گلے لگالیا۔ کشواہا معاملہ بھاجپا کے گلے کی ہڈی بنتا دکھائی دیا تو مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلی اوما بھارتی کو چناؤ میدان میں اتار دیا۔ پسماندہ طبقات کے مفاد کو بچانے کو مسلم مخالف مہم کی پٹری پر لوٹتی بھاجپا نے جمعہ کو پوری ریاست میں اسمبلی حلقے سطح پرستا پریورتن پد یاترائیں نکالنا شروع کردیں۔پسماندہ طبقات کو لبھانے کے لئے سال2000 میں اس وقت کے وزیر اعلی راجناتھ سنگھ نے سماجی انصاف کمیٹی رپورٹ نافذ کرکے انتہائی پسماندہ طبقات کو او بی سی کوٹہ دینے کا داؤ بھی نہیں چل پایا۔ 1996 میں 174 سیٹیں جتانے والی بھاجپا 2002ء میں88 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔ کلیان سنگھ کی وجہ سے لودھ ووٹ بینک بھاجپا کے ساتھ طویل عرصے تک جڑا رہا ہے۔
پردیش میں یہ ووٹ بینک 4 سے6 فیصدی مانا جاتا ہے۔ بندیلکھنڈ میں تو اس ووٹ بینک کی حصے داری 9 فیصدی تک مانی جارہی ہے۔ 2007ء میں تو بھاجپا بندیلکھنڈ سے اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائی تھی۔ مندر تحریک کے دوران اوما نے بندیلکھنڈ کی دھرتی میں کمل کو کھلانے کے لئے جم کر محنت کی تھی۔اس کے لئے گاؤں گاؤں میں ان کا نیٹ ورک قائم ہے۔ لمبے عرصے تک ، گنگا ابھیان جیسی غیر سیاسی تحریک میں اپنی طاقت لگاتی آئیں اوما ایک بار پھرجارحانہ چناوی انداز میں نظر آ نے لگی ہیں۔ دو دن پہلے تو ان کے نشانے پر کانگریس کے یووراج راہل گاندھی آگئے تھے۔ دراصل بندیلکھنڈ کے چناؤ میدان میں اوما زور شور سے اتریں تو راہل نے ان کو نشانہ بنایا تھا۔ ایک ریلی میں انہوں نے اوما پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ مدھیہ پردیش سے بھاگ کر آئیں ایک نیتا اچانک آپ کے درمیان مسیحا بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ جب آپ تکلیف میں تھے تب ساتھ دینے کے لئے اکیلے کانگریس ہی آئی تھی۔ راہل کے اس تلخ بیان کا زور دار جواب اپنے فائر بینڈ اسٹائل میں اوما نے یوں دیا: ان کی ماں تو اٹلی سے آئی ہیں پھر بھی یہاں کے لوگوں نے انہیں قبول کرلیا ۔ جبکہ وہ تو پڑوسی ریاست سے ہی آئی ہیں۔ ایسے میں راہل کچھ بولنے سے پہلے سوچ سمجھ لیاکریں تو اچھا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں اوما بھارتی کے میدان میں کودنے سے کانگریس میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کانگریس نے اکیلے بندیلکھنڈ میں ہی 19 میں سے10 سیٹیں جیتنے پر امید لگائی ہوئی ہے۔ اوما بھارتی کے آنے سے جہاں کانگریس کا تجزیہ بدل سکتا ہے وہیں آہستہ آہستہ پارٹی پھر ہندوتو پر لوٹ سکتی ہے۔ اوما بھارتی کی کوشش ہوگی ایک بار پھر اترپردیش میں ووٹوں کا دھارمک لائن پر پولارائزیشن ہورجائے۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, State Elections, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...